Ayah 19:69ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيعَةٍ أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمَنِ عِتِيًّا۔ فرمایا کہ اس کے بعد ہم ہر گروہ اور ہر پارٹی کے ان لیڈروں کو ان کے اندر سے چھانٹ کر الگ کریں گے جو خدا اور اس کے رسول کے سب سے زیادہ مخالف اور اس کے خلاف تحریکیں چلانے والے رہے ہیں۔ ان کو چھانٹ کر اس لیے الگ کیا جائے گا کہ جس طرح انہوں نے دنیا میں لوگوں کو گمراہ کرنے کی مہم میں ان کی قیادت کی اسی طرح اب پیرو وں کو جہنم میں لے جانے کے لیے بھی ان کی پیشوائی کریں وہ آگے آگے ہوں گے اور ان کے پیرو پیچھے پیچھے اور جو جہنم کے جس طبقہ کا سزاوار ہوگا وہ اس میں داخل ہوگا۔
Ayah 19:70ثُمَّ لَنَحْنُ أَعْلَمُ بِالَّذِينَ هُمْ أَوْلَى بِهَا صِلِيًّا۔ فرمایا کہ اس وقت اس بات کے جاننے والے کہ کون اس جہنم میں داخل ہونے کا سب سے زیادہ سزاوار ہے، کس کو سب سے پہلے داخل ہونا چاہیے اور کس طبقہ میں داخل ہونا چاہیے، صرف ہم ہوں گے۔ کوئی دوسرا ان باتوں کا ہم سے زیادہ جاننے والا نہیں ہوگا کہ ہمیں کسی کے بارے میں اس سے مشورہ لینے کی ضرورت پیش آئے، یا کوئی کسی کے باب میں یہ کہنے کی پوزیشن میں ہو کہ وہ اس سے زیادہ ہم سے باخبر ہے اس وجہ سے اس کے معاملے میں اس کی سفارش درخور اعتناء ہے۔ یہ مشرکین کے غلط عقیدہ شفاعت پر ایک لطیف تعریض ہے کہ خدا کے ہاں کسی کے لیے سفارش تو وہ کرسکے جو کسی کے بارے میں خدا سے زیادہ واقف ہونے کا دعوی کرسکے۔ آخر ایسا برخود غلط کون ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے یہ کہہ سکے کہ فلاں کو آپ نہیں جانتے، میں جانتا ہوں، وہ بڑا نیک آدمی ہے، اس وجہ سے اس کو کچھ نہ کہیے بلکہ سیدھے جنت میں بھیج دیجیے !
Ayah 19:71وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا۔ حتم کے معنی واجب اور لازم کے ہیں۔ اور ضمیر خطاب کے مخاطب وہی مجرمین ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے۔ اوپر کی بات بصیغہ غائب کہی گئی ہے اور یہ بات ان کو مخاطب کرکے ارشاد ہوئی۔ ان دونوں اسلوبوں کے الگ الگ فائدے ہیں۔ جس طرح غائب کا اسلوب عدم التفات پر دلیل ہوتا ہے اسی طرح خطاب کا اسلوب شدت عتاب پر دلیل ہوتا ہے۔ قرآن مجید اور کلام عرب میں اس کی مثالیں بہت ہیں کہ غائب کا اسلوب کلام دفعۃً خطاب کے اسلوب میں بدل گیا ہے۔ یہاں بھی اسی نوع کی تبدیلی ہوئی ہے۔ چونکہ مقصود شدت غضب کا اظہار ہے اس وجہ اللہ تعالیٰ ان مجرموں کو خطاب کرکے فرمائے گا کہ اب تمہارے لیے داد و فریاد اور عذرومعذرت کا وقت گزر گیا، اب تم میں سے بلا استثناء ہر ایک کو اس جہنم میں اترنا ہے۔ ساتھ ہی پیغمبر ﷺ کو اطمینان دلایا کہ یہ امر بالکل قطعی اور فیصل شدہ ہے، اس کو تمہارے رب نے اپنے اوپر لازم ٹھہرا لیا ہے۔ ایک دن تم اپنے دشمنوں کا یہ انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے۔
آیات کی یہ تاویل بالکل واضح ہے لیکن ہمارے مفسرین نے اس کا مخاطب تمام بنی نوع انسان کو مان لیا ہے، چناچہ وہ ہر شخص کے لیے، خواہ نیک ہو یا بد، جہنم سے گزرنا ضروری قرار دیتے ہیں۔ بس اتنی خیریت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جہنم پر پل صراط کے نام سے ایک پل ہوگا جس پر سے نیک لوگ تو گزر جائیں گے۔ البتہ وہ لوگ جہنم میں پڑے چھوڑ دیے جائیں گے جو برے ہوں گے۔ یہ غلط فہمی مفسرین کو صرف اسلوب کلام کے نہ سمجھنے کے سبب سے ہوئی ہے اور ہم نے دیکھا ہے کہ ان کی اکثر لغزشیں اسی چیز کا نتیجہ ہیں۔ تعجب ہے کہ اتنی سخت بات کہتے ہوئے ان حضرات کو قرآن کی وہ آیت یاد نہیں آئی جو سورة انبیاء میں نیکوکاروں سے متعلق وارد ہے۔ فرمایا ہے "إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ (101) لا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ (102) لا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الأكْبَرُ وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ هَذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ (103): بیشک جن کے لیے ہمارا اچھا وعدہ ہوچکا ہے وہ اس جہنم سے دور رکھے جائیں گے، وہ اس کا کھٹکا بھی نہیں سنیں گے اور وہ اپنی چاہت کی نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کو سب سے بڑی گھبراہٹ کی ساعت غمگین نہیں کرے گی اور فرشتے اس بشارت کے ساتھ ان کا خیر مقدم کریں گے کہ یہ ہے آپ لوگوں کا وہ دن جس کا وعدہ کیے جا رہے تھے " (انبیاء : 101 تا 103)
تاویل کی اس قسم کی غلطیوں سے محفوظ رہنے کے لیے قرآن پر تدبر کرنے والوں کو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ وہ استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی ؒ کی کتاب " اسالیب القرآن " کا گہری نظر سے مطالعہ کرڈالیں۔
Ayah 19:72ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا۔ ثُمَّ ترتیب کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ پہلے ظالموں سے نمٹے گا، ان کو واصل جہنم کرنے کے بعد ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوگا جو اس سے ڈرتے رہے۔ فرمایا کہ پھر ہم ان لوگوں کو نجات دیں گے جو ہم سے ڈرتے رہے اور ظالموں کو اسی جہنم میں اکڑوں بیٹھے چھوڑ دیں گے۔ " نجات دیں گے " سے مراد یہ نہیں ہے کہ جہنم سے نجات دیں گے۔ جہنم کی تو اہل تقوی کو، جیسا کہ اوپر گزرا، ہوا بھی نہیں لگنے پائے گی۔ یہاں " نجات دینے " سے مراد ان تمام ہموم و افکار اور اس تشویش و انتظار سے نجات دینا ہے جن سے بہرحال منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے تک اہل حق کو بھی سابقہ پیش آتا ہے۔
