20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 20:107

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

کہیں تم کجی نہ پاؤ اور نہ اونچ نیچ

اس زمین میں آپ نہ کجی دیکھیں گے اور نہ اونچ نیچ دیکھیں گے : 107۔ ان آیات کریمات میں نبی کریم ﷺ کے ذریعہ سے خطاب عام ہے اور یہ آیت بھی گزشتہ آیت کی طرف کفار کے سوال کی مزید وضاحت کے طور پر کہی گئی ہے کہ اس زمین میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں رہے گا کیونکہ پن کی اصل وجہ اس زمین کے نشیب و فراز ہیں کہیں سے یہ اتنی گہری چلی گئی ہے کہ گویا تحت الثری کو پہنچ گئی ہے اور دوسری طرف یہ اتنی اونچی نظر آتی ہے کہ پہاڑوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور اس زمین سے یہ نشیب و فراز سب ختم کر کے رکھ دیئے جائیں گے اور اس کی صورت کیا ہوگی ؟ یہ بات اللہ تعالیٰ ہی کے علم سے متعلق ہے ہمارا تو فقط یقین ہے کہ ایسا ہوگا کیونکہ اس طرح کے آثار بلاشبہ دیکھنے میں آرہے ہیں کہ اب اس کو ہموار ہونا ہی ہے ۔
Ayah 20:108

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس دن سب پکارنے والے کے پیچھے ہو لیں گے اور خدائے رحمن کے جلال کے آگے سب کی آوازیں خاموش ہوجائیں گی پس اس سناٹے میں کوئی آواز سنائی نہیں دے گی مگر صرف قدموں کی آہٹ

اس دن سب لوگ بلانے والے کے پیچھے چلے جا رہے ہوں گے : 108۔ زیر نظر آیت میں بتایا جارہا ہے کہ یہ لوگ تو نبی اعظم وآخر ﷺ کی بات سننے کے لئے تیار نہیں کہ وہ راہ ہدایت کی طرف دعوت دیتا ہے اور لوگ ہیں کہ ناک بھوں چڑھاتے چلے جا رہے ہیں اور ان باتوں کو سننے کے لئے ان کے کان تیار ہی نہیں اور اس کی مخالفت میں گلے پھاڑ پھاڑ کر (ھذا رجل مجنون) کے نعرے بلند کر رہے ہیں وہ رسول کی بات سننے کو تیار نہیں اور آنے والے کل کو معلوم ہے کہ کیا ہوگا ؟ داعی جب پکارے گا تو یہ سب اس کے پیچھے پیچھے چل دیں گے اور کسی کی مجال نہ ہوگی کہ سرمو اس سے انحراف کرسکے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے آوازیں پست کئے ہوں گے اور مارے خوف کے ان کی نظریں اس قدر جھکی ہوں گی کہ وہ آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت بھی نہیں رکھیں گے اور آپ کہیں سے سنیں گے تو وہ ایسی ہی بات ہوگی جیسے کوئی کانا پھوسی کر رہا ہو اور اس سے زیادہ کوئی نہیں ہوگا ۔ (ھمس) صورت خفی کو کہتے ہیں جو نہایت حد تک پست ہو ۔ اس آیت میں پیش گوئی کے طور پر یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ وہ لوگ جو پہلے ہمارے رسول محمد ﷺ کے سخت مخالف تھے وہ آپ کے متبع ہوجائیں گے اور سرکشی کی بجائے وہ فروتنی اختیار کریں گے ۔
Ayah 20:109

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس دن سفارشیں کچھ کام نہ دیں گی مگر ہاں ! جس کو خدائے رحمن اجازت دے اور اس کا زبان کھولنا پسند فرمائے

اس روز کسی کی کوئی سفارش بھی نہیں کرسکے گا الا یہ کہ رحمن اجازت دے : 109۔ دنیا کی ساری قومیں مزعومہ شفاعت کے سہارے تلاش کرتی رہی ہیں اور آج بھی کر رہی ہیں ۔ کچھ لوگ تو آخرت کو مانتے ہی نہیں اور جو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں ان کا سارا انحصار اپنے اپنے مذہبی پیشیواؤں اور لیڈروں کے متعلق یہ ہے کہ یہ لوگ ہماری سفارش کرکے ہمیں اللہ رب العزت کے عذاب سے بچالیں گے اور اسی شفاعت کے سہارے لوگ وہ کچھ کر رہے ہیں جس سے زیادہ بڑی برائی کوئی اور نہیں ہوسکتی ۔ یہود کی تاریخ تو ایسے مفروضوں سے بھری پڑی ہے اور عیسائیت کا انحصار ہی سارا اس شفاعت پر ہے اور دوسرے سارے لوگ خواہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے والے ہوں یا جنوں کا حسب ونسب خدا سے جوڑنے والے ‘ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دینے والے ہوں یا عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کی نرینہ اولاد ماننے والے یا اس وقت کے بدعتی سب میں قدر مشترک یہی ہے کہ وہ اپنے اپنے بزرگوں اور پیشیواؤں کو اللہ تعالیٰ کے لاڈلے اور چہیتے سمجھتے ہیں اس لئے ان کا خیال ہے کہ ہم پر اگر کوئی گرفت آئی تو ہمارے سفارشی ہماری سفارش کرکے ہمیں اس گرفت سے بچا لیں گے اور زیر نظر آیت میں ان سب کی تردید کردی گئی اور فرمایا کہ کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ وہ اللہ کے ہاں کسی کی سفارش کرے مگر ہاں ! اللہ تعالیٰ خود جس کی سفارش کی اجازت دے گویا کام آنے والی سفارش کے لئے دو شرطیں لازم ہیں کہ سفارش کرنے والے کو اللہ تعالیٰ سے سفارش کی اجازت حاصل ہو اور یہ بھی کہ جس کے لئے سفارش کرنا چاہے اس کے لئے بھی سفارش کرنے کی اجازت دی گئی ہو اور علاوہ ازیں شفاعت کا کوئی تصور ہی نہیں ۔
Ayah 20:110

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے گزر چکا ، اور انسان اپنے علم سے اس پر چھا نہیں سکتا

