21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 21:1

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

وقت قریب آ لگا ہے کہ لوگوں سے حساب لیا جائے ، اس پر بھی ان کا یہ حال ہے کہ رخ پھیرے ، غفلت میں پڑے چلے جا رہے ہیں !

لوگوں کے حساب کا دن قریب آرہا ہے اور وہ ابھی غفلت میں پڑے ہیں : 1۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک روز نبی اعظم وآخر ﷺ نے اپنی دو انگلیاں کھڑی کرکے ارشاد فرمایا کہ ” بعثت انا والساعہ کھاتین “۔ ” میری بعثت اس طرح ہوئی ہے کہ میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں “ یعنی میرے بعد اب کوئی نبی ورسول نہیں آئے گا بلکہ میرے بعد اب قیامت ہی آئے گی اگر تم سنبھل جاؤ گے تو فائدے میں رہو گے اور اگر نہیں سنبھلو گے تو تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نیا پیغام سنانے والا نہیں آئے گا ۔ اس طرح آپ نے واضح فرما دیا کہ انسانی تاریخ اب اپنے آخری دور میں داخل ہوچکی ہے اس کا اول اور وسط گزر چکا ہے ۔ زیر نظر آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ” وقت قریب آچکا ہے کہ اب لوگوں کا حساب لیا جائے گا “ حساب کیا ہے ؟ کمی بیشی کے علم کا ایک طریقہ حساب بھی ہے چناچہ دوسری آسمانی کتابوں کی طرح قرآن کریم میں بھی یہ استعارہ استعمال ہوا ہے اور بار بار فرمایا ہے کہ ہم قیامت میں تمہارے اعمال کا حساب لیں گے مگر اس حساب سے بھی مطلوب یہی ہے کہ انسان کے اعمال کے اچھے اور برے کی وضاحت اس کے سامنے پیش کردی جائے تاکہ کسی کو اس معاملہ میں کوئی شک وشبہ نہ رہے اور اس کا کیا اس کے سامنے واضح کردیا جائے ۔ لیکن اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس سے مراد نبی اعظم وآخر ﷺ کے مخالفین ومعاندین کو مطلع کرنا ہے کہ تم نے ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا جو زور لگایا ہے اور لگاتے ہی چلے جا رہے ہو ہم عنقریب اس کا محاسبہ تم سے کرنے والے ہیں لہذا ان کو واضح الفاظ میں بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے محاسبہ کا وقت قریب آگیا ہے اور اب ضروری ہے کہ فیصلہ کن معاملہ ظہور میں آجائے ، چناچہ وقت فی الحقیقت قریب آگیا تھا کہ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ہجرت مدینہ کا واقعہ ظہور میں آیا اور دعوت حق کے فتح واقبال اور معاندین حق کے خران وادبار کا دور شروع ہوگیا اور دونوں مطلب ومفہوم اپنی اپنی جگہ درست ہیں ۔ ہر انسان کے لئے جو دنیوی زندگی اس کو دی گئی ہے فقط ایک بار ہے جو شخص بھی پیدا ہوا اس لحاظ سے جب وہ اپنے اعمال کا جوابدہ ہے تو جوں جوں زندگی گزر رہی ہے اور اس سے اس کے اعمال سرزد ہو رہے ہیں توں توں اس کی جوابدہی کا وقت بھی قریب سے قریب تر ہوتا چلا آرہا ہے لیکن انسان ہے کہ وہ اس غفلت میں پڑا ہے کہ ” ہنوز دلی دور است “۔ اس کو اس مثال سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ انسان نے جب سے اس دنیا میں قدم رکھا تو اس کی زندگی چونکہ ایک وقت تک متعین ہے اگرچہ اس کو اس کا علم نہیں اور وہ اس کی زندگی کو ہر دن ‘ ہر گھنٹہ اور ہر سیکنڈ کم کرتا جارہا ہے لیکن وہ خود اور اس کے اہل خانہ اس بھول میں مبتلا ہیں کہ ہمارا بیٹا بڑا ہو رہا ہے بظاہر یہ بات صحیح ہے لیکن اگر غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ اس کی زندگی روبہ زوال ہے اس لئے وہ بڑا ہونے کی بجائے چھوٹا ہوتا چلا جا رہا ہے اور تیری کلائی پر بندھی ہوئی یہ گھڑی اپنی ” ٹک ٹک “ کی آواز سے تیری زندگی کے ایک ایک سانس کو کم کرتی جارہی ہے لیکن تو خوش فہمی میں مبتلا ہے اور تیری خواہشات نے تجھے کس طرح گھیرے میں لے رکھا ہے اور تیری فکر کبھی اس اپنی کلائی پر باندھی ہوئی گھڑی کی طرف بھی مائل نہیں ہوتی کہ تو اس کی ” ٹک ٹک “ پر بھی کبھی دھیان دے لے اور اس کے درس سے بھی کبھی مستفید ہو۔
Ayah 21:2

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نصیحت کی باتیں پیہم آتی رہیں مگر کبھی ایسا نہ ہوا کہ انہوں نے جی لگا کر سنا ، وہ سنتے ہیں مگر اس طرح کہ وہ کھیل کود میں لگے ہوئے ہیں

پروردگار کی طرف سے نصیحت تو پہیم آرہی ہے لیکن کوئی کان دھرنے والا بھی تو ہو : 2۔ مخاطبین اول کو کہا جارہا ہے کہ جو بات میں نے تم سے کہی ہے اس کو سن کر تم ششدر اور حیران وپریشان کیوں ہوگئے ہو نصیحت جو میں نے تمہارے سامنے پیش کی ہے یہ کوئی نئی اور انوکھی بات تو نہیں تمہارے پروردگار کی طرف سے تو پہیم بہ نصیحت آتی رہی ہے اور کوئی نبی ورسول بھی ایسا نہیں گزرا جس نے تم کو اس کی خبر نہ دی ہو لیکن تم نے ہر ایک کے پیغام کو بھلا دیا اور تمہاری عادت میں یہ بات داخل ہوگئی کہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہو ۔ یہی بات تم نے اب بھی کی ہے اور اس پر تم قائم رہو گے بہرحال اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو پیغام آیا ہے میرا کام ہے کہ میں وہ تمہارے کانوں تک پہنچا دوں وہ میں نے پہنچا دیا لیکن ” اگر تم جی لگا کر سننا نہیں چاہتے اور اس طرح کھیل کود میں مصروف رہنا چاہتے ہو “ تو یہ تمہاری مرضی کی بات ہے اور آخر تم اپنی مرضی کب تک کرتے رہو گے ؟ نبی اعظم وآخر ﷺ نے اپنے آپ کو خدا کے رسول کی حیثیت سے پیش کیا تو مکہ کے لوگ اس پر طرح طرح کی باتین بنانے لگے وہ کہتے تھے کہ کیا رسول ہے جو بال بچے رکھتا ہے ‘ بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ‘ کھاتا پیتا ہے اور ہم جیسے انسانوں کی طرح بسر کرتا ہے آخر اس میں وہ بات کیا ہے کہ ہم اس کو اللہ کا رسول مان لیں ؟ ان کو جواب دیا جا رہا ہے کہ ہمارا یہ رسول کوئی نیا رسول نہیں اور اس پر اتارا گیا کلام بھی کوئی نیا کلام نہیں تم ہی بتاؤ کہ کیا اس سے پہلے جو رسول آئے وہ اس طرح کے انسان نہیں تھے اور وہ کھاتے پیتے نہیں تھے اور اس طرح وہ زندگی نہیں گزارتے تھے اور ان پر جو کلام نازل ہوا کیا وہ انسانوں کی زبان میں نہیں تھا اگر وہ سب انسان تھے اور ان پر جو کلام اترا وہ بھی انسانوں ہی کی زبان میں تھا جو وقت بولی جاتی تھی تو تم کو اس رسول پر آخر تعجب کیوں ہے ؟ اور اس پر جو کلام ہم نے نازل کیا ہے وہ کوئی نیا کلام نہیں بلکہ تمہاری اپنی زبان میں اتارا گیا ہے لیکن تم ہو کہ اس پر کان دھرنے کے لئے تیار ہی نہیں اور کھیل کود میں ایسے مصروف ہو کہ شاید تم کو اسی لئے پیدا کیا گیا ہے اور تمہاری زندگی کا اور کوئی مقصد ہی نہیں یہ بات ان کو اس وقت کے لحاظ سے کہی گئی تھی آج ہم من حیث القوم اس بات پر غور کریں کہ ہماری قوم کا کیا حال ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی نے سازش کرکے ہماری پوری قوم کو کھیل تماشا پر لگا دیا ہو اور ہم نے زندگی کا مقصد یہی سمجھ رکھا ہے ۔ غور کرو اور آگے چلنے سے پہلے صرف دو منٹ اس کو وقت دے کر سوچ لو کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم سارا دن چوکے اور چھکے ہی گنتے رہتے ہوں اور ایک دوسرے سے پوچھتے رہتے ہوں کہ کتنا سکور ہوا اور ہمارا کام کہیں فقط کھیلنا اور کھیل دیکھنا تو نہیں رہ گیا ؟ اگر ایسا ہے تو پھر قرآن کریم کی اس آیت کے ترجمہ پر ایک بار دوبارہ نگاہ ڈال لیں اور اچھی طرح سمجھ لیں کہ یہ ہم مسلمانوں سے کیا مطالبہ کرتی ہے ۔
Ayah 21:3

