Ayah 20:1طہ کے حروف حروف مقطعات میں سے ہیں یا نہیں ؟
1۔ طہ کے حروف بلاشبہ حروف مقطعات سے ہیں اور اسی طرح ان کا تلفظ ہے جس طرح باقی حروف مقطعات کا ہے یہ دو حرف ہیں اور بعض سورتوں پر ایک حرف بھی آیا ہے جیسے (ن ٓ) (ق) وغیرہ ۔ یہ شبہ کیوں وارد ہوا کہ یہ دونوں حروف مقطعات میں سے ہیں ؟ اس لئے کہ ان کو محمد رسول اللہ ﷺ کے اسمائے گرامی میں شامل کیا گیا ہے جس طرح (یس) کے حروف کو بھی آپ کے ناموں میں شامل سمجھا گیا ہے ۔ مفسرین نے باقی حروف مقطعات کے معنی بیان کرے کی بھی سعی کی ہے اور اسی طرح ان دونوں حروف کے معنی بھی بیان کئے ہیں لیکن جس طرح ہر جگہ ان کے معنی ہمارے نزدیک صحیح نہیں اسی طرح یہاں بھی صحیح نہیں اور اسماء میں شامل کرکے جو آپ ﷺ کا اسم مبارک تسلیم کیا گیا ہے وہ محض اس لئے ہے کہ اس سے کنایہ آپ ہی کی ذات سمجھی جاسکتی ہے کیونکہ آگے آپ کو خطاب کیا جارہا ہے اور خطاب میں (ک) کی ضمیر کے باعث (طہ) کے حروف کو آپ کا اسم قرار دیا گیا ہے کہ (اے طہ) ہم نے آپ پر قرآن کریم اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ پر مشقت ہو ۔ “ لیکن اس کی تفسیر میں آپ کا واضح ارشاد اس طرح کا کوئی موجود نہیں ہے ۔ ہاں ! بلاشبہ ہمارے رواج میں یہ بات ضرور موجود ہے کہ بعض آدمیوں اور خصوصا بچوں کو پیار کے ساتھ ایسے ناموں سے مخاطب کیا جاتا ہے جن کے کوئی معنی ہوتے اور اگر ہوتے بھی ہیں تو بعض اوقات اچھے نہیں ہوتے تاہم لوگ ایسے ناموں سے یاد کرتے ہیں جیسا کہ ہمارے ہاں آج کل ” بلو “ اور ” گوگی “ دیہات میں ” دڑو “ اور ” گگن “ وغیرہ لیکن اس طرح کا عرف ہونے باوجود اسم اپنی جگہ قائم رہتا ہے ہاں ! عربوں میں طہ کو ندا کے لئے استعمال بھی کرتے تھے اور باقی رہی حروف مقطعات کی بحث تو اس کے متعلق عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کے شروع میں بحث گزر چکی ہے وہیں سے ملاحظہ کریں بار بار اس تکرار کی ضرورت نہیں ۔
Ayah 20:2اے پیغمبراسلام ! قرآن کریم کا نزول آپ کو رنج و محنت میں ڈالنا نہیں :
2۔ بلاشبہ ہمارے مفسرین نے اس جگہ اس کی وجہ یہی بیان کی ہے آپ ﷺ بعثت کے بعد راتوں کو بڑا بڑا لمبا قیام کرتے تھے یہاں کہ آپ ﷺ کے پاؤں سوج جاتے اور پاؤں سوجنے کے باعث کبھی ایک پاؤں پر وزن ڈالتے اور کبھی دوسرے پر اور اس مشقت سے آپ ﷺ کو روکا گیا ہے اور بعض روایات بھی اس کی تصدیق میں بیان کی گئی ہیں لیکن آپ ﷺ کا لمبا قیام صحیح تاہم اس جگہ حقیقت یہ نہیں جو اس جگہ بیان کی گئی ۔ یہ سورت بالاتفاق سورة مریم کے بعد نازل ہوئی ہے اور مکی عہد کے وسطی تنزیلات میں سے ہے اور یہ زمانہ تاریخ دعوت کا سب سے زیادہ پر آشوب زمانہ تھا کیونکہ انکار ومعود کا ہر طرف ہجوم تھا اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین پر طرح طرح کی سختیاں کی جا رہی تھیں اس لئے قبولیت کی رفتار بھی بہت دھیمی تھی بلکہ محدود ہو کر رہ گئی تھی ، قدرتی طور پر یہ صورت حال نبی اعظم وآخر ﷺ پر گراں گزرتی تھی اور ظاہر ہے کہ جو دل تمام نوع انسانی کی ہدایت کے لئے تڑپ رہا تھا وہ اپنے قریبی ابنائے وطن وقوم کو قبولیت کے لئے آمادہ نہ پاتا تھا ۔ ایسے حالات میں کون ہے جو اس غم و اضطراب کا اندازہ کرسکتا ہے جس میں کی مقدس آگ آپ ﷺ کے قلب مبارک میں لگ رہی تھی ، یہ وجہ ہے کہ اس عہد کی تمام تنزیلات تسکین وتشفی کی روح سے بھرپور ہیں اور یہی روح اس سورت میں بھی بول رہی ہے بلاشبہ خطاب براہ راست آپ ﷺ سے ہے اور بالواسطہ آپ ﷺ کے ساتھیوں سے ۔
فرمایا جا رہا ہے کہ اے محبوب ! قرآن کریم اس لئے نازل نہیں ہوا کہ تم اپنے آپ ﷺ کو رنج و محنت اور اس طرح کے قلق میں ڈالو وہ تو نصیحت کی بات ہے جو مستعد ہیں وہ قبول کریں گے اور جنہوں نے استعداد کھو دی ہے وہ سننے والے نہیں اور نہ اس کا نتیجہ تو آپ ﷺ بالکل نہ گھبرائیں اس کا ظہور اپنے وقت پر ہوگا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک عمل مسلسل ہوتا رہے اور اس کا نتیجہ ظاہر نہ ہو ۔
Ayah 20:3بلاشبہ یہ نصیحت ہے لیکن کس کے لئے ؟ جو نصیحت حاصل کرنا چاہے :
3۔ فرمایا یہ قرآن کریم ایک یاد دہانی ہے ہر اس شخص کے لئے جو ڈرے ۔ اس فقرہ کی مزید وضاحت کردی کہ اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ پر یہ مشقت نہیں ڈالی کہ جو لوگ نہیں مانتے اور اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں ان کو منوا کر چھوڑو اور جن کے دل ایمان کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ان کے اندر ایمان کا گھونٹ ضرور ڈال دو ۔ نہیں نہیں یہ تو واضح اور کھلے کھلے الفاظ میں ایک تذکیر ہے اور آخرت کی یاد دہانی اور اس کا نزول اس لئے ہوا ہے کہ جس کے دل میں خوف خداوندی ہے اس کو قبول کرلے اور اس مستفید ہو اور جن دلوں میں خوف خدا نہیں اور وہ جانوروں کی طرح کھانے پینے اور دنیا کی عیش پرستی ہی کو مطمع نظر سمجھتے ہیں ان کے پیچھے پڑھنے کی آپ ﷺ کو کوئی ضرورت نہیں ۔ ہاں معاندین کی طرف سے جو سختیاں آپ ﷺ پر کی جارہی ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ان کا علاج بھی ضرور اپنے وقت پر ہوگا ، وہ وقت آنے دین جو رب کریم کے نزدیک طے شدہ ہے اور اپنا کام خاموشی سے کئے جائیں ۔
Ayah 20:4بلاشبہ قرآن کریم کا نزول اس ذات سے ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا :
4۔ جب اس قرآن کریم کے نازل کرنے والی ہستی ہے جو اس کائنات کو پیدا کرنے والی اور اس کے نظام کو چلانے والی وہی ہستی ہے جو اس کائنات کو پیدا کرنے والی اور اس کے نظام کو چلانے والی ہے تو وہ اس سے بیخبر کیوں کر ہو سکتی ہے کہ اس کی ہدایات کو کون قبول کرے گا اور کون نہیں ؟ اس نظام کائنات کو پیدا کرنے والا ہی اس نظام کو چلانے والا ہے اور وہ اس سے نہ تھکا ہے اور نہ اس سے غافل ہے آپ ﷺ فکر مند نہ ہوں اور آپ ﷺ کی محنت سے بھی اچھی طرح واقف ہے اور ان لوگوں کی مخالفانہ چالوں کو بھی جانتا ہے ۔
Ayah 20:5وہی رحمن ہے اور کائنات کے تخت سلطنت پر جلوہ نما ہے :
5۔ ملک کے انتظام وانصرام کے لئے حکومت اور تخت وغیرہ کی اصطلاحات عام ہیں اور حکمرانوں کے تحت ہوتے تھے اور آج بھی جہاں تخت وتاج کا تصور عام ہے ۔ (العرش) ۔ راغب کہتے ہیں کہ عرش اصل میں مسقف چیز کو کہا جاتا ہے اور بادشاہ کے بیٹھنے کی جگہ یعنی تخت کو عرش اس کے علو کے لحاظ سے کہا جاتا ہے ۔ (عرش) کی جمع (عروش) ہے اور قرآن کریم میں ہے (وھی خاویۃ علی عروشھا) اور وہ اپنی چھتریوں کے بل گرا پڑا تھا اور اس لحاظ سے (عرشت الکرم) کے معنی ہیں انگور کی بیلوں کے لئے ٹٹیاں اور چھتریاں لگانا جیسا کہ ارشاد الہی ہے (آیت) ” معروشت وغیر معروشت “ ٹٹیوں پر چڑھائے ہوئے اور بغیر چڑھائے ہوئے اور (آیت) ” من الشجر وممایعرشون “ درختوں میں اور جہاں چھتریاں ڈالتے ہیں اور بادشاہ کے بیٹھنے کی جگہ کو بھی اسی اعتبار سے عرش کہتے ہیں کہ وہ بلند ہوتی ہے ۔ چناچہ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” ورفع ابویہ علی العرش “۔ (یوسف 12 : 100) (آیت) ” ایکم یاتینی برشھا “۔ (النمل 27 : 39) (آیت) ” نکروا لھا عرشھا “۔ (النمل 27 : 41) (آیت) ” اھکذا عرشک “۔ (النمل 27 : 42) اور کبھی عرش عزت غلبہ اور سلطنت سے بھی کنایہ ہوتا ہے جیسا کہ محاورہ ہے فلان ثل عرشہ یعنی فلاں کی عزت خاک میں مل گئی اور بیان کیا جاتا ہے کہ کسی شخص نے سیدنا عمر ؓ کو خواب میں دیکھا ان سے پوچھا کہ اللہ کے معاملہ آپ سے کیا رہا ؟ تو انہوں نے جواب دیا لولا ان تدارکنی اللہ برحمتہ الثل عرشی “۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے میری دستگیری نہ فرماتا تو میری عزت ختم تھی ۔
