Ayah 19:1كهيعص۔ یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ ان حروف پر مفصل بحث سورة بقرہ کے شروع میں دیکھیے۔
Ayah 19:2ذِكْرُ رَحْمَةِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا۔
حضرت زکریا کا مرتبۂ خاص : " ذکر " یہاں اسی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں آگے حضرت مریم سے لے کر حضرت ادریس تک تمام انبیاء کا ذکر بصیغہ " اذکر " ہوا ہے۔ یہ پیغمبر ﷺ کو ہدایت ہے کہ نادانوں تو یہ تمام سرگزشتیں فرماوش کردیں، یہ تمہیں سنائی جا رہی ہیں تاکہ تم بھی ان سے بہرہ مند ہو اور دوسروں کو بھی یاد دہانی کرو کہ وہ بھی ان سے بہرہ مند ہوں۔ آیت میں " عبدہ " کا لفظ حضرت زکریا کے اختصاص پر دلیل ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ خود اپنا بندہ کہہ کر یاد فرمائے اس کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہوسکتا ہے !
بولائے تو کہ گر بندۂ خویشم خوانی
زسر خواجگی کون و مکاں برخیزم
Ayahs 19:3–4تفسیر آیت 3 تا 4: إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا (3) قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا۔
اولاد کے لیے حضرت زکریا کی دعا اور اندازِ دعا : یہ حضرت زکریا کی دعا ہے جو انہوں نے فرزند کی ولادت کے لیے کی ہے۔ یہ دعا انہوں نے ہیکل میں، جیسا کہ آگے اشارہ آ رہا ہے، غالباً بحالتِ اعتکاف کی ہے۔ فرمایا کہ اس نے چپکے چپکے اپنے رب کو پکارا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کا راز و نیاز کے انداز میں ہونا اس کے اولین آداب میں سے بھی ہے اور اس کی قبولیت کے لیے بہترین سفارش بھی۔ درحقیقت یہی دعائیں ہوتی ہیں جو ریا اور نمائش سے بھی پاک ہوتی ہیں اور انہی کے اندر بندہ اپنے دل کے اصلی راز بھی کھولتا ہے۔ اس وجہ سے دعا کے اس ادب کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ صرف اجتماعی دعائیں اس سے مستثنی ہیں۔
مؤثر تمہید : وَهَنَ الْعَظْمُ کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ میرا ظاہری جسم تو درکنار میرے تو اندر کی ہڈیاں تک کھوکھلی ہوچکی ہیں۔ یہ حضرت زکریا نے عرض مدعا سے پہلے اس کے لیے تمہید استوار کی ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ایسی مؤثر تمہید استوار کی ہے کہ اگر سوء ادب پر محمول نہ کیجیے تو عرض کروں کہ یہ خدا کی رحمت پر کمند ڈال دینے والی تمہید ہے۔ حضرت زکریا نے ایک تو اپنے ضعف و ناتوانی کو سفارش میں پیش کیا۔ دوسرے اپنے ساتھ زندگی بھر اپنے رب کے معاملے کو۔ فرماتے ہیں کہ ارے رب میں کبھی تجھے پکار کے محروم نہیں رہا۔ غور کیجیے کہ جو سائل جس در سے کبھی محروم نہیں لوٹا ہے وہ اس پیری و ناتوانی میں، جب کہ اس کی ہڈیوں تک کی گود خشک ہوچکی ہے اس دروازے سے کس طرح محروم لوٹایا جائے گا۔
Ayahs 19:5–6وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا (5) يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا (6)۔
دینی وراثت کے حامل کے لیے دعا : " موالی " سے مراد کسی شخص کے بنی اعمام، بھائی بند اور اس کے نسبتی اعزہ و اقرباء ہوتے ہیں۔ حضرت زکریا کے اقرباء معلوم ہوتا ہے کہ اچھے لوگ نہیں تھے، ان کی طرف سے اندیشہ تھا کہ یہ لوگ، ان کی وفات کے بعد ان کی اور آلِ یعقوب کی ان دینی روایات کو قائم نہ رکھ سکیں گے جو اس پاکیزہ خاندان کا اصلی سرمایہ امتیاز ہیں۔ انہیں فکر تھی کہ خدا ندان میں کوئی ایسا شخص اٹھے جو اس خاندان کے مشن کو زندہ رکھ سکے اور ان روایات کا حامل ہو جو آل یعقوب کا اصلی ورثہ ہیں۔ اگرچہ خود پیروی وناتوانی کے آخری مرحلہ میں داخل ہوچکے تھے اور بیوی بانجھ تھیں، جہاں تک ظاہری اسباب و حالات کا تعلق ہے اس آرزو کے بر آنے کی کوئی توقع نہیں تھی، لیکن وہ اس رمز سے آگاہ تھے کہ اسباب و حالات کا تعلق ہے اس آرزو کے بر آنے کی کوئی توقع نہیں تھی، لیکن وہ اس رمز سے آگاہ تھے کہ اسباب و ذرائع خدا کے ہاتھ میں ہیں، خدا اسباب و ذرائع کا غلام نہیں ہے۔ اس وجہ سے انہوں نے دعا فرمائی کہ اے رب اگرچہ اسباب ناپید ہیں لیکن تیرے اختیار میں سب کچھ ہے۔ تو خاص اپنے پاس سے مجھے ایک وارث عنایت فرما جو میری اور آلِ یعقوب کی دینی وراثت کو سنبھال سکے اور اے رب اسے پسندیدہ اخلاق بنائیے، وہ ان کمزوریوں سے پاک ہو جو اب اس خاندان میں در آئی ہیں۔
Ayah 19:7يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا۔
سچی دعا اور اس کی قبولیت : جب دعا صحیح وقت پر، صحیح مقصد کے لیے، سچے جذبے کے ساتھ اور صحیح الفاظ میں کی جائے تو اس میں اور اس کی قبولیت میں کوئی فاصلہ نہیں رہ جاتا۔ اس کے لیے اسباب کے تمام پردے اٹھا دیے جاتے ہیں۔ ہر طرف تاریکی اور مایوسی ہوتی ہے، اسباب و حالات بالکل نامساعد نظر آتے ہیں، کسی طرف سے بھی امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی لیکن بندہ جب اس امید کے ساتھ اپنے آپ کو اپنے رب کے دروازے پر ڈال دیتا ہے کہ بہرحال میرے لیے یہی دروازہ ہے، میں نے جو کچھ پایا ہے یہیں سے پایا ہے اور جو کچھ پاؤں گا یہیں سے پاؤں گا تو بالآخر اس کے لیے خدا کی رحمت اس گوشہ سے نمودار ہوتی ہے جہاں سے اس کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا اور اس شان سے نمودار ہوتی ہے کہ اسباب و ظواہر کے غلام اس کو دیکھ کر انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ حضرت زکریا کی یہ دعا بھی ٹھیک مقصد کے لیے، ٹھیک وقت پر اور سچے جذبہ کے ساتھ تھی اس وجہ سے الفاظ زبان سے نکلے نہیں کہ اس کی قبولیت کی بشارت نازل ہوگئی۔ فرمایا کہ اے زکریا ہم تمہیں ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا۔ " سمی " کے معنی نظیر و مثال کے ہیں۔ اس سورة میں آگے آیت 65 میں ہے۔ " ھل تعلم لہ سمیا " کیا تم خدا کی کسی نظیر سے آشنا ہو۔ یہ حضرت زکریا کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ ہرچند تم بوڑھے ہو اور تمہاری بیوی بانجھ ہے، بوڑھے مرد اور بانجھ بیوی کے ہاں اولاد کی کوئی نظیر موجود نہیں لیکن ہماری مرضی یہی ہے کہ ہم تمہیں ایسی ہی بےنظیر اولاد دیں۔