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

ان کے دل یک قلم غافل ہیں اور ظلم کرنے والوں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں ، یہ ہماری ہی طرح کا ایک آدمی ہے ؟ پھر کیا تم جان بوجھ کر ایسی جگہ آتے ہو جہاں جادو کے سوا اور کچھ نہیں ؟ اور تم اچھی طرح دیکھتے بھی ہو

یہ لوگ دنیوی دلچسپیوں میں اس قدر کھوئے گئے ہیں کہ کلام الہی کو جادو کہہ دیا ہے : 3۔ اعضائے انسانی میں سے سب اعضا کے اپنے اپنے کام ہیں اور ہر عضو وہی کام کرتا ہے جو اس کے متعلق ہو ۔ ہر انسان کھاتا ہے اور ہر انسان کھاتا ہے اور ہر انسان سانس بھی لیتا ہے لیکن ذرا غور کرو کہ اگر کوئی شخص منہ کا کام ناک سے لینا شروع کر دے اور ناک کا منہ سے تو کیا ہو ؟ اگر سمجھ میں نہ آئے تو کسی ہسپتال میں جا کر اس آدمی کو دیکھو جس کی ناک سے نالی اس کے معدہ میں اتاری گئی ہو اور پھر تصور کرو کہ ایسا کیوں ترک کردیا جو اس کے ذمہ اللہ نے لگایا تھا ۔ معلوم ہے کہ دل کا کام کیا ہے ؟ ہاں ! دل کا کام غور وفکر کرنا ہے لیکن تم تو کھیل میں اس طرح مصروف ہوئے کہ دل سے غور وفکر کا کام لینا ہی ترک کردیا تو ان دنیوی دلچسپیوں میں ایسے کھوئے گئے کہ سنجیدہ سے سنجیدہ بات اور بڑی سے بڑی حقیقت کو بھی مذاق میں اڑانے لگے ، یہاں قریش مکہ کی کی اس حالت کا ذکر ہے کہ پہلے تو ان کو نبی اعظم وآخر ﷺ کے لائے ہوئے کلام پر سوچنے کی نوبت ہی نہیں آئی اور اگر کبھی کسی نے ان کی توجہ اس طرف مبذول کرا بھی دی تو انہوں نے آپس میں اس طرح کی سرگوشیاں کیں کہ ” یہ شخص آخر تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے پھر کیا تم اس کے لائے جادو کو آنکھوں سے دیکھ کر بھی اس میں پھنسنے کی کوشش کرتے ہو ۔ “ معلوم ہوا کہ یہ بات بھی بہت پرانی ہے کہ لوگ کسی نبی ورسول کو انسان ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے اس لئے جو انبیائے کرام (علیہ السلام) کے زمانہ کے لوگ تھے انہوں نے چونکہ ان کو آنکھوں سے دیکھا تھا اور انسان پایا تھا اس لئے انہوں نے ان کی نبوت و رسالت سے انکار کردیا اور آج کے سواد اعظم نے چونکہ نبی کریم ﷺ کو آنکھوں سے نہیں دیکھا اس لئے وہ نبوت کو تو مانتے ہیں لیکن بشر ہونے سے ان کو انکار ہے اور ان کا اعلان بھی یہی ہے کہ نبی ورسول بشر نہیں ہوتے ۔ (آیت) ” الذین ظلموا “۔ سے مراد وہی مشرک ہیں جو نبی کریم ﷺ کو بشر دیکھ کر آپ کی رسالت کے انکاری تھے اور آپ کے لائے ہوئے کلام یعنی قرآن کریم کو ” سحر “ اور آپ کو ” ساحر “ کے نام سے یاد کرتے تھے اور لوگوں کو ڈراتے تھے کہ اس شخص کے قریب مت جاؤ ورنہ اس کے جادو کے اثر سے نہیں بچ سکو گے اور اس کے لئے انہوں نے بہت سی مثالیں گھڑ رکھی تھیں محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہم ” ساحر “ اور اس کے لائے ہوئے کلام کو ” سحر “ کیوں کہتے ہیں مثال کے طور پر ایک دفعہ کا ہے کہ عتبہ بن ربیعہ نے سرداران قریش سے کہا کہ اگر تم لوگ پسند کرو تو میں جا کر محمد ﷺ سے ملوں اور اسے سمجھانے کی کوشش کروں اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب سیدنا حمزہ ؓ ایمان لا چکے تھے اور آپ ﷺ نے صحابہ کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی تھی گویا کہ یہی زمانہ تھا جس میں یہ سورة نازل ہوئی ۔ لوگوں نے کہا کہ اے ابوالولید ! ہم کو تم پر پورا اطمینان ہے ضرور جا کر اس سے بات کرو چناچہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچا اور کہنے لگا کہ ” بھتیجے ہمارے ہاں تم کو جو عزت حاصل تھی تم خود اس کو اچھی طرح جانتے ہو کہ ہم تم کو ” الامین “ اور ” الصادق “ کے خطابات سے پکارا کرتے تھے اور نسب کے لحاظ سے بھی تم ایک شریف ترین گھرانے کے فرد ہو تم اپنی قوم پر یہ کیا مصیبت لے آئے ہو ؟ تم نے جماعت میں تفرقہ ڈال دیا ‘ ساری قوم کو بیوقوف ٹھہرایا ‘ ہمارے دین اور ہمارے باپ دادا کے معبودوں کی توہین کی ‘ باپ دادا جو مرچکے ہیں ان سب کو تم نے گمراہ قرار دیا ۔ بھتیجے اگر ان باتوں سے تمہارا مقصد دنیا میں اپنی بڑائی قائم کرنا ہے کہ دنیا کا اصول ہے اور لوگ کہتے ہیں ” بدنام ہوں گے تو کیا نام تو ہوگا “ تو ان باتوں کو چھوڑ دو آؤ ہم سب مل کر تم کو اتنا روپیہ دے دیتے ہیں کہ تم سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ ‘ سرداری چاہتے ہو تو ہم تمہیں سردار مان لیتے ہیں ‘ بادشاہی چاہتے ہو تو بادشاہ تسلیم کرلیتے ہیں اور اگر تمہیں کوئی بیماری ہوگئی ہے تو جس کی وجہ سے تم کو واقعی سوتے جاگتے میں کچھ نظر آنے لگا ہے تو ہم سب مل بہترین طبیبوں سے تمہارا علاج کراتے ہیں ۔ یہ باتیں وہ کرتا رہا اور نبی کریم ﷺ خاموشی کے ساتھ سنتے رہے جب وہ کافی بیان کرچکا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابو الولید ! جو کچھ آپ کہنے چاہتے تھے کہہ لیا یا اور کچھ کہنا ابھی باقی ہے ؟ اس نے کہا جو کچھ مجھے کہنا تھا سب کہہ لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اچھا اب میری بات سنو اس کے بعد آپ ﷺ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تلاوت کرنے کے بعد سورة فصلت کی تلاوت شروع کی اور (آیت) ” وھم لا یسئمون) (فصلت 41 : 38) پر پہنچ کر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور پھر سر اٹھا کر عتبہ سے فرمایا کہ ابو الولید جو کچھ مجھے کہنا تھا وہ آپ نے سن لیا اب آپ کی مرضی آپ جانیں اور آپ کو کام ، عتبہ یہاں سے اٹھ کر سرداران قریش کی طرف پلٹا تو لوگوں نے دور سے ہی اس کو آتے دیکھ کر کہا خدا کی قسم ابو الولید کا چہرہ بدلا ہوا ہے ، یہ وہ صورت نہیں ہے جسے لے کر وہ گیا تھا ، اس کے پہنچتے ہی لوگوں نے سوال کیا کہ ابو الولید کیا کر آئے ہو ؟ اس نے کہا خدا کی قسم آج میں نے ایسا کلام سنا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہ سنا تھا ۔ واللہ یہ شعر نہیں ہے ‘ نہ سحر ہے اور نہ ہی کہانت ۔ اے معشر قریش ! میری بات مانو تو اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ اس کی باتیں جو میں نے سنی ہیں رنگ لا کر رہیں گی ۔ اگر عرب اس پر غالب آگئے تو تمہارے بھائی کا خون تمہاری گردن پر نہیں ہوگا دوسروں کے سر پر ہوگا اور اگر یہ عرب پر غالب آگیا تو اس کی حکومت تمہاری حکومت ہوگی اور اس کی عزت تمہاری عزت ، یہ سن کر لوگوں نے کہا کہ واللہ ! ابو الولید تم پر بھی اس کا جادو چل گیا ۔ اس نے کہا کہ اے قریش کے لوگو ! یہ میری رائے ہے اگر تم کو منظور ہو تو تم جانو اور تمہارا کام (ابن ہشام ج اول ص 313 ‘ 314) کتب سیر میں اس طرح کے کتنے واقعات تحریر ہیں جن سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہوتی ہے قرآن کریم جس نے سنا اور آپ کے اخلاق وکردار کو جس نے دیکھا اگر اس نے قوم اور برادری کے ڈر سے اس کو قبول نہیں کیا تو بہرحال اس کے دل میں ایک سوچ ضرور پیدا ہوگئی کہ اس میں کچھ ہے اور اسی طرح کی چیز کو وہ جادو خیال کرتے تھے ۔ اب غور کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی صداقت کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ ان کے سخت سے سخت معاند بھی اس عجیب و غریب کشش وتاثیر سے انکار نہیں کرسکتے تھے جو آپ کی شخصیت اور آپ کی تعلیم میں پائی جاتی تھی ؟ اور چونکہ اعتراف حقیقت کے لئے تیار نہ تھے اس لئے مجبور ہوجاتے تھے کہ اسے جادو سے تعبیر کریں ؟ زیر نظر آیت میں یہی فرمایا گیا ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کے پاس جانے سے لوگوں کو روکتے ہیں کہ تم ان کے پاس گئے تو بس جادو میں پھنسے۔ وہاں تو جادو ہی جادو بھرا ہے نیز وہ کہتے ہیں کہ اس آدمی میں وحی ونبوت کی تو کوئی بات نظر نہیں آتی کیونکہ یہ ہماری ہی طرح کا آدمی ہے پس جو کچھ اس کا اثر ونفوذ ہے بس جادو ہی کی وجہ سے ہے مزید غور کرو گے تو آج بھی ایسے لوگوں کی کثرت دیکھو گے جو ایک بات کو محض اس لئے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں کہ ان کے باپ دادا اس کو کرتے اور کہتے آئے ہیں اور ایسی بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں جو ان کے آباء و اجداد کے نظریہ کے خلاف ہو تقابل کرکے دیکھو تو اس وقت جتنے مکاتب فکر اسلام کے نام سے تشکیل پا چکے ہیں سب میں یہ بات یکساں موجود ہے حالانکہ ان کے آباء و اجداد نہ نبی تھے اور نہ رسول ۔ سب سے زیادہ تعجب ہمیں اہل حدیث کہلانے والے گروہوں پر ہے کہ وہ منہ سے تو تقلید کی مذمت کرتے نہیں تھکتے اور زور دے کر کہتے ہیں کہ ہم مقلد نہیں لیکن تقلید میں اس قدر وہ پختہ ہیں باقی گروہوں میں سے ایک گروہ بھی اتنا پختہ نہیں بات فقط یہ ہے کہ وہ مشہور ائمہ اربعہ کی تقلید نہیں کرتے بلکہ ایک مخصوص جماعت کی تقلید کرتے ہیں جس جماعت میں نہ صحابہ کرام کا نام ہے اور نہ تابعین کباء کا پھر تعجب پر تعجب یہ ہے کہ اس بات کو تسلیم بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بغیر تحقیق کے کچھ نہیں کہتے اور نہ ہی کسی کی سنتے ہیں حالانکہ انہوں نے موجودہ مسلک کی بنیاد فقط فروعات پر رکھی ہے اور ان کو اصولوں سے بھی اوپر لے گئے ہیں حالانکہ کام کا آدمی یا کام کی جماعت وہی ہو سکتی ہے جو دوسروں کی بجائے اپنے نقائص پر نظر رکھے اور ان کا تدارک کرتی رہے ۔ ذرا گہرائی میں جا کر دیکھو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ (آیت) ” ما وجدنا علیہ ابآء نا “۔ کہنے والے آخر کہتے کیا ہیں یہی کہ ” ہمارا عقیدہ ونظریہ وہی ہے جو ہمارے بزرگوں کا ہے “ اور ہم نے اس کو بدل کر اس کا نام ” سلف “ رکھ لیا ہے اور اپنی پہچان کے لئے ” سلفی “ کہلاتے ہیں لیکن کان سیدھے ہاتھ سے پکڑا جائے یا الٹے ہاتھ سے فرق کیا پڑتا ہے ؟ یہی کہ سیدھے سے پکڑنے والا ذرا آسانی سے پکڑ لیتا ہے اور الٹے سے پکڑنے والا مزید مشکل میں مبتلا ہوجاتا ہے ، اللہ تعالیٰ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے اور ہم اپنی طرف بھی دیکھ سکیں کہ ہم کیا ہیں ؟۔
Ayah 21:4

