20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 20:23

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

اس لیے کہ آئندہ تجھے اپنی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں

ابھی دو ہی نشانیاں دکھائی گئی ہیں اور کتنی ہیں جو دکھائی جانا ہمارے پروگرام میں ہے : 23۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے مستقبل کی فتوحات کی بشارات ہیں کہ بظاہر تو یہ دوہی نشانات آپ کو دیئے گئے ہیں ۔ لیکن جوں جوں آگے چلیں گے ان سے بہت بڑے بڑے نشانات آپ کو دکھائیں گے بلکہ ان کے اندر اس سے بھی بڑے بڑے نشانات بند ہیں جوں جوں ان کو کھولیں گے تو اندر سے نایاب وشاندار دلائل نکلتے آئیں گے اور یہ عین فطرت کے مطابق ہے کہ جب ایک حکومت قائم ہوتی ہے تو اس کے تاریک پہلو اس قدر دبائے جاتے ہیں کہ یا تو کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا اور اگر کسی کو معلوم ہوتا ہی ہے تو وہ آنکھیں بند کردیتا ہے اور اس کو بطور دلیل اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے کہ ہماری باری آئے گی تو ہم اس سے چند قدم اور آگے بڑھیں گے اس لئے فی الحال اس کو بند ہی رہنے دو اور عوام تک ان باتوں کو مت آنے دو یہی ہوتا آیا ہے اور یہی کچھ ہو رہا ہے اگر آپ صرف ایک عصار پر ہی نظر رکھیں تو اس نے کیا کیا کارہائے نمایاں دکھائے جو اس کے سانپ ہونے سے یقینا وزنی تھے کیونکہ اس کے سہارے موسیٰ (علیہ السلام) نے سمندر پار کیا اور اسی سے پہاڑی علاقہ میں سے چشمے جاری کروائے اور اسی نے جلسہ گاہ عام میں لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال کر بڑے بڑے جادو جاننے والوں کو رام ہونے پر مجبور کردیا ۔
Ayah 20:24

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

اے موسیٰ ! (علیہ السلام) تو فرعون کی طرف جا ، وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے

اے موسیٰ ! تو فرعون کی طرف جا ‘ وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے : 24۔ فرمایا اے موسیٰ یہ جو نشانات آپ کو دیئے گئے ہیں اور ان کا مشاہدہ آپ کو کروایا گیا ہے اور انجام بھی سمجھا دیا گیا ہے اب بےفکر ہو کر جاؤ فرعون اور اس کی قوم کو راہ ہدایت دکھاؤ انہوں نے بہت سرکشی اختیار کر رکھی ہے اور اپنے غرور وتکبر اور انتہاء ظلم کے ساتھ انہوں نے تیری قوم بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے سو اپنی قوم کو غلامی سے رستگاری دلاؤ اس جگہ تو ذکر نہیں دوسری جگہ یہ ذکر بھی موجود ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ رسول بنائے جانے کی اپیل کی جو منظور ہوئی اور دونوں کو ملا کر فرعون کی طرف روانہ کیا لیکن اس جگہ اس کا ذکر نہیں فرمایا اور یہ بھی مذکور ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس خطرہ کا اظہار بھی فرمایا کہ اے میرے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میرے ہاتھ سے ان کا ایک اتفاقیہ قتل ہوگیا تھا اس لئے مجھے یہ خوف بھی لاحق ہے کہ کہیں وہ مجھے قتل نہ کردیں اور مزید کہا کہ مجھے یہ بھی خیال ہے کہ وہ میرے بڑے زور سے تکذیب کریں گے اور مجھ کو جھٹلائیں گے یہ منصب عالی جب تو نے عنایت فرمایا ہے تو میرے سینہ کو فراخ فرما اور نور سے معمور کر دے اور اس اہم خدمت کو میرے لئے آسان بنا دے اور زبان میں پڑی ہوئی اس گرہ کو کھول دے کہ اگر وہ مجھ پر قتل کا شکوہ کریں تو ان کو کیا جواب دوں ؟ اور ان باتوں کا جواب اتنا واضح ہو کہ لوگوں کو میری بات سمجھنے میں آسانی ہو اور چونکہ اس معاملہ میں ‘ میں خود ابھی تردد میں ہوں تو میرا تردد دور فرما اور میرے بھائی کو میرے ساتھ کر دے کیونکہ اس کے ذمہ کوئی ایسا الزام نہیں ہے لہذا وہ میرے سے زیادہ صاف طریقہ سے اور بےجھجھک بات کرسکے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اطمینان دلایا کہ تم ہمارا پیغام لے کر ضرور جاؤ اور ان کو حق کی راہ دکھاؤ اور تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے اور ہماری مدد تمہارے ساتھ ہے اور یہ بھی کہ جو نشانات میں ہم نے تم کو بخشے ہیں ان میں تم پر واضح کردیا ہے کہ کامیابی تمہارے قدم چومے گی اور ناکامی تیرے مخالفین کے حصہ میں آئے گی ، اس کی مزید تفصیلات آپ سورة القصص میں ملیں گی جہاں اس کی زیادہ تفصیل کی گئی ہے ، اس جگہ آگے ذکر آرہا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ پیغام حاصل کرکے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور اس دعا کا بیان آیت 35 سے آیت 36 تک چلا گیا ہے اور دعا کا ایک ایک فقرہ اپنے اندر بیشمار سبق رکھتا ہے اور اب دعا کا ذکر شروع ہوتا ہے ۔
Ayah 20:25

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے پروردگار ! میرا سینہ کھول دے

موسیٰ (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے شرح صدر طلب کیا : 25۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو جب یہ بات واضح ہوگئی کہ اب مجھ پر فریضہ رسالت کی ذمہ داریاں ڈال دی گئی ہیں اور اب مجھے صرف مصر میں جانا ہی نہیں بلکہ ایک رسول بن کر جانا ہے تو آپ نے بارگاہ رب العزت میں درخواست پیش کی اور آپ کی درخواست کا ایک ایک فقرہ بھی بتا رہا ہے کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اس بار کو کس قدر مشکل سمجھ رہے ہیں اور اس کا اٹھانے کے لئے اس لئے تیار ہیں کہ یہ پروردگار کی طرف سے فیصلہ ہے اور اس کے فیصلہ سے انکار آخر ممکن ہی کیسے ہے ؟ بہرحال پہلے ہی فقرہ میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے شرح صدر طلب کیا اور فرمایا کہ اے میرے رب ! میرا سینہ اس بار گراں کو اٹھانے کے لئے کھول دے ، اس سینہ کی تنگی سے کیا مراد ہے ؟ یہی کہ نبوت اور رسالت جیسے کار عظیم کا بار اٹھانے اور تن تنہا کفر کی ایک جابر وقاہر طاقت سے ٹکر لینے کی آدمی کو ہمت نہ پڑ رہی ہو اور اس کے مقابلہ میں شرح صدر سے مراد یہ ہے کہ آدمی کا حوصلہ بلند ہوجائے کسی بڑی سے بڑی مہم پر جانے اور کسی سخت سے سخت کام کو انجام دینے میں اسے تامل نہ ہو اور نبوت کی عظیم ذمہ داریاں سنبھالنے کی اس میں ہمت پیدا ہوجائے ۔
Ayah 20:26

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

میرا کام میرے لیے آسان کر دے

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میرے اللہ میرے کام کو آسان فرما : 26۔ فرمایا اے میرے اللہ ! میرے اس کام کو جو تو نے میرے ذمہ لگایا ہے میرے لئے آسان فرما دے ، فطری چیز ہے کہ انسان جس کام کے لئے یقین کامل کے ساتھ ہمت کرکے کرنے کا پختہ عزم کرے اس کام میں اللہ تعالیٰ بھی مدد فرماتا ہے اور فی الواقع وہ کام آسان ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ اس کام کے کرنے کے لئے انسان کی ہمت بڑھ جاتی ہے اور مشکل سے مشکل کام آسان نظرآنے لگتا ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ ہی انسان کی ہمت بندھانے والا ہے اور ہی ذات ہے جو ہر مشکل کو آسان کرسکتا ہے اس لئے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) بھی اپنے رب سے اس بات کی درخواست کرتے ہیں کہ اے میرے رب ! میرے لئے مشکل ترین کام آسان فرما دے اور اس راہ کی رکاوٹ کو دور فرما دے ۔
Ayah 20:27

