20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 20:64

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

پس اپنے سارے داؤ جمع کرو اور پرا باندھ کر ڈٹ جاؤ ، جو آج بازی لے گیا ، وہی کامیاب ہوا

اس خصوصی مجلس کو برخاست کرتے ہوئے انہوں نے آخری ہدایت دی : 64۔ اس خصوصی مجلس کو برخاست کرتے ہوئے آخری ہدایت انہوں نے یہ دی جس مرحلہ پر تم پہنچے ہو وہ بہت ہی نازک ہے اور ایسے نازک موقعوں پر نہایت چوکس اور عقل وفکر کو حاضر رکھ کر بات کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ ایک شوشہ بھی ادھر ادھر ہوجائے تو بات کچھ سے کچھ ہوجاتی ہے تمہارا مقابلہ نہایت ہی ماہر اور استاد ساحروں سے ہے اور ویسے بھی اپنے مقابل کو کمزور سمجھنا حماقت ہے اس وقت تم لوگوں کو اپنی ساری مخفی سے مخفی تدبیریں بروئے کار لانا ہیں اور اپنی صفوں میں بہت چوکس ہو کر بیٹھنا ہے چونکہ مناظرہ بھی ہم نے ہی رکھوایا ہے اور اس کی ابتداء ہم ہی نے کی ہے اس لئے ہم پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے دلائل کو واضح کریں روز روز اس طرح کے اجتماعات ممکن نہیں ہوتے اور اب ساری کامیابی کا انحصار اسی مناظرہ پر ٹھہرا ہے اور آج کا دن گویا نہایت اہمیت کا حامل ہوچکا ہے ۔ اگر جیت ہماری رہی تو موسیٰ اور اس کی ساری جماعتی بھاگ دوڑ یہیں ختم ہو کر رہ جائے گی اور اگر بات دوسری ہوئی تو سمجھو کہ بنی اسرائیل کا گروہ ہم پر سوار ہوگیا اور اس کا ہمارے سروں سے اترنا مشکل ہوجائے گا اور ہم اس خسارہ میں چلے جائیں گے جس کو پورا کرنا ناممکن نہیں تو مشکل بہرحال ضرور ہے گویا آج کا دن ہار جیت کا دن ہے اب پوری احتیاط کے ساتھ باہر میدان میں اپنی صفوں میں اپنی اپنی نشتوں پر چل کر بیٹھوتا کہ مناظرہ کی باقاعدہ کاروائی شروع ہو اور قوم تمہارے جوہر دیکھے ۔
Ayah 20:65

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

جادوگروں نے کہا موسیٰ ! (علیہ السلام) یا تم پہلے اپنی لاٹھی پھینکو یا پھر ہماری ہی طرف سے پہل ہو (اس کی وضاحت کرو)

میدان میں آتے ہی انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ پہل کریں گے یا ہم ؟ : 65۔ حکومت مصر کے مدعو کئے گئے ” میدان میں داخل ہوئے اور آتے ہی انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اے موسیٰ تم پہلے ڈالو گے یا ہم ڈال دیں ؟ گویا انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں مکمل تیاری کرلی تھی کہ آپ کے پاس ایک لاٹھی تھی جو سانپ بن جاتی تھی تو انہوں نے ایک کی بجائے کئی لاٹھیاں اور رسیاں اپنے ساتھ لائیں اور تعلی سے موسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کیا ، موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کریم سے یہ خوشخبری پاچکے تھے کہ اے موسیٰ ! اس میدان کی کامیابی ہم نے تیرے مقدر میں رکھی ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) اس پر یقین رکھتے تھے کہ وہی ہوگا جو اللہ نے فرمایا ہے اس لئے آپ نے بڑے وقار کے ساتھ ان کو جواب دیا جو آنے والی آیت میں بتایا گیا ہے ۔
Ayah 20:66

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا نہیں تم ہی پہلے پھینکو ، چناچہ اچانک موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے جادو کی وجہ سے ایسا دکھائی دیا کہ ان کی رسیاں او لاٹھیاں دوڑ رہی ہیں

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ڈالو تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں : 66۔ ساحرین فرعون کے سوال کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ڈالو جو کچھ ڈالنا چاہتے ہو ، اس طرح جواب دے کر گویا موسیٰ (علیہ السلام) نے میدان جو جیت ہی لیا کہ جو مخالف کو دعوت دے کہ ہاں ! جو تم کرنا چاہتے ہو جلد کرو اور بلاججھک کرو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو ‘ یہ کہہ کر گویا وہ اپنے مقابل کو وارننگ دے دیتا ہے کہ تیری حقیقت اور حیثیت اور دلیل کو میں اچھی طرح سمجھتا ہوں تو جو سانپ نکالنا چاہتا ہے جلد نکال لے اور جو دھوپ چڑھانا چاہتا ہے جلد چڑھا اور پھر ہمارے رب کا بھی کمال دیکھ ، موسیٰ (علیہ السلام) یہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں گرا دیں گویا جو کچھ وہ کرسکتے تھے اور جتنے حوالے اور دلیلیں ان کے پاس تھیں انہوں نے بیک وقت بیان کردیں اور اپنے مخالف کو خوب متاثر کرنے کی کوشش کی یہاں تک کہ مخالف کے گمان میں بھی انہوں نے ایک کامیاب کوشش کی یا یہ کہ سارا زور بیان خرچ کردیا اور اپنی شکست کے اسباب پیدا کردیئے کیونکہ باطل پہلے باطل تھا اور جب وہ اپنی ساری قوتوں کے ساتھ ظاہر ہوگیا تو جب حق کا بھر پورا وار کردیا جائے تو اب سوائے اس کے کہ وہ دانت دکھا دے اس کے پاس رہ ہی کیا جاتا ہے جس کو ہاتھ میں لے کر وہ دوبارہ سامنے آئے یہی اب سوائے اس کے کہ وہ دانت دکھا دے اس کے پاس رہ ہی کیا جاتا ہے جس کو ہاتھ میں لے کر وہ دوبارہ سامنے آئے یہی کچھ یہاں ہوا ۔ ساحر بلاشبہ اپنے فن کے ماہر تھے انہوں نے اپنے دلائل کو ایسا مدلل بنایا کہ لوگوں کی آنکھیں دیکھتی ہی دیکھتی رہ گئیں اور وہ لوگوں کے خیال پر ایسا چھائے کہ کوئی شخص حق اور ناحق کی پہچان ہی نہ کرسکا لیکن ایک بات کا خیال پر چھا جانا اس کے حق میں دلیل نہیں ہو سکتی کیونکہ بناوٹ بہرحال بناوٹ ہی ہوتی ہے گدھے نے شیر کی کھال پہن رکھی ہو تو یقینا لوگ ڈریں گے لیکن کب تک ؟ یہی معاملہ اس جگہ ہوا۔
Ayah 20:67

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے اندر ہراس محسوس کیا

عوام تو عوام ہی تھے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) بھی ایک بار گھبراگئے : 67۔ ساحرین فرعون کا کرتب دیکھ کر عوام پر تو اثر ہونا ہی چاہئے تھا اور ان پر یقینا اثر ہوا ہی ہوگا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) بھی ایک بار گھبرائے اور فطری خیال ان کے اندر پیدا ہوا اور خطرہ محسوس کیا کہ لوگ ان کے اس کرتب سے ضرور متاثر ہوں گے کیونکہ ان کی سحر باے نے بلکہ چرب زبانی سے عوام کی آنکھوں میں خاک جھونکی جا رہی تھی اور فضا دھواں دھار ہو رہی تھی اور ظاہر ہے کہ عوام کا دھارا اندھا دھند ہوتا ہے اور بھگدڑ مچ جائے تو حق وناحق واضح نہیں ہوتا اور فریقین کو ایسے نازک مواقع پر اس طرح کا خطرہ ہو وقت موجود ہوتا ہے کہ کسی وقت بھی حالات بگڑ سکتے ہیں اس طرح کا خطرہ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا ہوا اور آپ گھبرائے کہ کہیں ایسی صورت پیدا نہ ہوجائے ، رہیں ان ساحروں کی لاٹھیاں اور رسیاں تو ظاہر ہے کہ ان کی کوئی حقیقت تو نہیں تھی لیکن وقتی تماشا تو بہرحال انہوں نے دکھایا ، مفسرین نے لکھا ہے کہ اس میدان میں جس جگہ فریقین کو بٹھایا گیا تھا ان کے درمیان حکومت نے گہرائی میں کھود کر ایک جگہ کھائی بنا دی کہ اس میں آگ بھری تھی اور لاٹھیوں اور رسیوں میں پارہ بھرا ہوا تھا جب ان کو اس جگہ پر ڈالا گیا تو پارہ کے گرم ہونے باعث وہ چلتی ہوئی نظر آنے لگیں لیکن ہمارے اس بیان کے لئے ان باتوں کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اس مضمون کو استعارات میں بیان کیا گیا ہے اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کو تورات میں بھی استعارہ ہی میں بیان کیا گیا تھا اس لئے ضروری تھا کہ یہاں بھی وہ استعارات بحال رہتے اور یہ بھی کہ جو مضمون استعارہ میں بیان کیا جاسکتا ہے وہ استعارہ کے بغیر بیان کیا جائے تو اس کی ساری اہمیت ختم ہو کر رہ جاتی ہے اور استعارہ ومحاورہ ہر زبان کی زینت ہے اور اس کا بولا جانا نہایت ضروری ہے بلکہ یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعہ دریا کو کو زہ میں بند کیا جاسکتا ہے اور صفحات کے صفحات کو چند فقروں میں بیان کیا جاسکتا ہے اور سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی مدت کو آج یا کل کہہ کر بیان کیا جاتا ہے ، صدیوں اور سالوں کو پل بھر سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے اور ان باتوں کو چونکہ سب جانتے ہیں سب سمجھتے ہیں اس لئے اس کا کوئی غلط قرار نہیں دے سکتا یہ اسی طرح ہے جس طرح اچھے پھلے ایک مولانا ‘ لیڈر اور قوم کے پیشوا بس میں بیٹھتے ہی ایک سواری بن جاتے ہیں گویا وہی جو بڑے بڑے خطابات سے نوازے جارے تھے اور ان کو مذکر کے طور پر بیان کیا جارہا تھا بس میں بیٹھتے ہی وہ تانیث کے خطاب سے نوازے گئے اور ان کی حیثیت ایک سواری کی رہ گئی لیکن اس میں کتنی دیر لگی اور کتنا فرق پڑا۔
Ayah 20:68