Ayah 19:8قَالَ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا
" عتی " کے معنی ہیں کسی شے کا حد سے متجاوز ہوجانا، قابو اور اختیار سے باہر نکل جانا۔ وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّ ، یعنی اب میں بڑھاپے کی اس حد کو پہنچ چکا ہوں کہ مجھے اپنے اعضا وجوارح اور اعصاب پر قابو نہیں رہ گیا ہے۔
سوال مزید اطمینان کے لیے : یہ حضرت زکریا نے اس بشارت کے باب میں مزید اطمینان حاصل کرنے کے لیے اپنے اس تردد کا اظہار فرمایا جو ظاہری حالت کو دیکھتے ہوئے اس بشارت کے ظہور سے متعلق ان کو لاحق ہوا۔ فرمایا کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں خود اپنے بڑھاپے کی اس حد کو پہنچ چکا ہوں کہ مجھے اپنے اعصاب پر قابو نہیں رہ گیا ہے، ایسی حال میں میرے ہاں اولاد کس طرح ہوگا۔
Ayah 19:9قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہ جواب ہاتف غیب کی زبان سے ہے۔ کذلک، کی خبر کا حذف زور اور تاکید پر دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے رب کا فیصلہ یہی ہے، بس یوں ہی ہوگا، جس خدا نے عدم محض سے انسان کو وجود بخشا اس کے لیے بوڑھے باپ اور بانجھ ماں سے اولاد پیدا کردینا کیا مشکل ہے۔
Ayah 19:10قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا۔ اطمینان قلب کے لیے ایک اور درخواست : یہ حضرت زر کیا نے اپنے اطمینان قلب کے لیے ایک اور درخواست پیش کردی۔ یہ بشارت ان کی دلی آرزو کا مظہر اور ان کے لیے بڑی اہمیت رکھنے والی تھی اس وجہ سے انہوں نے چاہا کہ ہر پہلو سے اس پر شرح صدر ہوجائے۔ حضرت زکریا نے یہ بشارت ہاتف غیب سے سنی تھی اس وجہ سے انہیں یہ خیال ہوسکتا تھا کہ ممکن ہے یہ واہمہ کی خلاقی ہو اور اپنے ہی گنبد دل کی صدا اس شکل میں سنائی دی ہو۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ ان کو کوئی ایسی نشانی دکھا دی جائے جس سے انہیں پورا اطمینان ہوجائے کہ یہ بشارت رب ہی کی طرف سے ملی ہے اس میں نفس یا شیطان کو کوئی دخل نہیں ہے۔ اس قسم کی درخواستیں بعض دوسرے انبیاء کی بھی قرآن میں مذکور ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ حضرات انبیاء علیہم رویا اور ہاتف غیب کی باتیں قبول کرنے کے معاملے میں بڑی احتیاط برتتے تھے۔ اس سے خدانخواست ان کے ایمان کے بارے میں کوئی شبہ کرنے کی گنجائش نہیں نکلتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا کی یہ دعا بھی قبول فرمائی اور اس بارے کے خدائی بشارت ہونے کی نشانی یہ مقرر فرما دی کہ تم تین شبانہ روز مسلسل تسبیح و تہلیل تو کرسکوگے لیکن کوئی اور لفظ زبان سے نہ نکال سکوگے۔ ظاہر ہے کہ ایک آدمی پر ایسی حالت کا طاری ہوجانا کہ وہ ذکر الٰہی تو کرسکے لیکن کوئی اور کلمہ زبان سے نہ نکال سکے، کوئی شیطانی حالت نہیں ہوسکتی، یہ ہوسکتی ہے تو رحمانی حالت ہی ہوسکتی ہے۔ چناچہ یہ حالت حضرت زکریا پر طاری ہوگئی، وہ محرابِ عبادت سے نکل کر لوگوں میں آئے تو وہ کچھ بول نہیں سکتے تھے۔ صرف اشارے سے انہوں نے لوگوں لوگو کو تسیح و تہلیل میں مشغول رہنے کی ہدایت کی۔
بعض لوگوں نے " الاتکلم " کو خبر کے بجائے نہی کے معنی میں لیا ہے۔ آیت کا مطلب ان کے نزدیک یہ ہے کہ حضرت زکریاں نے نشانی مانگی تو ان کو حکم ہوا کہ تین رات لگاتار تم کسی سے بات نہ کرو۔ جن حضرت نے آیت کا مطلب یہ لیا ہے انہوں نے نہ تو اس بات پر غور کرنے کی زحمت اٹھائی کہ حضرت زکریا نے کس چیز کی نشانی مانگی تھی اور نہ اس مسئلہ پر غور فرمایا کہ حضرت زکریا کو تین شبانہ روز خاموش رہنے کے حکم میں نشانی ہونے کا کیا پہلو نکلا۔
سَوِيًّ کا مفہوم : " سوی " مرض اور عیب سے بری کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ تم تین شبانہ روز کسی سے بات تو نہ کرسکوگے لیکن یہ حالت کسی مرض یا خرابی کا نتیجہ نہیں ہگی بلکہ ہر گونہ صحت کے ساتھ محض اللہ کے حکم سے بطور ایک نشانی کے ہوگی جس طرح حضرت موسیٰ کے ید بییضاء کی نشانی سے متعلق فرمایا ہے کہ تخرج بیضاء من غیر سوء اسی طرح یہاں لفظ سویا بطور ایک بدرقہ کے ہے۔ لگاتار یا مسلس کے معنی میں اس کا استعمال معروف نہیں ہے۔ آگے اسی سورة میں یہ لفظ آیات 17 میں بھی آیا ہے وہاں یہ صریحاً بھلے چنگے، ہٹے کٹے، تندرست اور مستوی القامت کے معنی میں ہے۔
لیالی شب و روز دونوں پر حاوی ہے : " لیالی " کا لفظ یہاں شب و روز دونوں پر حاوی ہے۔ سورة آل عمران میں یہی مضمون لفظ " ایام " سے بیان ہوا ہے۔ ایام کا اطلاق بھی شب و روز دونوں پر ہوتا ہے۔ عربی میں یہ استعمالات معروف ہیں۔
Ayah 19:11فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا۔ " محرب " سے مراد معبد کا کوئی حجرہ یا برآمدہ ہے۔
تسبیح کی ہدایت کے اندر رمز : آیت سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت زکریا اس دعا کے وقت ہیکل ہی کے کسی گوشہ معتکف تھے۔ سورة آل عمران سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ نماز میں کھڑے تھے کہ یہ بشارت ان پر نازل ہوئی۔ اس کے بعد وہ اپنے لوگوں میں آئے اور اشارے سے ان کو برارب تسبیح و استغفار میں مشغول رہنے کی ہدایت کی۔ اس اشارے کے اندر یہ بات مضمر تھی کہ وہ قدرت کے کسی بہت بڑے راز کے امین میں ہیں جس کے اظہار کا وقت ابھی نہیں آیا ہے ! لوگ خدا کی حمد و تسبیح میں مشغول رہ کر اس کا انتظار کریں اور دیکھیں کہ پردہ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔
Ayah 19:12يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا۔
" کتا " اور " حکم " سے مراد : " کتاب " سے مراد ظاہر ہے کہ تورات ہے۔ حضرت یحییٰ پر کوئی الگ کتاب نازل نہیں ہوئی۔ لفظ " حکم " پر ہم آل عمران 79 کے تحت مفصل بحث کرچکے ہیں۔ اس سے مراد حق و باطل میں امتیاز کی قوت صلاحیت ہے۔ یہی قوت و صلاحیت تمام علم و حکمت کی بنیاد ہے۔ یہ صلاحیت عام حالات میں تو سنِ رشد کے بعد ابھرتی ہے اور چالیس سال کی عمر میں پختہ ہوتی ہے لیکن حضرت یحییٰ پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہوا کہ ان کو یہ دولت گرانمایہ بچپن ہی میں مل گئی۔
کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے کا مفہوم : یہاں غور کیجے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت سے پہلے یہ مضمون محذوف ہے کہ بالآخر اللہ تعالیٰ کی بشارت کے مطابق حضرت یحییٰ کی ولادت ہوئی، وہ سن رشد کو پہنچے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوبت سے سرفراز فرمایا اور ان کو اپنی کتاب مضبوطی سے پکڑنے کی ہدایت فرمائی۔ کتاب کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو، کا مفہوم یہ ہے کہ شیطان اور اس کے اولیاء اس کتاب کے ابدی دشمن ہیں وہ تم کو اس کتاب سے برگشتہ کرنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کردیں گے تو خف یا طمع یا کسی چیز سے بھی ڈرا کر یا ورغلا کر تم کو وہ اس سے ہٹانے نہ پائی۔ چناچہ حضرت یحییٰ کے متعلق معلوم ہے کہ اس کتاب کی خاطر انہوں نے سر کٹوا دیا۔
Ayahs 19:13–14تفسیر آیت 13 تا 14: وَحَنَانًا مِنْ لَدُنَّا وَزَكَاةً وَكَانَ تَقِيًّا (13) وَبَرًّا بِوَالِدَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ جَبَّارًا عَصِيًّا۔
حنان کے معنی محبت، ذوق و شوق، اور سوز و گداز کے ہیں۔ یہ لفظ نہایت معروف و متداول الفاط میں سے ہے اس وجہ تعجب ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس کی طرف بعض لوگوں نے یہ بات، کس طرح منسوب کردی کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اس کے معنی معلوم نہیں۔
قلب و روح کی اصلی زندگی۔ یہ سوز و گداز اور یہ محبت ہی انسان کے قلب و روح کی زندگی کی اصلی علامت ہے۔ یہ نہ ہو تو انسان انسان نہیں بلکہ پتھر کی ایک مورت ہے۔ اس سوز و گداز میں سے حضرت یحییٰ کو، جیسا کہ من لدنا کے الفاظ سے واضح ہے، نہایت وافر حصہ ملا تھا۔ ان کے سوز و گداز اور جوش محبت الٰہی کا کچھ اندازہ کرنا ہو تو انجیلوں میں ان کے ارشادات پڑھیے۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کے اقوال کی حرارت آج بھی دلوں کو گرماتی اور روحوں کو تڑپاتی ہے۔
" زکوۃ " کا مفہوم : حنان کے بعد ان کی صفت میں " زکوۃ " کا لفظ آیا ہے۔ زکوۃ کے معنی پاکیزگی اور طہارت کے ہیں۔ اس طہارت سے مراد ظاہر اور باطن دونوں کی طہارت ہے یہ حقیقت " حنان " ہی کا پرتو ہے۔ گداز باطنی موجود ہو تو نہ باطن میں کسی اخلاقی و عقائدی آلائش کا اثر باقی رہتا ہے نہ ظاہر میں۔
" زکوۃ " کے بعد " تقی " کا لفظ ہے۔ پچھلی دونوں صفتوں کا تعلق زیادہ تر انسان کے باطن سے ہے۔ اس لفظ میں ان کے ظاہری اعمال و اخلاق اور کردار کی تعریف ہے کہ نہایت ہی پرہیز گار اور متقی تھے۔ ان کی ساری زندگی ترک دنیا کی زندگی تھی۔ انہوں نے ت وبہ کی منادی اس زور و شور سے کی کہ اس سے دشت و جبل گونج اٹھے۔ ہیکل میں تقریر کرتے لوگوں کے دل دہل جاتے لیکن اس دنیا سے ان کا تعلق صرف دینے کے لیے تھا اس سے لیا انہوں نے کچھ بھی نہیں۔ جنگل کے شہد اور اس کی ٹڈیوں پر گزارہ کرتے۔ کمبل کی پوشاک سے تن ڈھانکتے اور جس سر کو چھپانے کے لیے اس دنیا میں کوئی چھت نہیں بنائی اس کو خدا کی کتاب کی خاطر کٹوا کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
ماں باپ کے ساتھ وفا داری : بَرًّا بِوَالِدَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ جَبَّارًا عَصِيًّا۔۔ یہ ماں باپ کے ساتھ ان کی وفاداری کا بیان ہے کہ باوجودیکہ وہ یہ سمجھ سکتے تھے کہ ان کی ولادت سے لے کر ان کی تعلیم و تربیت تک ہر چیز براہ راست اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں ہوئی ہے، وہ کسی چیز میں بھی اپنے ماں باپ کے محتاج نہیں ہوئے لیکن وہ اس قسم کی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوئے۔ وہ کسی چیز میں بھی اپنے ماں باپ کے محتاج نہیں ہوئے لیکن وہ اس قسم کی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ برابر اپنے والدین کے نہایت وفادار اور اطاعت شعار رہے۔ وہ سرکش اور نافرمان نہیں تھے۔
Ayah 19:15وَسَلامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا۔
ہر مرحلہ میں مبارک سلامت : یہ فرشتوں کی مبارک سلامت کا حوالہ ہے کہ یہ مرد حق دنیا میں جس دن آیا قدوسیوں نے اس دن مبارک و سلامت کے ساتھ اس کا خیر مقدم کیا، جس دن مرا اس دن بھی انہوں نے " اھلا و سھلا " کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور جس دن اٹھایا جائے گا اس دن بھی اسی نعرہ تحیت کے ساتھ وہ اس کو خوش آمدید کہیں گے۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اس دنیا نے اس کے ساتھ جو کچھ کیا کیا، خدا کے ہاں ہر مرحلہ میں اس کے ساتھ جو معاملہ ہوا یا ہوگا وہ مبارک سلامت کا ہے۔