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

فرمایا آسمان و زمین میں جو بات بھی کہی جاتی ہے میرے پروردگار کو سب معلوم ہے وہ سننے والا جاننے والا ہے

آسمان و زمین میں جو بات بھی کہ جاتی ہے میرا پروردگار اس کا جانتا ہے : 4۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کے متعلق کہا جارہا ہے کہ ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے کفار مکہ کے اس پروپیگنڈا کا کبھی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی کبھی ان پر کوئی اعتراض کیا ہے جس کا تعلق آپ کی ذات سے ہو آپ کو جادوگر اور ساحر قرار دینے کا تعلق آپ کی ذات اقدس سے تھا اس لئے آپ نے کبھی ان کے اس قول کا جواب نہیں دیا اور اگر کبھی دیا تو کیا ؟ یہی کہ ” آسمان و زمین میں جو بات بھی کہی جاتی ہے میرے پروردگار کو سب معلوم ہے وہ سننے والا جاننے والا ہے “ اور یہ جواب اتنا جامع ہے کہ کچھ کہا بھی نہیں اور ان کو سب کچھ کہہ بھی دیا جو ایک نبی کی زبان سے کہا جاسکتا تھا ۔
Ayah 21:5

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

بلکہ انہوں نے کہا ، یہ محض خواب و خیال کی باتیں ہیں بلکہ من گھڑت دعویٰ ہے ، نہیں بلکہ یہ شاعر ہے اگر ایسا نہیں ہے تو کوئی نشانی ہمیں لا دکھائے جس طرح اگلے وقتوں کے لوگ نشانیوں کے ساتھ بھیجے جا چکے ہیں