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

میری زبان کی گرہ کھول دے

دعا کا تیسرا فقرہ یہ ہے کہ اے میرے رب میری زبان کی گرہ کھول دے : 27۔ زبان کی گرہ کیا تھی ؟ وہی قتل جو مصر میں قبطی خاندان کا ایک آدمی اتفاقی طور پر قتل ہوا تھا اور حکومت نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کے عوض میں قتل کرنے کی ٹھان لی تھی کہ موسیٰ بھاگ گئے اور ظاہر ہے کہ جب بھی کوئی شخص ایک الزام عائد کرنے کے بعد بھاگتا ہے وہ اس بات کی تصدیق کردیتا ہے کہ میں گناہگارہوں اور یہاں تو فی الواقع قتل ہوا تھا اگرچہ وہ قتل عمد کی مد میں نہ آتا ہو تاہم قتل تو بہرحال ہوا ہے ، اب جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ایک مدت کے بعدوہاں جائیں گے اور لوگ دیکھیں گے تو جس خاندان اور قبیلہ کا وہ آدمی تھا وہ تو کھڑے ہوں گے کہ لو اب ہمارا قاتل آگیا ہے ہم کو اس سے خون بہا لے کر دو یا اس کے عوض میں اس کو قتل کرو خصوصا جب کہ یہود کے ہاں بھی قتل کے عوض میں قتل تسلیم شدہ حقیقت تھی ، اگر ایسی صورت حال پیدا ہوجائے تو میری طرف سے اس کا جواب کیا ہوگا ؟ قتل میں نے نہیں کیا ‘ یہ ایک خلاف واقعہ بات ہے جس کو میں نہیں کہہ سکتا ، پھر آخر میں کہوں گا کیا ؟ اور اس سلسلہ میں مجھے کیا کرنا ہے میری سمجھ میں کوئی ایسی بات نہیں آرہی آپ ہی اس کا کوئی جواب مرحمت فرما دیجئے ، لیکن تعجب ہے کہ ہمارے مفسرین نے یہ بیان کیا کہ فی الواقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں لکنت تھی اور وہ بول نہیں سکتے تھے اور آپ نے اسی لکنت کو دور کرنے کی دعا کی ، رہی یہ بات کہ آپ کی زبان میں لکنت کیا تھی ؟ تو اس کا جواب یہ دیا گیا کہ آپ کی زبان صاف نہیں تھی اور اس لئے تتلا کو بولتے تھے جس سے بات کی سمجھ نہیں آتی تھی گویا آپ کی زبان صاف نہیں تھی ایسا کیوں تھا ؟ تو جواب دیا گیا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ابھی بالکل معصوم بچہ تھے کہ فرعون نے خوبصورت بچہ سمجھ کر گود میں اٹھایا تو آپ نے اس کی داڑھی پکڑ لی یہ بات فرعون کو ناگوار گزری تو اس نے اس بچہ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردینا چاہا اور بچہ کا ڈاڑھی کی طرف ہاتھ بڑھانا برا محسوس کیا ، اس پر فرعون کی بیوی آسیہ نے فرعون سے کہا کہ یہ اتنا چھوٹا بچہ ہے کہ اس کو سمجھ ہی نہیں ہے کہ میں نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں اور اس کی تصدیق کے لئے اس نے ایک طرف آگ کے انگارے اور دوسری طرف لعل رکھ دیئے اور بچہ کو چھوڑ دیا ، بچہ نے جب آگ کے انگاروں کو نہایت سرخ دیکھا تو اس کی طرف ہاتھ بڑھا دیا اور ایک انگارا ہاتھ میں پکڑ لیا اور جب ہاتھ جلا تو فورا منہ میں ڈال دیا جس سے آپ کی زبان بری طرح طرح متاثر ہوئی لنکا فرعون کی سمجھ میں بات آگئی کہ بچے نے جو میری ڈاڑھی کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا تو وہ نادانی کے باعث تھا اگر وہ نادان نہ ہوتا تو آگ کو ہاتھ میں کیوں پکڑ لیتا ۔ پھر ان حضرات نے جنہوں نے اس واقعہ کو اپنا تفاسیر میں بیان کیا ہے اگر کسی سے پوچھ لیا جائے کہ صاحب زبان تو تو موسیٰ کی جل گئی ہاتھ جس نے آگ کا انگارا پکڑا ۔۔۔۔۔ ؟ تو وہ فورا فتوی دیں گے کہ یہ شخص معجزات کا منکر ہے اور بہت بدعقیدہ ہے اس سے بائیکاٹ بہتر ہے تاکہ اس سے کوئی بات ہی نہ کرے ۔ بہرحال یہ کہانی تورات میں مختصر تھی لیکن تالمود میں اس کی پوری وضاحت ہے کہ ہاتھ نہیں جلا لیکن منہ یعنی زبان جل گئی جس سے آپ کی زبان سے صاف بات نہیں نکلتی تھی بلکہ ہچکولا کھا کر بولتی تھی ، ہمارے نزدیک یہ ایک کہانی ہے جو یہود نے گھڑی اور تورات میں تحریف کرکے اس میں داخل کردی ہے اور پھر وہیں سے اسلام کے ہاں منتقل ہوگئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کی گرہ دراصل وہی ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ جس سوال کا جواب انسان کے پاس موجود نہ ہو اس سوال کو جب اٹھایا جائے تو یہی ہوتا ہے کہ انسان ٹھیک طریقہ سے بول نہیں سکتا اور ہمارے ہاں بھی اس کو زبان سوجنے سے تعبیر کیا جاتا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں جو خطرہ اور کھٹک تھی یہ اس کا بیان ہے کہ آخر قبطیوں کا قتل تو آپ سے ہوا اگرچہ اس کو ایک مدت اور عرصہ گزر چکا ۔ اس طرح کا کوئی الزام موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی پر نہ تھا اور وہ آج تک مصر میں موجود بھی تھے ممکن ہے کہ رواج کے مطابق ان سے قبطیوں نے اس کا خوان بہا بھی چکا لیا ہو کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق یہ بات تو واضح ہوچکی تھی کہ یہ کس گھرانہ کے فرد ہیں اور یہی وجہ ہوئی ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے درخواست کی تھی کہ اے اللہ ! میرا بھائی مجھ سے زیادہ فصیح ہے اس کو میرے کام میں شریک فرما دے ۔
Ayah 20:28

