Ayah 20:89کیا وہ لوگ اتنی بات بھی نہیں سمجھ سکے کہ وہ نہ تو بات کرتا ہے اور نہ نفع ونقصان کا مالک ہے :
89۔ گویا یہ کہا جارہا ہے کہ ان کی بیوقوفی کی بھی کوئی حد ہے کہ وہ خالی ایک بھا۔۔۔۔ ں ۔ بھا۔۔۔۔ ں کی آواز پر مفتون ہوگئے ہیں اور اتنی سی بات بھی نہیں سوچی کہ وہ نہ تو کوئی بامعنی کلام کرتا ہے اور نہ نفع ونقصان ہی کا کچھ مالک ہے پھر وہ معبود والہ کس طرح ہوگیا ۔ اگر زیادہ سے زیادہ اس کو کچھ کہہ سکتے ہیں تو ایک شعبدہ بازی ہی کہا جاسکتا ہے اس کے سوا آخر وہ کیا ہے ؟ عام طور پر مفسرین نے یہی بیان کیا ہے کہ اس نے اس سونے سے ایک گائے کے بچھڑا کی شکل بنائی لیکن قرآن کریم کے اشارہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ جو کچھ بھی تھا اور جیسا کچھ بھی تھا بہرحال سونے سے تیار شدہ نہیں تھا ہاں ! زیورات بیچ کر کھا گیا ہو اور کچھ اس نے استعمال کر لئے ہوں ممکن ہے کیونکہ آگے چل کر اس بچھڑے کا جو انجام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کیا اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے گی کہ وہ سونے کا بہرحال نہیں تھا ۔
سامری کون تھا ؟ کیا بنی اسرائیل ہی کا کوئی آدمی تھا یا غیر اسرائیلی تھا ؟ مصری تھا یا مصری بھی نہیں تھا ؟ ان سارے سوالات کے جواب کتب تفاسیر میں دیئے گئے ہیں اور یہ بھی کہ مختلف قسم کے دیئے گئے ہیں اور یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کیا یہ کسی ایک فرد کا نام ہے یا خاندان وقبیلہ کے نام سے کوئی معروف شخصیت ہے ؟ زیادہ دل لگتی بات یہی ہے کہ ” سامری “ سے مقصود سمیری قوم کا فرد ہے کیونکہ جس تاریخی قوم کو ہم نے سمیری نام سے پکارنا شروع کردیا ہے عربی میں اس کا نام قدیم سے سامری ہی آرہا ہے اور اب بھی عراق میں ان کا بقایا اس نام سے پکارا جاتا ہے اس جگہ قرآن کریم کا (السامری) کہہ کر اسے پکارنا صاف کہہ رہا ہے کہ یہ نام نہیں ہے بلکہ اس کی قومیت کی طرف اشارہ ہے یعنی وہ شخص اسرائیلی نہ تھا بلکہ سامری تھا ۔ تاریخ میں اس کی وضاحت موجود ہے کہ مسیح (علیہ السلام) سے تقریبا ساڑھے تین ہزار برس پہلے دجلہ وفرات کے دو آبہ میں دو مختلف قومیں آباد ہو رہی تھیں اور ایک عظیم الشان تمدن کی بنیادیں اٹھا رہی تھیں ، ان میں سے ایک قوم کے نام سے تاریخ قدیم کا شہر ” سامر “ اور ” اور “ آباد ہوا تھا جس کا محل اب دریافت ہوچکا ہے اور وہاں سے پانچ ہزار برس قبل کے زیورات اور سنہری ظروف برآمد ہوئے ہیں ۔
رہی یہ بات کہ سمیری قوم کی اصل کیا تھی ؟ اس بارے میں اس وقت تک کوئی قطعی رائے قائم نہیں کی جاسکتی لیکن نینوی میں آشور نبی پال متوفی 626 ق م کا جو کتب خانہ نکلا ہے اس میں تختیوں کا ایک مجموعہ لغت کی کتاب کا بھی ہے جس میں اکادی اور سمیری زبان کے ہم معنی الفاظ جمع کئے گئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سمیری زبان کے اصوات سامی حروف کے اصوات سے چنداں مختلف نہیں تھے ، بہت ممکن ہے کہ وہ بھی دراصل انہیں قبائل کے مجموعہ سے کوئی بعیدی تعلق رکھتے ہوں جن کے لئے ہم نے تورات کی اصطلاح ” سامی “ اختیار کرلی ہے ۔
مختصر یہ کہ سمیری قبائل کا اصل وطن عراق تھا مگر یہ دور دور تک پھیل گئے تھے ، مصر سے ان کے تعلقات کا سراغ ایک ہزار سال قبل مسیح تک روشنی میں آچکا ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کے کچھ افراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھی یقینا متعقد ہوگئے تھے اور جب بنی اسرائیل نکلے تو یہ لوگ بھی ان کے ساتھ نکل آئے اور انہی میں سے ایک کو جس نے یہ شرارت نکالی تھی قرآن کریم نے (السامری) کے لفظ سے یاد کیا ہے گائے بیل اور بچھڑے کی تقدیس کا خیال سمریوں میں بھی تھا اور مصریوں میں بھی ، مصری اپنے دیوتا حورس کا چہرہ گائے کی شکل کا بناتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ کرہ زمین ایک گائے کی پشت پر قائم ہے ، جب سامری نے دیکھا کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عدم موجودگی سے مضطرب ہو رہے ہیں تو اس نے کہا کہ مجھے سونے کے زیور لا دو پھر انہیں سے ایک بچھڑے کی مورتی بنائی ۔ مصریوں کے مندروں کی مخفی کاریگریوں سے وہ واقف تھا اس نے مورتی کے اندر ہوا کے نفوذ وخروج کی ایک ایسی کل بٹھا دی کہ اس سے ایک طرح کی آواز نکلنے لگی چونکہ زیور اکٹھا کرنے کا اس میں ذکر آیا تو لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ مورتی سونے کی تھی اور سامری کوئی سنار تھا اس لئے اس نے سونے کو گلا کر یہ مورتی بنائی وغیرہ وغیرہ اور یہ سب وہمی مفروضے ہیں ۔
Ayah 20:90ہارون (علیہ السلام) نے قوم کے سامنے واویلا کیا لیکن قوم نے ان کی ایک نہ مانی :
90۔ سامری کی اس شرارت کے خلاف ہارون (علیہ السلام) اپنے فرض سے سبکدوش نہیں رہے بلکہ انہوں نے اپنی حتی المقدور کوشش کی کہ اس شرارت کا بنی اسرائیل پر اثر نہ ہو آپ نے فرمایا کہ ” بھائیو ! یہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ تمہاری آزمائش کی جارہی ہے “ یہ بچھڑا تمہارا پروردگار نہیں اور نہ ہی موسیٰ (علیہ السلام) بھول گئے ہیں وہ جس مقصد کے لئے طور پر اعتکاف کی خاطر گئے وہ مقصد تم کو اچھی طرح معلوم ہے اور بتا کے بھی گئے ہیں ” تمہارا پروردگار خدائے رحمن ہے “ اور وہ آنکھوں سے دیکھا نہیں جاسکتا بلکہ قدرت ہی سے پہچانا جاسکتا ہے دیکھو اس نے تم سے بخیر و خوبی دریا رحمن ہے “ اور وہ آنکھوں سے دیکھا نہیں جاسکتا بلکہ قدرت ہی سے پہچانا جاسکتا ہے دیکھو اس نے تم سے بخیر و خوبی دریا عبور کرنے کو کہا تھا اور تم کس امن وامان کے ساتھ وہاں سے نکل آئے اور اس نے فرعون کے غرق ہونے کی خبر دی تھی جو سو فی صد صحیح نکلی اب بھی تم کو یقین نہ آئے تو آخر کب آئے گا اور کس طرح آئے گا ؟ ” تمہیں میری پیروی تھی جو سو فی صد صحیح نکلی اب بھی تم کو یقین نہ آئے تو آخر کب آئے گا اور کس طرح آئے گا ؟ ” تمہیں میری پیروی تھی جو سو فی صد صحیح نکلی اب بھی تم کو یقین نہ آئے تو آخر کب آئے گا اور کس طرح آئے گا ؟ ” تمہیں میری پیروی تھی جو سو فی صد صحیح نکلی اب بھی تم کو یقین نہ آئے تو آخر کب آئے گا اور کس طرح آئے گا ؟ ” تمہیں میری پیروی کرنے کا حق ہے اور تم میری بات پر کان دھرنے کو تیار ہی نہیں ۔ “ گویا میں نہیں بلکہ سامری ہی رسول ورہنما ہے ؟
ہارون (علیہ السلام) کو وہ خاطر میں نہ لائے اور اس کے جواب میں جو کچھ انہوں جو کچھ انہوں نے کہا وہ آئندہ آیت میں آرہا ہے ۔
Ayah 20:91جو لوگ سامری کی سرارت سے متاثر تھے انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آمد کا بہانہ کیا :