Ayah 19:16آگے کا مضمون۔ آیات 16 تا 36: حضرت یحییٰ اور حضرت مسیح کی باہمدگر مشابہت : آگے حضرت مریم، ان کے بطن سے حضرت عیسیٰ کی ولادت اور حضرت عیسیٰ کی اصل تعلیم کا تذکرہ ہے۔ اوپر حضرت یحییٰ کا کا ذکر یوں سمجھیے کہ اسی بیان کی تمہید کے طور پر تھا۔ حضرت یحییٰ خاندان کے اعتبار سے بھی حضرت عیسیٰ کے پیشرو اور شریک ہیں، اور اپنی ولادت کی نوعیت کے پہلو سے بھی بہت بڑی حد تک ان سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ان دونوں کا ذکر ایک ساتھ کرکے اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کو اپنی آنکھوں کی پٹی کھولنے کی دعوت دی ہے کہ ایک ہی نسب و حسب کے یکے بعد دیگرے آنے والے دو نبیوں میں آخر یہ عظیم فرق انہوں نے کہاں سے پیدا کردیا کہ ان میں سے ایک کو خدا بنا کے رکھ دیا در آنحالیکہ دونوں کی ولادت بھی کم و بیش ایک ہی طرح ہوئی اور دونوں کی تعلیم و دعوت بھی مہد سے لے کر لحد تک ایک ہی رہی۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا۔
الکتاب سے مراد اناجیل ہیں جن میں جستہ جستہ حضرت مریم کے حالات بیان ہوئے ہیں۔ ہم نے سورة آل عمران کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ ان کا حوالہ دیا ہے۔ اس وجہ سے یہاں ہم صرف آیات کے سیاق وسباق کی وضاحت کی حد تک بحث کو محدود رکھیں گے۔
ہیکل میں عورتوں کی عبادت کی جگہ مشرقی سمت : انتباذ کے معنی لوگوں سے بالکل منقطع ہو کر ایک طرف ہوجانے کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت مریم ہیکل کے مشرقی جانب میں معتکف ہوگئیں۔ مشرقی جانب میں اس وجہ سے کہ ہیکل کا جو حصہ عورتوں کے اعتکاف و عبادت کے لیے خاص تھا وہ مشرقی سمت ہی میں تھا۔ اس عہد کے بیت المقدس کے نقشوں میں عورتوں کی جائے عبادت کو مشرقی جانب ہی دکھایا گیا ہے۔ نصاری نے اپنا قبلہ جو مشرق کو بنایا اس میں بڑا دخل اسی چیز کو ہے کہ وہ ہیکل کی مشرقی سمت کو اپنی خاص سمت سمجھتے ہیں۔
Ayah 19:17فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا۔
حضرت مریم کا امتحان : لوگوں کے اور اپنے درمیان پردہ حائل کرلینا اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ اعتکاف میں بیٹھ گئیں۔ اس دوران میں اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا جو ایک تندرست و توانا آدمی کی شکل میں ان کے سامنے نمودار ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو حضرت مریم کا متحان لینا منظور تھا کہ فرشتہ بشری روپ میں نمدار ہوا ورنہ حضرات انبیاء کے لیے بھی فرشتوں کے ظہور کی عام شکل یہ نہیں رہی ہے۔ اس حادثہ کا جو اثر حضرت مریم پر جو ابھی فرشتہ اور ہاتف وغیرہ سے نا آشنا تھیں۔ پڑا ہوگا اس کا اندازہ کرنا کچھ آسان نہیں ہے لیکن اس نازک موقع پر حضرت مریم نے جس کردار کا مظاہر کیا وہ بےمثال ہے۔
Ayah 19:18قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا۔ انہوں نے بڑے وقار کے ساتھ ظاہر ہونے والی وفات کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اگر تم میں کچھ خدا ترسی ہے تو میں تم سے اپنے آپ کو خدائے رحمان کی پناہ میں دیتی ہوں۔
Ayah 19:19قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لأهَبَ لَكِ غُلامًا زَكِيًّا۔ فرشتہ نے کہا جس خدائے رحمان کے واسطہ سے آپ مجھ سے پناہ مانگ رہی ہیں اسی کا بھیجا ہوا تو میں آپ کے پاس آیا ہوں کہ آپ کو ایک پاکیزہ خصائل فرزند عطا کروں۔
Ayah 19:20قَالَتْ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا۔
" بغی " بدکار اور چھنال عورت کو کہتے ہیں۔
حضرت مریم فرشتہ کی اس بات کو سن کر ہک دھک رہ گئیں۔ انہوں نے فرمایا کہ میرے لڑکا کس طرح پیدا ہوگا، مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا اور میں کوئی بدکار اور چھنال بھی نہیں ہوں۔
لوقا کی بےسروپا روایتِ نکاح : حضرت مریم کے اس ارشاد سے یہ بات بالکل صاف واضح ہے کہ لوقا میں یہ روایت کہ یوسف نامی کسی شخص سے ان کا نکاح ہوا تھا، بالکل بےسروپا روایت ہے۔ اگر ان کا نکاح ہوا ہوتا تو یہ خبر ان کے لیے ایک نہایت مبارک خوش خبری ہوتی اور وہ مذکورہ الفاظ میں اس پر تشویش اور حیرت کا اظہار کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتیں۔ ہمارے نزدیک لوقا کی یہ روایت یہود کی در اندازی کو لود فساد ہے اس لیے کہ وہ حضرت عیسیٰ کی خارق عادت ولادت کے سخت مخالف ہیں۔ ہمارے ہاں جن لوگوں نے اس روایت کو بےسوچے سمجھے نقل کرلیا ہے انہوں نے نادانستہ یہود ہی کی مقصد برآری کی ہے۔ حضرت مریم کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ اپنی منت کے مطابق ہیکل کی خدمت کے لیے وقف تھیں اس وجہ سے ان کے نکاح اور بیاہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہیکل کے خدام گھر گرہستی کے تمام علائق سے یک قلم آزاد ہوتے تھے۔ لیکن تھوڑی دیر کے لیے ایک امر واقعی کو نظر انداز کردیجیے اور اس سوال پر غور کیجیے کہ اگر حضرت مریم کسی کے عقد نکاح میں تھیں تو ان الفاظ کا کیا موقع و محل تھا جو الفاظ انہوں نے فرمائے ؟ یہ الفاظ تو کسی کنواری عفیفہ ہی کی زبان سے موزوں ہوسکتے ہیں، کسی شادی شدہ عورت کی زبان سے تو یہ موزوں نہیں ہوسکتے، علاوہ ازیں حضرت مریم کے خاندان والوں نے جن الفاظ میں ان کو ملامت کی ہے اور جو آگے آ رہے ہیں وہ بھی اس صورت میں بالکل بےمحل ہو کے رہ جاتے ہیں۔
Ayah 19:21قَالَ كَذَلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِنَّا وَكَانَ أَمْرًا مَقْضِيًّا