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا اندیشہ نہ کر ، تو ہی غالب رہے گا

موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ اندیشہ نہ کرو میدان تمہارے ہی ہاتھ میں رہے گا : 68۔ یہ وہ القاء ہے جو ایک نبی ورسول کے حصہ کی بات ہے آپ اور میں بلکہ دنیا کے سارے انسان اس سے میتثن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فورا موسیٰ (علیہ السلام) کو خطاب فرمایا کہ اے موسیٰ بےفکر اور بےخطر رہو میدان آپ ہی کے ہاتھ میں رہے گا اور ہمارا کیا گیا فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوسکتا اور میدان کے ہر فرد کی حالت ہم اچھی طرح جانتے ہیں ہمارے علم میں ہے کہ کس پر کیا اثر ہو رہا ہے جن ساحروں کے سحر نے لوگوں کو متاثر کرنا وہ تو ایک منٹ میں تیرے قدموں میں ہیں ۔ ہمارے علم میں ہے کہ کیا کرشمہ سازی ہونے والی ہے ۔
Ayah 20:69

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

تیرے داہنے ہاتھ میں جو لاٹھی ہے ، فوراً پھینک دے وہ جادوگروں کی تمام بناوٹیں نگل جائے گی ، انہوں نے جو کچھ بنایا ہے محض جادوگروں کا فریب ہے اور جادوگر کسی راستے سے آئے کبھی کامیابی نہیں پا سکتا

تیرے داہنے ہاتھ میں جو کچھ ہے گرا کیوں نہیں دیتے کیونکہ ساحروں نے جو کرنا تھا وہ تو ہوگیا : 69۔ آپ اے موسیٰ اپنے ہاتھ کی لاٹھی کو زور دار ہاتھ سے گرا دیجئے اور قدرت الہی کا تماشا دیکھئے یہ چیز تو ہم نے آپ کو پہلے ہی روز عنایت کردی تھی جو آخر تک تیرے ساتھ رہے گی اور اس تیری لاٹھی نے کیا کیا کرتب دکھائے اور ابھی کیا کیا کرتب یہ دکھائے گی ہمارے دیئے گئے کا توڑکون ہے جو کرسکے اور ہماری آیات بینات کو کون ہے جو ٹھکرا سکے ۔ تیرے ہاتھ میں ہم نے دو خوبیاں رکھی ہیں ” عصا “ اور ” یدبیضا “ بس ابھی تو لاٹھی گرا اور دیکھا کہ جو کچھ انہوں نے میدان میں چھوڑا ہے سب بھسم ہو کر رہ جائے گا اور اس کا سارا اثر زائل ہو کر رہ جائے گا (تلقف) کی اصل ل قہے اور لقف کے معنی ہیں ایک چیز کو دانائی سے لے لینا خواہ وہ منہ سے ہو یا ہاتھ سے یا عقل وفکر سے اور (یصنعون) اس جگہ ” یافکون “ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور افک حق سے باطل کی طرف پھیرنے کو کہتے ہیں ، مطلب یہ ہے کہ فرعون کے ساحروں نے جس طرح حق سے باطل کی طرف پھیرنے کی کوشش کی ہے وہ بالکل رائیگاں ہو کر رہ جائے گی اور وہ اپنے ارادوں میں کچھ کامیاب نہیں ہوں گے بلکہ ان کا اپنا ارادہ ہی ہم بدل کر رکھ دیں گے ۔ کیونکہ جو کچھ انہوں نے گھڑا تھا اس کی اصل حقیقت کچھ نہ تھی اس شیر کی کھال میں گدھا تھا اور اس کی آواز نکلتے ہی سب کو ہنسی آگئی کہ اس نے کیا سوانگ رچا رکھا ہے ، سحر کیا ہے ؟ سراسر دھوکہ ‘ فریب مکاری اور عام زبان میں اس کو ہاتھ کی صفائی سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ جادوگر کے نصیب میں فلاح وکامیاب کب ہے ؟ جب تک فریب کا فریب ہونا ظاہر نہ ہو اور فریب کو آخر کب تک چھپایا جاسکتا ہے ؟ جیسا کہ پیچھے بھی بیان ہوا ہے کہ یہ واقع سورة الاعراف کی آیات 115 تا 125 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اور سورة الاعراف عروۃ الوثقی کی تیسرجلد میں موجود ہے وہاں سے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 20:70

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

چناچہ تمام جادوگر بےاختیار سجدے میں گر پڑے اور پکارے ہم ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) کے خدا پر ایمان لائے

عصاظاہر ہونا تھا کہ فرعونی ساحر بارگاہ ذوالجلال والا کرام میں سجدہ ریز ہوگئے : 70۔ رب ذوالجلال والا کرام کی طرف سے حکم ملا تھا کہ اے موسیٰ اپنی لاٹھی گراؤ ‘ لاٹھی کا گرنا تھا کہ ان کا سارا بنا بنایا کھیل ہوا ہوگیا اور ان ساحروں نے جب یہ منظر دیکھا تو وہ حقیقت کو سمجھ گئے اور ان کے اندر کی ساری میل جاتی رہی اور ان کا باطل ان پر مکمل طور پر واضح ہوگیا اور ان کی آنکھیں کھل گئیں وہ حق کو پہچان گئے جیسا کہ ہم نے قبل ازیں عرض کیا ہے دراصل وہ میدان میں آتے ہی اپنی شکست کا اعتراف کرچکے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی عظمت کا سکہ ان کے دلوں میں بیٹھ چکا تھا اور رہتی کسران اختلاف نے نکال دی تھی جو اس کے درمیان اپنی خاص مجلس کے اندر ہی رونما ہوچکا تھا وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں آنے سے کتراتے بھی تھے لیکن فرعون کے اعوان وانصار کے کہنے پر وہ دوبارہ بادل نخواستہ تیار ہوئے تھے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے اندر ایمان کا قطرہ ضروری رکھا تھا ۔ جس پر معلوم نہیں کتنے پردے تھے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل کے سامنے وہ ایک ذرہ بھی نہ ٹک سکے اور فورا ان کی ایمان قوت جاگ گئی وہ رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں سجدہ ریز تو ہو ہی چکے تھے لیکن ان اللہ کے بندوں نے صرف اس پر بس نہیں کی بلکہ سارے مجمع کے سامنے یہ اعلان بھی کردیا کہ ہم ایمان لائے اور یہ بھی کہ صرف ایمان ہی کا اعلان نہیں کیا اس سے آگے بڑھ کر انہوں نے اپنے اعلان میں واضح کردیا کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے رب کو مان گئے اور اس کے سارے دلائل کو اپنے دلائل کے مقابلہ میں قوی سمجھا بلکہ ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے دلائل سب کے سب افتراء علی اللہ تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل منزل من اللہ ہیں ۔ ان کے اس اعلان سے فرعون اور اس کے اعوان وانصار پر کیا گزری ہوگی ؟ اس کا اندازہ کرنا آپ کے اور میرے لئے بہت مشکل ہے ۔ اگر پوچھ سکتے ہو تو کسی اس سے پوچھو جو رات کو حکمران سوئے اور صبح اٹھنے سے پہلے وہ حکومت سے فارغ کردیا گیا ہو کہ فارغ کرنے والے کے متعلق اس فارغ ہونے والے کے جذبات کیا ہیں ؟
Ayah 20:71

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

فرعون نے (اپنے ہی مدعو کیے ہوئے ساحروں سے) کہا تم بغیر میرے حکم کے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے ؟ ضرور یہ تمہارا سردار ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے ، اچھا دیکھو میں کیا کرتا ہوں میں تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے کٹواؤں گا اور کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا ، پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ ہم دونوں میں کون سخت عذاب دینے والا ہے اور کس کا عذاب دیرپا ہے

