Ayah 19:41آگے کا مضمون۔ آیات 41 تا 63: آگے حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ ، حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہم السلام) کی سیرت اور ان کی تعلیم و دعوت کا اجمالی حوالہ ہے اور مقصود اس حوالہ سے ایک طرف تو نصاری پر یہ حقیقت واضح کرنا ہے کہ حضرت عیسیٰ سے پہلے جو انبیاء عظام، آدم و نوح اور ابراہیم و اسرائییل (علیہم السلام) کی نسل سے گزرے ہیں ان سب کی تعلیم و دعوت یہی رہی ہے جو آج اللہ کا رسول تمہارے سامنے پیش کررہا ہے لیکن تم ایسے ناخلف نکلے کہ تم نے ان نبیوں کی تعلیم ضائع کدی اور اس کی جگہ بدعتوں اور ضلالتوں میں مبتلا ہوگئے۔ دوسری طرف قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کو جن کے ساتھ نسبت اور جن کے دین کے حامل و وارث ہونے کے تم مدعی ہو، ان خرافات سے کوئی تعلق نہیں تھا جن کو تم آج ملت ابراہیم کے نام سے پوج رہے ہو۔ اصل ملت ابراہیم یہ ہے جس کی دعوت تمہیں قرآن دے رہا ہے لیکن تم اس کی تکذیب کر رہے ہو۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا۔
حضرت ابراہیم کے ذکر کی تقدیم کی وجہ : حضرت ابراہیم ؑ چونکہ نبوت و رسالت کے دونوں سلسلوں کے، جو حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل سے قائل ہوئے، مسلمہ امام ہیں اس وجہ سے سب سے پہلے انہی کی سرگزشت اور دعوت وتعلیم کا حوالہ دیا تاکہ بنی ارائیل اور بنی اسماعیل دونوں پر حجت قائم ہوسکے۔
" الکتاب " سے مراد : " الکتاب " سے مراد عام طور پر ہمارے مفسرین نے قرآن کو لیا ہے۔ اگرچہ اس کا بھی ایک محل ہے لیکن میں نے اس سے کتب سابقہ کو مراد لیا ہے۔ میرے نزدیک یہ لفظ یہاں بھی اور آگے جہاں جہاں بھی انبیاء کے ذکر کے سلسلہ میں آیا ہے بطریق حوالہ ہے۔ یعنی تورات و انجیل کے حوالہ سے یہ یاد دہانی کی گئی ہے کہ تمام جلیل القدر انبیاء کی دعوت اور تعلیم وہی رہی ہے جو قرآن پیش کررہا ہے۔ اس قرآن کو جھٹلانے والے درحقیقت اپنے انبیاء اور اپنے صحیفوں کی بھی تکذیب کررہے ہیں۔ اور اگر اس سے قرآن کو مراد لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کتاب میں اس کے مخالفین کو ان کے انبیاء کی سرگزشت سناؤ کہ وہ اس سے سبق حاصل کریں۔ یہ ان کے لیے رحمت و برکت ہے۔ اگر اس سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا تو خود اپنے کو اللہ کی نعمت سے محروم کریں گے، کسی دوسرے کا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔ ان دونوں صوتوں میں لفظ کا محمل تو ضرور بدل جائے گا لیکن مدعائے کلام میں کچھ ایسا فرق واقع نہیں ہوگا۔ یہاں
حضرت ابراہیم کی صدیقیت کے ذکر کا ایک خاص پہلو : یہاں حضرت ابراہیم کی صدیقیت کے پہلو کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں اہل کتاب اور مشرکین عرب دونوں کو اس بات پر ملامت کی جا رہی ہے کہ تم حضرت ابراہیم کی وراثت اور ان کی ذریت ہونے کے مدعی تو بنے بیٹھے ہو لیکن حال یہ ہے کہ تم نے ابراہیم کی دعوت اور ان کی تعلیم کو بالکل برباد کرکے، اس کی جگہ ایک نیا دین کھڑا کرلیا ہے۔ ابراہیم تمہاری طرح خدا سے بدعہدی اور بےوفائی کرنے والے نہیں تھے بلکہ صداقت شعار، راست باز اور کامل وفادار تھے۔ خدا نے ان کو جن آزمائشوں میں ڈالا ان میں وہ پورے اترے اور ان امتحانوں میں پورے اترنے ہی کہ صلہ میں اللہ نے ان کو امتوں کی امامت کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ تم اگر ان کی وراثت اور ان امتحانوں میں پورے اترنے ہی کے صلہ میں اللہ نے ان کو امتوں کی امامت کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ تم اگر ان کی وراثت اور ان کے ساتھ نسبت کے حق دار ہوسکتے ہو تو اس صورت میں ہوسکتے ہو جب کہ پوری راستبازی کے ساتھ اس عہد کو پورا کرو جو ابراہیم کے واسطہ سے تم نے خدا سے باندھا ہے۔ اس کے بغیر نہ تم ابراہیم کے ساتھ کسی نسبت کے حق دار ہو اور نہ اس امات ہی میں تمہاری کوئی حصہ ہے جس کا وعدہ اللہ نے ابراہیم اور ان کی ذریت کے لیے فرمایا۔ سورة بقرہ میں حضرت ابراہیم کی اس صدیقیت اور اس کے صلہ و انعام کا یوں ذکر ہوا ہے۔ " وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ : اور یاد کرو جب کہ ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں جانچا تو وہ اس نے پوری کردکھائیں۔ اس کے رب نے فرمایا کہ اب میں تمہیں قوموں کا امام بنانے والا ہوں۔ اس نے سوال کیا۔ اور میری ذریت کو بھی ؟ فرمایا کہ میرا یہ وعدہ ان سے متعلق نہیں ہے جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہوں گے " (بقرہ :124)
یہاں کلمات سے مراد ظاہر ہے کہ وہی امتحانات ہیں جن میں حضرت ابراہیم مبتلا کیے گئے اور وہ ان میں سو فیصدی کامیاب رہے۔ ان امتحانات کا ذکر قرآن میں تفصیل سے ہوا ہے اور ہم بقرہ کی تفسیر میں ان کا حوالہ دے چکے ہیں۔ انہی امتحانوں میں کامیابی کے صلہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو صدیق کے لقب سے نوازا اور قوموں کی امات کے منصب پر سرفراز فرمایا اور ساتھ ہی حضرت ابراہیم کے سوال کے جواب میں یہ حقیقت بھی واضح فرمادی کہ یہ منصب نام و نسب کے ساتھ وابستہ نہیں ہے بلکہ اعمال و کردار کے ساتھ وابستہ ہے۔ حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے بھی وہی لوگ اس کے حقدار ٹھہریں گے جو اپنے باپ کی صدیقیت کی لاج رکھیں گے۔ جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے اور شرک و کفر کے علمبردار بن جائیں گے ان کے لیے اس میں کوئی حصہ نہیں ہے، خواہ وہ بنی اسحاق میں سے ہوں یا بنی اسماعیل میں سے۔
سورة مریم کی زیر بحث آیت کے اصلی زور کو سمجھنے کے لیے لفظ " صدیق " کے ان تمام مضمرات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے اس کے بغیر آگے کے کلام کا اصلی رخ معین نہ ہوسکے گا۔
Ayahs 19:42–45تفسیر آیات 42 تا 45: حضرت ابراہیم کی تقریر اپنے باپ کے سامنے :۔ إِذْ قَالَ لأبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا (42) يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا (43) يَا أَبَتِ لا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَنِ عَصِيًّا (44) يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا (45)
یہ حضرت ابراہیم کی وہ تقریری ہے جو وحی الٰہی سے سرفراز ہونے کے بعد سب سے پہلے انہوں نے اپنے باپ۔ آزر۔ کے سامنے کی ہے۔ اس تقریر میں " یا ابت (اے میرے باپ) کی تکرار حضرت ابراہیم کی دل سوزی، دردمندی اور استمالت کی دلیل ہے۔ ایک سعادت مند بیٹے کے اندر باپ کی گمراہی سے جو تعلق خاطر اور جو اضطراب ہونا چاہیے وہ فقرے فقرے سے نمایاں ہے۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ آزر حضرت ابراہیم کے والد کا نام ہے نہ کہ چچا کا، جیسا کہ یہود کا دعوی ہے اور جس کو بےسوچے سمجھے ہمارے بعض مفسرین نے بھی قبول کرلیا اور پھر سبائیوں نے اس کو ایک فتنہ کا ذریعہ بنا لیا۔ ہم تورات کی اس روایت کی اس کے محل میں تردید کرچکے ہیں۔