اور عرش اللہ کے متعلق کسی انسان کو بجز نام کے اس کی حقیقت کچھ بھی معلوم نہیں اور عوام کے ادہام اس بارے میں جس طرح جاتے ہیں اور بعض مکاتب فکر نے جو اس کی تشریح کی ہے وہ بالکل صحیح نہیں کیونکہ اس صورت میں عرش ذات باری کا حامل ہوگا نہ کہ محمول حالانکہ ذات الہی اس سے بالاتر ہے کہ کوئی چیز اسے اٹھائے ، خود رب کریم کا ارشاد ہے کہ (آیت) ” ان اللہ یمسک السموات والارض ان تزولا ولئن زالتا ان امسکھما من احد من بعدہ “۔ (فاطر 35 : 41) ” بلاشبہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی دوسرا انہیں تھامنے والا نہیں ہے ۔ “ اس لئے عرش ہو یا کرسی بہرحال اللہ کے قائم کرنے سے قائم ہیں اللہ کی ذات کو اٹھانے والے نہیں ۔ سلطنت الہی کی تفہیم کے لئے استعارات ہیں اس کے سوا کچھ نہیں اور یہ جو ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” کان عرشہ علی المآء “۔ اس کا عرش پانی پر تھا یہ بھی ایک طرح کی تنبیہ ہے کہ جب کائنات میں کچھ نہ تھا سوائے پانی کے تو حکومت اسی وقت بھی رب العزت ہی کی تھی اور اسی طرح ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” ذوالعرش المجید “۔ (تخت کا مالک بڑی شان والا) (آیت) ” رفیع الدرجات ذوالعرش “۔ (درجات کو بلند کرنے والا تخت کا مالک) ان سب آیات کریمات میں حق تعالیٰ شانہ کی سلطنت ومملکت کی طرف اشارہ ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کے مستقر کا بیان نہیں ہے کیونکہ اس کی ذات عالی اس سے بہت بلند وبالا ہے لیکن ہمارے مفسرین کا سارا زور اسی پر ہے کہ عرش سے مراد تخت ہے ہے اور یہ ایک جسم مجسم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے اور فرشتوں کو حکم دیا ہے کہ ہو اسے تھامے رکھیں اور اس کی تعظیم اور طواف کے ذریعہ عبادت کو بجا لائیں اور پھر جب سمجھ میں کچھ نہ آیا اور آگے نہ بڑھ سکے تو فرمایا کہ رب کریم عرش پر تشریف فرما ہے اس کا تسلیم کرنا لازم وضروری ہے اور کیفیت اس کی مجہول ہے اور اس کے متعلق سوال کرنا گناہ عظیم ہے اور یہ کہہ کر گویا جان چھڑائی کہ جس گورکھ دھندے کو سمجھایا نہیں جاسکتا آخر اس پر سوال ہی کیوں کیا جائے ؟ اور اس کو اہل سنت کا عقیدہ ٹھہرایا گیا ہے امام عبدالوہاب شعرانی نے ” الیواقیت والجواھر فی عقائد الاکابر “ میں فرمایا ہے کہ اگر تم یہ سوال کرو کہ عرش کو عظیم ‘ کریم اور مجید تین ناموں سے موسوم کیا گیا ہے اس کی وجہ کیا ہے کیا یہ الفاظ مترادف ہیں ؟ تو جواب یہ ہے کہ یہ الفاظ مترادف نہیں بلکہ عرش کو اگر اس کے احاطہ کے لحاظ سے دیکھو تو وہ ” عظیم “ ہے کیونکہ سب اجسام ہے بڑا ہے اور اگر اس حیثیت سے دیکھو کہ اس کو ان سب پر فوقیت دی گئی ہے کہ جن کا وہ احاطہ کئے ہوئے ہے تو وہ ” کریم “ ہے اور اس حیثیت سے کہ کوئی اور جسم اس کا احاطہ کرسکے اس سے وہ بالا ہے لہذا وہ ” مجید “ ہے ۔
اس بیان کے بعد مختصر سے الفاظ میں اس کو یوں سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی جلوہ فرمائی کو جگہ جگہ قرآن کریم میں جس غرض کے لئے بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو صرف پیدا ہی نہیں کردیا بلکہ وہ آپ ہی اس کائنات کی فرمانروائی بھی کر رہا ہے یہ جہاں ہست وبود کوئی خود بخود چلنے والا کارخانہ نہیں ہے جیسا کہ بہت سارے جاہل خیال کرتے ہیں اور نہ ہی یہ مختلف خداؤں اور الہوں کی آماجگاہ ہے جیسا کہ بہت سے دوسرے سمجھ بیٹھے ہیں بلکہ یہ ایک باقاعدہ نظام ہے جسے اس کا پیدا کرنے والا خود چلا رہا ہے اور اس سے ایک جسمانی تخت مراد لینا اور پھر اس پر اللہ میاں کو بٹھانا مراد نہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات ہمارے ان خیالات سے جن کو ہم اٹھنے بیٹھنے اور سونے جاگنے سے تعبیر کرتے ہیں منزہ وپاک ہے ، قرآن کریم میں یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے تقریبا بیس بائیس دفعہ بیان ہوا ہے اور ہر جگہ قدرت ‘ غلبہ ‘ مملکت اور اور حکومت الہی ہی مراد لی گئی ہے نہ کہ کوئی مجسم تخت جس پر رب ذوالجلال تشریف فرما تصور کیا جائے اور اپنے وہم میں اس کی ایک کیفیت وماہیت قائم کی جائے ۔
مزید سمجھ لیجئے کہ (آیت) ” استوی علی العرش “ سے کیا مراد ہے ؟ ان الفاظ سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے کیونکہ وہی لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہوتے ہیں جو انسان کے لئے ہوتے ہیں مگر ان کی حقیقت میں زمین و آسمان کا فرق ہے بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے بھی ہاتھ ہیں ‘ وہ سنتا ہے ‘ وہ دیکھتا ہے لیکن اس کے ہاتھوں کو انسانوں کے ہاتھوں پر ‘ اس کے سننے کو انسانوں کے سننے پر اور انسانوں کے دیکھنے پر قیاس کرنا صریح غلطی ہے ، اسی طرح ایک عرش بادشاہ کا ہے اور ایک عرش رب ذوالجلال والاکرام کا ہے تو ان دونوں میں سے ایک ہی معنی ” تخت “ مراد لینا بھی صریح غلطی ہے ، بادشاہ کی بادشاہت تخت سے وابستہ ہے مگر اللہ تعالیٰ کی بادشاہت ان باتوں سے پاک ہے ، بادشاہ کے تخت پر بیٹھنے سے مراد صرف اسی قدر ہوتی ہے کہ اس کی قدرت و حکومت کا نفاذ ہوگیا ۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف یہ الفاظ منسوب ہوں تو جو ان میں آلہ و ذریعہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہوتا بلکہ صرف فعل کی آخری غرض منسوب ہوتی ہے اور چونکہ انسان لئے (آیت) ” استوی علی العرش “۔ سے مراد تخت پر بیٹھنے کے ذریعہ سے اس کی حکومت کا نفاذ پاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کا (آیت) ” استوی علی العرش “۔ صرف نفاذ حکومت وقدرت ہے ، اس کی مزید تشریح دیکھنے کے لئے سورة یونس کی آیت 3 کی تفسیر عروۃ الوثقی جلد چہارم میں ملاحظہ فرمائیں ۔
Ayah 20:6آسمان و زمین میں اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب اسی ذات کریم کا ہے :
6۔ زیر نظر آیت نے عرش خداوندی کی خود تشریح فرما دی اب اگر کوئی مجسم عرش یعنی تخت ہی کی تلاش میں لگا ہے تو ان کی عقل کی داد دینا چاہئے کہ یہ صاحب بہت عقل مند ہیں جیسے پرندوں میں کوا۔ فرمایا آسمان و زمین اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اور جو کچھ زمین کی تہ میں ہے وہ بھی اسی ذات قدوس کا ہے ۔ (ثری) اصل میں گیلی مٹی کو کہتے ہیں حدیث میں ہے کہ فاذا کلب یا کل الثری من العطش ایک کتا پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی چاٹ رہا تھا ۔ اس مادہ سے ثروت ہے جو کثرت کو کہا جاتا ہے اور اس سے ثریا کو اکب میں سے مراد ہے پس (تحت الثری) کا مطلب کیا ہوا ؟ یہی کہ جو کچھ زمین کے اندر ہے ، اس سے مراد مفسرین کرام نے ساتویں زمین کے نیچے سے لی ہے ، مطلب مختصر یہ ہوا کہ مالک ہر شے کا خدا ہے اور سلطنت اس کائنات میں رب ذوالجلال والاکرام ہی کی ہے ، باقی سب تفہیمات عارضی اور وقتی ہیں جن کی اصل میں کوئی حقیقت نہیں ۔