علم الہی سب پر محیط ہے مگر اللہ کے علم پر کوئی محیط نہیں ہو سکتا : 110۔ زیر نظر آیت میں اس بات کی وضاحت فرما دی گئی کہ شفاعت پر یہ پابندی کیوں ہے ؟ فرمایا اس لئے کہ علم الہی سب پر محیط ہے یعنی پروردگار عالم پر ہر ایک انسان کا ریکارڈ واضح ہے کہ کون کیا کچھ کرتا رہا ہے اور کیا کچھ نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور خواہ وہ کوئی نبی ورسول ہو یا جن اور فرشتہ یہ نہیں جانتا کہ کسی کا کیا ریکارڈ ہے آیا اس کی سفارش کرنی چاہئے یا نہیں ؟ اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی شخص کیا سیرت وکردار لے کر آیا ہے اور اس کی گردن پر کس کس کی ذمہ داریوں کا بار ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہر شخص کے ریکارڈ سے واقف ہے اور وہ ہر ایک کے کارناموں اور کرتوتوں کو جانتا ہے ، وہ نیک ہے تو کتنا اور مجرم ہے تو کس درجہ کا اور کیا وہ معافی کے قابل ہے یا معافی کے قابل نہیں ۔ اس کی سزا کیا ہے اور کیا نہیں اس لئے یہ کیونکر صحیح ہو سکتا ہے کہ انبیاء ورسل یا فرشتوں اور جنوں کو کھلی سفارش کی اجازت دی جائے کہ وہ چاہیں جس کی سفارش کریں اور اللہ تعالیٰ ان کی سفارش کو ضرور قبول فرمائے ، یہ دنیا کی سی سفارش بھی نہیں کہ سفارش کرنے والے خود بھی رشوت کھائیں اور اپنے اعلی افسروں کو بھی رشوت کھلا کر جس کا چاہیں کام کرا دیں اور جسے چاہیں پیچھے ہٹا دیں اور افسر اعلی کو کہہ دیں کہ اس شخص کا انٹی کرپشن والوں سے رابطہ ہے اس لئے رشوت لی نہیں جاسکتی اور مفت میں کام کون کرے ؟ وہ زمین و آسمان کا مالک حقیقی ہے اور سارے انسانوں کے اعمال سے بخوبی واقف ہے اس کو سب کچھ معلوم ہے وہ جانتا ہے کہ کس کا سفارش سے کام ہو سکتا ہے اور کون سفارش کے قابل نہیں۔ پھر دنیا کی سفارش میں یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص جس کی سفارش کر رہا ہو اگر اعلی افسر اس کے متعلق جانتا ہو کہ یہ ایسا ہے تو وہ سفارش سے برملا کہہ دے کہ جس کی سفارش کے لئے آپ تشریف لائیں ہیں اس کے تو اس طرح کارنامے ہمارے تک پہنچ چکے ہیں یہ اس قابل نہیں کہ اس کی سفارش آپ کریں تو اس سفارش کرنے والے کو کتنی خفت ہوگی کیا اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں ‘ رسولوں اور نیک بندوں یا فرشتوں اور جنوں کو اس طرح کہہ دے کہ میرے نبی یا میرے رسول جس کی سفارش تم کر رہے ہو وہ تو اس قابل نہیں کہ اس کی سفارش کی جائے تو سفارش کرنے والے کی حیثیت کیا رہی ؟ اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اس بات کا اعلان فرما دیا کہ کوئی نبی ورسول یا جن اور فرشتہ ہمارے ہاں سفارش نہیں کرسکتا۔ الا یہ کہ ہم خود اس کو اجازت دیں کہ تم فلاں کے متعلق سفارش چاہتے ہو تو کرلو ہم آپ کو سفارش کا حق دیتے ہیں تو بلاشبہ وہ نبی ورسول جس کے متعلق اس کی سفارش کرنے کا حق ملے گا چاہے گا تو سفارش کرے گا اور اگر وہ سفارش کرے گا تو یقینا قبول بھی ہوگی ۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ دنیا میں بھی صحیح سفارش کا یہی ہے اور ایسی سفارش کرنے کی بھی اجازت ہونا چاہئے اور اگر وہ سفارش کرے تو اس کی قبولیت بھی ہونی چاہئے اور وہ اس طرح ممکن ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں اور نیک لوگوں کو سفارش کا حق دیا ہے ۔ ایسی سفارش کی حقیقت سب پر روشن ہے اور اس کی اجازت بھی دی گئی ہے اور اس کو قبول کرنے کا وعدہ الہی بھی موجود ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ وہ قبول بھی ہوگی لیکن اس میں اس نظریہ کا مکمل رد ہوگیا کہ : پکڑے خدا چھڑائے محمد محمد کے پکڑے چھڑا کوئی نہیں سکدا ! صحیح اور سچی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو پکڑے گا اس کو کوئی بھی چھڑا نہیں سکے گا ، ہاں ! جس کو پکڑنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اذن مل جائے کہ آپ ﷺ فلاں کی سفارش کرسکتے ہیں اور وہ اس قابل ہے کہ اس کو معاف کیا جاسکے تو آپ ﷺ چاہیں گے تو اس کی سفارش کرسکتے ہیں اور وہ اس قابل ہے کہ اس کو معاف کیا جاسکے تو آپ چاہیں گے تو اس کی سفارش کریں گے اور یقینا اس کو شرف قبولیت بھی حاصل ہوگا اس کی مثال یوں سمجھیں کہ ایک اہلیت کے لوگوں کو طلب کیا جائے اور جو لوگ اس اہلیت پر پورے اتر سکیں ان کے متعلق حکومت نے اعلان کردیا ہو کہ وہ ان ان لوگوں میں سے کسی کی سفارش اپنی درخواست کے ساتھ لگوا دیں تو ان کا کام ہوجائے گا تاکہ ان لوگوں کی اہمیت واضح ہو سکے تو ایسا کیا جاسکتا ہے اور اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے اور ایسا انتخاب بھی اہلیت رکھنے والوں ہی سے ہوگا دوسروں سے نہیں ۔ خدا کرے کہ سفارش کے متعلق یہ نظریہ آپ کی سمجھ میں آسکے اور آپ ناجائز سفارش کو سمجھ سکیں ۔
Ayah 20:111

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اس { حیی وقیوم } کے آگے سب کے سر جھک گئے جس نے ظلم کا بوجھ لاد لیا تھا ، وہ نامراد ہوا

اس روز سب چہرے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں جھکے ہوں گے : 111۔ فرمایا کسی صاحب غرور کا غرور اس روز کام نہیں آئے گا اور کوئی منکر و متکبر انکار وتکبر کا اظہار تک نہ کرسکے گا بلکہ بڑے بڑے مطلق العنان بادشاہ فاتحان عالم ‘ سرکش رؤسا وامراء قیامت کے روز جب خداوند ذوالجلال کے حضور میں حاضر ہوں گے تو ان کی گردنیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان کے چہروں پر عاجزی اور درماندگی کے آثار نمودار ہو رہے ہوں گے اور کوئی دم نہیں مار سکے گا اور اس روز کسی ظالم سے ظالم کی بھی کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی بلکہ وہ جتنا بڑا ظالم ہوگا اتنا ہی خائب و خاسر بھی ہوگا نہ وہ کسی کو اپنی سنا سکے گا اور نہ اس کی کوئی سننے کو تیار ہوگا اور ظالم سے مراد اس جگہ عام ظالم بھی ہو سکتے ہیں اور مشرک بھی پھر ظالم کو ظلم کرنے اور مشرک کو شرک کرنے کا موقع ہی کیونکر میسر آئے گا ؟
Ayah 20:112

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جس کے عمل اچھے ہوئے اور وہ مومن بھی ہوا تو اس کے لیے کوئی اندیشہ نہ ہوگا ، نہ تو ناانصافی ہوگی نہ حق تلفی !

مومن کے لئے اس دن کوئی خوف و خطرہ نہ ہوگا ‘ نہ ناانصافی اور نہ حق تلفی : 112۔ اچھا عمل ہی ہے اس کو مومن کرے یا کافر اور برا عمل برا ہی ہے اس کو مومن کرے یا کافر ، کوئی عمل مومن کے کرنے سے اچھا اور کافر کے کرنے سے برا نہیں ہوتا ۔ اب رہا اس کا بدلہ تو یقینا وہ بھی ہر اچھے عمل کا بدلہ اچھا ہے اور ہر برے عمل کا بدلہ برا فرق یہ ہے کہ مومن جب اچھا عمل کرتا ہے تو اس کو اس کا بدلہ اس دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی یقینا اس کا اچھا بدلہ ملے گا اور ایک مومن سے جب کوئی برا عمل ہوجاتا ہے تو اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں کہ یا تو وہ عمل اتنا برا ہے کہ اس کے کرنے سے وہ مومن ہی نہیں رہتا تو اس کا معاملہ کافر والا ہوگیا اور اگر وہ مومن رہتا ہے تو اس کی سزا اس کو دنیا میں مل ہی جاتی ہے اور کئی طریقوں سے ہوسکتی ہے حتی کہ اس کو مومن سمجھتے ہوئے جب سب برا جانیں گے تو گویا یہ بھی اسی عمل کی سزا سے اس کو کہا گیا ہے اور یہ بھی کہ اگر وہ اس کی معافی طلب کرتا ہے تو اس کو یقینا معاف بھی کردیا جاتا ہے کیونکہ سیئات کو محو کرنے کا واضح ذکر قرآن کریم میں موجود ہے ، رہا اس کا عکس کہ اگر کافر کوئی اچھا عمل کرتا ہے تو اس کا اجر بھی اس کو یقینا ملتا ہے لیکن اس دنیا میں اس کا بدلہ چکا دیا جاتا ہے اور کچھ نہیں تو لوگ بہرحال اس کے اچھے عمل کو جو پسند کرتے ہیں اور اس کی داد دیتے ہیں تو یہ بھی گویا اس کے عمل کا بدلہ ہی ہے جو اس کو مل رہا ہے لیکن آخرت میں اس کا ہر حال میں کچھ اجر وثواب نہیں ہوگا اور اگر کافر کا عمل بھی برا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی سزا بھی اس کو یہاں اور وہاں پوری پوری ملے گی اور وہ (خسرالدنیا والاخرۃ) ہو کر رہ جائے گا۔ اس لئے زیر نظر آیت میں یہ ارشاد فرمایا گیا کہ مومن کو جو اعمال صالحہ کرے ظلم اور ہضم کا خوف نہیں ہوگا ۔ ظلم یہ ہے کہ ایک شخص نے ایک کام نہ بھی کیا تو بھی اسے سزا دی جائے جیسا کہ دنیا میں بعض اوقات ہوجاتا ہے کہ باپ کے عوض میں بیٹا یا بیٹے کے عوض میں باپ پر بھی سزا پڑ سکتی ہے اگرچہ وہ وقتی طور پر ہی ہو اور یہ بھی ظلم کی ایک صورت ہے کہ جتنا کام اس نے کیا ہو سزا اس کو اس سے زیادہ دے دی جائے اور یہ بھی بعض اوقات دنیا میں ہوتا رہتا ہے اور ہضم یہ ہے کہ جو کام اس نے اچھا کیا ہو اس کے بارہ میں اس کی حق تلفی ہو اور اس کا بدلہ اس کو اچھا نہ ملے یا کم ملے اور پورا نہ ملے ۔ مثلا ایک کافر نے ہسپتال بنا دیا اور اس پر لاکھوں بلکہ کروڑوں روپیہ اس نے خرچ کردیا ظاہر ہے کہ یہ کام اچھا ہے ، اب یہ تو نہیں کہ کوئی کہہ دے چونکہ ایک کافر نے اس کو بنوایا ہے لہذا یہ کام اچھا نہیں بلکہ برا ہے ہرگز نہیں یہ کام اس کا یقینا اچھا ہے اور اچھا ہی سمجھا جائے گا لیکن اس اچھے کام کا اس کو بدلہ بھی تو مل رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر آدمی اس کو اچھا کہہ رہا ہے اور اس کے کام کو سراہ رہا ہے اور بلاشبہ اس کے اس کام یعنی ہسپتال بنوانے کا صلہ ہی مل رہا ہے اور جب تک وہ ہسپتال ہسپتال ہے لوگ اس کو اچھا کہتے رہیں گے اور اس طرح گویا اس کا بدلا ملتا رہے گا ‘ رہی آخرت تو اس میں اس کو یقینا کوئی اجر نہیں ملے گا کیونکہ کافر کے اجر کا آخرت کے صلہ سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس کافر کی بجائے اگر کسی مومن نے ہسپتال بنوا دیا تو اس کو اس طرح کا اجر جس طرح کا اس کافر کو ملا ‘ دنان میں بھی ملے گا لیکن آخرت میں بھی اس کا اجر محفوظ ہوگا یہی بات اس جگہ ذکر کی جارہی ہے گویا مومن نے اچھا عمل کیا تو اس کا دوہرا اجر پایا اور یہ اس کے ایمان کے صلہ میں ملا اس لئے ایمان ایک بہت بڑی دولت ہے اور یہی وہ دولت ہے جس کو زوال نہیں اللہ تعالیٰ اہل اسلام کو بھی ایسے اعمال کی توفیق دے اور وہ دوہرا اجر وصول کریں ۔
Ayah 20:113