اس تقریر کے چند حقائق : توحید کی اس تقریر میں حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کو، ایک فطری ترتیب کے ساتھ چند حقائق کی طرف توجہ دلائی ہے۔ سب سے پہلے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ آخر اپنے ہی ہاتھوں کی گھڑی ہوئی ان پتھر کی مورتوں کو معبود مان کر ان کی پوجا کرنے کا کیا تک ہے ؟ کسی کو معبود بنالینا کوئی شوق اور تفریح کی چیز نہیں ہے۔ اس کا تعلق تو انسان کی سب سے بڑی احتیاج سے ہے۔ انسان خدا کو اس لیے مانتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے کہ وہ اس کی دعا و فریاد کو سنتا، اس کے دکھ درد کو دیکھتا اور اس کی ہر مشکل میں اس کی دست گیری کرتا ہے۔ آخر یہ آپ کے اپنے ہی ہاتھوں کی گھڑی ہوئی مورتیں جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں، نہ آپ کے کچھ کام آسکتی ہیں، کس مرض کی دوا ہیں کہ آپ ان کے آگے ڈنڈوت کرتے ہیں۔ یہ گویا شرک کے بدیہی باطل ہونے کی دلیل ہے کہ اس کے باطن سے قطع نظر اس کا ظاہر ہی شہادت دیتا ہے کہ یہ کھلی ہوئی سفاہت اور عقل و فطرت سے بالکل بےجوڑ چیز ہے۔
دوسری حقیقت یہ واضح فرمائی کہ خدا کے معاملہ میں یہ طے کرنا کہ اس کا کوئی شریک ہے یا نہیں اور ہے تو کون ہے، یہ مجرد ظن و گمان رکھنے والی چیز نہیں ہے۔ آدمی ایک خدا کو تو اس لیے مانتا ہے کہ فطرت اور عقل، آفاق اور انفس کے اندر اس کی شہادت موجود ہے اور ہر انسان، جس کی فطرت سلیم ہو، اس کے ماننے پر مضطر ہے لیکن دوسروں و ماننے کے لیے کیا مجبوری ہے کہ خواہ مخواہ کو ان کو بھی شریک خدا بنا کر اپنے سر پر لاد لے۔ اس معاملہ میں اعتماد کی چیز " العلم " یعنی وہ علم حقیقی ہے جو خدا کی طرف سے وحی کے ذریعہ سے آتا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کو دعوت دی کہ وہ ایسے اہم معاملہ میں مجرد وہم کی پیروی نہ کریں۔ بلکہ ان کی پیروی کریں۔ وہ ان کے سامنے اس علم حقیقی کو پیش کررہے ہیں جو خدا کی طرف سے ان کے پاس آیا ہے۔ اسی علم سے اس راہ کی طرف رہنمائی ہوگی جو خدا تک پہنچانے والی سیدھی راہ ہے۔ " سیدھی راہ " یعنی یہ راہ بندے کو ہر واسطہ اور ہر وسیلہ سے بےنیاز کرکے براہ راست خدا تک پہنچانے والی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ یہ راہ توحید کی راہ ہے۔
تیسری حقیقت یہ واضح فرمائی کہ شیطان کو سب سے زیادہ کد اور ضد، جیسا کہ قصہ آدم و ابلیس، سے واضح ہے توحید کی صراط مستقیم ہی سے ہے۔ اس نے یہ قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ذریت آدم کو اس صراط مستقیم سے برگشتہ کرنے کے لیے اپنا پورا زور لگا دے گا اور ان کو شرک میں مبتلا کرکے چھوڑے گا۔ خدائے رحمان کے ایسے کھلے ہوئے باغی کی ایسی وفادارانہ اطاعت درحقیقت اس کی عبادت ہے اور بدقسمت ہے وہ انسان جو خدا کو چھوڑ کر شیطان کی عبادت کرے۔
چوتھی حقیقت یہ واضح فرمائی کہ اب تک تو آپ کے یلے ایک عذر تھا کہ خدا کی ہدایت آپ کو نہیں پہنچی تھی لیکن اب جب کہ خدا کی ہدایت آپ کو پہنچ چکی ہے آپ کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا اس وجہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں آپ خدا کی پکڑ میں نہ آجائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر اسی انجام سے نہ دوچار ہوں جو شیطان اور اس کے اولیاء کے لیے مقدر ہے۔
Ayah 19:46قَالَ أَرَاغِبٌ أَنْتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ لأرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا۔
مَلِيًّ ، مدت العمر اور زمانہ طویل کے معنی میں آتا ہے۔ ہمارے نزدیک تقدیر کلام یوں ہے۔ َاهْجُرْنِي ھِجراً مَلِيًّا۔ یعنی میرے سامنے سے دفع ہو، کبھی اپنی شکل مجھے نہ دکھائیو۔
آزر کی برہمی : حضرت ابراہیم کی یہ تقریر سن کا آزر کا غصہ بھڑک اٹھا۔ بولا، ابراہیم ! تم میرے معبودوں سے برگشتہ ہو رہے ہو، اگر تم اس حرکت سے باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کردوں گا اور اب بہتر یہ ہے کہ تم میری نگاہوں سے دور ہوجاؤ اور کبھی مجھے اپنی شکل نہ دکھانا۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قبائلی زندگی میں جس طرح آقاؤں کو اپنے غالموں پر غیر محدود اختیارات حاصل ہوتے تھے اسی طرح باپوں کو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں پر بالکل غیر محدود اختیارات حاصل تھے وہ ان کو قتل کردیں، سنگ سار کردیں یا زندہ درگور کردیں، کوئی ان کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں تھا۔
Ayahs 19:47–48تفسیر آیات 47 تا 48: قَالَ سَلامٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا (47) وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَى أَلا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا (48)
سَلامٌ یہاں وداعی سلام کے مفہوم میں ہے۔ جس طرح ملاقات کے لیے شائستہ اور بابرکت طریقہ یہ ہے کہ وہ سلام کے ساتھ ہو اسی طرح جدائی کے لیے بھی شائستہ طریقہ یہی ہے۔ إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا، حفی اس کو کہتے ہیں جو کسی کی بڑی خبر رکھنے والا، اس کے لیے بڑا اہتمام کرنے والا اور اس پر بےنہایت کرم فرمانے والا ہو۔
حضرت ابراہیم نے جب باپ کو اتنا غضب ناک دیکھا تو فرمایا کہ بہتر ہے، اگر ٓپ کی رائے یہی ہے کہ میں یہاں سے رخصت ہوجاؤں تو میرا سلام لیجیے، میں یہاں سے چلا۔ اب آپ سے تو کچھ کہنے سننے کی گنجائش رہی نہیں لیکن میں اپنے رب سے آپ کے لیے مغفرت کی دعا کروں گا۔ وہ میری بڑی خبر رکھنے والا ہے، مجھے امید ہے وہ میری دعا قبول فرمائے گا۔
باپ کے لیے درد مندی اور حق کے لیے حمیت : باپ کے اس سنگ دلانہ رویہ کے باوجود، حضرت ابراہیم کا اس سے دعائے مغفرت کا وعدہ کرنا ان کی غایت درجہ درد مندی اور رقت قلب کی دلیل ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے باپ کے لیے اس وقت تک دعا جاری رکھی جب تک اللہ نے آپ کو اس سے روک نہیں دیا۔
لیکن اس درد مندی کے ساتھ ساتھ حق کی غیرت و حمیت کا جو تقاضا تھا وہ بھی انہوں نے پورا پوا ادا کیا۔ مروت یا خوف سے مغلوب ہو کر اپنی دعوت توحید کے معاملہ میں کوئی لچک یا مداہنت گوارا نہیں کی بلکہ چلتے چلاتے صاف صاف سنا دیا کہ میں آپ لوگوں سے بھی کنارہ کش ہوتا ہوں اور آپ لوگوں کے ان دیویوں اور دیوتاؤں سے بھی جن کو آپ لوگ خدا کے ماسوا پوجتے ہیں۔ مزید وضاحت یہ بھی فرما دی کہ میں اپنے رب کے سوا نہ کسی اور کو پکارتا ہوں نہ پکاروں گا اور میں امید رکھتا ہوں کہ اپنے رب کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا۔
