20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 20:47

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

تم اس (یعنی فرعون) کے پاس جاؤ اور کہو ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے آئے ہیں پس بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ رخصت کر دے اور ان پر سختی نہ کر ، ہم تیرے پروردگار کی نشانی (بصورت لاٹھی) لے کر تیرے پاس آئے ہیں ، اس پر سلامتی ہو جو سیدھی راہ اختیار کرے

تم دونوں جاؤ اور اس کو کہو کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے : 47۔ ” تم دونوں اس کے پاس جاؤ اور کہو ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے آئے ہیں ۔ پس بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ رخصت کر دے اور ان پر سختی نہ کر ۔ “ اس میں سے پہلا فقرہ ہی فرعون کے لئے ایک ایٹم بم سے کم نہ تھا ” کہ ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے آئے ہیں ۔ “ وہ تو خود ” الہ “ اور ” رب “ بنا ہوا تھا اس نے ” تیرے رب “ کا لفظ سنا تو چونک گیا کہ یہ کیا انہوں نے کہہ دیا ‘ فرعون نے ان کی بات سن کر بجائے اس کے کہ ان سے مخاطب ہو کر کوئی جواب دیتا یا کوئی بات کرتا وہ اپنے اعوان وانصار سے مخاطب ہو کر بولا ” اے اہل دربار ! میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا ‘ اے ہامان ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لئے ایک اونچی عمارت بنوا شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں ‘ میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔ “ (القصص 28 : 38) رہی بنی اسرائیل کے لے جانے کی بات تو اس کو اس نے گول کردیا اور اس کا ذکر تک نہ کیا کہ میں ان کو بھیجتا ہوں یا نہیں یا یہ کہ تم ان کو کہاں لے جاؤ گے اور کدھر لے جاؤ گے اور کیوں لے جاؤ گے ؟ اس نے اس بات کو سن کر ایسا گول کردیا گویا اس نے سنا ہی نہیں اور یہ بڑے لوگوں کی اس وقت بھی عادت تھی اور آج بھی ہے کہ وہ مطلب کی سنتے ہیں اور جو چاہتے ہیں اس کا مطلب نکالتے ہیں اور جو مطلب کی نہیں ہوتی اس کو وہ کبھی نہیں سنتے یعنی سن کر ان سنی کردیتے ہیں یا ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں ۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ مطالبہ کیسا مطالبہ تھا ؟ اس بات کو آج تم نہیں سمجھتے تو وہ ضرور سمجھتا تھا کہ غریب قوم اس وقت تک بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتی جب تک اس کے سر سے ان لوگوں کا سایہ نہ اتارا جائے جنہوں نے ان کو دبائے رکھا ہوتا ہے کیونکہ وہ اس قدر بےحسن ہوچکے ہوتے ہیں کہ کسی دوسرے کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ اس کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ” ہم تیرے پروردگار کی نشانی تیرے پاس لے کر آئے ہیں ‘ اس پر سلامتی ہو جو سیدھی راہ اختیار کرے ۔ “ غور کیجئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے پھر وہی جملہ استعمال فرمایا کہ ” ہم تیرے پروردگار کی نشانی تیرے پاس لے کر آئے ہیں ۔ “ ہم نے اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے پھر وہی جملہ استعمال فرمایا کہ ” ہم تیرے پروردگار کی نشانی تیرے پاس لے کر آئے ہیں ۔ “ ہم نے پہلے عرض کیا ہے کہ یہ ” تیرے پروردگار “ کا جملہ ہی اس کے لئے پریشانی کا باعث تھا اور اس دکھتی رگ پر موسیٰ (علیہ السلام) نے دوبارہ ہاتھ رکھ کر دبا دیا ، اس کا انداز کتنا نرم اور بات کتنی ” لین “ ہے لیکن فرعون کے لئے اس وقت زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے کہ جو خود معبود ’ الہ اور پروردگار بنا ہوا ہے اس کو ” تیرا پروردگار “ کہہ کر مخاطب کیا جارہا ہے پھر فرمایا کہ ہم ” تیرے پروردگار کی ایک نشانی بھی تیرے پاس لائے ہیں “ ظاہر ہے کہ اس سے مراد رسالت یا پیغام رسالت ہی لی جاسکتی ہے کیونکہ ذکر خصوصا ایک نشانی کا ہے نہ کہ دو کا کہ اس معجزہ ” یدبیضا “ اور ” لاٹھی “ کا سانپ ہونا مراد لیاجائے ، اور پھر جو نشانی کا مقصد بتایا گیا ہے وہ ہدایت کی بات سب سے پہلے اس کے ساتھ کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ” بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے ۔ “ گویا اس پر بات واضح کی جارہی ہے کہ ہمارا پہلا اور آخری پیغام رسالت جو تیری طرف لائے ہیں وہ یہی ہے اگر تو نے یہ بات تسلیم نہ کی تو گویا بنی اسرائیل کے ساتھ تیری طرف سے کھلی جنگ کا پروگرام ہوگیا کیونکہ اس کے سوا بنی اسرائیل کے پاس کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ وہ تیرے رعب وداب سے نکلیں اور اپنے نفع ونقصان کو سوچیں اور دوسری یہ بات کہ جب آپ لوگ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ باہر سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں اور ان کو حکومتی کاموں میں دخل انداز ہونے کا کوئی حق نہیں ہے تو اس کا پھر آخری حل بھی اور کیا ہے ؟ یہی کہ یہ لوگ یہاں سے نکل کر کسی دوسرے علاقہ کی طرف چلے جائیں ، لیکن فرعون بھی بہت خرانٹ تھا اور وہ جانتا تھا کہ اگر بنی اسرائیل یہاں سے چلے گئے تو میرا دوہرا نقصان ہوگا ایک تو یہ اجتماعی طور پر منظم ہو کر ہم کو پریشان کریں گے اور ان میں صلاحتیں رکھنے والے ایسے لیڈر بھی موجود ہیں کہ اگر وہ ان کو صحیح معنوں میں لیڈ کریں گے تو یہ ہماری تباہی کا باعث ہوں گے اور پھر ہماری ساری کمزوریوں سے بھی یہ واقف ہیں اس لئے ان کا داؤ جلد چل جائے گے ۔ دوسرا ہمارے جو کام یہ کر رہے ہیں وہ ہماری قوم سے تعلق رکھنے والے تو کبھی بھی نہیں کریں گے اور نہ ہی اس طرح سخت ڈیوٹیاں قبول کریں گے جس کے نتیجے میں ہم تو بالکل ختم ہو کر رہ جائیں گے اور اندرون ملک بغاوت کا خطرہ اس کے علاوہ ہے ، یہ وہ وجوہ تھے جن کی بنا پر وہ یہ بات سننے کے لئے تیار نہیں تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے مسکت سوال کا اس کے پاس کوئی معقول جواب بھی موجود نہیں تھا ۔
Ayah 20:48

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

جو کوئی جھٹلائے اور سرتابی کرے تو ہم پر وحی اتر چکی ہے کہ اس کے لیے عذاب کا پیام ہے

موسیٰ (علیہ السلام) نے پیغام رسالت کی مزید وضاحت فرما دی کہ جھٹلانے والا عذاب کا مستحق ہوگا : 48۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے پیغام ہدایت کی مزید وضاحت اس طرح فرمائی کہ ” ہم پر یہ وحی ہوئی ہے کہ جو شخص جھٹلائے گا اور منہ پھیرے گا اس کو عذاب دیا جائے گا ۔ “ حکومت فرعون کے پاس ‘ دولت فرعون کے پاس ‘ اعوان وانصار اور ہاں میں ہاں ملانے والے فرعون کے پاس لیکن یہ سب کچھ رکھنے والے کو کس خاموشی اور نرمی کے ساتھ وہ لوگ عذاب کی خبر دے رہے ہیں جن کے پاس نہ حکومت ہے ‘ نہ دولت ‘ نہ ہی اعوان وانصار اور نہ ہی ہاں میں ہاں ملانے والے ‘ دو آدمی ہیں جن کی بات تک سننے کے لئے کوئی تیار نہیں وہ فرعون وقت کے سامنے عذاب کی دھمکی دیں تو اس پر کیا گزری ہوگی لیکن تعجب پر تعجب تو اس کے لئے یہ تھا کہ وہ جس عذاب کی خوشخبری سنا رہے تھے وہ ان کی طرف سے نہیں تھا ۔ بلکہ اللہ رب العزت کی طرف سے تھا حالانکہ جس کو یہ دھمکی سنائی جا رہی ہے وہ خود رب بنا بیٹھا ہے وہ حیران و ششدر ہے کہ رب تو میں ہوں یہ موسیٰ کون سے رب کی دھمکیاں مجھے سنا رہا ہے اور حکمت دیکھئے کہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اے فرعون تجھے عذاب دیا جائے گا اور تیرا زور دیکھا جائے گا نہیں اس کے کانوں تک بات بھی ساری پہنچا دی لیکن اس کو مخاطب کرکے بھی کچھ نہیں کہا ۔ یہ وحی الہی کا کمال ہے اور اس نبی ورسول کی ذہانت ہے جس نے فرعون کے ساتھ ساری سخت سے سخت باتیں کردیں جن سے زیادہ سخت باتیں کی ہی نہیں جا سکتیں لیکن اس کو غصے بھی نہیں ہونے دیا گویا کچھ کہا بھی نہیں اور سب کچھ کہہ بھی دیا ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں سے جو بات کیا تھی کہ میری دعوت کو نرمی کے ساتھ پیش کرنا اور اس کا طریقہ بھی سمجھا دیا کہ اس طرح بات کرنا کہ اس کو دعوت بھی پہنچ جائے اور تمہاری طرف سے کوئی اشتعال انگیز بات بھی نہ ہو اس پر انہوں نے پورا پورا عمل کر کے دکھا دیا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طبیعت بھی بہت جلالی تھی لیکن اس کا اظہار بالکل نہیں ہونے دیا جس کے جواب میں فرعون کچھ نہ کہہ سکا اور اگر کچھ کہا تو یہی جو آگے آ رہا ہے ۔
Ayah 20:49