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور دیکھو اس طرح یہ بات ہوئی کہ ہم نے اس قرآن کو عربی کی شکل میں اتارا اور مختلف طریقوں سے اس میں پاداش عمل کی خبر دے دی تاکہ لوگ بچیں یا پھر نصیحت پذیری کی روشنی ان میں نمودار ہو جائے

قرآن کریم کو ہم نے عربی زبان میں اتارا اور مختلف خبریں تم کو پہنچا دیں : 113۔ قرآن کریم کو ہم نے عربی زبان میں نازل کیا اور اس میں ہر طرح کی نصیحتیں اور تعلیمات دینی ہم نے بیان کردیں اور پھر انکو مختلف طریقوں سے تصریف آیات کے تحت بار بار بیان کیا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ہر بات کو اچھی طرح واضح کردیں اور کوئی بات بھی مبہم نہ رہ جائے اور اس میں طرح طرح کی وعیدیں بھی بیان کیں تاکہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں اور ڈر جائیں اور ان عواقب ونتائج کی وضاحت بھی کردی جن سے اس کی تکذیب کرنے والوں کو لازما دو چار ہونا ہے اور اس وقت جب وہ پکڑے جائیں عذر پیش نہ کرسکیں کہ ان کو یاد دہانی نہیں کرائی گئی ، اب اگر وہ اپنی حماقتوں سے باز نہ آئیں تو پھر آنے والے کل کو دوزخ کا ایندھن بننے کے لئے تیار رہیں اور ہماری طرف سے اتمام حجت ہوجائے اور ان لوگوں کے سامنے گزشتہ سرگزشتوں کو ایک بار از سرنو بیان کردیا گیا اور جو چیزیں یہود ونصاری نے ان سرگزشتوں میں اپنی طرف سے ڈال دی تھیں ان کو بالکل الگ کردیا یعنی ان کا ذکر تک نہیں کیا گیا اور نہ ان پر کسی طرح کا کوئی لعن طعن کیا گیا ہے بلکہ ہم نے ان کی طرف سے صرف خاموشی اختیار کی ہے تاکہ قرآن کریم کے قارئین خود سمجھ لیں کہ ان چیزوں کا تعلق الہی صحیفوں میں نہیں آیا بلکہ یہ ان لوگوں کی کارستانیوں کا نتیجہ ہے لیکن افسوس کہ مسلمان مفسرین نے وہ سب کی سب چیزیں وہاں سے اٹھا کر قرآن کریم کی تفسیر کے طور پر بیان کردیں اور آج وہی قصص قرآن کا ایک اہم حصہ بن کر رہ گئے ہیں جیسا کہ ہم پیچھے سے بیان کرتے چلے آرہے ہیں ۔
Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

پس ہر طرح کی بلندی اللہ ہی کے لیے ہے وہی جہاندار حقیقی ہے اور جب تک قرآن کریم کی وحی تجھ پر پوری نہ ہوجائے تو اس میں جلدی نہ کر ، تیری پکار یہ ہو کہ اے پروردگار ! میرا علم اور زیادہ کر