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

میری بات لوگوں کے دلوں میں اتر جائے

میری یہ اپیل تیری بارگاہ میں اس لئے ہے تاکہ میری بات سمجھنے کے لئے کوئی تیار تو ہو : 28۔ زیر نظر آیت نے واضح کردیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہی خطرہ لاحق تھا اور رہ رہ کر خیال آرہا تھا کہ میں مصر پہنچوں گا تو قبطیوں کا مطالبہ قتل میرے کندھوں پر سوار ہوگا اور پھر جب میں رسالت کا پیغام پہنچاؤں گا تو لوگ مزید میرے ساتھ الجھیں گے اور میری بات پر کوئی بھی کان دھرنے کو تیار نہیں ہوگا ۔ آخر میں اس حقیقت کا کوئی جواب تو میرے پاس ہو اور پھر وہ نہیں تو کم از کم یہ تحریک میری طرف سے جب چلے تو میرے گھر میں تو کوئی اختلاف رونما نہ ہو اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ صرف میں ہی نہیں میرا بھائی ہارون بھی مرے ساتھ یہ بات کرنے میں شریک ہو اس کی شخصیت پر کسی کو اس طرح کا اعتراض تو نہیں اس لئے کہ اگر بھائی جان کا تعاون مجھے حاصل ہوگیا تو جو کمی میرے اندر موجود ہے اس کی تلافی ہوگی اور جس چیز کا جواب میرے پاس نہیں اس کے متعلق اگر ضرورت پڑی تو وہ بول لے گا اور پھر جب میرا بھائی ہونے کے ناطے سے وہ میرے اتفاقی قتل کا خون بہا بھی دے چکا ہے تو میری جگہ وہ اس کا جواب بھی مزید اچھی طرح دے سکے گا چناچہ یہی بات سورة قصص میں ذرا تفصیل سے بیان کی گئی جہاں فرمایا ” اور میرا بھائی مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے اس لئے اس کو میری معاونت کے لئے میرے ساتھ کر دیجئے کہ وہ میری تصدیق کرے کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں اکیلا ہوا تو وہ مجھے ضروری جھٹلا دیں گے ۔ “ (آیت) ” انی اخاف ان یکذبون “۔ گویا زیر نظر آیت میں جو ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” ان یفقھوا قولی “۔ وہ بات کو سمجھیں یعنی میری بات لوگوں کے دلوں میں اترجائے اس کو قصص میں فرمایا ” کہ مجھے ڈر ہے کہ لوگ مجھے جھٹلا دیں گے “ گویا میری بات کو سننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوں گے اور ظاہر ہے کہ سنیں گے تو سمجھیں گے ، آج اس بات کو سمجھنا خصوصا اس ہمارے ملک میں تو ویسے بھی بہت آسان ہے کہ بڑے بڑے سیاسی لیڈروں پر جب کوئی جرم عائد ہوتا ہے تو وہ بھاگ کر دیار غیر کو چلے جاتے ہیں اور ان سب کے میزبان لندن والے ہیں اور ان لیڈروں کا دفاع کرنے والی ان کی پارٹیاں ہیں جب حالات سازگار ہوتے ہیں تو وہ واپس آتے ہیں اور آتے ہی یا گرفتار کر لئے جاتے ہیں یا نظر بند اور پھر ان پر جو مقدمات دائر ہوتے ہیں ان سے ان کو بری کرانے کے لئے ان کی پارٹی ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہے اور حکومت وقت کی رضا اس میں شامل ہوتی ہے تو زیادہ دیر نہیں لگتی کہ سب مقدمات خارج ہوجاتے اور آہستہ آہستہ پھر وہ اپنی بات کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں جب ان کے ساتھ ایک اچھی خاصی جماعت اعوان وانصار کی لگ جاتی ہے تو پھر ان کی تحریک بھی چمک جاتی ہے ۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسا ہی ایک خطرہ محسوس کیا تھا اور بالکل خطرہ واضح تھا کیونکہ آپ نہ تو جھوٹی درخواست پیش کرسکتے تھے اور نہ ہی قتل سے انکار اس لئے آپ کے لئے یہ کام بہت مشکل نظر آرہا تھا کہ مصر پہنچتے ہی ایک بار تو تہلکا مچ جائے گا اور لوگ خصوصا قبطی مجھ سے قتل کا مطالبہ کریں گے اور اگرچہ خون بہا میرے بھائی نے ادا کردیا ہے تاہم اس کے متعلق بھی اگر کوئی بات ہوگی تو بہتر جواب وہی دے سکے گا ، اس سیدھی سادی اور صاف بات کو چھوڑ کر ایک کہانی گھڑنے کی آخر ضرورت کیا تھی ؟ اور اگر یہود نے گھڑی تو اس کو وہاں سے اٹھا کر تفاسیر میں کیوں بھر دیا گیا بلاشبہ جو کچھ ہوا وہ بدنیتی سے نہیں ہوا بلکہ کہانی چونکہ پہلے موجود تھی قرآن کریم نازل ہوا اور دور اول گزر چکا تھا تو اس کے الفاظ کو اس کہانی کی روشنی میں ڈھال لیا گیا یہی وجہ ہے کہ اس طرح کا سارا کام نبی کریم ﷺ اور صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کے دور کے بعد ہوا اور آپ سے اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین سے کوئی روایت اس سلسلہ میں بیان نہ ہوئی اگر اس کا کوئی وجود ہوتا تو قرآن کریم میں نہیں تو احادیث صحیحہ میں یانو اس کی وضاحت موجود ہوتی ۔ حالانکہ محدثین کے دور میں ایسی باتیں حرکت میں آچکی تھیں اور انہوں نے اپنی کتب میں باقاعدہ کتاب التفسیر کے نام سے قرآن کریم کے مطالب بیان کرنے کی کتابیں مختص کیں لیکن یہ قصص چونکہ بےسروپا تھے اس لئے انہوں نے اس کو بیان ہی نہ کیا اور بعد میں مفسرین کا دور آیا تو انہوں نے ان ساری باتوں کو اٹھا کر اپنی تفاسیر میں بھر دیا لیکن ان کے بیان کا وہی طریقہ اختیار کیا جو محدثین نے حدیث بیان کرنے کے لئے اختیار کیا تھا یعنی سند کو ساتھ رکھا اور ہوتے ہوتے ان کہانیوں کا وجود برداشت کرلیا گیا آج وہی تفاسیر متد اول ہو کر جب پڑھی جانے لگیں تو ان کے اندر تو وہ ذخیرہ موجود تھا اس طرح ترجمہ ہو کر وہ باحوالہ طور پر ہمارے ہاں پھرنے لگا اب ابن جریر اور در منثور ‘ تفسیر عباسی ‘ مدارک اور جلالین کا نام آئے گا تو آخر کون ان کو حوالہ کے لئے اٹھا کر سامنے نہیں رکھے گا ، لیکن بعد میں آنے والوں نے مزید اس میں اضافے کئے اور ہوتے ہوتے اصل باتیں بالکل ہی مفقود ہوگئیں ، اور بناوٹی پھول ان کی جگہ سجا لئے گئے اور آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم دور ہی سے ان کو دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں اور قریب جانے کے لئے ہم تیار نہیں ورنہ قریب ہو کر دیکھیں تو بناوٹی اور اصلی کا فرق تب محسوس ہوتا ہے ورنہ دور سے دیکھنے والوں کو تو بعض اوقات نہیں بلکہ اکثر اوقات بناوٹی پھول خوبصورت نظر آتے ہیں ، بہ نسبت اصل پھولوں کے ، دعا ہے کہ اللہ ہمیں قرآن کریم کے بالکل قریب آکر مطالعہ کی توفیق عطا فرمائے اور ہم بالکل خالی الذہن ہو کر اس کا مطالعہ کرسکیں ۔
Ayah 20:29

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

میرے گھر والوں میں سے میرے لیے ایک وزیر بنا دے

اے اللہ میرے لوگوں میں سے کوئی میر ابوجھ اٹھانے والا بنا دے دعا کا پانچواں فقرہ : 29۔ اب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے مطالبہ کی مزید وضاحت فرما دی کہ میرے اس بوجھ کو اٹھانے والا میرے اہل ہی میں سے ہو تو بہتر ہے اور آنے والی آیت میں اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے اپنے بھائی کا نام پیش کردیا ۔ اس طرح سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی اس دعا پر غور کرو گے تو طریقہ دعا اور آداب دعا بھی اس سے استنباط ہوں گے اور اپنے موقف کی وضاحت کا طریقہ بھی معلوم ہوگا اور اس آیت نے یہ راز بھی کھول دیا کہ ایک آدمی کے بھائی اور بہنیں بھی اس کے اہل سے ہوتے ہیں اور ہمارے زبان میں بھی سب بہن بھائیوں کو ایک ہی گھر کا فرد سمجھا جاتا ہے لیکن جوں جوں بہنوں کی شادیاں ہوتی جاتی ہیں آہستہ آہستہ بہنیں اس گھر سے اگرچہ خارج گنی جاسکتی ہیں لیکن بھائی اور حقیقی بھائی کسی حال میں بھی اس گھر سے خارج نہیں سمجھے جاتے ، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر چھوڑا اور زندگی کا ایک بڑا حصہ مدین میں گزار کر واپس آ رہے ہیں لیکن ہارون (علیہ السلام) چونکہ ان کے بھائی ہیں ان کو انہوں نے اہل ہی کے لفظ سے یاد کیا ہے اور رب ذوالجلال نے بھی اس کی تردید نہیں کی جس کا مطلب ومقصد یہ ہے کہ جس طرح سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نبوت و رسالت کے اہل اور انتخاب الہی کے قابل تھے باکل اسی طرح ہارون (علیہ السلام) بھی تھے اور اتنی مدت گزرنے کے باوجود مصر کے حالات سے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اچھی طرح واقف بھی تھے اور اسی طرح یقینا ہارون (علیہ السلام) کی مرضی ہی سے وہ مصر کی طرف لوٹ آنے کے لئے تیار ہوئے ہوں گے ، مختصر یہ کہ قرآن کریم سے اہل یا اہل بیت بیوی بچے تو سب کو معلوم ہیں اور اس آیت سے یہ بھی واضح ہے کہ انسان کے بھائی اور خصوصا حقیقی بھی بھی اہل میں شامل ہیں لیکن چچا زاد اور داماد کے اہل ہونے میں اور اسی طرح بیٹی کی اولاد کے اہل ہونے میں کوئی دلیل قرآن کریم میں بیان نہیں ہوئی ہاں ! رسول اللہ ﷺ کے اس عمل سے کہ آپ نے اپنی علیحدہ گھر میں رہنے والی بیٹی اور اپنے دوہتوں دوہتیوں پر چادر ڈال کر جو دعا فرمائی کہ اے اللہ ! ان کو بھی میرے اہل میں شامل فرما تو اس دعا کے نتیجہ میں ان کو ضمنی اہل بیت کہا جاسکتا ہے تاہم محدثین نے ان کو اہل کساء ہی کے نام سے موسوم کرنا بہتر سمجھا ہے کہ فریقین میں جو قدرتی تفریق ہے وہ قائم رہے ۔
Ayah 20:30