موم کی طرح نرم پتھر کی طرح سخت : حضرت ابراہیم کے اس اعلانِ براءت میں جو زور، جو اعتماد علی اللہ اور خلق سے جو بےنیازی ہے وہ لفظ لفظ سے نمایاں ہے۔ اول تو حضرت ابراہیم نے جمع کا صیغہ وَأَعْتَزِلُكُمْ استعمال کیا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ انہوں نے صرف آزر ہی سے نہیں بلکہ اس کے تمام حواریوں، ہمنواؤں اور خاندان سے بھی اعلان براءت کردیا۔ اس کے ساتھ وَمَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ کہہ کر ان کے تمام معبودوں کو بھی ان کے ساتھ شامل کردیا، گویا انہیں بھی لات مار دی۔ پھر بات کو صرف منفی پہلو ہی سے کہنے پر بس نہیں کیا بلکہ اس کو مثبت پہلو سے بھی آشکارا کردیا فرمایا کہ وَأَدْعُو رَبِّي میں صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے سوا میں کسی اور معبود سے آشنا نہیں۔ آخر میں اپنے رب پر اپنے غیر متزلزل اعتماد کا اظہار فرمایا کہ میں اپنے رب کو پکار کے کبھی محروم نہیں رہا ہوں، امید ہے کہ اس آزمائش میں بھی اس کی نصرت اور رہنمائی میرے ساتھ ہوگی۔ ایک طرف تو وہ نرمی، دوسری طرف یہ سختی ! درحقیقت نرمی و سختی کا یہ امتزاج اور ان کی یہی بہم آمیزی ہے جو ایک داعی حق کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ جب تک آدمی مومو کی طرح نرم اور پتھر کی طرح سخت نہ ہو وہ حق کی کوئی خدمت انجام نہیں دے سکتا۔
Ayah 19:49فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلا جَعَلْنَا نَبِيًّا۔
ہجرت اور اس کی برکات : حضرت ابراہیم کا مذکورہ بالا اعلانِ براءت ہجرت کے ہم معنی تھا چناچہ اس کے بعد انہوں نے ہجرت فرمائی۔ اس ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت اسحاق اور اس کے بعد حضرت یعقوب عطا فرمائے اور ان میں سے ہر ایک کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کا ذکر آیت میں جس انداز سے ہوا ہے اس سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہ حضرت ابراہیم ؑ کی ہجرت کے ثمرات و برکات میں سے ہیں۔ جو بندہ اپنے گھر در، اپنے باپ چچا اور اپنے اعزاء و اقرباء سب کو اپنے رب کی خاطر چھوڑتا ہے وہ سزاوار ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے فضل خاص سے ایک دوسری بزم قدس آراستہ کرے تاکہ دنیا دیکھ لے کہ جو لوگ خدا کی خاطر اپنے کو اجاڑتے ہیں وہ کس شان سے آباد ہوتے ہیں۔ چناچہ حضرت ابراہیم کے لیے خدا کی یہی شان ظاہر ہوئی۔ ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ ان کو اولاد عطا فرمائی بلکہ ایسی اولاد عطا فرمائی جن سے اس دنیا میں نبوت و رسالت اور رشد و ہدایت کے دو عظیم سلسلے قائم ہوگئے جن کا فیض ہزاروں برس سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ حضرت اسحاق کے ساتھ حضرت یعقوب کا ذکر، در آنحالیکہ وہ حضرت ابراہیم کے پوتے ہیں، یہ ظاہر کرنے کے لیے ہے کہ باپ، بیٹا، پوتا تینوں نبی۔ ایں خانہ تمام آفتاب است ! بلکہ حضرت یوسف کو بھی ملا لیجیے تو انبیاء کا ایک پورا گھرانا آباد ہوجاتا ہے۔ یہ شرف سیدنا ابراہیم کے سوا اور کس کو حاصل ہوا !
ایک شبہ کا ازالہ : یہاں بادی النظر میں ایک بات کھٹکتی ہے کہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے حضرت اسحاق کا ذکر تو ہوا جو بنی اسرائیل کے سلسلہ کی پہلی کڑی ہیں لیکن سیدنا اسماعیل کا ذکر نہیں ہوا، جن سے بنی اسماعیل کا سلسلہ چلتا ہے، جن کے اندر خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی، حالانکہ برکاتِ ہجرت میں سے اولین اور سب سے بڑی برکت، جیسا کہ استاذ امام نے اپنے رسالہ ذبیح میں ثابت کیا ہے، حضرت اسماعیل ہیں۔ ہمارے نزدیک یہاں حضرت اسماعیل کا ذکر نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آگے ان کا ذکر مستقلاً آ رہا ہے۔ اس سورة میں، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں، اصل مخاطب مشرکین عرب ہیں۔ اہل کتاب کا ذکر اس میں تبعاً آیا ہے۔ سورة کا یہ مزاج مقتضی ہوا کہ حضرت اسماعیل ؑ کا ذکر یہاں تبعاً نہ آئے، بلکہ اہتمام کے ساتھ علیحدہ آئے تاکہ اہل عرب کو پوری طرح متوجہ کرسکے۔
یہ بات بھی نگاہ میں رکھیے کہ حضرت عیسیٰ کے ذکر کی تمہید حضرت زکریا کے ذکر سے اٹھائی ہے جن کے ہاں حضرت یحییٰ کی ولادت ایسے حالات میں ہوئی کہ حضرت زکریا بڑھاپے کی آخری منزل میں پہنچ چکے تھے اور ان کی بیوی بانجھ تھیں۔ پھر حضرت عیسیٰ کی ولادت کا ذکر کرنے کے بعد حضرت ابراہیم کا ذکر فرمایا اور معلوم ہے کہ ان کو بھی اولاد بڑھاپے ہی میں ملی۔ چناچہ قرآن میں مذکور ہے کہ جب حضرت ابراہیم کو اولاد کی بشارت ملی تو ان کی بیوی نے بالکل اسی طرح اظہارِ تعجب کیا جس طرح حضرت یحییٰ کی ولادت کی بشارت ملنے پر حضرت زکریا نے اظہار تعجب کیا۔ قرآن نے حضرت عیسیٰ کے ذکر کے آگے پیچھے ان دونوں نبیوں کا ذکر کرکے ضمناً گویا یہ رہنمائی بھی دے دی کہ خارق عادت ولادت کی مثالیں حضرت عیسیٰ سے پہلے بھی موجود رہی ہیں۔ مجرد اسی بنیاد پر کسی کو الوہیت کا درجہ دے دینا محض سفاہت ہے۔
Ayah 19:50وَوَهَبْنَا لَهُمْ مِنْ رَحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا۔ " رحمت " سے مراد وہ تمام افضال و عنایات اور وہ تام برکتیں اور رحمتیں ہیں جو حضرت ابراہیم اور آل ابراہیم کو از قبیل نبوت و رسالت اور از قسم برکات دنیا حاصل ہوئیں اور جن کی تفصیلات بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔
لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا کا مفہوم : " لسان صدق " میں لسان سے مراد ذکر، چرچا اور شہرت ہے۔ لفظ صدق کے اندر رسوخ، پائداری اور استحکام کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہ اسی طرح کی ترکیب ہے جس طرح دوسرے مقام میں " قدم صدق " کی ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ مطل یہ ہے کہ اللہ نے ان کی دعوت کو خوب فروخ دیا اور ان کو وہ پائیدار عزت و شہرت حاصل ہوئی جو دنیا میں کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔ اس کی پائیداری کا یہ عالم ہے کہ ہزاروں برس گزر گئے لیکن اس پر کہنگی نہیں آئی۔ سینکڑوں، ہزاروں جلیل القدر انبیاء و مصلحین اس مبارک خانوادے سے اٹھے اور حضرت ابراہیم کے مشن کو زندہ کرتے رہے۔ آخر میں حضرت اسماعیل کی نسل سے اسی ملت ابراہیم پر حضرت سرور عالم محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی جس سے اس عظمت و شہرت کو بقائے دوام حاصل ہوگیا۔ یہ سب کچھ حضرت ابراہیم کی اس دعا کی برکت ہے جس کا حوالہ سورة شعراء میں یوں آیا ہے۔ واجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔
Ayah 19:51وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مُوسَى إِنَّهُ كَانَ مُخْلَصًا وَكَانَ رَسُولا نَبِيًّا۔