فرعون نے ایمان لانے والے ساحروں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ساز باز کرنے والے قرار دیا : 71۔ فرعون نے جب دیکھا کہ میدان ہاتھ سے نکل گیا تو اس نے وہی کچھ کیا جو کچھ طاقتور شکست کھانے کے بعد کیا کرتا ہے ۔ اس نے اپنے ساحروں کو کہا جس کو وہ جمع کرکے لایا تھا کہ اچھا تم میری اجازت کے بغیر ہی ایمان لے آئے ہو بڑا شوق تھا تم کو موسیٰ کے ساتھ ایمان لانے کا معلوم ہوتا ہے کہ تم سازشی گروہ ہو اور اندرون خانہ تمہاری موسیٰ سے سازباز تھی اور یہ جو کچھ تم نے کیا ہے آپس میں مل کر کیا ہے کیونکہ تم بھی اسی خاندان کے چشم وچراغ ہو اس لئے تم نے مار آستین کا کردار کیا ہے ” ضرور وہی تمہارا بھی سردار ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے “ گویا اس وقت فرعون خود حواسہ باختہ ہوچکا تھا اور جو اس کے منہ میں آیا وہ کہتا گیا حالانکہ اس کو اچھی طرح معلوم تھا کہ موسیٰ تو ملک چھوڑ کر چلا گیا تھا اور ایک مدت کے بعد واپس آیا ہے وہ یہاں کب تھا کہ ان کو تعلیم دیتا رہا ، لیکن جب انسان کا پارہ چڑھ جائے تو اس کو کیا کچھ یاد رہتا ہے اس نے زور دے کر کہا کہ میں تم کو ابھی دیکھ لیتا ہوں کہ تم کس باغ کی مولی ہو اور کس طاقت کے بل بوتے پر تم نے میرے مخالفین کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے ۔ ” میں تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے کٹواؤں گا اور کھجور کے تنوں کے ساتھ سولی دوں گا “ تمہیں تمہاری اس سازش کی وہ سزا دوں گا کہ آئندہ تمہاری نسل بھی یاد رکھے گی کہ تم کتنے بےوفا نکلے ہو اور تمہاری اسکیم کتنی گہری اور سازش کتنی تیز ہے اور تم کیسے طوطا چشم نکلے ہو کہ میرے مخالفین سے ملتے تمہیں ذرا شرم محسوس نہیں ہوئی اور میری گود میں بیٹھ کر میری داڑھی مونڈنے کی بیکار کوشش کی ہے ابھی تم کو معلوم ہوجاتا ہے کہ ہم دونوں میں ’ ‘ ’ کون سخت عذاب دینے والا ہے اور کس کا عذاب دیرپا ہے ۔ “ میرا یا موسیٰ کا ؟ لیکن اب باتوں سے ان کے کام پر جوں بھی نہ رینگی اور انہوں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔
Ayah 20:72

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا ، ہم یہ کبھی نہیں کرسکتے کہ جو روشن دلیلیں ہمارے سامنے آگئی ہیں اور جس اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے اس سے منہ موڑ کر تیرا حکم مان لیں تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر گزر ، تو زیادہ سے زیادہ جو کرسکتا ہے وہ یہی ہے کہ دنیا کی اس زندگی کا فیصلہ کر دے

ساحرین نے قبول اسلام کے بعد فرعون کے رو دررو جواب دیا : 72۔ فرعون نے دھمکی تو بہت سخت دی تھی لیکن ایمان کا کا نشہ بھی کوئی معمولی نشہ نہیں بلکہ سارے نشوں سے بڑا نشہ ہے کہ اس شراب کو جو ایک بار پی لے ساری زندگی اس کے خمار میں گزرتی ہے اور نشہ ہے کہ فرو ہونے کا کبھی نام ہی نہیں لیتا ، آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس مالک کے تو سارے ہی رہنے والے مومن مسلمان ہیں لیکن کسی پر ہم یہ نشہ نہیں دیکھ رہے ؟ صحیح ہے کہ کسی پر یہ نشہ نہیں لیکن کیا ایمان ہے ؟ بلاشبہ ہم مسلمان ہیں لیکن من حیث القوم ہمارا تعلق ان لوگوں سے ہے جن کا مذہب کا غذات میں اسلام لکھا ہے اور یہ بات تو ایمان کے نشہ کی ہو رہی ہے اور وہ اپنی جگہ پر آج بھی حق ہے کہ جو شخص فقط من حیث القوم نہیں بلکہ من حیث ال ایمان مومن ہو اس کا نشہ آج بھی ایسا ہی ہے اور اس کی مثالیں آج بھی موجود ہیں بہرحال فرعون کی دھمکی کل کے ساحروں اور آج کے راسخ ال ایمان مومنوں پر اثر نہ دکھا سکی اور انہوں نے فرعون کی بات سن کر بڑے دھڑلے سے کہا کہ تمہیں جو کچھ کرنا ہے کرو اب ہم ان روشن دلائل کو دیکھ اور سن لینے کے بعد واپس کفر میں نہیں لوٹ سکتے اب ہمیں اس دنیا کی زندگی کی کوئی حقیقت دکھائی نہیں دیتی اور ہمیں پختہ یقین ہے کہ اس کفر کی زندگی سے ایمان پر ثابت قدم رہتے ہوئے مرنا ہزار درجہ بہتر ہے ، تیرے ہاتھ میں اگر کچھ ہے تو اس دنیوی زندگی کے فیصلے کے متعلق ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ جو تو کرنا چاہے گا کرے گا ہمارے کہنے سے تو باز آنے والا نہیں اور اب اس زندگی کی بھیک ہم تجھ سے نہیں مانگیں گے اگر ہمارے رب کریم رحیم کو یہی منظور ہے کہ تو ہمارے ہاتھ پاؤں خلاف سمت کٹوائے تو ہم ان ہاتھ پاؤں کو آخر رکھ کر کیا کریں گے یہی حال ہماری زندگی کا ہے اگر آج تو ہم کو اس طرح نہیں مارے گا تو کل ہم بستر مرگ پر مریں گے آخر اس دنیا میں پہلے کون بچا ہے جو ہم بچے رہیں اور ایک بات اچھی طرح سن لے کہ اگر ہمیں ہمارا خدا تیرے ہاتھ سے بچانا چاہے گا تو اس کو بچانے میں کتنی دیر لگے گی اور تو مار کیسے سکے گا ؟ اتنی ساری باتیں انہوں نے فرعون کو سنا دیں اور غور کرو کہ یہ وہی لوگ ہیں جو کل فرعون سے انعام واکرام طلب کر رہے تھے اور ؤج اس کو اس طرح مخاطب کر رہے ہیں گویا یہ اس کے مقابلہ کے لوگ ہیں اور خوف کا نام وشان بھی اس کے جسم وجان میں نہیں رہا انہوں نے فرعون سے مزید کہا کہ بلاشبہ ہم کل کے جادوگر ہیں لیکن آج کے مومن ومسلم بھی ہیں ۔
Ayah 20:73

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم تو اپنے پروردگار پر ایمان لا چکے کہ ہماری خطائیں بخش دے خصوصاً جادوگری کی خطا جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا ، اللہ ہی بہتر ہے اور وہی باقی رہنے والا ہے

فرعون کو مخاطب کرکے ان نو مسلم لوگوں نے مزید یہ کہا کہ اے فرعون سن لے : 73۔ فرعون سے مخاطب ہو کر انہوں نے مزید کہا کہ بلاشبہ ہم کل تک کفر میں لت پت رہے اور تیری ہاں میں ہاں ملاتے رہے لیکن اب وہ وقت نہیں رہا ہم نے سچے دل سے رب ذوالجلال والاکرام کو مانا اور تسلیم کیا ہے اور ہمیں پختہ یقین ہے کہ وہ ہماری ساری خطائیں معاف فرمائے گا اور ہماری ساری زیادیتوں کو دھو دے گا اور ہمیں ایمان کی دولت سے مالا مال کرے گا اور ہم بارگاہ رب العزت میں دست بدعا ہیں کہ وہ ہماری خطائیں بخش دے خصوصا جادوگری کی خطائیں جن پر تو نے ہمیں مجبور کیا یقینا اللہ ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے ، ان لوگوں کی یہ باتیں جو آپ سن اور پڑھ رہے ہیں باور کراتی ہیں کہ یہ لوگ ایمان لانے سے پہلے ہی ان ساری باتوں سے اچھی طرح واقف تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے وعظ ونصیحت سے اچھے خاصے متاثر تھے لیکن ان کے دلوں پر دنیا کے مال و دولت اور رسم و رواج کا پردہ پڑا تھا اور اس کو ہٹتے ہی سب کچھ کہنے لگے تھے اگر غور کرو گے تو آج بھی یہی حال علمائے امت کا ہے کہ یہ لوگ سب کچھ جانتے ہیں اور ان کو دین کی باتیں اچھی طرح معلوم ہیں اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں بالکل جان بوجھ کر محض اس سہارے پر کئے جا رہے ہیں کہ سب لوگ ایسا کرتے اور سب لوگ ایسا کہتے ہیں ان پر اکثریت کا ہوا اس طرح غالب آچکا ہے کہ یہ حق کو حق کہنے کے لئے تیار نہیں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اس حق کو اکثریت حق تسلیم نہیں کرتی اور وہ اکثریت کے رسم و رواج کے خلاف کر نہیں کرسکتے اور بلاشبہ ان کی عقلوں پر وہی پردہ پڑا ہے جو کل تک ان مصر کے ساحروں پر پڑا تھا ۔ اللہ رب العزت سے ہم بھی دست بدعا ہیں کہ اے اللہ ! ان علمائے اسلام کے دلوں سے بھی یہ پردہ ہٹا دے تجھے تیری عزت کا واسطہ ان کو بھی سیدھی راہ دکھا اور ان کی آنکھوں کی پٹی بھی اتار دے تاکہ یہ لوگ تیرے جلال و جمال کو دیکھ سکیں اور آج کے فرعونوں کے سامنے یہ لوگ سینہ سپر ہوجائیں اور ان کو اسی طرح للکاریں جس کل موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں نے فرعون مصر کا للکارا تھا ۔
Ayah 20:74