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

ہاں ! ہارون کو جو میرا بھائی ہے

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرا بھائی ہی میرا بوجھ ہلکا کرسکتا ہے : 30۔ اس چھٹے فقرہ میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہارون (علیہ السلام) کا واضح طور پر نام پیش کردیا اور اس طرح قانون الہی میں جس کا رسول ہونا پہلے ہی طے تھا اس کا نام لے کر گویا موسیٰ (علیہ السلام) نے قدرتی طور پر اس بات کی تصدیق کردی جو علم الہی میں ہونے والی تھی ، پس سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) کا نام پر نبوت حاصل نہیں کی بلکہ جس کو نبوت دی جانے والی تھی سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اس کو اپنا بوجھ ہلکا کرنے والا سمجھا اور اس کا نام لے دیا اور یہ بات مشیت ایزدی کی تائید سے ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں کی رغبت کو اس طرف پھر دیتا ہے جو اس کی اپنی رضا ہوتی ہے اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے ہوتی ہے ، اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اگر اپنے خاندان میں کوئی شخص ایک کام کی قابلیت اور قرابت داری رکھتا ہو تو اس کی قرابت داری پر قابلتگ کو ترجیح دیتے ہوئے اس کی سفارش کی جاسکتی ہے لیکن کسی کی قابلیت پر قرابتداری کو ترجیح دے کر سفارش جائز نہیں تاہم ہمارے ہاں ہوتا وہی ہے جو شرعا جائز نہ ہو اور وہی نہیں ہوتا جس کا ہونا شرعا جائز اور درست ہے ۔ اس وقت پاکستان میں معاملہ ووٹ کا ہو یا ملازمت کا ترجیح کس کو ہے سب جانتے ہیں کہ اولیت رشوت کے مال و دولت کو اور ازیں بعد قرابت داری کو وہ پارٹی کی بنا پر ہو یا رشتہ داری کی بناء پر اور نعروں کا وقت ہو تو اسلام کے نام کو اولیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ اسلام پر ہم سب کا برابر دعوی ہے بہرحال سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہارون کا نام پیش کر کے اس کی مزید وضاحت اس طرح فرمائی جیسا کہ آئندہ آرہا ہے ۔
Ayah 20:31

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس کی وجہ سے میری قوت مضبوط ہو جائے

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اس کے ذریعہ میری قوت مضبوط ہوجائے گی : 31۔ ہر زبان میں بھائیوں کو بازو اور کمر مضبوط کرنے والا سمجھا جاتا ہے اور آج بھی ہمارے ہاں بالکل یہی صورت حال ہے اگرچہ اس مادی دور میں بھائی بھائی کے حقوق غصب کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے الا ماشاء اللہ تاہم جب کہیں کسی دوسرے خاندان ‘ گروہ یا پارٹی سے واسطہ پڑتا ہے تو آج بھی بھائیوں ہی پر انحصار کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ فطری رشتہ ہے جو اس کام معاون ثابت ہوتا ہے ۔ دو بھائیوں کا نبی بنایا جانا اور بھائیوں کے حصہ بھی آیا جیسا کہ اسحاق (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) حقیقی بھائی تھے علاقی بھائی حقیقی بھائی ہی کے برابر ہوا ہے لیکن اخیافی کا درجہ کم ہے اور باپ بیٹوں میں بھی نبوت و رسالت رہی ہے تاہم اس سے یہ مطلب لینا کہ نبوت کوئی وہبی چیز نہیں بلکہ طلب سے بھی مل سکتی ہے یہ نظریہ بالکل صحیح نہیں بلاشبہ نبوت و رسالت وہبی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہارون (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت دیا جانا طے تھا لیکن مشیت الہی میں موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے یہ شرف رکھا تھا کہ وہ بیٹوں کی بجائے بھائی کے تعاون کے لئے مطالبہ کریں کیونکہ ان کا یہ مطالبہ پورا ہونے والا تھا ۔
Ayah 20:32

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

وہ میرے کام میں میرا شریک ہو

دعا کے ساتویں فقرہ میں فرمایا کہ وہ میرا شریک ہو : 32۔ بھائی جائیداد کے سلسلہ میں ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں گویا باپ سے ملا ہوا مال ان میں برابر تقسیم ہوتا ہے لیکن کیا بھائی والا کام یا بھائی کی منشاء کے مطابق کام کرنا بھی لازم ہے ؟ نہیں اور یقینا نہیں لیکن یہاں موسیٰ (علیہ السلام) بڑے زور وشور سے فرما رہے ہیں کہ میرا بار رسالت نبوت اگر کوئی شخص ہلکا کرسکتا ہے اور میرے کام میں میرا شریک ہو سکتا ہے تو وہ میرا بھائی ہارون (علیہ السلام) ہی ہو سکتا ہے ، ظاہر ہے کہ یہ مشیت ایزدی ہی کے باعث آپ نے فرمایا ۔ (ازر) عربی زبان میں کمر کو کہتے ہیں اور گزشتہ آیت میں ہم نے بیان کیا ہے کہ کمر کی مضبوطی اور بازوؤں کی مضبوطی کا مطلب بھائیوں کے تعاون سے سمجھا جانا عام ہے یہاں تک تو موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے فقرے تھے اور آگے موسیٰ (علیہ السلام) اپنی درخواست کی لم اور وجہ بھی خود ہی بتا رہے ہیں اور یہ سبق بھی دے رہے ہیں کہ ہر کام میں اللہ کی خوشنودی کو اولیت دینا چاہئے رب راضی تو سب راضی کیونکہ اس وقت کسی کی نارضگی کوئی نقصان نہیں کرسکتی جب اللہ راضی ہو۔
Ayah 20:33

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

ہم تیری پاکیزگی اور بڑائی کا بکثرت اعلان کریں

فرمایا ہم دونوں مل کر تیری تسبیح بیان کریں گے جس کا نظارہ قابل دید ہوگا : 33۔ ہمارے ہاں آج بھی محاورہ عام ہے کہ ایک ایک اور دو گیارہ جس کا اصل مطلب یہی ہے کہ ایک کی طاقت تو ایک ہی کی ہے لیکن دو مل جائیں تو گیارہ کی طاقت پیدا ہوجاتی ہے اور یہ فی الواقعہ ایک حقیقت ہے اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) ہاروں (علیہ السلام) کو شریک کاربنائے جانے کی درخواست کے بعد اس درخواست کی وضاحت بھی خوب کر رہے ہیں اس جگہ تسبیح تعبیر ہے فریضہ نبوت کے ادا کرنے کی نہ کہ تسبیح ہاتھ میں لے کر اور کونے میں بیٹھ اللہ اللہ یا سبحان اللہ یا کوئی دوسرا ورد کرنے کی ، انبیاء کرام (علیہم السلام) کے طریقہ پر کام کرنے والوں کی خلوت وجلوت دونوں میں تسبیح ہوتی ہے تو یہی کہ وہ اس تعلیم کو پیش کرتے ہیں جو انہوں نے براہ راست اللہ سے حاصل کی ہوتی ہے اور یقینا آج بھی اصل تسبیح یہی ہے کہ تسبیح کے دانوں پر ورد وظیفہ اور وہ بھی کسی خاص فرضی الفاظ کا جیسا کہ ہمارے ہاں پیرومرشد دنیاوی اغراض ومقاصد کے لئے بتایا کرتے ہیں کہ فلاں نام کی اتنی تسبیح کرو گے تو تمہارا رزق اتنا کشادہ ہوگا اور تمہاری من بھاتی جگہ شادی ہوجائے گی اور تمہیں یہ عہدہ مل جائے گا اور تمہارے بیٹے کو اچھی ملازمت مل جائے گی جس میں اللہ کا فضل یعنی رشوت بہت ملے گی اور دنوں میں کو ٹھی اور کارخانہ لگ جائے گا ۔
Ayah 20:34

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور تیری یاد میں زیادہ سے زیادہ لگے رہیں

ہم دونوں مل کر تیرا بہت زیادہ ذکر کرسکیں گے : 34۔ تسبیح کے بعد ذکر کا لفظ بیان کرکے یہ وضاحت فرما دی گئی کہ تسبیح اور ذکر ایک نہیں بلکہ دو چیزیں ہیں اور دونوں کے ملنے سے عبادت اور نماز کا تصور تکمیل پاتا ہے ، تسبیح کیا ہے ؟ انبیائے کرام کے لئے فریضہ نبوت و رسالت کی ادائیگی اور ہمارے تمہارے لئے جو چیزیں اللہ تعالیٰ کی شان ، اس کی صفات اور اس کی مرضیات و احکام کے موافق ہیں ان کا اثبات اور ان کا اظہار کرنا ذکر ہے اور دونوں چیزیں مل کر ہی عبادت کہلاتی ہیں کیونکہ فقط نفی اور فقط اثبات کوئی شے نہیں کیونکہ نہ اس سے عقیدہ بنتا ہے اور نہ ہی کردار ، ہاں ! نفی اثبات پر مقدم ہے جب کہ ہم ماسوا اللہ سے کفر کا اعلان نہیں کرتے اس وقت تک مومن نہیں کہلا سکتے گویا ایمان لانے سے پہلے کفر کرنا لازم وضروری ہے بلاشبہ جو کافر نہ ہو وہ مومن نہیں ہو سکتا بلکہ کفر پہلے اور ایمان بعد میں جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ : (آیت) ” فمن یکفر بالطاغوت ویؤمن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی لا انفصام لھا “۔ (البقرہ 2 : 256)
Ayah 20:35