حضرت موسیٰ کے لیے " مخلص " کا لقب : حضرت ابراہیم کے بعد ان کی ذریت کے اسرائیلی سلسلہ میں، جلیل القدر نبی حضرت موسیٰ ہیں۔ ان کے متعلق فرمایا کہ وہ " مخلص " اور رسول و نبی تھے۔ ان کا رسول ونبی ہونا تو بالکل واضح ہے اس لیے کہ وہ فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اور بنی اسرائیل کی طرف بھی۔ البتہ لفظ " مخلص " یہاں ان کے ایک خاص وصف امتیازی کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ " مخلص " اس کو کہتے ہیں جو کسی کار خاص کے لیے منتخب و مخصوص کیا گیا ہو۔ لفظ کے اس عام مفہوم کے اعتبار سے تمام انبیاء " مخلص " ہیں اس لیے کہ وہ ایک خاص خدائی مشن کے لیے منتخب کیے گئے۔ چناچہ قرآن میں، ان کی شان میں فرمایا بھی ہے کہ انا اخلصناہم بخالصۃ ذکری الدار (ہم نے ان کو ایک خاص مشن یعنی آخرت کی یاد دہانی کے لیے منتخب کیا) (ص 46)۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کا وہ خاص وصف امتیازی کیا ہے جس کی وجہ سے وہ اس لقب سے ملقب ہوئے، جب کہ پورے قرآن میں یہ لقب ان کے سوا کسی اور کے لیے استعمال نہیں ہوا۔ ہمارے نزدیک اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ لفظ حضرت موسیٰ کے اس امتیاز و اختصاص کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ جو ان کو خدا کے ساتھ ہم کلام ہونے کا حاصل ہوا۔ حضرت موسیٰ کے اس امتیازی وصف کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ ہوا ہے۔ ہم سورة نساء کی آیت وکلم اللہ موسیٰ تکلیما کے تحت اس پر گفتگو کرچکے ہیں۔ آگے والی آیت بھی اسی مفہوم کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ اس میں فرمایا ہے وقربناہ نجیا (ہم نے اس کو اپنی سرگوشی اور راز و نیاز کے لیے اپنے قریب کیا) تقریب و تکلم اور راز و نیاز کے اس مرتبہ عالی کے لیے صرف حضرت موسیٰ ہی خاص کیے گئے اور ان کی اسی خصوصیت کو ظاہر کرنے کے لیے ان کو " مخلص " کے لقب سے مشرف فرمایا گیا۔
Ayah 19:52وَنَادَيْنَاهُ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ الأيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا۔ " ایمن " کے معنی داہنے کے بھی ہیں۔ اور مقدس و مبارک کے بھی۔ ہمارے نزدیک یہ یہاں مقدس و مبارک کے معنی میں ہے۔ قرآن کے نظائر سے اسی معنی کی تائید ہوتی ہے۔ آگے سورة طہ میں یہی مضمون یوں بیان ہوا ہے۔ " فلما اتاھا نودی یموسی۔ انی انا ربک فاخلع نعلیک۔ انک بالواد المقدس طوی۔ وانااخترتک فاستمع لما یوح : پس جب وہ اس کے پاس آیات تو اس کو آواز آئی کہ اے موسیٰ یہ تو میں تمہارا رب ہوں تو تم اپنے جوت اتار دو ، تم وادی مقدس طویٰ میں ہو اور میں نے تمہیں منتخب کیا تو سنو جو تمہیں وحی کی جا رہی ہے " (طہ۔ 11۔ 13)
اس آیت سے واضح ہے کہ حضرت موسیٰ کو جو صدا سنائی دی وہ وادی مقدس طویٰ کی سمت سے سنائی دی۔ اس وادی کو تقدس کا یہ درجہ اس وجہ سے حاصل ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی جلوہ گاہ ہونے کا شرف بخشا اور یہاں حضرت موسیٰ سے اس نے کلام کیا۔ اسی تقدیس کو آیت زیر بحث میں " ایمن " سے تعبیر فرمایا ہے۔ اور یہ چیز ایک قابل ذکر چیز تھی۔ جہاں تک اس لفظ کے دوسرے معنی کا تعلق ہے طور کی داہنی جانب کی نشانی دہی کی کوئی خاص افادیت سمجھ میں نہیں آتی۔ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا۔ نجی راز اور سرگوشی کو بھی کہتے ہیں اور اس شخص کو بھی کہتے ہیں جس سے سرگوشی کے انداز میں بات کی جائے، اور اس کو محرم راز بنایا جائے، یہ حضرت موسیٰ کے اسی امتیازِ خاص کی وضاحت ہے۔ جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے طور کی مبارک جانب سے اس کو پکارا اور راز و نیاز کے لیے اس کو قریب کیا۔ حضرت موسیٰ کے ساتھ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے جو کلام کیا اس کو راز و نیاز اور سرگوشی سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء سے جب کلام کیا ہے تو ہمیشہ اپنے مقرب و معتمد فرشتے حضرت جبرئیل امین کے واسطہ ہی سے کیا ہے، کبھی براہ راست کلام نہیں کیا۔ یہ شرف صرف حضرت موسیٰ کو حاصل ہوا کہ ان سے حضرت جبریل کے واسطہ کے بغیر بات کی۔ کوئی تیسرا بیچ میں حائل نہیں ہوا۔ البتہ حضرت موسیٰ کو اس موقع پر بھی باوجود اشتیاق کے، اللہ تعالیٰ کا دیدار حاصل نہ ہوسکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عالم ناسوت میں کوئی جن و بشر یہاں تک کہ پہاڑ بھی خدا کی تجلی کی تاب نہیں لا سکتا۔ یہاں ان باتوں کا کوئی ذکر نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰ کے مابین اس موقع پر ہوئیں۔ اس کی تفصیل سورة طہ میں آئے گی۔
Ayah 19:53وَوَهَبْنَا لَهُ مِنْ رَحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا۔
حضرت موسیٰ پر ایک اور فضل خاص ایک مددگار نبی کی بعثت : حضرت موسیٰ پر یہ فضل خاص بھی ہوا کہ کار نبوت کی انجام دہی میں ان کی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بھائی حضرت ہارون کو ان کا وزیر اور مددگار بنایا اور ان کی یہ مدد محض رضاکارانہ نہیں بلکہ خدا کے ایک مامور و مسئول نبی کی حیثیت سے تھی۔ کسی رسول کی مدد کے لیے کسی نبی کا وزیر اور شریک کار کی حیثیت سے مقرر کیا جانا ایک امتیاز خاص ہے جو حضرات انبیائے کرام کی تاریخ میں حضرت موسیٰ کے سوا اور کسی کے لیے معلوم نہیں۔ حضرت موسیٰ پر فرعون جیسے جبار کے سامنے فرض رسالت ادائیگی اور بنی اسرائیل جیسی نکمی قوم کی اصلاح و تنظیم کی ذمہ داری جب ڈالی گئی تو وہ اس دوہری اور عظیم ذمہ داری سے بہت مضطرب ہوئے اور انہوں نے یہ دعا فرمائی کہ وجعل لی وزیرا من اھلی۔ ھرون اخی۔ اشدد بہ ازری۔ واشر کہ فی امری۔ کی نسبحک کثیرا۔ ونذکرک کثیرا : اے رب میرے لیے میرے اہل خاندان میں سے میرے بھائی ہارون کو وزیر مقرر کردے، اس کے ذریعہ سے میری کمر کو مضبوط کر اور اس کو میری ذمہ داری میں شریک کر تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ تیری تسبیح کرسکیں اور زیادہ سے زیادہ تیرا ذکر پھیلا سکیں " (طہ : 29 تا 34)۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی یہ دعا قبول فرمائی اور اس کا ذکر سورة طٰہٰ میں ایک عظیم احسان کی حیثیت سے ہوا۔ اسی احسان کی طرف یہاں آیت زیر بحث میں اشارہ فرمایا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہود نے حضرت ہارون کو بدنام کرنے کے لیے اپنے بعض سنگین جرائم کی ذمہ داری ان پر ڈال دی ہے لیکن قرآن نے ان کو ایک معصوم نبی کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔
Ayah 19:54وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولا نَبِيًّا۔