ایک شبہ کا ازالہ : وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا میں لفظ جِثِی کی تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔ جثی ان کو کہتے ہیں جو مجرموں کی طرح اپنی قسمت کے فیصلے کے انتظار میں دو زانوبیٹھے ہوئے ہوں۔ اوپر والی آیت میں تو اس کا محل استعمال بلکل واضح ہے لیکن یہاں اس کا استعمال کھٹکتا ہے اس لیے کہ فیھا کا قرینہ دلیل ہے کہ یہ ان کی جہنم کے اندر کی حالت بیان ہورہی ہے لیکن اس کے اندر تو ان کے رونے چلانے کا ذکر ہونا چاہیے، جیسا کہ دوسرے مقامات میں ہے۔ نہ کہ اکڑوں بیٹھنے کا۔ اس مشکل سے بچنے کے لیے اس کا مفہوم ہمارے مفسرین اور مترجموں نے بدل دیا ہے لیکن یہ تبدیلی لغت سے تجاوز کی نوعیت کی ہے اس وجہ سے ہم کو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک یہ حالت بیان تو ہوئی ہے جہنم کے اندر ہی کی لیکن یہ بالکل ابتدائی مرحلہ کی بات ہے جب کہ وہ فیصلہ الٰہی کے بعد جہنم کے داروغوں کے حوالہ کیے جائیں گے اور اکڑوں بیٹھے عذاب کے دروازے کے کھلنے کے منتظر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ کے داروغوں کے حوالہ کرکے اسی حالت میں چھوڑ کر ان سے بےالتفات ہوجائے گا اور اس کے بعد ان کے لیے عذاب کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔
Ayah 19:73وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَيُّ الْفَرِيقَيْنِ خَيْرٌ مَقَامًا وَأَحْسَنُ نَدِيًّا۔ یہ ان مغروروں کی ذہنیت واضح کی جا رہی ہے کہ جب ان کو جزا و سزا اور عذاب دنیا و آخرت سے آگاہ کرنے والی نہایت واضح، مبنی بر دلائل آیتیں، پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو بڑی دیدہ دلیری سے وہ اہل ایمان سے یہ معارضہ کرتے ہیں کہ بتاؤ، مرتبہ و مقام، جاہ و منصب، اعوان و انصار، مجلس اور سوسائٹی کے اعتبار سے تمہارا درجہ اونچا ہے یا ہمارا ؟ اگر ہمارا درجہ اونچا ہے اور بالبداہت اونچا ہے، تو ہم کیونکہ باور کرلیں کہ ہم خدا کے غضب کے سزاوار ہیں اور ہم پر کوئی عذاب آنے والا ہے ! ہم تو دیکھتے ہیں کہ خدا کی نظروں میں ہم تم سے زیادہ عزت رکھنے والے ہیں کہ اس نے ہم کو یہ کچھ دے رکھا ہے اور تم ان ساری چیزوں سے محروم ہو
Ayah 19:74وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْنٍ هُمْ أَحْسَنُ أَثَاثًا وَرِئْيًا۔ قرن کے معنی ایک دور کے لوگ، امت اور قوم، رءی کے معنی نمود، منظر، شان و شوکت۔
مغروروں کے معارضہ کا جواب : ان معارضہ کرنے والوں کے جواب میں فرمایا کہ اسباب و سامان اور شان و شوکت کی زیادتی نہ تو کسی قوم کے خدا کے چہیتی ہونے کی دلیل ہے اور نہ یہ چیزیں خدا کی پکڑ سے بچانے والی ہیں۔ تاریخ میں کتنی ایسی قوموں کی مثالیں موجود ہیں جو اپنے سروسامان اور اپنی ظاہری چمک دمک کے اعتبار سے ان سے کہیں بڑھ کر تھیں لیکن جب انہوں نے خدا سے سرکشی کی تو وہ تباہ کردی گئیں۔ یہاں صرف ان قوموں کی طرف اشارہ ہے۔ دوسری سورتوں میں ان کی تفصیل موجود ہے۔
Ayah 19:75قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلالَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمَنُ مَدًّا حَتَّى إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ إِمَّا الْعَذَابَ وَإِمَّا السَّاعَةَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَكَانًا وَأَضْعَفُ جُنْدًا
سرکشوں کے معاملہ میں سنت الٰہی : یہ اس سنت الٰہی کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں اور سرکشوں کے معاملہ میں اختیار فرماتا ہے۔ ارشاد ہوا کہ اپنی دنیوی برتری کے زعم میں جو لوگ تمہارے انذار کا مذاق ارا رہے ہیں ان سے کہہ دو کہ جو لوگ ہدایت کی راہ اختیار کرنے کے بجائے ضلال ہی میں پڑے رہنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ نہیں ہے کہ ان کے عیش و آرام کو چھین لے یا ان کو فوراً عذاب میں پکڑ لے بلکہ اس کی رحمت کی شان یہ ہے کہ ان کو زیادہ سے زیادہ ڈھیل دے تاکہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لیں اور خدا کی حجت ان پر تمام ہوجائے۔ خدا کوئی کمزور ہستی نہیں ہے کہ اس کو اندیشہ ہو کہ فورًا نہ پکڑا تو شکار نکل جائے گا۔ اس کی تدبیر نہایت محکم ہوتی ہے اس وجہ سے وہ برابر رسی دراز کیے جاتا ہے۔ یہاں تک کہ یا تو وہ عذاب ہی ان پر آدھمکے گا جو رسول کی تکذیب کا لازمی نتیجہ ہے یا وہ قیامت ہی نمودار ہوجائے گی جس سے ان کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ اس وقت انہیں اچھی طرح اندازہ ہوجائے گا کہ کون اپنے موقف و مقام کے لحاظ سے بدتر اور اپنے لاؤ لشکر کے اعتبار سے ضعیف تر ہے۔
چند قابل توجہ باتیں : اس آیت میں دو تین باتوں پر نگاہ رکھیے۔ ایک " فلیمدد " کے اسلوب پر۔ یہ نہیں فرمایا کہ خدا ان کی رسی دراز کرتا ہے، بلکہ فرمایا کہ خدائے رحمان کے شایان شان بات یہی ہے کہ وہ ان کی سی دراز کرے، یعنی ظالموں کو ڈھیل خدا کی قدرت، حکمت اور اس کی تدبیر کا متقضی ہے۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اس ڈھیل کو اپنی کامیابی سمجھ کر سرکشی میں اور زیادہ دلیر ہوجائیں دوسری چیز یہ نگاہ میں رکھنے کی ہے کہ یہاں " عذاب " اور ساعت " دو چیزوں کا ذکر ہے۔ جب یہ دونوں لفظ ساتھ ساتھ استعمال ہوں تو ایک سے عذاب دنیا مراد ہوتا ہے اور دوسرے سے عذاب قیامت۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے ان دونوں عذابوں سے اپنی اپنی قوموں کو ڈرایا ہے۔ ہم دوسرے مقام میں ذکر کرچکے ہیں کہ اگر کوئی قوم اپنے رسول کی تکذیب کردیتی ہے تو اتمام حجت کے بعد وہ لازماً تباہ کردی جاتی ہے۔ تیسری یہ کہ تفضیل کے صیغے بسا اوقات تقابل کے مفہوم سے مجرد ہو کر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ بات بھی ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں۔