91۔ ہارون (علیہ السلام) کو ان لوگوں نے جو سامری کی شرارت کے جال میں پھنس چکے تھے کہا کہ ہم اس وقت تک یہ کام چھوڑنے کے لئے تیار نہیں جب تک موسیٰ ہمارے پاس واپس نہ آجائے ۔ اس سے یہ بات خود بخود نکل آتی ہے کہ یہ لوگ اگرچہ سامری کے فریب میں آگئے تھے لیکن ان کو اپی اس حرکت پر شک ضرور تھا کہ آیا یہ صحیح ہے یہ نہیں ؟ اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ انکے گمان میں یہ بات بھی ضرور موجود تھی کہ دیکھیں موسیٰ واپس آتے بھی ہیں یا نہیں کیونکہ سامری نے ان کو جو کچھ باور کرایا تھا اس میں یہ اشارہ بھی موجود تھا اور اسی وجہ سے یہ لوگ سامری کے ساتھ چلے گئے تھے کہ اگر کوئی بات ایسی ہوئی تو ہم سامری کی تحریک سے فوائد حاصل کرسکیں گے کیونکہ اس طرح ہم ہی (سابقون الاولون) میں داخل ہوں گے ۔ ان کو اپنی حماقت کا جو احساس ہوا تھا اس کا ذکر پیچھے سورة الاعراف کی آیت 149 میں ملتا ہے تاہم وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی آمد تک فی الواقعہ اسی شرارت میں پھنسے رہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے واپس آکر جب پوچھا کہ تم لوگوں نے اتنی جلدی کیوں کی تو انہوں نے کہا ہم نے جو کچھ کیا وہ اپنی مرضی سے نہیں کیا بلکہ سامری کی شرارت اور جھانسے میں ہم پھنس گئے کہ اس نے ایک ایسا عمل کیا جس سے ہم متاثر ہوگئے ۔
آج بھی اگر آپ غور کریں گے تو آپ پر واضح ہوجائے گا کہ جو شخص کسی نئی تحریک کو پیش کرتا ہے اس میں کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور لاتا ہے جو عوام کے ذہنوں کو جلد اپیل کرے اور وہ اس تحریک کی بات آتے ہیں اس کی اس بات سے ایسے متاثر ہوں کہ اس کے ہو کر رہ جائیں ، اس وقت جتنی سیاسی پارٹیاں آپ کے ملک میں موجود ہیں اور جو نئی نئی جنم لے رہی ہیں ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی ایسی حرکت لازم وضرور آپ کو ملے گی ، اس جگہ کسی جماعت کا نام لے کر نشاندہی کرنا مناسب نہیں اور یہ بات اتنی مشکل بھی نہیں کہ اگر کوئی صاحب عقل وفکر ذرا غور کرے تو اس بات کی تصدیق نہ کرے ، گویا جماعت کا لیڈر بننے کے لئے و دولت کی ضرورت ہے اور اس ضرورت کو اس نے کہاں سے پورا کرنا ہے اسی معاشرہ سے لہذا وہ کوئی نہ کوئی سٹنٹ کھڑا کر دے گا جس سے بہت سا مال وہ اکٹھا کرلے خواہ وہ اپنے ملک کے لوگوں کو دھوکہ و فریب دے کر یا باہر کی حکومتوں میں سے کسی کا آلہ کار ہو کر جب مال و دولت مل جائے تو پھر ملک کے لوگوں کی نبض پر ہاتھ رکھ دیکھے کہ اس وقت قوم کو کونسی بیماری لاحق ہے کہ میں اس کے علاج کا اشتہار دوں ‘ اگر وہ نباض صحیح ہے اور وقت کو بھانپ سکتا ہے تو اشتہار دے کر اس کے پیچھے پروپیگنڈا پوری قوت کے ساتھ لگا دے اخبار اور ریڈیو والوں کو دولت میں شریک کرلے اور مختلف جگہوں میں اپنے حواریوں میں دولت تقسیم کر دے اور پھر دیکھے کہ قوم کس طرح بیوقوت ہو کر اس کی طرف دوڑتی چلی آتی ہے ۔ کتنے ہیں جو یہ کھیل مذہب کے نام سے کھیل چکے ہیں اور کتنے ہیں جنہوں نے حرام دولت اکٹھی کرکے ایسا سوانگ رچایا ہے اور ہے اور زبردست کامیابی حاصل کی ہے گویا آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہمارے دور کے سامری ماشاء اللہ موسیٰ کے سامری سے زیادہ چالاک اور ہوشیار ہیں ۔ اس کو تو ایک شکل نئے سرے سے دنیا پڑی تھی لیکن یہ سامری بنی بنائی شکل کو استعمال کرتے ہیں کہ وزیر بنے ‘ مشیر ہوئے یا اس طرح کے بڑے عہدوں پر فائز یاب ہوئے تو فورا کسی بنے بنائے مزار کی طرف مراجعت کی اور خوب ڈھنڈورا پیٹا کہ آج فلاں وزیر صاحب یا وزیراعظم صاحب فلاں دربار شریف پر حاضری کے لئے تشریف لے گئے اور وہاں ایسی ایسی نیاز تقسیم کی اور وہاں خوب بھنگڑا ڈالا گیا اور اس طرح دولت تقسیم کی گئی اور انہوں نے اپنی عقیدت کا اس طرح اظہار کیا ، پس آپ سمجھ لیجئے کہ یہ سب اس سامری کے چیلے ہیں اور یہ بات اپنی جگہ صحیح و درست ہے کہ کتنے چیلے ہوتے ہیں جو اپنے گرو سے بھی بڑا مقام حاصل کر جاتے ہیں مثل ہے کہ ” گروکڑھی رہے اور چیلے شکر ہوگئے ۔ “
Ayah 20:92موسیٰ (علیہ السلام) واپس آئے تو ہارون (علیہ السلام) پر اظہار غصہ کیا :
92۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طور سے واپس آئے تو قوم کے سارے سرداروں سے رابطہ کیا اور بحمد اللہ ان میں سے کوئی بھی سامری کی شرارت میں شامل نہ تھا گویا یہ تحریک خالصتا عوامی تھی اور سطحی ذہن کے لوگ اس میں پھنسے تھے لیکن ان میں سے کوئی سردار بھی سامری کے راستے کا روڑا بننے کے لئے تیار نہ ہوا جس کی یقینا مصلحتیں بھی تھیں ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سرداروں سے ہٹ کر ہاروں (علیہ السلام) کی طرف توجہ کی اور فرمایا کہ ” اے بھائی ہارون ! آپ نے جب دیکھا کہ یہ لوگ گمراہی کی راہ پر چل نکلے ہیں تو آپ نے مزاحمت کیوں نہ کی اور خاموش تماشائی کیوں بنے رہے ؟ “ جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کوئی نبی ہو یا رسول جب تک اللہ اس کو بتا نہ دے اس وقت اس کو اصلیت کا علم بالکل نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ بھی ہر بات کا علم نبی کو نہیں دیتا بلکہ ضرورت کی جس چیز کا چاہتا ہے علم عطا کردیتا ہے اور دوسرے کے عطا کئے ہوئے علم کو علم غیب نہیں کہتے ۔ اس لئے وہ مسلک جو اس بات کا داعی ہے کہ انبیاء ورسل کو علم غیب نہیں اس معاملہ میں صائب الرائے ہے اور حق پر ہے ۔
Ayah 20:93حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مزید ہارون (علیہ السلام) سے فرمایا کہ کیا آپ نے بھی حکم عدولی کی ؟ :
93۔ یہ اور اسی طرح کی بہت سی باتیں اور بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام میں ملتی ہیں جس کے باعث یہ کہا جاتا ہے کہ آپ کی طبیعت جلالی تھی اور غصہ زیادہ آتا تھا اور یہ فطری چیز ہے کہ جب کسی کو غصہ آئے تو کم از کم غصہ کی حالت میں بات پر پورا کنٹرول نہیں رہتا یہی بات یہاں ہوئی کہ ہارون (علیہ السلام) کو اسی غصہ کی حالت میں یہ بھی فرما دیا کہ ” کیا آپ نے بھی پسند کیا کہ میرے حکم سے باہر ہوجائیں ؟ “ حالانکہ ہارون (علیہ السلام) سے ان تیز اور تندالفاظ کے بغیر بھی بات پوچھی جاسکتی تھی لیکن ایسی باتین فطرتی ہیں جو ہر طبیعت کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور یہ یقینا قابل مواخذہ نہیں ہوتیں اور پھر یہ بھی کہ جو بات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے ارشاد فرمائی تھی ہارون (علیہ السلام) کا جواب معلوم کرنے کے لئے اتنی کافی تھی یہ جملہ (الا تتبعن افعصیت امری) تیزی طبیعت پر دال ہے ، فی نفسہ یہ بات صحیح بھی تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کوہ طور پر جاتے وقت ہارون (علیہ السلام) کو قومی کمان سپرد کی تھی تاہم آپ کا انداز کلام بلاشبہ تیز ہی تھا ممکن ہے کہ آپ نے ہارون (علیہ السلام) کا عندیہ معلوم کرنے ہی کے لئے یہ بات دہرائی ہو بلکہ یقینا آپ نے یہ بات معلوم کرنے ہی کے لئے یہ ارشاد فرمایا تھا لیکن جس سے پوچھا جا رہا تھا وہ بھی کوئی صرف قائم مقام ہی نہ تھا بلکہ اللہ کا نبی ورسول ہی تھا عام آدمی نہیں تھا ۔