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

فرعون نے پوچھا اگر ایسا ہی ہے تو بتلاؤ اے موسیٰ ! (علیہ السلام) تمہارا پروردگار کون ہے ؟

فرعون نے پوچھا کہ اے موسیٰ ! بتاؤ تمہارا پروردگار کون ہے ؟ 49۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی باتیں سن کر فرعون کوئی جواب نہ دے سکا البتہ ایک سوال پیش کردیا کہ اے موسیٰ ! تم دونوں کا رب کون ہے ؟ یعنی تم جو رب کے رسول بن کر آئے ہو تو آخر وہ رب ہے کون ؟ مطلب اس کا یہ تھا کہ رب تو میں ہوں اور تم دونوں میرے ہی دربار میں کھڑے ہو پھر تم کس رب کے رسول ہو کر آئے ہو ؟ فرعون کے اس سوال کی نوعیت سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے معلوم کرلیا جائے کہ اس وقت مصریوں کے عقائد کیا تھے ؟ مصری مختلف دیوتاؤں کی پرستش کرتے تھے جن میں سے بعض تو خاص خاص قبیلوں اور علاقوں کے تھے جیسے نیفات ‘ فتا اور مات اور بعض عالمگیر قوتوں کے الگ الگ مظاہر تھے جیسے ” اور زیرس “ عالم آخرت کا خدا۔ ” میہ ادرت “ آسمان کا خدا ” کینمو “ جسم بنانے والا خدا ” ایزیز “ روح بخشنے والی دیبی ” طوط “ عمر کی مقدار مقرر کرنے والا ” ہور اس “ دردوغم دور کرنے والا ” حاثور “ (گائے) رزق بخشنے والا اور ان سب سے بلند تر ” آمن راع “ تھا یعنی سورج دیوتا۔ اور یہ بھی کہ مصریوں میں الوہیت آمیز شاہی کا تصور بھی پوری طرح نشو ونما پاچکا تھا اور تاجدار ان مصر نے نیم خدا کی حیثیت اختیار کرلی تھی ان کا لقب ” فاراع “ اس لئے ہوا کہ وہ ” راع “ یعنی سورج دیوتا کے اوتار سمجھے جاتے تھے (ڈیوے لاپ منٹ آف ریلیجن اینڈ تھواٹ ان انثینٹ ایجپٹ مصنفہ جے ۔ ایچ ہریسڈ اور انسائیکلوپیڈیا آف ریلجن اینڈ ایتھکس ، جے ، ہیٹنگس) جب موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں خدا کا فرستادہ ہوں تو فرعون نے متعجب ہو کر پوچھا کس خدا کے ؟ آمن راع کے جس نے مجھے اپنا مظر ٹھہرایا ہے ؟ ایزیزدیبی کے جو روح پیدا کرنے والی ہے ؟ کینمو دیوتا کے جو جسم وخلقت بنانے والا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا نہیں ۔ میں تو اس خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ (الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی) ہمارا پروردگار تو وہ ایک ہی پروردگار ہے جس نے دنیا کی ہرچیز کو اس کا جسم ووجود بخشا ہے اور پھر ہر طرح کی ضروری قوتیں دے کر اس پر زندگی وعمل کی راہ بھی کھول دی ہے ۔ ذرا غور کرو کہ فرعون کے استفسار میں اس کے عقائد و تصورات کے بیشمار پہلو پوشیدہ تھے اور اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا طریقہ جدل ومناظرہ کا ہوتا تو ان میں سے ہر بات الجھا لینے کے لئے کافی تھی لیکن انہوں نے اور کسی بات سے تعرض نہیں کیا صرف ایک ہی بات کہی مگر ایسی بات جو اس کے سوال کی براہ راست جواب بھی تھی ، اس کے تمام تصورات کا بالواسطہ ابطال بھی تھا اور صرف دعوی ہی نہ تھا دعوی کے ساتھ اس کی خاموش دلیل بھی موجود تھی ۔
Ayah 20:50

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہرچیز کو اس کی خلقت بخشی ، پھر اس پر راہ کھول دی

موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے فرعون کے سوال کا جواب : 50۔ آپ کہیں گے کہ اس کے تمام تصورات کا ابطال کیونکرہوا ؟ اس طرح کہ میں تمہارے ان گھڑے ہوئے معبودوں کا قائل نہیں جن میں سے کسی کو تم نے خلقت دینے والا سمجھ رکھا ہے کسی کو روح بخشنے والا کسی کو رزق و تندرستی کا سر چشمہ ، میں تو صرف اس ایک ہستی کا پرستار ہوں جو جسم بھی دیتی ہے اور وہ سب کچھ بھی دیتی ہے جو جسم کے نشو ونما و قیام کے لئے ضروری ہے ، خالق بھی وہی ہے رہنمائے زندگی بھی وہی ہے اس کے سوا کوئی نہیں ۔ چناچہ پھر آگے چل کر انہوں نے اس اعتقاد کی تفصیل بھی کردی ہے ، پھر اس جملہ کی جامعیت ومانعیت دیکھو کائنات ہستی میں جو کچھ بھی ہے وہ اس کے سوا کیا ہے یا تو وجود ہے یا وجود کی وہ معنوی قوتیں ہیں جو اسے قائم و باقی رکھتی اور قیام وعمل کی راہوں پر لگا دیتی ہیں ، انہی دو حقیقتوں کو یہاں خلقت اور ہدایت سے تعبیر کیا ہے اور ان دو لفظوں نے وجود اور حیات کے تمام گوشے سمیٹ لئے ہیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے اس جواب کو ذرا تفصیل سے جا کر مطالعہ کرو کیونکہ قرآن کریم نے اپنے اندر اس کا ایک بہت بڑا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے تاکہ آج بھی اگر کوئی اس طرح کا سوال اٹھائے تو اس کو کافی وشافی جواب دیا جاسکے ۔ چناچہ وہ کہتا ہے کہ تم خود ہی بتاؤ کہ کیا انسان کا وجدان یہ باور کرسکتا ہے کہ نظام ربوبیت کا یہ پورا کارخانہ خود بخود وجود میں آجائے ؟ نہیں تب ہی تو انسان نے کسی کو روح بخشنے والی دیبی کا تصور قائم کیا پھر کسی کو عالم آخر کا خدا مانا کسی کو عمر کی مقدار کرنے والا تسلیم کیا گیا گویا ہر مقصد کے لئے ایک نیا خدا جو تم نے بنایا اور اتنی بات کو سمجھنے کی کوشش نہ کی کہ مختلف حالتوں اور کیفیتوں کے مختلف خدا مان کر جو اس نے سر دردی اختیار کی تو اس طرح اپنا کتنا نقصان کیا اور پھر مثالیں دے کر سمجھایا کہ ایک آقا کا غلام ہونے اور مختلف کتنے سارے آقاؤں کا غلام ہونے میں کا فرق ہے ؟ اس طرح اس نے ضروری سمجھا کہ اسے غفلت سے چونکا دینے کے لئے دلیلیں پیش کی جائیں لیکن ان میں سے کوئی دلیل بھی ایسی نہ ہونی چاہئے جو محض ذہن و دماغ میں کاوش پیدا کردے بلکہ ایسی ہونی چاہئے جو اس کے نہانخانہ دل پر دست دے سے اور اس کے اندر فطری وجدان پیدا کر دے کیونکہ اگر اس کا وجدان بیدار ہوگیا تو پھر اثبات مدعا کے لئے بحث وتقریر کی ضرورت نہ ہوگی خود اس کا وجدان ہی اسے مدعا تک پہنچا دے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم خود انسان کی فطرت ہی سے انسان پر حجت لاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ” انسان کا وجود خود اس کے خلاف یعنی اس کی کج اندیشیوں کے خلاف حجت ہے اگرچہ وہ اپنے وجدان کے خلاف کتنے ہی عذر وبہانے تراش لیا کرے ۔ “ (القیامہ 75 : 14) اس لئے وہ جہاں فطرت انسانی کو مخاطب کرتا اور اس کی گہرائیوں سے جواب طلبی کرتا ہے اور اسی طرح اس کے سوالوں کا یہ سلسلہ مسلسل چلتا جاتا ہے اور فطرت خود اس کو ساتھ ساتھ جواب دیتی چلتی جاتا ہے اور انجام کار وہ ایک نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے چناچہ وہ اس طرح بات کو شروع کرتا ہے کہ : (آیت) ” قُلْ مَن یَرْزُقُکُم مِّنَ السَّمَاء ِ وَالأَرْضِ أَمَّن یَمْلِکُ السَّمْعَ والأَبْصَارَ وَمَن یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیَّتَ مِنَ الْحَیِّ وَمَن یُدَبِّرُ الأَمْرَ فَسَیَقُولُونَ اللّہُ فَقُلْ أَفَلاَ تَتَّقُونَ (31) فَذَلِکُمُ اللّہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلاَّ الضَّلاَلُ فَأَنَّی تُصْرَفُونَ ، ؟ ( سورة یونس 10 : 31 ، 32) ” وہ کون ہے جو آسمان و زمین سے تمہیں روزی بخش رہا ہے ؟ وہ کون ہے جس کے قبضہ میں تمہارا سننا اور دیکھنا ہے ؟ وہ کون ہے جو بےجان سے جاندار کو اور جاندار سے بےجان کو نکالتا ہے ؟ اور پھر وہ کونسی ہستی ہے جو یہ تمام کارخانہ خلقت اس نظم ونگرانی کے سات چلا رہی ہے ؟ یقینا وہ بول اٹھیں گے کہ وہ اللہ ہے ‘ اچھا تم ان سے کہو جب تمہیں اس بات سے انکار نہیں تو پھر یہ کیوں ہے کہ غفلت وسرکشی سے نہیں بچتے ہاں ! بلاشبہ وہ اللہ ہی ہے جو تمہارا پروردگار برحق ہے اور جب یہ حق ہے تو حق کے ظہور کے بعد اسے نہ ماننا گمراہی نہیں تو اور کیا ہے ؟ (افسوس تم پر) تم کہا جا رہے ہو ؟ “ مزید دیکھنا چاہیں تو ان مقامات کو دیکھیں ( سورة النمل 27 : 60 تا 66) “ ( سورة عبس 80 : 24 تا 32) (النحل 16 : 66 تا 69) ‘ (الواقعہ 56 : 63 ‘ 73) اسی طرح وہ نظام ربوبیت سے توحید الہی پر استدلال کرتا ہے جو رب العالمین تمام کائنات کی پرورش کر رہا ہے اور جس کی ربوبیت کا اعتراف تمہارے دل کے ایک ایک ریشے میں موجود ہے اس کے سوا کون اس کا مستحق ہو سکتا ہے کہ بندگی ونیاز کا سر اس کے آگے جھکایا جائے ؟ چناچہ وہ کہتا ہے کہ ” اے افراد نسل انسانی ! اپنے پروردگار کی عبادت کرو اس پروردگار کی جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان سب کو بھی پیدا کیا تاکہ تم برائیوں سے بچو ‘ وہ پروردگار عالم جس نے تمہارے لئے زمین فرش کی طرح بچھا دی اور آسمان چھت کی طرح بنا دیا اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے طرح طرح کے پھل پیدا کردیئے تاکہ تمہارے لئے رزق کا سامان ہو پس جب خالقیت اس کی خالقیت ہے اور ربوبیت اسی کی ربوبیت تو ایسا نہ کرو کہ کسی دوسری ذات کو اس کا ہم پلہ ٹھہراؤ اور تم اس حقیقت سے بیخبر نہیں ہو ۔ (البقرہ 2 : 21 ‘ 22) اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا : ” اے افراد نسل انسانی ! اللہ نے اپنی جن نعمتوں سے تمہیں فیض یاب کیا ہے ان پر غور کرو ‘ کیا اللہ کے سوا کوئی دوسرا بھی خالق ہے جو تمہیں زمین و آسمان کی بخشائشوں سے رزق دے رہا ہے ؟ نہیں کوئی معبود نہیں ہے مگر اس کی ایک ذات۔ “ (فاطر 35 : 3) بلاشبہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب تو نہایت مختصر دیا لیکن اس کے اندر تفصیل نہایت طویل مضمر ہے اور اگرچہ الفاظ نہایت نرم ہیں لیکن جواب نہایت دندان شکن ہے کیونکہ انہوں نے نہایت جامع الفاظ میں فرعون پر یہ حقیقت واضح کردی کہ رب ہونے کا حق دار تو وہی ہو سکتا ہے جس نے خلق کیا اور ہدایت بخشی تمہارا حصہ نہ خلق میں نہ ہدایت میں تو رب ہونے کے مدعی کس طرح بن بیٹھے لیکن فرعون نے ایک نہایت ہی حساس سوال کردیا اور اس طرح کا سوال اٹھا کر اس نے ہاری بازی جتنے کی ایک بار پھر ناکام کوشش کی ۔ اس نے کہا کہ اچھا پھر ان کا حال ہوگا جو پچھلے زمانوں میں گزر چکے ہیں : 51۔ فرعون نے دوسرا سوال اٹھایا تو یہ بھی بطریق جدل ہی اٹھایا کہ ” اچھا پھر ان کا کیا حال ہوگا جو پچھلے زمانوں میں گزر چکے ؟ “ یعنی اگر حقیقت حال ایسی ہی ہے جیسی کہ تم کہہ رہے ہو تو جو لوگ پہلے عہدوں میں گزر چکے ان کے لئے کیا ہونا ہے ؟ وہ راہ صواب پر تھے یا گمراہی پر ؟ اٹھیں تو تمہارے اس نئے اعتقاد کی خبر بھی نہ تھی ۔ غور کرو کہ اب پھر وہی صورت پیدا ہوگئی اگر یہ سوال ہمارے مختلف مکاتب فکر کے علامہ حضرات میں سے کسی پر ہوتا تو جوتیوں دال بٹتی مسجدوں پر تالے پڑتے اور لوگ عدالتوں میں دھکے کھاتے اور جیلوں میں بند ہوتے اور بات بھی وہیں کی وہیں رہتی لیکن سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) داعی تھے ‘ مجادل اور مناظر نہ تھے انہوں نے صرف ایک بات کہہ کر ساری بحث ہی ختم کردی (آیت) ” علمھا عند ربی فی کتاب “۔ فرعون نے کتنا حساس سوال اٹھایا اس کا مطلب یہ تھا کہ جب گزشتہ لوگوں کی بات کروں گا تو ظاہر ہے موسیٰ (علیہ السلام) کہیں گے کہ ہاں وہ بھی تمہاری طرح بہت جاہل اور ناسمجھ لوگ تھے اور یہ بات کہتے ہی گولہ چھوٹ جائے گا کیونکہ لوگ آباء و اجداد کی برائی ‘ جہالت اور لاعلمی کے متعلق تو کچھ نہ سن سکیں گے اور نہ ہی برداشت کریں گے اور اس طرح ایک مخالفت کی آگ بھڑک اٹھے گی اور موسیٰ اس میں بھسم ہو کر رہ جائے گا لنکر اس کی یہ چال بھی سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے دو لفظوں میں ختم کر کے رکھ دی اور جس آگ کو وہ بھڑکانا چاہتا تھا اس کو سلگا بھی نہ سکا اور اپنا سا منہ لے کر رہ گیا ۔
Ayah 20:51

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

فرعون نے کہا پھر [ ان کا کیا حال ہوا ہے جو پچھلے زمانوں میں گزر چکے ہیں ؟

اس نے کہا کہ اچھا پھر ان کا حال ہوگا جو پچھلے زمانوں میں گزر چکے ہیں : 51۔ فرعون نے دوسرا سوال اٹھایا تو یہ بھی بطریق جدل ہی اٹھایا کہ ” اچھا پھر ان کا کیا حال ہوگا جو پچھلے زمانوں میں گزر چکے ؟ “ یعنی اگر حقیقت حال ایسی ہی ہے جیسی کہ تم کہہ رہے ہو تو جو لوگ پہلے عہدوں میں گزر چکے ان کے لئے کیا ہونا ہے ؟ وہ راہ صواب پر تھے یا گمراہی پر ؟ اٹھیں تو تمہارے اس نئے اعتقاد کی خبر بھی نہ تھی ۔ غور کرو کہ اب پھر وہی صورت پیدا ہوگئی اگر یہ سوال ہمارے مختلف مکاتب فکر کے علامہ حضرات میں سے کسی پر ہوتا تو جوتیوں دال بٹتی مسجدوں پر تالے پڑتے اور لوگ عدالتوں میں دھکے کھاتے اور جیلوں میں بند ہوتے اور بات بھی وہیں کی وہیں رہتی لیکن سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) داعی تھے ‘ مجادل اور مناظر نہ تھے انہوں نے صرف ایک بات کہہ کر ساری بحث ہی ختم کردی (آیت) ” علمھا عند ربی فی کتاب “۔ فرعون نے کتنا حساس سوال اٹھایا اس کا مطلب یہ تھا کہ جب گزشتہ لوگوں کی بات کروں گا تو ظاہر ہے موسیٰ (علیہ السلام) کہیں گے کہ ہاں وہ بھی تمہاری طرح بہت جاہل اور ناسمجھ لوگ تھے اور یہ بات کہتے ہی گولہ چھوٹ جائے گا کیونکہ لوگ آباء و اجداد کی برائی ‘ جہالت اور لاعلمی کے متعلق تو کچھ نہ سن سکیں گے اور نہ ہی برداشت کریں گے اور اس طرح ایک مخالفت کی آگ بھڑک اٹھے گی اور موسیٰ اس میں بھسم ہو کر رہ جائے گا لنکر اس کی یہ چال بھی سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے دو لفظوں میں ختم کر کے رکھ دی اور جس آگ کو وہ بھڑکانا چاہتا تھا اس کو سلگا بھی نہ سکا اور اپنا سا منہ لے کر رہ گیا ۔
Ayah 20:52

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ، اس بات کا علم میرے پروردگار کے پاس نوشتہ میں ہے ، میرا پروردگار ایسا نہیں کہ کھویا جائے یا بھول میں پڑ جائے