Ayah 20:7بات کو مخفی رکھنے یا ظاہر کرنے سے اس کی ذات کو کوئی اثر نہیں وہ سب کچھ جانتا ہے :
7۔ اللہ رب العزت بذات الصدور ہے اور وہ لوگوں کے دلوں سے بھی اچھی طرح واقف ہے جو ابھی کسی انسان کے تصور میں بھی نہیں وہ بھی نہیں وہ اس کو بھی اچھی طرح جانتا ہے لہذا تم کسی بات کو ظاہر کرو یا مخفی رکھو اس کے لئے تو سب برابر ہے ، خفی اس کو کہتے ہیں جو سر یا بھید سے بھی زیادہ مخفی ہو مثلا وہ خیال جو انسان کے دل میں گزرے یا وہ جو ابھی انسان کے دل میں بھی نہ آیا ہو وہ اس کو بھی خوب جانتا ہے ، اس میں نبی اعظم وآخر ﷺ کے لئے ایک طرح کی تسلی ہے کہ آپ ﷺ مطمئن رہیں کہ اپنی مشکلات میں جو کچھ بھی آپ ﷺ اپنے پروردگار سے کہتے ہیں اور جو دعا ومناجات بھی کرتے ہیں خواہ وہ سرا ہو ایا اعلانیہ اور اسی طرح جو پریشانی بھی آپ ﷺ کو لاحق ہوتی ہے خواہ وہ زبان پر آئے یا دل کے مخفی گوشوں میں ہی رہے آپ ﷺ کا رب رحیم ودود اور علیم وخبیر ہرچیز سے اچھی طرح باخبر ہے اور وہ جب آپ ﷺ کی حالت کو جانتا ہے تو وہ یقینا آپ ﷺ کی ہر مشکل کو آسان کرے گا اور ہر معاملہ میں آپ ﷺ کی راہنمائی فرمائے گا ۔
Ayah 20:8اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اس کے لئے سب اچھے اچھے نام ہیں :
8۔ گزشتہ آیات کی مزید تشریح اس آیت میں کردی گئی اور (آیت) ” اللہ لا الہ الا ھو “۔ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی مخفی باتوں کو جاننے والا ہے اور نہ ہی کوئی زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا صحیح معنوں میں مالک ہے کیونکہ یہاں جو کچھ ہے سب عارضی ہے اور اسی طرح زمین و آسمان اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کا پیدا کرنے والا وہی ہے اور یہ بھی کہ ان سب کو پیدا کرکے اس کا انتظام وانصرام سنبھالنے والا بھی وہ خود ہے ۔ الہ کا مفہوم بہت وسیع ہے اور قرآن کریم نے اس کی بڑی وضاحت فرمائی ہے لیکن افسوس کہ بعض مفسرین نے اس کے معنوں کو صرف معبود تک محدود کردیا ہے جو کسی حال میں بھی صحیح نہیں ۔ اس جگہ کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ پیچھے سے جو مضمون چلا آرہا ہے اس کا کوئی تعلق اس کے ساتھ کہ بات تو چھپے رازوں کے جاننے اور آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کا مالک حقیقی ہونے کی ہو رہی تھی پھر اس کے بعد اچانک اللہ کے سوا کوئی ” معبود “ نہیں کا تعلق کیا بنا ۔ ہاں ! جہاں عبادت کا ذکر ہوگا اس جگہ ” الہ “ کا مفہوم معبود ہی ہوگا اور ہونا بھی چاہئے کہ پیچھے سے جو مضمون آرہا ہوگا وہ ان معنوں کی تصدیق کرے گا ۔ اس جگہ نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخالفین کے رویہ سے پریشان نہ ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے محتاج نہیں اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب اچھے نام ہیں یعنی ان کی صفات ان گنت اور شمار میں آنے والی نہیں اس لئے آپ ﷺ جس صفت سے بھی اس کو یاد کریں اس کی صفات سب کی سب اچھی ہیں اور اس کی ذات ہے جو ان ساری صفات کی متحمل ہے ، چونکہ (آیت) ” الاسمآء الحسنی “۔ پر پیچھے حاشیے گزر چکے ہیں مثلا سورة الاعراف کی آیت 180 میں عروۃ الوثقی جلد سوم اور سورة بنی اسرائیل کی آیت 110 میں جو پانچویں جلد میں ہے اور رہی بات (آیت) ” الاسمآء الحسنی “۔ کے شمار کرنے اور ان کے معانی ومفہوم بیان کرنے کی تو جن اسماء حسنی کو کتاب وسنت میں بیان کیا گیا ہے تو اس کے لئے ہم نے سورة الحشر کا وعدہ کیا تھا اس لئے وہیں اس کا بیان ہوگا ۔ انشاء اللہ العزیز اور اس آیت کے بعد سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ شروع ہو رہا ہے اور جس انداز سے شروع ہو رہا ہے اس کو استفہام تقریری سے موسوم کیا جاتا ہے ۔
Ayah 20:9آپ مثیل موسیٰ ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ آپ کو پہنچ چکا :
9۔ اے پیغمبر اسلام ! کیا موسیٰ (علیہ السلام) کی حکایت تو نے سنی ؟ یعنی یقینا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ تو آپ ﷺ تک پہنچ چکا کہ اس اللہ کے بندے کو کیا کیا مشقت اٹھانا پڑی تھی اور پھر وہ ان کو برداشت کرکے ہی اس بلند مقام پر پہنچا تھا ، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ اپنے اندر جن مضامین کو سموئے ہوئے ہے نبوت کے بارے کی برداشت اور ایک ظالم و جابر حکمران سے واسطہ جس کے ظلم کی داستان دنیا جانتی ہے اور جو اپنے آپ کو الہ اور لوگوں کا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھے بیٹھا تھا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم پر مظالم کی انتہا اور اسی طرح سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معروف ومشہور مناظرہ اور مباحثہ یہ ساری باتیں اپنے اندر درس عبرت رکھتی ہیں اس لئے آپ ﷺ بھی ان کو پیش نظر رکھیں کیونکہ آپ ﷺ کی قوم بھی ایک اکھڑ قوم ہے جس کی اصلاح کے لئے آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا ہے اس کے بعد سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغام رسالت ملنے کے حالات کا مختصر ذکر کیا گیا ہے جو آنے والی آیات میں موجود ہے اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ بیان مسلسل آیت 98 تک چلا گیا ہے اور یہ نزول کی اعتبار سے پہلی سورت ہے جس میں اس شرح وبسط کے ساتھ بیان کیا گیا اور اس کی ابتداء بھی وحی الہی کے ملنے کی گئی اور مکمل شریعت کے ملنے تک مسلسل چلا گیا اور محمد رسول اللہ ﷺ کو آنے والے حالا سے ایک طرح کی قبل از وقت اطلاع دی گئی ۔
Ayah 20:10سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا آگ دیکھ کر جانا اور آگ کی بجائے رسالت لے کر واپس آنا :
10۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں نبوت ملنے سے پہلے مصر سے بھاگ گئے تھے اور آپ کا یہ بھاگنا ایک اتفاقی قتل کے بعد ہوا اور یہاں سے بھاگ کر خضر سے ملاقات کرتے ہوئے کچھ عرصہ ان کے ہم سفر رہ کر مدین کی طرف نکل گئے ، وہاں شعیب (علیہ السلام) کے داماد ہوئے اور ان کے ہاں آٹھ دس سال گزارنے کے بعد واپس مصر آرہے تھے کہ راستہ میں رات کے وقت ایک جگہ آگ نظر آئی اور اپنے ہم سفر بال بچوں کو ایک جگہ بٹھا کر خود آگ لینے اور وہاں سے راستہ معلوم کونے کی غرض سے گئے جیسا کہ زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ جنگ بیابان سے گزر رہے ہیں ‘ جاڑوں کا موسم ہے اور اندھیری رات ہے جس میں یہ چھوٹا سا قافلہ مصر کی طرف رواں دواں ہے سردی محسوس ہونے لگتی ہے ، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) دور سے دیکھتے ہیں کہ ایک جگہ آگ چمک رہی ہے اپنے ساتھیوں سے فرماتے ہیں کہ تم یہاں ٹھہرو وہ سامنے آگ نظر آرہی ہے میں جاتا ہوں وہاں سے آگ لاتا ہے اس سے یہاں الاؤ جلائیں گے اور اس کو تاپیں گے اور ممکن ہے کہ وہاں کوئی راستہ جاننے والا بھی ہو اس سے معلوم کرتا ہوں کہ ہم نے مصر کو جانا ہے کیا ہم ٹھیک سمت رواں دواں ہیں یا نہیں ۔ (قبس) وہ چیز ہے جو شعلہ سے یعنی جلتی ہوئی آگ سے لے لیا جائے اور اس سے ” اقتباس “ ہے جو کسی لمبی عبارت سے لے لیا جاتا ہے جاتا ہے اور اس سے اس حصہ کو الگ کرلیا جاتا ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے کیا دیکھا ؟ آگ دیکھی ۔ کیا وہ آگ تھی ؟ یقینا وہ آگ نہیں تھی ، چونکہ آپ کو آگ نظر آئی اگرچہ وہ آگ نہیں تھی لیکن قرآن کریم نے اس کو آگ ہی بیان کیا جس کو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا تھا ، اس سے ہمارے مفسرین نے آگ کی چار قسمیں بیان کی ہیں مثلا ایک وہ جس میں نور ہے اور وہ جو چیز اس کے قریب جائے اس کو جلاتی ہے جیسے اس دنیا کی آگ اور ایک وہ جس میں نہ نور ہے اور نہ ہی وہ جلاتی ہے جیسے درختوں اور انسانوں کی آگ ۔ ایک وہ جس میں نور نہیں لیکن وہ جلاتی ہے جیسے جہنم کی آگ ، ایک وہ جس میں نور ہے اور وہ جلاتی نہیں جیسے وہ آگ جو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھی تھی ، جس سے دراصل یہ سمجھانا مقصود ہے کہ آگ کا لفظ سن کر انسان کو خود فیصلہ کرلینا چاہئے کہ یہ کونسی آگ ہو سکتی ہے کہ ہر آگ جلانے والی نہیں ہوتی ، اور یہ بھی کہ انسان جو دیکھتا ہے ‘ بیان کرتا ہے اور جیسا دیکھتا ہے بیان کردیتا ہے جو اس نے دیکھا ہو وہ نہ ہو اور اس کے اس بیان کو جھوٹ نہیں بلکہ سچ کہا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس نے وہی بیان کیا جو سمجھا اور اس میں انسانی زندگی کے لئے بہت سے سبق حاصل ہوتے ہیں اگر کوئی حاصل کرنا چاہے ۔
Ayah 20:11سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) جب اس کے قریب آئے تو ندا آئی اے موسیٰ ! :
11۔ یہاں سے وحی کا ذکر شروع ہوگیا جب آپ کو اچانک آواز آئی کہ اے موسیٰ ! ظاہر ہے کہ آپ چونک گئے ہوں گے کہ یہ کون ہے جو میرا واقف نکل آیا اور مجھے پہچان گیا اور جب کہ وہ مجھے نظر نہیں آیا ؟ لیکن بعد میں آپ کو معلوم ہوا کہ مجھے پہچان کر آواز دینے والا کون ہے اور واقعی وہ ہے جس کو دیکھا نہیں جاسکتا اور یہ کہ اس میں کیا راز ہے کہ ہر وقت ساتھ رہنے والے نے خاموشی اختیار رکھی اور پھر کہاں لے جا کر وہ اچانک میرے ساتھ مخاطب ہوگیا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو کچھ کہنے کا موقع ہی نہ دیا ۔ ابھی موسیٰ آواز سن ہی رہے تھے کہ اے موسیٰ ! تو آگے بات شروع کردی اور پردہ اٹھا دیا گیا ۔
Ayah 20:12میں تیرا پروردگار ہوں ذرا جوتا اتار اور میری بات غور سے سن !
12۔ اے موسیٰ ! جسے تم آگ سمجھ رہے ہو وہ آگ نہیں بلکہ میں ہوں تیرا پروردگار ! گویا تم اب بارگاہ رب ذوالجلال میں ہو اور یہ طوی کی مقدس وادی ہے اور ادب واحترام کا تقاضا ہے کہ جوتے اتار دو ۔ آپ جس وادی میں کھڑے ہیں یہ وادی طوی کی مقدس وادی ہے ، جوتے اتارنے کا حکم کیوں دیا ؟ تفسیری حدیث میں آیا ہے کہ اس وقت آپ کا جوتا مردہ گدھے کی کھال سے بنایا گیا تھا ۔ (ابن کثیر فتح البیان ج 6 ص 229) لیکن تفسیر روایات کا جو پایا ہے سب کو معلوم ہے کہا گیا ہے کہ یہ محض متوجہ کرنے کے لئے کہا گیا ہے جیسا کہ انسان کوئی اہم بات کرنے کے لئے دوسرے کو متوجہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ادھر آؤ یہ چیز رکھو اور میری بات سنو ، یہ بھی تحریر ہے کہ بنی اسرائیل کے ہاں سردارن قوم کے ہاں جاتے وقت یہ ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا کہ جو تا پاؤں میں نہ ہو اور یہ بھی تو ارات میں بیان ہوا ہے اسی کی حکایت باان کی گئی ” اپنے پاؤں سے جوتا اتار کیونکہ جس جگہ تو کھڑا ہے وہ مقدس زمین ہے ۔ “ (خروج 3 : 6) ” جوتی اتارنے کا حکم اس لئے ہوا کہ تعظیم کی جگہ ننگے پاؤں ہوجانا قدیم اور عام رسم تھی ۔ “ جس میں کوئی قباحت بھی نہیں تھی ۔ ” چناچہ بابل اور مصر میں بادشاہ کے حضور برہنہ پا ہو کر آتے تھے ۔ “ (ترجمان القرآن ج 2) ہمارے خیال میں وہ متوجہ کرنے والی بات ہی زیادہ صحیح ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ سے فرمایا گیا (آیت) ” وثیابک فطھر “۔ اپنے کپڑے پاک رکھو یعنی اپنے اخلاق پاکیزہ رکھو اور ہر قسم کی برائیوں سے بچو اور اس طرح جو چیز آپ کی طبعت میں فطری طور پر راسخ تھی اس کے عام کرنے کا حکم صادر فرما دیا کہ دوسروں کو بھی اس کا حکم دو ۔
ہمارے مفسرین میں سے بعض نے اس کو اتنا بڑھایا کہ انہوں نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے جوتے اتروا کر پاؤں کو برکت دینے کے لئے اس خاک کے ساتھ مس کرنا قرار دے کر معلوم ہے کہ کیا کیا طیب اور پاکیزہ بنا دیا ؟ اور پھر چلتے چلتے خانقاہوں اور درباروں اور مقبروں کی طرف نکل گئے اور بزرگوں کی ملاقات کے وقت باادب ہونے کے لئے ان کی طرف پیٹھ تک کرنے سے منع کیا۔
اور وہ بالکل بھول گئے کہ یہود نے اس طرح کی باتیں بنا لی تھیں جن سے روکنے کے لئے پیغمبر اسلام نے حکم دیا کہ ” خالفوا الیھود فانھم لا یصلون فی نعالھم ولا خفافھم “۔ (ابو داؤد) ” یہودیوں کے خلاف عمل کرو کیونکہ وہ جوتے اور چمڑے کے موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے “۔ گویا کھلے میدان میں کھڑے ہوں جہاں پاؤں کے نیچے کوئی صاف ستھری چیز یعنی جائے نماز وغیرہ نہ ہو تو جوتے پاؤں میں رکھنے چاہیے اور نماز ادا کر لینی چاہئے ، رسول اللہ ﷺ نے اسی جگہوں پر بلکہ مسجد کے اندر بھی جبکہ وہاں صفیں اور چٹائیاں اور قالین وغیرہ نہ ہوتے تھے نماز ادا کرلیتے تھے ۔ (مسند احمد ‘ ابو داؤد) آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” جب کوئی تم میں مسجد کو آئے تو اپنے دونوں جوتوں کو الٹ پلٹ کر دیکھ لئے اگر کوئی گندگی لگی ہو تو زمین پر رگڑ کر صاف کرلے اور جوتوں سمیت نماز پڑھ لے ۔ “ (ابوداؤد عن ابو سعید خدری ؓ آج کل مسجدوں میں تزئین اور صفائی ہوتی ہے اور چٹائیاں بھی بچھی ہوتی ہیں اس سے کوئی یہ نہیں ہوتی ہیں اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ مجھے ان پر بھی جوتے سمیت ہی نماز ادا کرنا ہے کیونکہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں مبالغہ بہت پایا جاتا ہے ہاں کھلے میدان میں جہاں اکثر نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے جگہ نہایت گندی اور خراب ہوتی ہے وہاں جوتے پہن کر ہی کھڑے ہونا چاہئے اور کسی کو اس کو برا خیال نہیں کرنا چاہئے بعض لوگ جوتا پاؤں سے اتار کر نیچے رکھ لیتے ہیں جو خواہ مخواہ تکلف ہے اور یہ بھی کہ جوتا جتنا اندر سے صاف ستھرا اور پاکیزہ ہوتا ہے اتنا اوپر یا نیچے سے نہیں ہوتا لہذا ادب واحترام کے یہ اختراعی پہلو ہیں جن کی اسلام میں کوئی قدر و قیمت نہیں ، قرآن کریم بلاشبہ مقدس کتاب ہے لیکن اس کو چومنے اور اس پر ہاتھ پھیر کر اپنے جسم ‘ چہرہ اور ہاتھوں پاؤں پر پھیرنے کا فائدہ ؟ چاہئے تو یہ تھا کہ اس کے احکام کی پابندی کی جاتی اور اس کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے رسم و رواج سے ہاتھ روک دیا جاتا لیکن ہم نے اختراعی احترام اختیار کیا اور حقیقی احترام کو پس پشت ڈال دیا اور فی زماننا ہمارا ہر کام نرالا ہی ہے ۔