Ayah 20:94ہارون (علیہ السلام) نے یقینا جواب دینا ہی تھا لہذا انہوں نے جواب دیا :
94۔ اب سیدنا ہارون (علیہ السلام) بھی گویا ہوئے اور پنے جلال طبیعت کے مالک بھائی کو جواب دیا کہ ” اے میری ماں جائے ! میرا سر اور داڑھی مت پکڑو ‘ میں اس بات کے خوف سے کہ کہیں بنی اسرائیل کے اندر مخالفت کی آگ نہ جل جائے “ اور پوری قوم کی قوم کو بھسم کر کے نہ رکھ دے اور سارا معاملہ چوڑ چپٹ نہ ہوجائے ذرا نرم انداز اختیار کیا اور اس شرارت کے نکالنے والوں کو فورا سزا نہیں دی کہ کہیں گروہی تصادم نہ ہوجائے اور آپ واپس آکر زیادہ پریشان نہ ہوں اور یہ لوگ ساتھ ساتھ یہ کہہ بھی رہے تھے کہ ہم اس حرکت سے یقینا باز آجائیں گے لیکن اس وقت جب موسیٰ واپس آگئے اور ان کے ذریعہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ہمارا یہ اقدام غلط تھا ، اس لئے میں نے اپنی پالیسی کو نرم رکھا اور فتنہ و فساد کی آگ بلاشبہ ساری آگوں سے بڑی آگ ہے اور جب یہ جلا دی جائے تو اس کا اثر بہت مشکل جاتا ہے اس لئے اسلام نے فتنہ کو (اشد من القتل) کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے ۔ بات یہ بھی واضح ہوگئی کہ نرم مزاج کا آدمی بہت کم گرم ہوتا ہے اور خصوصا جب اس کو معلوم ہوجائے کہ اس وقت بھڑک جانے والا آدمی حق اور سچ پر بھی ہے اور اس کی تلخی ناجائز بھی نہیں اگرچہ تلخی بذات خود تلخی ہی ہوتی ہے تو نرم مزاج اس کو برداشت کرجاتا ہے اور یہی بات یہاں ہوئی کہ ہارون (علیہ السلام) نے اپنی طبیعت کے باعث بھائی کی ساری سن لینے کے بعد بڑے ٹھنڈے دل سے جواب دیا اور ان پر حقیقت واضح کی کہ میں نے اس ساحر کو نہایت برا سمجھنے کے باوجود کیسے برداشت کیا اور آپ کے آنے کا انتظار کیا کہ جو قدم بھی اس برائی کو اکھاڑنے کے لئے اٹھانا ہے ذرا سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ جلدی میں کوئی غلط قدم اتھ جائے کیونکہ جتنے حالات سنگین ہوں اتنا ہی سوچ سمجھ کا بھی مضبوط ہونا ضروری ہوتا ہے کہ ایسے حالات پیدا کیوں ہوئے ؟ ایسے موقع پر یہ بات بھی سمجھنے کی تھی کہ سامری نے اتنا بڑا قدم جو اٹھایا تو اچانک نہیں اٹھایا بلکہ اس کے مزاج میں کوئی مخالف عنصر یقینا پہلے سے موجود تھا عین ممکن ہے کہ اگر وہ میرے علم میں نہیں تو موسیٰ (علیہ السلام) کے علم میں ہو اور آپ نے یہ بات سمجھنے کے باوجود اس کو برداشت کر رکھا ہو ، پارٹیوں میں یقینا ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو اپنے اندر ایک رقابانہ آگ رکھتے ہیں اور اس کے باوجود کہ فریق ثانی بھی اس بات کو سمجھتا ہے لیکن کام چلتا رہتا ہے جتنے خاموش انقلاب رونما ہوئے ہیں ان کے اندر ایسے حالات بلاشبہ موجود ہوتے ہیں اور موقع میسر آتے ہی وہ ظاہر ہوجاتے ہیں ۔ آج یہ باتیں صاحب علم اور صاحب دانش لوگوں سے مطلق پوشیدہ نہیں ہیں ۔ اور اس کی تفصیل پیچھے سورة الاعراف کی آیت 150 میں کی جا چکی ہے ۔ اور (یابن ام) سے کوئی شخص یہ نہ قرار دے دے کہ شاید ان کا کوئی کوئی باپ نہ ہوگا تب ہی ہارون (علیہ السلام) نے مائے جائے کے الفاط استعمال کئے ہیں یا یہ کہ شاید ان دونوں بھائیوں کے باپ الگ الگ ہوں گے اور ماں ایک ہونے کے باعث ہارون (علیہ السلام) نے ان الفاظ کا استعمال کیا ، نہیں نہیں بالکل نہیں بلکہ اس جگہ موسیٰ (علیہ السلام) کے اس غصہ کو ذرا ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ پر حکمت الفاظ بولے گئے ہیں۔
Ayah 20:95موسیٰ (علیہ السلام) نے اب اپنی توجہ سامری کی طرف مبذول فرمائی :
95۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی طبیعت میں افسوس بھی تھا اور غصہ بھی لیکن واپس آکر جو راستہ اختیار کیا وہ نہایت شاندار تھا اور اس کی افادیت ایک صاحب عقل کے لئے آج بھی سمجھ لینے کی ہے کہ واپس آتے ہی پہلے ان کرداروں سے چھان بین کی جن سے فی الواقعہ پہلے چھان بین کرنے کا حق تھا ۔ قوم کے سارے سرداروں سے بھی گفتگو ہوگئی اور آپ کے بعد سب سے بڑی ذمہ دار شخصیت سیدنا ہارون (علیہ السلام) سے بھی ، ساری باتوں کی مکمل وضاحت کے بعد آپ سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور نہایت سلجھے ہوئے انداز سے اس سے پوچھا کہ آئیے سامری صاحب ! ذرا ہم کو بتائیے کہ یہ آپ کا معبود کیسا ہے ؟ اور آپ نے کیا سوانگ اختیار کیا ہے ؟ اور یہ کہ اس کی کیا ضرورت محسوس کی ہے ؟ سامری کے پاس اس کا کوئی جواز ہوتا تو وہ کہتا اور اس نے سمجھ لیا کہ یہاں میرا جادو نہیں چلے گا کیونکہ جادو ہمیشہ کمزور ذہن والوں اور ادہام پرستوں پر چلتا ہے اس وقت بھی اور آج بھی اور موسیٰ (علیہ السلام) جیسے زیرک اور سمجھ دار پر یہ جادو اثر تو کر نہیں سکتا لہذا وہ بہت کوئی چالاک اور ہوشیار آدمی تھا اس نے فورا اقرار کرلیا کہ اس کہ حقیقت تو جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کچھ بھی نہیں بس ایک شرارت تھی جو میں نے کردی اور یہ مجھے میرے اپنے نفس ہی نے پڑھائی ، اگر وہ کوئی مولانا یا علامہ صاحب ہوتا تو جہاں تک ہو سکتا یقینا ٹانگ اڑاتا اور جب دیکھتا کہ یہ سب کچھ تو لاحاصل ہے تو شیطان کو بدنام کرتا اور خود اس حرکت سے اپنے آپ کو صاف بچا جاتا لیکن وہ سامری تھا چاہے کتنا بھی شرارتی تھا لیکن یہ شرارت تو اس کو نہیں آتی تھی ۔
Ayah 20:96سامری حقیقت حال کو سمجھ گیا تو فورا فریب نفسی سے اس کو تعبیر کرنے لگا :
96۔ معلوم ہوتا ہے کہ سامری بھی کوئی معلومی شے نہیں تھا بلکہ زمانہ کا کوئی چالاک اور ہوشیار آدمی تھا اس نے سمجھتے ہوئے یہ چال چلی تھی کہ شاید موسیٰ (علیہ السلام) اب طور سے واپس نہ آئے یا اس کے خیال میں یہ تھا کہ قوم کے سردار موسیٰ (علیہ السلام) کو چھوڑ کر میری طرف نکل آئیں گے کہ کیونکہ سردار ہمیشہ اس طرف کا رخ کرتے ہیں جدھر عوام کا رخ ہوجائے کیونکہ انہوں نے یہ گر باور کیا ہوتا ہے کہ ” چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو “ جب اس نے سمجھ لیا کہ اب میرے پاس ایسی کوئی طاقت بھی نہیں جس کے انحصار پر میں مزید کوئی قدم اٹھا سکوں تو اس نے اس ساری شرارت کو بطور شرارت تسلیم کرلیا کہ یہ بھی ایک گر ہوتا ہے اگر کامیاب ہوجائے ۔