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کو فوری جواب پہنچا : 52۔ فرعون ! تو نے کیسا سوال کیا تاہم جواب سن لے کہ ان کا علم میرے اللہ کے پاس محفوظ ہے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے اور ہمیں اس کی فکر ہی کیوں ہو ؟ ہمارے جاننے میں تو صرف اتنی بات کافی ہے کہ (آیت) ” لا یضل ربی ولا ینسی “ خدا انسانوں کی طرح نہیں ہے کہ غلطی میں کھویا جائے یا کوئی بات بھول جائے ، اس کا قانون یہ ہے کہ ہر انسان کا جیسا اعتقاد وعمل ہوگا ٹھیک اسی کے مطابق اسے نتائج بھی ملیں گے پس پچھلوں کا جیسا حال رہا ہوگا ویسا ہی نتیجہ بھی بھگتیں گے ، ہم کو اپنا حال دیکھنا ہے اور اپنے ہی سامنے کی باتوں کا ہم علم رکھتے ہیں ہم اس کاوش میں کیوں پڑیں کہ پچھلوں کا کیا حال تھا اور وہ بخشے جائیں گے یا نہیں ؟ غور کرو کہ فرعون کا سوال کتنا مجادلانہ تھا اور ایسا تھا کہ بحث و کاوش کی قسم کا کوئی جواب بھی دیا جاتا تو وہ مسکت اور مختتم نہیں ہو سکتا جو بات بھی کہی جاتی وہ یقینا بحث طلب ہوتی اور ایک نیا سوال پیدا کردیتی لیکن انبیائے کرام کا طریق دعوت یہ نہیں ہوتا کہ بحث میں الجھیں یا دوسروں کو الجھائیں ، پس سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کاوش میں بڑنے ہی سے انکار کردیا انہوں نے کہا ہم یہ جانتے ہی نہیں اور ہمیں اس بات کا خواہش مند بھی نہیں ہونا چاہئے کہ اسے جانیں جس کے جاننے نہ جاننے سے ہماری زندگی کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ کاش کہ آج ہمارے علمائے کرام بھی اس بات کو سمجھ لیں اور فضول بحثوں سے اجتناب کرتے ہوئے مطلب کی بات کہہ کر خاموش ہونا سیکھ جائیں تو قوم کی حالت اس وقت سے بالکل مختلف ہوجائے اور وہ اس مذہبی جنگ وجدال سے بچ جائے ۔ ایک بار پھر غور کرو کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس جملہ کے اندر جو بات کہہ دی وہ انسان کی فکری گمراہیوں کی کتنی راہیں بند کردیتی ہیں بشرطیکہ لوگ اسے سمجھیں ؟ مگر مصیبت یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ اس کاوش کی پیروی کرتے رہے جو فرعون کے سوال سے ٹپک رہی ہے وہ وہ حقیقت نہ پا سکے جو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب میں مضمر ہے ، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب نے ہمیں یہ اصل عظیم بتلا دی ہے کہ جن گوشوں کا ہمیں علم نہیں اور جن کی کاوش ہمارے لئے سود مند بھی نہیں ان کی فکر میں ہمیں نہیں پڑنا چاہئے اور ان کا حکم اللہ کے حوالہ کردینا چاہئے اگر لوگ اس اصل عظیم پر عامل ہوجائیں تو مذہب کے کتنے ہی گمراہ کن جھگڑے خود بخود ختم ہوجائیں ، دور نہ نکلو اس گوشہ میں رہو جو فرعون کے اس مجادلانہ سوال کی اصل جگہ ہے اور غور کرو کہ مذہب کے نام سے کتنے جھگڑے بنا لئے گئے ہیں جن میں سے ہر جھگڑا (فما بال القرون الاولی) کی فرعونی صدا کا ٹھیک ٹھیک اعادہ ہے ؟ اب سے پہلے فلاں گروہ جو گزرا ہے اہل حق میں تھا یا باطل میں ؟ فلاں انسان جو گزر چکا ‘ نیک تھا یا بد ؟ فلاں بزرگ کا رتبہ خدا کے نزدیک زیادہ ہے یا فلاں کا ؟ افضل کون ہے ؟ زید یا عمرو ؟ ولایت وطریقت میں سب سے بڑا کون ہے ؟ فلاں یا فلاں ؟ پھر اس میں بحثیں ہیں ‘ تصنیفیں ہیں ‘ لڑائیاں ہیں ‘ فرقہ بندیاں ہیں ‘ گویا انسان کی نجات کے لئے صرف یہی فکر کافی نہیں کہ خود اسے کیا کرنا چاہئے وہ اس فیصلہ کے لئے بھی ذمہ دار بنا دیا گیا ہے کہ اب سے پانچ سو برس پہلے کسی نے کیا کہا تھا ؟ اور ایک ہزار برس پہلے کون کیسا تھا ؟ پھر ان میں سے ہر فریق اس طرح حکم لگانا شروع کردیتا ہے گویا خدا کے دفتر کا رجسٹر ابھی ابھی پڑھ کر اٹھا ہے اور اسے علم قطعی حاصل ہوگیا ہے کہ فلاں کا نام فلاں درجہ میں لکھا ہوا ہے اور فلاں کا فلاں درجہ میں ، کہیں بحث کھڑی ہوگئی کہ شیخ عبدالقادر جیلانی سب سے بڑے ولی ہیں دوسرا کہتا نہیں شیخ احمد رفاعی اور اس جھگڑے میں ایک دوسرے کے مکانوں کو آگ لگا دی گئی اور گندم کے کھلیان جلائے گئے ۔ فقہ کے مذاہب اربعہ جب مشخص ومدون ہوئے تو تقلید شخصی کا التزام قائم ہوگیا تو سوال پیدا ہوا کہ ان چاروں اماموں میں افضل کون ہے ؟ امام ابوحنیفہ (رح) یا امام شافعی (رح) ؟ اب بحث شروع ہوئی اور بحث نے آہستہ آہستہ جنگ و قتال کی شکل اختیار کرلی اور اس جنگ و قتال میں ہلاکو خاں کو اسلامی ممالک پر حملہ کی سب سے پہلی ترغیب خراسانیوں کے اس جھگڑے سے ملی تھی ، خنفیوں نے شافعیوں کی ضد میں آکر بلاوا بھیجا اور شہر کے پھاٹک کھول دیئے اور اس طرح جب تاتاریوں کی تلوار چل گئی تو اس نہ شافعیوں کو چھوڑا اور حنفیوں کو ۔ (آیت) ” فجاسوا خلال الدیار وکان وعدا مفعولا “۔ اسی طرح شیعہ سنی کے اختلاف نے مسلمانوں کو دو مختلف امتوں میں متفرق کردیا لیکن اس تمام اختلاف کا ماحصل بھی کیا ہے ؟ یہی کہ (آیت) ” فما بال القرون الاولی “۔ اور چودہ سوبرس گزر گئے مگر اتنی بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی کہ (آیت) ” علمھا عند ربی فی کتاب لا یضل ربی ولا ینسی “۔ بہرحال یاد رکھنا چاہئے کہ اس طرح کی تمام کاوشوں کے اندر وہی فرعون والی مجادلانہ روح کام کیا کرتی ہے اور طریق موسوی یہ ہے کہ (آیت) ” علمھا عند ربی فی کتاب “۔ کہہ کر سارے جھگڑے ختم کر ڈالنا اور سرے سے ان کاوشوں میں نہ پڑنا ، کان کھول کر سن لیجئے کہ قرآن کریم اور صاحب وحی ﷺ نے ہمیں جن امور کی خبر دے دی ہے ان کا علم ہمیں حاصل ہوگیا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ان باتوں کو اسی طرح یقین کریں جس طرح ہمیں بتلا دی گئی ہیں لیکن ان سے زیادہ جو سوال بھی دینی عقائد کی بنا پر اٹھایا جائے گا ہمارا جواب یہی ہوگا (آیت) ” علمھا عند ربی فی کتاب لا یضل ربی ولا ینسی “۔ اللہ کریم نے اپنے دفتر کی مثلیں ہمارے پاس نہیں بھیج دیں اور نہ ہمیں لوگوں کی سعادت وشقاوت اور مدارج و فضائل کے فیصلہ کی ٹھیکہ داری عنایت فرمائی ہے ، ہمیں معلوم نہیں کہ حقیقت حال کیا ہے ۔ البتہ خوش قسمتی سے معاملہ ایسے محاسب کے ہاتھ میں ہے جو نہ تو غلطی کرسکتا ہے اور نہ ہی بھول چوک میں پڑ سکتا ہے پس دوسروں کی فکرم میں آپ لوگوں کو گھلنے کی ضرورت نہیں ، اپنی خبر لو اور ان کا معاملہ ان کے اللہ پر چھوڑ دو ۔ یہی راہ ہدایت ہے اور یہی امن کا راستہ ۔
Ayah 20:53

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ پروردگار جس نے تمہارے لیے زمین بچھونے کی طرح بچھا دی ، نقل و حرکت کے لیے اس میں راہیں نکال دیں ، آسمان سے پانی برسایا اس کی آب پاشی سے ہر طرح کی نباتات کے جوڑے پیدا کر دیئے