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

بلاشبہ تو ہمارا حال دیکھ رہا ہے

دعا ‘ دعا کی وضاحت کے بعد اب دعا کے حق میں سفارش : 35۔ اے اللہ ” بلاشک وریب تو ہمارا حال دیکھ رہا ہے “ فقرہ کتنا مختصر اور اس کے اندر مضمون کتنا بڑا کہ اپنی انفرادی اور قومی زندگی کا سارا حال اس میں بند کرکے رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں پیش فرما دیا اور اس کے ساتھ وہ سفارش بھی لگا دی جو دعا کے قبول ہونے کے لئے سب سے بہترین سفارش کہلاتی ہے کہ انسان دعا میں اپنا عمل پیش نظر نہ رکھے بلکہ اپنا حال اس کی بارگار میں پیش کر دے اور اس کے فضل کا طلبگار ہو ۔ عمل پیش کرنے سے کیا ہوتا ہے ؟ یہی ہوتا ہے کہ جتنا اس کا صلہ ہوتا ہے وہ اس کو مل جاتا ہے اور پھر اگر طلب صلہ سے زیادہ ہو تو کیا ہوا ؟ لیکن اپنا حال پیش کرکے اس کا فضل طلب کرنے سے صلہ نہیں مانگا جاتا بلکہ مکمل طلب مانگ کر مقصد حاصل کرلیا جاتا ہے ۔ یہ بات ہم نے اس لئے کہی کہ احادیث میں بعض لوگوں کا ذکر آتا ہے جنہوں نے عمل پیش کر کے اس کا صلہ مانگا لیکن وہیں سے یہ بات بھی مل جائے گی کہ اس کا نتیجہ کیا رہا یہی کہ جو ان کے عمل کا صلہ تھا وہ ان کو مل گیا اور بڑی مشکل کے بعد وہ کامیاب ہوئے اور اگر عمل کے بدلہ میں صلہ طلب نہ کرتے بلکہ اپنی ضرورت پیش کرتے اور اپنا حال کھول دیتے تو کامیابی جلد حاصل ہوجاتی اور یہ بھی کہ احادیث میں اپنی دعا میں وسعت رکھنے کی تلقین خود رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہے جس میں کوئی ابہام نہیں ۔
Ayah 20:36

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

ارشاد ہوا ! اے موسیٰ (علیہ السلام) تیری درخواست منظور ہوئی

موسیٰ (علیہ السلام) کو دعا کی منظوری کی اطلاع دے دی گئی : 36۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست جس کو ہم ” دعا “ کے نام سے موسوم کرتے آرہے ہیں کہ منظور کرلیا گیا اور آپ کو اطلاع دے دی گئی کہ اسے موسیٰ ہارون کا نبی بنانا ہمارے ہاں طے تھا اس لئے ہم نے اس کو نبی ورسول بنا دیا اور آپ کی دعا قبول ہوئی اور علاوہ ازیں بھی جو کچھ تو نے طلب کیا وہ تجھے دیا گیا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی احسانات کا ذکر فرمایا جو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر اس سے پہلے ہی کئے جا چکے تھے جب کہ ان کے متعلق آپ نے سوال بھی نہیں کیا تھا ۔
Ayah 20:37

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور ہم تجھ پر پہلے بھی ایک مرتبہ ایسا احسان کرچکے ہیں ؟

اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ ہم تو اس سے پہلے بھی تجھ پر احسان کرچکے ہیں : 37۔ زیر نظر آیت میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت باسعادت کا ذکر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) یوکا بد کے بطن سے اس وقت پیدا ہوئے جب کہ فرعون مصر اسرائیلی لڑکوں کا فیصلہ کرچکا تھا اس لئے ان کی ولدہ اور ان کے خاندان کے لوگ ان کی ولادت سے سخت پریشان تھے کہ کسی طرح بچہ کو قاتلوں کی نگاہ سے محفوظ رکھیں بہرحال جوں توں کر کے کچھ وقت تک ان کی نظر سے اوجھل رکھا اور اس بچہ کے پیدا ہونے کی کسی کو خبر نہ دی تاہم وہ دیر تک اس واقعہ کو چھپا نہ سکتے تھے ، چونکہ یہ گھرانا بہت ہی اچھے اور نیک لوگوں کا تھا اور فرعون کی بیوی آسیہ بھی ایک نہایت ہی اللہ کی بندی اور نیک خاتون تھیں یقینا ان دونوں خواتین کا آپس میں تعلق ہوگا ممکن ہے کہ اس وجہ سے کچھ آپ کی والدہ کے لئے انکو ائری میں سہولت دی گئی ہو لیکن آخر بچہ کو کب تک پوشیدہ رکھا جاسکتا تھا اس لئے آپ کی والدہ کی مامتا نے کتنی دیر تک دعائیں کی ہوں گی اور کتنی پریشانی میں وقت گزارا ہوگا ۔
Ayah 20:38

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

اس وقت جب ہم نے تیری ماں کے دل میں بات ڈال دی تھی

وہ وقت یاد کرو جب تمہاری والدہ ماجدہ کو اشارہ کیا گیا : 38۔ جب وہ بہت ہی پریشان ہوئیں تو اللہ رب العزت نے اس کی مدد فرمائی اور والدہ کے دل میں کسی طرح ایک بات بٹھا دی اور اس طرح کا اشارہ ہوا کہ ایک تابوت کی طرح کا صندوق بناؤ جس پر رال اور روغن کی خوبصورت پالش کرو تاکہ پانی اندر اثر نہ کرسکے اور اس میں اس بچہ کو محفوظ طریقہ سے رکھ دو اور پھر اس صندوق کو نیل کے بہاؤ پر چھوڑ دو ، ہوتے ہوتے یہ بات سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں پیوست ہوگئی اور والدہ نے ایسا ہی کیا جیسا کہ اس کا دل وقتی یقین پا گیا ۔ زیر نظر آیت میں اس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جیسا کہ ارشاد ہوا کہ ” اور ہم تجھ پر پہلے بھی ایک ایسا ہی احسان کرچکے ہیں ؟ فرمایا وہ وقت کہ جب ہم نے تیری ماں کے دل میں ایک بات ڈال دی تھی ۔ “
Ayah 20:39

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

ہم نے اس کو سمجھا دیا تھا کہ بچے کو ایک صندوق میں ڈال دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے ، دریا اس کو کنارے پر دھکیل دے گا پھر اسے وہ اٹھا لے گا جو میرا دشمن ہے نیز اس کا بھی دشمن ہے اور ہم نے اپنے فضل خاص سے تجھ پر محبت کا سایہ ڈال دیا تھا اور یہ اس لیے تھا کہ ہم چاہتے تھے تو ہماری نگرانی میں پرورش پائے

بچہ کو ایک صندوق میں بند کرکے دریا میں بہا دے اور قدرت کی کرشمہ سازی دیکھ : 39۔ جیسا کہ پیچھے ذکر کیا گیا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ کے دل میں یہ بات بٹھا دی گئی کہ ایک بہترین صندوق تیار کرکے اس میں بچہ کو ڈال کر دریا کے بہاؤ پر چھوڑ دے اور قدرت کی نیرنگیاں مشاہدہ کرتی رہ ۔ چونکہ دل میں بات کا بیٹھنا اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق تھا اور قدرت الہی نے جو بات سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کے دل میں پیوستہ کی ان کے لئے حالات بھی سازگار فرما دئیے اور اس کے متعلق قرآن کریم نے یہ اشارہ فرمایا کہ ” ہم نے اس کو سمجھا دیا تھا کہ بچے کو ایک صندوق میں ڈال دے اور پھر صندوق کو دریا میں چھوڑ دے ‘ دریا اس کو کنارے پر دھکیل دے گا اور اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اسے وہ اٹھائے گا جو میرا دشمن ہے نیز اس کا بھی دشمن ہے ۔ ” اس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اپنے فضل خاص سے تجھ پر محبت کا سایہ ڈال دیا تھا اور یہ اس لئے تھا کہ کہ ہم چاہتے تھے کہ تو ہماری نگرانی میں پرورش پائے ۔ “ اور پھر وہی ہوا جو ہم نے طے کیا تھا اگر یہ پروگرام ان دونوں میں طے ہوا تو بھی یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ اور آسیہ فرعون کی بیوی میں ۔۔۔۔۔۔۔ اگر اسی سبب سے ہوا تو بھی اللہ تعالیٰ ہی کا فیصلہ تھا پھر اس عمل درآمدہو جانا سب سے بڑا کام تھا جو اللہ نے موسیٰ کی ماں سے حل کروا دیا یہی وہ بات ہوئی کہ جب اللہ کی مشیت کا فیصلہ ہوجائے کہ ایسا ہونا ہے تو پھر وہ ہو ہی جاتا ہے اور کوئی اس کو روک نہیں سکتا ۔ اس واقعہ کو زیر نظر آیت میں اس طرح بیان فرمایا کہ ” ہم نے اس کو سمجھا دیا تھا کہ بچے کو ایک صندوق میں ڈال اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے ‘ دریا اس کو کنارے پر دھکیل دے گا پھر اسے وہ اٹھا لے گا جو میرا دشمن ہے نیز اس کا بھی دشمن ہے اور ہم نے اپنے فضل خاص سے تجھ پر محبت کا سایہ ڈال دیا تھا اور یہ اس لئے تھا کہ ہم چاہتے تھے کہ تو ہماری نگرانی میں پرورش پائے ، یہ پروگرام اللہ تعالیٰ نے والدہ موسیٰ اور آسیہ امراۃ فرعون کے درمیان طے کرایا اور وہی ہوا جو طے ہوا ۔
Ayah 20:40