بلندی ہر طرح کی اللہ ہی کیلئے ہے ‘ وہی مالک حقیقی ہے اور وحی میں جلدی مت کر : 114۔ ” بادشاہ حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہ بہت ہی بلند وبالا ہے ۔ “ جس نے قرآن کریم جیسا جامع اور نافع قانون آپ کو مرحمت فرمایا اور ایسا بلیغ دستور حیات اپنے بندوں کے ہاتھ میں دے دیا ۔ لیکن افسوس کہ آج اس قرآن کریم کو قانون کی نہیں بلکہ مردے بخشوانے کی کتاب سمجھ لیا گیا ہے اور زندوں کے لئے اس میں صرف اتنا حصہ رکھا گیا ہے کہ وہ چاہیں تو اس پر ہاتھ پھیر کر اپنے اپنے چہرہ پر مل لیں تاکہ برکت حاصل ہوجائے اور چاہیں اس کو بوسہ دے کر ناک اور ماتھے سے لگا کر رکھ دیں اور ضرورت پیش آئے تو قسم لینے دینے کے لئے اس کو بطور ہتھیار استعمال کریں اور بہترین غلاف میں بند کرکے طاق پر سجا دیا کریں ، زیادہ سے زیادہ یہ کہ ڈنگی سیدھی چار سطریں پڑھ کر پھولے نہ سمائیں کہ ہمیں قرآن کریم پڑھنا آتا ہے ۔ رہی یہ بات کہ قرآن کریم کہتا کیا ہے ؟ یہ معلوم کرنا تو اللہ میاں کے لنگ کو ہاتھ ڈالنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے اور برملا کہا جاتا ہے کہ جو لوگ قرآن کریم کے معنی پڑھیں وہ سب وہابی ہوجاتے ہیں اس لئے قرآن کریم کے معنوں کے قریب جانا اور معلوم کرنا کہ اس میں کیا تحریر ہے جرم نہیں تو ناجائز ضرور ہے ۔ ” اے پیغمبر اسلام ! جب تک آپ ﷺ پر وحی پوری نہ ہوجائے تو اس میں جلدی نہ کر۔ “ نبی اعظم وآخر ﷺ کے پاس جبریل کا وحی لے کر آنا ایک حقیقت تھا لیکن کیا جبریل کا آنا بھی اس کی اپنی مرضی سے تھا ؟ ہرگز نہیں قرآن کریم میں کتنے ہی مقامات پر اس بات کو واضح الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ جبریل کا آنا اس کی اپنی مرضی سے نہیں تھا بلکہ وہ ہر بار اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے نازل ہوا مطلب یہ ہے جبریل کو یہ نہیں کہا گیا تھا کہ یہ قرآن ہے ، آپ کو محمد رسول اللہ ﷺ تک اسے پہنچانا ہے اور جب چاہو اور جتنا چاہو ان کو پہنچا آیا کرو یا یہ کہ پہلے جا کر جائزہ لے لیا کرو اور جس چیز کی ضرورت محسوس کرو اس قرآن کریم سے محمد رسول اللہ ﷺ کو پہنچا دیا کرو ۔ نہیں بلکہ ہر بار جو پیغام پہنچانا ہوتا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبریل کو دیا جاتا اور جبریل (علیہ السلام) محمد رسول اللہ ﷺ تک پہنچا دیتے ۔ آپ ﷺ کو جب جبریل (علیہ السلام) سے ملاقات کا شوق ہوتا یا کسی نئے پیغام کا شدت سے انتظار ہوتا تو آپ ﷺ جبریل سے جلدی تشریف لانے کا ارشاد فرماتے اور وہ آپ کو یہ بات عرض کرتے کہ ہمارا آنا جانا اپنی مرضی سے نہیں ہوتا بلکہ حکم الہی اور اجازت الہی سے ہوتا ہے اور وہ جب چاہتا ہے بھیج دیتا ہے اور جو پہنچانا ہوتا ہے وہ بھی اور ہم اس پیغام کو آپ تک پہنچا دیتے ہیں اس بات کا ذکر پیچھے سورة مریم کی آیت 64 ، 65 میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے ۔ زیر نظر آیت میں بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ” اے پیغمبر اسلام ! جب تک آپ پر وحی پوری نہ ہوجائے “ یعنی وحی کا سلسلہ ختم نہ ہوجائے ” تو اس میں جلدی نہ کر “ یہ خیال دل میں بھی مت لا کہ فرشتہ جلدی کیوں نہیں نازل ہوتا ۔ فرشتہ کا نازل ہونا اس کی مرضی سے نہیں ہے اس لئے آپ ﷺ زیادہ دل تنگ نہ ہوجایا کریں اور شدت سے انتظار کر کے اس شدت انتظار میں خواہ مخواہ ہلکان نہ ہوں آپ ﷺ کو اس بات کا غم نہ ہو ۔ ہم جب چاہتے ہیں فرشتہ کو نازل کردیتے ہیں گویا آپ ﷺ کے شوق کی داد دی جا رہی ہے اور انتظار سے روکا جا رہا ہے کیونکہ اس انتظار سے انسان گھلنا شروع ہوجاتا ہے اور یہ بات آپ ﷺ کی حرص وحی اور احساس ذمہ داری کی خبر دیتی ہے نہ کہ اس کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ کو ابھی وحی کو وصول کرنے کا صحیح طریقہ معلوم نہیں تھا ، یہ بات اس لئے کہی گئی ہے اور آپ ﷺ کو وحی وصول کرنے کا سکھایا جارہا ہے جیسا کہ ہمارے بعض مفسرین نے یہ بیان کیا ہے چناچہ دور حاضر کے ایک بزرگ ومحترم مفسر رقم طراز ہیں کہ : (آیت) ” فتعلی اللہ الملک الحق “۔ پر تقریر ختم ہوچکی تھی اس کے بعد رخصت ہوتے وقت فرشتہ نے اللہ کے حکم سے نبی ﷺ کو ایک بات پر خبردار کردیا جو وحی نازل کرنے کے دوران اس کے مشاہدے میں آئی ، بیچ میں ٹوکنا مناسب نہ سمجھا گیا اس لئے پاغرم کی ترسیل مکمل کرنے کے بعد اب وہ اس کا نوٹس لے رہا ہے ، بات کیا تھی جس پر یہ تنبیہ کی گئی اسے خود تنبیہ کے الفاظ ہی ظاہر کر رہے ہیں ، نبی کریم ﷺ وحی کا پیغام وصول کرنے کے دوران میں اسے یاد کرنے اور زبان سے دہرانے کی کوشش فرما رہے ہوں گے ۔ اس کوشش کی وجہ سے آپ ﷺ کی توجہ بار بار ہٹ جاتی ہوگی ۔ سلسلہ اخذ وحی میں خلل واقع ہو رہا ہوگا ۔ پیغام کی سماعت پر توجہ پوری طرح مرکوز نہ ہو رہی ہوگی ، اس کیفیت کو دیکھ کر یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ آپ ﷺ کو پیغام وحی وصول کرنے کا صحیح طریقہ سمجھایا جائے اور بیچ بیچ میں یاد کرنے کی کوشش جو آپ ﷺ کرتے ہیں اس سے منع کردیا جائے ۔۔۔۔۔۔ ابتدائی زمانہ میں جب کہ نبی کریم ﷺ کو ابھی اخذ وحی کی عادت اچھی طرح نہ پڑی تھی آپ ﷺ سے کئی مرتبہ یہ فعل سرزد ہوا ہے اور ہر موقع پر کوئی نہ کوئی فقرہ اس پر آپ ﷺ کو متنبہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ “ (تفہیم القرآن سید مودودی (رح) جلد سوم ص 128 ، 129) اور مفسرین نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ وہ ان باتوں کا تانا بانا کہاں ملاتا ہیں اور ایسی بات کہنے کی ان میں کیوں اور کیسے جسارت ہوتی ہے لیکن ان باتوں کا ذکر انشاء اللہ العزیز سورة القیامہ میں آئے گا ۔ ہم بتائیں گے کہ اس نظریہ کی بنیاد کیسے غلط رکھ دی گئی اور پھر جب ایک بار بنیاد غلط رکھی گئی ہو تو اس پر عمارت کھڑی کی گئی کیسے سیدھی ہو سکتی ہے ؟ بہرحال یہ بات بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ ہمارا ایمان ہے کہ ایک بار بھی زندگی میں نہ بنی اعظم وآخر ﷺ کو وحی میں شک ہوا کہ یہ وحی ہے یا کیا ہے ؟ نہ آپ ﷺ پر کبھی ایسا بوجھ پڑا کہ اس کو اتارنے کے لئے آپ ﷺ نے کبھی ہلاک ہوجانے کی بات دل میں لائی ہو اور نہ ہی آپ ﷺ نے کبھی وحی الہی کو یاد کرنے کے لئے فرشتہ وحی کے پڑھنے کے ساتھ ساتھ پڑھا ہے کہ آپ ﷺ کو ٹوکا گیا ہو کہ یہ وحی وصول کرنے کا طریقہ نہیں اور پھر آپ ﷺ کو صحیح طریقہ تعلیم دیا گیا ہو ، حاش اللہ بالکل نہیں ‘ بلکہ آپ ﷺ میں ملکہ نبوت پوری استعداد کے ساتھ رکھ دیا گیا تھا اور وحی اس وقت آئی جب ملکہ نبوت اس وحی کو وصول کرنے کے لئے بےچین تھا اور اس نے وحی کے آتے ہی اس شوق وذق سے اسے وصول کیا کہ اس کا بیان قلم ادا کرنے سے قاصر ہے اور ملکہ نبوت کے ذوق کا یہ عالم تھا کہ وہ چاہتا تھا کہ یہ موقع بار بار پیش آئے اور جب پیش آئے تو دیر تک رہے کیونکہ نبوت و رسالت ایک وہبی چیز ہے کسبی نہیں کہ کوئی نبی سیکھتے سیکھتے نبی بن گیا ہو اور کوئی رسول پیغام وصول کرنے کی پریکٹس کے ساتھ پیغام وصول کرتا ہو ، خاکم بدہن کہ کبھی ہمارے منہ سے یہ بات نکلے اور ہم نبوت و رسالت جیسے وہبی منصب کو کسبی بنا کر رکھ دیے ۔ ہم تو دل سے سید مودوی (رح) کا احترام کرتے ہیں ان کے ساتھ ہماری غائبانہ عقیدت ہے لیکن ان کی اس طرح کی باتیں ہم تیمت کرنے کے لئے بالکل تیار نہیں کیونکہ ہمیں اندھی تقلید نہیں آتی بلکہ ہم اس کو حرام جانتے اور سمجھتے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ پھر آیت کے اختتام پر نبی کریم ﷺ کو یہ ہدایت کیوں فرمائی کہ (آیت) ” قل رب زدنی علما “۔ کہ اے پروردگار ! میرا علم اور زیادہ کر ۔ کیا اس سے ہم یہ سمجھیں کہ آپ ﷺ کے علم میں کوئی کمی تھی اس لئے آپ ﷺ کو یہ وظیفہ بتایا گیا کہ اس وظیفہ کو پڑھ لینے سے آپ ﷺ کی وہ کمی پوری ہوجائے گی ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک راز ہے جو بندہ کو عبودیت کی تلقین کرتا رہتا ہے اور اس لئے بیان کیا جاتا ہے کہ کوئی آنے والا کسی بندہ کو بندگی کے مقام سے اٹھا کر رب ذوالجلال والاکرام کے مقام پر نہ بٹھا دے اور یہ نہ سمجھنے لگے کہ کہ حضور پر نور ﷺ پر کوئی چیز غائب نہیں تھی اور ہرچیز کا علم آپ ﷺ کے پاس تھا ۔ نبی کریم ﷺ کو یہ الفاظ وحی فرما کر ان نظریوں کا مکمل طور پر رد کردیا اور ساتھ ہی بتا دیا کہ نبی کریم ﷺ کا مقام بھی مقام بندگی ہے اس سے آگے بڑھنا عیسائیوں کی سی افراط ہے جس کو اسلام نہیں کہا جاسکتا ، یہ بات اس طرح ہے جس طرح آپ گناہگار نہ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے تھے بلکہ ایک دفعہ سیدہ عائشہ صدیقہ طاہرہ ؓ نے آپ ﷺ سے استفار بھی کرلیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں “ اس طرح آپ ﷺ کو (آیت) ” رب زدنی علما “۔ کی تلقین فرمائی گئی اور آپ ﷺ نے بھی ہمیشہ اس کو ورد زبان اور حرز جان بنایا اور اس طرح اپنی امت کو بھی یہ سبق دیا کہ اس کو ورد زبان بنائیں اور اللہ تعالیٰ سے نافع علم مانگتے رہیں اور بےمقصد علم کے حصول سے باز رکھنے کی تلقین بھی فرمائی اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا فرما کر کہ ” اے اللہ مجھے ایسے علم سے اپنی پناہ میں رکھ جو میرے لئے نفع مند ثابت نہ ہو۔ “ اور اپنی امت کو بھی یہی سبق سکھایا ۔ لیکن افسوس کہ آج بھی قوم مسلم اور امت محمد رسول اللہ ﷺ میں ہونے کے کتنے دعویدار ہیں جو غیر نافع علم پر ایمان رکھتے اور اس کی طرف دوڑتے ہیں اور ” کالے علم “ اور ” جادو “ اور ” نقش سلیمانی “ کے نام سے جتنی کتابیں چھپ اور بک رہی ہیں اور ان کو ہر کوئی خریدتا اور پڑھتا اور ان پر ایمان رکھتا اور ان کے مطابق عمل کرتا ہے حالانکہ یہ ساری کتابیں سراسر جہالت اور غیر نافع علم ہی نہیں بلکہ ضرر رساں ہیں اللہ تعالیٰ ان سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی ذات کبریا سے نافع علم عطا فرمائے اور اس کے لئے دعا مانگنے کی توفیق بھی عطا فرمائے آمین ثم آمین اور ہم ساری زندگی اس دعا کو ورد زبان بنائیں کہ (آیت) ” رب زدنی علما “۔
Ayah 20:115