حدیث میں آتا ہے کہ ” نبی اعظم وآخر ﷺ کسی غزوہ سے واپس تشریف لا رہے تھے اور کوئی کافر ادھر ادھر چھپ چھپا کر آپ ﷺ کے پیچھے تعاقب میں تھا کہ میرا وار چلے تو محمد رسول اللہ ﷺ کو ایک وار کرکے ختم کر دوں ۔ آپ ﷺ نے ایک جگہ گرمی کی شدت سے بچنے کے لئے پڑاؤ ڈالا اور لوگوں کو ادھر ادھر جھاؤ جھاڑیوں میں متفرق کردیا کہ وہ آگے بڑھا اور آپ ﷺ ہی کی تلوار جو درخت سے لٹکی ہوئی تھی اتار لی اور تلوار کو میاں سے ابھی نکال ہی رہا تھا کہ آپ ﷺ کی آنکھ کھل گئی ، آپ ﷺ نے جب اس کی طرف دیکھا تو وہ کہنے لگا اب آپ کو میری اس تلوار سے کون بچا سکتا ہے ؟ مطلب اس کا یہ تھا کہ کوئی نہیں بچا سکتا لیکن آپ ﷺ نے نہایت اطمینان سے گرج دار آواز سے فرمایا کہ ” اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ مجھے تیری تلوار سے بچا سکتا ہے ۔ آواز اس قدر بلند تھی کہ وہ لرز گیا اور تلوار آپ ﷺ نے جھپٹ کر اس کے ہاتھ سے کھینچ لی اور ایک لمحہ بھر میں اب تلوار نبی رحمت ﷺ کے ہاتھ میں تھی اور کافر سامنے کھڑا کانپ رہا تھا ۔ آپ ﷺ نے بھی وہی جملہ دہرایا کہ اب تو بتا کہ میری تلوار سے تجھے کون بچا سکتا ہے ؟ کانپ تو وہ پہلے ہی رہا تھا اس اس نے معافی طلب کرنا شروع کردی ۔ آپ ﷺ نے دیکھا تو اس کو فرمایا کہ تو بھی وہی کہہ جو میں نے کہا تھا کہ ” اللہ “ اور بہتر ہے کہ مسلمان ہوجا آپ ﷺ نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کو وہاں سے چلے جانے کی اجازت دے دی ۔ “ سامری نے بھی یہ سمجھ لیا کہ اب جان کی امان تو اس میں ہے کہ بات کو اقرار کرلو پھر جو ہو سو ہو لیکن اس سیدھی اور صاف بات کو بھی اس نے ایک خاص انداز ہی میں کرنا پسند کیا تاہم جو بات اس کو پسند آئی وہ اس نے کہہ دی وہ بات کیا تھی (آیت) ” قال بصرت بمالم یبصروا بہ فقبضت قبضۃ من اثر الرسول فنبذتھا وکذلک سولت لی نفسی “۔ ” اس نے کہا کہ میں نے وہ بات دیکھ لی تھی جو اوروں نے نہیں دیکھی اس لئے رسول کی پیروی میں میں نے بھی کچھ حصہ لیا تھا پھر اس کو چھوڑ دیا اور میرے جی نے مجھے ایسی بات سمجھائی ۔ “
سامری نے اس انداز میں بات بیان کی کہ جو وہ بان کرنا چاہتا تھا وہ کردیا اور موسیٰ (علیہ السلام) ہی تھے جو اس کی بات کو سمجھ گئے اور بار بھی یہ نہ فرمایا کہ یہ تو کیا کہتا ہے لیکن بعد میں آنے والوں میں بہت ہی کم تھا جو اس کی اس بات کو سمجھ سکے اور ہمارے ہاں آج بھی یہ آیت ان آیات کریمات میں سے ہے جن کا مفہوم سمجھنے میں اکثر غلطی کی گئی اور ادہام پرستوں نے ان کو اپنے وہم کا نشانہ بنا کر رکھ دیا ، جیسا اوپر بیان کیا گیا ہے کہ سامری دراصل نہ قبطی تھا اور نہ ہی اسرائیلی لیکن اس وقت جب موسیٰ (علیہ السلام) مصر میں تھے آپ کا معتقد ہوگیا تھا تاہم اسرائیلی ملت پر اس کا دل نہیں تھا کچھ عرصہ اس طریقہ کا کاربند رہا پھر منحرف ہوگیا اور چاہتا تھا کہ کوئی ایسا عقیدہ اختیار کرکے جو بنی اسرائیل کے عوام میں مشہور ومقبول ہو سکتا ہے کوئی مخالفت کی طرح ڈال کر الگ ہوجائے اور اپنی من مانیاں کرسکے اس لئے اس نے ایسا عقیدہ اختیار کرنے کی کوشش کی جو عوام میں مقبول ہوسکتا تھا لیکن جتنی اور جیسی اس کو امید تھی اتنا اور ویسا اس کو مقبول نہ کرسکا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے آتے ہی جو ہوا اس کے غبارہ میں بھری گئی تھی وہ بھی نکل گئی تو اب جان بچانے کے لئے اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ مجھے ایسی بات سجھائی دی جو دوسروں کو نہیں سوجھی یعنی بچھڑا بنانا اور اس بہانہ لوگوں کا مال بٹور کھانا ، میں نے رسول کی پیروی میں تھوڑا بہت حصہ لے لیا تھا مگر پھر اس کو چھوڑ دیا یعنی گو میں نے آپ کی پیروی کی اور اس میں چند قدم اٹھا بھی دیئے تھے لیکن میرا دل اس پر جما نہیں تھا ” کیا کروں میری طبیعت کا ایسا ہی تقاضا ہوا اور میں آپ کے پیچھے چل نہ سکا ۔ “
اس جگہ جو روایات اسرائیلیات سے اٹھا کر تفاسیر میں بھری گئی ہیں ان کو مکمل بیان تو نہیں کیا جاسکتا لیکن اختصار کے ساتھ کچھ بیان کیا ہی جائے تاکہ بات سمجھ آسکے چناچہ ان ہی روایات میں سے یہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے پوچھا کہ اے سامری تو نے یہ کیا سوانگ بنایا ہے ؟ سامری نے جواب دیا کہ میں نے ایسی بات دیکھی ہے جو ان اسرائیلیوں میں سے کسی نے نہیں دیکھی تھی یعنی غرق فرعون کے وقت جبرئیل (علیہ السلام) کے گھوڑے پر سوال اسرائیلیوں اور فرعونیوں کے درمیان حائل تھے میں نے دیکھا کہ ان کے گھوڑے کی سم خاک میں اثر حیات ہے کیونکہ جب وہ زمین پر پاؤں رکھتا ہے تو خشک زمین پر سبزہ اگ آتا ہے تو میں نے جبریل کے قدموں کی خاک سے ایک مٹھی بھر لی اور اس خاک کو اس بچھڑے میں ڈال دیا تو اس میں زندگی کے آثار پیدا ہوگئے ۔
اس روایت پر اور ان جیسی دوسری روایات پر بہت سے سوال اٹھتے تھے بلکہ اٹھائے گئے مثلا یہ کہ بنی اسرائیل کے درمیان اور فرعونیوں کے درمیان ایک خاص حد کا فاصلہ مانا جاتا ہے کم از کم یہ کہ اسرائیلی دریا سے پار نکل رہے تھے اور فرعونی داخل ہو رہے تھے تو اتنی دور سے سامری نے گھوڑے کے پاؤں کی جگہ کو کیسے دیکھ لیا ؟ حالانکہ جو لوگ وہاں گھوڑے کے قریب تھے انکو کچھ دکھائی نہ دیا ۔ جبریل کو اگر آنا ہی تھا تو بنی اسرائیل کے ساتھ آتا فرعون کے ساتھ کہاں چلا گیا ؟ ان گھوڑوں میں سامری نے کیسے دیکھ لیا کہ یہ گھوڑا جبریل کا ہے ؟ فرعونیوں کے لشکر کے ساتھ جبریل کے گھوڑے کے آنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ فرعون گھوڑے پر سوار تھا جبریل گھوڑے پر آئے تاکہ فرعون کی گھوڑی کے قریب رہ کر اس کو دریا میں ایسی جگہ اتار سکیں جہاں پر وہ ڈوب جائے لہذا یہی ہوا کہ ایسی جگہ سے جبریل کا گھوڑا دریا میں اترا جہاں بہت گہرائی تھی اور اس کے فرعون کی گھوڑی بھی اتر گئی اور پھر کیا تھا کہ سارا لشکر ہی وہاں سے اتر گیا آگے جا کر جبریل کا گھوڑا تو پار نکل گیا لیکن فرعون کی گھوڑی اور فرعونیوں کا سارا لشکر وہاں ڈوب کر رہ گیا اور جبریل کا گھوڑ دریا عبور کر کے نکلا تو اس وقت سامری نے اس کو دیکھا کہ اس کے پاؤں کے نیچے زمین سبز ہوجاتی ہے اور وہاں سے سامری نے ایک مٹھی بھر لی ، لیکن جب یہ سوال باقی رہ گیا کہ سامری نے جبریل کو کیسے پہچان لیا ؟ اس کے لئے مولانا اشرف علی تھانوی (رح) نے کہیں سے یہ روایت نکال لی کہ دراصل سامری کی پرورش ہی جبریل امین کے ذریعہ سے کی گئی تھی کہ اس کی ماں نے اس کو ایک غار میں ڈال دیا تھا تو جبریل امین روزانہ اس کو غذا دینے کے لئے آتے تھے اسی وجہ سے وہ ان سے مانوس تھا اور پہچانتا تھا اور دوسرے لوگ نہیں پہچان سکے ۔ (بیان القرآن) ۔