کفار مکہ کی طرف سے مختلف اعتراضات اور نشانی دکھانے کا پرانا مطالبہ : 5۔ کفار مکہ نے اب پروپیگنڈا مہم بہت تیز کردی اور فقط آپ کو ” ساحر “ اور آپ کے لائے ہوئے کلام کو ” سحر “ کہنے پر اکتفا نہ کیا بلکہ مختلف اعتراضات شروع کردیئے اور آپ کے لائے ہوئے کلام کو بھی مختلف ناموں سے یاد کرنے لگے اور ان کے ہر نام میں تحقیر کا عنصر ٹپکتا تھا چناچہ انہوں نے آپ کے لائے ہوئے کلام یعنی قرآن کریم کو مزید دو نام اپنی طرف سے دیئے ایک ” اضغاف احلام “ اور دوسرا ” افتری “ اور اس طرح آپ ﷺ کو ” سحر “ کے نام سے یاد کرتے تھے اور اب ” شاعر “ اور کاہن “ بھی کہنے لگے ۔ (آیت) ” اضغاث احلام “ کیا ہے ؟ اضغاث ضغث کی جمع ہے اور ضغث گھاس کے اس مٹھے کو کہتے ہیں جس میں مختلف قسم کے تنکوں کو ملا کر باندھ دیا گیا ہو یا خلط ملط کردیا گیا ہو اور ” احلام حلم “ سے ہے جس کے معنی ہیں غضب کے ہیجان سے نفس اور طبیعت کو ضبط میں رکھنا اور ” اضغاث احلام “ کے معنی پریشان کن خواب کے ہیں اور ” افتری “ جھوٹ کو کہتے ہیں یعنی جو بات بغیر کسی مقصد کے گھڑ لی گئی ہو اور پھر اس کو گھڑ کر کسی دوسرے کے ذمہ لگا دیا جائے کہ اس نے اس طرح کہا ہے اور یہ بات چیت میں یعنی کلام میں ہی ہو سکتا ہے اور ان لوگوں نے اس کلام کے متعلق یہ بات کہی جو نبی اعظم وآخر ﷺ پر نازل ہوا یعنی قرآن کریم کو اور یہ جو کچھ انہوں نے کہا ساری کی ساری بناوٹ تھی جو کہنے والوں کے دل بھی نہیں مانتے تھے ۔ غور کیجئے کہ قرآن کریم کو نبی اعظم وآخر ﷺ نے اپنے کلام کے طور پر نہیں پیش کیا تھا بلکہ کلام اللہ کے طور پر پیش کیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہ کلام اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کی حیثیت سے پیش کیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کا مقرب فرشتہ جبریل (علیہ السلام) لے کر آیا ہے مخالفین نے جب دیکھا کہ نہ تو اس کے مقابلہ کی کوئی چیز پیش کی جاسکتی ہے اور نہ ہی ہماری طرف جبریل آسکتا ہے تو انہوں نے اس کو پریشان خواب قرار دینے کی بےکار کوشش کی پھر جب بات بنتی نظر نہ آئی تو اس کو افتراء اور گھڑی ہوئی بات کہہ دیا اور اس طرح رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق مختلف قسم کی باتیں شروع کردیں اور ان کا چرچا اتنا عام کیا کہ ہر آنے جانے والے سے پوچھنا شروع کردیا کہ تم کیسے آئے اور کس کے ساتھ تمہارا کوئی کام ہے اور اگر اس نے بتا دیا تو فبہا ورنہ خود ہی اس سے کہنا شروع کردیا کہ معاف رکھنا ہم تو محض اس لئے پوچھ رہے کہ یہاں ہم میں سے ایک نوجوان کسی چکر میں آگیا ہے اور وہ لوگوں کو بہکاتا ہے اور ان کو باپ دادا کے دن سے متنفر کرتا ہے اور اس کے پاس معلوم نہیں کہ کوئی کالا علم ہے جس کے زور سے وہ کچھ نہ کچھ منوا لیتا ہے ‘ کبھی کہتے کہ وہ شاعر ہے اور اس شاعری کے بل پر لوگوں کو متاثر کرتا ہے ‘ کبھی کہانت کا الزام دیتے اور کہتے کہ وہ کاہن ہے اس لئے ایسی باتیں کرتا ہے ۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ اس کو بڑی وضاحت سے بیان کیا کہ جیسا کہ ارشاد فرمایا کہ : (آیت) ” انھم کانوا اذا قیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون ، ویقولون ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون “۔ (الصف 37 : 35 ‘ 36) ” یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ گھمنڈ میں آجاتے ہیں اور کہتے ہیں کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں ۔ “ فرمایا (آیت) ” بل جآء بالحق وصدق المرسلین “۔ (37 : 37) ” حالانکہ وہ حق لے کر آیا ہے اور اس نے سارے رسولوں کی تصدیق کی ہے ۔ “ اور یہ بات سوفی صد صحیح بھی تھی کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے سابق رسولوں کی تصدیق ہی کی تھی اور ان میں سے کسی ایک کی مخالفت نہ کی تھی بلکہ کسی ایک تکذیب کو سب کی تکذیب قرار دیا تھا ہاں ! اگر کسی سابق رسول کی تکذیب یا مخالفت کی ہوتی تو اس کو رسول ماننے والوں کے پاس کوئی معقول وجہ ہوتی اور اس طرح کی کوئی بات آپ کی طرف وہ جھوٹ موٹ بھی بیان نہ کرسکے دوسرے یہ کہ جو کچھ آپ نے پیش کیا وہ بھی کوئی اور نرالی چیز نہیں تھی بلکہ وہی تھا جو گزشتہ انبیاء ورسول بیان کرچکے تھے کسی ایک نبی ورسول کی مخالفت میں کہی ہوئی بات بھی وہ ثابت نہ کرسکتے تھے اور نہ ہی کرسکے اور یہ بھی کہ آپ ﷺ گزشتہ تمام پیش گوئیوں کے صحیح مصداقت تھے جو سابق انبیاء ورسول نے خاتم النبیین کے سلسلہ میں کی تھیں لیکن ان ساری باتوں کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے انہوں نے مخالفت کی اور آپ پر اس طرح کے الزام تراشے جو بیان کئے جا رہے ہیں چناچہ قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ : (آیت) ” فما انت بنعمت ربک بکاھن ولا مجنون ، ام یقولون شاعرنتربص بہ ریب المنون “۔ (الطور 52 : 29 ، 30) ” پس اے پیغمبر اسلام ! تم نصیحت کئے جاؤ اپنے رب کے فضل سے نہ تم کہا ہن ہو اور نہ ہی مجنون کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردش ایام کا انتظار کر رہے ہیں ؟ “ کاہن کیا ہے ؟ ” کاہن “ عربی زبان میں جوتشی ‘ غیب کی خبریں بتانے والا اور سیانا یعنی سمجھ دار کے معنوں میں بولا جاتا تھا لیکن زمانہ جاہلیت میں یہ ایک مستقل پیشہ تھا جس طرح آج کل ” پیش امام “ امامت اور خطابت مستقل پیشہ بن چکا ہے ، کاہنوں کا دعوی تھا اور ان کے متعلق ضعیف الاعتقاد لوگ بھی یہ سمجھتے تھے کہ وہ ستارہ شناس ہیں یا ارواح اور شیاطین اور جنوں سے ان کا خاص تعلق ہے جیسے کہ آج کل کے پیرومرشد کہلانے والوں کے متعلق مسلمانوں کے ضعیف الاعتقاد لوگ خیال کرتے ہیں بہرحال وہ سمجھتے تھے کہ اس تعلق کی بدولت وہ غیب کی خبریں معلوم کرسکتے ہیں ‘ کوئی چیز کھوئی جائے تو وہ بتا سکتے ہیں کہ وہ کہاں پڑی ہوئی ہے ‘ کسی کے ہاں چوری ہوجائے تو وہ بتا سکتے ہیں کہ چور کون ہے کوئی اپنی قسمت پوچھے تو وہ بتا سکتے ہیں کہ اس کی قسمت میں کیا لکھا ہے ؟ انہیں اغراض کے ہوتی تھیں اور وہ خود بھی بعض اوقات بستیوں میں آواز لگاتے پھرتے تھے تاکہ لوگ ان کی طرف رجوع کریں ، ان لوگوں کی ایک خاص وضع قطع ہوتی تھی جس سے وہ الگ پہچانے جاتے تھے ، ان کی زبان بھی عام بول چال سے مختلف ہوتی تھی وہ مقفی ومسجع فقرے خاص لہجے میں ذرا ترنم کے ساتھ بولتے تھے اور بالعموم ایسے ذو معنی فقرے استعمال کرتے تھے جن سے ہر شخص اپنے مطلب کی بات نکال سکے ، قریش نے عوام کو فریب دینے کے نبی اعظم وآخر ﷺ پر کاہن ہونے کا الزام لگایا کیونکہ آپ ان حقائق کی خبر دے رہے تھے جو لوگوں کی نگاہ سے پوشیدہ تھے ۔ بہرحال اس طرح جو ان کے منہ میں آتا وہ کہہ دیتے اور ہر آن ان کی کوشش یہ تھی کہ کوئی آدمی آپ ﷺ کے قریب نہ پھٹکے خواہ وہ مکہ کا باشندہ ہو یا کہیں باہر سے آیا ہو۔ مختصر یہ کہ قرآن کریم نے ان کے ان الزامات کی سختی سے تردید کی کہ اگرچہ آپ خود ان باتوں کا کوئی جواب دینے کے لئے تیار نہ تھے تاہم جو بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی وہ تو بہرحال آپ کو کہنا پڑتی کیونکہ وہ آپ کی اپنی بات نہ تھی چناچہ ایک جگہ ارشاد ہوا کہ ” پس میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی بھی جن کو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جن کو تم نہیں دیکھتے کہ یہ ایک رسول کریم کا (لایا ہوا) کلام ہے کسی شاعر کا قول نہیں ہے ‘ تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو ، یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ۔ “ (الحاقہ 69 : 38 تا 43) غور کرو کہ کس چیلنج کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے متعلق یہ بات کہی گئی اور کس نے کہی ؟ ظاہر ہے کہ اس تحدی کے ساتھ بیان کرنے والا خود اللہ تعالیٰ ہی تھا اور اس لئے یہ کہا گیا کہ جس کے متعلق کہا جا رہا تھا وہ سب لوگوں کی آنکھوں کے سامنے تھا اور اس کی یہ حقیقت جو اوپر بیان ہوئی وہ مکہ کے کسی آدمی سے بھی پوشیدہ نہیں تھی اور جو کچھ لوگوں کو نظر آرہا تھا وہ یہ تھا کہ : ٍا۔ اس کلام کو ایک ایسا شخص پیش کر رہا تھا جس کا شریف النفس ہونا مکہ کے معاشرہ میں کسی سے چھپا ہوا نہ تھا ۔ سب جانتے تھے کہ اخلاقی حیثیت سے یہ ان کی قوم کا ایک بہترین آدمی ہے ۔ ایسے شخص سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ اتنا بڑا جھوٹ لے کر اٹھا کھڑا ہوگا کہ خدا پر بہتان باندھا اور اپنے دل سے ایک بات گھڑ کر اسے رب ذوالاجلال والا کرام کی طرف منسوب کر دے حالانکہ اس نے آج تک کسی انسان کے متعلق بھی ایسی بات نہیں کی تھی ۔ ب ۔ وہ یہ بھی اعلانیہ دیکھ رہے تھے کہ اس کلام کے پیش کرنے میں اپنا کوئی ذاتی مفاد اس شخص کے پیش نظر نہیں ہے بلکہ یہ کام کرکے تو اس نے اپنے مفاد کو قربان کردیا ہے کہ اس نے اپنی تجارت کو برباد کیا ۔ اپنے عیش و آرام کو ختم کر کے رکھ دیا کہ جس معاشرے میں اس کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا تھا اس میں گالیاں کھانے لگا اور نہ صرف خود بلکہ اپنے بال بچوں تک کو ہر قسم کے مصائب میں مبتلا کرلیا ، ذاتی مفاد کا خواہش مند ان کانٹوں میں اپنے آپ کو کیوں پھنسا لیتا ۔ ج۔ ان کی آنکھیں یہ بھی دیکھ رہی تھیں کہ انہیں کے معاشرے میں سے جو لوگ اس شخص پر ایمان لا رہے تھے ان کی زندگی میں یک لخت ایک انقلاب برپا ہوجاتا تھا کسی شاعر یا کاہن کے کلام میں یہ تاثیر آخر کب دیکھی گئی ہے کہ وہ لوگوں میں ایسی زبردست اخلاقی تبدیلی پیدا کر دے اور اس کے ماننے والے اس کی خاطر ہر طرح کے مصائب وآلام برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجائیں ؟ د۔ ان سے یہ بات بھی پوشیدہ نہ تھی کہ شاعر کی زبان کیا ہوتی ہے اور کاہنوں کا کلام کیسا ہوتا ہے ۔ ایک ہٹ دھرم آدمی کے سوا کون یہ کہہ سکتا تھا کہ قرآن کریم کی زبان شاعری یا کہانت کی زبان ہے ۔ ہ۔ پھر یہ بات بھی ان کی نگاہوں کے سامنے تھی کہ خود محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان بھی اپنی ادبی شان کے باوجود قرآن کریم کی ادبی شان سے بہت ہی مختلف تھی ، کوئی اہل زبان حضور ﷺ کی اپنی تقریر اور قرآن کریم کی عبارت سن کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ دونوں ایک ہی شخص کے کلام ہیں ۔ و۔ ان سے یہ بات بھی پوشیدہ نہ تھی کہ پورے عرب میں کوئی شخص ایسا فصیح وبلیغ نہ تھا جس کا کلام قرآن کریم کے مقابلہ میں لایا جاسکتا ہو ‘ اس کے برابر تو درکنار اس کے قریب تک کسی کو فصاحت وبلاغت نہیں پہنچتی تھی اور یہ کسی عجمی زبان کے آدمی کے منہ سے بھی نہیں نکل سکتا تھا ۔ ز۔ قرآن کریم جن مضامین اور علوم پر مشتمل تھا ‘ دعوائے نبوت سے ایک دن پہلے تک بھی مکہ کے لوگوں نے کبھی وہ باتیں محمد رسول اللہ ﷺ کی زبان اقدس سے نہ سنی تھیں اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان معلومات کے حصول کا کوئی ذریعہ آپ کے پاس نہیں ہے اس وجہ سے آپ کے مخالفین اگر یہ الزامات لگاتے بھی تھے کہ آپ کہیں سے خفیہ طریقہ سے یہ معلومات حاصل کرتے ہیں تو مکہ میں کوئی شخص ان کو باور کرنے کے لئے تیار نہ تھا ۔ ح۔ زمین سے لے کر آسمان تک اس عظم الشان کارخانہ ہستی کو بھی وہ اپنی آنکھوں سے چلتا ہوا دیکھ رہے تھے جس میں ایک زبردست حکیمانہ قانون اور ہمہ گیر نظم وضبط کار فرما نظر آرہا تھا اس کے اندر کہیں اس شرک اور انکار آخرت کے لئے کوئی شہادت نہیں پائی جاتی تھی جس کے لئے اہل عرب معتقد تھے بلکہ ہر طرف توحید اور آخرت ہی کی صداقت کے شواہد ملتے تھے جنہیں قرآن کریم پیش کر رہا تھا ۔ یہ سب کچھ وہ دیکھ رہے تھے لیکن اس کے باوجود وہ برابر جھٹلاتے بھی جا رہے تھے اور اسی طرح کی الزام تراشیوں کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے ۔ ” کوئی نشانی ہمیں دکھلاؤ جس طرح اگلے وقتوں کے لوگ نشانیوں کے ساتھ بھیجے جا چکے ہیں “ یہ وہی پرانا مطالبہ ہے جو ان سے پہلے ساری قوموں کے لوگ کرچکے تھے اور یہ لوگ بھی بار بار اس کو دہراتے رہے ۔ گویا انہوں نے قرآن کریم کو اور خود محمد رسول اللہ ﷺ کو جو ساری نشانیوں سے بڑی نشانی تھے جھٹلایا اور پہلے آنے والے رسولوں جیسی نشانیوں کے طالب ہوئے ظاہر ہے کہ اس سے مراد عذاب کے نشانات ہی ہو سکتے ہیں جن کا ذکر دوسرے انبیاء کرام اور رسل عظام کی سرگزشتوں میں آیا ہے لیکن ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی تھی کہ یہ آخر الزمان رسول کسی ایک قوم کی طرف رسول نہیں بن کر آیا ہے کہ ایک دو یا چار چھ نشانیاں دکھا کر نہ ماننے والوں کو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق مکمل طور پر ہلاک ہوجانے کی پیش گوئی کرے اور جب لوگ بھی نہ مانیں تو پوری قوم کی قوم غرق کر کے رکھ دی جائے جیسے نوح ‘ لوط ‘ ہود ‘ اور آل فرعون کے ساتھ ہوا باقی رہے وہ معجزات جن کی بات یہ لوگ کرتے تھے تو ان کے لئے ایک دو نہیں خود محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی اور ان نازل کیا گیا کلام ایسا تھا کہ ان کے اندر بیسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں معجزات تھے اور یہ جو آپ کی دعوت تھی تمام تر آفاق وانفس اور عقل وبصیرت سے کام لینے کی تھی اور پہلے انبیاء ورسل کے لئے جو استعارات استعمال کئے گئے تھے ان کا تعلق چونکہ فقط اس وقت کے ساتھ تھا اور بعد میں آنے کے لئے ان کو استعارات میں بیان کیا گیا اور ان معجزات کا تعلق رہتی دنیا کے لوگوں کے ساتھ تھا یعنی تاحین حیات دنیا اس لئے ان کو استعارات کا رنگ اور نام نہیں دیا جاسکتا تھا ورنہ لازم آتا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی کوئی نبی ورسول آئے گا جو اپنی ہدایات آسمانی کے ساتھ گزشتہ دعوتوں کے تذکار کو استعارات کے رنگ میں بیان کرے گا ، جب ایسا ہونا نہیں تھا تو ظاہر ہے کہ ان کے سامنے وہی چیزیں اور وہی دعوت پیش کی جاسکتی تھی جس کا تعلق تازیست دنیا باقی رہے اور صرف کہانی کے طور پر نہیں بلکہ حقیقت کے طور پر رہا وہ نشان عذاب تو اس نے پہلے لوگوں کو کیا فائدہ دیا تھا جو ان کے لئے مفید ہوتا اور یہ بھی کہ آنے والی آیت میں اس کا ذکر آرہا ہے ۔
Ayah 21:6