یہ بات بھی یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ دنیوی کامیابیوں کے نشہ میں جس طرح عرب جاہلیت کے حمقاء خدا اور آخرت کی باتوں کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے تھے اسی طرح موجودہ دور میں علم و سائنس کے عقلاء بھی اسی غرے میں خدا اور آخرت کو ایک واہمہ قرار دیتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں ایک دوست نے ذکر کیا کہ امیر کہ کے لوگوں کے سامنے خدا اور آخرت کا ذکر کیجیے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہماری عمروں کا اوسط تمہاری عمروں سے زیادہ ہے۔ اگر تمہاری بات صحیح ہے تو چاہیے تھا کہ تمہاری عرموں کا اوسط ہم سے زیادہ ہوتا ہے۔ میں نے کہا ان کے ہاں عمروں کا اوسط بھی سب سے زیادہ ہے اور خودکشی کا اوسط بھی سب سے زیادہ ہے۔ ملک الموت کو اب بھی یہ لوگ اپنے ہاں سے بےدخل نہ کرسکے۔ البتہ یہ ہوا کہ ان کا کام ان لوگوں نے خود سنبھال لیا ہے ! !
Ayah 19:76وَيَزِيدُ اللَّهُ الَّذِينَ اهْتَدَوْا هُدًى وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ مَرَدًّا
اہل ایمان کو بشارت : یہ آیات اوپر کی آیات 75 کے مقابل میں ہے۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ ہدایت پر ضلالت کو ترجیح دینے والوں کی رسی دراز کرتا ہے اسی طرح ہدایت اختیار کرنے والوں کی ہدایت میں بھی، برابر اضافہ پر اضافہ فرماتا ہے اور عاقل کے نزدیک دیکھنے کی چیز یہ نہیں ہوتی کہ کسی کام کا فوری نفع کیا ہے بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ اپنے اجر وثواب اور اپنے انجام و مآل کار کے اعتبار سے کونسا کام بہتر ہے۔ دنیا کے پرستار صرف نفع عاجل کو دیکھتے ہیں انہیں اس سے بحث نہیں کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا۔ اس کے برعکس بندہ مومن کی نگاہ مستقبل یعنی آخرت پر ہوتی ہے اور وہ اپنے ہر کام کا جائزہ مآل کار کے پہلو سے لیتا ہے۔ اس آیت میں اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ تم ان اسباب دنیا پر اترانے والوں کے طعنوں کی پروا نہ کرو، تم اگرچہ بےسروسامان ہو، لیکن تمہاری ہدایت میں دم بدم اضافہ ہورہا ہے اور تمہارا یہ اندوختہ تمہارے لیے ابدی بادشاہی کی ضمانت ہے اور تمہیں طعنہ دینے والوں نے جو سروسامان اکٹھا کررکھا ہے یا کر رہے ہیں یہ سب ان کے جلانے کے لیے ایندھن کا کام دے گا۔ " مرد " کا ترجمہ میں نے مآل کار کیا ہے اور یہ ترجمہ میرے نزدیک لفظ کی اصل روح سے قریب تر ہے۔
" باقیات صالحات " کی تعبیر : قرآن میں اعمال صالحہ کو جگہ جگہ باقیات الصالحات سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ درحقیقت وہی اعمال صالحہ ہیں جو پائیدار اور غیر فانی ہیں۔ جو اعمال چند روزہ اور فانی ہیں وہ غیر صالح ہیں۔ رہا یہ سوال کہ باقی اعمال کون ہیں اور فانی کون ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو اعمال صرف دنیا کو مطلوب و مقصود بنا کر کیے جاتے ہیں وہ فانی ہیں اس لیے کہ یہ دنیا خود فانی ہے۔ باقی رہنے والے اعمال صرف وہ ہیں جو خدا اور آخرت کو مقصود بنا کر کیے جائیں اس لیے کہ خدا بھی غیر فانی ہے اور آخرت بھی۔
Ayahs 19:77–78تفسیر آیت 77 تا 78: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا۔ اَطَّلَعَ الْغَيْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا۔ یہ قرآن نے ان جھٹلانے والوں کے ایک اور مغالطہ کا حوالہ دے کر اس کی تردید فرمائی ہے۔ اس مغالطہ کا ذکر افرءیت کے خطاب سے کیا ہے۔ عربی زبان کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ جب اس خطاب سے بات کا آغآز ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے بعد کسی بہت ہی برخود غلط شخص یا کسی نہایت بھونڈی بات کا حوالہ آئے گا۔
یہاں عربیت کے اس اسلوب کو بھی یاد رکھیے جس کا ذکر ہم بعض دوسرے مقامات میں بھی کرچکے ہیں کہ " الذی " ضروری نہیں کہ ہر جگہ معرفہ ہی کے لیے آئے بعض اوقات یہ تمثیل کے لیے بھی آتا ہے جس کی نہایت بلیغ مثالیں قرآن مجید میں بھی موجود ہیں اور کلام عرب میں بھی۔ اس صورت میں اس سے کوئی معین شخص مراد نہیں ہوتا بلکہ اس سے مقصود کسی خاص کردار یا کسی خاص ذہنیت کو ممثل و مصور کرنا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ کسی خاص شخص کے لیے نہیں آیا ہے بلکہ یہ ایک خاص گروہ کی ذہنیت کی تصویر ہے۔ فرمایا کہ ذرا اس برخود غلط کو دیکھو جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ اگر قیامت بالفرض ہوئی تو وہ وہاں بھی اسی طرح مال و اولاد کا حق دار تھہرے گا جس طرح یہاں ہے۔ اس ذہنیت کے لوگ نعمتوں کو اللہ کا کرشمہ نہیں سمجھتے بلکہ اپنے استحقاق ذاتی یا اپنی قابلیت کا کرشمہ سمجھتے ہیں اس وجہ سے اس گھمنڈ میں مبتلا رہتے ہیں کہ ریاست و امارت کے وہ پیدائشی حقدار ہیں اس سے ان کو کون محروم کرسکتا ہے اگر آخرت نامی کوئی شے ہے تو وہ وہاں بھی کوٹھیوں میں عیش کری گے اور کاروں میں پھریں گے۔
تردید بانداز تحقیر : اَطَّلَعَ الْغَيْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا۔ چونکہ یہ زعم بالکل احمقانہ اور طفلانہ قسم کا ہے اس وجہ سے اس کا جواب طنز و تحقیر کے انداز میں ہے۔ فرمایا کہ کیا انہوں نے غیب کے پردوں میں جھانک کر ان تمام چیزوں کو دیکھ لیا ہے جو ان کو آخرت میں ملنے والی ہیں یا خدا سے ان کے لیے کوئی گارنٹی لکھوائی ہے ؟ آخر کس برتے پر یہ ناز ہے ! !