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

تیری بہن جب وہاں چلتی ہوئی پہنچی تو اس نے کہا میں تمہیں ایسی شخصیت بتلا دوں جو اسے پالے پوسے ؟ اور اس طرح ہم نے پھر تجھے تیری ماں کی گود میں لوٹا دیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غمگین نہ ہو ، پھر تو نے ایک آدمی مار ڈالا ، ہم نے تجھے اس معاملہ کے غم سے بھی نجات دی اور تجھے ہر طرح کی حالتوں میں ڈال کر آزمایا پھر تو کئی برس تک مدین کے لوگوں میں رہا بالآخر تو اے موسیٰ ! (علیہ السلام) اندازہ پر پورا اتر آیا

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو ہدایت ان کی والدہ ماجدہ کی طرف سے : 40۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ نے اپنے پروگرام کے مطابق جو مشیت ایزدی سے طے ہوا تھا جس سے یقینا آسیہ بھی واقف تھیں ایسا ہی کیا اور جب دریا میں بہا بیٹھیں تو ساتھ ہی اپنی بیٹھی اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو مامور کیا کہ وہ اس صندوق کے بہاؤ کے ساتھ کنارے کنارے چل کر صندوق کو نگاہ میں رکھے اور دیکھے کہ اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت ونگہبانی کا وعدہ کس طرح پورا کرتا ہے جیسا کہ اوپر کیا گیا کہ یہ سارا پروگرام مرضی خداوندی سے طے پایا تھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو یہ بشارت سنا گئی تھی کہ ہم اس بچہ کو تیری جانب واپس کردیں گے اور یہ بھی کہ یہ ہمارا نبی ورسول ہوگا ، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی ہمشیرہ برابر صندوق کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ کنارے چلتی رہی اور اس صندوق کو نظر میں رکھا ، اس نے دیکھا کہ صندوق تیرتا ہوا شاہی محل کے کنارے آلگا اور فرعون کے گھرانے کی ایک عورت نے چاہے وہ آسیہ ہی تھی جو اس پروگرام سے واقف تھیں چاہے انہوں نے کسی دوسری عورت کو کہا اس عورت نے خادموں کے ذریعہ اس صندوق کو اٹھوا لیا اور شاہی محل میں لایا گیا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئی کہ الحمد للہ اللہ کا بتایا اور سمجھایا ہوا پروگرام مکمل ہوگیا اور اس بھیڑ میں شامل ہوگئیں جو اس بچہ کے دیدار کے لئے آئی ۔ صندوق کھولا تو اس میں وہ بچہ بڑے اطمینان کے ساتھ پڑا تھا فرعون کی بیوی نے دیکھا تو فرعون کو بھی بلایا اور قدرت خداوندی کا مشاہدہ کرایا فرعون اگرچہ کتنا ہی قسی القلب ہوگا جو بنی اسرائیل کے بچوں کو کسی تدبیر سے مروا دیتا تھا لیکن بدبخت کے ہاں اولاد بھی نہ تھی اور بیوی بھی ساتھ کھڑی تھی ۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں مین ایک دوسرے کو سمجھا دیا کہ بچہ کو قتل کرنے کی بجائے خود اس کی پرورش کر لینی چاہئے کہ بلاشبہ بچہ تو سکی اسرائیلی ہی کا ہوگا لیکن جب ہمارے ہاں پرورش پائے گا تو اس طرح کا کوئی خطرہ اس بچہ سے نہیں ہوسکتا ، مشیت ایزدی کی یہ کرشمہ سازیاں آج سے نہیں شروع سے چلتی آرہی ہیں کہ وہ حالات کو ایسے رخ پر پھیرتا ہے کہ انسان خود اپنی موت کو دعوت دے دیتا ہے اور جب نتیجہ ظاہر ہوتا ہے تو اس کو پتہ چلتا ہے کہ جس چیز سے میں بچنا چاہا تھا اللہ نے وہی مجھ سے کروا دی ۔ اپنے مالک پاکستان کے حالات کو نظر میں رکھیں تو معلوم ہوجائے گا اور کتنوں کو آپ بھی جانتے ہوں گے کہ کسی خطرہ کو بدلنے کے لئے اس مالک کے حکمرانوں نے کتنے آدمیوں کو راستہ سے ہٹا کر ان کو کرسیوں پر لا بٹھایا جو ان لانے والوں ہی کی موت کا باعث بن گئے گویا جس خطرہ سے انہوں نے بچنے کی کوشش کی اور اپنے حالات کے خود محافظ ونگہبان ہوئے تو صاف منہ کے بل اوندھے گرے اور جس نتیجہ سے بچنے کے لئے یہ سارا کھیل کھیلا انجام اس کا وہی نکلا اور کوئی طاقت ان کو بچا نہ سکی ۔ یہی حال اس وقت کے سب سے زیرک اور سمجھدار اور مصر کے تخت کے مالک وحکمران کا ہوا کہ جس خدشہ کے باعث اس نے بنی اسرائیل کے بچوں کو مروانے کی تدبیر کی اللہ نے بنی اسرائیل ہی کا وہ بچہ جس سے مصر کا تخت اس کے ہاتھ سے چھینا جانا مشیت ایزدی میں طے تھا اس کو اس کے گھر میں لا رکھا اور اس کے ہاتھوں سے اس کی پرورش کرانا شروع کردی اور کتنے بنی اسرائلل کا روزینہ اس خدمت کے صلہ میں لگوا دیا کہ وہ اس بچے کی حفاظت کر رہے ہیں ، شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) موضح القرآن میں فرماتے ہیں کہ ” فرعون کی عورت تھی بنی اسرائیل ہی کی ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے چچا کی بیٹی ۔ “ شاہ صاحب (رح) نے اشارہ کرکے سارے پروگرام کو واضح فرما دیا کہ یہ کس طرح سرانجام پایا ، مختصر یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دودھ پلانے کے لئے والدہ کی طرف واپس لوٹا دیا گیا ۔ چونکہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر کئے گئے احسانات کو بتایا جا رہا تھا تو چلتے چلتے اس احسان کا ذکر بین فرما دیا جو اس وقت اللہ تعالیٰ نے کیا جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے اتفاقی قتل ہوگیا تھا اور قریب تھا کہ حکومت وقت آپ کو پکڑ کر قتل کے بدلہ میں قتل کروا دے یا کم از کم قید خانہ میں ڈال دے لیکن ایک صاحب دوڑتے ہوئے آئے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اطلاع کردی اور وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور پھر یہاں سے نکال کر کس محفوظ طریقہ سے مدین پہنچایا اور وہاں بھی جاتے ہی کوئی دیر نہ لگی تھی کہ عائلی زندگی اختیار کرا دی تاکہ عفت نبوی قائم رہے اللہ نے بیوی بھی دی اور ہونے والے نبی کو بنائے گئے نبی کی دامادی کا شرف بھی حاصل ہوا اور اپنا خاندان بھی ملا کہ شعیب (علیہ السلام) بھی ابراہیمی سلسلہ ہی سے تعلق رکھتے تھے اور انبیائے کرام (علیہم السلام) کا مشترک پیشہ گلہ بانی کا موقع بھی ملا ، اللہ تعالیٰ نے بچے بھی عطا کئے اور مصر والوں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ بھی رہا اور ان کی خواہش کے مطابق ایک عرصہ وہاں رہنے کے بعد واپس مصر اپنے وطن کی طرف مراجعت ہوئی اور ابھی راستہ میں ہی میں تھے کہ اللہ نے نبوت و رسالت کے پیغام کے لئے منتخب کرلیا جیسا کہ فرمایا گیا کہ (آیت) ” ثم جئت علی قدر یموسی “۔
Ayah 20:41

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور میں نے تجھے اپنے لیے بنایا اور تیار کیا ہے