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

لیکن ان سے پہلے جن جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا ، ان میں سے تو کوئی بھی ایمان نہیں لایا تھا ، پھر کیا یہ لوگ ایمان لے آئیں گے ؟

پہلے ہلاک شدگان کیوں ہلاک ہوئے ؟ کہ وہ ایمان نہ لائے تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے ؟ 6۔ نشانات کا مطالبہ کرنے والوں کو ایک طرح کے نشانات جو ان کے سامنے پیش کئے جا رہے تھے اور وہ ان کو دیکھنے کے لئے تیار ہی نہیں تھے اور جانوروں کی طرح ان کی نظر آگے ہی آگے کو دیکھ رہی تھی وہ عقل وفکر اور غور و تدبر کے لئے آفاق ونفس میں فکری معجزات کی طرف خیال تک نہیں کرتے تھے اور نشانات عذاب کے متعلق ان سے اس آیت میں بیان کیا جا رہا ہے کہ گزشتہ دعوتوں میں پڑھ چکے ہو کہ جب بھی کسی قوم کے پاس عذاب نشان آیا تو وہ ان کی ہلاکت کا باعث ہی ہوا اور یہی حال تمہارا ہوگا پھر اس کے لئے ایک وقت متعین ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اور اس نشان عذاب کے لئے ضروری ہے کہ اس نبی کو یا رسول کو وہاں سے نکلنے کا حکم دیا جائے اس کی ہجرت کے بعد ان کا تیا پانچا کردیا جائے کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ اس کا وقت جب آئے گا تو ہم اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کو یہاں سے ہجرت کا حکم دیں گے اور ازیں بعد تم پر بھی وہ عذاب مسلط کریں گے جو کہ ہماری سنت پہلے سے چلی آرہی ہے لیکن ذرا غور کرکے دیکھو کی اپہلی امتوں کو اس نشان عذاب کا فیصلہ صادر ہوجاتا ہے تو پھر اس کا نافذ ہونا بھی لازم ہے اور اس عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد لایا ہوا ایمان ان کے حق میں سراسر نقصان بھی تمہارا ہی ہے اور پھر ایسا نقصان ہے جس کا ازالہ کبھی ممکن نہیں ۔ ہاں ! ابھی جلدی نہ کرو ان دلائل ونشانات پر دھیان دو جو ہمارا رسول تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے اگر تم اپنی بات پر اڑے ہی رہے تو وہ وقت بھی آجائے گا اور فی الواقعہ ایسا ہی ہوا کہ جس عذاب کی روک فقط محمد رسول اللہ ﷺ ہی کی ذات تھی جب آپ ﷺ نے وہاں سے ہجرت کی تو مکہ والوں پر وہ مسلط کردیا گیا اور ان کو ایک بار نہیں بار بار دکھایا گیا تا آنکہ وہ سیدھے ہوگئے اور جو اس کی زد میں آنا تھے وہ اس کی زد میں آگئے اس وقت ان کو معلوم ہوا کہ جس عذاب کو ہم مانگتے تھے اس کی روک کا باعث بھی وہی تھا جس سے اس کا مطالبہ کیا جا رہا تھا ۔ ” سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم :
Ayah 21:7