Ayahs 19:79–80تفسیر آیت 79 تا 80: كَلا سَنَكْتُبُ مَا يَقُولُ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا (79) وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا (80)
تردید غضب کے لہجہ میں : یہ غضب کے لہجے میں اس زعم باطل کی تردید ہے۔ فرمایا کہ ہم اس کی بکواس کو بھی نوٹ کر رکھیں گے اور اس کی پاداش میں بھی اس کے عذاب میں اضافہ کریں گے۔ یعنی کفر و تکذیب کی جو سزا ملنی ہے وہ تو ملے ہی گی اس میں مزید اضافہ اس مغرورونہ ادعاء کے سبب سے بھی ہوجائے گا۔ نَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا، یعنی ان تمام چیزوں کے، جن کا یہ مدعی ہے اور جن پر اس کو فخر و ناز ہے، مالک و وارث ہم ہوں گے اور یہ قیامت کے دن ہمارے حضور میں تنہا حاضر ہوگا، انہ اس کے ساتھ اس کا سروسامان ہوگا، نہ اس کے اعوان و انصار ہوں گے اور نہ اس کے مزعومہ شرکاء و شفعاء ہوں گے۔ اس کو جو چیزیں بھی ملی تھیں ہماری بخشی ہوئی ملی تھیں وہ سب ہم واپس لے لیں گے اور یہ جس طرح دنیا میں خالی ہاتھ گیا تھا اسی طرح خالی ہاتھ ہمارے پاس واپس آئے گا۔
Ayahs 19:81–82تفسیر آیات 81 تا 82: وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ آلِهَةً لِيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا (81) كَلا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا
ان مشرکین کا سب سے بڑا سہارا ان کے معبودان باطل تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ اگر خدا کے ہاں حاضر اور حساب کتاب کا کوئی مرحلہ آیا تو ان کے یہ معبود اپنے زور و اثر سے ان کو بچا ہی لیں گے۔ خصوصاً فرشتوں کی سفارش پر ان کو بڑا اعتماد تھا۔ ان کو وہ خدا کی چہیتی بیٹیاں گمان کرتے تھے اور اس خیال سے ان کی پوجا کرتے تھے کہ خدا ان کی بات نہیں ٹال سکتا۔ یہ دنیا میں بھی ان کو اپنے باپ سے سفارش کر کے ان کو رزق اور اولاد دلواتی ہیں اور اگر مرنے کے بعد بھی کسی مدد کی احتیاج پیش آئی تو یہ وہاں بھی قوت اور سہارا بنیں گی۔ اسی قوت اور سہارے کو یہاں " عز " سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کے اصل معنی قوت کے ہیں۔ کلا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا۔ یہ ان کے اس زعم باطل کی تردید ہے۔ فرمایا کہ ان احمقوں کی یہ آرزو ہرگز پوری نہیں ہوگی بلکہ ان کے یہ معبود قیامت کے دن ان کی اس عبادت کا ان کے منہ پر انکار کریں گے۔ قرآن میں اس بات کی تصریح ہے کہ جب یہ مشرکین قیامت کے دن اپنے معبودوں کی دہائی دیں گے کہ ہم دنیا میں آپ کی پرستش کرتے رہے ہیں تو یہاں ہماری کچھ مدد کیجیے تو وہ جھٹ جواب دیں گے کہ ہمیں کیا خبر کہ کچھ احمق لوگ ہماری پرستش کرتے رہے ہیں۔ ہم نے کب کہا تھا کہ ہماری پرستش کرو، اگر تم نے یہ حماقت کی تو اس کا انجام بھگتو۔ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا، یعنی یہ تو یہ آرزوئیں لیے بیٹھیں ہیں کہ ان کے یہ معبود ان کے لیے قوت اور سہاران بنیں گے لیکن معاملہ ہوگا اس کے بالکل برعکس، وہ الٹے ان پر لعنت بھیجیں گے اور ان کے دشمن بنیں گے۔
Ayahs 19:83–84تفسیر آیات 83 تا 84: أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّيَاطِينَ عَلَى الْكَافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا (83) فَلا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ إِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا
عربی میں جب کہیں گے " ارسل الکلب علی الصیب " تو اس کے معنی ہوں گے کتے کو شکار پر چھوڑ دیا۔ اسی اسلوب پر یہاں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کافروں پر شیاطین کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ ان کو دعوت حق کے خلاف جتنا اکسا سکتے ہیں اکسا لیں۔ " اَزَّ یَؤُزُّ " کے معنی برانگیختہ کرنے، بھڑکانے اور اکسانے کے ہیں۔ ان کافروں کے ساتھ یہ معاملہ اس سنت الٰہی کے مطابق ہوا جس کا ذکر سورة زخرف میں ہے کہ ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطانا فھو لہ قرین : جو خدائے رحمان کی یاد دہانی سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں ہم ان پر کوئی شیطان مسلط کردیتے ہیں پس وہ ان کا ساتھی بن جاتا ہے) (زخرف : 36)۔
پیغمبر کو تسکین و تسلی : یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبر ﷺ کے لیے تسکین و تسلی ہے کہ ان مخالفین کی مخالفت سے ہراساں اور پریشان نہ ہو اور ان کے بارے میں فیصلہ الٰہی کے ظہور کے لیے جلدی نہ کرو۔ ان کی مخالفت جتنی ہی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے یہ اتنے ہی اپنی تباہی سے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کی حق دشمنی کے سبب سے اب ہم نے ان کے اوپر شیاطین کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ ان کو جتنا اکسا سکتے ہیں اتنا اکسا لیں تاکہ ان پر ہماری حجت تمام ہوجائے۔ إِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا، یعنی اب ان کے فیصلہ کرنے کے ظہور میں دیر نہیں ہے۔ ان کا پیمانہ لبریز ہوا چاہتا ہے اور گھڑی کی سوئی اپنے آخری نقطہ پر پہنچ رہی ہے۔ ہم ایک ایک منٹ کو پورے اہتمام کے ساتھ گن رہے ہیں اور وقت پورا ہوجانے کے بعد ایک پل کے لیے بھی ان کو مہلت دینے والے نہیں ہیں۔