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مزید وضاحت کردی : 53۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب میں مزید وسعت فرمائی اور ربوبیت کے پہلو سے اس کی وضاحت فرما دی کہ ” وہ پروردگار جس نے تمہارے لئے زمین بچھونے کی طرح بچھا دی اور نقل و حرکت کے لئے اس میں راہیں نکال دیں ‘ آسمان سے پانی برسایا ‘ اس کی آب پاشی سے ہر طرح کی نباتات کے جوڑے پیدا کردیئے کہ خود بھی کھاؤ اور اپنے مویشی بھی چراؤ اس بات میں عقل والوں کے لئے کیسی کھلی نشانیاں ہیں ؟ اس نے اس زمین سے تمہیں پیدا کیا ‘ اسی میں تم کو لوٹاتا ہے اور پھر اسی سے دوسری مرتبہ تم اٹھائے جاؤ گے ۔ “ اے فرعون ! اے فرعون کے اعوان وانصار ! غور کرو کہ جس رب العالمین نے تمہاری پرورش کے لئے ربوبیت کا ایسا نظام قائم کر رکھا ہے کیا ممکن ہے کہ اس نے تمہاری روحانی فلاح وسعادت کے لئے کوئی قانون ‘ کوئی نظام کوئی قاعدہ مقرر نہ کیا ہو ؟ جس طرح تمہارے جسم کی ضرورتیں ہیں اسی طرح تمہاری روح کی بھی ضرورتیں ہیں پھر کیونکر ممکن ہے کہ جسم کی نشو ونما کے لئے تو اس کے پاس سب کچھ ہو لیکن روح کی نشو ونما کے لئے اس کے پاس کوئی پروردگاری نہ ہو ؟ اگر وہ رب العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کے فیضان کا یہ حال ہے کہ ہر ذرہ کے لئے سیرابی اور ہر چیونٹی کے لئے کارسازی رکھیی ہے تو کیونکر باور کیا جاسکتا ہے کہ انسان کی روحانی سعادت کے لئے اس کے پاس سرچشمگی نہ ہو ؟ اس کی پروردگاری اجسام کی پرورش کے لئے آسمان سے پانی برسائے لیکن ارواح کی پرورش کے لئے ایک قطرہ فیض بھی نہ رکھے ؟ تم دیکھتے ہو کہ جب زمین شادابی سے محروم ہو کر مردہ ہوجاتی ہے تو یہ اس کا قانون ہے کہ باران رحمت نمودار ہوتی ہے اور زندگی کی برکتوں سے زمین کے ایک ایک ذرے کو مالا مال کردیتی ہے پھر کیا یہ ضروری نہیں کہ جب عالم انسانیت ہدایت وسعادت کی شادابیوں سے محروم ہوجائے تو اس کی باران رحمت نمودار ہو کر ایک ایک روح کو پیام پہنچا دے ؟ روحانی سعادت کی یہ بارش کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے کہ وحی الہی ہے تم اس منظر پر کبھی متعجب نہیں ہوتے کہ پانی برسا اور مردہ زمین زندہ ہوگئی پھر اس بات پر کیوں چونک اٹھے کہ وحی الہی ظاہر ہوئی اور مردہ روحوں میں زندگی کی جنبش پیدا ہوگئی ؟
Ayah 20:54

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

خود بھی کھاؤ اور اپنے مویشی بھی چراؤ اس بات میں عقل والوں کے لیے کیسی کھلی نشانیاں ہیں ؟

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب میں مزید وسعت پیدا کرتے ہوئے فرمایا : 54۔ اللہ نے تمہاری خوراک کا بندوبست کیا ‘ تمہارے مویشیوں کی پرورش کا انتظام فرمایا تو کیا اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں موجود نہیں ہیں ‘ اے فرعون ! اور اے فرعون کے اعوان وانصار ! وہ اللہ ہی تو ہے جو ” دانے اور گٹھلی کو شق کرتا ہے ‘ وہ زندہ کو مردہ چیز سے نکالتا ہے اور وہ مردہ کو زندہ اشیاء سے نکالنے والا ہے ، ہاں ! وہی تمہارا خدا ہے پھر تم اس سے روگردانی کرکے کدھر کو بہکے چلے جا رہو ؟ ہاں ! ہاں وہی صبح کی روشنی کو نمودار کرنے والا ہے ، وہی ہے جس نے رات کو راحت اور سکون کا ذریعہ بنایا ہے اور وہی ہے کہ سورج اور چاند کی گردش اس نے درستگی کے ساتھ قائم کردی کہ وہ حساب کا معیار بن گئی یہ اس عزیز وعلیم کا ٹھہرایا ہوا ندازہ ہے اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے ستارے پیدا کردیئے تاکہ خشکی وتری کی تاریکیوں میں ان سے راہنمائی پاؤ بلاشبہ ان لوگوں کے لئے جو جاننے والے ہیں ہم دلیلیں کھول کھول کر بیان کردیں ہیں ۔ “ (الانعام 6 : 95 تا 99) اے فرعون اور اے فرعون کے اعوان وانصار ! ذرا ماضی کے ایک نقطہ بعید کا تصور کرو جب ہمارا یہ کرہ سورج کے ملتہب کرے سے الگ ہوا تھا نہیں معلوم کہ کتنی مدت اس کے ٹھنڈے اور متعدل ہونے میں گزر گئی اور یہ اس قابل ہوا کہ زندگی کے عناصر اس میں نشو ونما پا سکیں اس کے بعد وہ وقت آیا جب اس کی سطح پر نشو ونا کی سب سے پہلی داغ بیل بڑی اور پھر نہیں معلوم کتنی مدت کے بعد زندگی کا وہ اولین بیج وجود میں آسکا جسے پروٹو پلازم (Proto Plasim) کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے پھر حیات معنوی کے نشو ونما کا دور شروع ہوا اور نہیں معلوم کہ کتنی مدت اس پر گزر گئی کہ اس دور نے بسیط سے مرکب تک اور ادنی سے اعلی درجے تک ترقی کی منزلیں طے کیں یہاں تک کہ حیوانات کی ابتدائی کڑیاں ظہور میں آئیں اور پھر لاکھوں برس اس میں نکل گئے کہ یہ سلسلہ ارتقاء وجود انسانی تک مرتفع ہوا ۔ پھر انسان کے جسمانی ظہور کے بعد اس کے ذہنی ارتقاء کا سلسلہ شروع ہوا اور ایک طول طویل مدت اس پر گزر گئی بالآخر ہزاروں برس کے اجتماعی اور ذہنی ارتقاء کے بعد وہ انسان ظہور پذیر ہوسکا جو کرہ ارض کے تاریخی عہد کا متمدن اور عقیل انسان ہے ۔ گویا زمین کی پیدائش سے لے کر ترقی یافتہ انسان کی تکمیل تک جو کچھ گزر چکا ہے اور جو کچھ بنتا سنورتا رہا ہے وہ تمام تر انسان کی پیدائش وتکمیل ہی کی سرگزشت ہے ۔
Ayah 20:55

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

اس نے اس زمین سے تمہیں پیدا کیا اسی میں لوٹاتا ہے اور پھر اسی سے دوسری مرتبہ اٹھائے جاؤ گے

جواب کے اختتام پر فرمایا کہ اس نے تم کو پیدا کیا اور وہی تم کو لوٹائے گا : 55۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب کا اختتام کرتے ہوئے فرعون اور فرعون والوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ” اللہ رب العزت وہ ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور زمین ہی میں تم کو لوٹاتا ہے اور پھر اسی سے دوسری مرتبہ اٹھا کھڑا کرے گا ۔ “ یہ گویا ربوبیت سے قیامت پر استدلال ہے کہ ہم نے اس زمین سے تم کو پیدا کیا ہے اور پھر مرجانے کے بعد اس میں تم کو لوٹاتے ہیں اور پھر اسی سے تمہیں دوبارہ نکال لیں گے ، گویا جو جتنی زیادہ نگرانی اور اہتمام سے بنائی جاتی ہے اتنی ہی زیادہ قیمتی استعمال اور اہم مقصد بھی رکھتی ہے اور بہتر صناع وہی ہے جو اپنی صنعت گری کا بہتر استعمال اور مقصد رکھتا ہو پس انسان جو کرہ ارض کی بہترین مخلوق اور اس کے تمام خلقت کا خلاصہ ہے اور جس کی جسمانی ومعنوی نشو ونما کے لئے فطرت کائنات نے اس قدر اہتمام کیا ہے کیونکر ممکن ہے کہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کے لئے ہی بنایا گیا ہو اور کوئی بہتر استعمال اور بلند ترمقصد نہ رکھتا ہو ؟ اور پھر اگر خالق کائنات رب ہے اور کامل درجے کی ربوبیت رکھتا ہے تو کیونکر باور کیا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنے ایک بہترین مربوب یعنی پروردہ ہستی کو محض اس لئے بنایا ہو کہ بنا کر مہمل اور بےنتہج چھوڑ دے ، چناچہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ : ” کیا تم نے ایسا سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بغیر کسی مقصد ونتیجہ کے پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹنے والے نہیں ؟ اللہ جو اس کائنات کا حقیقی حکمران ہے اس سے بہت بلند ہے کہ ایک بیکار وعبث فعل کرے ‘ کوئی معبود نہیں ہے مگر وہ جوہ جہاندارمی کے عرش بزرگ کا پروردگار ہے ۔ “ (المومنون 23 : 115 ، 116)
Ayah 20:56

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور ہم نے فرعون کو نشانیاں دکھائیں ، مگر اس پر بھی اس نے جھٹلایا اور انکار کیا