ان احسانات کے بعد سب سے بڑا احسان یہ کہ میں نے اپنے لئے تجھے پسند کرلیا : 41۔ فرمایا اے موسیٰ ! میں نے تجھے اپنے لئے پسند کرلیا کیونکہ انبیائے کرام (علیہم السلام) کا مقصد حیات ہی اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہوتا ہے اور اپنے جسم وجان سے لوگوں کے سامنے بطور اسوہ حسنہ پیش کرنا ہوتا ہے اور یہ کام اتنا بڑا ہے جتنا کہ اس کا بیان کرنا آسان نظر آتا ہے دنیا میں سب سے مشکل چیز کردار واخلاق ہے اور اس کام کے لئے یہی سرمایہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تجھے اپنے لئے انتخاب کرلیا اور ” اصطناع “ کا اصل مفہوم ہی یہ ہے کہ کسی شخص کو کسی خاص مقصد کے لئے تربیت اور ٹریننگ دی جائے تاکہ جس کام کے لئے اس کو تیار کیا گیا ہے اس کی صلاحیت اس میں پیدا ہو ۔ چونکہ نبوت و رسالت کوئی دنیوی وعہدوں میں سے عہدہ نہ تھا اس لئے انبیاء ورسل کی تعلیم وتربیت بھی صرف انسانوں کے ہاتھ میں نہ دی گئی جتنا حصہ انسانی زندگی سے اوپر خصوصا گروہ انبیاء کے لئے مخصوص تھا وہ اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنی قدرت کاملہ کے تحت ہی رکھا کیونکہ وہ کسی انسان کے اختیار کا معاملہ نہیں تھا ، اس لئے انبیاء رسل کا انتخاب بھی اللہ تعالیٰ کے اپنی ہی ہاتھ میں رہا کسی انسان کا اس میں عمل دخل نہ تھا یہی وجہ ہے کہ وہ معصوم کہلائے اور ان کی عصمت ہی سب سے بڑا کردار تھا جو دوسروں انسانوں سے ان کو بالکل الگ کردیتا تھا اور عصمت انبیاء پر حرف آنا نبوت پر حرف آنے کے مترادف تھا ، عصمت مجروح ہوئی تو گویا نبوت مجروح ہوگئی ، ہمیں افسوس ہے کہ انبیاء ورسل کی تاریخ مرتب کرتے وقت مرتبین نے اس بات کو بالکل نظر انداز کردیا حالانکہ اس کو نظر انداز کرنا صحیح معنوں میں نبوت ہی کو نظر انداز کرنا ہے ، غیر نبی خواہ وہ کتنا ہی عظیم انسان کیوں نہ ہو معصوم نہیں ہو سکتا اور نبی خواہ وہ کتنے ہی کم درجہ کا کیوں نہ ہو معصوم ہوتا ہے ، یہی عصمت ہی انبیائے کرام کو دوسرے سارے انسانوں سے بلند مقام پر رکھتی ہے ، تشیع نے چونکہ اماموں کو بھی معصوم سمجھا اس لئے اہل سنہ نے ان سے اختلاف کیا جو بالکل بجا تھا ‘ ہے اور اگر یہ خط امتیاز مٹ جائے تو نبوت فی نفسہ مٹ جاتی ہے اس لئے اس فرق کو سمجھنا اور نبی ورسول کی سیرت بیان کرتے وقت اس کا خیال نہ رکھنا بہت ہی خطرناک چیز ہے ، لیکن افسوس کہ ہمارے سیرت نگاروں اور قصص الانبیاء لکھنے والوں اور مفسرین کرام کو جتنا عصمت انبیاء کی حفاظت میں کام کرنا چاہئے تھا اتنا ہی انہوں نے اس کو مجروح کرنے میں کام کیا ‘ کیوں ؟ محض اس لئے کہ اسرائیلیات ان کے سامنے تھیں اور قرآن کریم اور صحیح احادیث پر انہوں نے نگاہ رکھنے کی بجائے انہی اسرائیلیات پر انحصار کیا اور بعد میں آنے والوں نے ان کی تحریر کردہ سیرتوں ‘ قصص کی کتابوں اور تفسیروں سے استفادہ کیا اور اس کا جو نتیجہ نکلنا چاہئے تھا وہ یہی تھا جو اس وقت ہمارے سامنے ہے ۔
Ayah 20:42

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

اب تو اور تیرا بھائی دونوں میری نشانیاں لے کر (فرعون اور اس کی قوم کے پاس) جاؤ اور میری یاد میں کوتاہی نہ کرو

موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو فرعون کے پاس جانے کا حکم : 42۔ آپ کو یاد ہوگا موسیٰ (علیہ السلام) تو مدین سے مصر کی طرف آ رہے تھے کہ رات کے وقت آگ کو دیکھ کر اس آگ کی طرف بڑھے تھے تاکہ راستہ معلوم کریں اور وہاں سے آگ کا کوئی انگارہ لا کر الاؤ جلائیں اور اپنے بیوی بچوں کو تپائیں لیکن وہاں جا کر ایک دوسرا ہی منظر نظر آیا کہ آگ کی بجائے نبوت و رسالت پر آپ کو فائز کیا گیا اور حکم ہوا کہ فرعون کے پاس جاؤ لیکن آپ نے اپنے گزشتہ حالات کے پیش نظر رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں عرض کی کہ میرے ساتھ میرے بھائی ہاروں کو بھی رسول بنا کر بھیجا جائے تو میں بات وضاحت سے کر پاؤں گا ورنہ میرے لئے بہت سے خطرات ہیں چونکہ اللہ رب العزت نے ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت و رسالت سے فیض یاب کرنا تھا اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی اس درخواست کو منظور کرلیا لیکن اس کا تو کوئی ذکر نہیں کہ ہارون (علیہ السلام) کو کوہ طور پر کون لایا ‘ کب آئے اور کیسے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے کام میں شریک کئے گئے ؟ جس سے واضح ہے کہ ان حالات کو درمیان سے چھوڑ دیا گیا ورنہ دونوں کو حکم کیسے دیا گیا کہ اب تم دونوں جاؤ ، کوئی صورت تو ہوئی خواہ موسیٰ (علیہ السلام) یہ اپیل دائر کرنے کے بعد بال بچوں کے ساتھ مصر میں لے آئے اور وہاں آکر وہ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو مخاطب کیا یا جو صورت بھی اس کی ہوئی بہرحال ہوئی ، چونکہ اس کے ذکر کی ضرورت نہ تھی لہذا اس کا بیان کرنا چھوڑ دیا ، اب حکم ہوا کہ تم دونوں بھائی مل کر فرعون کے پاس جاؤ اور میری یاد میں کوتاہی نہ کرو یعنی میرا پیغام پہنچانے میں دیر نہ کرو اور بات کرنے کے بعد ڈھیلے نہ پڑو بلکہ زور دار الفاظ میں پورے رعب وداب کے ساتھ بات کرو اگر تم ڈھیلے پڑے تو وہ تم پر چھا جانے کی کوشش کرے گا ، گویا اللہ تعالیٰ اپنے دونوں رسولوں کو باور کرا رہا ہے کہ ” گربہ کشتن را روزل اول “ والی بات نہ بھولنا ورنہ پٹائی ہوجائے گی ۔
Ayah 20:43

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

ہاں ! تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ ، وہ سرکشی میں بہت بڑھ چلا ہے

دونوں مل کر فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ بہت سرکش ہوگیا : 43۔ اس سے زیادہ سرکشی اور کیا ہوگی کہ اس نے ایک پوری قوم کو اچھوت بنا کر رکھ دیا اور ان سے بیگار لینے کے سوا اس کو کچھ نہیں سوجھتا اس نے ایسے قانون بنائے جس کے تحت بنی اسرائیل کی نرینہ اولاد کو موت کے گھاٹ اتارا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھ کر ان سے خدمت کا کام بھی لیا اور اپنی قوم کی نفسانی خواہشوں کا ازالہ بھی انہی سے کیا اور اس طرح اس نے جو حرکت کی وہ ایک سے ایک بڑھ کر بری تھی اور ظلم کی انتہا کردی ۔ غور کرو کہ فرعون نے جو کچھ بنی اسرائیل کو دوسری قوم سمجھتے ہوئے کیا آج کے یہ سرمایہ دار اور جاگیردار اپنی قوم کے عوام سے کر رہے ہیں اور ہر سکیم ایسی اختیار کرتے ہیں جس سے ان کی امارت بڑھے اور غریب غریب تر ہو تاکہ اس کو بولنے اور بات کرنے کی ہمت ہی نہ رہے اور وہ ان کے غلام بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں ، ملک کے اندر اس وقت اتنے بڑے سرمایہ دار اور جاگیردار ہیں کہ اگر ایک سرمایہ دار پورے ملک کو خریدنا چاہے تو خرید لے لیکن حکومت کے خزانہ میں اتنا بھی نہیں کہ اٹھائے گئے قرض کا سود ہی ادا کیا جاسکے یا ملازمین کی تنخواہ ہی دی جاسکے اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مزید قرض اٹھانے کے لئے اور غرمسلم قوموں کے سامنے مانگتوں کی طرح دس سوال دراز کرتے ہیں اور وہ سخت سست سنانے کے بعد چار ٹکے ان کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں لیکن یہ مانگنے والے اتنے بےحیا اور بےغیرت ہیں کہ ان کو بھی لے کر اپنی ہی جیب میں ڈال لیتے ہیں اور ملک کے عوام کو اس گانے پر لگا رکھا ہے کہ ۔ ع ” دب دب کے واہ تے رج رج کے کھا “ اگر یہ باتیں صحیح ہیں تو فیصلہ خود کرلو کہ وہ فرعون مصر زیادہ ظالم تھا یا یہ آج کل کے فرعون جو سینکڑوں سے متجاوز ہو کر اب ہزاروں میں شمار ہوتے ہیں یہ زیادہ ظالم ہیں ۔ لیکن العلماء ورثۃ الانبیاء کا خطاب حاصل کرنے والے ایسے ناخلف ہیں کہ ہو بھی ان ہی کی ہاں میں ہاں ملاتے اور دریوزہ گروں کی طرح انہی کی کو ٹھیوں کے طواف میں لگے ہوئے ہیں اور کوئی نہیں جو ان کو پیغام حق سنانے کے لئے تیار ہو ۔ ہاں کچھ مسخرے اور بہروپئے ضرور ہیں جو کبھی کبھی سوانگ رچا لیتے ہیں ۔
Ayah 20:44