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ جو شخص اپنے پروردگار کے حضور مجرم ہو کر حاضر ہوگا تو یقینا اس کے لیے دوزخ ہوگی نہ تو اس میں وہ مرے گا ، نہ زندہ رہے گا

مجرموں کے لئے اللہ تعالیٰ کے پاس جہنم تیار ہے وہ اس میں نہ مریں گے نہ جئیں گے : 74۔ زیر نظر آیت اور اس کے بعد آنے والی آیت کو مفسرین نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کلام میں بطور تضمین قرار دیا ہے لیکن یہ ضروری نہیں بلکہ اس سے زیادہ واضح اور صاف بات یہی نظر آتی ہے کہ یہ دونوں آیتوں بھی انہیں مسلموں کی طرف سے بیان ہوئی ہیں اور انہوں نے جو فرعون کے ساتھ مکالمہ شروع کیا تھا یہ اس کا حصہ ہیں اور وہ جب کہ ایمان لانے کے بعد بھی فرعون ان سے مخاطب ہوا ہے تو اس کو ساری بات پہنچا دینا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید زندگی میں پھر کبھی اس سے بات کرنے کا موقعہ ملے گا یا نہیں لہذا آج تو اس نے خود ہمیں مخاطب کیا ہے اس لئے اپنی ساری باتین اس سے کرلیں تاکہ دل کی گرمی تو کم ہو اور حق اس تک پہنچا کر اپنے رب کریم کے ہاں سرخرو ہوں لہذا اس طرح انہوں نے فرعون کے سامنے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ” کچھ شک نہیں کہ جو شخص اپنے پروردگار کے حضور مجرم ہو کر حاضر ہوگا تو یقینا اس کے لئے دوزخ ہوگی اور وہ نہ تو اس میں مرے گا اور نہ ہی زندہ رہے گا ۔ “ فرعون نے ان کو اپنے عذاب سے ڈرایا اور عذاب کی نوعیت وکیفیت بھی بیان کی کہ میں تم کو کیسا عذاب دوں گا ؟ انہوں نے اس کو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرایا اور اس کے عذاب کی نوعیت وکیفیت بھی بیان کردی اس طرح فرعون نے جو اپنی طاقت وقوت جتاتے ہوئے ان سے خطاب کیا انہوں نے اپنے پروردگار حقیقی کی طاقت وقوت اس کو جتا دی فرعون کے کلام سے نخوت وتکبر کی بو آرہی ہے لیکن ان نو مسلموں کے کلام سے عاجزی وفروتنی ٹپک رہی ہے اور ظاہر ہے کہ جو برتن میں ڈالا گیا ہو وہی اس سے نکلتا ہے ۔ رہی یہ بات کہ زیر نظر آیت میں جو یہ فرمایا گیا کہ (آیت) ” لا یموت فیھا ولا یحییٰ ) کہ وہ نہ تو اس میں مرے گا اور نہ ہی جئے گا ۔ “ حالانکہ دونوں باتوں میں سے ایک کا ہونا تو لازم وضروری ہے تو خیال رہے کہ یہ ایک محاورہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ موت تو وہاں ہے ہی نہیں کہ وہ مرے اور جئے گا اس لئے نہیں کہ بدمزگی اور عذاب کی زندگی کوئی زندگی نہیں بلکہ اس سے موت ہزار درجہ بہتر ہے اور عذاب سے اس کا نکلنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا سوئی کے ناکے سے اونٹ کا نکلنا مشکل ہے ، اب یہ اپنے مولاناؤں سے پوچھیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ قادر ہے کہ وہ اتنی بڑی سوئی بنائے گا تاکہ اس کے ناکے سے اونٹ گزر جائے یا اونٹ کو اتنا چھوٹا کرے گا کہ وہ ناکے سے گزر جائے اور اس طرح سوئی کے ناکے سے اونٹ بھی گزرے گا اور وہ جنت میں بھی چلے جائیں گے تو اس کی سند ان ہی کے پاس موجود ہے ہمارا شمار ان میں نہیں اور ہم اس حقیقت سے واقف بھی نہیں لہذا ان کے ذمہ کی بات انہیں پر رہنے دیتے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ ہم نے کسی دوسری جگہ دوزخ کو شفاخانہ قرار دیا ہے تو وہ بلاشبہ ہم اب بھی اقراری ہیں لیکن یہ ہم نے نہیں کہا کہ جو بھی شفاخانہ میں داخل کیا جائے اس کے لئے شفا لازم ہے ۔ نہیں ایسے بدبخت اور بدپرہیز بھی ہوتے ہیں کہ جن کے حصے میں کبھی شفا نہیں ہوتی بلکہ ان کا مرض مزید بڑھتا ہی جاتا ہے ۔
Ayah 20:75

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو کوئی اس کے حضور مومن ہو کر حاضر ہوگا اور اس کے کام بھی اچھے رہے ہوں گے تو یقینا ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لیے بڑے بڑے درجے ہوں گے

مومن بن کر جانے والوں کے لئے انعام واکرام بھی لازم ہے : 75۔ انہوں نے فرعون کو بڑے پیارے انداز سے تبلیغ کرنے کا حق ادا کردیا اور اس کو ترغیب دی کہ ایمان لا کر وہ اپنی آخرت کی زندگی کو بھی درست کرلے اور دنیا جہان کی عیشیں تو اس نے بہت دیکھی ہیں اب آخرت کی عیشیں بھی حاصل کرلے ۔ انہوں نے کہا کہ ” جو کوئی اس کے حضور مومن ہو کر حاضر ہوگا اور اس کے کام بھی اچھے رہے ہوں گے تو یقینا ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لئے بڑے بڑے درجے ہیں ۔ “ اور اس طرح انہوں نے فرعون کو یہ بھی باور کرا دیا کہ میدان مناظرہ میں کامیاب ہونے کے بعد جو انعامات تو نے ہم کو دینے کا وعدہ کیا تھا وہ انعامات تو اس دنیوی زندگی میں کام آنے والے تھے لیکن ایمان لا کر جو انعامات حاصل کرنے کے ہم مستحق ہوئے ہیں ان انعامات کا تعلق اخروی زندگی سے ہے اور یہ کہ جس طرح اخروی زندگی کی کوئی انتہا نہیں یقینا ان انعامات کی بھی کوئی انتہا نہیں لہذا یہ سودا جو ہم چکایا ہے ہمیں مہنگا نہیں رہا بلکہ ہمارے لئے بہت نفع کا سودا ہے اور ابھی وقت ہے اگر تو بھی اس سودے کو خریدنا چاہے تو زندگی کے کسی موڑ پر بھی خرید سکتا ہے لیکن یہ انعام انہی لوگوں کو ملتا ہے جن کے مقدر اچھے ہوں اور وہ رب ذوالجلال والاکرام کے ہاں اچھے قرار پائیں ۔
Ayah 20:76

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

ہمیشگی کے گلزار جن کے تلے نہریں رواں ہیں ، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے یہ ہے اس کا بدلہ جو پاک رہا

آخرت کے انعامات کی انہوں نے مزید تشریح اس طرح کی : 76۔ ایسے مومنوں اور فرمانبرداروں کے لئے جو انعامات اللہ رب العزت کے ہاں رکھے گئے ہیں وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ ان باغات میں رہیں گے وہ نہ نکلنا چاہیں گے اور نہ ہی ان کو نکالا جائے گا اور یہ انعامات واکرامات ان کے حصے میں اس لئے آئیں گے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی میں اس کی رضا جوئی کے لئے دنیا کی ساری تکلیفوں اور مصیبتوں کو گلے کا ہار بنایا اور ان کو جھیلنے کے لئے وہ صبر کا پہاڑ بن گئے اور دنیا کی کوئی طاقت ان کا راستہ نہ روک سکی اس طرح آخرت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو انعامات رکھے تھے انہوں نے بحمد اللہ ان کو حاصل کرلیا اور اس طرح اللہ نے اب ان کو وراثتا عنایت کردیئے اور ان کو ان کا مالک بنا دیا ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم “۔ خیال رہے کہ اس جگہ فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کی داستان کو ایک بار ختم کردیا گیا اور داستان کے کتنے حصے کو حذف کرنے کے بعد دوبارہ ضرورت کی بات بیان کرنے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر سے نکل جانے کی ہدایت سے قصہ کو بیان کرنا شروع کردیا اور یہ بات ہم کئی مقامات پر عرض کرچکے ہیں کہ اس طرح حذف قرآن کریم کے قصص میں عام ہیں کہ ایک داستان سے ضرورت کی باتیں بیان کی جاتی ہیں اور باقی کو چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن ہمارے مفسرین ان باتوں کو وضاحت نہیں کرتے اور عوام قصہ مربوط کرنے کے لئے طرح طرح غلطیوں میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں ۔
Ayah 20:77

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی بھیجی تھی کہ میرے بندوں کو رات کے وقت نکال لے جا پھر سمندر میں ان کے گزرنے کے لیے خشکی کی پایاب راہ نکال لے ، نہ تو تعاقب کرنے والوں سے اندیشہ ہوگا اور نہ کسی کا خطرہ