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور [ ہم نے تجھ سے پہلے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اس طرح کہ آدمی تھے ان پر ہماری وحی اترتی تھی ، اگر تمہیں یہ بات معلوم نہیں تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو اہل کتاب ہیں

کفار کے اس مطالبہ کا جواب کہ یہ رسول تو ایک بشر ہے اور بشر رسول کب ہوتا ہے ؟ 7۔ آپ غور کریں گے تو یقینا اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ جب سے اس دنیا میں کفر آیا تو یہ نظریہ بھی ساتھ ہی آگیا کہ بشر کبھی رسول نہیں ہو سکتا انبیاء کرام میں سے پہلے رسول ونبی نسل انسانی میں سے نوح (علیہ السلام) ہیں اس لئے کہ آدم (علیہ السلام) بھی انسان تھے لیکن نسل انسانی کے طور پر نہیں بلکہ اصل انسانی کے طور پر بہرحال نوح (علیہ السلام) کی قوم کے کفار کا سوال یہی تھا کہ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ : (آیت) ” وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً إِلَی قَوْمِہِ فَقَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَہٍ غَیْْرُہُ أَفَلَا تَتَّقُونَ (23) فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا مِن قَوْمِہِ مَا ہَذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُرِیْدُ أَن یَتَفَضَّلَ عَلَیْْکُمْ وَلَوْ شَاء اللَّہُ لَأَنزَلَ مَلَائِکَۃً مَّا سَمِعْنَا بِہَذَا فِیْ آبَائِنَا الْأَوَّلِیْنَ (24) (المومنون 23 : 23 ، 24) ” اور یہ واقعہ ہے کہ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا اس نے کہا تھا بھائیو ! اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں کیا تم ڈرتے نہیں ۔ اس کی قوم کے جن سرداروں نے کفر کی راہ اختیار کی تھی وہ یہ سن کر کہنے لگے یہ آدمی اس کے سوا کیا ہے کہ تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے ؟ مگر چاہتا ہے کہ تم پر اپنی بڑائی جتائے اگر اللہ کو کوئی ایسی بات منظور ہوتی تو کیا وہ فرشتے نہ اتار دیتا ؟ ہم نے اپنے اگلے بزرگوں سے تو کوئی ایسی بات کبھی سنی نہیں تھی ، “ (کہ انسان بھی کبھی رسول ونبی ہوتا ہے) اور حقیقت واصلیت اس کی ہے کہ ابلیس جو انسان کو ابدی دشمن ہے اس نے چونکہ آدم (علیہ السلام) کی فوقیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا تو انکار کی اصل وجہ اس نے یہی بتائی تھی کہ کیا میں آدم کی اپنے اوپر فوقیت تسلیم کرلو یہ نہیں ہوسکتا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ایک بشر ہے جس کی اصل مٹی سے ہے چناچہ ارشاد الہی ہے کہ : (آیت) ” قال یا ابلیس مالک الا تکون مع السجدین ، قال لم اکن لاسجد لبشر خلقتہ من صلصال من حماء مسنون “۔ (الحجر 15 : 32 ، 33) ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابلیس ! تجھے کیا ہوا کہ سجدہ شکر ادا کرنے والوں میں تو شامل نہ ہوا ؟ اس نے کہا مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک بشر کے لئے سجدہ کروں جسے تو نے خمیر اٹھے ہوئے گارے سے بنایا ہے جو سوکھ کر بجنے لگتا تھا لہذا اس نے یہ شرارت نکالی لیکن تعجب ہے کہ انسانوں کو کیا ہوا کہ انہوں نے بھی ابلیس کی پیروی اور دوستی میں اپنی ہی جنس کے ایک ” بشر “ کے نبی ہونے سے انکار کردیا اور اس طرح ابلیس نے اپنی دشمنی اور مخالفت کے باعث ان کو اپنے دام فریب میں لے لیا ۔ معلوم ہوگیا کہ جن لوگوں نے بھی ” بشر “ کے رسول ہونے سے انکار کیا دراصل وہ ابلیس کے داؤ میں آگئے اور ایسے آئے کہ بس اس کے بعد وہ کبھی اس کے اسی فریب سے نہ نکل سکے اور کتنے ہیں جو آج بھی اس کے مکروفریب میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ بہرحال شیطان کے ان انکار کے بعد کہ اس نے ” بشر “ کے نبی ورسول ہونے سے انکار کیا اور اس کی فوقیت کو ماننے سے انکار کردیا اس کے بعد نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں کا ذکر آپ پڑھ اور سن چکے اور ازیں بعد کوئی قوم ایسی نہیں آئی جس کے اکثر لوگوں نے اس طرح بشر کے رسول ہونے سے انکار نہ کیا ہو ؟ قرآن کریم کا مطالبہ کرنے والا یقینا اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ فی الواقعہ یہ بیماری ہر قوم کی اکثریت کو لاحق ہوئی اور وہ اس دنیا سے مٹ گئے بلکہ سزا مٹا دیئے گئے لیکن اس بات کو انہوں نے تسلیم نہیں کیا کہ ” بشر “ بھی نبی ورسول ہو سکتا ہے ۔ قرآن کریم نے اس کی وضاحت اس طرح فرمائی کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد کتنے ہی نبی ورسول اللہ نے مبعوث فرمائے اور نبی ورسول کو قوم نے ٹھکرا دیا اور انکار کیا اور انکار کا سبب جو بیان کیا تو وہ یہی تھا کہ : (آیت) ” قَالُواْ إِنْ أَنتُمْ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا تُرِیْدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ آبَآؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ (10) قَالَتْ لَہُمْ رُسُلُہُمْ إِن نَّحْنُ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلَـکِنَّ اللّہَ یَمُنُّ عَلَی مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ “ (ابراہیم 14 : 10 ‘ 11) ” ساری قوموں کے لوگوں نے (اپنے اپنے وقت میں یہی جواب دیا کہ) تم اس کے سوا کیا کہ ہماری ہی طرح کے ایک بشر ہو اور چاہتے ہو کہ جن معبودوں کو ہمارے باپ دادا مانتے آئے ہیں ان کو ماننے اور ان کی عبادت کرنے سے ہمیں روک دو ‘ اچھا کوئی واضح دلیل پیش کرو ۔ ان کے رسولوں نے جواب میں کہا ہم اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ تمہاری ہی طرح آدمی ہیں لیکن اللہ جس بندہ کو چاہتا ہے اپنے فضل و احسان کے لئے چن لیتا ہے “ دوسری جگہ ایسے ہی لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ : (آیت) ” وَمَا قَدَرُواْ اللّہَ حَقَّ قَدْرِہِ إِذْ قَالُواْ مَا أَنزَلَ اللّہُ عَلَی بَشَرٍ مِّن شَیْْء ٍ قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْکِتَابَ الَّذِیْ جَاء بِہِ مُوسَی نُوراً وَہُدًی لِّلنَّاسِ تَجْعَلُونَہُ قَرَاطِیْسَ تُبْدُونَہَا وَتُخْفُونَ کَثِیْراً وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُواْ أَنتُمْ وَلاَ آبَاؤُکُمْ قُلِ اللّہُ ثُمَّ ذَرْہُمْ فِیْ خَوْضِہِمْ یَلْعَبُونَ (91) (الانعام 6 : 91) ” اور انہوں نے خدا کی خدائی کا جو اندازہ کرنا چاہے تھا نہیں کیا جب ان لوگوں نے کہا کہ خدا نے کسی ’ بشر “ یعنی انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری ہے تم کہو اے پیغمبر اسلام ! کس نے وہ کتاب اتاری جسے موسیٰ (علیہ السلام) لایا تھا ؟ جو لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت ہے اور جسے تم اوراق کا مجموعہ بنا کر لوگوں کو دکھاتے ہو اور بہت سی باتیں پوشیدہ رکھتے ہو ؟ نیز تمہیں وہ وہ باتیں سکھائی گئیں جو پہلے نہ تو تم جانتے تھے اور نہ ہی تمہارے باپ دادا جانتے تھے ؟ اے پیغمبر اسلام ! تم کہو اللہ نے اور پھر انہیں ان کی کاوشوں میں چھوڑ دو کہ کھیلتے رہیں ۔ “ مزید وضاحت کے لئے عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الانعام کی آیت 91 کی تفسیر دیکھیں اور یہ مضمون قرآن کریم میں الکھف 8 : 110 ‘ المومنون 23 : 33 ‘ 47 ‘ الشعر 261 : 154 ‘ 186 ‘ یس 36 : 15 ، فصلت 41 : 6 ‘ التغابن 64 : 6 ‘ سورة الکہف 18 : 110 اور ابراہیم 14 : 10 ‘ 11 عروۃ الوثقی ‘ جلد چہارم میں سورة الحجر 15 : 33 ‘ سورة النحل 16 : 103 ‘ سورة الکہف 18 : 110 اور الانبیاء 21 : 3 ‘ 34 کو اس جلد کی محولہ سورتوں کی گئی آیات کی تفسیر میں دیکھ سکتے ہیں ۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا کہ آج بھی ہم مسلمانوں میں سواد اعظم کہلانے والے رضائی بھائیوں کے سارے گروہ یہی عقیدہ رکھتے ہیں اور خصوصا نبی اعظم وآخر ﷺ کو ” بشریت سے ماوراء بیان کرکے اس ابلیس لعین کی پیروی کرتے ہیں جس نے گھمنڈ میں آ کر ” بشریت “ کو گھٹیا بیان کرنے کی کوشش کی تھی اور ازیں بعد دنیا کی ساری کافر اور انبیاء ورسول کرنے والی جماعتیں کرتی آئی ہیں جیسا کہ ان کی کتابوں میں یہ بات سورج سے بھی زیادہ روشن نظر آتی ہے چناچہ تحریر ہے کہ : ” رسول ﷺ اللہ کے نور سے ہیں اور ساری مخلوق آپ کے نور سے “ (فتاوی افریقہ ص 85 مطبوعہ 1236 ئ) گویا ہر شے اللہ ہی اللہ ہے ۔ ” بیشک اللہ ذات کریم نے صورت محمدی کو اپنے نام پاک بدیع سے پیدا کیا اور کروڑہا سال ذات کریم اس صورت محمدی کو دیکھتا رہا ۔ اپنے اسم مبارک ” منان اور قاہر سے پھر تجلی فرمائی اس پر اپنے اسم پاک لطیف غافر سے ۔ “ (فتوی نعیمیہ ص 37) ” فرشتے آپ ہی کے نور سے پیدا ہوئے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ نے ہر ایک چیز میرے ہی نور سے پیدا فرمائی ۔ “ (صلوۃ الصفاء مجموعہ رسائل بریلوی ج اول ص 37) ” قرآن پاک میں جا بجا انبیاء کرام کے بشر کہنے والوں کو کافر فرمایا گیا ہے اور درحقیقت انبیاء کی شان میں ایسا لفظ ادب سے دور اور کفار کا دستور ہے ۔ “ (تفسیر مولانا محمد نعیم الدین صاحب مطبوعہ تاج کمپنی ص 5) لیکن اللہ تعالیٰ کی شان جلالی دیکھئے کہ اس نے انہی صاحب کی قلم سے یہ بھی تحریر کرا دیا کہ : ” یہ آیت ان کفار کے رد میں نازل ہوئی جنہوں نے بشر کے رسول ہونے کا انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ بشر کیسے رسول ہو سکتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ مالک ہے جسے چاہے اپنا رسول بنائے وہ انسانوں میں سے بھی رسول (مثل حضرت ابراہیم ‘ حضرت موسیٰ ‘ حضرت عیسیٰ وحضرت سید عالم صلوۃ اللہ تعالیٰ علیہم وسلامہ) بناتا ہے اور ملائکہ میں سے بھی (مثل جبریل ومیکائل وغیرہ کے) جنہیں چاہے ۔ “ (تفسیر مولانا سید محمد نعیم صاح مطبوعہ تاج کمپنی ص 493) قارئین عروۃ الوثقی سے درخواست ہے کہ ان دونوں عبارتوں کو پڑھ کر خود ہی فیصلہ فرما لیں کہ جناب سید محمد نعیم مراد آبادی (رح) کا کونسا مفہوم صحیح ہے اور کونسا غلط کیونکہ دونوں تفسیریں ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہیں ۔ پہلی تفسیر سورة البقرہ کی آیت 8 کے تحت درج ہے اور دوسری تفسیر سورة الحج کی آیت 25 کے تحت ہماری سمجھ میں جو کچھ آیا ہے وہ یہ ہے کہ مولانا نے پہلی تفسیر میں ” انبیاء کرام (علیہ السلام) کے بشر کہنے والوں کو کافر “ کہا ہے اور دوسری آیت کی تفسیر میں ” کے بشر نہ کہنے والوں کو کافر کہا گیا ہے “ گویا جو لوگ انبیائیکرام (علیہ السلام) کو بشر کہیں وہ بھی کافر اور جو انبیائے کرام کو بشر نہ مانیں وہ بھی کافر اور اب مسلمان کون ہیں ؟ اگر کوئی ان سے یا ان کی ذریت روحانی سے پوچھ سکتا ہے تو پوچھ کر ہمیں بھی بتا دے پتہ تفسیر کے ٹائٹل پر موجود ہے ۔
Ayah 21:8