فرعون کو ہم نے ساری نشانیاں دکھائیں لیکن وہ انکار ہی کرتا رہا : 56۔ گویا یہ سب ایک ہی ملاقات میں نہیں ہوگیا بلکہ پیغام اولی کے بعد جب وہ نہ مانا تو ایک بات شروع ہوگئی جو بیسیوں سال چلتی رہی موسیٰ (علیہ السلام) کتنی بار فرعون کے سامنے دعوت الہی پیش کرنے کے لئے حاضر ہوئے لیکن فرعون نے ہر بار جھٹلایا ، بلاشبہ فرعون سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے روشن اور پر از صداقت دلائل سن سن کر اگرچہ پیچ وتاب کھاتا مگر لاجواب ہوجانے کی وجہ سے کوئی صورت نہیں بنتی تھی کہ ان سے راستگاری حاصل کرے وہ خوب جانتا تھا کہ میری ربوبیت اور الہیت کی بنیاد اس قدر کمزور ہے کہ دلائل موسیٰ کی صداقت کے سامنے تار عنکبوت کی طرح تار تار ہوجاتی ہے اور اس کے درباری بھی اس کو اچھی طرح سمجھتے تھے اسی لئے فرعون کے لئے یہ بات سخت ناقابل برداشت تھی لیکن اس کے باوجود وہ ایک مدت ان کو برداشت کرتا رہا لیکن دنیا دار سیاستدانوں کی طرح اس نے ایک نیا رخ بدلا اور ایک روز موسیٰ علہو السلام سے مخاطب ہو کر کہنے لگا :
Ayah 20:57

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

اسنے کہا اے موسیٰ ! کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال باہر کرے ؟

فرعون نے ایک بار دوبارہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک چال چلی : 57۔ ” اے موسیٰ ! ‘ کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال باہر کر دے ۔ “ فرعون کی اس بات پر بار بار غور کرو اور دیکھو کہ اس نے ایک ہی فقرہ میں سانپ اور لاٹھی کے استعارہ کو کیونکر واضح کردیا اور اس استعارہ کی کس طرح وضاحت کردی ، چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا مطالبہ بنی اسرائیل کو یہاں سے لے کر نکل جانے کا تھا کیوں ؟ اس لئے کہ فرعون اور اس کے اعوان وانصار کا موقف یہ تھا کہ بنی اسرائیل اس مالک کے باشندے نہیں ہیں اس لئے ان کو اس علاقے پر حکومت کا کوئی حق نہیں۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل یہ تھے کہ حکومت کرنے کے لئے صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ جس قوم وگروہ میں ہوں اس کا حق ہوتا ہے کہ وہ حکومت کرے ، سرمایہ داری اور جاگیرداری کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں سرمایہ داروں کا کام تجارت کرنا ہے اور جاگیرداروں کا کام اپنی جاگیروں کی حفاظت ونگرانی اور کاشتکاری کے نئے نئے طریقوں سے استفارہ کرتے ہوئے ملک کی پیداوار برھانا ہے تم لوگ صرف سرمایہ داری اور جاگیرداری کے بل بوتے پر اس ملک کے حکمران بن بیٹھے ہو اور تمہارے بڑوں نے صلاحیتوں کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ حکمرانی کا حق بنی اسرائلی کو ہے اور انہوں نے حکومت اپنی رضا وغبت سے بنی اسرائیل کے سپرد کی تھی پھر وہ بنی اسرائیل ہی تھے جنہوں نے اس ملک کے انتظامات کو اس طرح چلایا کہ اس کی ساکھ تمام دنیا کے ملکوں میں قائم کردی ، بنی اسرائیل کی آمد سے پہلے مصریوں کی حالت ہی کیا تھی ؟ یہی کہ وہ اپنے سرمایہ اور جاگیروں کے باعث عیاشیاں کرتے تھے اور حکومت کے کاروبار میں انکی کی کوئی صلاحیت موجود نہ تھی ، اس معاملہ نے اتنا طول پکڑا کہ فرعون نے بنی اسرائیل پر طرح طرح کے ظلم وستم روا رکھے اور ان کو اس حد تک دبا رکھا کہ وہ انسانوں کی نہیں بلکہ حیوانوں کی زندگی بسر کر رہے تھے کہ گویا وہ دوسرے حیوانوں کی طرح اس ملک میں صرف مصریوں یعنی فرعونیوں کی ضرورتوں کے لئے ہیں کہ وہ جو چاہیں ان سے بیگار لیں اور جو کام چاہیں ان سے کراتے رہیں یہ بارہر سے آئے لوگ ہیں اور ان کو ملک کاموں میں دخل اندازی کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ گویا انکی علاقہ مصر میں وہی حالت بنا دی گئی جو ہندوستان میں شودروں اور شیڈول کا سٹ لوگوں کی تھی ، اس ساری داستان کو سانپ اور لاٹھی کے استعارہ میں بند کردیا گیا گویا لاٹھی سے مراد حکومت میں بند کردیا گیا گویا لاٹھی سے مراد حکومت اور سانپ سے مراد دلائل تھے اور دلائل جن کے وزنی تھے حکومت کا اصل حق ان کو تھا اور پھر دلائل کے وزنی ہونے کے لئے (یدبیضا) کا استعارہ استعمال ہوا اور ظاہر ہے کہ (یدبیضا) موسیٰ (علیہ السلام) کو حاصل تھا گویا وہ سب کے سب دلائل جو موسیٰ (علیہ السلام) بحکم خداونی پیش کرتے تھے وہ فرعون کے مقابلہ میں زیادہ وزنی تھے تاہم حکومت کا کاروبار ایسے عقیدہ کے بل بوتے پر جس کے باعث وہ سب سے بڑے خدا کا اوتار مانا جاتا تھا اور سرمایہ داری اور جاگیرداری کے باعث اس کا گروہ کم ہونے کے باوجود زیادہ طاقتور تھا اور اقتدار کے ساتھ اس طرح چمٹ چکا تھا کہ اس کو کبھی چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھا اور بنی اسرائیل ایک مدت تک دبنے کے بعد اس قدر کمزور ہوچکے تھے کہ ان کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرکے فرعون کے سامنے لانا ممکن ہی نہ رہا تھا اس صورت حال کے پیش نظر فرعون نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر تصور کیا اور مجمع عام میں کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیان کا جو ملکہ دونوں بھائیوں کو عطا کیا تھا وہ کسی دوسرے کو حاصل نہیں تھا اور خصوصا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی طبیعت بھی جلالی تھی اور جمال کی شیرینی بھی اس میں شامل ہوگئی اور آپ کے دلائل نے اس کو اور بھی چار چاند لگا دیئے تھے یہی وجہ ہے کہ اس وقت بھی اور آج بھی سحربیانی کا ایک محاورہ عام ہے اور اپنے بیان سے جو خطیب پورے مجمع میں ہل چل مچا دے اس کو آج بھی ” ساحر “ کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے اور اسی ” ساحر “ کے لفظ کا ترجمہ ہماری زبان میں جادوگر کیا جاتا ہے ۔ نبی اعظم وآخر سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ کہ ” البیان سحر “ بیان بھی سحر ہے ۔ اس لئے کہ وہ سننے والوں کو والہانہ طور پر بیان کرنے والوں کا شیدائی بنا دیتا ہے اور آج بھی جب ایسے قومی مبلغوں اور واعظوں کا نام آتا ہے تو شیدائی شہد کی مکھیوں کی طرح انکی سحربیانی کے جوہر دیکھنے کے لئے جوق درجوق پہنچنا شروع ہوجاتے ہیں پھر لطف یہ ہے کہ اپنے تو اپنے ہوئے غیروں کی توجہ بھی ان پر مرکوز ہوجاتی ہے ۔ مختصر یہ کہ ایک عرصہ گزرنے کے بعد فرعون نے ایک بار موسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کیا اور کہنے لگا کہ ” اے موسیٰ “ کیا تو ہمارے یہاں اس لئے آیا ہے کہ ہمیں ہمارے ملک سے نکال باہر کر دے اس کا مطلب واضح ہے کہ تو جو یہاں سے بھاگ کر نکل گیا تھا تو چلو جہاں گیا تھا وہیں رہتا ہم نے تجھے پیغام بھیجا ہے کہ تو واپس مصر میں آئے اور پھر اگر تو ایک مدت کے بعد تو آیا ہے تو تیرا کیا ارادہ ہے کہ ہم اس ملک کے رہنے والے اس ملک سے نکل جائیں اور پورا ملک تمہارے بنی اسرائیل کے سپرد کردیں جو کہ نہ ممکن ہے اور نہ ہی ایسا کیا جاسکتا ہے ، ایک بار پھر غور کیجئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا ایک ایک لفظ پڑھ جائیے کیا اس طرح کا کوئی اشارہ بھی آپ کی دعوت میں موجود ہے جو فرعون نے الزام لگایا ۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر فرعون نے ایسا کیوں کہا ؟ ظاہر ہے کہ جب کسی شخص گروہ یا پارٹی کے پاس طاقت سرمایہ اور طاقت جاگیر اور اس کے ساتھ عوام کا سہارا موجود ہو وہ جو چاہیں منہ سے نکال دیتے ہیں اور ان کے قانون اور قاعدے سارے اپنے ہوتے ہیں اس لئے وہ جو چاہیں بکتے رہتے ہیں اور ان کو کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ یہ بات تم نے کیا کہی بلکہ ان کے حاشیہ بردار الٹا ایسے کہنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں یہی کچھ اس نے کیا اور اس کے مخاطب کرنے کے طریقہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اب دلائل جمع کرنے کی ساری کوششیں مکمل کرلی تھیں اور وہ چاہتا تھا کہ اب موسیٰ سے زور دار طریقہ سے بات کرکے میدان کے اندر اس کو شکست دے دی جائے تاکہ آئندہ وہ کبھی بھی سامنے آنے کی جرات نہ کرسکے ۔
Ayah 20:58