حضرت اسماعیل کا ذکر خاص اہتمام کے ساتھ : اب یہ حضرت ابراہیم کی ذریت کے دوسرے سلسلہ کے سربراہ حضرت اسماعیل کا ذکر فرمایا۔ قریش انہی کی نسل سے اور انہی کی ملت کے پیرو ہونے کے مدعی تھے۔ اس سلسلہ میں پہلے رسول اور نبی حضرت اسمعیل ہوئے اور آخری نبی و رسول ہمارے نبی کریم ﷺ۔ ان کے ذکر سے مقصود خاص طور پر مشرکین عرب کو متنبہ کرنا ہے کہ وہ غور کریں کہ حضرت اسماعیل کا عمل اور ان کا پیام کیا تھا اور یہ ان سے کتنے بعید ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی وراثت کے مدعی ہیں اور اس زعم میں قرآن کی مخالفت کررہے ہیں در آنحالیکہ وہ سرتاسر ابراہیم و اسمعیل (علیہما السلام) کی ملت کی دعوت ہے۔
حضرت اسماعیل " صادق الوعد ": ان کی خاص صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ (وعدے کا سچا اور پکا تھا) ظاہر ہے کہ یہ اشارہ اس وعدے کی طرف ہے جو انہوں نے حضرت ابراہیم سے اپنے ذبح کیے جانے سے متعلق کیا۔ حضرت ابراہیم نے جب ان سے استمزاج کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں تو بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے بےدھڑک جواب دیا کہ آپ کو جو اشارہ ہوا ہے، آپ اس کی تعمیل کیجیے، انشاء اللہ آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے۔ پر جب اس وعدے کی تکمیل کا وقت آیا تو انہوں نے بےجھجک اپنی گردن باپ کی چھری کے نیچے دے دی اور قریب تھا کہ چھری چل جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کا ہاتھ روک دیا کہ بس ! مقصود امتحان تھا، وہ پورا ہوگیا اور باپ بیٹے دونوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وفاداری اور راست بازی کی سند عطا ہوئی۔ یہ یاد رکھیے کہ " صادق الوعد " بظاہر مرکب تو صرف دو لفظوں سے ہے لیکن یہ مومن و مسلم کے کردار کی ایک جامع تعبیر ہے۔ اللہ کا جو بندہ اپنے رب سے کیے ہوئے عہد میں راست باز ہے اور اس کی خاطر اپنی گردن کٹوا سکتا ہے اس نے ایمان و اسلام کی معراج حاصل کرلی۔ رہے وہ لوگ جو ابراہیم و اسمعیل کے نام پر محض نسب فروشی اور لاف زنی کررہے تھے ان کے سامنے قرآن نے یہ آئینہ رکھ دیا ہے کہ وہ اس میں اپنی سیاہ روئی کا مشاہدہ کرلیں !
Ayah 19:55وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا۔
حضرت اسماعیل کا خاص مشن : ایمان و اسلام میں حضرت اسمعیل کا جو مرتبہ تھا وہ تو اوپر کے ایک ہی لفظ " صادق الوعد " سے واضح ہوگیا۔ اب ان کے نام لیواؤں کو یہ بات یاد دلائی گئی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتے تھے۔ نماز اور زکوۃ، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں، تمام حقوق اللہ اور تمام حقوق العباد کی ایک جامع تعبیر ہے۔ انہی دو چیزوں پر تمام شرائع کی بنیاد ہے جس نے ان کا اہتمام کیا اس نے تمام دین و شریعت کو قائم کیا اور جس نے ان کو ہدم کیا اس نے پورے دین کو ہدم کیا۔
خدا کا کامل الحیاء بندہ : وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا۔ ایک ایسی جامع تعریف ہے کہ اس کے بعد اس پر ایک حرف کے اضافے کی بھی گنجائش باق نہیں رہ گئی ہے۔ اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی نگاہوں میں بالکل ٹھیک ٹھیک ویسے ہی تھے جیسا وہ اپنے بندے کے لیے چاہتا ہے کہ وہ ہو۔ تو جس کے لیے خود پروردگار یہ شہادت دے کہ وہ اس کی پسند کے معیار پر پورا اترا اس سے بڑھ کر کامل الحیاء اور کون ہوسکتا ہے۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اسلام دشمنی کے جوش میں یہود نے حضرت ابراہیم اور اسمعیل (علیہما السلام) کی تاریخ بالکل مسخ کردی ہے۔ بالخصوص حضرت اسماعیل کی زندگی پر تو انہوں نے اس طرح پردہ ڈال دیا ہے کہ کسی کو ان کا سراغ ہی نہ مل سکے لیکن ہمارے استاذ مولانا فراہی ؒ نے اپنے رسالہ ذبح میں ان تمام تحریفات کا پردہ چاک کرکے ان دونوں بزرگ نبیوں کی تاریخ ازسرنو زندہ کردی ہے۔ جو لوگ حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) سے متعلق قرآن کے ان بیانات کی قدروقیمت کا صحیح اندازہ کرنا چاہتے ہوں ہم ان کو مشورہ دیں گے کہ وہ مولانا کی مذکورہ کتاب کا گہری نظر سے ضرور مطالعہ کر ڈالیں۔
Ayahs 19:56–57تفسیر آیت 56 تا 57:۔ وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا (56) وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا (57)
حضرت ادریس : حضرت ادریس کے متعلق اسفار یہود اور بائیبل ہسٹری میں کوئی ایسی چیز مجھے نہیں مل سکی جس کی بنیاد پر ان کی نسبت میں کوئی بات اعتماد کے ساتھ کہہ سکوں۔ قدیم و جدید مفسرین نے جو کچھ لکھا ہے ان کی بنیاد تمام تر قیاسات و مفروضات پر ہے اس وجہ سے اس کا حوالہ دینا بےفائدہ ہے۔ قرآن نے جس انداز سے ان کا ذکر فرمایا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے صحیفوں میں ان کا ذکر موجود تھا اور ان کی نسبت کچھ غلط صحیح روایات بھی ان کے ہاں مشہور تھیں۔ اب یا تو یہ ہوا کہ جس طرح اکثر انبیاء کے نام عربی لب و لہجہ میں آکر کچھ سے کچھ ہوگئے ہیں اسی طرح حضرت ادریس کا نام بھی بدل گیا ہو۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تورات کئی مرتبہ غائب ہوئی ہے اور کئی مرتبہ زبانی روایات کے ذریعہ سے مرتب ہوئی ہے۔ اس وجہ سے اس کے نسخوں میں اختلاف بھی ہوا اور اس کے اندر برابر کمی بیشی بھی ہوتی رہی ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ قرآن نے جس طرح تورات کے بہت سے گم شدہ یا گم کردہ حقائق کا سراغ دیا ہے اور جس کی بہت سی مثالیں اس کتاب میں گزر چکی ہیں اسی طرح تاریخ انبیاء کے ایک گم گشتہ ورق کا پتہ حضرت ادریس کا ذکر کرکے دیا۔ ان کا کردار بھی دوسرے انبیاء کی طرح پوری انسانیت کے لیے اسوہ اور نمونہ تھا اس وجہ سے قرآن نے صحیح پہلو سے ان کی یاد دہانی فرمادی اور ان کو ازسر نو تاریخ میں زندہ کردیا۔
حضرت ادریس اور حضرت اسماعیل میں وصفی اشتراک : ان کی تعریف میں بھی بعینہ وہی لفظ وارد ہوا ہے جو اوپر حضرت ابراہیم علیہ السلا کی تعریف میں وارد ہوا ہے یعنی " صدیق " اس لفظ کے مضمرات اوپر بیان ہوچکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ حضرت ادریس کو یہ مقام بہت سے امتحانات سے گزرنے کے بعد ہی حاصل ہوا ہوگا۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت ادریس کا ذکر یہاں بھی حضرت اسماعیل کے ساتھ ہوا ہے اور سورة انبیاء میں بھی حضرت اسماعیل کے ساتھ ہی ہوا ہے۔ اور حضرت اسماعیل کے ساتھ ان کو بھی صابرین میں شمار کیا گیا ہے اور فرمایا ہے واسمعیل و ادریس و ذا الکفل کل من الصابرین : اور اسماعیل، ادریس اور ذوالکفل کو یاد کرو، ان میں سے ہر ایک ثابت قدموں میں سے تھا)۔ ان دونوں مقامات پر غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ان دونوں نبیوں میں بڑی گہری وصفی مماثلت ہے۔ اس وجہ سے ان کا ذکر ساتھ ساتھ ہوا۔ ان کو صبر اور ثابت قدمی کے بڑے کڑے امتحانات سے گزرنا پڑا اور ان میں پاس ہونے کے صلہ میں ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس مرتبۂ بلند کی سرفرازی حاصل ہوئی جس کا ذکر َرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا کے الفاظ سے ہوا ہے۔