ولنجعلہ کا معطوف علیہ یہاں بربنائے قرینہ محذوفہ۔ اگر اس کو کھول دیجیے تو پوری بات گویا یوں ہوگی کہ تمہارے رب کا ارشاد یہ ہے کہ ہم ایسا اس لیے کریں گے کہ اس کو بنی اسرائیل کے لیے رسول بنائیں اور وہ لوگوں کے لیے ہماری طرف سے ایک نشانی اور رحمت ہو۔
حضرت عیسیٰ ؑ ایک نشانی ہیں : حضرت عیسیٰ کا ایک نشانی ہونا قرآن میں جگہ جگہ مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو سورة انبیاء 91 اور مومنون آیت 50۔ ہمارے حضرت عیسیٰ ؑ کی خارق عادت ولادت قیامت کی بہت بڑی نشانی ہے۔ نادانوں کو قیامت پر سب سے بڑا شبہ یہی تو ہوتا ہے کہ آخر اسباب کے بغیر لوگ کس طرح دوبارہ پیدا ہوجائیں گے۔ حضرت عیسیٰ کا وجود اس شبہ کا جواب ہے کہ ہر چیز اللہ کے کلمہ کن سے ظہور میں آتی ہے۔ حضرت عیسیٰ اسی کلمہ سے وجود میں آئے ہیں۔ چناچہ اسی بنیاد پر ان کو انجیل اور قرآن دونوں میں کلمۃ اللہ کہا بھی گیا ہے۔
Ayah 19:22فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا۔
" دور کی جگہ " سے مراد : " قَصی " کے معنی دور کے ہیں۔ یہاں کوئی تصریح نہیں ہے اس دور کی جگہ سے کون سی جگہ مراد ہے۔ لیکن انجیلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد وہ بیت اللحم چلی گئیں۔ ظاہر ہے کہ حمل کا احساس کرنے کے بعد وہ ایک شدید ذہنی پریشانی اور کرب میں مبتلا ہوگئی ہوں گی۔ اس طرح کے حالات میں آدمی کے لیے اپنا ماحول وحشت انگیز بن جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس سے الگ ہو کر کوئی اور مامن تلاش کرے، شاید وہاں سکون حاصل کرنے کی کوئی صورت نکل آئے۔ حضرت مریم کی یہ تدبیر اسی طرح طرح کی ایک تدبیر تھی۔
Ayah 19:23فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا۔ " جذع " تنہ کو کہتے ہیں اور نخلہ پر الف لام اس بات کا قرینہ ہے کہ کھجور کا یہ درخت پہلے سے ان کے علم میں تھا۔ ممکن ہے اس ذہنی پریشانی کے عالم میں انہیں رویا کے ذریعے سے یہ غیبی اشارہ ہوا ہو کہ جب ولادت کا مرحلہ آئے تو وہ فلاں کھجور کے پاس چلی جائیں، وہاں ان کے لیے ضروری لوازم فراہم ہوں گے۔ چناچہ جب انہوں نے درد زہ کا احساس کیا تو اس بتائے ہوئے درخت کے نیچے چلی گئیں۔
حضرت مریم کے دلی احساسات کا ایک عکس : قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا۔ ذرا تصور کیجیے کیا حال ہوا ہوگا ایک پاکیزہ گھرانے کی ایک کنواری عفیفہ کا جب اس نے اپنے گمان کے مطابق اپنی رسوائی کا یہ سامان اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا ہوگا ! یہ فقرہ ان کے اندرونی احساسات کی بالکل صحیح تعبیر ہے۔ انہوں نے فرمایا اے کاش اس فضیحتے سے پہلے ہی میں مرگئی ہوتی، صرف مر ہی نہیں گئی ہوتی بلکہ لوگوں کے حافظہ سے میری یاد بھی محو ہوچکی ہوتی۔
Ayah 19:24فَنَادَاهَا مِنْ تَحْتِهَا أَلا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا۔ قرینہ دلیل ہے کہ نادی کا فاعل فرشتہ ہے اور من تحتہا میں ضمیر کا مرجع نخلۃ ہے۔ سری چھوٹے چشمہ کو کہتے ہیں۔
امتحان میں کامیاب ہوجانے کے بعد حضرت مریم کو بشارت : حضرت مریم کا غم اس حد کو پہنچ گیا جس کا اظہار اوپر والی آیت سے ہورہا ہے لیکن اس کے باوجود نہ تو اپنے رب کے سوا کسی اور سے انہوں نے شکوہ کیا اور نہ مایوس ہو کر کوئی غلط قدم اٹھایا۔ اللہ تعالیٰ کو بس یہی امتحان کرنا منظور تھا۔ اس امتحان میں کامیاب ہوجانے کے بعد دفعۃ خدائے رحمان و رحیم کی رحمت مسکراتی ہوئی اس گوشہ سے نمودار ہوئی جس گوشہ سے اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوسکتا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مومنہ و قانتہ بندی کے لیے اپنی وہ شانیں دکھائیں جو پوری تاریخِ انسانی میں صرف اسی کے لیے ظاہر ہوئیں۔ کوئی اور اس میں اس کا شریک وسہیم نہیں ہے۔ فرشتے نے درخت کے نیچے سے آواز دی کہ بس اب مغموم و آزردہ نہ ہو۔ غم کے ایام گزر گئے۔ نیچے ایک چشمہ ہے اور یہ کھجور کا درخت ہے جو تمہارے لیے تروتازہ کھجوریں فراہم کرے گا۔ کھاؤ، پیو اور فرزند کے دیدار سے آنکھیں ٹھنڈی کرو۔
Ayah 19:25وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا۔ جذع درخت کے تنہ کو کہتے ہیں۔ کھجور کے تنہ کو حضرت مریم کا ہلانا محض رحمت الٰہی کے ظہور کا ایک بہانہ تھا ورنہ ظاہر ہے کہ ان کی قوت بازو اتنی کہا کہ وہ کھجور کے درخت کو ہلا دیں۔ آیت کا اسلوب بیان یہ ظاہر کررہا ہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنے خانسامے کو ناشتہ یا کھانا حاضر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اسی طرح تم اس کھجو کے تنہ کو ہاتھ لگانا، یہ تمہارے لیے تازہ اور پکے کھجور حاضر کردے گا۔
Ayah 19:26فَكُلِي وَاشْرَبِي وَقَرِّي عَيْنًا فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَدًا فَقُولِي إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنْسِيًّا۔ یعنی کھاؤ پیو اور بچہ کے دیدار سے آنکھیں ٹھنڈی کرو اور روزے کی منت مان لو۔ اگر کوئی شخص آجائے اور کچھ پوچھنا ہے تو اس سے کہہ دینا کہ میں نے روزے کی منت مان رکھی ہے، میں آج کسی سے بات نہیں کرسکتی۔
خاموشی کا روزہ : یہود کی شریعت میں خاموشی بھی روزے کے شرائط میں تھی۔ اگرچہ آیت میں اس بات کی تصریح نہیں ہے کہ فرشتہ نے حضرت مریم کو روزہ رکھ لینے کی بھی ہدایت کی لیکن فحوائے کلام سے یہ بات واضح ہے۔ جب فرشتہ ان کو یہ ہدایت کرتا ہے کہ " اگر کوئی شخص کچھ پوچھے تو اس سے یہ کہ دینا کہ میں روزے سے ہوں، کسی سے بات نہیں کرسکتی " تو اس سے آپ سے آپ یہ بات لازم آتی ہے کہ ان کو روزہ رکھنے کی بھی ہدایت ہوئی۔ ورنہ فرشتہ آخر غلط بیان کی ہدایت کس طرح کرسکتا ہے۔