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

(فرعون نے کہا) اچھا ہم بھی اس طرح کے جادو کا کرتب تجھے لا دکھائیں گے ، ہمارے اور اپنے درمیان ایک دن مقرر کر دے ، نہ تو ہم اس (مقررہ دن) سے پھریں نہ تو ، دونوں کی جگہ برابر ہوئی

فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو میدان میں اپنا عصا پیش کرنے کی دعوت دے دی : 58۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ” ہم بھی اس طرح کے جادو کا کرتب تجھے لادکھائیں گے ہمارے اور اپنے درمیان ایک دن مقرر کردے نہ تو ہم اس سے پھریں نہ تو ‘ دونوں کی جگہ برابر ہوئی ، “ مطلب یہ ہے کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اگر تم جادو کے بل پر ہمین ملک سے بےدخل کرنے کی ٹھان چکے ہو تو یاد رکھو کہ ہمارے پاس بھی جادو کی کوئی کمی نہیں ہے ہم بھی ایسا ہی جادو دکھا سکتے ہیں ۔ (سحر) جس کے معنی جادو کئے گئے ہیں کے متعلق ہم عرض کرچکے ہیں کہ وہ کیا تھا اور زیر نظر آیت نے بھی اس کی مزید وضاحت کردی ہے کہ وہ حکومت کرنے کے دلائل ہیں کہ اس علاقے پر حکومت کرنے کا کس کو حق ہے اس میں بھی فرعون نے یہی کہا ہے کہ تم ہم کو ہماری زمین سے سحر کے زور سے نکالنا چاہتے ہو تو ایسا سحر یعنی دلائل ہمارے پاس بھی موجود ہیں تم ان دلائل کے پیش کرنے کے لئے ایک دن مقرر کرلو اور دونوں طرف کے لوگوں کو دعوت نامے بھجوا دو ہم اپنے لوگوں کو بلالیتے ہیں تم اپنے لوگوں کو بلا لو اس طرح کسی ایسی جگہ پر مجمع اکٹھا ہوجائے گا جہاں ہمارے اور تمہارے دونوں طرف کے لوگ بےدھڑک اکھٹے ہو سکیں اور وہاں اس بات کا فیصلہ ہوجائے کہ حکومت کا حق کس کو ہے ؟ فرعون کی اس بات سے کتنی ہی باتیں واضح ہوگئیں ۔ 1۔ آج تک فرعون اور اس کے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے بنی اسرائیل کو کوئی اہمیت نہ دی تھی لیکن اس کی اس بات سے واضح ہوگیا کہ اب وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کا ایک لیڈر سمجھ کر بات کرنے کے لئے تیار ہے ۔ 2۔ یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ بنی اسرائیل اور قبطی خاندان مصر میں الگ الگ اطراف میں رہتے تھے ایک طرف بنی اسرائیل کی آبادی تھی اور دوسری طرف قبطیوں کی ۔ 3۔ آج تک بنی اسرائیل اس حد تک دب چکے تھے کہ فرعون کے سامنے بات کرنے سے ہچکچاتے تھے لیکن اس وقت جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ بات کہی بنی اسرائیل کے لوگ فرعون اور اس کے اعوان وانصار کے مقابلہ میں آکر بات کرنے کے لئے تیار نظر آتے تھے ۔ 4۔ فرعون نے اپنے اعوان وانصار سے بنی اسرائیل کے موقف کے متعلق کھل کر بات کرلی ہے اور اپنے لوگوں کے دلائل پر وہ مطمئن ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں کا جواب ہماری طرف سے دیا جاسکے گا ۔ 5۔ فرعون نے جن لوگوں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لئے تیار کیا ہے وہ بھی یقینا بنی اسرائیل کے قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اور یہ اس کی نہایت گہری سکیم وسازش تھی ، موسیٰ (علیہ السلام) کو شکست دینے کی ۔ 6۔ قبطیوں میں فی الواقعہ حکومت کرنے اور حکومت کا صحیح کاروبار چلانے کی صلاحیت بالکل نہ تھی وہ بنی اسرائیل ہی کے ایک گروہ کو بنی اسرائیل کے اکثریتی گروہ کے مقابلہ میں بطور ہتھیار استعمال کر رہے تھے ۔ 7۔ قرآن کریم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قارون جو ایک بہت بڑا مالدار اور بہت ہی عزت وجاہ رکھتا تھا اس کا تعلق بھی بنی اسرائیل ہی سے تھا ۔ 8۔ فرعون کی بیوی آسیہ بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے خاندان کی خاتون تھی بلکہ کہا گیا ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی چچا زاد بھی تھی ، اس طرح فرعون نے نہایت گہری سکیم کے تحت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس مناظرہ کی دعوت دی لیکن جادو وہ جو سرچڑھ بولے کے تحت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اس کی بات سنتے ہی ذرا دیر نہ کی اور فورا اس کی بات کو منظور کرلیا اور نہایت دلیری اور جرات سے اس کو جواب دیا ۔
Ayah 20:59

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے (فرعون اور اس کے حواریوں سے) کہا جشن کا دن تمہارے لیے مقرر ہوا ، دن چڑھے لوگ اکٹھے ہو جائیں

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی بات سنتے ہی فورا اس کو جواب دیا : 59۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی یہ بات سنی تو محسوس کر گئے کہ قدرت الہی کا کرشمہ ہونے ہی والا ہے کیونکہ کہاوت ہے کہ سانپ کی موت آتی ہے تو وہ راستہ پر آکر بیٹھ جاتا ہے گویا فرعون نے ہمت کرکے جو ہمیں دعوت دی ہے تو یقینا اس کی موت کا وقت قریب آچکا ہے کہ سیدھے منہ بات بھی نہ کرنے والا انسان جب برابری کی بات کر رہا ہے تو اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہوگا کہ اب اس کے گلے میں لقمہ پھنس چکا ہے ، اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے بےدھڑک اس کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے انہی لوگوں کے ایک بہت بڑے تہوار ہی کا دن مقرر کردیا تاکہ مجمع عام ان دلائل کو سن سکے اس لئے آپ نے فرمایا کہ تمہارے ہی جشن کا دن تمہارے لئے مقرر ہوا اور اعلان کرا دو کہ دن چڑھے لوگ اکھٹے ہوجائیں اور جو کچھ اللہ کو منظور ہو وہ سورج کی روشنی میں سب لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوجائے تاکہ فرعونیوں کو شور شرابے کا وقت ہاتھ ہی نہ آئے اس طرح فرعون کو جو امید تھی کہ شاید موسیٰ لیت ولعل کرے اور میری پھٹکار کام کر جائے لیکن اس کے سامنے چودہویں صدی کا کوئی ملاں نہیں تھا بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) جیسا ایک جلیل القدر نبی تھا فرعون کو موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب سنتے ہی جلاب لگ گئے لیکن اب مرتا کیا نہ کرتا ، دعوت اس نے خود دی تھی اور جس زور وشور سے دی تھی اسی زور وشور سے زیادہ آگے بڑھ کر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو منظور فرمایا اور یہ منظور فرعون کے گلے میں استروں کی مالا ثابت ہوئی اور بعینہ نبی اعظم وآخر ﷺ کو یہ حالات صلح حدیبیہ میں پیش آئے اور اس صلح کا بالکل یہی نتیجہ نکلا ، بہرحال فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات سنی تو آپ کی طرف سے توجہ ہٹالی اور اپنی سکیم کو کامیاب کرنے کی فکر میں لگ گیا ۔
Ayah 20:60

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

پھر فرعون نے ان سے رخ پھیرا ، اپنے تمام داؤ جمع کیے ، پھر نمودار ہوا

فرعون موسیٰ (علیہ السلام) سے توجہ ہٹا کر اپنی مکاریوں کی فکر کرنے لگا : 60۔ فرعون نے جب موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب سنا جس کی اس کو قطعا توقع نہ تھی تو اب سوائے اس کے کوئی چارہ نہ رہا کہ اب اپنی مکاریاں اور اپنے سارے داؤ جمع کرے تاکہ وقت سے پہلے نہیں تو وقت پر تو ان کو ہمراہ لے کر میدان مناظرہ میں نکل آنے میں پہل کرے اور اس طرح اس نے اس جگہ سے جہاں یہ جواب وسوال موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوا ہٹ کر اپنی تیاری میں لگ گیا اور جو کچھ اس سے ہوسکا وہ سب کچھ لے کر وہ میدان مناظرہ میں وقت پر آموجود ہوا ۔ اس نے کیا کیا تدبیریں کیں اور کیا کچھ سازو سامان اور دلائل جمع کئے قرآن کریم نے اس جگہ اس کا نظر انداز کردیا اور اس کی تفصیل یہاں نہیں کی لیکن دوسری جگہ اس کے ان مکروں ‘ تدبیروں اور شعبدہ بازیوں کا ذکر موجود ہے قرآن کریم نے اس کی تفصیل کئی ایک جگہ پر کی ہے لیکن سورة الاعراف میں بہت وضاحت کردی اس لئے آپ تفسیر عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الاعراف کی آیات 106 تا 130 ملاحظہ کریں وہاں ہم نے اس کی پوری تفصیل کردی ہے ۔
Ayah 20:61