Ayahs 19:58–59تفسیر آیات 58 تا 59: أُولَئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ مِنْ ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِنْ ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا (58) فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا (59)
تمام انبیاء کا مشترک مشن : اب یہ ان تمام مذکورہ انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آدم کی ذریت، نوح کی ذریت، ابراہیم و اسرائیل کی ذریت کے گل سرسبد یہی انبیائے اولوالعزم ہیں۔ ان پر اللہ کا خاص انعام ہوا اور یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی ہدایت بخشی اور جن کو نبوت و رسالت کے منصب کے لیے انتخاب فرمایا۔ ان تمام کا مشترک وصف یہ تھا کہ جب خدا کی آیتیں ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے۔ پھر فرمایا کہ ان کے بعد ان کی ذریت میں ایسے ناخلف اٹھے جنہوں نے نماز ضائع کردی اور خواہشوں کے پیچھے لگ گئے تو یہ عنقریب اپنی اس گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے۔
ناخلف جانشینوں کو تنبیہ : درحقیقت یہی وہ اصل مدعا تھا جس کے لیے مذکورہ بالا انبیاء کی سرگزشتیں سنائی گئی ہیں۔ قرآن کے اس وقت کے مخاطب، خواہ مشرکین عرب ہوں یا یہود و نصاری، سب انہی انبیاء میں سے کسی نہ کسی نبی کے نام لیوا تھے اور وہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتے تھے کہ آدم، نوح، ابراہیم اور اسرائیل کی ذریت میں خدا کی ہدایت کا سرچشمہ یہی لوگ ہوئے ہیں۔ قرآن نے ان سب کی دعوت اور ان کے کردار و عمل کا حوالہ دے کر ان کے ان ناخلف جانشینوں کے حال پر افسوس کیا ہے جو مدعی تو تھے ابراہیم و یعقوب کی اولاد میں سے ہونے اور موسیٰ و مسیح اور اسمعیل کی پیروی کے لیکن حال یہ تھا کہ انہوں نے ان بزرگ نبیوں کے سکھائے ہوئے سارے دین کو برباد کرکے رکھ دیا تھا۔
ان انبیاء کے باب میں یہ جو ارشاد ہوا ہے کہ جب ان کو اللہ کی آیات سنائی جاتیں تو وہ روتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے، یہ ان کے ان نام لیواؤں پر تعریض ہے جن کا حال اس کے برعکس یہ تھا کہ ان کو قرآن کی آیتیں سنائی جاتیں تو وہ نہایت استکبار اور رعونت کے ساتھ اس کی تکذیب کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے۔ فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ میں لفظ " خلف " نا خلف کے معنی میں ہے۔ ہم دوسری جگہ " خَلَف " اور " خلف " کے فرق کی وضاحت کرچکے ہیں کہ " خلْف " بسکون لام اچھے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا بکہ برے اخلاف کے لیے آتا ہے۔ ان لوگوں کے ناخلف ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انبیاء کے ساتھ نسبت اور ان کی وراثت کسی کو خاندان اور نسب کی بنا پر حاصل نہیں ہوتی بلکہ ان کی لائی ہوئی ہدایت کے حامل ہونے کی بنا پر حاصل ہوتی ہے۔ ان کا حال یہ تھا کہ انہوں نے نماز برباد کردی اور شہوات کے غلام بن گئے۔ ظاہر ہے کہ نماز ضائع کردینے کے بعد وہ دین کا اصل سررشتہ ہی کھو بیٹھے۔ نماز ہی وہ چیز ہے جو اگر صحیح طور پر ادا کی جائے تو بندے کو وہ عہد یاد دلاتی رہتی ہے جو اس نے اپنے رب سے باندھا ہے۔ اگر یہ چیز ضائع کردی جائے تو آدمی کا شیطان کے ہتھے چڑھ جانا قطعی ہے۔ یہود و نصاری اور مشرکین نے دین کے اس بنیادی حکم کے ساتھ جو معاملہ کیا اس کی تفصیل سورة بقرہ آل عمران اور انعام وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ یہاں دہرانے میں طوالت ہوگی۔
ایک قابل توجہ بات : ایک بات یہاں قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ انہوں نے نماز اور زکوۃ ضائع کردی بلکہ فررمایا کہ نماز ضائع کردی اور شہوات کے پیچھے پڑگئے حالانکہ اوپر تمام انبیاء کی تعلیم میں نماز اور زکوۃ دونوں چیزوں کا ذکر ہے اس وجہ سے ذوق چاہتا ہے کہ یہاں زکوۃ کے ضائع کردینے کا ذکر بھی ہوتا۔ اسلوب کی یہ تبدیلی ایک خاص حقیقت کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ وہ یہ کہ زکوۃ اور انفاق فی سبیل اللہ سے جو چیز انسان کو روکتی ہے وہ درحقیقت یہی اتباع شہوات ہے۔ جو شخص اپنی شہوات کی دلداری میں لگ جاتا ہے وہ پھر ان کا اس طرح غلام بن کے رہ جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی۔ یہ گویا ترک انفاق و زکوۃ کے بجائے ان کے اصل موانع کا ذکر فرما دیا کہ یہ موانع ان پر مسلط ہوگئے۔ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا میں عمل سے مراد نتیجہ عمل ہے۔ وہ اپنی گمراہی سے دوچار ہوں گے یعنی اپنی گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ آخرت میں جو چیز ان کے سامنے آئے گی وہ ان کی اپنی بوئی ہوئی فصل کا حاصل ہوگا۔ اس معاملے میں ان کے اوپر کوئی ظلم نہیں ہوگا
Ayahs 19:60–63تفسیر آیات 60 تا 63: إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلا يُظْلَمُونَ شَيْئًا (60) جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدَ الرَّحْمَنُ عِبَادَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا (61) لا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا إِلا سَلامًا وَلَهُمْ رِزْقُهُمْ فِيهَا بُكْرَةً وَعَشِيًّا (62) تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا (63)
آخرت میں کام آنے والی چیز : یعنی نسب و حسب تو کوئی کام آنے والی چیز ثابت نہیں ہوگا البتہ جو لوگ اپنی غلطیوں سے رجوع کرکے اپنے اعمال کی اصلاح کرلیں گے وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہ اطمینان رکھیں کہ ان کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی بلکہ وہ اپنی ہر نیکی کا بھرپور صلہ پائیں گے۔ ان کو ان کے اعمال کے صلہ میں عالم غیب میں ہمیشگی کے باغ ملیں گے۔ یہ خدائے رحمان کا اپنے نیک بندوں وعدہ ہے اور اس کا یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا۔ مَأْتِيًّا یعنی خدا کے اس موعود تک خدا کے تمام حق دار بندوں کی لازماً رسائی ہوگی۔ کوئی اس کو وعدہ فردا سمجھ کر اس کے بارے میں کسی شک میں مبتلا نہ ہو۔
ہر طرف مبارک سلامت : لا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا إِلا سَلامًا۔ یعنی آج جو غوغا اور طوفان مخالفتِ حق اور اہل حق کے خلاف برپا ہے یہ سب وہاں نابود ہوجائے گا۔ وہاں کوئی لغو بات کانوں میں نہیں پڑے گی۔ ہر طرف مبارک سلامت اور تحیت و تہنیت کے تبادلے ہو رہے ہوں گے۔ اہل جنت بھی اپنی کامیابی و فتحمندی پر ایک دوسرے کو مبارک باد دیں گے اور ملائکہ بھی ان کی فیروز مندی پر ان کا خیر مقدم سلام کے ساتھ کریں گے۔