اسی طرح روایات کو بیان کرتے کرتے مفسرین کہاں سے کہاں نکل گئے لیکن ان کہاوتوں کا اصل ماخذ کیا ہے ؟ کچھ معلوم نہیں ہے ۔ قرآن کریم کی آیت میں کہیں ایسا اشارہ نہیں ملتا کہ جبریل (علیہ السلام) کہاں سے سمجھ لئے گئے فقط (الرسول) کے لفظ سے پھر گھوڑا کہاں سے نکل آیا اور ٹاپوں کی مٹی کہاں سے نکل آئی اور زندگی کے آثار کس طرح ثابت کر لئے گئے ، سامری کو منافق ‘ کافر ‘ شیطان اور شرارتی بھی کہا گیا اور اس کو جبریل کا نظر آنا بھی بیان کیا گیا وہ مخلص مومنوں کی نگاہ میں نہ آیا پھر اس گائے کے بچھڑے میں زندگی کے آثار کہاں سے بنا لئے گئے یہ ” بھا۔۔۔۔۔ ں “ کی آواز زندگی ہے ؟ جبریل کتنی مدت تک نبی کریم ﷺ کے پاس آتے رہے کیا ان کے اپنے قدموں سے بھی کوئی ایسے آثار دیکھے گئے جو انکے گھوڑے کے پاؤں سے ظاہر کئے گئے ؟ لیکن ہمارے مفسرین کی مرضی ہے کہ چاہیں یہ آب حیات کا چشمہ برآمد کرلیں چاہیں آب حیات کی بجائے خاک حیات نکال لیں آخر ان کو کون پوچھ سکتا ہے ؟ پھر جب اکثریت کا ہوا بھی ان کے پاس موجود ہو جس سے انکی بات کو چار چاند لگ جائیں اور معجزات کا ہتھیار بھی وہ استعمال کرنا جانتے ہوں کہ جہاں چاہیں اس کو لاحقہ یا سابقہ کے طور پر استعمال کرلیں اور سب سے بڑھ کر ” قدرت خدا “ کا ہتھیار بھی ان کا اپنا ہے جہاں کوئی بات نہ بن سکے اس کا آگے کردیتے ہیں اور وہ کون ہے جو قدرت خدا کا انکار کرے اور خواہ مخواہ کافر بنے ۔
بات کتنی واضح اور صاف تھی کہ اس نے بات میں ذرا موڑ دیا کہ جس سے مخاطب تھا یعنی موسیٰ (علیہ السلام) ان کو (الرسول) کہہ کر مخاطب کیا ، اس نے ایسا کیوں کیا ؟ اس کو معلوم تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) سمجھ گئے تھے آپ کو اور مجھے اس کے سمجھنے کی آخر ضرورت بھی کیا ہے ؟ مفسرین نے ان روایات کو نقل کیا جن کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے اور ان کو صحابہ وتابعنی اور سلف کے نام سے منسوب کر کے ابو مسلم اصفہانی کا ذکر بھی کیا اور لکھا کہ اس نے ان روایات کی مخالفت میں (الرسول) کے لفظ سے موسیٰ (علیہ السلام) مراد لئے ہیں ، ہمارے مولانا مودودی جو اکثر جگہوں پر بغیر نام لئے مسلم اصفہانی کے نظریہ سے فٹ ہوجاتے ہیں وہ کہیں کہیں ابو مسلم (رح) پر خوب برستے بھی ہیں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ لوگ ابو مسلم (رح) کو اچھا نہیں سمجھتے اور سلف کی مخالفت میں وہ بیان دیتے نظر آتے ہی لہذا وہ ان کو ایسے مقامات پر خوب تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ مولانا مودودی ابو مسلم اصفہانی (رح) کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے اور یہ بات ہمارے نئے مفسرین میں اکثر وبیشتر پائی جاتی ہے ۔
بہرحال یہودیوں نے اپنی قومی بریت کے لئے یہ کہانی گھڑ لی تھی کہ گوسالہ پرستی کے معاملہ میں ہماری ایک روحانی طاقت کا ہاتھ تھا ورنہ ہمارے اسلاف کیوں اس گمراہی میں پڑتے ؟ وہ کہتے تھے کہ بچھڑے کی گویائی اس مٹی کا معجزہ تھا جو حضرت جبریل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے سموں سے پامال ہوئی تھی جب بنی اسرائیل مصر سے نکلے تو ان کے آگے آگے جبریل (علیہ السلام) جا رہے تھے اور زندگی کے فرشتہ پر سوار تھے جس نے گھوڑے کی شکل اختیار کرلی تھی اس گھوڑے کے سم جس مٹی پر پڑتے تھے اس میں زندہ کردینے کی خاصیت پیدا ہوجاتی تھی یہ بات کسی نے نہیں دیکھی یا کسی کو نظر نہیں آئی اور سامری نے دیکھ لی ، پس اس نے بچھڑا بنا کر اس میں آب حیات کی جگہ خاک حیات کی ایک مٹھی ڈال دی بس پھر کیا تھا کہ وہ زندہ ہو کر بولنے لگا ، اس طرح مولانا ابو الکلام آزاد (رح) نے ترجمان القرآن میں اس کی تفصیل بیان کی ہے اور ان لوگوں کی خوب خبر لی ہے جو ان من گھڑ کہانی کو ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں وہاں سات نمبر انہوں نے دیئے ہیں جو مطالعہ کے قابل ہیں ‘ وہیں سے دیکھ لینا مناسب ہے ۔
Ayah 20:97موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری کو یہ جواب دیا اور اس کو زندگی کی امان دے دی :
97۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری کی بات کو اچھی طرح سنا اور سمجھا اور جواب کے اندر سامری نے جو شرارت کی اس کو بھی اچھی طرح پہنچانا اور خوب غور کیا کہ سامری کو اس شرارت کے عوض قتل کردیا جائے جو بہرحال جائز اور صحیح ہے لیکن اس کے اثرات کیا ہوں گے ؟ اور اگر اس کو زندہ رکھ کر اس کی کھڑی کی گئی تحریک کو اس کی آنکھوں کے سامنے اس کو دکھا کر کچل دیا جائے تو اس سے کیا ہوگا ۔ غور وفکر کے بعد اس کو کہا کہ اچھا اب تیرے لئے دنیا میں تو یہ سزا ہے کہ تو پاگلوں کی طرح مارا مارا پھرے اور جب کوئی انسان تیرے قریب آئے تو تو خود اس سے بھاگنے لگے یعنی جو شرارت تو نے کرنا تھی کرلی اس کی پاداش میں بنی اسرائیل کے لوگ تیرے سے متنفر ہوں اور تو ان سے چھپتا پھرے اور برملا ان سے کہے کہ میں اچھوت ہوں میرے قریب مت آؤ گویا اس کو دوسروں سے بات چیت کرنا قانونا منع قرار پایا اور وہ بھی ایسا کہ بجائے اس کے کہ لوگوں کو منع کیا جائے کہ اس کے قریب مت بیٹھو اسی پر لازم کردیا کہ تو اپنے پاس کسی کو بیٹھنے نہیں دے گا اگر تیرے پاس کوئی شخص بیٹھا ہوا پایا گیا تو تیرے پاس بیٹھنے والے کو سزا نہیں دی جائے گی بلکہ تجھے سزا دی جائے گی کہ تو نے اس کو اپنے پاس کیوں بیٹھنے دیا اور ظاہر ہے کہ یہ اتنی بڑی سزا تھی کہ اس کو مار دینا اور قتل کردینا اس کے مقابلہ میں کوئی چیز ہی نہ تھی اور ایک وعدہ تیرے لئے عذاب کا وہ ہے جو کبھی ٹلنے والا نہیں اور وہ ہے عذاب الہی کا وعدہ معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی بتا دیا گیا تھا کہ سامری ایمان لانے والا نہیں اور رسول کی زبان سے جس کے متعلق ایسی خبر سنائی جاتی ہے تو وہ عام باتوں کی طرح ایک بات نہیں ہوتی بلکہ وحی الہی کے تحت فیصلہ کن ہوتی ہے اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے لئے آخرت کے عذاب کا اعلان عام کردیا اور اس عذاب کے اعلان کے بعد اس کو بتا دیا گیا کہ ” دیکھ اب ہم تیرے اس معبود کا کیا حشر کرتے ہیں جس پر تو جم کر بیٹھ گیا تھا ‘ ہم اس کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیں گے اور راکھ کو اٹھا کر سمندر میں ڈال دیں گے ۔ “ بس یہی وہ وجہ ہے جس کے پیش نظر ہم نے اوپر بیان کیا تھا کہ سامری نے بلاشبہ زیور اکھٹے کئے ہوں گے اور اس طرح اس نے ایک بہانہ سے قوم کا مال ہڑپ کرنا چاہا ہوگا ورنہ بچھڑا سونے کا نہیں بلکہ کس جل جانے والی شے کا تھا جو جل کر راکھ ہوجاتی ہے کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسا ہی کرنے کا اعلان کیا اور ایسا ہی کر کے دکھایا ، اگر وہ سونے کا ہوتا تو اس کے لئے (لنحرقنہ) کا لفظ ہرگز نہ بولا جاتا اور نہ ہی اس کو راکھ بنایا جاسکتا ، ہمارے نئے اور پرانے مفسرین میں سے شاید اس کی طرف کسی کی نگاہ نہیں گئی ورنہ ایک بنا بنایا معجزہ ان کے لئے موجود تھا اور وہ اس کو بیان کر سے تم تھے لیکن نہ معلوم کسی نے اس کا ذکر کیوں نہ کیا ؟ وہ ذکر کیوں کر کرتے کسی ایک نے ذکر کیا ہوتا تو سارے کرتے جب ایک نے نہ کیا تو دوسرے کیسے کرتے کیونکہ ہمارے ہاں یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے اور بڑوں بڑوں کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے کہ جو تم بیان کر رہے ہیں کیا کسی نے پہلے بھی بیان کیا ہے ؟
