Ayah 20:133نشانی کے طلب گار اگر غور وفکر کرتے تو ان کے پاس نشانات تو آچکے ہیں :
133۔ یہ صرف مکہ والوں ہی کی بات نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی کسی قوم کے پاس جب اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کو پیغام رسالت ونبوت دے کر بھیجا اور اس نے آکر قوم کو سمجھایا اور دلائل رسالت ونبوت ان کے سامنے پیش کئے تو انہوں نے ان کا کوئی جواب دینے کی بجائے نبی ورسول سے کوئی الٹا ہی مطالبہ کردیا کہ اگر تم رسول ہو تو تمہارے لئے کوئی سونے کا محل ہی تیار ہوجائے جس کو ہم دیکھیں ‘ کوئی باغ ہی تو اپنے لئے پیدا کر دے ‘ ہمارے باپ دادوں میں سے کسی کو زندہ کر کے ہمارے سامنے لے آ اگر یہ نہیں تو ہماری آنکھوں کے سامنے تو آسمان کو چڑھ جا اور وہاں سے ایک لکھی لکھائی کتاب لا کر ہمیں دکھا یہ اور اسی طرح کی بیسیوں باتیں انہوں نے پیش کیں اور طرح طرح کی حجتیں اور علتیں پیش کرتے رہے اور مکہ والوں کو زیادہ تر یہ اور اسی طرح کی دوسری باتیں اہل کتاب ہی پیش کرتے اور کہتے کہ تم اپنے رسول سے ایسی ایسی باتیں پوچھو اور یہ یہ چیزیں طلب کرو ‘ پیچھے سورة بنی اسرائیل کی آیت 90 تا 96 میں ان کی تفصیل گزر چکی ہے ۔
ان کو کہا جارہا ہے کہ تم نشانی طلب کرتے ہو اور کہتے ہو کہ ” یہ رسول کیوں اپنے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی اپنے ساتھ نہیں لایا ؟ “ فرمایا نشانی سے مراد تمہاری کیا ہے ؟ کیا کوئی حسی معجزہ کی طلب ہے یا عذاب الہی کی ؟ کیونکہ دونوں کے نشانات انبیاء کرام (علیہم السلام) اور رسل عظام کو دیئے گئے چونکہ ان سوالات کو پیش کرنے والے حقیقت میں اہل کتاب ہی تھے لہذا زیر نظر آیت میں ان کو جواب دیا گیا ہے کہ تم ایک نشانی طلب کرتے ہو تو کیا تمہارے لئے یہ نشانی کافی نہیں ہے کہ گزشتہ صحیفوں میں جن کو تم پڑھتے اور اللہ تعالیٰ کی طرف آئی ہوئی کتابیں مانتے اور تسلیم کرتے ہو ان میں آخری رسول کی بعثت کی بشارتیں پڑھتے ہو تو میں وہی رسول ہوں اور تمہاری کتابوں اور ان میں بیان کئے گئے نشانات کو سچا کرنے والا ہوں تو اس لحاظ سے میں خود تمہارے لئے نشانی نہیں پھر جو کتاب مجھ پر نازل ہوئی جس میں ایک بار نہیں بلکہ کئی بار تم کو چیلنج کیا گیا ہے کہ اگر تمہارے پاس صداقت ہے تو آؤ اس کتاب کی ایک ہی سورت کی مثل پیش کر دو اور یہ چیلنج کتاب اللہ کا آج تک تمہارے لئے بدستور موجود ہے یہ اللہ تعالیٰ کی نشانی نہیں ہے ؟ مزید فرمایا کہ (آیت) ” بینہ مافی صحف الاولی “۔ مطلب یہ ہے کہ گزشتہ آسمانی کتابیں مثلا تورات ‘ انجیل زبور اور صحائف ابراہیم وغیرہ سب کے سب نبی اعظم وآخر ﷺ کی نبوت و رسالت کی شہادت دیتے ہیں کیا بینات ان منکرین ومعاندین کے لئے کافی ثبوت نہیں ہیں اس سے زیادہ بڑا اور کیا ثبوت ومعجزہ ان کے لئے ہونا چاہئے ؟ رہی یہ بات کہ وہ ماننا اور تسلیم کرنا نہیں چاہتے تو بات بالکل واضح اور صاف ہے کہ جو نہ ماننا چاہتا ہو اس کے منوانے کے لئے کوئی دلیل بھی کافی نہیں سوائے ایک کے کہ وہ قیامت ہے جب سب کچھ کھل کر ان کے سامنے آجائے اور وہ دیکھ لیں کہ اب سوائے ماننے اور تسلیم کرنے کے کوئی چارہ کار نہیں ‘ پھر جب وہ اس وقت مان بھی لیں گے تو آخر ان کے اس ماننے کا کچھ فائدہ ؟ لیکن اب ان کی اس فضول بحث کا اور جواب بھی کیا دیا جاسکتا ہے ۔
Ayah 20:134اگر ان پر عذاب کا نشان نازل کردیا جاتا تو یہ لوگ کہہ سکتے کہ ہم پر حجت نازل نہ کی گئی :