اہل جنت کے لیے اصلی رزق : وَلَهُمْ رِزْقُهُمْ فِيهَا بُكْرَةً وَعَشِيًّا، صبح و شام سے ظاہر ہے کہ جنت کے صبح و شام مراد ہیں جن کی حقیقت جنت ہی میں معلوم ہوگی اور اہل ایمان کے لیے اصلی رزق خدا کا دیدار، اس کا سلام و پیغام اور اس کا التفات و اکرام ہے۔ یہ چیز بھی ان کو وہاں برابر حاصل ہوگی۔ اگر طوالت کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم یہاں بعض احادیث نقل کرتے جن میں یہ مضمون نہایت خوبی سے واضح ہوا ہے۔ لفظ رزق انوار و برکات الٰہی اور نفخات روح و ریحان کے لیے قرآن میں بعض اور مقامات میں بھی استعمال ہوا ہے مثلاً آل عمران آیت 37 میں اور یہ تعبیر دوسرے دوسرے آسمانی صحیفوں میں بھی موجود ہے۔
جنت کے لیے پشتینی ٹھیکہ داروں کو تنبیہ : تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا۔ فرمایا کہ اس جنت کا حق دار ہم اپنے بندوں میں سے ان لوگوں کو بنائیں گے جو خدا سے ڈرنے والے اور اس کے حدود وقیود کا احترام کرنے والے ہوں گے۔ ہر مدعی اور ہر بوالہوس اس کا حق دار نہیں بن جائے گا۔ یہ فقرہ ان لوگوں پر تعریض ہے جنہوں نے خدا کا سارا دین تو تاراج کرکے رکھ دیا تھا لیکن اپنے زعم میں جنت کے پشتینی ٹھیکے دار بنے بیٹھے تھے۔
Ayahs 19:64–65آگے کا مضمون۔ آیات 64 تا 98: خاتمہ : سورة : آگے خاتمۂ سورة کی آیات ہیں۔ پہلے نبی ﷺ کو حضرت جبرئیل امین کی زبانی مخالفین کے مقابل میں صبر و استقامت کی تلقین ہے۔ پھر مخالفین کو ان کے انکارِ قیامت پر توبیخ ہے۔ خاص طور پر ان کی اس ذہنیت پر شدت کے ساتھ ضرب لگائی گئی ہے کہ آج اہل ایمان کے بالمقابل ان کو جو دنیوی برتری حاصل ہے اس کو وہ اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ بالفرض قیامت ہوئی تو وہ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کی بدولت وہاں بھی اونچا مقام حاصل کریں گے۔ آخر میں حضور کو لوگوں کے مطالبہ عذاب سے بےپروا ہوکر، قرآن کے ذریعے سے انذار وتبشیر کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ یہ ہر مرحلہ میں اتمام حجت کے تمام لواز سے آراستہ ہے تو تم اسی کے ذریعہ سے انداز وتبشیر کرو، جن کے اندر خوفِ خدا ہو وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ رہے وہ لوگ جو ضدی اور جھگڑالو ہیں تو ان کو ان کے انجام سے آگاہ کردو۔ اگر وہ اپنی ضد پر اڑے رہے تو وہ اس ضد کے انجام سے خود دوچار ہوں گے، تم ان کی ذمہ داری سے بری ہو۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
تفسیر آیات 64 تا 65: وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ ۚ لَهٗ مَا بَيْنَ اَيْدِيْــنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذٰلِكَ ۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِـيًّا۔ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا
وسط کلام میں حضرت جبریل کی طرف سے ایک تلقین : یہ کلام حضرت جبرئیل امین کی طرف سے ہے جس میں انہوں نے آنحضرت ﷺ کو صبر و استقامت کی تقلین بھی فرمائی ہے اور اپنی اور دوسرے ملائکہ حیثیت بھی واضح فرما دی کہ ہم اپنے اختیار سے کچھ کرنے کے مجاز نہیں ہیں، ہمارا کام صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری ہے۔ اس تلقین صبر اور اس وضاحت کا ایک خاص موقع و محل ہے۔ وہ یہ کہ حق و باطل کی کشمکش کے اس مرحلہ میں مخالفین کے بالمقابل آنحضرت سلی اللہ علیہ وسلم کے لیے واحد سہارا بس وحی الٰہی کا سہارا تھا۔ اسی آسمانی کمک سے مشکلات میں آپ کو تقویت و رہنمائی بھی حاصل ہوتی تھی اور اسی کے ذریعے سے مخالفین کے نت نئے اعتراضات کا جواب اور ان کے اٹھائے ہوئے فتنوں کا توڑ بھی ہوتا تھا۔ اس وجہ سے قدرتی طور پر آنحضرت ﷺ کو اس مرحلہ میں نہایت بےچینی کے ساتھ حضرت جبریل کا، جو وحی الٰہی لانے کا ذریعہ تھے، انتظار رہتا۔ آنحضرت ﷺ کی یہ بےچینی حالات کا لازمی تقاضا تھی۔ جو مجاہد دشمنوں کی دل بادل فوج کے مقابل میں محاذ ہو اس کو مرکز سے رہنمائی کا انتظار ہر وقت رہتا ہے تاکہ اس کا کوئی قدم غلط نہ اٹھ جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ہر کام اس کی حکمت و مصلحت کے تحت ہوتا ہے جس کو صرف وہی جانتا ہے۔ اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ کو اس بےچینی پر قرآن میں جگہ جگہ صبر و انتظار کی تلقین کی گئی ہے کہ اپنے موقف پر ڈٹے رہو، جلدی نہ کرو، جس رہنمائی اور مدد کی ضرورت ہوگی وہ اپنے وقت پر اللہ نازل فرمائے گا۔ یہی مضمون سورة طہ میں یوں وارد ہوا ہے۔ " ولا تعجل بالقرآن من قبل ان یقضی الیک وحیہ، وقل رب زدنی علما : اور قرآن کے لیے، اس کی وحی اپنی طرف تمام کیے جانے سے پہلے، جلدی نہ کرو اور دعا کرتے رہو کہ اے میرے رب، میرے علم میں افزونی فرما " (طہ۔ 114)۔ یہ مضمون قرآن میں دوسرے مقامات میں بھی آیا ہے لیکن یہاں یہ حضرت جبریل امین کی زبان سے ادا ہوا ہے جس سے اس کی بلاغت میں بڑا اضافہ ہوگیا ہے۔ ہم اس کے بعض پہلووں کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس میں پہلی قابل توجہ چیز تو یہ ہے کہ یہ حضرت جبریل امین کی طرف سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک نوع کی معذرت ہے کہ اگر ہم جلدی جلدی، آپ کے شوق و انتظار کی تسکین کے لیے، وحی لے کر نہیں اترتے تو اس میں ہماری کسی کوتاہی کو دخل نہیں ہے بلکہ ہمارا اترنا تمام تر اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ہے۔ جب تک اس کا حکم نہ ہو ہم اتر سکتے ہیں اور نہ ہم آپ کے پاس کوئی وحی لاسکتے ہیں۔ اس معاملہ میں ہمیں کوئی دخل نہیں ہے۔ ہم صرف اسکے احکام کی بجا آوری پر مامور ہیں۔
حضرت جبریل اور ملائکہ کی اصل حیثیت : دوسری چیز قابل توجہ یہ ہے کہ اس سے حضرت جبریل امین اور پورے زمرۂ ملائکہ کی حیثیت واضح ہوگئی کہ ان کے تمام پیش و عقب اور جو کچھ ان کے مابین ہے سب پر اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور اس کا مکمل کنٹرول ہے۔ مجال نہیں کہ کوئی سرِ مو اپنے دائرہ سے تجاوز کرسکے یا کوئی اقدام اپنے ارادے سے کرسکے۔ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو فراموش کرنے والا بھی نہیں ہے کہ کوئی اس کی بھول چوک سے فائدہ اٹھا کر کسی معاملے میں اپنی آزادی رائے استعمال کرکے اس کی پکڑ سے محفوظ رہ سکے۔ فرشتوں کی اس حیثیت کا واضح ہونا ان مشرکین عرب کی حماقت پر ضرب لگانے کے لیے ضروری تھا جو فرشتوں کی پوجا کرکے یہ آس لگائے بیٹھے کہ اگر قیامت ہوئی تو یہ خدا کی بیٹیاں اپنے باپ سے کہہ سن کے ان کو بخشوا ہی لیں گی۔ ان بیوقوف لوگوں کو حضرت جبریل کا یہ بیان سنا کر آگاہ کردیا گیا کہ جب رب ذوالجلال کی بارگاہ میں جبریل امین کی، جو تمام زمرۂ ملائکہ کے گل سرسبد ہیں، بےبسی کا یہ حال ہے تو تابہ دیگراں چہ رسد !