موسیٰ (علیہ السلام) کو رات کے وقت بنی اسرائیل کو لے کر نکلنے کا حکم : 77۔ میدان مناظرہ میں کامیاب کون قرار پایا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) ۔ ہار کس کے حصے میں آئی ؟ فرعون کے حصے میں ۔ فرعون نے تو کہا تھا کہ موسیٰ ہم مصریوں کو ان کے ملک سے نکالنا چاہتا ہے اگر اس کی بات حق ہوتی تو اب مصر سے نکلنے کا حق کس کو تھا ؟ فرعون کو ‘ لیکن یہاں سے نکلنے کا حکم کس کو ملا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) کو کیوں ، اس لئے کہ فرعون نے ہار جانے کے باوجود اپنی ہار کو تسلیم نہیں کیا اور اپنی طاقت اور زور کے بل پر بنی اسرائیل پر مزید ظلم ڈھانے لگا اس نے ان قوانین کو دوبارہ نافذ کردیا جن کے تحت بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کیا جاسکتا تھا قتل کی خواہ کوئی بھی صورت تھی اور بنی اسرائیل کی عورتوں پر قبطیوں کے گروہوں میں کام کاج کرنا اور ان کی خدمت کرنا لازم قرار پایا ۔ اگر بات وہ ہوتی جو ہمارے مفسریں استعارات کے طور پر نہیں بلکہ حقیقت کے طور پر کہتے ہیں تو چاہئے تھا کہ ان قبطیوں کو وہ سانپ نگل جاتا اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نہ چھوڑتا جو موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی سے بنایا گیا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا پھر لاٹھی کے سانپ بننے سے فائدہ ؟ بات بالکل سیدھی اور صاف ہے کہ کسی چیز کی اصلیت کبھی تبدیل نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے تبدیل ہونا مراد ہے بلکہ بحث ساری دلائل کی تھی وہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس طرح پیش کئے کہ کسی پر بھی پوشیدہ نہ رہے لیکن طاقتوروں نے اس دنیا میں دلائل کو کب تسلیم کیا ہے کہ فرعون کو مطعون کیا جائے ؟ ایک فرعون ہو تو آدمی کہے ہم نے سنا بھی اور دیکھا بھی کہ طاقت وقوت والوں نے دلائل کو کبھی نہیں مانا جب مانا طاقت ہی کو مانا اگر کوئی دلائل کو مانتا ہوتا تو دنیا میں ظلم نام کی کوئی شے موجود نہ ہوتی اور اگر اللہ کا قانون کسی کو لاٹھی کی سانپ بنا کر اس سانپ سے مخالفین کو ختم کرنا چاہتا تو انبیاء کی مخالفت کوئی شخص کر ہی نہ سکتا اور اگر ڈرا دھمکا کر کسی کو اسلام پر مجبور کرنے کی اجازت ہوتی تو ایک بار اقتدار مل جانے کے بعد بھی کبھی کسی کے ہاتھ سے اقتدار نہ نکلتا ، ہاں ! دلائل کو دنیا میں ہمیشہ ٹھکرایا گیا اور آج بھی ٹھکرایا جارہا ہے اور اپنے رسم و رواج کو کبھی کسی قوم نے نہ چھوڑا بلکہ ان کی بقا کے لئے اہل حق سے مقابلہ کیا ‘ ان کو ناکوں چنے چبوائے اور ان پر ظلم وستم ڈھائے حتی کہ ان کو قتل تک کرنے میں دریغ نہ کیا اور نہ ہی دلائل کو کبھی کوئی تسلیم کرنے کے لئے تیار ہوا ۔ آج اس پڑھے لکھے اور عقل وفکر کے دور میں بھی اسی جاہلیت کا دور دورہ ہے سیاست اس کا شکار ہے اور مذہب اس کی زد میں ہے ، علمائے گرامی قدر ہیں تو ان کی کثیر تعداد آج بھی اسی اکثریت کے رسم و رواج کے سامنے رام ہے بلکہ ان کا کام صرف ان لوگوں کی ترجمانی ہے تاکہ انکے رواج کی ان کو سند پیش کریں اور ان کو اس پر پختہ رکھیں کہ ہلنے نہ پائیں ۔ زیر نظر آیت میں بتایا گیا ہے کہ جب میدان مناظرہ کی مارنے بھی کوئی نتیجہ پیش نہ کیا اور فرعون نے ظلم وستم کی انتہا کردی تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ان بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر رات ہی رات میں مصر سے نکل جاؤ کہ اس وقت دریائے نیل میں یا بحرقلزم میں فلاں جگہ سے پانی پایاب ہے اس راستہ کی طرف نکلو اور لاٹھی کے ذریعہ ان کو راستہ کی نشاندہی کر دو اور قدرت الہی کی کرشمہ سازیاں دیکھو اور ایک بار پھر غور سے سن لو کہ نہ تو پیچھے کئے جانے والوں سے ڈرو کہ وہ تمہارا کچھ بگاڑ سکیں گے ، اگر تم کو اطلاع ملے کہ فرعون تمہارے تعاقب میں ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی تو وہ آپ کا تعاقب کر کے مزہ چکھ چکا ہے اور اب بھی چکھے گا ہماری طرف سے تم کو ہدایت ہے کہ حالات کچھ بھی ہوں تم مطمئن ہو کر اپنا کام کئے جاؤ یاد رکھو کہ ” لاتوں کے بھوت کبھی باتوں سے نہیں مانتے ۔ “
Ayah 20:78

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

پھر فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ اس کا پیچھا کیا پس پانی کا ریلا جیسا کچھ ان پر چھانے والا تھا چھا گیا

فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کا تعاقب کیا لیکن جو ہونا تھا وہ ہوگیا : 78۔ فرعون نے جب موسیٰ (علیہ السلام) کے نکل جانے کی خبر سنی تو وہ بپھر گیا اور اپنے اعوان وانصار اور لاؤ لشکر کو حکم دیا کہ ان کا پیچھا کریں اور ان سب کو تہ تیغ کردیں اور بذات خود اس لشکر کی ساتھ نکلا تاکہ موسیٰ اور اس نے ساتھ نکلنے والے بنی اسرائیل کو اس نافرمانی کی سزا دے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو الہی ہدایت کے مطابق جہاں سے نکلنے کا مقام بتایا تھا وہیں لے جا کر پار کیا لیکن ابھی پار ہونے ہی والے تھے کہ فرعون بھی مع اپنے لاؤ لشکر کے وہاں پہنچ گیا اس نے دیکھا کہ بنی اسرائیل پار نکل رہے ہیں تو ان سے پہلے پار ہوجانے کے لئے نہایت سرعت کے ساتھ ایک دوسرے راستہ سے نکلنے کے لئے دریا میں اتر گیا اس طرح جب سارا لشکر دریا میں داخل ہوچکا تو پانی کا ریلا ایسا آیا کہ سب کو تہس نہس کرکے اپنے ساتھ ہی بہتاچلا گیا اور اس طرح نہ ماننے والوں اور طاقت وقوت کے بل کام کرنے والوں کے لئے جو سنت اللہ طے ہے اسی سنت الہی کے تحت ان کا کام تمام ہوگیا کہ نہ طاقتور رہا اور نہ ہی اس کی طاقت وقوت باقی رہی اور اس طرح تدبیر الہی نے اس کو ٹھکانے لگا دیا (فغشیھم من الیم ما غشیھم)
Ayah 20:79

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم پر راہ گم کردی ، انہیں سیدھی راہ نہیں دکھائی

فرعون اور اس کے کارناموں پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے : 79۔ زیر نظر آیت میں فرعون اور اس کی ناپاک قیادت پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کتنا بدبخت تھا کہ نہ ہی اس نے اپنا کچھ چھوڑا اور نہ اپنے ماننے والوں کا ، اس کو ایک بار نہیں بار بار سمجھایا گیا لیکن اس کی سمجھ میں بات نہ آئی اور جو ناسمجھوں کا انجام ہوتا ہے اس کو وہ پہنچ گیا ، اس میں اس طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ ہر قائد ورہنما کے لئے اصل ذمہ داری اپنی قوم کی صحیح راہنمائی ہوتی ہے تاکہ ان کی اصلاح کرکے ان کو کام کے آدمی بنایا جائے لیکن جن قائدین کو صرف اپنی قیادت کے بحال رکھنے کی فکر ہوتی ہے وہ قوم کی اصلاح کبھی نہیں کرسکتے کیونکہ ان کو اپنی قیادت کے قائم رکھنے کی فکر اس سوچ سے باہر نکلنے ہی نہیں دیتی ۔ اور نہ ہی حق و باطل کی تمیز ان کے نزدیک کوئی چیز ہے ۔ اس طرح کا چھوٹ قائد و راہنما فرعون بھی تھا اور اسی طریقہ کے اس کے اعوان وانصار بھی جو اس کی ہاں میں ہاں ملا کر اپنا الو سیدھا کئے ہوئے تھے ، فرعون کی داستان اس جگہ ختم ہوگئی ، اب موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم بنی اسرائیل کی داستان شروع ہوگئی ۔ اس سورت میں میدان مناظرہ سے نکلنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کی ہجرت مصر تک کے حالات کو مطلق نہیں چھیڑا گیا اس لئے ہم نے بھی اس کے متعلق کچھ نہیں کہا ورنہ اس مدت میں بہت سے واقعات موسیٰ (علیہ السلام) کو پیش آئے ، ہم انشاء اللہ کسی مناسب مقام پر موسیٰ کی مکمل داستان کا خلاصہ پیش کریں گے ، جس میں ترتیب وار واقعات بیان کئے جائیں گے ۔
Ayah 20:80