134۔ فرمایا اگر تم کوئی نشانی ہی طلب کرتے ہو تو ایک طرح کی نشانی تو ہم نے دی اور ایسی دی کہ اس کے اندر ایک چھوڑکئی نشانات موجود ہیں لیکن تم ایسے نشانات کو نشانات ماننے کے لئے تیار نہیں تو پھر دوسری طرح کے نشانات نشانات عذاب ہیں اگر ہم ان مکہ والوں پر اس طرح کا کوئی عذاب نازل کردیتے تو اس وقت یہ لوگ پکار پکار کر کہتے کہ دوسروں کی طرح ہمیں مہلت کیوں نہ دی گئی اور جس طرح پہلی قوموں کے پاس اللہ تعالیٰ کے نبی ورسول آئے اسی طرح کا کوئی نبی ورسول ہماری طرف کیوں نہ بھیجا گیا ؟ اگر ہماری طرف کوئی ایسا نبی ورسول بھیجا جاتا تو ہم یقینا پہلی قوموں کی طرح نہ ہوتے بلکہ اس نبی ورسول کو مان لیتے اس کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق زندگی گزارتے اور پہلی قوموں کی بہ نسبت زیادہ ہدایت پانے والے ہوتے ، اس لئے فرمایا کہ ” اگر ہم انہیں اس سے پہلے عذاب نازل کر کے ہلاک کر ڈالتے تو یہ لوگ ضرور کہتے خدایا ! اس سے پہلے کہ ہم ظہور عذاب سے ذلیل ورسوا ہوں تو نے ایک پیغمبر کیوں نہ بھیج دیا کہ ہم تیری آیتوں پر چلتے اور ہلاک نہ ہوتے ؟ “ اب اگر ہم نے اپنا رسول ان کے پاس بھیج دیا ہے تو اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور کٹ حجتیاں کرتے ہوئے اس سے کبیگ کوئی مطالبہ اور کبھی کوئی مطالبہ شروع کر رکھا ہے اور مطالبہ بھی وہ جو بالکل غیر متعلق ہے بھلا نبوت کا ہتھیلی پر سرسوں جمانے سے کیا تعلق ؟ نبی ورسول انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجا جاتا ہے یا لوگوں کی پہیلیوں کا جواب دینے کے لئے ؟ لیکن شیطنت کی عادتیں طبیں نے نہ اس وقت مانی تھیں اور نہ اب ہی ماننے کے لئے تیار ہیں اس وقت بھی ان کو انہونی باتیں سوجھتی تھیں اور اب بھی یہ انہونی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں ، انہوں نے انبیائے کرام اور رسل عظام کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور ان کو انسان پایا تھا اس لئے ان سے اس طرح کے سوال کئے تھے جیسا کہ اوپر ذکر کئے گئے انہوں نے چونکہ انبیاء کرام (علیہم السلام) اور رسل عظام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اس لئے ان کو انسان نہیں مانتے اور ان میں ان باتوں کا ہونا تسلیم کرتے ہیں جو انسان کے متعلق نہیں بلکہ رب ذوالجلال والاکرام کے متعلق ہیں۔
Ayah 20:135یہاں ہر ایک کو انتظار کرنا ہے تم بھی انتظار کرو حقیقت تم پر کھل جائے گی :
135۔ گزشتہ امتوں نے بھی یہی کیا اور یہی کہا جو آج تم کہہ رہے ہو اور کر رہے ہو ‘ لیکن اس دار فانی میں کچھ وقت کے لئے ان کو بھی انتظار کرنا پڑا کیونکہ ہمارا قانون امہال سب کے لئے ڈھیل چاہتا ہے اور ہم اپنے قانون کے مطابق سب کو کچھ وقت کے لئے ڈھیل دیتے آئے اور آج اس پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے بھی ہمارا قانون وہی ہے اس لئے ہم نے تم کو ڈھیل دے رکھی پہلوں نے اس انتظار اور ڈھیل سے بھی بہت کم فائدہ حاصل کیا اور تم بھی بہت کم فائدہ حاصل کرو گے اور یہ بھی کہ جب سے یہ تحریک اٹھی اور ہمارے نبی ورسول محمد رسول اللہ ﷺ نے نبوت و رسالت کا دعوی کیا ہے کتنے ہیں جو ایڑیاں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے کہ انجام کیا ہوتا ہے اور اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور تم بھی اب وہی کر رہے ہو جو وہ کر رہے تھے لہذا وہ بھی ابھی تک انتظار میں ہیں اور تم بھی انتظار کرو عنقریب تم کو ” معلوم ہوجائے گا کہ کون سیدھے راستے پر ہے اور کون منزل مقصود پر پہنچتا ہے ؟ “ اور ظاہر ہے کہ سیدھی راہ پر وہی ہے جو منزل مقصود تک پہنچ گیا اور اسی طرح منزل مقصود تک وہی پہنچ پائے گا جو سیدھی راہ پر گامزن ہوا۔ منزل مقصود کیا ہے ؟ آخرت کی کامیابی ‘ سو اس کا آج نہیں تو آنے والے کل پتہ چل جائے گا لہذا اس کے لئے پھر وہی انتظار ہے بس اب تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار میں ہیں اور اسی مضمون پر سورة طہ کی تفسیر ختم ہوتی ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سیدھی بات کرنے اور سیدھی بات مان لینے کی توفیق عطا فرمائے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہوں ۔