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ، افسوس تم پر ! دیکھو اللہ پر جھوٹی تہمت نہ لگاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی عذاب بھیج کر تمہاری جڑ اکھاڑ دے جس کسی نے جھوٹی بات بنائی وہ ضرور نامراد ہوا

میدان مناظرہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے تمہیدی الفاظ مجمع عام میں : 61۔ میدان مناظرہ میں پہنچ کر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے فقط بنی اسرائیل کو نہیں مجمع عام کو مخاطب کیا اور تمہید ہی میں ان پر شرک وکفر کا انجام کھول کر رکھ دیا اور چند ہی الفاظ میں پوری داستان اور داستان کا مال ونتیجہ ان کے سامنے پیش کردیا اور واضح الفاظ میں ان کو کہا کہ حق کا مقابلہ کرکے تم کامیاب کیسے ہو سکتے ہو ؟ تم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس ملک کی حکومت بنی اسرائیل کو کیسے ملی ؟ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ بنی اسرائیل نے اس کا انتظام کیسے چلایا ؟ تم اس سے بھی اچھی طرح واقف ہو کہ اس ملک کی اچھی ساکھ قائم کرنے میں ہمارے آباء و اجداد کا کردار کیا رہا ؟ تم اس سے بھی بیخبر نہیں ہو کہ کس طرح تم نے بنی اسرائیل سے حکومت چھینی اور آج تم بذات خود کیسا قانون ملک میں رائج کرچکے ہو جس کے نتیجہ میں بنی اسرائیل کو شودر بنا کر رکھ دیا ہے اور اب یہ زندہ ہیں تو فقط تمہارے فائدے کے لئے کہ تمہاری خدمت کریں اور اس صلہ میں ان کو روٹی ملتی رہے آخر ظلم کی کوئی انتہا ہوتی ہے اور تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ ظلم کی رات چاہے کتنی لمبی ہو بہرحال عدل وانصار کا سورج بھی طلوع ہوتا ہے ، یہ وہ وقت ہے کہ تمہارے ظلم کا شکار صرف بنی اسرائیل نہیں ہوئے بلکہ تم نے اللہ کی ذات کو بھی اپنے ظلم کا نشانہ بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی کہ شرک کی لعنت کو اس مالک میں عام کردیا ہے ، ہر غرض وغایت کے لئے تم نے ایک معبود اور خدا بنا رکھا ہے اس کے صلہ میں یقینا وہ وقت آنے والا ہے کہ تمہاری ان ہڈیوں سے گوشت نوچ لینے کا عذاب تم پر مسلط ہوجائے جس سے گھل گھل کر تم مرو (فیسحتکم بعذاب) (سحت) کے لفظ نے بات کی وضاحت بھی کردی کہ دراصل موسیٰ (علیہ السلام) کے اس خطاب کے مخاطب وہی لوگ تھے جو مناظرہ کی غرض سے موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے لائے گئے تھے اور جن کے متعلق ہم نے عرض کیا ہے کہ دراصل یہ بھی بنی اسرائیل ہی کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے جو فرعون کے آلہ کار بنے ہوئے تھے کیونکہ (سحت) اس مال کو کہتے ہیں جو حرام طریقوں سے کمایا جائے اور خصوصا وہ حرام طریقے جو مذہب کے نام سے رائج کئے گئے ہوں اور ظاہر ہے کہ جو ” ساحر “ اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں لائے گئے ان کا مقصد انعام واکرام حاصل کرنا ہی تھا جس کا آتے ہی انہوں نے فرعون سے اظہار بھی کردیا جیسا کہ تفصیل سورة الاعراف میں گزر چکی ، موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر کی تمہید ہی نے دراصل ان کا کام تمام کردیا اور ان کے اندر ہلچل مچ گئی اور (آیت) ” وقد خاب من افتری “۔ کے الفاظ نے ان سب کے نہیں تو بعض کے رونگٹے ضرور کھڑے کردیئے ۔
Ayah 20:62

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

لوگ آپس میں رَدّ و کد کرنے لگے اور پوشیدہ سرگوشیاں شروع ہو گئیں

موسیٰ (علیہ السلام) کی اس تمہید کے نتیجہ میں وہ مجلس سے الگ ہو کر سوچنے لگے : 62۔ یہ اجتماعی گفتگو تھی جس میں موسیٰ (علیہ السلام) نے تعارفی خطاب کیا تھا اور ابھی دونوں فریقوں کا آمنے سامنے سٹیج جمانا اور باقاعدہ اپنے اپنے دلائل پیش کرنا باقی تھا اور اس کی تیاری کے لئے فریقین نے اپنی نشتیں سنبھالنا تھیں کہ فرعون کے اعوان وانصار اور اس کے مدعو کردہ ساحروں میں ایک الگ مجلس قائم ہوئی جس میں اس موضوع پر کچھ تنازع ہوا کہ جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے تعارفی پیغام میں کہا ہے اس میں کتنی صداقت اور اس کا جواب کیا ہو سکتا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی صداقت کا لفظ فرعون اور اس کے حاشیہ برداروں کو کب برداشت ہو سکتا تھا اور وہ بھی عین میدان مناظرہ کے اندر جو کہیں خاص پروگرام کے تحت علیحدگی میں مجلس قائم کی جس کو خفیہ رکھا گیا گویا خصوصی میٹنگ میں ایسی ڈھیلی بات کو فرعون اور اس کے حواریوں نے پسند نہ کیا اور بپھر کر بولے کہ یہ بات تم نے کیسے کہہ دی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت کا تذکرہ تم نے کیسے کردیا ؟
Ayah 20:63

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

پھر بولے یہ دونوں بھائی ضرور جادوگر ہیں ، یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور پھر تمہاری شرف و عظمت کے مالک ہو جائیں

فرعون کے حاشیہ برداروں نے اپنے مناظرین کے گلے میں خاص پروگرام اتارنے کی سعی کی : 63۔ اس خفیہ میٹنگ میں جہاں تبالہ خیال کرتے وقت کسی سے کوئی ڈھیلی بات ہوئی تھی اس کا سختی سے نوٹس لیا گیا اور فرعون کے حاشیہ برداروں نے ان مناظرین کے سامنے صورت حال رکھتے ہوئے موضوع بحث ان کے گلے سے اتارنے کی مکمل کوشش کی تاکہ اس کو وہ اچھی نگل لیں اور اس موضوع پر اپنی گفتگو کریں کہ یہ دونوں ساحر ہیں یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کہ ان کی باتوں سے لوگ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے اور ان دونوں کا اصل مقصد اس ملک کے اصل مالکوں کو اس ملک سے نکال دینا ہے حالانکہ یہ ہمارے غلام ہیں اور ان کے باپ دادا کو ہمارے بزرگوں نے خریدا تھا لیکن انہوں نے غلطی یہ کی کہ اس کو تخت وتاج کا مالک بنا دیا اور جب ہم نے اپنا تخت وتاج واپس لیا تو یہ لوگ بپھر گئے اور ان کو حکومت کی ایسی چاٹ لگی کہ اب یہ لوگ حکومت کرنا اپنا حق سمجھنے لگے یہ دونوں ساحر اس میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور باقی انہوں نے مذہب کے نام جو ڈھونگ رچایا ہے یہ صرف ظاہر داری ہے ان کے اندر فقط انتقام ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقہ سے ہمیں یہاں سے نکال دیں اور خود تاج وتخت کے مالک بن بیٹھیں اور ہم نے ان کے عظائم کو خاک میں ملانا ہے ، اگر ان کو موقع مل گیا تو یہ اس تہذیب کا ستیاناس کریں گے اور فرسودہ قانون کو نافذ کرنے کی کوشش کریں گے اور ہم نے جو اصلاحات نافذ کی ہیں ان سب کو ختم کرکے رکھ دیں گے ۔ فرعون کے حاشیہ برداروں کے استدلال پر ایک بار پھر غور کرو کہ وہ کس قدر احتیاط سے کام لیتے ہوئے کتنی بڑی سیاست سے گفتگو کر رہے ہیں کہ (یرید ان یخرجکم من ارضکم) وہ تم کو تمہاری زمین سے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ اور تمہاری عزت وشرف کے مالک ہوجائیں یا تمہاری اصلاحات کو ختم کرکے رکھ دیں ۔ (طرق) کے معنی ایک چیز کو دوسری پر مارنے کے ہیں اس لئے طرق راستے کو کہتے ہیں کیونکہ اس کو پیروں سے روندا جاتا ہے اور پھر یہ لفظ ہر ایک مسلک پر بھی بولا جانے لگا جس کو انسان اختیار کرتا ہے وہ اچھا ہو یا برا صحیح یا غلط (مثلی) امثل کے معنی میں ہے یعنی وہ چیز جو اچھی ‘ بہتر اور اقرب الی الخیر سمجھی جائے (اماثل القوم) ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو قوم کے بہترین لوگ ہوں ۔ (مثلے) اس سے تانیث ہے اور (طریقۃ مثلی) سے مراد ان کے رسوم و رواج اور ملکی اصلاحات ہیں جن کو وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں اچھا سمجھتے تھے یا اچھاکہتے تھے جیسا کہ ہمیشہ مخالفین کے مقابلہ میں اپنے پروگراموں کو سراہا جاتا ہے اور اچھا سمجھا جاتا ہے خواہ وہ کتنے ہی نکمے ہوں ان باتوں کو سمجھنے کے لئے اس وقت کی مختلف پارٹیوں کی حکومتوں اور ان کے پروگرواموں کو پیش نظر رکھ کر غور کرو گے تو بات مزید واضح ہوجائے گی ۔