یاد ہوگا، اس مجموعہ آیات کا آغاز حضرت جبریل امین کی طرف سے آنحضرت ﷺ کے لیے تلقین صبر و انتظار سے ہوا تھا۔ وہی مضمون یہ دوسرے انداز سے براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ادا ہوا ہے جس میں مخالفین کے لیے آخری تنبیہ بھی ہے اور آنحضرت ﷺ کے لیے معاملہ کا جلد فیصلہ ہوجانے کی بشارت بھی۔ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا اور فَلا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ کے الفاظ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ یہ آیات اس زمانہ میں نازل ہوئی ہیں جب مخالفین کی مخالفت اپنی آخری حد کو پہنچ چکی تھی۔ یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کو بھی ہر وقت اس کشمکش کے فیصلہ کے لیے انتظار رہنے لگا تھا۔
Ayahs 19:85–87تفسیر آیات 85 تا 87: يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا (85) وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَى جَهَنَّمَ وِرْدًا (86) لا يَمْلِكُونَ الشَّفَاعَةَ إِلا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا (87)
وفد کا مفہوم : " وفد وفدا کے معنی کہیں عزت و اکرام کے ساتھ جانے کے ہیں جس طرح سفیر اور قاصد بادشاہ اور امیر کے پاس جاتے ہیں۔ ورد، ورد یرد سے اسم ہے۔ اس کے معنی گھاٹ پر اترنے کے ہیں جس طرح پیاسے اونٹ گھاٹ پر جاتے ہیں۔ إِلا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا میں میرے نزدیک استثناء منقطع ہے۔ یہ ان مجرموں کی مزعومہ شفاعت کی نفی ہے۔ فرمایا کہ جس دن ہم متقیوں کو اعزاز کے ساتھ خدائے رحمان کے پاس لے جائیں گے اور ان مجرموں کو پیاسے اونٹ کی طرح جہنم کے گھاٹ کی طرف ہانکیں گے۔ اس دن ان کے مزعومہ شفعاء کو شفاعت کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ یہ حق صرف ان لوگوں کو حاصل ہوگا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا حق حاصل کر رکھا ہے۔
شفاعت سے متعلق چند اصولی باتیں : یہ حق کن لوگوں کو حاصل ہوگا ؟ اس سوال پر ہم اس کتاب میں مناسب مواقع پر بحث کرتے آئے ہیں۔ چند اصولی باتوں کی یاد دہانی بھی کیے دیتے ہیں۔
شفاعت کا مقام صرف انبیائے کرام اور شہدائے امت کو حاصل ہوگا، یہ ایک منصب تکریم و تشریف ہے جس پر اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کو سرفراز فرمائے گا جو اس اکرام و اعزاز کے سزاوار ہوں گے۔
یہ لوگ بھی خدا کی اجازت سے شفاعت کریں گے اور صرف ان لوگوں کے لیے کریں گے جن کے لیے اللہ تعالیٰ اجازت مرحمت فرمائے۔ یہ نہیں ہوگا کہ یہ کسی کی شفاعت کے لیے خود پیش قدمی کریں یا ان لوگوں کے لیے شفاعتکریں جن کے لیے خدا سے ان کو اجازت حاصل نہ ہو۔
یہ اپنی شفاعت میں وہی بات کہیں گے جو بالکل حق ہوگی۔ باطل کو حق یا بدی کو نیکی بنانا نہ ان کے شیان شان ہے نہ خدائے علام الغیوب کے آگے کوئی اس کی جسارت کرسکتا ہے
جن لوگوں نے شرک و الحاد کی زندگی گزاری یا ایمان کے تو مدعی رہے لیکن ساری زندگی بطالت اور خدا اور رسول کی نافرمانی گزاری ان کے لیے کوئی شفاعت نہیں
یہ ساری باتیں خود قرآن کے نصوص سے ثابت ہیں۔ ہم نے ان پر جگہ جگہ بحث کی ہے اور آگے بھی انشاء اللہ تفصیل سے ان پر بحث کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جب یہ ساری شرطیں شفاعت پر عاید ہیں اور ان سے انکار نہیں کیا جاسکتا تو شفاعت کے بل پر گناہوں کے لیے لیسنس دینے یا حاصل کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ پھر تو شفاعت کی امید اگر کرسکتے ہیں تو وہ لوگ کرسکتے ہیں جنہوں نے زندگی تو ایمان و عمل صالح اور توبہ و اصلاح کی گزاری لیکن کو تاہی، غفلت یا جذبات سے مغلوب ہو کر نیکیوں کے ساتھ غلطیاں بھی کرتے رہے۔ اس طرح کے لوگ، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سزاوار ٹھہریں اور نبی ﷺ کی شفاعت پر بخش دیے جائیں۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے شفاعت کے بل پر گناہوں ہی کو اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے اور یہود کی طرح امید وار ہیں کہ " سیغفرلنا " ہم امت مرحومہ ہیں، ہمارے سارے گناہ بخش دیے جائیں گے تو قرآن کی روشنی میں اس خوش فہمی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔
Ayah 19:88وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا۔
ولد کے معنی اولاد کے ہیں۔ یہ واحد، جمع، مذکر، مونث سب کے لیے آتا ہے۔ خدا کے لیے اولاد ماننے کے معاملے میں مشرکین عرب اور یہود و نصاری سب یکساں ہیں۔ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ یہود حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں اور نصاری نے حضرت میسح کو جو کچھ بنایا ہے اس کی تفصیل اسی سورة میں پیچھے گزر چکی ہے۔ اوپر کی آیت میں شفاعت باطل کی تردید فرمائی ہے۔ اب آگے کی چند آیات میں شکل کی اس گھناؤنی قسم کی تردید فرمائی ہے جو درحقیقت شفاعت باطل کے اسی تصور کے تحت وجود پذیر ہوئی جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ ظاہر ہے کہ اگر خدا سے اپنے جرائم کے لیے مفت لیسنس حاصل کرنا ہے تو یہ کام بغیر اس کے نہیں ہوسکتا کہ خدا کے لیے کچھ بیٹے بیٹیاں فرض کیے جائیں اور ان کی پوجا کرکے یہ امید رکھی جائے کہ خواہ ہم کچھ کرتے رہیں خدا کے یہ چہیتے اور لاڈلے ہم پر خدا کو ہاتھ نہیں ڈالنے دیں گے۔ چناچہ اہل عرب نے اسی خواہش کے تحت فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بنایا اور نصاری نے یہ عقیدہ ایجاد کیا کہ خدا نے اپنے محبوب بیٹے کو ہماری خاطر قربان کرکے ہمارے سارے گناہوں کو کفارہ بنا دیا۔
Ayah 19:89لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا۔ "إِدّ " کے معنی ہیں سخت، درشت اور سنگین بات۔ یہاں اس اسلوب کلام پر بھی نظر رہے کہ بات غائب کے صیغہ سے ہو رہی تھی لیکن جب شدت عتاب و غضب کا موقع آیا تو دفعۃً صیغہ خطاب کا آگیا۔ یہ وہی اسلوب کلام ہے جس کا ذکر ہم " وان منکم الا واردھا " کے تحت کر آئے ہیں۔