ممکن ہے یہاں کسی کو یہ شبہ ہو کہ حضرت مریم جس حال میں تھیں اس میں تو عورت کو روزہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ یہود کے ہاں مجرد خاموشی کا بھی روزہ تھا اور یہ روزہ ہر حال میں رکھا جاسکتا تھا۔ اسفار یہود میں " خاموش رہو " کی تعبیر اللہ کو یاد کر ھنے اور اس کی عبادت کرنے کے لیے جگہ جگہ اسعمال ہوئی ہے۔ ملاحظہ ہو زکریا باب 2۔ 13۔
" قول " بمعنی اشار : ایک بات اس آیت میں بعض لوگوں کو اور کھٹکے گی۔ وہ یہ کہ جب یہ روزہ خاموشی کا روزہ تھا تو یہاں لفظ " قولی " (کہہ دینا) کے استعمال کا کیا محل تھا ؟ پھر تو کوئی لفظ ایسا استعمال ہوتا جس کے معنی اشارہ کرنے کے ہوتے اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ عربی میں " قال " اشارہ کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ قال برمحہ، (اس نے اپنے نیزے سے اشارہ کیا) قال بیدہ ہکذا (اس نے اپنے ہاتھ اس طرح اشارہ کیا) وغیرہ محاورات عربی میں معروف ہیں۔ آخر الذکر محاور تو بعض حدیثوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔
Ayah 19:27تفسیر آیت 27 تا 28:۔ فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ قَالُوا يَا مَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا (27) يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا (28)۔
حضرت مریم کو خاندان والوں کی ملامت : فرشتے سے مذکورہ بالا رہنمائی حاصل کرنے کے بعد حضرت مریم نومولود کو گود میں اٹھائے ہوئے اپنے خاندان والوں میں واپس آئیں۔ ان کو دیکھتے ہی سب ان پر پل پڑے۔ ہر شخص نے ان کو ملامت کی اور غیرت دلائی کہ جس کا باپ شریف، جس کی ماں عفیفہ اور جو ہارون جیسے نیک آدمی کی بہن ہو، حیف ہے اگر وہ ایسی حرکت کی مرتکب ہو۔
" ہارون " سے مراد یہاں حضرت موسیٰ کے بھائی ہارون نہیں ہیں بلکہ حضرت مریم کے خاندان ہی کے لوگوں میں سے کسی نیک شہرت رکھنے والے شخص کا نام ہے۔ حدیثوں سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔
Ayah 19:28فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا۔ حضرت مریم چونکہ خاموشی کا روزہ رکھے ہوئے تھیں، زبان سے کچھ نہیں کہہ سکتی تھیں اسی وجہ سے انہوں نے نومود کی طرف اشارہ کیا کہ ان تہمتوں کا جواب انہی سے لو، میرے کچھ عرض کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
ظاہر ہے کہ اس عرصہ میں حضرت مریم پر یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ نومولود اپنا اور ان کا مقدمہ لڑنے کے لیے خدا ہی کے ہاں سے پوری طرح مسلح ہو کر آیا ہے۔ وہ لوگ حضرت مریم کی اس بات سے بہت جزبز ہوئے۔ بولے کہ ہم تو تم سے پوچھتے ہیں، اس بچے سے کس طرح بات کریں جو ابھی گہوارے میں ہے ! !
حضرت مریم کی برکت کے لیے شان خداوندی کا ظہور : جب حضرت مریم کی آزمائش یہاں تک پہنچ گئی اور وہ ہر مرحلہ میں سو فی صدی کامیاب ثابت ہوئیں تو وقت آگیا کہ اللہ تعالیٰ اب اپنا اعلان کرادے کہ وہ اپنے کسی بندے یا بندی کے لیے، جو اس کے امتحان میں کامیاب ہوجائے، انی کیا شانیں دکھاتا ہے۔
Ayahs 19:29–33تفسیر آیت 30 تا 33:۔ قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا (30) وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا (31) وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا (32) وَالسَّلامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا (33)
گہوارے میں حضرت مسیح کے ارشادات : یہ حضرت مسیح کے وہ ارشادات ہیں جو اس موقع پر انہوں نے اپنی اور اپنی والدہ ماجدہ کی بریت میں گہوارے کے اندر سے فرمائے۔ حضرت مریم جس امتحان میں ڈال دی گئی تھیں اس سے پوری عزت اور سرخروئی کے ساتھ عہدہ برآ ہونے کے لیے ضروری تھا کہ گود کا بچہ ہی ان کی پاک دامنی اور اپنی وجاہت کی شہادت دے تاکہ کسی کے لیے بھی اس کے بعد لب کشائی کی گنجائش باقی نہ رہے۔ ہم حضرت مسیح کے ان ارشادات کی وضاحت سورة آل عمران کی تفسیر میں کرچکے ہیں یہاں صرف اشارت پر کفایت کریں گے۔
عبرانی میں لفظ " ابن " کا مفہوم : پہلی بات انہوں نے یہ فرمائی کہ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ یعنی کوئی میری اس خارق عادت ولادت سے اس غلط فہمی میں نہ مبتلا ہو کہ میں کوئی مافوق بشر ہستی ہوں۔ میں اللہ کا بندہ ہی ہوں یہ قرآن نے ان کے ارشاد ابن اللہ کی صحیح تعبیر بتائی ہے۔ عبرانی میں ابن کا لفظ بندہ اور بیٹے دونوں کے لیے آتا ہے۔ موقع و محل سے اس کا تعین کرتے ہیں۔ حضرت مسیح کی واضح تعلیلمات کی موجودگی میں اس لفظ کی تاویل میں کسی التباس کی گنجائش نہیں تھی لیکن پال نے اس کو فتنہ کا ذریعہ بنا لیا۔ اور تثلیث کا ایک پورا گورکھ دھندا تیار کردیا۔ ہم انجیلوں کی روشنی میں اس میتھالوجی کی تردید سورة آل عمران اور مائدہ کی تفسیر میں کرچکے ہیں۔
تورات پر حکمت کا اضافہ : دوسری بات انہوں نے یہ فرمائی کہ خدا نے مجھے کتاب و نبوت سے سرفراز فرمایا ہے اور میں جہاں کہیں بھی ہوں میرا وجود وہاں کے لیے سراپا خیر و برکت ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ جہاں تک شریعت کا تعلق ہے تورات ہی کی شریعت پر عامل اور اسی کے داعی اور مجدد تھے۔ البتہ انہوں نے اس پر حکمت کا اضافہ فرمایا۔ یہی حکمت کے وعظ ہیں جو منتشر اور ناتمام حالت میں ہمیں انجیلوں میں ملتے ہیں۔ یہی لعل و گہر ہیں جو وہ اپنی زبان مبارک سے ہر دشت و چمن میں برساتے ہوئے گزرتے تھے اور جس دل میں ذرا بھی زندگی کی رمق ہوتی تھی اس کو زندۂ جاوید کردیتے تھے۔