Ayah 20:13اے موسیٰ ! میں نے تجھ کو چن لیا ہے غور سے وحی کو سن اس کے مطابق عمل کر :
13۔ اس آیت میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو رسالت کے لئے انتخاب کر لئے جانے کا ذکر فرمایا ، آج جس کو لوگ منتخب کرتے ہیں اس کے احترام کی کیا صورت ہوتی ہے سب پر ظاہر ہے لیکن اس انتخاب میں چنے جانے والے کا اپنا زیادہ حصہ ہوتا ہے ، انتخاب کرنے والوں سے ، لیکن جس شخص کو اپنی مخلوقات میں سے اللہ تعالیٰ منتخب کرلے اس کی کیا ہی بات ہے سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے موسیٰ ! دیکھ ‘ میں نے تجھے چن لیا ہے پس جو کچھ وحی کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سن اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ
ع خدا کے فضل کا موسیٰ سے پوچھئے حال کہ آگ لینے کو جائیں پیغمبری مل جائے ۔
اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ید قدرت کی کرشمہ سازیاں ہیں جو زبان سے انکار کرنے والوں کے دلوں میں بھی اقرار کا کانٹا چبھوئے رکھتی ہیں ‘ کجا خانہ بدوش چرواہا اور کجا متمدن حکومتوں کے لئے خدا کی صداقت کی پیغامبری ، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جب رب العزت کی اس آواز کو سنا اور ان کو یہ معلوم ہوا کہ آج اس کے نصیب میں وہ دولت آگئی ہے جو انسانی شرافت کا طغرائے امتیاز اور اللہ رب العزت کی موہبت کا آخری نشان ہے تو پھولے نہ سمائے اور والہانہ فریفتگی میں مثل مورت حیران کھڑے رہ گئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھر آواز آئی ۔
Ayah 20:14میں اللہ ہوں ‘ میری عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز ادا کرو :
14۔ میں ہی اللہ ہوں ‘ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ‘ کوئی پکارے جانے کے قابل نہیں ، کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ‘ اور اس پیغام الہی میں وحی کے دو حصے بیان ہوئے توحید عبادت جو علم کا کمال ہے اور عبادت خالص جو عمل کا کمال ہے ، ” میری یاد کے لئے نماز قائم کرو “ عبادت میں سے ایک خاص قسم عبادت کو نکھار کر بیان کیا تاکہ تمام عمل کا کمال ہے ۔ ” میری یاد کے لئے نماز قائم کرو “ عبادت میں سے ایک خاص قسم عبادت کو نکھار کر بیان کیا تاکہ تمام عبادتوں میں نماز کی اہمیت اور عظمت واضح ہوجائے یہی وجہ ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” نماز دین کا ستون ہے “ (رواہ ابو نعیم والبیہقی عن عمر ؓ ، مسند الفردوس عن علی ؓ
” نماز ایمان کا نور ہے “ (ان عساکر عن انس ؓ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کو سب سے پیارا عمل کونسا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” نماز “ (متفق علیہ) ” بندہ اور کفر کے درمیان ترک صلوۃ حائل ہے “ یعنی نماز کا ترک کرنا کفر ہے ۔ (مسلم عن جابر ؓ عن عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جو شخص نماز کی پابندی کرے گا تو یہ قیامت کے دن اس کے لئے نور اور برہان اور نجات ہوجائے گی اور جو اس کو ترک کرے گا اس کے لئے نہ نور ہوگا “ نہ نجات ہوگی اور نہ برہان اور قیامت کے روز وہ قارون ‘ فرعون ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا ۔ “ (احمد دارمی بیہقی) نماز کے فضائل اس قدر ہیں کہ اگر ان کو بیان کیا جائے تو بیسیوں صفحات اس کے لئے ناکافی ہوں ، ایک مخلص مومن کے لئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ایک بار بیان کیا ہوا حکم کفایت کرتا ہے اور اس کو کفایت کرنا چاہئے ۔
Ayah 20:15قیامت کا آنا یقینی ہے لیکن اس کو مخفی رکھا گیا ہے تاکہ تم سعی کا بدلہ پاؤ :
15۔ قیامت کا تصور سارے انبیاء کرام (علیہم السلام) کے ذریعہ ان کی قوموں تک پہنچایا گیا اور ہمیشہ اس کا نمبر توحید الہی کے ساتھ ہی رکھا گیا اس طرح زیر نظر آیت میں بھی اس کی یاد دہائی کرائی گئی ہے اور پورے زور کے ساتھ اس کو بیان کیا گیا ہے جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ قیامت آئے گی اور اگر اس فقرہ کو اس طرح ادا کیا جائے کہ ” قیامت ضرور آ کر رہے گی ۔ “ تو اس میں کسی قدر زور بڑھ جائے گا ، اہل زبان اس حقیقت کو سمجھتے ہیں اور یہی زور (اتیہ) کے لفظ میں پایا جاتا ہے اور قرآن کریم میں اس پر اس لئے بھی زور دیا ہے کہ توحید الہی کے بعد یہی وہ مسئلہ ہے جو عربوں کے ذہن میں و دماغ میں نہیں اترتا تھا اور اس سے شدت کے ساتھ انکار کرتے تھے اور اس کے ماننے پر وہ کبھی آمادہ نہ ہوتے تھے اور نبی اعظم وآخر سے اس کا ذکر سن کر بہت متعجب ہوتے تھے ، چناچہ ایک شاعر کہتا ہے کہ :
اموت ثم بعث ثم حشر حدیث خرافۃ یا ام عمر :
اور دوسرا شاعر اس طرح گویا ہوتا ہے کہ
یحدثنا النبی بان یجی وکیف حیات اصداء وھام :
پہلا شاعر کہتا ہے کہ کیا موت ہے ‘ پھر جی اٹھنا ہے ‘ اے ام عمر ! یہ سب خرافات باتیں ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں اور دوسرا کہتا ہے کہ یہ نبی ہم سے کہتا ہے کہ ہم پھر زندہ کئے جائیں گے حالانکہ صدا اور ہام ہو کر پھر زندگی کیسی ؟ یہ اس لئے کہ عربوں کا نظریہ یہ تھا کہ انسان مر کر پرندہ ہوجاتا ہے اور آواز دیتا پھرتا ہے ، اس کا نام انہوں نے صدا اور ہام رکھا ہوا تھا قرآن کریم نے ان کے اس تعجب کا بار بار ذکر کیا ہے ۔ جیسے ارشاد الہی ہے کہ :
(آیت) ” ء اذا متنا وکنا ترابا ذلک رجع بعید “۔ (ق) (آیت) ” ء انا لمردودون فی الحافرۃ ، ء اذا کنا عظا مانخرۃ) (النازعت) (آیت) ” ء اذا کنا عظاما ورفاتاء انا لمبعوثون خلقا جدیدا “۔ (بنی اسرائیل) (آیت) ” من یحی العظام وھی رمیم) (یس) (آیت) ” وقالو ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیی وما یھلکنا الا الدھر “۔ (جاثیہ) (آیت) ” وقالوا انھی الا حیاتنا الدنیا وما نحن بمبعوثین “۔ (الانعام) (آیت) ” انھم کانوا کا یرجون حسابا) (النباء)
” جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے تو پھر لوٹنا بہت دور کی بات ہے “ (ق) ” کیا ہم دوبارہ لوٹائے جائیں گے جب ہم سڑی ہوئی ہڈیاں ہوجائیں گے ۔ “ (النازعت) ” کیا ہم جب ہڈی اور چورا ہوجائیں گے تو ہم بنا کر پھر اٹھائے جانے والے ہیں ۔ “ (بنی اسرائیل) ” ان سڑی گلی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا “ (یس) ” انہوں نے کہا بس ہی ہماری موجودہ زندگی ہے دوسری زندگی نہیں ‘ مرتے ہیں اور جیتے ہیں زمانہ ہی ہم کو مارتا ہے ۔ “ (جاثیہ) ” وہ حساب کی امید نہیں رکھتے تھے ۔ “ (النباء)