فرمایا کہ یہ تم بڑی ہی سنگین بات کے مرتکب ہوئے ہو۔ سنگین اس وجہ سے کہ یہ خدا کی خدائی اور اس کی کتائی میں دوسرے کو شریک وسہیم بنانا ہے اور خدا غیور ہے اس وجہ سے اس بات کو وہ کبھی گوارا نہیں کرسکتا کہ کسی کو اس کا کفو اور ہمسر قرار دے کر اس کی یکتائی کو بٹہ لگایا جائے۔ جب بندے، بندے ہوکر، کسی ایسی بات کو گوارا نہیں کرتے جو ان کی غیرت کو چیلنج کرے تو وہ خدائے غیور جو تمام ارض و سما کا تنہا مالک ہے اس بات کو کس طرح گوارا کرسکتا ہے کہ اس کے بندے اس کے سوا کسی اور کی بندگی کریں۔ خدا کی غیرت کی تعبیر کے لیے قدیم صحیفوں میں یہ تمثیل بھی استعمال ہوئی ہے کہ جب تم یہ گوارا نہیں کرسکتے کہ تمہاری بیوی کسی غیر کی بغل میں سوئے تو خدائے غیور کس طرح گوارا کرسکتا ہے کہ اس کا بندہ کسی اور کو سجدہ کرے۔
Ayah 19:90تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الأرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا۔
هَدّ کے معنی کسی دیوار وغیرہ کے دھماکے کے ساتھ گرنے کے ہیں۔
شرک کی سنگینی کی تعبیر : یہ اسی بات کی سنگینی واضح فرمائی ہے کہ قریب ہے کہ اس کے سبب سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ دھماکے کے ساتھ گر پڑیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس تہمت سے آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کو بھی ایسی غیرت و حمیت لاحق ہوتی ہے کہ وہ ایک منٹ کے لیے بھی ان نابکاروں کو برداشت کرنا نہیں چاہتے جو خدا کا شریک بناتے ہیں لیکن وہ خدائے رحمان کے حکم کے تابع ہیں اس وجہ سے جب تک وہ کسی گروہ کو مہلت دیتا ہے اس وقت تک وہ بھی اپنے غضب کو ضبط کرتے ہیں۔
ایک بیان حقیقت : یہ امر واضح رہے کہ یہ کوئی مبالغہ کا اسلوب بیان نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت کا بیان ہے۔ جب ایک غیور بیٹا اس بات کو گوارا نہیں کرسکتا کہ کوئی اس کے باپ کے سوا کسی اور باپ کی طرف منسوب کردے یا اس کے باپ کے ساتھ دوسروں کو بھی اس کا باپ بنادے تو آسمان و زمین اور دریا اور پہاڑ اس بےناموسی کو کس طرح برداشت کرسکتے ہیں کہ کوئی ان کو خدائے وحدہ لاشریک لہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کرے یا ان کی خلقت میں خدا کے سوا دوسروں کو بھی ساجھی مان لے۔ ہم دوسرے مقام میں اس حقیقت کی وضاحت کرچکے ہیں کہ آسمان و زمین، سورج اور چاند سب کی فطرت ابراہیمی ہے۔ وہ اپنے مظا ہے سے اس فطرت تکوینی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی یہ فطرت اس بات سے ابا کرتی ہے کہ وہ ان لوگوں کو برداشت کریں جو خدا کے لیے اولاد ٹھہائیں لیکن ان کی باگیں خدا کے ہاتھ میں ہیں اس وجہ سے وہ اپنی مرضی سے کوئی اقدام نہیں کرسکتے۔
Ayah 19:91أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا۔ یہ آسمان و زمین اور پہاڑوں کے غصہ اور غضب کا سبب بیان ہوا ہے کہ ان کی یہ غضبناکی اس سبب سے ہے کہ لوگوں نے خدائے رحمان پر آل و اولاد کی تہمت لگائی۔
Ayah 19:92وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا۔ یہ خدا کے لیے اولاد مانن کی ضلالت کی تردید خدا کی صفات الوہیت کے منافی ہونے کے پہلو سے فرمائی کہ آخر اس کو ضرورت کیا پڑی ہے کہ وہ اپنے لیے اولاد بنائے ! نہ اس کو اپنے کاموں میں کسی شریک و معاون کی ضرورت ہے نہ اپنی املاک و جائداد کے لیے کسی وارثو والی کی، نہ اپنی نام زندہ رکھنے کے لیے وہ کسی کا محتاج ہے، نہ اسے بڑھاپے کا کوئی سہارا مطولب ہے، وہ اپنی ذات میں غنی اور بےنیاز ہے تو آخر وہ اولاد کس مقصد کے لیے بنائے گا۔
Ayah 19:93إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ إِلا آتِي الرَّحْمَنِ عَبْدًا۔ اب یہ اپنی تمام مخلوقات کی اصل حیثیت واضح فرمادی کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں۔ خواہ فرشتے ہوں یا جن و انس، اور ان کا جو درجہ و مرتبہ بھی ہو، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سب بلا استثنا ایک دن خدائے رحمان کے حضور میں اس کے ایک بندے کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ جہاں تک بندے ہونے کا تعلق ہے اس اعتبار سے سب برابر ہوں گے۔ وہ وہاں نہ کوئی خدا کا بیٹا ہوگا نہ بیٹی۔
Ayahs 19:94–95تفسیر آیت 94 تا 95:۔ لَقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا (94) وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا (95) احصاء کا اصل مفہوم ضبط اور کنٹرول میں رکھنا ہے۔
اب یہ قیات کے دن ہر ایک کی حاضری کی نوعیت واضح فرما دی کہ سب خدا کے کامل کنٹرول میں ہیں اور ہر ایک کو خدا نے اچھی طرح گن رکھا ہے اس وجہ سے اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ کوئی اس کے قابو سے باہر ہوجائے یا گنتی میں کوئی سہو ہوجائے۔ پھر ہر ایک یکہ و تنہا حاضر ہوگا، نہ اس کے ساتھ اس کے اولاد و احفاد ہوں گے، نہ اعوان و انصار، نہ شرکاء و شفعاء نفسی نفسی کا عالم ہوگا اور سب کو خدا کے آگے اپنے باب میں خود جواب دہی کرنی ہوگی۔
Ayah 19:96إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا۔
فتحمند ٹیم کا حال : اب یہ ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو اس کسمپرسی اور نفسی نفسی کی حالت سے محفوظ ہوں گے۔ فرمایا کہ البتہ وہ لوگ جنہوں نے ایمان و عمل صالح کی زندگی گزاری ہوگی ان کے لیے خدائے رحمان ہر طرف مہر و محبت کی فضا پیدا کردے گا۔ یہاں بات اجمال کے ساتھ ارشاد ہوئی ہے لیکن دوسرے مقامات میں تصریح ہے کہ ا دن اہل ایمان کا خیر مقدم فرشتے بھی سلام و تحیت کے ساتھ کریں گے، رب العزت کی طرف سے بھی ان کو سلام کہلایا جائے گا اور خود اہل ایمان بھی ایک فتحمند ٹیم کی طرح ایک دوسرے کو مبارک باد دیں گے۔ غرض ہر طرف فضا احسنت و مرحبا کے کلمات سے گونج رہی ہوگی !