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا) اے بنی اسرائیل ! میں نے تمہارے دشمن سے تمہیں نجات بخشی ، تم سے وعدہ کیا جو کوہ طور کی داہنی جانب ظہور میں آیا تھا اور تمہارے لیے من اور سلویٰ مہیا کر دیا

بنی اسرائیل کی بداعتدالیوں کے باعث ان کو احسان یاد دلائے جا رہے ہیں : 80۔ بنی اسرائیل کے دریا پار کرلینے اور فرعون کے غرق ہوجانے کے بعد کے بہت سے حالات کو اس جگہ پھر نظر انداز کردیا گیا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کے بیان کرنے کی اس جگہ ضرورت نہ تھی اور اب بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ اپنے احسانات جتلانے شروع کئے محض اس لئے کہ جب ان کو بداعتدالیاں کرتے دیکھا تو ان کو یاد دلایا کہ کل تک تمہاری حالت کیا تھی اور آج جب کہ تم دشمن سے بےخوف ہوچکے ہو تو پھر تم نے الٹی چالیں چلنا شروع کردی ہیں کیا ابھی تم کو یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ جو لوگ انعامات الہی کی ناقدری کرتے ہیں ان کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے ؟ تمہارا حافظہ اتنا ہی کمزور ہے کہ ابھی کل کی بات کو بھول چکے ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو کیسی سزا دیتا ہے ؟ اس کی تفصیل سورة البقرہ کی آیت 46 اور آیت 57 میں گزر چکی ہے ملاحظہ ہو تفسیر عروۃ الوثقی جلد اول۔ ” تم سے وعدہ کیا تھا جو کوہ طور کی داہنی جانب ظہور میں آیا تھا “ یہ وہی وعدہ ہے جو تورات دیتے وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ بنی اسرائیل سے لیا تھا کہ وہ تورات کے پابند رہیں گے ، زیر نظر آیت میں اس جگہ کا محل وقوع اور کیفیت بیان کی گئی ہے تاکہ ان کو یہ جگہ اور وقت یاد دلا کر شرمندہ کیا جائے کہ اس وقت تم نے جو وعدہ کیا تھا اس کو ایفاء کیوں نہیں کیا ؟ لیکن دراصل بنی اسرائیل وہ قوم ہے جنہوں نے یہ مصرع خوب یاد کیا ہوا ہے کہ ع ” وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا ہوگیا ؟ “ یہ تو بنی اسرائیل کا حال تھا لیکن آج ہمارا کیا حال ہے ؟ ذرا تقابل کرکے تو دیکھو ہماری مثل بھی اسی طرح کی ہے کہ ” لے کردیا تو بنج کا ہے کیا ؟ ایک نے ہم میں سے لے کردیا تھا تو سب نے اس سے بائیکاٹ کیا تھا ۔ “ بنی اسرائیل کے اس وعدے کی تفصیل جو انہوں نے تعلیم کے پابند رہنے کا کیا تھا ہم نے اس کی تفصیل سورة بقرہ کی آیت 63 ، 64 میں کردی ہے ملاحظہ ہو تفسیر عروۃ الوثقی جلد اول حاشیہ 136 ، 137۔ ” تمہارے لئے من وسلوی مہیا کردیا تھا “ یہ ” من “ اور ” سلوی “ کیا تھا ؟ مصر کی ہجرت کے بعد بنی اسرائیل کو ایسے لق ودق ریگستان میں رہنا پڑا جہاں نہ پانی تھا اور نہ کوئی درخت اور موسم بھی گرمی کا تھا اور کھانے پینے کا سامان بھی موجود نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی کرشمہ سازیوں سے ان کی اس طرح مدد کی کہ بادلوں کا سایہ مہیا کیا جو دن کو موجود نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی کرشمہ سازیوں سے ان کی اس طرح مدد کی کہ بادلوں کا سایہ مہیا کیا جو دن کو چھا جاتا اور رات کو مطلع صاف ہوجاتا ۔ ” من “ رات کے وقت اوس کی طرح ایک چیز جو میدان میں پڑی ہوئی چیزوں پر جم جاتی جو کھانے میں میٹھی اور مزدار ہوتی اور بٹیر کے سے پرندہ عام بھجوائے بنی اسرائیل ان کو شکار کرتے اور خوب کھاتے اور بعض نے کھمبی کیسی کوئی چیز بھی ذکر کی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” من “ بھاری نعمت کے دیئے جانے پر بولا جاتا ہے اور خصوصا وہ رزق جو بغیر کسی مشقت کے میسر آجائے ۔ ” ملاؤں نے اس کو جمعرات کی روٹیاں تصور کیا ہے “ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے اس انعام کا ذکر بھی بہت جگہوں پر کیا ہے اور اسی طرح سورة البقرہ کے شروع ہوتے ہی آیت 66 ، 67 میں اس کا ذکر کیا ہے اور ہم نے تفسیر عروۃ الوثقی جلد اول کے حاشیہ 115 ، 116 میں اس کی تفصیل بیان کردی ہے اس لئے محولہ حاشیوں سے اس کا مطالعہ کرو تو انشاء اللہ حقیقت تم پر واضح ہوجائے گی ۔
Ayah 20:81

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

(بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ) یہ پاک غذا مہیا کردی گئی ہے ، شوق سے کھاؤ مگر اس بارے میں سرکشی نہ کرو ، کرو گے تو میرا غضب نازل ہوجائے گا اور جس پر میرا غضب نازل ہوا تو بس وہ ہلاک ہوا

ہم نے کہا کہ شوق سے کھاؤ اور حد سے تجاوز نہ کرو ورنہ عذاب تمہیں بھی آلے گا : 81۔ فرعون کو تمہاری آنکھوں کے سامنے عذاب میں مبتلا کیا گیا ، کیوں ؟ اس لئے کہ وہ نافرمانیوں میں حد سے بڑھ گیا اور پھر بڑھتا ہی گیا ‘ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کبھی کوشش ہی نہ کی اور اب اگر تم وہی کام کرو گے جو وہ کرتا گیا تو تمہارا حال بھی وہی ہوگا جو اس کا ہوا ‘ ہمارے ہاں دیر اور انتظار ضرور ہے لیکن اندھیر ممکن نہیں۔ ” ہم نے تمہارے لئے پاک غذا مہیا کردی ہے تاکہ تم شوق سے کھاؤ لیکن سرکشی نہ کرو ۔ “ لیکن اب تم نے بھی الٹی چال چلنا شروع کردی اور ہماری سنت تم کو اتنی جلدی بھول گئی کہ ہم چھوڑتے ہیں تو محض اس لئے کہ جب چاہتے ہیں پکڑ لیتے ہیں ہمیں ایسا خدشہ بالکل نہیں کہ اگر آج ہاتھ سے شکار نکل گیا تو کل شاید پکڑا جائے یا نہ پکڑا جائے نہیں ‘ ہم جب پکڑنا چاہیں تو ذرا بھی دیر نہیں لگتی اور پھر وہ جہاں ہوں اور جس حال میں ہوں ہم پکڑ لیتے ہیں اور یاد رکھو کہ ہم نے آج تک کسی قوم وفرد پر ظلم نہیں کیا بلکہ لوگ ہمیشہ اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کرتے ہیں ۔ یاد رکھو ” اگر تم بھی سرکشی کرو گے تو میرا غضب نازل ہوجائے گا تو جس پر میرا غضب نازل ہو تو بس وہ ہوا وہ ہوگیا۔ “ تم کو معلوم ہے کہ یہ ہوا ہونا کیا ہے ؟ یہ عزت کے تخت سے ذلت کے فرش پر گرنا ہے ، غور کرو ابھی کل کی بات ہے کہ فرعون کے رعب وداب کے نیچے تم اس طرح دب چکے تھے کہ بولنا تو درکنار اونچی سانس بھی نہ لے سکتے تھے اور تمہاری ” آہ “ پر بھی تم پر تابڑ توڑ جوتے پڑتے تھے لیکن اس ظلم وستم کی عزت کا مالک آج کہاں ہے ” لیکن کیا اس کے جانے کے بعد اب الٹی چال چلنا تمہارے حصہ میں آیا ہے ؟ اگر حالت ایسی ہوئی ہے تو انجام بھی ویسا ہی ہوگا ‘ اس سبق کو نہ بھولنا بلکہ اچھی طرح یاد رکھنا ۔
Ayah 20:82

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور جو کوئی توبہ کرے ، ایمان لائے نیک عمل ہو ، تو میں یقینا اس کے لیے بڑا ہی اجر بخشنے والا ہوں