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور ہم نے ان پیغمبروں کو کبھی ایسے جسم کا نہیں بنایا کہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے تھے

انبیاء ورسول کی بشریت کے مخالفین سے کہا جارہا ہے کہ ہم نے جسم بھی ان کو دیا اور موت بھی : 8۔ مشرکین مکہ اظہار تعجب کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ (آیت) ” مالھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق “۔ (الفرقان 25 : 8) ” یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے “ اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ” اللہ کو رسول بھیجنا ہی تھا تو کیا اس کے پاس کوئی فرشتہ نہیں تھا “۔ زیر نظر آیت میں ان دونوں باتوں کا جواب ان کو دیا گیا ہے کہ ” ہم نے تو ان پیغمبروں کو ایسے جسم کا نہیں بنایا کہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے تھے ۔ “ ان لوگوں کو یہ تعجب کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ ان کے عقیدہ میں بھی تھا کہ ” بشر “ کبھی رسول نہیں ہوتا اور دوسرا یہ کہ ” کھاتا پیتا اور ضروریات زندگی “ بھی نہیں رکھتا اور یہ بھی کہ وہ ” ہمیشہ زندگی رہتا ہے کبھی نہیں مرتا “ گویا کفار مکہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو نہ تو بشر مانتے تھے اور نہ ہی بشری ضروریات ان کے ساتھ لازم سمجھتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ حیات انبیاء کے قائل تھے اور قرآن کریم نے ان تینوں باتوں کا مکمل رد کردیا لیکن تعجب ہے کہ آج بھی سواد اعظم کے مانے گئے مجدد ملت کے اور ان کے پیروکاروں کے تینوں عقیدے وہی ہیں جو اس وقت مشرکین مکہ یا کفار مکہ کے تھے کہ وہ انبیاء کرام کی بشریت کا بھی انکار کرتے ہیں اور بشر ماننے اور کہنے والوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور اس طرح وہ ان کے اجسام خاکی کے بھی قائل نہیں کیونکہ ان کو نوری مخلوق بیان کرتے ہیں اور خود بھی وہ خاص جو ذات الہی کا ہے اور حیات النبی کے قائل ہیں اور فضلات رسول اللہ ﷺ کو بھی پاک و طاہر مانتے ہیں یعنی پیشاب وپاخانہ ‘ تھوک ‘ کھنکھار وغیرہ پاک و طاہر تسلیم کرتے ہیں اور ان چیزوں کے کھانے پینے اور استعمال کرنے میں برکت مانتے ہیں اور غالبا یہ چیزیں کفار مکہ کے عقائد سے ترقی پانے میں ان کو نصیب ہوتی ہوں گی کیونکہ ان کے عقائد فرشتہ تسلیم کرلینے پر ہی ختم ہوجاتے تھے کہ جب فرشتہ مان لیا تو پھر حوائج و ضروریات کی ضرورت کیونکر باقی رہی اور فضلات کی بحث خود بخود ہوگئی ۔
Ayah 21:9

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر جس بات کا وعدہ کیا تھا وہ انہیں سچا کر دکھایا ، ہم نے انہیں اور جس کسی کو چاہا نجات دے دی اور حد سے نکل جانے والوں کو ہلاک کر ڈالا

وعدہ الہی سچا کر دکھانے اور بعض کو بچا کر بعض کو ہلاک کردینے کا ذکر : 9۔ وعدہ ہے اس جگہ کون سا وعدہ مراد ہے ؟ وہی وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں سے فرمایا تھا کہ اگر تمہاری تکذیب کریں گے تو ہم تمہاری تکذیب کرنے والوں کو ختم کرکے رکھ دیں گے لیکن اس کے لئے ایک متعین اور واضح قانون ہم نے بنا رکھا ہے جب اس دور تک پہنچ جائے گی اور ہمارا مقررہ قانون حرکت میں آئے گا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہم ان کو تباہ وبرباد کردیں گے ۔ آپ کسی نبی ورسول کا تذکرہ پڑھ کر دیکھ لیں کیا ایسا نہیں ہوا ؟ اور اگر ہوا تو کب ؟ یہی وجہ ہے کہ ساری قوموں کے سارے رسولوں نے اپنی اپنی قوموں کو دو طرح کے عذابوں سے ڈرایا ایک اس دنیا کا عذاب اور دوسرا آخرت کا عذاب لیکن زیر نظر آیت میں پہلی قسم کا عذاب ہے جس کا تعلق اس دنیا کے ساتھ ساتھ فرمایا جب وقت آیا تو ہم نے اپنے قانون کے مطابق ان لوگوں کو بچایا جو بچائے جانے کے قابل تھے اور زیادتی کرنے والوں کا ہم نے تیاپانچا کرکے رکھ دیا ۔ پھر یہ بھی کہ ان سے کہئے کہ تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیں کہ وہ ہمارے منتخب بندے یعنی انبیاء ورسل بشر ہی تھے اور سب کے ساتھ وہ ضروریات لگی تھیں جو تمہارے ساتھ لگی ہیں اور غور کرو گے تو سمجھ لو گے کہ ہمیشہ ماضی سے حال تشکیل پاتا ہے اور حال سے مستقبل بنتا ہے اور انسانی زندگی کی یہی داستان ہے کہ جو شخص یا جماعت ماضی کی اصلاح کرکے حال کو درست کرلے انشاء اللہ اس کا مستقبل روشن ہوجاتا ہے اور جو حال کو ماضی سے بھی زیادہ بگاڑ دے اس کے مستقبل کے خراب ہوجانے کی پختہ دلیل ہے ۔
Ayah 21:10