صفتِ رحمان کی تکرار کی حکمت : اس مجموعۂ آیات بلکہ اس پوری سورة میں آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ اسمائے حسنی میں سے اسم " رحمان " بار بار آیا ہے۔ قرآن کی کسی سورة میں بھی یہ نام اتنی بار نہیں آیا ہے جتنی بار اس سورة میں آیا ہے۔ میرے استاذ مولانا فراہی ؒ تو اس سورة کو رحمانی سورة کہتے بھی تھے۔ ظاہر ہے کہ بات بلا کسی حکمت کے نہیں ہے۔ میرے نزدیک اس کی حکمت یہ ہے کہ خدا کی صفات اور بندوں کے ساتھ اس کے معاملات کے باب میں ملتوں کو بیشتر گمراہی خدا کی صفت رحمانیت کے غلط تصور ہی سے پیش آئی ہے۔ اس سورة میں دوسرے مطالب کے ساتھ رحمانیت کے غلط تصور کی اصلاح کرکے اس کا صحیح تصور بھی دیا گیا ہے اس وجہ سے اسم رحمان کا حوالہ اس میں بار بار آیا ہے۔
رحمانیت کے غلط تصور سے پیدا شدہ گمراہیاں : رحمانیت کے غلط تصور نے جو گمراہیاں پیدا کی ہیں ان میں سے بعض کی طرف اشار کرنا چاہتا ہوں۔
سورة میں سب سے پہلے نصاریٰ کا ذکر ہے اس وجہ سے پہلے انہی کی گمراہی کو لیجیے۔ ان کی گمراہی میں بڑا دخل ان کے اس واہمہ کو تھا کہ انسان چونکہ ازلی و ابدی گنہگار ہے، اس کی نجات کی کوئی شکل ہی نہیں ہے۔ اس وجہ سے خدائے رحمان نے اپنی رحمت سے اپنے بیٹے کو بھیجا جو قربان ہو کر اپنے تمام ماننے والوں کے گناہوں کا کفارہ بن گیا۔
یہود کی گمراہی اس سورة میں اگرچہ براہ راست زیر بحث نہیں آئی ہے لیکن قرآن سے یہ بات واضح ہے کہ انہوں نے بھی اپنے جرائم کی پردہ پوشی کے لیے خدا کی رحمانیت ہی کی آڑ لی تھی۔ ان کا تصو یہ تھا کہ ہم نبیوں اور ولیوں کی اولاد ہیں اس وجہ سے اول تو ہم دوزخ میں ڈالے ہی نہیں جائیں گے اور اگر ڈالے بھی گئے تو بس چند دن کے بعد کچھ تنبیہ کرکے خدائے رحمان ہم کو بخش دے گا۔
مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بنا کر ان کی پوجا کرتے تھے۔ ان کا تصور یہ تھا کہ اول تو حشر نشر کی باتیں محض خیالی ہیں لیکن اگر ان کے اندر کچھ حقیقت ہے تو خدائے رحمان کی یہ بیٹیاں سفارش کرکے ان کو اپنے باپ سے بخشوا ہی لیں گی۔
رحمانیت کا صحیح تصور : یہ تمام غلط فہمیاں اور گمراہیاں پس منظر میں موجود تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لیے اپنی رحمانیت کا صحیح تصور واضح فرمایا کہ اس کی رحمت اس کے عدل کو باطل نہیں کرتی بلکہ اس کا عدل بھی اس کی رحمت ہی کا مقتضی ہے۔ وہ متقیوں کو جو بشارت دیتا ہے یہ بھی رحمت ہے اور سرکشوں کو جو انذار کرتا ہے یہ بھی اس کی رحمت ہے۔ وہ اگر ظالموں اور سرکشوں کو اس لیے معاف کردے کہ وہ بزرگوں اور نبیوں کی اولاد ہیں یا کسی نے ان کی سفارش کی ہے یا وہ اس کے مزعومہ بیٹے سے محبت کرنے والے ہیں تو یہ رحمت نہیں ہوگی بلکہ صریح ظلم ہوگا۔ اور اگر خدا یسا کرے تو وہ خدائے رحمان نہیں ہوگا بلکہ نعوذ باللہ نہایت ظالم خدا ہوگا۔ وہ رحمان ہے تو اس کی اس رحمت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ حق پرستوں کی داد رسی کرے اور ان کی حق پرستی کا بھرپور صلہ دے اور ظالموں ناہنجاروں کو جہنم میں جھونک دے۔ یہ ظالموں کو جہنم میں جھونک دینا اس کی رحمت و رحمانیت کے منافی نہیں بلکہ یہ عین اس کی رحمت ہی کا ظہور ہے۔ یہ بات بھی یہاں یاد رکھیے کہ جو لوگ خدا کی نافرمانی کرتے ہیں وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا اور خدا کے بندوں کو بگاڑتے ہیں۔ خدا کے حدود وقیود اس کے اپنے تحفظ کے لیے نہیں ہیں، وہ ہر تحفظ سے بالاتر ہے، بلکہ یہ خلق کے تحفظ اور اس کی ترقی کے لیے ہیں اس وجہ سے مجرموں کا معاملہ خدا کا کوئی ذاتی معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ اس کی ساری مخلوق کا معاملہ ہے۔ اپنی مخلوق کے ساتھ اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ کسی مجرم کو سزا دیے بغیر نہ چھوڑے گا۔ صفت رحمان کے ان تقاضوں کو سامنے رکھ کر اس سورة کو غور سے پڑھیے تب یہ حقیقت واضح ہوگی کہ اس میں جو تنبیہات یا بشارتیں وارد ہوئی ہیں سب خدا کی صفت رحمانیت پر مبنی ہیں۔
Ayah 19:97فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْمًا لُدًّا۔