تمام دین و شریعت کی بنیاد نماز اور زکوۃ پر ہے : تیسری بات انہوں نے یہ فرمائی کہ مجھے زندگی بھر کے لیے نماز اور زکوۃ کی ہدایت ہوئی ہے۔ در اصل یہی دو چیزیں ہیں جو تمام دین و شریعت کی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں اس وجہ سے تمام آسمانی شرائع میں سب سے پہلے انہی کا ذکر آتا ہے۔ ان کی ظاہری شکلیں مختلف ادیان میں مختلف رہی ہیں لیکن بندی رب اور ہمدردی خلق کی روح ان کی رہ شکل میں محفوظ رہی ہے۔ نماز آدمی کو اس کے رب سے صحیح طور پر جوڑتی ہے اور زکوۃ سے اس کا تعلق خلق کے ساتھ صحیح طور پر استوار ہوتا ہے۔ انہی دو چیزوں کی استواری پر تمام دین کے قیام کا انحصار ہے۔ اگر کوئی شخص ان کو ڈھا دے تو وہ تمام دین کو ڈھا دے گا اگرچہ وہ دین کے نام پر کتنی ہی لاف زنی کرے۔
ماں کی فرمانبرداری : چوتھی بات انہوں نے یہ فرمائی کہ خدا نے مجھے اپنی ماں کا فرمانبردار بنایا ہے، مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا ہے۔ یعنی ہرچند میری ولادت کی نوعیت خاص ہے، میرے اوپر میرے رب کے انعامات بھی خاص ہیں لیکن ان سب باتوں کے باوجود میں ایک ماں کا بیٹا اور فرمانبردار بیٹا ہوں۔ خدا کے خاص انعامات کے معنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ میری حیثیت عرفی و بشری میں کوئی فرق آگیا ہے۔ ساتھی ہی یہ حقیقت بھی واضح فرما دی کہ جو اپنے ماں باپ کا فرمانبردار نہیں وہ جبار و شقی ہے۔ حضرت مسیح کے اس ارشاد سے انجیل کی بعض ان روایات کی تردید ہوتی ہے جن سے یہ گمان گزرا ہے کہ خدانخواستہ وہ حضرت مریم کا واجبی احترام نہیں کرتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت مسیح پر دعوائے الوہیت کی تہمت چپکائی گئی ہے تو اس کی تائید فراہم کرنے کے لیے اس قسم کی روایات بھی انجیلوں میں داخل کردی گئیں۔
وَالسَّلامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا۔
ہر مرحلہ میں سلام و تحیت : جس طرح ٓیت 15 میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ سے متعلق ان کی زندگی اور موت کے ہر مرحلہ میں سلام و تحیت کی بشارت دی ہے اسی طرح یہ حضرت مسیح نے اپنی ولادت، موت اور بعث کے ہر مرحلہ میں اپنے لیے قدوسیوں کے سلام اور ان کی تحیت کی خبر دی ہے۔ اس آیت سے یہ بات واضح طور پر نکلتی ہے کہ ولادت اور موت کے بعد اٹھائے جانے کے مراحل سے جس طرح ہر بشر گزرتا ہے اور گزرے گا اسی طرح سیدنا مسیح بھی گزرے اور گزریں گے۔ اس باب میں ان سے متعلق محض تفسیری روایات کی بنا پر کوئی ایسی بات فرض کرلینا احتیاط کے بالکل خلاف ہے جس کی کوئی سند قرآن میں نہیں ہے۔
Ayahs 19:34–35تفسیر آیات 34 تا 35: ذَلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ (34) مَا كَانَ لِلَّهِ أَنْ يَتَّخِذَ مِنْ وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (35)
ایک برمحل جملہ معترضہ بطور تنبیہ : یہ دو ٓیتیں، حضرت مسیح کے ارشادات کے بیچ میں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور جملہ معترضہ ہیں۔ بالکل برمحل لوگوں کو عام طور پر اور نصاریٰ کو خاص طور پر توجہ دلائی گئی ہے کہ یہ ہے حضرت مسیح کی اصل حقیقت جو انہوں نے خود اپنی زبان سے واضح فرمائی ہے۔
نصاری کی معمہ سازی : قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ۔۔ امتراٗ کے اصل معنی بکری کے تھن کو اچھی طرح نچوڑنے کے ہیں۔ یہیں سے یہ لفظ کٹ حجتی کرکے کسی بات کو بتنگڑ بنانے اور اس میں طرح طرح کے اوہام و شکوک پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے لگا۔ فرمایا کہ حضرت مسیح کی اصل حقیقت تو یہ ہے جو اللہ نے بھی بیان فرمادی اور خود حضرت مسیح نے بھی واضح کردی لیکن عیسائیوں نے اس کو گھس گھس کر افسانہ بنا دیا جس سے خود بھی اوہام میں مبتلا ہوئے۔ اور دوسروں کو بھی مبتلا کر رہے ہیں۔ ہم نصاریٰ کی الہیات پر مائدہ 17 کے تحت تفصیل سے گفتگو کرچکے ہیں، اس پر ایک نظر ڈال کرد یکھیے تو اندازہ ہوگا کہ پال نے سیدھی سادی بات کو کس طرح ایک چیستان اور معمہ بنا کے رکھ دیا ہے۔
نصاریٰ کا شرک : مَا كَانَ لِلَّهِ أَنْ يَتَّخِذَ مِنْ وَلَدٍ سُبْحَانَهُ ، یہ اس شرک کی تردید ہے جس میں عیسائی حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا فرض کرکے مبتلا ہوئے۔ فرمایا کہ خدا کی صفات کے یہ بات بالکل منافی ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ سُبْحَانَهُ ، وہ اس قسم کی تمام نسبتوں سے بالکل پاک ہے، إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ۔ بیٹے کی ضرورت اس کو ہوتی ہے جو اپنے ارادوں اور منصوبوں کو بروئے کار لانے میں کسی کا محتاج ہو۔ خدا کسی کا محتاج نہیں وہ جب کسی امر کا ارادہ کرتا ہے تو بس اس کے کلمہ۔ کن۔ سے اس کا ہر ارادہ پورا ہوجاتا ہے۔ اس ٹکڑے میں یہ بات بھی مضمر ہے کہ حضرت عیسیٰ کی خارق عادت ولادت بھی ان کی الوہیت کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ بھی خدا کے کلمہ " کن " ہی کا ایک کرشمہ ہے۔ خدا نے چاہا کہ وہ یوں ہی پیدا ہوں تو وہ بن باپ کے کلمہ کن سے پیدا ہوگئے۔
Ayah 19:36وَإِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ۔
عبرانی میں " اب " کا صحیح مفہوم : جملہ معترضہ ختم ہونے کے بعد یہ حضرت عیسیٰ کے ارشادات کا آخری ٹکڑا نقل ہوا ہے کہ انہوں نے مزید فرمایا کہ اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی تو اسی کی بندگی کرو، خدا تک پہنچانے والی سیدھی راہ یہی ہے۔ انجیلوں میں حضرت عیسیٰ کی زبان سے یہ جو نقل ہوتا ہے کہ " میرا باپ اور تمہارا باپ " یہ قرآن نے اس کی صحیح تعبیر بتائی ہے۔ عبرانی زبان میں " اب " باپ اور رب دونوں معنوں میں آتا ہے۔ اس کے صحیح مفہوم کا تعین اس کے محل استعمال سے ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ " میرا باپ اور تمہارا باپ " کے فقرے میں یہ رب ہی کے معنی میں ہوسکتا ہے۔ اگر اس کو " باپ " کے معنی میں لیا جائے تو پھر حضرت عیسیٰ کی کوئی خصوصیت نہیں رہ جاتی بلکہ ساری خدائی اللہ کی اولاد بن جاتی ہے۔