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور ہم نے آدم (علیہ السلام) کو پہلے سے جتا کر عہد لے لیا تھا ، پھر وہ بھول گیا اور ہم نے قصد اس میں نہیں پایا

آدم (علیہ السلام) سے لئے گئے عہد اور ان کی بھول کا بیان شروع ہوتا ہے : 115۔ زیر نظر آیت سے ایک انسانی کمزوری کا بیان شروع ہو رہا ہے جو قبل ازیں کتنی ہی بار پیچھے بیان کیا جاچکا ہے انسان کی یہ کمزوری اس کی فطرت میں داخل ہے اس لئے فی نفسہ وہ مذموم نہیں لیکن نفس انسانی کی بعض مزید کمزوریاں جو خود مذموم ہیں وہ اس کے ساتھ مل کر اس کو بھی مذموم بنا دیتی ہیں ۔ اس فطری کمزوری کو ہمیشہ آدم (علیہ السلام) کے تذکرہ ہی سے شروع کیا گیا ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہی انسان اول تسلیم کئے گئے ہیں اور اس طرح یہ بات تفہیم کرائی گئی کہ انسان کی یہ فطری کمزوری اس کے ساتھ ہی معرض وجود میں آئی تھی اور جب تک انسان ہے اس کا رہنا بھی ضروری ہے ۔ اس کمزوری کو بیان کرنے کے لئے اصل اول سے پیدائش کا اصل مقصد اور مرنے کے بعد اس کے لوٹ کر آنے کا مقام اس کو بتانا مقصود حقیقی تھا ، جیسا کہ پیچھے کتنی بار ہی بیان گزر چکا ہے کہ انسان مجموعہ خیروشر کا نام ہے اور اس مرکب کو عقل و شعور عطا فرما کر اس کے اندر خیر وشر کی قوتیں ودیعت کردی گئی ہیں اور اس سے یہ عہد لیا گیا ہے کہ تیرا مقصد حیات یہ ہے کہ تو شر سے بچ کر خیر کو اجاگر کرنے کی کوشش کر اور تجھے اس عوض میں جنتی زندگی عطا کردی جائے گی پھر جنتی زندگی کے مناظر دکھانے کے لئے اس کو عارضی طور پر جنت میں رکھا گیا تاکہ یہی سے اس کی آزمائش کا سلسلہ شروع کیا جائے ، لیکن جب اس کو جنت میں رکھا گیا تو اس مجموعی خیر وشر نے اس کو بہت ہی پسند کیا اور اس کے اندر کی قوتوں نے اپنا عمل شروع کردیا جس عمل کو دوسری جگہ قرآن کریم نے (وسوسہ) کے لفظ سے تعبیر کیا ہے تو مقام اول کی طرف تجھے لوٹنا ہے اور وہاں سے مراجعت پر اگر تو مستحق قرار پایا تو تیرا آخری ٹھکانا جنت ہوگا ۔ جب جنت لوٹ کر نہ آیا یہ میرا ٹھکانہ نہیں ہوسکتا ، اس کے نفس نے جب اس کو وہ سکیم القا کی جس کی بنا پر اس کے وہم میں اس جگہ ہمیشہ رہنے کی سوچ سوچی تھی تو اس سے وہ بھول سرزد ہوگئی اس کی تفہیم کرانے کے لئے اس کو بتایا گیا کہ جنت میں ہرچیز تیرے استعمال کی ہے تو چاہے جو کھائے لیکن اس چیز کو چھو کر بھی نہ دیکھنا نفس نے اس کو القا کیا کہ یہ چیز جس سے منع کیا گیا ہے اس میں ہمارا راز ہے شاید اس کے چھونے سے یہیں کا ہو کر رہ جانا ضروری ہو لہذا اس نے وہی کیا جس سے وہ روکا گیا تھا اور اس طرح اس کی فطرت اس کو سمجھا دی گئی کہ منیہات کی طرف تیری رغبت ہونا لازمی امر ہے اور یہی تیری رسوائی کا باعث ہوں گی ۔ پھر کیا تھا کہ جب آدم (علیہ السلام) سے وہ بھول ہوگئی جو نفس ہی کے وسوسہ کا نتیجہ تھی تو فورا آدم (علیہ السلام) تائب ہوئے اور اپنی بھول کا اعتراف کرلیا اور اس طرح نسل آدم کو یہ بات تفہیم کرانا مقصود تھا کہ بھول جانا فطری چیز ہے لیکن جب معلوم ہوجائے کہ بھول ہوگئی تو فورا تائب ہونا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا تیرے لئے تیرے مقام کو مزید بلند کر دے گا اور یہ نتیجہ ہوگا ان قوی خیر کا کہ انہوں نے قوائے شر پر قابو پالیا اور اس اعتراف کے پانی سے اس شر کی آگ کو بجھا دیا گیا جو کچھ دیر تک سلگنے کے قابل نہ رہی اور اگر ممنوع کام کو کرلینے کے بعد بھول کا اعتراف نہ کیا تو بس سمجھ لے کہ ہلاک ہوگیا اور تیری برائی کی قوتیں تجھ پر سوار ہوگئیں اور تیری خیر کی قوتوں کو شر نے دبا لیا اور جب تک تو اس حالت سے نہیں نکلے گا تیری یہ طاقت شر تجھے ذلیل و خوار کرتی ہی رہے گی یہاں تک کہ تو (خسر الدنیا والاخرۃ) کا مصداق ہوجائے گا ، بہرحال زیر نظر آیت میں فرمایا کہ ” آدم بلاشبہ بھول گیا لیکن ہم نے اس میں اس بھول کا قصد نہیں پایا “ اور اس نے اپنے بھولنے کا اعتراف کرلیا ۔
Ayah 20:116

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور پھر یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (کی خلافت) کو (قبول کرتے ہوئے) سجدہ کرو تو وہ سب سجدہ ریز ہوگئے مگر ابلیس کہ اس نے انکار کیا

آدم (علیہ السلام) کو فرشتوں پر فوقیت عطا کردیئے جانے کا مختصر ذکر : 116۔ فرشتہ کیا ہے ؟ فقط خیر ہی خیر ۔ اور ابلیس کیا ہے فقط شر ہی شر ، اور انسان کیا ہے ؟ خیر وشر کا مجموعہ ، عقل کیا ہے خیر وشر کی پہچان ، اسلام کیا ہے ؟ خیر کے کرنے اور شر سے بچنے ‘ خیر کا حکم دینے اور شر سے منع کرنے کا نام اسلام ہے زیر نظر آیت میں فرمایا کہ انسان کو پیدا کرنے کے بعد ہم نے اس کی آزمائش کی اور جب اس آزمائش سے وہ پاس ہوگیا یعنی اتنے نمبر حاصل کر لئے کہ وہ پاس قرار دے دیا گیا تو ہم نے فرشتوں کو جو مجموعہ خیر ہیں حکم دیا کہ آدم کی فوقیت کا اقرار کرو کیونکہ وہ شرکو دبا کر خیر کی طرف دوڑ آیا ہے فرشتوں نے اس بات کو فوڑا قبول کیا اور ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں سجدہ شکر میں گر گئے اور اس طرح آدم (علیہ السلام) کی فوقیت و برتری کو تہ دل سے مان لیا اور اعتراف کرلیا لیکن وہ قوت جو شر کہلاتی ہے جس کو ابلیس کا نام دیا گیا ہے اس نے انکار کردیا کہ وہ اقرار کر ہی نہیں سکتی تھی اگر اقرار کرلیتی تو ابلیس کیونکر کہلاتی ، دراصل اس کی تفصیل ہم پیچھے سورة الکھف کی آیت 50 ، 51 میں کر آئے ہیں اور اسی طرح عروۃ الوثقی جلد اول میں سورة البقرہ کی آیت 30 ‘ 39 کے تحت بھی بیان کیا گیا ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیں۔
Ayah 20:117

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

اس پر ہم نے کہا اے آدم ! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکال کے رہے اور تم محنت میں پڑ جاؤ