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

ہم نے تمہارے لیے ایک کتاب نازل کردی ہے اس میں تمہارے لیے موعظت ہے کیا تم سمجھتے نہیں ؟

ہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارے لئے نصیحت ہے اگر تم سمجھو ؟ ۔ 10۔ ” ہم نے تمہارے لئے ایک کتاب نازل کردی ہے اس میں تمہارے لئے موعظت ہے ۔ “ گویا اب گزشتہ بات کو مزید صاف صاف طریقہ سے بیان کردیا کہ اگر تم کو سچائی کی طلب ہے تو وہ قرآن کریم ہی کے اندر ہے اس سے زیادہ بڑھ کر تمہارے لئے سچائی کی نشانی اور کیا ہو سکتی ہے ؟ زیر نظر آیت نے اس جیسی دوسری بیشمار آیات کریمات نے یہ حقیقت قطعی طور پر واضح کردی ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ نے اپنی صداقت کے لئے جس چیز پر بطور ایک نشانی کے زور دیا ہے وہ صرف اور صرف قرآن کریم ہے چناچہ ارشاد الہی بیان ہوا ہے کہ : (آیت) ” وَمَا کُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِہِ مِن کِتَابٍ وَلَا تَخُطُّہُ بِیَمِیْنِکَ إِذاً لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ (48) بَلْ ہُوَ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ فِیْ صُدُورِ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَمَا یَجْحَدُ بِآیَاتِنَا إِلَّا الظَّالِمُونَ (49) وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَیْْہِ آیَاتٌ مِّن رَّبِّہِ قُلْ إِنَّمَا الْآیَاتُ عِندَ اللَّہِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (50) أَوَلَمْ یَکْفِہِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَیْْکَ الْکِتَابَ یُتْلَی عَلَیْْہِمْ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَرَحْمَۃً وَذِکْرَی لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ (العنکبوت 29 : 48 تا 51) ” اے پیغمبر اسلام ! تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی اپنے داہنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے اور اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک میں پڑ سکتے تھے ۔ دراصل یہ روشن نشانیاں ہیں ان لوگوں کے دلوں میں جنہیں علم بخشا گیا ہے ۔ اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہ اتاری گئیں اس شخص پر نشانیاں اس کے رب کی طرف سے ؟ کہو ‘ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر اور واضح طور پر اور کیا ان لوگوں کے لئے یہ نشانی کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو انہوں پڑھ کر سنائی جاتی ہے ؟ درحقیقت اس میں رحمت ہے اور نصیحت ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں ۔ “ مطلب بالکل صاف ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ جب انسان جس کے پیدا ہونے سے لے کر بعثت تک کی زندگی ایک ایک دن ‘ گھنٹہ اور ساعت تک سے تم لوگ واقف ہو اور تم اچھی طرح جانتے ہو کہ اس اللہ کے بندے نے پیدا ہونے سے لے کر بعثت تک کسی آدمی کے سامنے تہ زانو نہیں کیا اور آج تک کسی سے حروف ہجا بھی نہیں سیکھے اور آج تک کسی سے کسی طرح کا کچھ پڑھنا لکھنا ثابت نہیں ہے آج اچانک یہ کیسے ہوگیا کہ وہ قرآن کریم جیسی کتاب تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے اور تمہیں پڑھ کر سناتا ہے ؟ صرف یہی نہیں بلکہ تحدی اور چیلنج دیتا ہے کہ اگر تمہارے پاس علم ہے تو سب مل جاؤ اور اکٹھے ہو کر اس کلام جیسا کلام بنا کرلے آؤ ‘ یہی نہیں بلکہ اس نے تمہارے سامنے فقط تین آیتوں پر مشتمل سورت بیت اللہ میں آویزاں کرائی ہے اور تم کو اس جیسی ہی صرف تین آیتیں لانے کا مطالبہ کیا ہے اور آج تم میں یہ ہمت نہیں ہوئی کہ تم اس کا مقابلہ کرسکو یہی بات اور یہی نشانی دانش وبینش رکھنے والوں کے لئے کافی نہیں ہے ۔ دنیا کی تاریخی ہستیوں میں سے جس کے حالات کا بھی جائزہ لیا جائے آدمی اس کے اپنے ماحول میں ان اسباب کا پتہ چلا سکتا ہے جو اس کی شخصیت بنانے اور اس سے ظاہر ہونے والے کمالات کے لئے اس کو تیار کرنے میں کار فرما تھے ، اس کے ماحول اور اس کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی میں ایک کھلی مناسبت پائی جاتی ہے لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت جس حیرت انگیز کلمالات کی مظہر تھی ان کا کوئی ماخذ آپ کے ماحول میں تلاش نہیں کیا جاسکتا ۔ یہاں نہ اس وقت کے عربی معاشرے ہیں اور نہ ہی گردوپیش کے جن ممالک سے عرب کے تعلقات تھے ان کے معاشرے میں کہیں دور دراز بھی وہ عناصر ڈھونڈ کر نہیں نکالے جاسکتے تھے جو محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی سے کوئی مناسبت رکھتے تھے یہی حقیقت ہے کہ جس کی بنا پر یہاں فرمایا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات ایک نشانی نہیں بلکہ بہت سی نشانیوں کا مجموعہ ہے ۔ جاہل ‘ اکھڑ اور غور و تدبر نہ کرنے والے انسان کو اس میں کوئی نشانی نظر نہ آئی ہو تو نہ آئے مگر جو لوگ علم رکھنے والے ہیں وہ ان نشانیوں کو دیکھ کر اپنے دلوں میں قائل ہوگئے ہیں کہ یہ شان ایک رسول ہی کی ہو سکتی ۔ اس کی تفصیل ہم پیچھے سورة یونس آیت 16 سورة النحل آیت 103 اور سورة بنی اسرائیل آیت 88 میں کرچکے ہیں اور مزید انشاء اللہ العزیز سورة المومنون ‘ سورة الفرقان اور شوری میں ہوگی اور سورة العنکبوت کی آیات 45 تا 51 میں مکمل تفصیل بیان ہوگی جہاں اس بات کی وضاحت کی جائے گی نبی اعظم وآخر ﷺ کی زندگی کا یہ معجزہ اور نشانی بھی دنیا کے سارے انسانوں کے سامنے پیش کی گئی جس سے بڑا معجزہ اور نشانی شاید ہی کوئی اور ہو کہ کل تک نہ پڑھا لکھا ہوا انسان اچانک ایک رات ہی رات میں وہ کچھ پڑھ اور سیکھ گیا جس کے لئے ایک مدت درکار ہوتی ہے اور پھر ایک مدت اور زر کثیر استعمال کرنے کے بعد ایسا کامل انسان نہیں بن سکتا اس طرح آپ کو پڑھنا اور لکھنا رب ذوالجلال والاکرام نے اپنے فرشتہ جبریل (علیہ السلام) کے تین بار بھینچنے یعنی دبانے سے سکھا دیا کہ آپ ﷺ پڑھنے بھی لگے اور لکھنے بھی لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے اس عام فہم بات کو بھی کسی خاص ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر سمجھنے کی کوشش نہ کی اور اگر کسی نے سمجھا تو اس کو اپنے تک محدود رکھا کہ یہ بات ایک اختراعی عقیدہ کے خلاف پڑتی تھی اور اس عقیدہ کے حامل بڑے بڑے ناموں سے پکارے جاتے تھے حالانکہ یہی وہ معجزہ ونشان تھا جو نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی کو دنیا کے سارے انسانوں کی زندگیوں پر فوقیت عطا کرتا تھا جس کے سامنے موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی اور یدبیضاء اور مسیح کے کوڑھی کے درست کرنے اور مردہ زندہ کرنے کی بھی کوئی حیثیت نہیں رہتی تھی کہ یہ سب وقتی استعارات تھے اور نبی اعظم وآخر ﷺ کا یہ نشان عین حقیقت تھی جو ہر وقت ‘ ہر حال اور ہر آن دیکھا جاسکتا تھا ۔