غلطی ہوجائے تو اس کا ازالہ توبہ و استغفار ہے اکڑنا اور اترانا نہیں : 82۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو مشفقانہ درس دیا جا رہا ہے کہ نسیان اور انسان لازم وملزوم ہیں ۔ انسانوں میں سب سے افضل واعلی انبیاء ورسل ہیں اور نسیان سے وہ بھی پاک نہیں ہاں ! گناہوں سے وہ بلاشبہ معصوم ہیں لیکن نسیان گناہ کب ہے ؟ فرمایا جا رہا ہے کہ بہتر اور کامیاب طریقہ یہ ہے کہ جب گناہ اور غلطی سرزد ہو تو فورا اس کے بعد توبہ و استغفار کرکے اس کو مٹوا دیا جائے ، اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ذات ہے کہ جب کوئی گناہگار اور خطا کار سچے دل کے ساتھ اس سے بخشش طلب کرے تو صرف یہی نہیں کہ وہ معاف فرما دیتا ہے نہیں وہ تو معافی دینے کے بعد ساتھ انعام کے طور پر اجر بھی عطا کرتا ہے اس لئے غلطی کا ہونا اتنا گناہ نہیں ہے جتنا غلطی کرنے کے بعد اس کو تسلیم نہ کرنا بلکہ اس کی اچھائی کی دلیلیں تلاش شروع کردینا ، یہی حال ان غلط نظریات کا ہے کہ ایک غلط نظریہ قائم ہوگیا لیکن اس کو پوری قوم کی قوم مانتی اور تسلیم کرتی ہے تو کچھ لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس غلط نظریہ کو صحیح کرنے کی کوشش میں دلائل گھڑنا شروع کردیتے ہیں اور اس طرح ایک غلطی پر کئی اغلاط انکو کرنا پڑتی ہیں لیکن قومی اپچ میں وہ اس پہلے غلط نظریہ کو کبھی غلط ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے ، کیوں ؟ اس لئے کہ ان کے پاس ہزار دلیلوں کی ایک دلیل ہی موجود ہوتی ہے کہ اس کو ہماری پوری قوم مانتی اور تسلیم کرتی ہے ۔ بنی اسرائیل مصریوں میں سینکڑوں برس رہے تھے اور ان کی کتنی نسلیں مصر میں گزر چکی تھیں انہوں نے کچھ رسوم مصریوں سے حاصل کی تھیں اور اب وہ ان کے مذہب کا حصہ بن چکی تھیں مثل گئو پرستی ‘ قبرپرستی ‘ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دریا عبور کرنے کے بعد بیابان شور سے ہوتے ہوئے سینا کی راہ لی تو اس وقت سینا کے لوگ کسی جگہ قبرپرستی میں مشغول تھے انہوں نے دیکھا تو ان کی رال بھی ٹپک آئی اور انہوں نے فورا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ ہمارے لئے بھی کوئی اسی طرح کا الہ بنا دو دیکھو کتنا بہترین منظر ان زائرین نے قائم کر رکھا ہے اور کس طرح یہ لوگ سجدہ وسلام میں مصروف ہیں ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کی زبانی یہ مشرکانہ مطالبہ سنا تو بہت زیادہ ناراض ہوئے ، ان کو ڈانٹا ‘ عار دلائی اور ملامت کی کہ بدبختو ! خدائے واحد کی پرستش چھوڑ کر قبروں اور بتوں کی پوجا پر مائل اور رب ذوالجلال والاکرام کی تمام نعمتوں کو فراموش کر بیٹھے ہو جن کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کرچکے ہو یہ تو بنی اسرائیل کی اس وقت کی قومی پستی کا حال تھا لیکن آج ہم مسلمانوں کی قومی پستی کا جو حال ہے اس پر بھی غور کرلیں لیکن سب کچھ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کسی کے حاجت روا اور مشکل کشا علی ہجویری (رح) ہیں تو کسی کے امام بری (رح) یعنی دمڑی والی سرکار کوئی فرید شکر گنج (رح) کے دربار کی طرف رواں دواں ہے تو کوئی لطیف بھٹائی کے مزار کی طرف ۔ بیسیوں بڑی بڑی درگائیں ہیں جہاں ہماری قوم کے سارے و ڈیرے سجدہ وسلام کے لئے حاضر ہوتے ہیں لیکن عام طور پر چھوٹے معبود ہر شہر ‘ قصبہ اور گاؤں اور دہ میں موجود ہیں اور اس طرح ہمارے سارے ملک کا مذہبی اور روحانی کاروبار چل رہا ہے لیکن اگر ذرا گہرائی میں اتر کر دیکھیں گے تو آج یہ ساری جگہیں بدکاری اور بےحیائی کے اڈے نظر آئیں گے اور بلاشبہ ان مقامات پر نہ دین محفوظ ہے اور نہ دنیا اور آج ہمارے حالت بھی یہی ہے کہ نہ ہم دین کے رہے ہیں نہ دنیا کے ۔
Ayah 20:83

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور اے موسیٰ ! (علیہ السلام) کس بات نے تجھے جلدی پر ابھارا اور تو قوم کو پیچھے چھوڑ آیا ؟

موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا جا رہا ہے کہ آپ کو اتنی جلدی کیا تھی ؟ 83۔ فرعون کی ہلاکت کے بعد اور بنی اسرائیل کے بیابان میں آباد ہونے کے ایک مدت کے حالات اس جگہ پر چھوڑ دیئے گئے اس لئے کہ بنی اسرائیل کی تاریخ نہیں بیان کی جا رہی بلکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی احسانات کا ذکر اور ساتھ ساتھ ان کی احسان فراموشی کا بیان ہے ۔ اس آیت میں اشارہ اس وقت کی طرف کیا جارہا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) قوم کے بہت سے سرداروں کو لے کر کوہ طور کی طرف تشریف لے گئے تاکہ ان سب لوگوں کو جو بنی اسرائیل کے سردار تھے تجلیات الہی کا نظارہ کرائیں اور یہ ان لوگوں کے مطالبہ پر پروگرام بنایا گیا تھا ۔ موسیٰ علہر السلام ان قومی سرداروں کے اس گروہ کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گئے تاکہ اس مقام پر جہاں آپ نے تجلی الہی کا نظارہ کیا تھا وہاں پہنچ کر درخواست گزار ہوں جب اس مقام پر پہنچے اور بارگاہ الہی میں عرض کیا کہ اے اللہ ! تو بنی اسرائیل کے حالات کا دانا بینا ہے ان کی ضد پر ستر آدمی انتخاب کر لایا ہوں کیا اچھا ہو کہ وہ بھی اس حجاب نور سے میری اور تیری ہم کلامی کو سن لیں اور قوم کے پاس جا کر تصدیق کرنے کے قابل ہوجائیں ؟ ارشاد الہی ہوا کہ یہ بات اپنی جگہ پر رہی آپ نے پھر اپنی قوم کے ان لوگوں سے پہلے آنے میں جلدی کے سو کی ؟
Ayah 20:84

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

عرض کیا ، وہ مجھ سے دور نہیں ، میرے نقش قدم پر ہیں اور اے پروردگار ! میں نے تیرے حضور آنے میں جلدی کی کہ تو خوش ہو

الہی ارشاد کا جواب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے یہ دیا گیا : 84۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے بارالہ ! وہ لوگ بس میرے پیچھے پیچھے آرہے ہیں اور میں نے تیری رضا طلبی کے لئے جلدی کی ہے ۔ قوم سے مراد اس جگہ وہی ستر آدمی ہیں لیکن ہمارے مفسرین کی اکثریت نے اس سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تورات کی خاطر جو قیام طور پر کیا تھا وہی اس سے مراد لیا ہے لیکن ہمارے خیال میں ان آیات میں تورات کے لئے چالیس راتوں کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو طور پر گئے تھے وہ اس سے پہلے کا ہے لیکن اس جگہ واقعات الترتیب بیان نہیں ہوئے اس لئے کہ جب کوئی بات بطور وعظ ونصیحت کی جائے اس وقت ترتیب کا لحاظ عام زبان میں بھی نہیں کیا جاتا ۔ ستر منتخب شدہ لوگوں کا واقعہ تورات (خروج 42 : 9 ، 13 اور 14) میں بیان کیا گیا ہے اور ہم نے اس کی تفصیل عروۃ الوثقی جلد اول کی آیت 55 کی تفسیر میں کردی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں ۔ مختصر یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ خیال کیا کہ وعدہ گاہ پر حاضری میں پیش قدمی کرنا اور زیادہ خوشنودی رب ذوا الجلال والاکرام کا مستحق ہونا ہے اور اہل اللہ کو رضائے الہی کی دولت سمیٹنے اور جمع کرنے میں بلاشبہ ایک خاص حرص ہوتی ہے اور یقینا یہ اسی حرص کا نتیجہ تھا اور رب کریم کا یہ استفسار بھی محض اس لئے تھا کہ دوسرے بھی اس جواب سے محفوظ ہوں اور موسیٰ (علیہ السلام) کو قوم کی کارستانیوں کی خبر بھی ہوجائے اور یہ بھی کہ بعد میں آنے والے اس طرح کی حرص رکھ کر نیکیوں کی طرف پیش قدمی کریں تاکہ رضائے الہی حاصل کرسکیں ۔
Ayah 20:85

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا ، مگر ہم نے تیرے پیچھے تیری قوم کی آزمائش کی اور سامری نے اسے گمراہ کر دیا