اگر پہلے کسی نے بیان نہیں کیا تو یہ قرآن کریم کی تفسیر کیونکر ہو سکتی ہے اور اگر کسی نے کی ہے تو وہ صحیح کیسے ہوگی جب کسی نے پہلے نہیں کی گویا با قرآن کریم پر غور وفکر ان کے نزدیک حرام ہے ، بہرحال اس کو جلا کر اس کی راکھ کو دریا میں بہا دینے کا ذکر قرآن کریم نے خصوصا کیا ہے ‘ اس کی اصل وجہ ؟ غالبا اس لئے کہ یہود کے ہاں اس کی راکھ کو گھول کر پلا دینا مذکور تھا اس لئے اس طرح کا رد کردیا گیا یا اس میں کوئی اور حکمت تھی اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی اچھی طرح جانتا ہے تاہم اس سے کوئی تقدس کا پہلو نہیں نکلتا جو اس طرح کا پہلو نکالے گا اس کے اندر کوئی وہمی بیماری ہوگی اور وہ اس کی ترجمانی کرے گا ۔
زیر نظر آیت سے یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جہاں شرک وکفر کے اڈے بنائے گئے ہوں انکو جتنا جلدی ممکن ہو اکھاڑ پھینکنا اور ان نشانات کو مٹانا نہایت ضروری ہے اور جو حکومت ایسا نہ کرے بلکہ ان کی حفاظت ونگرانی کرے وہ حکومت ہرگز اسلامی نہیں کہلا سکتی ، خیال رہے کہ اسلام میں دوسرے مذاہب میں کی عبادت گاہوں اور مذہبی یادگاروں کو وہیں تک باقی رہنے دیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے دائرہ کے اندر محدود ہوجائیں اور ان کے شرک کی گندگی باقی حالات کو متاثر نہ کرے لیکن اسلام کے اندر کوئی ایسی جگہ متبرک نہیں کہلا سکتی جہاں شرک کو ترویج دیا جاتا ہو ۔ اس وقت اگر آپ غور وفکر کرکے ٹھنڈے دل سے دیکھیں ‘ سنیں اور سمجھیں کہ ہماری ان خانقاہوں اور درباروں ‘ مزاروں اور مقبروں میں کیا ہو رہا ہے تو آپ کو کہنا ہی پڑے گا کہ سب شرک ہے کیونکہ سجدے ہوتے ہیں ۔ اعتکاف کی حالت اختیار کی جاتی ہے ، ان کو لوگ حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں اور اپنی حاجات ومشکلات ان کے سامنے پیش کرتے ہیں ، بھنگ پی جاتی ہے ‘ افیون وچرس بکتی اور استعمال ہوتی ہے ۔ بھنگڑے ڈالجے جاتے ہیں ڈھول اور تاشے بجائے جاتے ہیں ، ناچنا کو دنا اور گانا تو عام ہے ‘ بدکاری اور زنا کی وہاں بہتات ہے ان ساری باتوں کو ہر آنکھ دیکھتی ‘ ہر کان سنتا اور ہر دل محسوس کرتا ہے لیکن اس کے باوجود ان جگہوں کو اکھاڑ پھینکنے کی کوئی نہیں سوچتا ‘ کوئی نہیں کوشش کرتا اور یہاں تک کہ کوئی نہیں کہتا اور بیان کرتا آخر کیوں ؟ اس لئے کہ یہ قومی اور مذہبی یادگاریں بنا لی گئی ہیں ۔ وہاں ایک سامری تھا اور یہاں بیشمار اور ان گنت سامری ہیں ‘ وہاں عوام ایک سامری کے جھانسے میں تھے اور یہاں بڑے بڑے لوگ سارے ان سامریوں کی زد میں ہیں ۔ کوئی پوچھے ان تخریب کاروں اور غرض کے بچاریوں سے کہ تم کروڑوں روپے دوسرے ممالک سے مانگ مانگ کر کھاگئے ہو کہ ہم مجاہدین کی خدمت کر رہے ہیں جن کو افغانستان اور بوسنیا اور کشمیر کے محاذوں پر لڑا رہے ہیں کیا اس ملک عزیز کے اندر جہاد کی ضرورت نہیں رہی اور یہ سب کچھ جو اسلام کے نام پر کیا جا رہا ہے کیا فی الواقعہ اسلام ہی ہے اگر نہیں اور یقینا نہیں تو ابھی اس ملک کو اسلامی ملک بنانے کی کوشش کرو کیونکہ ان علاقوں سے زیادہ اس علاقہ کے اندر جہاد کی ضرورت ہے جو قوم خود شرک میں لت پت ہو وہ دوسروں کو اسلام کی دعوت کیا دے گی ؟ جو قوم من حیث القوم خود کفر پر کفر کئے چلی جا رہی ہو وہ دوسروں کو اسلام کیا کیا دعوت دے گی ؟ کیا مہاتمابدھ کو اور رام چندر کو کوئی شخص چھوڑ کر صابر کلیری رحمۃ اللہ عیہا ‘ مجدد الف ثانی (رح) علی ہجویری (رح) اور شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کو سجدہ شروع کردے اور ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے لگے تو وہ مسلمان ہوجائے گا ؟ کیا اسلام اس چیز کا نام ہے ؟
Ayah 20:98معبود تمہارا صرف اللہ ہے جو ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے :
98۔ جن لوگوں کا پیچھے ذکر ہو رہا تھا یعنی بنی اسرائیل کا اور سامری اور اس کے ساتھیوں کا ان کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے کہ تم سب کا معبود تو اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں کیونکہ اس کا علم سب پر محیط ہے اور کوئی چیز اس کے دائرہ علم سے خارج نہیں ہے وہ کسی کو اپنا شریک کیوں بنائے ؟ اور دوسروں کو کیا حق ہے کہ وہ اس کے ساتھ کسی اور شریک ٹھہرائیں ۔ اس نے ہرچیز کو پیدا کیا اور وہی ہرچیز کا روزی دینے والا ہے اور ہر ایک چیز کا نگہبان اور محافظ بھی وہ خود ہے اس نے ہرچیز کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا کہ ان کا انتظام کرنے کے لئے اسے دوسروں کی ضرورت ہو ، اس کی مخلوق ہے ، مہاتما بدھ کا خدا بھی وہ ہے اور رام چندر کا بھی شیخ عبدالقادر جیلانی کا بھی وہی معبودومولا ہے اور صابر کلیری کا بھی ، کسی کو کوئی حق نہیں ہے کہ اس ذات الہ کو چھوڑ کر کوئی کسی دوسرے کو رب اور الہ مانے اور اگر کوئی مان ہی لے تو اس کے ماننے سے کوئی فی الواقعہ الہ و معبود نہیں ہوجائے گا ۔ اس آیت پر موسیٰ (علیہ السلام) کا مضمون تمام ہوا۔
Ayah 20:99ہم نے آپ کو اے پیغمبر اسلام پہلی سرگزشتوں کے واقعات بھی سنائے اور قرآن بھی دیا :
99۔ ہم نے اس سے پہلے کتنی ہی دفعہ یہ بات عرض کی ہے کہ قرآن کریم میں گزشتہ کتب الہی کا خلاصہ بھی آگیا ہے جس پر ایمان لانا اور اس کو اپنے لئے راہنمائے ہدایت بنانا لازم اور ضروری ہے یہ نہیں کہ یہ قصہ تورات یا انجیل کا سمجھ کر مرضی کی جائے اور اس کے علاوہ نبی کریم ﷺ کے اپنے زمانہ کے حالات بھی اس میں بیان کئے گئے ہیں وہ بھی جو پیش آچکے تھے اور وہ بھی جو ابھی پیش آنے تھے اور ان میں سے آپ ﷺ کے وقت میں وہ پیش آئے اور ایسے بھی جو بعد میں پیش آچکے تھے اور وہ بھی جو ابھی پیش آنے تھے اور ان میں سے آپ ﷺ کے وقت میں وہ پیش آئے اور ایسے بھی جو بعد میں پیش آئے اور ایسے بھی جو ابھی پیش آئیں گے ، رہی وہ تورات اور انجیل اور دوسرے صحائف جو کتب آسمانی کے نام سے دوسری قوموں کے پاس پائے جاتے ہیں تو ان کی حقیقت ایک تاریخ کی سی ہے جس میں حق اور ناحق صحیح اور غلط ملا ہوا ہے یہ کیسے ؟ یہ ایسے کہ نہ تو ان کی اصل زبانیں ہی موجود رہی ہیں اور نہ ہی ان کے متن محفوظ ہیں اور ان میں تحریف کا ہونا بھی روز روشن کی طرح واضح ہے اس لئے یہ ساری باتیں اور چیزیں مل کر ان کی اصل حقیقت کو ضائع کردیتی ہیں لیکن جو حصہ قرآن کریم میں محفوظ ہوچکا ہے وہ اسی رب ذوالجلال کی طرف سے تصدیق شدہ ہے جس نے ان کتابوں کو نازل کیا تھا اور اب ان کی اصل قرآن کریم میں محفوظ ہوچکی ہے لہذا اس قرآن کریم پر اعتماد لازم ہے اور باقی کتب کی حیثیت تاریخی ہے ، زیر نظر آیت میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے فرمایا ” اے پیغمبر اسلام ! اس طرح ہم گزری ہوئی سرگزشتوں سے خبریں تجھے سناتے ہیں “ ” اس طرح “ یعنی جس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کا ایک حصہ آپ ﷺ کو سنایا ہے ۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور بلاشبہ ہم نے اپنے پاس سے تجھے ایک سرمایہ نصیحت عطا فرمایا ہے یعنی قرآن کریم “ اور اس میں وہ واقعات ہیں جو آپ ﷺ کو پیش آئے اور آئیں گے اور جن کا تعلق آنے والے زمانہ کے ساتھ ہے ، گویا اب نبی کریم ﷺ سے مخاطب ہوا جارہا ہے کہ اب اپنی امت کے لوگوں کو مخاطب کرکے ان کو خوب اچھی طرح سمجھا دو کہ وہ آنے والی ہدایت کو کان کھول کر سن لیں کیونکہ ان میں وہ واقعات ہیں جو ان کو پیش آنے والے ہیں یا جن کا تعلق براہ راست ان سے ہے۔