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

پھر جب اس کے پاس پہنچو تو نرمی [ سے بات کرو ، شاید وہ نصیحت پکڑ لے یا ڈر جائے

تم دونوں فرعون کے پاس جا کر واضح اور زور دار بات کو سلیقہ سے کرو : 44۔ یہ سوانگ رچانے والے کتنی زور دار بات کرتے ہیں ‘ آپ کو معلوم ہی ہے لیکن ان کی اس زور دار بات میں وزن کتنا ہوتا ہے اور سلیقہ کتنا ؟ فرمایا تم دونوں کو ہدایت یہ ہے کہ بات وزنی کرو لیکن سلیقہ شعاری کے ساتھ کہ گویا تم دونوں کسی بڑی حکومت کے سفیر بن کر جا رہے ہو اور عصا بھی تمہارے ہاتھ میں دے دیا ہے لیکن اس لئے نہیں کہ جاتے ہی اس پر تابڑتوڑ لاٹھی برسانا شروع کر دو بلکہ نرم لہجہ اور سلجھے ہوئے انداز کے ساتھ بات کرو تم کو پولیس افسر بنا کر نہیں بلکہ مبلغ اور مربی بنا کر بھیجا جارہا ہے ، تم اللہ کے رسول اور نبی ہو اور انبیاء ورسل کا کام سخت سے سخت حالات میں بھی آپے سے باہر ہونا نہیں بلکہ اپنے دائرہ کے اندر رہ کر کام کرنا ہے ۔ ہیکڑی جتانا اور دھونس جمانا دنیا پرست لیڈروں کی خصوصیات میں سے ہے نبیوں اور اللہ والوں کا نہیں اس لئے تمہارا فرض یہ ہے کہ پیغام کا طریقہ اور انداز نبیوں ہی کا اختیار کرنا ہے کیونکہ تم نبی ہو اور یہ بھی کہ اس پیغام پہنچانے کا اصل مقصد مخاطب میں ” تذکیر “ اور ” خشیت “ پیدا کرنا ہے اس کو دھمکی سنانا نہیں ، ہاں ! دھمکی کا وقت آئے گا تو پھر تم کو دھمکی دے کر ہی روانہ کیا جائے گا لیکن ابھی اس کا وقت نہیں ‘ ابھی تو راستہ بھولنے والے کو باور کرانا ہے کہ تم سیدھے رخ پر نہیں جا رہے بلکہ الٹے رخ چل رہے ہو اور تمہارا ہر قدم تم کو منزل مقصود سے دور کر رہا ہے ۔ ہاں ! اس نصیحت کے بعد اس کی مرضی کہ وہ سیدھا چلنے کے لئے تیار ہو یا الٹی راہ ہی چلتا جائے اگر وہ سیدھی راہ چلے گا تو یہ اس کا فائدہ ہے اور تمہاری دعوت کا اجر تو تم کو ملے ہی گا اور اگر وہ الٹی راہ ہی چلتا رہے گا تو نقصان اس کا ہے تمہارا نہیں کیونکہ تمہارا اجر تو پھر بھی بحال ہی رہے گا ۔
Ayah 20:45

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں نے عرض کی پروردگار ! ہمیں اندیشہ ہے کہ فرعون ہماری مخالفت میں جلدی نہ کرے یا سرکشی سے پیش نہ آئے

دونوں نے بیک وقت یہی کہا کہ ہم ڈرتے ہیں کہ وہ زیادتی کرے گا : 45۔ وہی بات جو پہلے اکیلے موسیٰ (علیہ السلام) نے کہی تھی اب ایک اور ایک گیارہ ہونے کے بعد بھی وہی کہی کہ ” اے پروردگار ! ہم کو اندیشہ ہے کہ فرعون ہماری مخالفت میں جلدی نہ کرے یا سرکشی پر نہ اتر آئے ؟ “ مطلب یہ ہے کہ وہ معاملہ پر غور کرنے پہلے ہی ہم پر ہاتھ ڈال دے یا یہ کہ ہماری بات سنتے ہی برہم ہر کو ظلم وستم پر اتر آئے اور ہماری قوم کو مزید مشکلات کا سامنا ہو اور ہماری قومی حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوجائے ، اس میں تفہیم کی بات صرف یہ ہے کہ بات کرنے کا ایک انداز شک کی بنا پر ہوتا ہے اور ایک مآل اور نتہجو معلوم کرنے کے لئے ، یہاں جو بات کی جارہی ہے وہ کسی شک وشبہ کی بنا پر نہیں بلکہ مال اور انجام معلوم کرنے کے لئے کی جارہی ہے اور یہ انسان کا فطری حق ہے اس لئے کہ انبیائے کرام کو یہ پختہ یقین تھا کہ ہمیں بھیجنے والا ہماری اس دعوت کے انجام اور نتیجہ سے اچھی طرح واقف ہے اور واقف ہے اور ہم ناواقف ہیں اور ناواقف کا واقفیت حاصل کرنا حق ہے جس سے اس کا محروم نہیں کیا جاسکتا اور کل معلوم ہونے والی بات اگر آج معلوم ہو سکے تو بہرحال مفید حال ہے ، یہ بات اس لئے عرض کی جا رہی ہے کہ کسی شخص کو یہ وہم نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرعون کی طرف جانے کی ہدایت پا کر دونوں نبیوں کو شک ہوا اس لئے انہوں نے لیت ولعل شروع کردی کہ فرعون کے پاس جائیں گے تو معلوم نہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوگا اس لئے یہ خطرہ محسوس کرنا ان کے لئے صحیح نہیں تھا ۔ نہیں ! یہ بات بالکل نہیں اور نہ ہی انبیائے کرام ان خطرات سے کبھی ڈرتے ہیں بلکہ ان خطرات سے دوچار ہونے کے لئے تو وہ پیدا ہوتے ہیں ، لیکن یہاں بات خطرہ محسوس کرنے کی نہیں تھی بلکہ قوم کو یقین دلانے کی تھی اور نتیجہ ومال معلوم کرنے کی ۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اس کو واضح کو دیا کہ قوم کے سامنے وہ سرخرو ہوں گے ۔
Ayah 20:46

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

ارشاد ہوا کچھ اندیشہ نہ کرو میں تمہارے ساتھ ساتھ ہوں ، میں سب کچھ سنتا ہوں ، سب کچھ دیکھتا ہوں

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ڈرو نہیں میں تم دونوں کے ساتھ ہوں دیکھتا اور سنتا ہوں : 46۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کو تسلی دی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اور سنتا اور دیکھتا ہوں گویا یہ ارشاد فرمایا کہ آپ متفکر نہ ہوں اور میرا پیغام بےدھڑک اس کو سنائیں اور کسی بات کا اگر انجام اور مال پہلے بتا دیا جائے تو انسان فطری طور پرست پڑجاتا ہے میں آپ کو سست نہیں کرنا چاہتا بلکہ چوکس رکھنا چاہتا ہوں اور چوکس کرنے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ تم دونوں جب وہاں پہنچو گے تو تیسرا میں بھی تمہارے ساتھ ہوں گا ۔ فرعون کے علم میں تو یہ بات آ نہیں سکتی اور آپ کو اس بات کا علم ہے کہ میں ہر ایک سے بات نہیں کرتا لیکن ہر ایک کو دیکھتا ہوں اور میرے دیکھتے ہوئے وہ کون ہوتا ہے کہ آپ کے ساتھ ایسی بدتمیزی کرے کہ تم کو قتل ہی کر دے ۔ مختصر یہ کہ بلاشبہ ان الفاظ کے اندر ایک تحفظ ضمانت ہے جو فرمایا کہ (انی اسمع واری) لیکن کسی تشریح سے بالاتر ہے بلاشبہ اس تشریح کو نبی ورسول ہی سمجھ سکتے تھے میں اور آپ نہیں کیونکہ یہ بات ہمارے اور آپ کے فہم سے بالاتر ہے ۔