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پہلی بار طور پر آنے کے بعد سامری کی شرارت کا بیان : 85۔ آیت 83 ، 84 کا مضمون ضمنا اس جگہ بیان ہوا ہے اور اس کے بعد اس واقعہ کا ذکر کیا جارہا ہے جو ترتیب کے لحاظ سے تو گزشتہ آدمیوں کے واقعہ سے پہلے کا ہے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بطور اطلاع بتایا گیا تھا کہ آپ کے آنے کے بعد ہم نے آپ کی قوم کی آزمائش کی اور اس کی اکثریت فیل ہوگئی اور آپ کے بعد وہ شرک کی گمراہی میں مبتلا ہوگئے اور سامری نے ان کو گمراہ کردیا ۔ اس سے پہلے کہ ہم اس ” سامری “ کی کارستانی کے متعلق کچھ عرض کریں پہلے یہ جان لینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ذکر اس جگہ کیوں ضروری سمجھا گیا ، چناچہ اس کے ذکر کی وجہ خاص یہ ہے کہ تورات میں اس واقعہ اضلال کی ساری ذمہ داری سیدنا ہارون (علیہ السلام) پر ڈال دی اور اس نبی محترم کو نعوذ باللہ اتنے بڑے جرم شرک اور صنم پرستی کا مجرم بنا دیا چناچہ تورات کے الفاظ اس طرح ہیں ” اور جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ پہاڑ سے اترنے میں دیر کرتا ہے تو وہ ہارون کے پاس جمع ہوئے اور اسے کہا کہ اٹھ اور ہمارے لئے معبود بنا کہ ہمارے آگے چلیں کیونکہ یہ مرد موسیٰ جو ہمیں مصر کے ملک سے نکال لایا ہم نہیں جانتے کہ اسے کیا ہوا ؟ ہارون نے ان سے کہا کہ زیور سونے کے جو تمہاری جوروؤں اور تمہاری بیٹیوں کے اور تمہارے بیٹوں کے کانوں میں تھے توڑ توڑ کر ہارون (علیہ السلام) کے پاس لائے اور اس نے ان کے ہاتھوں سے لے لیا اور ایک بچھڑا ڈھال کر اس کی صورت کو چھینی سے ٹھیک کیا تب وہ کہنے لگے اے اسرائیل یہی تیرا دیوتا ہے جو تجھ کو ملک مصر سے نکال کر لایا ، یہ دیکھ کر ہارون نے اس کے آگے ایک قربان گاہ بنائی اور اس نے اعلان کردیا کہ کل خداوند کے لئے عید ہوگی اور دوسرے دن صبح سویرے اٹھ کر انہوں نے قربانیاں چڑھائیں اور سلامتی کی قربانیاں گزرانیں ، پھر ان لوگوں نے بیٹھ کر کھایا اور پیا اور اٹھ کر کھیل کود میں لگ گئے ۔ “ (خروج 32 : 1 تا 6) قرآن کریم نے بغیر اس کا رد کئے اور یہود کو مطعون کئے صرف اتنی بات کہی کہ یہ کارستانی سامری کی تھی ، اس میں کتنا بڑا سبق ہے ہماری زندگی کے لئے اگر کوئی سبق حاصل کرنے والا ہو کہ کوئی جو کہتا ہے کہتا رہے تو تم فقط اپنی ضرورت کی بات کہہ کر خاموش رہو کہ جھگڑا مقصود نہیں فقط بات پہنچانا مقصود ہے ۔
Ayah 20:86

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

پس موسیٰ (علیہ السلام) خشم ناک اور افسوس کرتا ہوا قوم کی طرف لوٹا اس نے کہا ، اے میری قوم کے لوگو ! کیا تم سے تمہارے پروردگار نے ایک بڑی بھلائی کا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ پھر کیا ایسا ہوا کہ تم پر بڑی مدت گزر گئی یا یہ بات ہے کہ تم نے چاہا تمہارے پروردگار کا غضب تم پر نازل ہو اور اس لیے تم نے مجھ سے ٹھہرائی ہوئی بات توڑ ڈالی ؟

موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور سے واپس آئے تو اس افسوسناک خبر سے غضبناک تھے : 86۔ اللہ تعالیٰ کا یہ سوال کہ اے موسیٰ آپ اپنی قوم کو چھوڑ کر کیوں آئے ؟ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کے آنے کی غرض تو بلاشبہ ان کی ہدایت کے لئے ایک قانون لے جانا ہے جس سے ان کی دنیا بھی سنورے اور آخر بھی بنے لیکن یہ تو تیری حرص ہے ان کی گمراہی بڑی عجیب ہے کہ انہوں نے تیرا انتظار کئے بغیر ایک گوسالہ کو اپنا معبود بنا لیا اور اس طرح سامری نے ایک چال چل کر اس قوم کو گمراہ کردیا موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بات سنی تو غصہ وندامت کے ساھت بھر گئے اور اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو واپسی کا حکم دیا ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس آئے اور قوم سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ یہ تم نے کیا کیا ؟ مجھ سے ایسی کونسی تاخیر ہوگئی تھی جو تم نے یہ آفت بپا کی ؟ یہ فرماتے جاتے تھے اور غیض وغضب میں کانپ رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ ” اے میری قوم والو ! کیا تم سے تمہارے پروردگار نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ ‘ جو یقینا پورا ہونے والا تھا یعنی وہ وعدہ جو نزول شریعت کے لئے کیا تھا اور جس کے لئے میں کوہ طور پر گیا ” کیا تم پر کوئی زیادہ مدت گزر گئ تھی یا تم نے یہ چاہا تھا کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو ” حالانکہ وہ وعدہ تو دین توحید ہی پر رہنے کا تھا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ناگواری اور حیرانی کے لہجہ میں اپنی قوم سے خطاب کر رہے تھے کہ آخر تم نے یہ کیوں اور کیسے کی ؟ تمہیں کیوں کر یہ حرکت سوجھی ؟ کیا اتنی مدت مجھے گئے ہوئے ہوئی تھی کہ تم نے یہ تصور کرلیا کہ موسیٰ کہیں مرکھپ گیا اور تم میرے آنے سے مایوس ہوگئے تھے ؟ آخر تم کو یہ شیطانی کیسے سوجھی ؟ ” کہ تم نے جو وعدہ مجھ سے کیا تھا اس کی خلاف ورزی کردی ۔ “ کیا تم عتاب الہی کو دعوت دے کر اپنے ہاں بلا رہے ہو حالانکہ عذاب الہی سے تو پناہ طلب کرنی چاہئے اور آخر تم کو ہوا کیا ؟
Ayah 20:87

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا ہم نے خود اپنی خواہش سے عہد شکنی نہیں کی بلکہ قوم کی زیب وزینت کی چیزوں کا ہم پر بوجھ پڑا تھا وہ ہم نے پھینک دیا چناچہ اس طرح سامری نے اسے (آگ میں) ڈالا

قوم کے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے اپنی معذرت پیش کردی : 87۔ بنی اسرائیل نے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا اور ان کی حالت کو ملاحظہ کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس طرح معذرت کرنے لگے کہ اے موسیٰ ! ہمارا کوئی قصور نہیں مصریوں کے زیورات کا جو بوجھ ہم ساتھ پھر رہے تھے وہ سامری نے ہم سے مانگ کر یہ سوانگ رچایا اور صحیح بات یہ ہے کہ ہم کو گمراہ کردیا ۔ ” شرک “ منصب نبوت کے لئے ایک ناقابل برداشت چیز ہے اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اس معذرت سے غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اور انہوں نے ہارون (علیہ السلام) سے اس معاملہ میں سخت سوال و جواب اور ہارون (علیہ السلام) کا مکمل جواب پیچھے سورة الاعراف کی آیت 150 میں گزر چکا اور سورة الاعراف عروۃ الوثقی جلد سوم میں ہے ۔ اور اس جگہ بھی ارشاد فرمایا کہ ” انہوں نے کہا ہم نے خود اپنی خواہش سے عہد شکنی نہیں کی بلکہ قوم کی زیب وزینت کی چیزوں کا ہم پر بوجھ پڑا تھا اور ہم نے پھینک دیا ‘ چناچہ اس طرح سامری نے اس کو ڈالا ، “ یعنی اس بوجھ سے آگے جو کیا سب سامری ہی نے کیا ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ اس نے کیا کیا ہاں ! ہم تو یہ جانتے ہیں کہ جو سوانگ اس نے بنایا وہ یہ تھا جس کا ذکر آگے آرہا ہے ۔
Ayah 20:88

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

اور ان کے لیے ایک بچھڑا نکال لایا ، محض ایک بےجان دھڑ جس سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی ، یہ دیکھ کر وہ بولے یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی مگر وہ بھول میں پڑ گیا

سامری نے ایک بچھڑے کی شکل کی ایک چیز بنا کر اس کو معبود قرار دیا : 88۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر جانے کے بعد سامری نے بڑی تیزی اور پھرتی سے ان زیورات کو جو بنی اسرائیل کی قوم کے پاس تھے اکٹھا کرلیا اور سب کو ٹھکانے لگا کر چالاکی سے ایک شعبدہ بازی کی وہ یہ کہ اس نے ایک ترتیب سے ایک گائے کے بچہ کے برابر بت گھڑا اور اس میں ایسی کل تیار کر کے لگائی کہ وہ جسم کے لحاظ سے ایک بچھڑا نظر آتا تھا اور اس کے منہ سے ایک آواز بھی نکلتی تھی لیکن اس آواز میں کوئی تلفظ نہ تھا فقط ایک بھا۔۔۔۔۔ ں۔ بھا۔۔۔۔ ں کی آواز تھی ، اور پھر اس نے اور اس کے دوسرے چیلے چانٹوں نے اس کو خوب مشہور کال کہ یہی بنی اسرائیل کا اصل اور حقیقی معبود والہ ہے اور معلوم نہیں کہ موسیٰ بھول کر کس طرف کو چلا گیا ہے گویا اس شرارتی نے شرارت کی اور اس کے شریک کار چیلوں نے اس بات کو خوب مشہور کیا اور ساری بات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذمہ تھوپ دی کہ معبود تو ادھر ہمارے پاس آگیا ہے اور موسیٰ معلوم نہیں کہ کہاں ٹکریں مارتا پھر تا ہے وہ جس کو تلاش کرنے گیا ہے وہ تو خود بنی اسرائیل کی قوم میں حاضر ہوگیا ہے ۔