آنحضرت ﷺ کو اطمینان دہانی : وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِـيًّا، میں ایک اور پہلو کی طرف بھی ذہن جاتا ہے۔ وہ یہ کہ پیغمبر کو اطمینان دہانی ہے کہ اگر وحی الٰہی میں کبھی دیر ہو تو یہ اطمینان رکھیے کہ یہ دیر کسی حکمت و مصلحت پر مبنی ہے اس لیے کہ آپ کا رب کسی چیز کو بھولنے والا نہیں ہے، وہ آپ کے تمام حالات و مسائل سے باخبر اور ایک ایک دعا و مناجات کو یاد رکھے ہوئے ہے۔ اس کا اندیشہ نہیں ہے کہ وہ کسی چیز کو بھول جائے۔
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ ۭ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا۔ لفظ سمی آیت 7 میں گزر چکا ہے۔ اس کے معنی نظیر اور مثیل کے ہیں۔
یہ آیات حضرت جبریل کے قول کا جزو بھی ہوسکتی ہے اور بطریق تضمین اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت جبریل امین کے قول کی تکمیل بھی۔ اس قسم کی تضمین کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں۔ ایک مثال سورة کہف میں بھی گزر چکی ہے۔ ان دونوں شکلوں میں جو شکل بھی اختیار کیجیے فرق صرف متکلم میں ہوگا، کلام کے مدعا میں کوئی فرق نہ ہوگا اور یہ متکلم کا فرق بھی محض ظاہری ہوگا اس لیے کہ حضرت جبریل جو بات بھی فرماتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ درباب وحی تم اپنا عذر واضح کردو چناچہ انہوں نے واضح فرما دیا۔
میرا رجحان پہلے قول کی طرف ہے۔ یعنی حضرت جبریل نے آنحضرت ﷺ کو صبر اور انتظار کی تلقین فرمائی کہ آپ کا معاملہ کسی ایسی ویسی ذات سے نہیں بلکہ تمام آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کے رب کے ساتھ ہی تو اسی کی بندگی کیجیے اور اس کی بندگی پر پورے استقلالا و پامردی سے جمے رہیے۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں لفظ عبادت، اپنے وسیع مفہوم یعنی عبادت اور اطاعت دونوں پر مشتمل ہے۔ اس لفظ کی یہ حقیقت ہم تفسیر سورة فاتحہ میں واضح کرچکے ہیں۔ آیت 44 میں بھی یہ لفظ اطاعت کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ لفظ " اصطبار " میں صبر کے بالمقابل زیادہ زور ہے۔ عربیت کے اس قاعدے کو یاد رکھیے کہ حروف کی زیادتی معنی کی زیادتی پر دلیل ہوتی ہے اور صبر یا اصطبار کے بعد اگر " ل " ہو تو یہ انتظار کے مفہوم پر بھی متضمن ہوتا ہے۔ ہم نے لفظ کے ان مضمرات کو ترجمہ میں کھولنے کی کوشش کی ہے لیکن عربی زبان کے یہ ناز پہلو اردو کی گرفت میں مشکل ہی سے آتے ہیں۔ سورة طہ میں بھی یہ مضمون آئے گا وہاں انشاء اللہ ہم اس پر مزید روشنی ڈالیں گے۔ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا یعنی جب خدا کا کوئی نظیر و مثیل اور ثانی نہیں تو کون ہے جو اس کے ارادوں میں مزاحم ہوسکے یا اس کا ہاتھ پکڑ سکے۔ آپ اپنا کام کیے جائیے وہ ہر مشکل کو آسان کرے گا اور اپنے ہر ارادے کو بروئے کار لائے گا
Ayah 19:66وَيَقُولُ الإنْسَانُ أَئِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا۔
حضرت جبریل کا کلام تمام ہوا۔ اب یہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہورہا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو صبر و استقامت کی تلقین کے بعد اب یہ مخالفین کے اصل سبب تکذیب کا خود ان کے الفاظ میں حوالہ دے کر آگے اس کی تردید آرہی ہے۔ یہاں لفظ انسان اگرچہ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد مشرکین عرب ہی ہیں جو قیامت کو ایک مستبعد چیز سمجھ کر اس کی تکذیب کرتے تھے۔ عام لفظ سے بات کہنے یہ بلاغت ہے کہ گویا وہ لائق التفات نہیں اس وجہ سے عام صیغہ سے بات کہہ دی گئی۔
قیامت کے باب میں مشرکین عرب کا موقف، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں۔ صریح انکار کا نہیں تھا بلکہ وہ ایک قسم کے تناقض میں مبتلا تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کو زندہ کرنے والا اور مارنے والا تو مانتے تھے لیکن اس بات کو بہت مستبعد سمجھتے تھے کہ مرکھپ جانے کے بعد سارے لوگ پھر زندہ کرکے اٹھائے جائیں اور سب کا حساب کتاب ہوگا۔ ان کے امراء و اغنیاء اس غلط فہمی میں بھی مبتلا تھے کہ بالفرض قیامت ہوئی تو وہ وہاں بھی وہی کچھ پائیں گے جو ان کو یہاں حاصل ہے۔ پھر سب سے زیادہ اعتماد ان کو اپنے دیویوں دیوتاؤں پر تھا، وہ فرشتوں کو خدا کی چہیتی بیٹیاں مان کر ان کی پرستش کرتے تھے اور ان کا زعم یہ تھا کہ اگر قیامت ہوئی اور حساب و کتاب سے سابقہ پیش آیا تو ان کے یہ معبود ان کو خدا سے چھڑا لیں گے۔ مشرکین کے ان متناقض خیالات کو سامنے رکھیے ت قرآن کے آگے کے مباحث سمجھ میں آئیں گے۔
Ayah 19:67أَوَلا يَذْكُرُ الإنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ يَكُ شَيْئًا
ایک بدیہی تناقض ذہنی : یہ اسی تناقض ذہنی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جب یہ انسان اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ خدا نے اس کو عدم محض سے وجود بخشا تو آخر اس کو یہ بات کیوں مستبعد معلوم ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد وہ اس کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرے۔ جب وہ " کچھ نہیں " سے پیدا کرسکتا ہے تو " کچھ ہے " سے دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیوں مشکل ہوجائے گا۔
Ayah 19:68فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَالشَّيَاطِينَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا
شیاطین سے مراد یہاں قرینہ دلیل ہے کہ شیاطین جن بھی ہیں اور شیاطین انس بھی۔ عربوں کے متعلق ہم دوسرے مقام میں ذکر کرچکے ہیں کہ وہ بہت سے جنوں کی بھی پرستش کرتے تھے۔ اسی طرح ان کے مگر اہ لیڈروں نے بھی ان کو گمراہ کیا اور انہوں نے آنکھ بند کرکے ان کی پیروی کی اور جب اللہ کے رسول نے ان کو آنکھیں کھولنے کی دعوت دی تو اس کے درپے آزار ہوگئے۔
جِثِيًّ ، جاث کی جمع ہے۔ جثا جثوا کے معنی دو زانوں اور اکڑوں بیٹھنے کے ہیں۔ یہ نشست مجرموں کی نشست ہے۔ جس طرح مجرم اپنا فیصلہ سننے کے لیے کسی حکمران کے سامنے بیٹھتے ہیں۔ اسی طرح کی غلامات اور محکومانہ نشست کے لیے یہ لفظ آتا ہے۔
اب یہ پوی تاکید کے ساتھ قسم کھا کر فرمایا کہ تیرے رب کی قسم، ہم ان کو اور تمام شیاطین کو جن کی انہوں نے عبادت اور اطاعت کی اور ان کے ان تمام گمراہ لیڈروں کو جن کی انہوں نے پیروی کی، سب کو جہنم کے اردگرد اس طرح اکٹھا کریں گے کہ وہ مجرموں کی طرح دوزانوں بیٹھے ہوئے اپنے فیصلہ کا انتظار کریں گے کہ کس کے لیے جہنم کے کس وارڈ میں جانے کا حکم ہوتا ہے۔