Ayah 20:100پہلی ہدایت یہ ہے کہ جس نے قرآن کریم سے رخ پھیرا وہ قانون کی زد میں آگیا :
100۔ نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ اپنی قوم کے لوگوں کے کانوں تک یہ بات پہنچا دی کہ جس شخص نے قرآن کریم سے رخ پھیرا اور اس کی ہدایات کے مطابق عمل نہ کیا اور اس کو اپنی جماعتی اور انفرادی زندگی کے لئے قانون نہ بنایا بس اس نے وہ بوجھ اٹھایا جو قیامت کے روز اس کے نیچے دبا ہوا ہوگا اور اب کوئی نہیں ہوگا جو اس کے اس بوجھ کو اس سے اتروا دے اور اس کی طاقت ہمت نہیں ہوگی کہ وہ اس کو اپنے سے الگ کر دے ۔ بعض احادیث میں انسان کے اپنے اعمال کو قیامت کے روز مختلف بھیانک شکلوں میں دکھا کر ان لوگوں پر سوار کرنے کا ذکر آتا ہے کہ جن کی آنکھیں دیکھنے سے بیزار ہوں گی ان لوگوں کی پیٹھوں پر سوار کردیا جائے گا اور وہ بوجھ ان سے الگ نہیں ہوں گے اور سارے لوگ ایک دوسرے کے بوجھوں کو دیکھ کر پہچان لیں گے کہ یہ آدمی دنیا میں کس کس برے عمل میں پھنسا رہا تھا اور قرآن کریم کی روشنی سے اس نے فائدہ حاصل نہیں کیا تھا ۔
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ جس شخص نے بالشت بھر زمین ناحق لی ہوگی قیامت کے دن سات زمینوں کے اس حصہ کو طوق بنا کر اس کے گلے میں لٹکا دیا جائے گا (بخاری ومسلم) ایک حدیث میں یہ وضاحت کی گئی کہ ” جس شخص نے راستہ کی ایک بالشت زمین بھی لی اس کے گلے کا وہ ہار بنا دی جائے گی یا یہ کہ اس کو اس کی پیٹھ پر لادا ہوا دکھایا جائے گا کہ یہ فلاں آدمی ہی اور اس کی پیٹھ پر جو یہ زمین لادی گئی ہے یہ فلاں زمین ہے جو اس نے راستہ کی ہتھیالی تھی اور لوگوں کی راہ کو تنگ کردیا تھا ۔ “ (طبرانی حکم بن حارث سلمی)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے ایک روز خطبہ دیا اور اس میں فرمایا ایسا نہ ہو کہ قیامت کے روز تم میں سے کسی کو میں ایسی حالت میں پاؤں کہ بلبلاتے اونٹ کو اپنی پیٹھ پر لادے آرہا ہو اور مجھ سے کہے کہ یا رسول اللہ ﷺ میری مدد کیجئے تو میں صاف کہہ دوں گا کہ اب اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تیرے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تجھے پیغام دیا تھا اس طرح آپ ﷺ نے ہنہناتے گھوڑے اور منمناتی بکری کے سوار ہونے کا ذکر بھی کیا اور یہ احادیث بخاری ومسلم اور احمد نے بیان کی ہیں ۔ اس طرح آپ ﷺ نے ضرورت سے زائد عمارتوں کے متعلق بھی ارشاد فرمایا کہ وہ اس بنانے والے کے سر پر رکھی ہوں گی ، ان احادیث کی روشنی میں قرآن کریم کی اس آیت کا مطلب سمجھنے کی کوشش کیجئے جس میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ (آیت) ” فانہ یحمل یوم القیمۃ وزرا “۔
اب ذرا غور کیجئے کہ ہم میں سے کتنے ہیں جو اس دنیا میں بڑے بڑے چوہدری اور و ڈیرے ‘ مولانا اور مولوی ایسے ہوں گے جن کی پیٹھوں پر اور سروں پر بیگھوں کے بیگھے اور مربعوں کے مربعے رکھے ہوں گے اور کتنے ہیں جن کے کندھوں پر ٹریکٹر ‘ بسیں اور کاریں لادی ہوں گی اور ایسوں کی بھی کب کمی ہوگی جن کے کندھوں پر بھینسیں ‘ اونٹ گائیں اور گھوڑے اور سب جانور ہی لدے ہوں گے اور پھر ایسے بھی ہوں گے جن کے سروں پر کتنی کتنی منزلہ بلڈنگیں اور کو ٹھیاں اور مارکیٹیں لدی ہوئی ہوں گی ، اسی طرح خیال کرتے جاؤ اور دیکھتے جاؤ تم پر خود بخود باتیں روشن ہوتی جائیں گی اور آپ خود کہنے کے لئے تیار ہوں گے کہ پھر ہمارے ان ایم ، پی ۔ اے اور ایم ۔ این ۔ اے کے کندھوں پر تو علاقوں کے علاقے اور بڑے پلاٹ اور شوگر ملیں اور بہت بڑی بڑی فیکٹریاں ہوں گی ۔ الامان والحفیظ :
Ayah 20:101وہ ان بوجھوں کے نیچے دبے ہوئے دکھائیں دیں گے اور وہ کبھی ان سے جدا نہیں ہوں گے :
101۔ مزید تاکید کے لئے دوبارہ ارشاد فرما دیا کہ اس طرح کے بوجھ ان سے کبھی الگ نہیں ہوں گے گویا وہ دوزخ کے عذاب میں بھی ان کے ساتھ ہی رہیں گے گویا وہ اس طرح کے دوہرے عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔ قارئین غور کریں ابھی وقت ہے کہ ہم ان بوجھوں کو اپنے سے الگ کرسکتے ہیں اگر کرنا چاہیں تاکہ قیامت کے روز ان سے بچ سکیں ، اب یہ بھی غور کیجئے کہ آج ہمارا ایمان اس قرآن کریم پر ہے جس کو ہم نے سجا کر طاقوں پر رکھا ہے اور جس کو ان سارے بوجھوں کے اٹھانے والا روزانہ ہاتھ میں لے کر ایک بار ضرور چومتا اور منہ اور ناک پر لگا کر برکت حاصل کرتا ہے اور ان مذہبی پیشواؤں کا حال کیا ہوگا جنہوں نے ان ساری باتوں کو پوشیدہ رکھ کر قوم کو صرف یہ بتایا ہے کہ اپنے مردے بخشوانے کے لئے ہم سے رابطہ اختیار کریں اور اس کے آرڈر بک کئے اور روزانہ ان آرڈروں کی تعمیل کے لئے ایک بچوں کا خاص جھنڈ لئے درپوزہ گروں کی طرح گھر گھر پھرتے ہیں اور خوانی کرکے مرے ہوؤں کو بخشواتے پھرتے ہیں ۔
Ayah 20:102صور پھونکے کے روز ان لوگوں کا کیا حال ہوگا ‘ اس کا بیان :
102۔ فرمایا قیامت کے روز ان کی آنکھیں نہ سفید ہوں گی اور نہ سیاہ بلکہ اس کے درمیان ان کا رنگ نیلا ہوگا ” زرقت عینہ “ کہا جاتا ہے کہ اس کی آنکھیں نیلی ہیں ۔ اور بعض روایات میں اس سے اندھے بھی مراد لئے گئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ نزول قرآن کریم کے وقت عربوں میں نیلی آنکھ خاص طور پر مبغوض متصور ہوتی تھی اور یہ بھی کہ اس وقت ان کے دشمن بنی احمر اور اہل روم کی آنکھیں نیلی تھیں اس لئے عربوں کی زبان میں ” ازرق العین “ دشمنوں کا لقب ہوتا تھا (المجرمین) سے مراد عام مجرم ہوں گے یا وہی مجرم جن کا ذکر گزشتہ آیتوں میں ہوچکا اور جن کے متعلق روایات میں بیان آیا ہے ، بہرحال فرمایا کہ ” جس روز صور پھونکا جائے گا اور ہم ان مجرموں کو جمع کریں گے اور ان کی آنکھیں مارے دہشت کے نیلی ہوچکی ہوں گی “ جب انسان غصہ کی حالت میں ہو اور اس کے سامنے کمزور ہو تو اس کی آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں اور سامنے کوئی طاقتور ہو کہ غصہ اس پر نکالا نہ جاسکے تو آنکھوں کی پوزیشن فی الواقعہ نیلی اور پیلی پڑجاتی ہے خصوصا جب یہ حال دیر تک رہے اور ختم ہونے میں نظر نہ آتی ہو ۔ اور اصل حقیقت اس کی اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ۔