یَسَّرْنَاهُ ، میں ضمیر کا مرجع قرٓن ہے۔ اگرچہ مرجع لفظوں میں مذکور نہیں ہے لیکن سورة میں چونکہ شروع سے یہ بحث چلی ٓ رہی ہے کہ تمام انبیاٗ کی اصل دعوت یہی رہی ہے جو قرٓن دے رہا ہے ت گویا زیر بحث یہاں قرٓن ہی ہے۔ اس قسم کے سیاق میں ضمیر بلا مرجع لانا نہ صرف یہ کہ کوئی عیب نہیں ہے بلکہ یہ تقاضائے بلاغت ہے یہ اسلوب مرجع کی شان پر دلیل ہوتا ہے کہ ہرچند وہ مذکور نہیں لیکن بغیر ذکر کے بھی ہر شخص جانتا ہے۔ قرآن میں اس کی مثالیں عام ہیں۔
" تیسیر " کے معنی عام طور پر لوگوں نے آسان بنانا سمجھا ہے اور آیت کے معنی یہ لیے ہیں کہ قرآن نہایت آسان ہے۔ اگرچہ یہ بات بجائے خود صحیح ہے کہ قرآن کو خدا نے آسان بنایا ہے لیکن یہ بات بالکل غلط ہے کہ قرآن کوئی سپاٹ چیز ہے جس کے لیے کسی فکر و کاوش اور تدبیر و تفکر کی ضرورت نہیں ہے۔ جن لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے۔ انہوں نے لفظ " تیسیر کا صحیح مفہوم نہیں سمجھا۔ عربی میں اس کا اصلی مفہوم آسان بنانا نہیں بلکہ کسی شے کو اس کے پیش نظر مقصد کے لیے تمام لوازم سے آراستہ کرکے نہایت موزوں اور ساز گار بنانا ہے۔ اگر کہیں کہ یسر الفرس للرکوب تو اس کے معنی ہوں گے کہ گھوڑے کو زین، رکاب، لگام سے آراستہ کرکے سواری کے لیے تیار کردیا۔ اس طرح " ولقد یسرنا القرآن للذکر " کے معنی ہوں گے کہ ہم نے قرآن کو تعلیم و تذکیر کے لیے نہایت موزوں، تمام لوازم سے آراستہ اور نہایت سازگار بنایا ہے۔ قرآن کی تیسیر کے مختلف پہلوؤں پر ادب اور قرآن، دونوں کی روشنی میں ہم نے اپنی کتاب " مبادی تدبر قرآن " میں وضاحت سے بحث کی ہے۔ تفصیل کے طالب اس کی مراجعت کریں۔
قَوْمًا لُدًّا سے مراد قریش ہیں۔ لُدّ ، اَلَدّٗ کی جمع ہے۔ اَلَدّٗ کے معنی جھگڑالو، ضدی اور ہٹ دھرم کے ہیں۔ اہل عرب اپنی بدویت کے سبب سے اکھڑ بھی تھے اور اپنی امیت کے باعث معامالت دین میں بہت جامد اور متعصب بھی، اسی وجہ سے بات بات پر آنحضرت ﷺ کے یے خلاف مورچہ جماتے اور آپ کو زچ کرنے لیے روز نت نئے مطالبات پیش کرتے۔
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مخالفین کو انذار : اب یہ آخر میں آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مخالفین کو انذار ہے۔ فرمایا کہ اس قرآن کو ہم نے تعلیم و تذکیر اور اتمام حجت کے لیے ہر پہلو سے نہایت موزوں، مدلّل اور قائل کرنے والا بنایا ہے۔ پھر یہ تمہاری اور تمہاری قوم کی زبان میں ہے جس کو تم اچھی طرح سمجھ بھی سکتے ہو اور اپنی قوم کو، اگر وہ سمجھنا چاہیں تو، سمجھا بھی سکتے ہو۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے متعلق تمہاری ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ تم لوگوں کو اس کا قائل کرو۔ تمہارا فرض صرف یہ ہے کہ جن کے اندر خوف خدا ہے ان کو فوز و فلاح کی خوشخبری سنا دو۔ رہے وہ لوگ جو جھگڑنے کے لیے آستینیں چرھائے ہوئے ہیں تو ان کو دنیا اور آخرت دونوں کے عذاب سے خبردار کردو۔ یہی مضمون سورة طہ میں یوں وارد ہوا ہے " وَكَذَلِكَ أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا وَصَرَّفْنَا فِيهِ مِنَ الْوَعِيدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ أَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا (113): چناچہ ہم نے اس کو اتارا عربی قرآن کی صورت میں اور اس میں اپنی وعید گوناگون پہلوؤں سے بیان کردی تاکہ وہ خدا کے غضب سے بچیں یا یہ ہو کہ وہ ازسر نو ان کی یاد کو بیدار کردے " (طہ :113)
Ayah 19:98وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۔ " رکز " کے معنی آہٹ، سن گن اور کھٹکے کے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ تم اپنا فرض انذار وتبشیر ادا کردو۔ جو لوگ تمہاری بات نہیں سنیں گے، وہ اپنا انجام خود دیکھیں گے۔ تاریخ میں ان کے لیے کافی سامانِ عبرت موجود ہے۔ ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہمارے عذاب کی زد میں آچکی ہیں تو کیا تم آج ان میں سے کسی کی کہیں بو بھی محسوس کرتے ہو یا ان کی کہیں آہٹ بھی سنتے ہو ! اسی طرح یہ بھی تمہاری تکذیب کی پاداش میں بےنام و نشان ہوجائیں گے۔
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ اللہم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارقنا اجتنابہ، و صلی اللہ تعالیٰ علی محمد وبارک و سلم۔