Ayah 19:37آگے کا مضمون۔ آیات 37 تا 40: آگے چند آیات میں نصاریٰ کے باہمی اختلافات پر ان کو ملامت اور ایک ایسے دن کی دھمکی ہے جس دن ایک علیم وخبیر خدا کی طرف سے ان کا سارا کچا چٹھا ان کے سامنے آجائے گا۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔
فَاخْتَلَفَ الأحْزَابُ مِنْ بَيْنِهِمْ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ مَشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيمٍ۔
نصاری کی گروہ بندیاں : یعنی حضرت مسیح کی اصل حقیقت تو وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی اور یہ اس قدر واضح بات ہے کہ اس میں کسی اختلاف و نزاع کی گنجائش نہیں تھی لیکن عیسائیوں نے اپنی بدبختی سے اس میں اختلاف پیدا کیا۔ اور ان کے اندر بہت سے چھوٹے بڑے فرقے پیدا ہوگئے۔ ان میں سے حق پر صرف وہ تھوڑے سے لوگ قائم رہے جو شمعون کے پیرو تھے۔ یہی لوگ تھے جو نبی ﷺ کی دعوت پر ایمان لائے اور انہی کی قرآن نے تعریف کی ہے۔ باقی سب جو پال کے پیرو ہوئے وہ مختلف گروہوں میں بٹتے چلے گئے۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ یہ دو فرقے تو مشہور ہی ہیں ان کے علاوہ اور بھی چھوٹے بڑے بہت سے چرچ ان کے اندر ہیں۔
مَشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيمٍ سے مراد : مَشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيمٍ ، سے ہمارے نزدیک حضرات انبیاء کی وہ شہادت مراد ہے جو قیامت کے روز وہ اپنی اپنی امتوں کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کے سامنے دیں گے۔ اس شہادت کی پوری تفصیل سورة مائدہ میں بیان ہوئی ہے۔ حضرت عیسیٰ کی شہادت کا ضروری حصہ ملاحظہ فرمائیے۔ " وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ (116) مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (117): جب کہ اللہ پوچھے گا کہ اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تم نے لوگوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بناؤ، وہ کہیں گے تو پاک ہے میرے لیے یہ کس طرح زیبا تھا کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہی ہوگی تو تو اسے جانتا ہے۔ جو کچھ میرے جی میں ہے اس کو تو جانتا ہے لیکن جو کچھ تیرے جی میں ہے اس کو میں نہیں جانتا بیشک غیب کا راز دان تو ہی ہے۔ میں تو ان سے صرف وہی بات کہی جس کا تو نے مجھے حکم دیا کہ اللہ ہی کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔ میں جب تک ان کے اندر رہا ان پر گواہ رہا پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو ان کا نگران حال تو ہے اور تو ہر چیز سے باخبر ہے۔ اگر تو ان کو سزا دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر ان کو بخشے تو تو غالب اور حکیم ہے " (المائدہ : 116 تا 117)۔
آیات زیر بحث میں اسی مشہد عظیم سے عیسائیوں کو ڈرایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب خود حضرت عیسیٰ سے اللہ تعالیٰ وہ گواہی دلوا دے گا جو مائدہ کی مذکورہ بالا آیات میں بیان ہوئی ہے تو نصاریٰ نہ تو حضرت عیسیٰ کو منہ دکھانے کے قابل رہ جائیں گے نہ اللہ تعالیٰ کو۔ پھر تو ان کے لیے ہلاکی اور ماتم کے سوا کوئی اور چیز باقی نہیں رہ جاتی۔
Ayah 19:38أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ۔ أَسْمِعْ بہ وَأَبْصِرْ بہ عربی میں تعجب کے صیغے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو انہیں اصل حقیقت جب سنائی اور سمجھائی جاتی ہے تو نہ اس کو سنتے ہیں نہ اس کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں لیکن جب اس مشہد عظیم سے ان کو سابقہ پیش آئے گا تو کانوں کے پردے بھی کھل جائیں گے اور آنکھوں کی پٹیاں بھی اتر جائیں گی۔ معلوم ہوگا کہ اس وقت ان سے زیادہ بینا اور شنوا کوئی نہیں ہے، لیکن وہ وقت سننے اور سمجھنے کا نہیں بلکہ سر پیٹنے کا ہوگا۔ " ظالمون " سے یہاں مراد اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے وہ بدقسمت لوگ ہیں جو آنکھ کان رکھتے ہوئے اندھیرے میں ٹھوکریں کھاتے رہے۔
Ayah 19:39وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الأمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لا يُؤْمِنُونَ۔
یوم الحسرۃ سے مراد : یوم الحسرۃ سے مراد وہی شہادت عظیم کا دن ہے۔ اس دن آنکھیں تو سب کی کھل جائیں گی لیکن توبہ وہ اصلاح اور سعی و عمل کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے۔ جو لوگ آج غفلت میں پڑے ہوئے ایمان نہیں لا رہے ہیں وہ حسرت سے کہیں گے کہ کاش ان کو دنیا میں پھرجانا نصیب ہوتا کہ وہ ایمان و عمل صالح کی زندگی گزارتے لیکن ان کی یہ حسرت بس حسرت ہی رہے گی۔ اس دن سارے معاملات کا فیصلہ ہوجائے گا اور ہر ایک اپنے اعمال کے نتائج سے دوچار ہوگا۔
Ayah 19:40إِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الأرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا وَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ۔ یعنی اس دن زمین اور اہل زمین سب کا مالک اور وارث اللہ ہی ہوگا اور سب کی پیشی اسی کے سامنے ہوگی۔ اس دن نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا اور نہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا۔