آدم (علیہ السلام) کو بتا دیا گیا کہ یہ تیرا اور تیری بیوی کا پکا دشمن ہے اس سے چوکنے رہنا : 117۔ اس طرح اب قصہ ابلیس وآدم کے مختصر حصص کرکے کبھی کوئی بات اور کبھی کوئی بات بیان کی گئی جس طرح انسان نصیحت کرتا ہے وہی انداز اختیار کیا گیا اس بیان میں ترتیب قصہ ملحوظ نہیں رکھی گئی اور یہ بات قرآن کریم میں اکثر مقامات پر پائی جاتی ہے اور وجہ اسکی یہی ہے کہ تذکیر ونصیحت کے لئے ایسا کرنا لازم وضروری ہوتا ہے تاکہ ضرورت کی بات بیان کرکے اس سے مقصد نصیحت حاصل کیا جائے ، ہمارے مفسرین نے اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات کریمات کو جہاں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ ابلیس نے جوش حسد میں آ کر خود اللہ تعالیٰ کو یہ چیلنج کردیا کہ اگر تو مجھے آدم اور اس کی ذریت کو ورغلانے کی مہلت دے دے تو میں یہ ثابت کر دوں گا کہ نہ یہ مجھ پر کسی فضیلت کا سزاوار ہے اور نہ اس جنت کا حقدار ، لیکن ہم یہ جسارت نہیں کرتے کہ کوئی مخلوق اللہ تعالیٰ کو ایسا چیلنج کرے بلکہ اس کا سیدھا سادا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مجموعہ اضداد کو اس کی فطری قوتوں سے آگاہ کرنے اور ان کی حقیقت سمجھانے کے لئے اس کے اپنے ہی قوی کے مختلف نام رکھ کر اس پر یہ حقیقت واضح کردی کہ تیرے اندر کا دشمن قوت شر تیرے اندر کے ساتھی ملکوتی طاقتوں کو اس میں اس طرح ورغلانے اور پھسلانے کی کوشش کرے گا اور چونکہ تم مرد ہو یا عورت دونوں ایک ہی جنس سے متعلق ہو اگرچہ صنف کے لحاظ سے الگ الگ ہو تاہم فطرت جنس کے لحاظ سے تم ان قوتوں کا شکار ہوجاؤ گے جن کو ابلیس کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اس کی طرف سے چوکنے رہنا اور جب بھی اس کا داؤ چل جائے تو فورا یہ بات سمجھ لینے کے بعد کہ یہ اس کا داؤ ہے توبہ و استغفار کا ہتھیار سنبھال لینا اور اس کو کوڑے سے اس طرح مارنا کہ یہ کان پکڑ جائے ، اگر تم زندگی میں ایسا کرتے رہے تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی اور تمہاری دنیوی زندگی بھی اور اخروی زندگی بھی سنور جائے گی ، اس کی تفصیل دیکھنا ہو تو سورة الاعراف کی آیت 14 تا 22 کی تفسیر دیکھیں یہ عروۃ الوثقی جلد سوم میں آپ کو مل جائے گی ۔
Ayah 20:118

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

تمہارے لیے اب ایسی زندگی ہے کہ نہ تو اس میں بھوکے ہو نہ برہنہ

جنت کا منظر دکھا کر آدم اور اس کی بیوی کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ کن صفات کی حامل ہے : 118۔ آدم (علیہ السلام) کو مع ان کی زوجہ محترمہ اماں حوا کے جنت میں ملاحظہ کی خاطر رکھ کر ان کو بتایا جارہا ہے کہ یہ ایسا مقام ہے کہ یہاں تم کو نہ بھوک ستائے گی اور نہ ہی تم ننگے رہو گے ۔ مفسرین حیران وپریشان ہیں کہ بھوک اور برہنگی کا آپس میں کیا تعلق ہے کیونکہ بھوک کا تعلق تو پیاس کے ساتھ ہے ، معلوم نہیں کہ انکو بھوک اور برہنگی کو جوڑ کیوں بےجوڑ نظر آیا ہے حالانکہ بات تو بالکل صاف اور مفہوم بالکل واضح ہے کہ برہنگی بھوک پر دلالت کرتی ہے اور بھوک انسان کو برہنہ کردیتی ہے اور اس برہنگی اور بھوک میں جتنا وسعو مضمون سما جاتا ہے وہ بھوک اور پیاس کے جوڑ میں کب سما سکتا ہے لیکن ہمارے کم دامنوں کو اس وسیع دامن نے پریشان کردیا ہے اور پھر انہوں نے طرح طرح کے بےجوڑ جوڑ لگانے کی کوشش کی اور وہ ریشم کے لباس پر ٹاٹ کے پیوند لگاتے رہے ۔ بہرحال اس بھوک اور برہنگی کے تصور سے آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ کو ان کی فطری داستان کا ایک بہت بڑا حصہ اور ان چار چھ الفاظ میں سجھا دیا گیا جس کو وہ اس وقت خوب سمجھ گئے اگرچہ ان الفاظ نے ہمارے مفسرین کو کتنا ہی پریشان کیا ۔
Ayah 20:119

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

نہ تمہارے لیے پیاس کی جلن ہے نہ سورج کی تپش

اس جنت میں اے آدم ! آپ کو پیاس بھی نہیں ستائے گی اور دھوپ بھی : 119۔ غور کرو گے تو پیاس اور دھوپ کے جوڑ میں بھی ایک بہت بڑا مفہوم پنہاں ہے اور سمجھنے والے اس کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ وہ کیا مفہوم ہے جو ان چار چھ الفاظ میں بیان کردیا گیا اور اگر اس کو اس طرح بیان نہ کیا جاتا تو اس کے لئے صفحات کے صفحات درکار ہوتے یا گھنٹوں بلکہ دنوں لیکچر دے کر تفہیم کرنا پڑتا ۔ گویا ان چار چھ الفاظ میں دریا کو کو زہ میں بند کرکے رکھ دیا ہے ۔ دھوپ کی شدت پیاس کو کس طرح بڑھاتی اور ستاتی ہے اور پیاس کی شدت دھوپ کی تمازت کو کس طرح بڑھا دیتی ہے اور انسان ایسی حالت میں کیا کچھ کرنے پر تیار ہوجاتا ہے اور اس کی ظاہری حالت اس کی اندرونی کیفیت کو کس طرح عیاں کر کے رکھ دیتی ہے ۔ ذرا مزید گہرائی میں جا کر دیکھو گے تو انشاء اللہ تمہاری باطن کی آنکھیں کھل جائیں گی اور تم پالیا ‘ پالیا کا نعرہ بلند کرو گے اگرچہ تمہیں یہ احساس ہی نہ رہے کہ خود ننگے ہیں یا لباس میں اور لوگ اگرچہ آپ کی ہنسی اڑاتے رہیں ، ہاں ! تو جنت بلاشبہ ایسا ٹھکانا ہے کہ وہاں نہ تمہارے لئے پیاس کی جلن ہے اور نہ ہی سورج کی تپش و تمازت ۔
Ayah 20:120

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

لیکن پھر شیطان نے آدم کو وسوسہ میں ڈالا اس نے کہا ، اے آدم ! میں تجھے ہمیشگی کے درخت کا نشان دے دوں اور ایسی بادشاہی کا جو کبھی زائل نہ ہو

آدم (علیہ السلام) کو شیطان نے ہمیشگی کی جنت اور نہ ختم ہونے والی بادشاہی کا پتہ بتایا : 120۔ اس آیت میں ابلیس کی حیثیت کو وسوسہ کے لفظ نے اتنا واضح کردیا کہ مزید کسی تشریح اور تفسیر کی ضرورت ہی نہ چھوڑی ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر سماعت و بصارت اور شامہ وذائقہ کی قوتیں رکھیں اسی طرح وسواس وشہوت کو بھی ودیعت کیا اور پھر ان سب کا جوڑ اس کل کے اندر ایسا جوڑا کہ (احسن الخالقین) کا لقب پایا ۔ زیر نظر آیت میں وسوسہ کا بیان ہے کہ اس ” وسوسہ “ نے آدم (علیہ السلام) کو آگھیرا اور ان کو یہ باور کرانے میں اس کو ذرا دیر نہ لگی کہ یہ ہمیشگی کا درخت ہے اور یہ نہ ختم ہونے والی بادشاہی اس طرح اس نے گویا آدم (علیہ السلام) کو ” دنیا کی جڑ “ سے روشناس کرا دیا اور اس ہمیشگی کی بادشاہی سے اس کے مقام اول کی طرف منتقل کرانے کا باعث بنا اور اس طرح کل روانہ ہونے والے کو آج ہی روانہ کرا دیا اور یہ بات ہم نے انسانی بیان کے مطابق عرض کی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تو ہرچیز اور ہر بات کے لئے ایک وقت مقرر ہے جو اپنی جگہ سے ذرا بھی ادھر ادھر نہیں ہوتا (آیت) ” لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون “۔ لیکن اس وسوسہ انداز نے اس وسوسہ کے اندر جو بات باور کرائی اور اس طرح کرائی کہ آدم جیسا زیرک اور صاحب علم آدمی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہا اگرچہ اس کا اثر وقتی تھا جو اپنی حالت پر غور کرتے ہی اس کو معلوم ہوگیا کہ میں بھول گیا اور میرے اندر کے چور نے اپنا وار مکمل کرلیا اور میری گود میں بیٹھ کر میری داڑھی مونڈھ دی اور مجھے احساس تک نہ ہونے دیا کہ میں وہ آدم ہوں جو مسجود ملائکہ ٹھہرا تھا گو اس کے سجدہ بارگاہ ایزدی کی علت میں قرار پایا تھا اور جس طرح سجدہ سے قبلہ کی عزت و تکریم کا پہلو واضح ہوتا ہے میری عزت و تکریم کا پہلو بھی اجاگر ہوا تھا ، غور کرو کہ یہ انسانی فطرت کا کتنا واضح اور کس قدر بین بیان ہے ۔ ہمارے مفسرین نے اس وسوسہ انداز کے متعلق بہت ٹوہ لگانے کی کوشش کی کہ یہ جنت میں کیسے اور کیونکر داخل ہوگیا اور پھر طرح طرح کے مفروضے بھی بیان کئے کہ اس نے اس طرح کی شکل اختیار کی اور فلاں فلاں راستے سے ہوتا ہوا جنت میں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا لیکن ہم تو ان وہمی مفروضوں کے بالکل قائل نہیں ہم تو جو سمجھے ہیں اس کی بڑی وضاحت کرچکے ہیں کہ وہ ایسا ہم زاد ہے کہ انسان سے کسی حال میں جدا نہیں ہوتا ۔ انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا تو وہ ساتھ تھا اور اس دنیا سے قدم نکالنے تک وہ ساتھ رہتا ہے اور رہے گا نہ کسی سے جدا ہوا اور نہ ہی وہ کسی سے جدا ہوگا ، بلاشبہ آدم جنت میں گئے تو وہ ساتھ تھا اور نکلے تو ساتھ ہی وہ بھی نکل آیا یا یہ کہ نکال دیا گیا ۔ آدم (علیہ السلام) نے اعتراف نسیان کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرکے اس پر کوڑے برسائے اور یہی کوڑے آج بھی اس کا علاج ٹھہرے لیکن علمائے کرام کو اور مفسرین عظام کو یہ بات کیوں پسند نہ آئی ؟ انہیں سے پوچھ لیا جائے جو ان ناموں سے آج بھی موجود ہیں ہم کچھ کہیں گے تو ان کو شکوہ ہوگا اور ہم پر گستاخی کا الزام وہ رکھیں گے جس کے ہم متحمل نہیں ۔
Ayah 20:121