Ayah 20:103ان بوجھوں کے نیچے دبنے والے ایک دوسرے سے جو باتیں کریں گے ان کا ذکر :
103۔ خوشی کے دن اور راتیں بڑی آسانی سے گزرتی ہیں یہ اپنی جگہ حقیقت ہے لیکن جب سامنے کوئی تکلیف نظر آتی ہو اور وہ انسان کو پہنچ جائے تو اس کو اپنا گزرا ہوا وقت اس کے مقابلہ میں بہت تھوڑا معلوم ہوتا ہے حالانکہ فی الواقعہ وہ تھوڑا نہیں تھا بلکہ بہت تھا ، غور کیجئے کہ اس دنیا کے دن کس طرح کٹتے جا رہے ہیں اور ہم ہیں کہ ان سے بالکل غافل ‘ اول تو بہت سوں کو آخرت کا کبھی خیال تک نہیں آیا اور اگر کسی کو خیال آ بھی گیا تو وہ خیال تک محدود رہتا ہے اس کے آگے کچھ نہیں ہوتا اور دل میں فورا یہ بات آجاتی ہے کہ ابھی میرا یہ کام باقی ہے میں نے ابھی وہ کرنا ہے ۔ اس طرح وہ خیال پھر گم ہو کر رہ جاتا ہے ۔ زیر نظر آیت میں فرمایا جارہا ہے کہ جب یہ لوگ دنیا کی زندگی گزار کر اور برزخ کی مدتوں کی زندگی کے بعد میدان حشر میں کھڑے کئے جائیں گے اور ان کی حالت وہ ہوگی جو اوپر بیان کی گئی کہ ان پر طرح طرح کے بوجھ لدے ہوں گے جو نہ وہ اتار سکیں گے اور نہ ان سے کوئی اتروا سکے گا اور دنیا میں جن کے آسروں اور سہاروں پر وہ بداعتدالیاں کرتے سب نظریں چرائیں گے بلکہ کتنے تو ان میں خود پھنسے ہوئے ہوں گے تو اس وقت وہ ہمارے لوگ جو تقریبا ایک ہی جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوں گے ایک دوسرے سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم کتنی مدت رہے یہی کچھ دس دن ہوں گے اور کتنے ہوں گے ہمارا اندازہ تو یہ تھا کہ مرنیکے بعد کبھی زندہ ہی نہ ہوں گے جو باطل نکلا لیکن آخر وہاں ہم کتنا ٹھہرے تھے یہی وہ دس دن ہوں گے اور کتنے ؟ اور فرمایا کہ یہ باتیں وہ ایک دوسرے چپکے چپکے کئے جا رہے ہوں گے کہ کوئی دوسرا ان کو طرح دیتے ہوئے کہے گا کہ دس دن ! کہاں ہم دس دن رہے ؟
Ayah 20:104فرمایا ہم بیخبر نہیں وہاں ایک آدھ دن کا اندازہ لگانے والے بھی ہوں گے :
104۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ہم ان کی اس طرح کی بحث وتمحیث سے بیخبر نہیں ان میں سے جو بہتر اندازہ کرنے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں یار ہم دس دن کب رہے ہم تو بس ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ہی رہے ہوں گے ۔ (امثلھم) یعنی ان میں سے جو اندازہ کرنے میں افضل و برتر ہوں گے وہ اس وقت کا اندازہ ایک آدھ دن ہی سے کریں گے چناچہ اس کی تفصیل قرآن کریم میں دوسری جگہوں پر بھی بیان کی گئی ہے کہ ان کا اندازہ یا انداز گفتگو میں جو کچھ وہ کہیں گے اس کو ایک آدھ دن ہی کہیں گے ، گویا اس طرح سے یہ فطرت انسانی کا بیان بھی ہے کہ ہم گزرے ہوئے واقعات کو ابھی کل کی بات سے تعبیر کرتے ہیں ایک ستر سال کا بوڑھا بھی جب بات کرے گا تو کہے گا ہندو گئے کتنے دیر ہوئی ؟ ابھی کل کی بات ہے کہ ہم سکول میں مل کر پڑھا کرتے تھے ، گویا اس 60 ۔ 65 سال کے عرصہ کو اس نے کل کی بات کہہ دیا ، قرآن کریم میں دوسری جگہ اس طرح ہے کہ :
(آیت) ” قال کم لبثتم فی الارص عدد سنین ، قالوا لبثنا یوما او بعض یوم فسئل العادین “۔ (المومنون 23 : 112 ، 113)
” اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تم کتنے سال دنیا میں ہرے ہو ؟ وہ جواب دیں کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے ہوں گے شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے ۔ “
اور ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور جس روز قیامت قائم ہوجائے گی تو مجرم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم موت کی حالت میں ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں پڑے رہے ہیں اسی طرح وہ دنیا میں بھی دھوکہ کھاتے رہے تھے اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ کتاب اللہ کی زد سے تم تو یوم البعث تک پڑے رہے ہو اور یہ وہی یوم البعث ہے مگر تم جانتے نہ تھے ۔ “ (الروم 30 : 55 ، 56) اور یہی اس زیر نظر آیت میں بیان کی جا رہی ہے فرمایا ” یہ لوگ جیسی جیسی باتیں کریں گے ہم ان سے بیخبر نہیں ان میں سے جو سب سے بہتر سراغ پر ہوگا وہ بول اٹھے گا کہ نہیں ہم بہت رہے ہوں گے تو بس ایک دن رہے ہوں گے ۔ “ اس سے زیادہ نہیں لیکن آپ نے ایک دن کو دس دن کیسے کہہ دیا ؟
Ayah 20:105پہاڑوں کے متعلق ان کا سوال ہے تو یقینا یہ سب اڑا دیئے جائیں گے :
105۔ اس تقریر میں گویا کفار مکہ اور دوسرے معترضین کے مختلف سوالوں کے جواب ان کو سنائے جا رہے ہیں قرآن کریم میں یہ انداز عام طور پر اختیار کیا گیا ہے جس سے دراصل لوگوں کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ جو اعتراض آج تمہارے دلوں میں پیدا ہو رہے ہیں یہ کوئی نئے نہیں بلکہ بہت پرانے ہیں اور پہلے لوگ بھی اسی طرح کے اعتراض کرچکے ہیں کہ قیامت کو سب لوگ چلائے جائے گے ، ہانکے جائیں گے ‘ ہموار زمین میں اکھٹے کئے جائیں گے اگر یہ ساری باتیں صحیح ہیں تو یہ اتنے بڑے پہاڑ کہاں جائیں گے اور یہ ہموار زمین کہاں ہوگی ؟ ان سارے سوالوں کا جواب ان کو پہلے بھی سنایا گیا جس میں کہا گیا کہ یہ زمین و آسمان تو بدل دیئے جائیں گے جب قیامت ہوگی تو ایک بار یہ سارا نظام دنیا جو تم کو دکھائی دے رہا ہے سب درہم کردیا جائے گا نہ یہ زمین ہوگی اور نہ آسمان گویا جب نظام ہی بدل دیا گیا تو پھر پہاڑ کہاں ہوں گے ؟
ان کو تو اس طرح اڑا دیاجائے جس طرح روئی دھننے والا دھنیا روئی کو اڑا کر رکھ دیتا ہے اور ان کو بکھیر دیا جائے گا اور یقینا یہ اس طرح اونچے اونچے نظر نہیں آئیں گے ۔
Ayah 20:106ان سب پہاڑوں کو ہٹا کر صاف میدان بنا دیا جائے گا :
106۔ فرمایا ان لوگوں سے کہہ دیجئے اے پیغمبر اسلام ! کہ اس زمین کو صاف میدان کی طرح ہموار کرکے رکھ دیا جائے اور اس میں کوئی اونچ نیچ نہیں رہے گی اور ان کا یہ عذر ” کچھ اونٹ اونچا اور اونچی اونٹ کی پیٹھ “ بالکل نہیں رہے گا اور یہ زمین فراخ بھی ہوگی نرم وہموار بھی ” قاع “ اور ” قیع “ ہموار زمین کو کہتے ہیں اور اس کی جمع ” قیعان “ آتی ہے ۔
” بقیعۃ “ بھی اس سے ہے جو سورة النور کی آیت 39 میں ہے (صفصف) کے معنی میں بھی یہی ہے گویا (صفصف) اور (قیع) دونوں مترادف ہیں ، اور یہ گویا پہلی آیت کی مزید وضاحت ہے کہ پہاڑ جن کے متعلق ان کا سوال ہے اور جو روک کا کام دیتے ہیں وہ نہیں رہیں گے اور ان کو ہموار اور پست زمین بنا دیا جائے گا ، اس طرح یہ ایک انقلاب عظیم ہوگا اور ان آیات میں پیش گوئی کے طور پر نبی اعظم وآخر ﷺ کو یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ حق کے مقابلہ میں جو رکاوٹیں یہ لوگ کھڑی کر رہے ہیں یہ بھی یقینا دور کردی جائیں گی اور وقت آئے گا کہ یہ لوگ جوق در جوق اسلام کی طرف بڑھیں گے اور ان کو کوئی روکنا چاہے گا بھی تو نہیں روک سکے گا ۔