عربوں نے اس وقت جس طرح نبی کریم ﷺ کی ان باتوں کو مذاق بنایا تھا اس کی ایک مثال بھی سن لیجئے ۔ ” خباب بن ارت ؓ نہایت قدیم مسلمانوں میں سے ایک تھے اور لوہار کا پیشہ کرتے تھے ، ان کے کچھ دام قریش کے ایک رئیس عاص بن وائل پر واجب الادا تھے وہ جب جا کر تقاضا کرتے تو عاص ان کا مذاق کرتا اور کہتا جب تک محمد ﷺ کا انکار کرو گے میں تم کو کچھ نہ دوں گا ۔ یہ سن کر ایک بار انہوں نے اس سے کہا کہ یہ تو اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک تم مر کر پھر نہ جئیو۔ اس نے کہا اچھا کیا مر کر مجھے پھر جینا بھی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ ، پھر اس نے مذاق سے کہا اچھا تو پھر وہیں میرا مال و دولت اور سروسامان بھی ہوگا وہیں تم اپنے دام بھی لے لینا ۔ “ (صحیح بخاری تفسیر سورة مریم ص 661) اس طرح کے بیسیوں واقعات کتب احادیث میں بیان ہوئے ہیں ، شاید آپ کو تعجب ہوگا لیکن ان کے نظریات کے حامل آج بھی ہم مسلمانوں میں موجود ہیں جو نماز کا مذاق اڑاتے اور ہنسی کرتے ہیں ” اومیاں دانے منگ اوئے جتنے چاہی دے نے پر ایہ شریکاں وجہ ساتھوں اڑن نہیوں ہوندا تے ناڈھوئی کھلی کر کے ساتھوں نک رگڑن ہوندا ای ۔ “ یہ رکوع کرنے اور سجدہ کرنے کی کیفیت کا ایک مذاق ہے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون “۔ میاں صاحب ہیں کہ چوہدری صاحب کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہیں اور خوموش ہوجاتے ہیں کہ مسجد چودہریوں کی ہے اور وہ اچھے بھلے خدمت گزار بھی ہیں انہوں نے مذاق کردیا ہے تو پھر کیا ہے ؟ خدا کی پھٹکار ایسے چودہری پر اور ایسے میاں جی پر جو مسکرا کر خاموش ہوجائیں ۔
فرمایا ” ہم نے اس کو پوشیدہ رکھا ہے تاکہ جو شخص کچھ کرنا چاہتا ہے وہ آزادی سے کرلے اور پھر یقینا وہ وقت آئے گا کہ ان کی ایک ایک حرکت کا ان کو جواب سنایا جائے گا اور وہ اپنے ان مذاقوں کا خواب مزہ چکھیں گے۔ اگر ہر عمل کی جزا ساتھ ہی رکھی جاتی تو آخرت کی ضرورت کیا ہوتی ؟ اس لئے اس دارالعمل میں جو کچھ یہ لوگ کرنا چاہتے ہیں آزادی کے ساتھ کرلیں تاکہ انکے دل میں کوئی حسرت باقی نہ رہ جائے انجام کار انکو ہمارے ہاں لوٹ کر آنا ہے اور ہم ان کی ایک ایک حرکت اور ایک ایک کام کا بدلہ دیں گے اور ان پر کسی طرح کی کوئی زیادتی نہیں ہوگی اور نہ ہی ان کے کئے پر کوئی ربڑ پھیر سکے گا کیونکہ رب کریم کے ہاں اندھا کھاتا نہیں بلکہ قاعدہ ہرچیز کا انتظام رکھا گیا ہے اور عمل کے ساتھ اس کا نتیجہ نتھی کیا جارہا ہے ان کے اعمال بھی ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے اور ان کے نتائج بھی ۔
Ayah 20:16ایسا نہ ہو کہ جو لوگ قیامت پر یقین نہیں رکھتے ان کا اثر آپ پر پڑے ۔
16۔ نماز اور آخرت کا جوڑ کس طرح جوڑ دیا گیا فرمایا خیال رہے کہ جو شخص آخرت پر یقین نہیں رکھتا اس لئے نماز کے قریب نہیں آتا وہ آپ کو بھی نماز جیسی عبادت سے غافل نہ کردے اور یقینا یہ حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ سے آپ ﷺ کی امت کو دیا گیا ہے جیسے بہت سی جگہ قرآن کریم نے خطاب تو نبی کریم ﷺ سے فرمایا لیکن آپ ﷺ کے ذریعہ سے آپ ﷺ کی امت کو سبق پڑھایا گیا ۔ اس جگہ عنہا کی ضمیر کا مرجع ” صلوۃ “ ہے اور بہا کی ضمیر کا مرجع (الساعۃ) اور روز مردہ زندگی پر غور کرنے سے یہ بات مزید واضح ہوجاتی ہے کہ جو شخص آخرت پر یقین نہیں رکھتا اس کے لئے نماز ایک مصیبت ہے اس لئے دوسری جگہ قرآن کریم نے اس کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ (آیت) ” وانھا لکبیرۃ “۔ بلاشبہ یہ بہت بھاری ہے یعنی گراں گزرتی ہے ۔ (آیت) ” الا علی الخشعین “۔ مگر ڈرنے والوں پر جن کے دلوں میں خوف الہی ہے (آیت) ” الذین یظنون انھم ملقوا ربھم “۔ جو لوگ یقین جانتے ہیں کہ انہوں نے اپنے رب سے ملاقات کرنا ہے (آیت) ” وانھم الیہ راجعون “۔ اور وہ اپنے رب کی طرف لوٹ کر جائیں گے وہی نماز ادا کرسکتے ہیں ۔ اس کی مزید وضاحت سورة مریم کی آیت 59 میں کی جا چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔
ان آیات سے اس بات کی وضاحت بھی ہوگئی کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو توحید کے بعد سب سے پہلے جو حکم عبادت دیا گیا وہ نماز ہی تھا اور یہی صورتحال امت مسلمہ کے لئے بھی قرار پائی اور نماز کے بعد جو چیز خصوصا یاد دلائی گئی وہ روز قیامت ہے اور یہی بات نبی کریم ﷺ کی امت کے لئے مقرر کی گئی ہے یہود کے لئے یہ بات قابل ملامت ہے کہ انہوں نے توحید کو چھوڑا ‘ نمازوں کو ضائع کیا اور آخرت کو بالکل مٹاکر رکھ دیا اور آج اس معاشرہ اسلامی کا اچھی طرح تجزیہ کر کے دیکھو کہ ہم نے کیا کیا ؟ کیا ہم ان کے قدم بہ قدم چلے یا نہیں چلے ؟ آج ہمارے ہاں توحید الہی کا کیا حال ہے ؟ ہر شہر ‘ گاؤں اور بستی میں قبریں اور مقبرے ہیں جن کو لوگ سجدے وسلام کرتے ہیں اور قبروں والوں سے مدد مانگتے اور ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں پھر جتنا بڑا شہر ‘ اتنا ہی بڑا ان کے پاس ایک روضہ ومقبرہ بھی ہے کہیں اس کا نام داتا ہے اور کہیں امام بری ۔ توحید اس طرح گئی اور نماز کی جو حالت ہے وہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ دو چار فی صد لوگ بھی نمازی نہیں اور جو ہیں وہ بھی ایک عادت کے طور پر نماز ادا کرتے ہیں مقصد کی نہیں اور آخرت کا بھی ایک نام ہے جو کبھی کبھی کہیں لیا جاتا ہے اعمال بتاتے ہیں کہ آخرت پر ایمان ہمارا نہیں ہے ۔ الاماشاء اللہ ۔ لیکن یہودی یہودی ہیں اور ہم مسلمان بھی مسلمان ہی ہیں (فتردی) پس تو تباہ ہوگیا ، مطلب یہ ہے کہ توحید کا درس یاد نہ رہا اور نماز ضائع ہوئی اور ہوتی ہی رہی اور آخرت ذہن سے محو ہوگئی تو پھر تیری زندگی ہی کیا زندگی ہوئی کہ بیڑا ہی غرق ہوگیا ۔ یقینا تیری زندگی سے تیرا مرنا بہتر ہوگیا اور انسان انسان کہاں رہا وہ تو فقط حیوان ہی رہ گیا اور مسلمان کا تو مقام ہی بہت اونچا ہے جو انسان ہونے کے بعد ہوتا ہے ۔
Ayah 20:17اے موسیٰ ! تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟
17۔ یہ سوال کس نے کیا ہے کہ اے موسیٰ ! تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ، کیا اللہ تعالیٰ اس سے واقف نہیں تھا ؟ کیوں یقینا واقف تھا اور اس کو معلوم تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں کیا ہے ۔ یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے جوتا اتار دے اے موسیٰ ! میں ہم نے کی کہ کسی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے اس طرح کا کلام عرف عام میں ہے کہ ایک بیٹھے ہوئے کہ دیکھیں تو کہیں گے کیا کر رہے ہو ؟ اور پھر خود ہی جواب دیں گے بیٹھے ہوئے ہو ۔ کھانا کھاتے کو دیکھیں گے تو پوچھ لیں گے کیا کر رہے ہو اور پھر خود ہی جواب دیں گے کھانا کھا رہے ہو ۔ اور مقصود اس سے فقط متوجہ کرنا ہوتا ہے اور یقینا اس طرح کی گفتگو سے دوسرا انسان متوجہ ہوتا بھی ہے اور اگر اس طرح کی بات نہ کی جائے تو توجہ کم ہوتی ہے اور کبھی باکل توجہ ہوتی ہی نہیں ۔ اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی متوجہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” اے موسیٰ ! تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ “ اس ایک ہی فقرہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو چونکا دیا ہے کہ ہاتھ بلاشبہ لاٹھی ہے جس کی تعبیر یقینا حکومت ہے جو بنی اسرائیل سے چھن چکی تھی اور ان ہاتھوں میں جا چکی تھی جو یقینا حکومت کے اہل نہیں تھے لیکن نااہل ہاتھوں سے واپس لانے کی کوئی تدبیر ؟ ہاں وہ تدبیر ہی تھی جس کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور پھر آپ کی پرورش کا خاص اہتمام کیا گیا تھا اور اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة القصص میں آئے گی ۔ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ لاٹھی کے استعارہ میں حکومت کار فرما ہے اور اس کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے لیکن یہ ایک بہت بڑا پروگرام ہے جس کے تحت یہ سب کچھ تفہیم کرایا گیا ہے اور تفہیم ہوجانے کے بعد وہ اعمال ہوئے وہ تحریک چلی جس کے عوض میں انجام کار فرعون کو غرق کردیا اور حکومت بنی اسرائیل میں منتقل کردی یہ شان خداوندی ہے جس کے بنائے ہوئے پروگراموں کو کوئی ٹال نہیں سکتا ۔
Ayah 20:18موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب کہ یہ لاٹھی ہے ‘ میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں وغیرہ :
18۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میرے پروردگار ! میرے ہاتھ میں یہ میری لاٹھی ہے اور میں اس کے ساتھ اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور ریوڑ کی چرواہی اور حفاظت ونگہبانی بھی کرتا ہوں اور اس میں میرے لئے اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور ضرورت کے مطابق اس پر ٹیک بھی لگا لیتا ہوں ذرا غور کیجئے کہ سوال کیا تھا ” اے موسیٰ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ “ پھر اس کا جواب صرف اتنا تھا کہ ” میرے ہاتھ میں لاٹھی ہے “ لیکن سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے صرف اتنے جواب پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے کتنے ہی فوائد گن دیئے اس پر سہارا لگانے کا فائدہ فطری بھی ہے اور حقیقی بھی لیکن جس لاٹھی کے ساتھ ٹیک لگائی جائے اس کا مضبوط ہونا بھی ضروری ہے ورنہ اس طرح گرا دے گی جس طرح پاکستان کی حکومتیں گرتی ہیں کہ ادھر سہارا لینے کے لئے ٹیک لگائی اور ادھر دھڑام سے نیچے اور پھر ایک نئی آہ وبکا اور واویلا شروع ہوگیا ، یہ مضمون بڑا لذیذ ہے اس کو ذرا دراز کرنے کو چی چاہتا ہے لیکن آنے والی آیت آ لینے دین دراز تو نہیں کریں گے لیکن اشارہ ضرور ہوگا کہ اتنی بات کہہ لینے کا حق ہے پھر سمجھنے والے بھی سمجھ جاتے ہیں ۔
Ayah 20:19ارشاد الہی ہوا کہ اس لاٹھی کو پھینک دو پس اچانک وہ دوڑتا ہوا سانپ تھی :
19۔ فرمایا اے موسیٰ ! اس لاٹھی کو پھینک دو پھر قدرت الہی کا تماشا دیکھو ، موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی پھینکی تو وہ ایک سانپ بن کر رہ گئی اور سانپ بھی ایسا جو حرکت کناں ہے ، بات کس قدر واضح ہوگئی کہ جب حکومت گر جائے تو گویا لاٹھی لاٹھی نہیں رہتی بلکہ وہی لاٹھی سانپ بن کر رہ جاتی ہے اور یہ بھی اس وقت کم از کم سانپ بن کر نظر آنے لگی اور اس نے نہ صرف سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو حیران کیا بلکہ وہاں سے بھگا دیا ۔ کیوں ؟ اس لئے لاٹھی لاٹھی نہ رہی بلکہ ایک اژدھا بن گئی گویا حکومت ہی نہ گئی بلکہ حکومت کرنے والوں کو اٹھا کر جیل میں پھینک دیا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) تو حکمران نہیں تھے بلکہ ان کو حکمران بنانے کے لئے اس لاٹھی میں یہ تغیر ہوا لیکن ابھی تک لاٹھی والا بھی اس حقیقت کو کب سمجھتا تھا یہ تو صرف تغیر پیدا کرنے والے کا علم تھا جس کی یہ کرشمہ سازی تھی ۔
Ayah 20:20حکم الہی ہوا کہ موسیٰ مت ڈرو ہم اس کو لاٹھی بنادینے والے ہیں بس تو اس کو پکڑ لے :
20۔ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ اس کو پکڑ لے اور مت ڈر تو اس کو اسی سیرت پر پائے گا جس سیرت کا تو نے خود ذکر کیا گویا یہ لاٹھی کی لاٹھی ہی رہے گی تو ہاتھ لگا دیکھ کر یہ لاٹھی ہے یا سانپ ؟ گویا ہم نے اس میں یہ جو تغیر پیدا کیا محض تیری آزمائش مقصود تھی کہ آیا تو ہمارے کہنے پر اس پر ہاتھ ڈالتا ہے یا نہیں ؟ جبھی تو نے ہاتھ ڈالا تو اس کو لاٹھی کی لاٹھی ہی دیکھا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی سے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی آزمائش ہوگئی اور اس آنکھ جھپکنے ہی میں اللہ تعالیٰ نے سارا پروگرام موسیٰ (علیہ السلام) کے اندر ودیعت کردی کہ بنی اسرائیل کے ہاتھ سے جب لاٹھی گری یعنی ان کی حکومت جاتی رہی تو اس نے ایک سانپ یا اژدھے کی شکل اختیار کرلی اور اس نے وہی تباہی مچائی جو نااہل ہاتھوں میں جا کر تباہی مچایا کرتی ہے کہ پوری قوم کی قوم کو ناکارہ اور بیکار ‘ پست ہمت اور بزدل بنا کر رکھ دیا اور پھر آج تک بنی اسرائیل نے ہمت ہی نہ کی کہ اس سانپ پر ہاتھ بڑھائیں اور سانپ کو سانپ نہیں بلکہ لاٹھی بنا کر رکھ دیں ۔
Ayah 20:21اے موسیٰ اس سانپ کو پکڑ لے اور دیکھو کہ یہ سانپ نہیں بلکہ وہی لاٹھی ہے :
21۔ ہم نے یہ پروگرام تیرے ہی لئے تجویز کیا ہے کہ اب تو اس سانپ پر ہاتھ بڑھا جو دراصل تیرے ہی آباء و اجداد کی یہ لاٹھی تھا ۔ جس طرح تیرے ہاتھ کی لاٹھی نے گرتے ہی ہلنا شروع کردیا تو اس کو لاٹھی نہیں بلکہ سانپ دیکھا بعینہ اسی طریقہ سے جب بنی اسرائیل کے ہاتھ سے حکومت نکلی تو وہ سانپ بنی دوبارہ کسی نے ہمت ہی نہ کی ۔ اب ہمارے حکم سے تو اس اپنی لاٹھی پر ہاتھ رکھ جس کو تو نے سانپ دیکھا تیرا ہاتھ پڑتے ہی ہمارے حکم سے یہ پھر لاٹھی کی لاٹھی ہوگی اور اس کی ساری سیرت واپس لوٹ آئے گی تو اس پر تکیہ بھی لگائے گا جس طرح تیرے باپ دادا نے اس پر تکیہ لگایا تو اس سے اپنے ریوڑ کی حفاظت ونگہبانی بھی کرے گا فرق ہوگا تو صرف اتنا کہ پہلے تیرے ریوڑ میں غنم یعنی بھیڑ بکریاں ہوتی تھیں اور اب تیری رعایا میں انسان ہوں گے جن کا انتظام وانصرام تو کرے گا اور ہمارے پروگرام میں بنی اسرائیل کی قومی زندگی کو بحال کرکے ان ظالموں کو ان کے ظلم کا مزہ چکھانا ہے جو اپنے وقت پر پورا ہوگا اور اس سلسلہ کی یہ ابتدائی مشق ہم آپ کو اکیلا اور علیحدہ کرکے کرا رہے ہیں اور یہی اس میں حکمت تھی کہ ہم نے تجھے تیرے گھر کی یہ ابتدائی مشق ہم آپ کو اکیلا اور علیدہ کرکے کرا رہے ہیں اور یہی اس میں حکمت تھی کہ ہم نے تجھے تیرے گھر والوں سے بالکل الگ تھلگ کیا اور اب تیری ایک طرح سے آزمائش ہوگئی آئندہ جب کبھی بھی ایسا واقعہ ہو کہ ہم تجھے حکم دیں کہ لاٹھی پھینک دو تو پھینک دینا تاکہ وہ لوگ بھی اس کو اچھی طرح دیکھ لیں جنہوں نے ظلم کی انتہا کردی ہے حکم دیں کہ لاٹھی پھینک دو تو پھینک دینا تاکہ وہ لوگ بھی اس کو اچھی طرح دیکھ لیں جنہوں نے ظلم کی انتہا کردی ہے اور جب ہم اس کو پکڑنے کا حکم دیں فورا پکڑ لینا ہم اس طرح ان کو نظارہ کرائیں گے اور لوگ یقینا تیری تحریک سے وابستہ ہوں گے اور نتیجہ اس کا یہ نکلے گا کہ ظالموں کی حکومت کا خاتمہ کرکے بنی اسرائیل کی حکومت قائم کرا دیں گے اور پھر دنیا نے دیکھا جو اللہ تعالیٰ نے پروگرام بنایا تھا وہ اپنے وقت پر پورا ہوا اور حکومت ان ظالم ہاتھوں سے چھین کر بنی اسرائیل کے ہاتھ میں دے دی ۔ اور یہی اس لاٹھی کا استعارہ کی اصل حقیقت تھی آگے ان دلائل کا ذکر آئے گا جن دلائل کا یہ مطالبہ تھا کہ اس ملک پر حکومت کرنے کے اصل اہل بنی اسرائیل تھے اور ان کے غیر نہیں تھے کیونکہ حکومت کے کاروبار کے لئے اہلیت کا ہونا ضروری ہے نااہل لوگوں میں حکومت جائے گی تو اس کا وہی حال ہوگا جو اس وقت فرعون کی حکومت کا تھا اور اس وقت ہمارے پاکستان میں روپے پیسے کے بل پر بننے والی حکومتوں کا ہو رہا ہے اور ابھی ہوتا رہے گا جب تک اس نظام کو نہیں بدلا جاتا اس وقت بھی یہی کوشش ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ سے اس نظام کو بدلوا دیا اور آج بھی اللہ تعالیٰ اس قوم کے لئے کسی اللہ کے بندہ کو اٹھائے گا تو حالت سدھرے گی ، اللہ تعالیٰ اس حالت کے سدھرنے کی کوئی صورت پیدا فرما دے حقیقت میں اس آزادی نے ہمیں ہرچیز سے آزاد کردیا کہ نہ دین کے رہے نہ دنیا کے ۔
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے :
سانپ کو دیکھ کر ڈرنا ایک طبعی امر تھا اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اس کو دیکھ کر ڈرے کہ ہاتھ کی لٹھیا جو سانپ کو مارنے والی تھی وہ خود کیسے سانپ بن گئی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں تمہارا ڈر دور کرنے کے لئے تو یہ تغیر کیا ہے اور ایسا ہی ہوا کہ ہاتھ ڈالنے کی دیر تھی کہ وہ لاٹھی کی لاٹھی تھی ۔ اس آیت نے سیرت کی تشریح بھی کردی کہ سیرت کیا ہے ؟ لیکن افسوس کہ سیرت نگاروں نے اور سیرت کانفرنسیں کرنے والوں نے آج تک یہ بھی نہ سمجھا اور نہ عوام کو سمجھایا کہ سیرت چیز کیا ہے اور اس کو سیرت کیوں کہتے ہیں ؟ جلسہ سیرۃ النبی کا اور بحث حاظر وناظر اور غیب و حاضر اور مرنے اور جینے کی اور اس طرح دوسرے قصے اور کہانیوں کی اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور کافر قرار دینے کی۔ بہرحال اب ان دلائل کی باری ہے غور وفکر سے کام لیں اور آیات کا مطالعہ کریں ۔
Ayah 20:22اے موسیٰ اپنا بازو بغل کی طرف سکیڑ کر کشادہ کر وہ بالکل سفید نکلے گا :
22۔ پہلی ” آیت بینہ “ جس کو عوام معجزہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں لاٹھی کا سانپ اور سانپ کا لاٹھی بننے کا تھا جس کے اندر کے مضمون کو ہم نے بیان کردیا اور اب دوسری (آیۃ بینہ) کا ذکر کیا جا رہا ہے اور ہدایت دی جا رہی ہے کہ اے موسیٰ اپنا ہاتھ اپنے پہلو میں رکھ کر نکال اور دیکھ کہ وہ بحمد للہ چٹا سفید ہے اور چمکتا ہوا تیری بغل سے نکلے گا ، اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ہدایت الہی کے مطابق عمل کیا تو جو نتیجہ بتایا گیا تھا وہ صاف صاف سامنے آگیا ۔ ہاتھ کا سفید نکلنا فی الواقعہ تھا اور یہ گویا استعارہ تھا ان دلائل کا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے قلب میں اتارے گئے جو بائیں پہلو میں ہوتا ہے اور دایاں ہاتھ بغل میں داخل کرنا ہو تو وہ بائیں بغل ہی کی طرف جائے گا جس طرف مقام دل ہے اور دل میں ان باتوں کے اتارنے سے مقصود یہ بھی ہے کہ ایک دل سے نکلی ہوئی بات دوسروں کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور یہی اہلیت ہی کو دیکھ کر وقت حکمران نے حکومت آپ کے سپرد کردی اور آپ نے اس کا انتظام اتنا صاف ستھرا اور بہترین کیا کہ ان مشکل حالات میں مصر کے اندر بیرونی ممالک کے لوگوں کو بخیر و خوبی سات سالہ لمبے عرصے سے انہوں نے نکال باہر کیا اور اس طرح اس اہلیت کے باعث یہ حکومت بنی اسرائیل کی طرف منتقل ہوئی لیکن جب بنی اسرائیل پر ایک لمبا عرصہ گزر گیا اور ان میں ضعف اور کمزوری آتی گئی تو سرمایہ داروں اور جاگیرداروں نے ان کو دبا لیا اور پھر ایسی سکیم انہوں نے چلائی کہ ایک مدت تک بنی اسرائیل دبتے ہی گئے جس طرح ہمارے ملک میں جمہوریت کے سانپ کو ایسا نکالا کہ اس ملک کے غریب کا ناک میں دم کردیا اور سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو یہ بات ازبر کرا دی کہ اسی نظام کے اندر رہ کر باری باری اپنا الو سیدھا کرتے رہو اور عوام کو بالکل سر نہ اٹھانے دو اگر یہ سراٹھا گئے تو تمہارا وہی حشر ہوگا جو اس وقت فرعون اور اس کے اعوان وانصار کا ہوا تھا ، اس وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ دلائل سمجھا دیئے اور انہوں نے ان دلائل کو جب ملک کے جلسہ عام میں پیش کیا تو بڑے بڑے جادوگر یہ ماننے پر تیار ہوگئے کہ جو وزن موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی میں ہے وہ فرعونیوں کی رسیوں اور لاٹھیوں میں بالکل نہیں اور اس طرح اللہ نے ملک کی حالت بدلی اور اللہ تعالیٰ نے ان دلائل کو تسلیم کرنے والے بھی انہی لوگوں میں اٹھا کر کھڑے کردیئے پھر کیا تھا کہ چل سو چل لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ اس ملک مصر ہی تک آپ کا پروگرام محدود نہیں ابھی ستارے اور بھی ہیں جہاں تم کو کمند ڈالنی ہے اس لئے مصر سے بنی اسرائیل کی ایک خاصی تعداد کے ساتھ نکل جانے کا حکم دیا اور فرعون کو ان کے پیچھے لگا کر بحر قلزم یا دریائے نیل کے مدوجزر میں ڈبو کر رکھ دیا اور پورے لشکر کے لشکر کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ۔
اور بلاشبہ یہ دلائل وقتی نہیں تھے بلکہ ان میں ایک وزن اور ایک چمک وصفائی تھی کہ دیکھنے سننے والوں کا دل پیسج جاتا تھا اس لئے کی فرعونیوں کے مظالم کی داستانیں ہی بہت لمبی تھیں اور انہوں نے بنی اسرائیل کے بڑے تو بڑے بچوں تک کو نہ چھوڑا تھا اور سنت اللہ یہی ہے کہ ظلم کی رات خواہ وہ کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو ایک روز اس کا ختم ہونا لازم ہوتا ہے اور پھر عدل و انصاف کا سورج جب طلوع ہوتا ہے تو لوگ سکھ کا سانس لیتے ہیں جب سنت اللہ یہ ٹھہری تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس مالک کے عوام کے ساتھ یہ ظلم اسی طرح ہوتا رہے نہیں اور یقینا نہیں ‘ وقت آئے گا اگرچہ ہم اس وقت کو نہیں جانتے لیکن اتنی بات ہم کو معلوم ہے کہ یقینا وہ دن آئے گا کہ ان ظالموں کو کوئی گریبان سے پکڑے گا اور تابڑ توڑ جوتے ان کے سروں پر لگائے گا اور اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ اللہ بھی ہے اور اس کا قانون بھی اور یہ بھی کہ اس کے قانون کی خلاف ورزیاں کرنے والوں کا ایک دن ایسا انجام بھی ہونا ضروری ہے اور اس میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ تیرے ہاتھ کے سفید ہونے میں کوئی بیماری نہیں ہوگی یعنی تیرے دلائل میں کوئی کمزور نہیں رہے گی ۔