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

چناچہ دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا اور دونوں کے ستر ان پر کھل گئے تب ان کی حالت ایسی ہوگئی کہ باغ کے پتے توڑنے لگے اور ان سے اپنا جسم ڈھانکنے لگے ، غرضیکہ آدم اپنے رب کے کہنے پر نہ چلا پس وہ بےراہ ہو گیا

آدم وحوا دونوں نے اس ممنوعہ درخت کا پھل چکھا اور آنکھیں کھلیں تو حقیقت کا پتہ چلا : 121۔ فطرت انسانی بھی بڑی عجیب ہے کہ کبھی وہ ایک چیز کو چکھتا ہے اور پھر تھوک دیتا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اس کو اپنے مزاج کے خلاف پاتا ہے لیکن یہاں ایسی بات نہیں تھی اس لئے جس کو پیچھے (ذاقا الشجرۃ) کہا تھا اس جگہ اسے (فاکلھا منھا) فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) نے اس وقت اس کو چکھ کر تھوک نہیں دیا تھا بلکہ مزہ مزاج کے مطابق تھا اور وہ کھا گئے اور چونکہ مل کر کھانے میں مزہ بھی سوا ہوتا ہے اس لئے اس جگہ دونوں کے مل کر کھانے ہی کا ذکر فرمایا اور اس طرح سورة الاعراف کی آیت 20 میں بھی بیان ہوا ہے اور ہم نے وہاں اس کی مکمل وضاحت کردی ہے سورة الاعراف تفسیر عروۃ الوثقی جلد سوم کی آخری سورت ہے میں کردی اس میں سے ملاحظہ کرلیں ، انسان کا گرنا اور پھسل جانا اختیاری چیز نہیں لیکن اس بےاختیاری کا صدور بھی اس کے لئے کبھی خوشی کا باعث نہیں ہوتا بلکہ پھسلتے ہی اور گرتے ہی اس کو احسان ہوتا ہے کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ایک طرح کی شرم محسوس کرتا ہے اور یہی بات انسان کو ہر فطری پھسلان کے وقت پیش آتی ہے اس بات کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے فرمایا بس وہ کھانے کی دیر تھی کہ ان دونوں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کے اندر شیطان کا وار چل گیا اور وہ بات جس سے روکا گیا تھا اس طرح سرزد ہوگئی کہ کچھ پتہ بھی نہ چلا اور جو ہونا تھا وہ بھی ہوگیا اور اب معلوم ہوا کہ بھوک کے ساتھ ننگے ہونے کا کیا تعلق تھا کہ کھانے کا انجام ننگے ہوجانے سے ظاہر ہوگیا اور اس کھانے سے جو منع کیا گا تھا اس کا نتیجہ اب معلوم ہوا لیکن اب سوائے اس کے کوئی چارہ کار نہ تھا کہ وہ دونوں جنت کے پتوں سے اپنے ستر ڈھاننپے لگے ، سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس چاقو کے لینے سے منع کیا گیا ۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے اس سے مجھے کیوں روکا گیا چاقو پکڑا کھولا اور ادھر ادھر سے اس کو دیکھ ہی رہا تھا کہ ہاتھ پر پھر گیا اور ہاتھ کٹ کر رہ گیا ، اب سمجھ تو آہی گئی کہ اس سے روکا کیوں گیا تھا لیکن اب جو کٹ گیا اس کا کیا ہوگا یہی کہ اس پر پٹی باندھے اور ایک وقت تک اس کو محسوس کرتا رہے ، یہی بات یہاں ہوگئی کہ اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا اب جو ہو سکتا تھا وہ یہی کہ پتے لپیٹیں وہ لباس جو قدرت نے عطا کیا تھا اب اتر گیا تو جسم پر پتے چپکانے لگے ۔ (خصف) کے معنی گانٹھنے یا چپکانے کے ہیں ، فطرت انسانی پر غور کرو اور دیکھو کہ جب کسی انسان کی اندرونی کمزوریاں ظاہر ہوجائیں تو اس کے تقوی و طہارت کا کیا حال ہوتا ہے بس اس جگہ بھی بعینہ انسانی فطرت کا بیان ہے جو ایک قصہ اور واقعہ کی صورت میں بیان کیا گیا ہے تاکہ اس کے سمجھنے سے کوئی شخص بھی محروم نہ رہے خواہ وہ کتنی ہی کم سے کم سمجھ کا مالک ہو ۔ اس کی مزید تفصیل دیکھنا ہوں تو سورة الاعراف 19 ، 20 کا مطالعہ کریں ۔
Ayah 20:122

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر اس کے پروردگار نے اس کو برگزیدہ کیا ، اس پر لوٹ آیا ، اس پر راہ کھول دی

آدم (علیہ السلام) کا توبہ کرنا اور قبولیت توبہ کا بیان : 122۔ آدم (علیہ السلام) کی توبہ کا ذکر سورة بقرہ کی آیت 37 میں وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ جنت سے نکلنے کے بعد اور اپنے اصل مقام کی طرف لوٹ کر آدم (علیہ السلام) نے توبہ کے کلمات سیکھے اور بارگاہ الہی میں توبہ کی درخواست پیش کی اور فرمایا (آیت) ” ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخسرین “۔ اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہم کو معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم نامراد ہو کے رہ جائیں گے ۔ “ ظاہر ہے کہ آدم (علیہ السلام) سے جو لغزش ہوئی اس پر وہ سخت نادم تھے زیر نظر آیت میں فرمایا گیا ” پھر اس کو اس کے پروردگار نے برگزیدہ کیا “ جس سے واضح ہوگیا کہ آپ کی توبہ قبول ہوگئی اور یہ بھی واضح ہے کہ اسلام میں توبہ کی قبولیت کے بعد ایسا ہی ہے جیسا کہ اس سے کوئی لغزش سرزد ہی نہیں ہوئی پھر یہ بھی کہ لغزش گناہ نہیں بلکہ نسیان ہے گویا ایک نہایت ہی ہلکی چیز کو آدم (علیہ السلام) نے ہلکا نہیں جانا بلکہ اس کو ” ظلم “ سے تعبیر کیا ۔ تورات میں آدم (علیہ السلام) کے قصہ میں کہیں توبہ کا ذکر نہیں آیا تھا اس لئے عیسائیوں نے آدم اور اس کی ذریت کے ابدی گناہگار ہونے کا قصہ گھڑا اور پھر انسان کے اس گناہ کو دور کرنے کے لئے انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیا کر پوری انسانیت کے اس گناہ کو دور کرنے کے لئے اس کو سولی چڑھا دیا اور وہاں سے تیسرے روز اتروا کو قبر میں داخل کیا اور پھر رات کے وقت اس کو زندہ بنا کر زندہ بنا کر زندہ ہی آسمان پر چڑھا دیا اور اس طرح انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو انسانیت کا نجات دینے والا قرار دیا اور قرآن کریم نے ان کی تردید کتنے خاموش اور سلجھے ہوئے انداز سے کی اور ان کے نظریہ کو عملی طور پر غلط قرار دے دیا اور کچھ کہا بھی نہیں اور گویا سب کچھ کہہ بھی دیا وہ اس طرح کہ صاف صاف بیان کردیا کہ آدم (علیہ السلام) سے جو لغزش ہوئی وہ ان کا نسیان تھا اور اس سے انہوں نے توبہ کی اور ان کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول فرمالی اور انکو برگزیدہ کیا پھر جب ان پر کوئی لغزش کا اثرباقی نہ رہا تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو کس چیز کی سزا تم نے دلوائی کہ ان کو سولی پر لٹکوایا جب حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی کوئی بات ہوئی ہی نہیں اور نہ ہی عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر لٹکایا گیا تم نے یہ جھوٹ خواہ مخواہ کیوں گھڑا غور کیجئے کہ (آیت) ” ثم اجتبہ ربہ فتاب علیہ وھدی “ کے چھ الفاظ کہہ کر عیسائیوں کے عقیدہ کی ساری عمارت ڈھا دی اور جو مضمون چھ صد صفحات کا تھا صرف چھ لفظوں میں بیان کردیا اب ظاہر ہے کہ اس کی تشریح کی جائے تو اس کے لئے آج بھی سینکڑوں صفحات درکار ہیں یہی وہ اعجاز قرآنی ہے جس کا ذکر ہم جگہ جگہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ کہاں چھ صد صفحات کا مضمون اور کہاں فقط چھ الفاظ اور وہ بھی نہایت خاموشی کے ساتھ ۔ (سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم)
Ayah 20:123

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

اللہ نے حکم دیا تھا تم سب اکٹھے یہاں سے نکل چلو تم میں سے ہر ایک دوسرے کا دشمن ہوا پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس کوئی پیام ہدایت آیا تو جو کوئی میری ہدایت پر چلے گا وہ نہ تو راہ سے بےراہ ہوگا ، نہ دکھ میں پڑے گا

حضرت آدم (علیہ السلام) کا اپنے اصل اور موعود مقام کی طرف لوٹ آنے کا بیان : 123۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا اصل مقصد خلافت ارضی تھا تاکہ اس کائنات الہی سے فائدہ حاصل کرکے اللہ تعالیٰ کی ان تسخیر کردہ چیزوں سے استفادہ کرے اور اس طرح نیابت الہی کا حق ادا کر دے اس کو اس مقام موعود کی طرف منتقل کرنا ہی تھا جب اس کو اس کے مقام آخرت کی سیر کرالی تو واپس زمین پر اتر آنے کا حکم دیا یعنی اس باغ سے جس میں اس کو رکھا گیا تھا زمین کی طرف منتقل کردیا جہاں ہر کام محنت ومشقت کے ساتھ طے ہونا تھا اب اس مقام کی طرف اتارتے وقت ارشاد فرمایا کہ ” تم دونوں اکھٹے یہاں سے نکل چلو تم میں سے ایک دوسرے کا دشمن ہوا۔ “ اس میں تم دونوں سے کون مخاطب ہیں اکثر مفسرین نے اسے مراد آدم اور حوا ہی کو لیا ہے لیکن بعض نے اس سے مراد آدم اور ابلیس کو بھی لیا ہے ۔ لیکن آدم اور حوا آپس میں دشمن ہوں اور اس کی وکئی توجیہہ نظر نہیں آتی ۔ قرآن کریم نے ان کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے ۔ (البقرہ) ایک دوسرے کے لئے تسکین کا باعث بتایا ہے (الروم 30 : 21) اور تورات میں عورت کو مخاطب کرکے کہا گیا ” اور تیری رغبت تیرے شوہر کی طرف ہوگی “ (پیدائش 3 : 17) پھر ان دونوں کو ایک دوسرے کا دشمن قرار دینا کیسے صحیح ہو سکتا ہے ؟ اس لئے یہاں ابلیس وآدم ہی مراد ہو سکتے ہیں اور اس طرح دراصل خطاب انسان ہی سے ہے جو مجموعہ خر وشر ہے اور وہی بات جو ہم نے عرض کی اللہ تعالیٰ ان قوائے خیر اور قوائے شر کو الگ الگ کرکے بھی بیان فرماتا ہے کیونکہ خیر و شر دونوں اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور انہی کا مجموعہ چونکہ دنیا کے سارے انسان ہیں اس لئے ارشاد فرمایا کہ ” تمہارے بعض بعض کے دشمن ہوں گے “ گویا ذریت آدم بھی اور ذریت شیطان بھی اور جس طرح آدم وابلیس ایک دوسرے کے دشمن ٹھہرے ان کی اولاد میں دشمنی برقرار رہے گی اور پھر ہماری طرف سے ہدایت آئے گی یینم سلسلہ وحی شروع کیا جائے گا اور انسان کی اولاد میں سے بعض اس وحی کو قبول کرکے اس کے سے ہدایت آئے گی یعنی سلسلہ وحی شروع کیا جائے گا اور انسان کی اولاد میں سے بعض اس وحی کو قبول کرکے اس کے تابع فرمان ہوں گے اور بعض ذریت شیطان کے ہاتھ میں ہاتھ میں ہاتھ دے کر چلیں گے اور ہماری طرف سے اعلان یہ ہے کہ جو ہماری بھیجی ہوئی ہدایت کے تابع ہوا ” وہ نہ تو راہ سے بےراہ ہوگا اور نہ ہی دکھ میں پڑے گا ۔ “ ہدایت الہی ہی وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم اور اولاد آدم کو مہیا فرمانے کا وعدہ فرمایا اور اس وعدہ کے مطابق آدم (علیہ السلام) سے لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علہی والہ وسلم تک انبیاء ورسول کا سلسلہ جاری وساری رہا اور نبی اعظم وآخر ﷺ پر نبوت و رسالت ختم کردی گئی اب رہتی دنیا تک آپ ہی کی رسالت انسانوں کی راہنمائی اور ہدایت کا کام دیتی رہے گی ۔ محمد رسول اللہ ﷺ پر ایسا معجزانہ کلام نازل فرما دیا کہ وہ آپ ﷺ کے زمانہ سے لے کر دنیا کے اختتام پر برابر ہدایت کا کام دیتا رہے گا اور دنیا خواہ کتنی ہی ترقی پذیر ہوجائے قرآن کریم کی راہنمائی سے وہ بےنیاز نہیں ہو سکتی اور آپ غور کریں کہ قرآن کریم ہی دنیا میں ایسی مذہبی کتاب ہے جس نے دنیوی ترقی کے لئے دین و مذہب کی قید لازم قرار نہیں دی بلکہ جہاں اور جس جگہ بھی دنیوی ترقی کا ذکر فرمایا تو انسانیت ہی اس کی نگاہ میں رہی کسی قوم کے لئے اس نے اس کو لازم قرار نہ دیا اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ قرآن کریم کے نزول کے بعد جو ترقی انسان نے کی وہ پہلے ادوار میں چاہے وہ کتنے ہی ترقی کے دور تھے اییت ترقی دیکھنے اور سننے میں نہ آئی پھر یہ بھی کہ قرآن کریم ہی وہ کتاب الہی ہے جس نے دنیوی اور دینی ترقی کو لازم وملزوم قرار نہیں دنیا بلکہ دونوں کو الگ الگ رکھا اور یہ واضح کیا کہ جو شخص نری دنیا کا طالب ہوگا اس کو نری دنیا ملے گی اور جو آخرت کا طالب ہوگا اس کو دنیا بھی اور آخرت بھی دونوں دی جائیں گی لیکن افسوس کہ اوروں نے تو نری دنیا طلب کی اور ان کو وہ خوب عطا کی گئی اور کی جا رہی ہے لیکن مسلمانوں نے اللہ کو چھوڑ کر ان سے مانگنا شروع کردیا جن کو اللہ نے ان کی طلب کے مطابق خالص دنیا عطا کی تھی بجائے اس کے کہ یہ مسلمان کہلانے والے اللہ تعالیٰ سے آخرت طلب کرتی اور ایسے کام کرتے جس سے یہ ثابت ہوتا کہ یہ لوگ آخرت کے طالب ہیں تو اللہ تعالیٰ یقینا ان کو دنیا بھی عطا کرتا اور آخرت بھی ان کو یقینا دی جاتی لیکن مسلمانوں نے اپنی گنگا الٹی چلا دی کہ فقط دنیا طلب کی اور وہ بھی ان لوگوں سے جن کو اللہ نے فقط دنیا عطا کی ہے اور براہ راست اللہ سے مانگنے والی قوم نے آج اللہ تعالیٰ کے دروازہ کو چھوڑ کر انسانوں کے دروازوں پر بھیک مانگنی شروع کردی اور ان کے گھروں کے طواف شروع کردیئے اور ان بےغیرتوں اور بےحیاؤں اور مشرکوں کے ٹولہ نے اسلام کا نام ہی بدنام کرکے رکھ دیا ۔ جس رسول نے ان کو یہ تعلیم دی تھی کہ اگر تمہیں بوٹ کے تسمہ کی ضرورت پیش آئے تو وہ بھی براہ راست رب ذوالجلال والا کرام سے طلب کرو انہوں نے اللہ سے طلب کرنے کا مطلب بھی سمجھنے کی کوشش نہ کی ، اس ملک کے سارے سیاست دان تو انگریزوں کے احسان مند تھے کہ انہوں نے ان کی منافقت کے صلہ میں ان کو بڑی بڑی جاگیریں دی تھیں اور پر نوں کے پر نوں کا مالک بنایا تھا اور ان کو بڑے خطابات سے نوازا تھا لیکن مذہبی پیشواؤں کو انہوں نے نجانے کیا سنگھایا کہ یہ بھی ان کے ہمنوا ہوگئے اور آج توحید کے نعرے لگانے والے اسی شرک میں لت پت دکھائی دیتے ہیں ۔