20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 20:130

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

پس ان کی ساری باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی حمد و ثنا (کی پکار) میں لگا رہ ، سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے ، رات کی گھڑیوں میں اور دوپہر کے لگ بھگ بھی ممکن ہے کہ تو بہت جلد خوشنود ہو جائے

صبر کیجئے جو کچھ وہ کہتے ہیں ہم اس کو سن رہے ہیں آپ ﷺ یاد الہی میں مصروف رہیں : 130۔ صبر کیا ہے ؟ اس کو پہلے بھی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے لیکن چونکہ صبر کی حقیقت پر عوام کی غلط فہمی نے تو برتو پردے ڈال رکھے ہیں اس لئے ان کے نزدیک وہ بےبسی وبے کسی کی ایک تصویر پیش کرتا ہے اور ان کے نزدیک اس کے معنی اپنے دشمن سے کسی مجبوری کے باعث انتقام نہ لے سکنے کے ہیں لیکن کیا واقعتا صبر اسی چیز کا نام ہے ؟ اسلام ان معنوں اور اس مفہوم کو بالکل نہیں مانتا بلکہ وہ ہم کو سمجھاتا ہے کہ صبر کے لغوی معنی کیا ہیں ‘ معنی تفہیم کرانے کے بعد وہ واضح کرتا ہے کہ ۔ 1۔ صبر وقت مناسب کا انتظار کرنا ہے ۔ 2۔ صبر بےقرار نہ ہونے کا نام ہے ۔ 3۔ صبر مشکلات کو خاطر میں نہ لانا ہے ۔ 4۔ صبر درگزر کرنے کا نام ہے ۔ 5۔ صبر ثابت قدمی کو کہا جاتا ہے ‘ صبر ضبط نفس کو بھی کہا جاتا ہے ۔ 6۔ صبر ہر طرح کی تکلیف اٹھا کر فرض کو ہمیشہ ادا کرنا ہے ۔ پھر وہ ہم کو صبر کے فضائل و انعامات بھی بتاتا ہے اور وہ واشگاف الفاظ میں کہتا ہے کہ فتح مشکلات کی کنجی صبر اور دعا ہے ، اس جگہ ہم اس کی تفصیل بیان کردینا مناسب خیال کرتے ہیں کیونکہ زیر نظر آیت میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ ” صبر کر اور اپنے پروردگار کی حمد وثنائی کی پکار میں لگا رہ۔ “ ” صبر “ کے لغوی معنی ” روکنے “ اور ” سہارنے “ کے ہیں یعنی اپنے نفس کو اضطراب اور گھبراہٹ سے روکنا اور اس کو اپنی جگہ پر ثابت قدم رکھنا اور یہی صبر کی معنوی حقیقت بھی ہے ‘ یعنی اس کے معنی بےاختیاری کی خاموشی اور انتقام نہ لے سکنے کی مجبور کے نہیں بلکہ پامردی ‘ دل کی مضبوطی ‘ اخلاقی جرات اور ثبات قدر کے ہیں ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کے قصہ میں ایک ہی آیت میں تین جگہ یہ لفظ آیا ہے اور ہر جگہ یہی معنی مراد ہیں ۔ حضرت خضر (علیہ السلام) کہتے ہیں : (آیت) ” انک لن تسطیع معنی صبراوکیف تصبر علی مالم تحط بہ خبرا “ (الکہف 18 : 67 ، 68) تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے اور کیسے اس بات پر صبر کرسکتے ہو جس کا علم تمہیں نہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جواب میں فرماتے ہیں : (آیت) ” ستجدنی ان شآء اللہ صابرا “۔ (الکہف 18 : 69) اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ اس صبر سے مقصود لاعلمی کی حالت میں غیر معمولی واقعات کے پیش آنے سے دل میں اضطراب اور بےچینی کا پیدا نہ ہونا ہے ۔ کفار اپنے پیغمبروں کے سمجھانے کے باوجود پوری تندہی اور مضبوطی کے ساتھ اپنی بت پرستی پر قائم رہتے ہیں ۔ تو اس کی حکایت ان کی زبان سے قرآن یوں کرتا ہے : (آیت) ” ان کاد لیضلنا عن الھتنا لولا ان صبرنا علیھا “۔ (الفرقان 25 : 42) یہ شخص (پیغمبری کا مدعی) تو ہم کو اپنے خداؤں (بتوں) سے ہٹا ہی چکا ہے ‘ اگر ہم ان پر صابر (ثابت) نہ رہتے ۔ (آیت) ” ولوانھم صبروا حتی تخرج الیھم لکان خیرالھم “۔ (الحجرات 49 : 5) اور اگر وہ ذرا صبر کرتے (یعنی ٹھہرجاتے) یہاں تک کہ تم (اے رسول) نکل کر ان کے پاس آتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا۔ قرآن کریم میں صبر کا لفظ اسی ایک معنی میں مستعمل ہوا ہے گو حالات کے تغیر سے اس کے مفہوم میں کہیں کہیں ذرا ذرا فرق پیدا ہوگیا ہے باایں ہمہ ان سب کا مرجع ایک ہی ہے یعنی ثابت قدمی اور استقامت ‘ صبر کے یہ مختلف مفہوم جن میں قرآن پاک نے اس کو استعمال کیا ہے حسب ذلیل ہیں : وقت مناسب کا انتظار کرنا : پہلا یہ ہے کہ ہر قسم کی تکلیف اٹھا کر اور اپنے مقصد پر جمے رہ کر کامیابی کے وقت کا انتظار کرنا۔ آنحضرت ﷺ نے جب شروع میں لوگوں کے سامنے توحید کی دعوت اور اسلام کی تبلیغ پیش کی تو عرب کا ایک ایک ذرہ آپ ﷺ کی مخالفت میں سرگرم جو لاں ہوگیا ‘ ہر طرف سے عداوت اور دشمنی کے مظاہرے ہونے لگے اور گوشہ گوشہ سے قدم قدم پر مخالفتیں اور رکاوٹیں پیش کی جانے لگیں ‘ تو اس وقت بشریت کے اقتضاء سے آپ ﷺ کو اضطراب ہوا اور کامیابی کی منزل دور نظر آنے لگی اس وقت تسلی کا یہ پیام آیا کہ اضطراب اور گھبراہٹ کی ضرورت نیں و آپ ﷺ مستعدی سے اپنے کام میں لگے رہیں اللہ آپ کا نگہبان ہے اللہ کا فیصلہ اپنے وقت پر آئے گا فرمایا : (آیت) ” واصبر لحکم ربک فانک باعیننا “۔ (الطور 52 : 48) (اے رسول) تو اپنے پروردگار کے فیصلہ کا ثابت قدم رہ کر منتظر رہ کیونکہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ، (آیت) ” فاصبروا حتی یحکم اللہ بیننا “۔ (الاعراف 7 : 87) ” تو ثابت قدم رہ کر منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کردے ۔ (آیت) ” واصبر حتی حکم اللہ وھو خیرالحکمین “۔ (یونس 10 : 109) ” اور ثابت قدم رہ کر منتظر رہ ‘ یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے ‘ وہ سب فیصلہ کرنے والوں میں بہتر ہے ۔ (آیت) ” فاصبر ان العاقبۃ للمتقین “۔ (ھود 11 : 49) ثابت قدم رہ کر وقت کا منتظر رہ ‘ بلاشبہ آخر کار کامیابی پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ اس انتظار کی کشمکش کی حالت میں جب ایک طرح حق کی بےکسی ‘ بیچارگی اور بےبسی پاؤں کو ڈگمگا رہی ہو اور دوسری طرف باطل کی عارضی شورش اور ہنگامی غلبہ دلوں کو کمزور کر رہا ہو ‘ حق پر قائم رہ کر اس کی کامیابی کی پوری توقع رکھنی چاہئے ۔ (آیت) ” فاصبر ان وعداللہ حق “۔ (الروم 30 : 60 ‘ ال مومن 40 : 77) ثابت قدمی کے ساتھ منتظر رہ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ وعدہ الہی کے ظہور میں اگر ذرا دیر ہو تو مشکلات سے گھبرا کر حق کا ساتھ چھوڑ دو اور باطل کے گروہ میں مل جاؤ ۔ (آیت) ” فاصبر لحکم ربک ولا تطع منھم اثما اوکفورا “۔ (الدھر 76 : 24) اپنے پروردگار کے فیصلہ کا ثابت قدمی سے منتظر رہ اور ان (مخالفین میں) سے کسی گنہگار یا کافر کا کہا نہ مان لے ۔ آنحضرت ﷺ کو حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ سنایا گیا کہ ان کا خیال ہوا کہ ان کی نافرمان قوم پر عذاب آنے میں تاخیر ہو رہی ہے اس لئے وہ بھاگ کھڑے ہوئے حالانکہ ان کی قوم دل میں مسلمان ہوچکی تھی اس لئے وہ عذاب اس سے ٹل گیا ‘ ارشاد ہوا کہ اے پیغمبر اس طرح تیرے ہاتھ سے صبر کا سر رشتہ چھوٹنے نہ پائے ۔ (آیت) ” فاصبر لحکم ربک ولا تکن کصاحب الحوت “۔ (ن 68 : 48) اپنے پروردگار کے فیصلہ کا ثابت قدمی کے ساتھ انتظار کر اور مچھلی والے (یونس) کی طرح نہ ہو۔ بے قرار نہ ہونا : صبر کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ مصیبتوں اور مشکلات میں اضطراب اور بیقراری نہ ہو بلکہ اس کو اللہ کا حکم اور مصلحت سمجھ کر خوشی خوشی جھیلا جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ جب وقت آئے گا تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے خود ان کو دور فرما دے گا ‘ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی مدح فرمائی : (آیت) ” والصابرین علی ما اصابھم “۔ (الحج 22 : 35) اور جو مصیبت میں صبر کریں ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) بیٹوں سے جھوٹی خبر سن کر کہ بھیڑئیے نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کھالیا ‘ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” بل سولت لکم انفسکم امرا فصبر جمیل واللہ المستعان علی ما تصفون “۔ (یوسف 12 : 18) بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات گھڑ لی ہے تو بہتر صبر ہے اور اللہ سے اس پر مدد چاہی جاتی ہے جو تم بیان کرتے ہو پھر اپنے دوسرے بیٹے کو مصر میں روک لئے جانے کا حال سن کر کہتے ہیں ۔ (آیت) ” بل سولت لکم انفسکم امرا فصبر جمیل عسی اللہ ان یاتینی بھم جمیعا “۔ (یوسف 12 : 3 8) بلکہ تمہارے دلوں نے گھڑ لیا ہے تو بہتر صبر ہے عنقریب اللہ ان سب کو ساتھ لائے گا ۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے جسمانی اور مالی مصیبتوں کو جس رضا و تسلیم کے ساتھ پامردی سے برداشت کیا ‘ اس کی مدح خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی : (آیت) ” انا وجدنہ صابرا نعم العبد انہ اواب “۔ (ص 38 : 44) ہم نے بیشک ایوب کو صابر پایا ‘ کیسا اچھا بندہ ‘ وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہے ۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اپنے شفیق اور مہربان باپ کی چھری کے نیچے اپنی گردن رکھ کر فرماتے ہیں : (آیت) ” یابت افعل ما تؤمر ستجدنی انشاء اللہ من الصبرین “۔ (الصافات 37 : 102) اے باپ جو تجھے کہا جاتا ہے وہ کر گزر ‘ اللہ نے چاہا تو مجھے صابروں میں سے پائے گا ۔ مشکلات کو خاطر میں نہ لانا : صبر کا تیسرا مفہوم یہ ہے کہ منزل مقصود کی راہ میں جو مشکلیں اور خطرے پیش آئیں ‘ دشمن جو تکلیفیں پہنچائیں اور مخالفین جو طعن وطنز کریں ‘ ان میں سے کسی چیز کو خاطر میں نہ لایا جائے اور ان سے بددل اور پست ہمت ہونے کے بجائے اور زیادہ استقلال اور استواری پیدا ہو ‘ بڑے بڑے کام کرنے والوں کی راہ میں یہ روڑے اکثر اٹکائے گئے مگر انہوں نے استقلال اور مضبوطی کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا اور کامیاب ہوئے ‘ آنحضرت ﷺ کو اسی لئے دوسری وحی میں جب تبلیغ اور دعوت کا حکم ہوا تو ساتھ ہی اس حقیقت سے بھی آپ کو باخبر کردیا گیا ۔ (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر۔۔۔۔۔۔۔ ولربک فاصبر “۔ (المدت 74 : 1 ‘ 2 ‘ 7) اے چادر پوش ! اٹھ اور لوگوں کو ہوشیار کر ۔۔۔۔۔ اور اپنے پروردگار کے لئے پامردی (صبر) کر۔ اس قسم کے مواقع اکثر انبیاء کرام (علیہم السلام) کو پیش آئے چناچہ خود آنحضرت ﷺ کو اس اعلی مثال کی پیروی کا حکم ہوا۔ (آیت) ” فاصبر کما صبر اولوالعزم من الرسل ولا تستعجل لھم “۔ (الاحقاف 46 : 35) (اے محمد) تو بھی اس طرح پامردی کر جس طرح پختہ ارادہ والے پیغمبروں نے کی اور ان (مخالفوں) کے لئے جلدی نہ کر ۔ حضرت لقمان (علیہ السلام) کی زبان سے بیٹے کو یہ نصیحت سنائی گئی کہ حق کی دعوت وتبلیغ ‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض پوری استواری سے ادا کر اور اس راہ میں جو مصیبتیں پیش آئیں ان کا مردانہ وار مقابلہ کر ۔ (آیت) ” وامر بالمعروف وانہ عن المنکر واصبر علی ما اصابک ان ذلک من عزم الامور “۔ (لقمان 31 : 17) نیکی کا حکم کر اور برائی سے روک اور جو مصیبت پیش آئے اس کو برداشت کر ‘ یہ بڑی پختہ باتوں میں سے ہے ۔ کفار عذاب الہی کے جلد نہ آنے یا حق کی ظاہری بےکسی اور بےبسی کے سبب سے آنحضرت ﷺ کو اپنے دلدوز طعنوں سے تکلیفیں پہنچاتے تھے ‘ حکم ہوا کہ ان طعنوں کی پروا نہ کر ‘ اور نہ ان سے دل کو اد اس کر ‘ بلکہ اپنے دھن میں لگا رہ اور دیکھ کہ تجھ سے پہلے پیغمبروں نے کیا کیا ۔ (آیت) ” اصبر علی ما یقولون واذکر عبدنا داؤد “۔ (ص 38 : 17) ان کے کئے پر صبر کر اور ہمارے بندہ داؤد کو یاد کر ۔ اس قوت صبر کے حصول کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ سے لو لگائی جائے اور اس کی طاقت پر بھروسہ کیا جائے ۔ (آیت) ” فاصبر علی ما یقولون وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس “۔ (طہ 20 : 130 ‘ ق 50 : 39) تو ان کے کہنے پر صبر کر اور صبح وشام اپنے پروردگار کی حمد کر ۔ نہ صرف یہ کہ مخالفوں کے اس طعن وطنز کا دھیان نہ کیا جائے بلکہ اس کے جواب میں ان سے لطف ومروت برتا جائے فرمایا : (آیت) ” واصبر علی ما یقولون واھجرھم ھجرا جمیلا “۔ (المزمل 73 : 10) ان کے کئے پر صبر کر اور ان سے خوبصورتی سے الگ ہوجا۔ درگزر کرنا : صبر کا چوتھا مفہوم یہ ہے کہ برائی کرنے والوں کی برائی کو نظر انداز اور جو بدخواہی سے پیش آئے اور تکلیفیں دے اس کے قصور کو معاف کیا جائے ، یعنی تحمل اور برداشت میں اخلاقی پامردگی دکھائی جائے قرآن کریم کی کئی آیتوں میں صبر اس مفہوم میں استعمال ہوا ہے ‘ ارشاد ہوتا ہے : (آیت) ” وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیرللصبرین واصبر وما صبرک الا باللہ ولا تحزن علیھم ولا تک فی ضیق مما یمکرون “۔ (النحل 16 : 127) ” اور اگر تم سزا دو تو اسی قدر جس قدر تم کو تکلیف دی گئی اور البتہ اگر صبر (برداشت) کرو تو صبر کرنے والوں کے لئے یہ بہتر ہے اور تو صبر کر اور تیرا صبر کرنا نہیں لیکن اللہ کی مدد سے اور ان کا غم نہ کر اور نہ ان کی سازشوں سے دل تنگ ہو ۔ یہ صبر کی وہ قسم ہے جو اخلاقی حیثیت سے بہت بڑی بہادری ہے مسلمانوں کو اس بہادری کی تعلیم بار بار دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ صبر و برداشت کمزوری سے یا دشمن کے خوف سے یا کسی اور سبب سے نہ ہو بلکہ صرف اللہ کے لئے ہو ۔ (آیت) ” والذین صبروا ابتغآء وجہ ربھم واقاموا الصلوۃ وانفقوا مما رزقناھم سراوعلانیۃ ویدرء ون بالحسنۃ السیئۃ اولئک لھم عقبی الدار “۔ (الرعد 13 : 22) ” اور جنہوں نے اپنے پروردگار کی ذات کے لئے صبر کیا اور نماز کھڑی کی اور جو ہم نے ان کو روزی دی اس میں سے چھپے اور اعلانیہ (راہ اللہ میں) خرچ کیا اور برائی کو نیکی سے دفع کرتے ہیں ‘ ان کے لئے آخرت کا انجام ہے ۔ فرشتے ان کو مبارکباد دیں گے اور کہیں گے : (آیت) ” سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار “۔ (الرعد 13 : 24) ” تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا تھا ‘ تو آخرت کا انجام کیا اچھا ہوا۔ ایک خاص بات اس آیت میں خیال کرنے کے لائق ہے کہ اس کے شروع میں چند نیکیوں کا ذکر ہے ‘ صبر ‘ نماز خیرات ‘ برائی کی جگہ بھلائی مگر فرشتوں نے اس مومن کے جس خاص وصف پر اس کو سلامتی کی دعا دی ‘ وہ صرف صبر یعنی برداشت کی صفت ہے کیونکہ یہی اصل ہے جس میں یہ جوہر ہوگا وہ عبادت کی تکلیف بھی اٹھائے گا ‘ مصیبتوں کو بھی جھیلے گا اور دشمنوں کی بدی کا جواب بھی نیکی سے دے گا ‘ چناچہ ایک اور آیت میں اس کی تشریح بھی کردی گئی کہ درگزر اور بدی کے بدلہ نیکی کی صفت اس میں ہوگی جس میں صبر ہوگا ۔ (آیت) ” وَلَا تَسْتَوِیْ الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ ادْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِیْ بَیْْنَکَ وَبَیْْنَہُ عَدَاوَۃٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ (34) وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوا وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیْمٍ (35) (فصلت 41 : 34 ‘ 35) ” بھلائی اور برائی برابر نہیں ‘ برائی کا جواب اچھائی سے دو تو یکبارگی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ‘ وہ قریبی دوست سا ہوجائے گا اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ اسی کو ملتی ہے جو بڑی قسمت والا ہے ۔ ” جو لوگوں پر ظلم کرتے پھرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد برپا کرتے ہیں ان پر اللہ کا عذاب ہوگا ‘ اس لئے ایک صاحب عزم مسلمان کا فرض یہ ہے کہ دوسرے اس پر ظلم کریں تو بہادری سے اس کو برداشت کرے اور معاف کردے فرمایا : (آیت) ”إِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَظْلِمُونَ النَّاسَ وَیَبْغُونَ فِیْ الْأَرْضِ بِغَیْْرِ الْحَقِّ أُوْلَئِکَ لَہُم عَذَابٌ أَلِیْمٌ (42) وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (43) (الشورری 42 : 42 ، 43) ” راستہ انہیں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد کرتے ہیں ‘ یہی ہیں جن کے لئے پردرد عذاب ہے اور البتہ جس نے برداشت کیا اور بخش دیا بیشک یہ بڑی ہمت کا کام ہے ۔ ثابت قدمی : صبر کا پانچواں اہم مفہوم لڑائی پیش آجانے کی صورت میں میدان جنگ میں بہادرانہ استقامت اور ثابت قدمی ہے ۔ قرآن کریم نے اس لفظ کو اس مفہوم میں بارہا استعمال کیا ہے اور ایسے لوگوں کو جو اس وصف سے متصف ہوئے ‘ صادق القول اور راست باز ٹھہرایا ہے کہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا پورا کیا ‘ فرمایا : (آیت) ” والصابرین فی الباسآء والضرآء وحین الباس اولئک الذین صدقوا واولئک ھم المتقون “۔ (البقرہ 2 : 177) ” اور صبر کرنے والے ‘ ثابت قدمی (دکھانے والے) مصیبت اور نقصان میں اور لڑائی کے وقت ‘ وہی ہیں جو سچ بولے ‘ اور وہی پرہیزگار ہیں ۔ اگر لڑائی آپڑے تو اس میں کامیابی کی چار شرطیں ہیں ‘ اللہ کی یاد ‘ امام وقت کی اطاعت ‘ آپس میں اتحاد وموافقت اور میدان جنگ میں بہادرانہ صبر و استقامت ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُواْ وَاذْکُرُواْ اللّہَ کَثِیْراً لَّعَلَّکُمْ تُفْلَحُونَ (45) وَأَطِیْعُواْ اللّہَ وَرَسُولَہُ وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ (46) (الانفال 8 : 45 ‘ 46) ” اے ایمان والو ! جب تم کسی دستہ سے مقابل ہو ‘ تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ فلاح پاؤ اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ‘ ورنہ تم سست ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر دکھاؤ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ حق کے مددگاروں کی ظاہر قلت تعداد کی تلافی اسی صبر وثبات کی روحانی قوت سے ہوتی ہے ‘ تاریخ کی نظر سے یہ مشاہدے اکثر گزرے ہیں کہ چند مستقل مزاج اور ثابت قدم بہادروں نے فوج کی فوج کو شکست دے دی ہے ‘ اسلام نے یہ نکتہ اسی وقت اپنے جاں نثاروں کو سکھا دیا تھا جب ان کی تعداد تھوڑی اور دشمنوں کی بڑی تھی ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ إِن یَکُن مِّنکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُواْ مِئَتَیْْنِ وَإِن یَکُن مِّنکُم مِّئَۃٌ یَغْلِبُواْ أَلْفاً مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّ یَفْقَہُونَ (65) الآنَ خَفَّفَ اللّہُ عَنکُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفاً فَإِن یَکُن مِّنکُم مِّئَۃٌ صَابِرَۃٌ یَغْلِبُواْ مِئَتَیْْنِ وَإِن یَکُن مِّنکُمْ أَلْفٌ یَغْلِبُواْ أَلْفَیْْنِ بِإِذْنِ اللّہِ وَاللّہُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ (66) (الانفال 8 : 65 ‘ 66) ” اے پیغمبر ! ایمان والوں کو (دشمنوں کی) لڑائی پر ابھار ‘ اگر یہ بیس صبر کرنے والے (ثابت قدم) ہوں تو دو سو پر غالب ہوں گے اور اگر سو ہوں تو کافروں میں سے ہزار پر غالب ہوں گے کیونکہ وہ لوگ سمجھتے نہیں ‘ اب اللہ نے تم سے تخفیف کردی اور اس کو معلوم ہے کہ تم میں کمزوری ہے ‘ تو اگر سو صبر کرنے والے (ثابت قدم) ہوں تو دو سو پر غالب ہوں گے اور اگر ہزار (صبر کرنے والے) ہوں تو دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب ہوں گے اور اللہ صبر کرنے والوں (ثابت قدموں) کے ساتھ ہے ۔ میدان کار زار میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی تعدادی قلت کی پروانہ کریں اور صبر وثبات کے ساتھ اپنے سے دوچند کا مقابلہ کریں اور تسلی دی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی مدد انہیں لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو صبر اور ثبات سے کام لیتے ہیں۔ حضرت طالوت اور جالوت کے قصہ میں بھی اسی نکتہ کو ان لفظوں میں ادا کیا گیا ہے : (آیت) ” قَالُواْ لاَ طَاقَۃَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنودِہِ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّونَ أَنَّہُم مُّلاَقُو اللّہِ کَم مِّن فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً بِإِذْنِ اللّہِ وَاللّہُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ (249) وَلَمَّا بَرَزُواْ لِجَالُوتَ وَجُنُودِہِ قَالُواْ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَیْْنَا صَبْراً وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ (250) (بقرہ 2 : 249 ‘ 250) ” طالوت کے ساتھیوں نے کہا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کی فوج کی مقابلہ کی طاقت نہیں ‘ انہوں نے جن کو خیال تھا کہ اللہ سے ملنا ہے یہ کہا کہ بسا اوقات تھوڑی تعداد کے لوگ اللہ کے حکم سے بڑی تعداد کے لوگوں پر غالب آئے ہیں اور اللہ صبر وثبات دکھانے والوں کے ساتھ ہے اور جب یہ جالوت اور اس کی فوج کے مقابلہ میں آئے تو بولے اے ہمارے پروردگار ہم پر صبر بہا اور ہم کو ثابت قدمی بخش اور ان کافروں کے مقابلہ میں ہم کو نصرت عطا کر۔ ” اللہ تعالیٰ نے کمزور اور قلیل التعداد مسلمانوں کی کامیابی کی بھی یہی شرط رکھی ہے اور بتا دیا ہے کہ اللہ انہیں کا ہے جو صبر اور ثبات سے کام لیتے ہیں اور اللہ کے بھروسہ پر مشکلات کا ڈٹ کا مقابلہ کرتے ہیں : (آیت) ” ثم ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاھدوا وصبروا “۔ (النحل 16 : 110) پھر تیرا پروردگار ان کے لئے ہے جنہوں نے (ایذاء پانے کے بعد) گھر بار چھوڑا ‘ پھر لڑتے رہے اور صبر وثبات کے ساتھ ٹھہرے رہے ۔ دنیا کی سلطنت و حکومت ملنے کے لئے بھی اسی صبر و استقامت کے جوہر پیدا کرنے کی ضرورت ہے ‘ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نکلنے کے بعد اطراف ملک کے کفار سے جب مقابلہ آپڑا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو پہلا سبق یہ سکھایا : (آیت) ” قال موسیٰ لقومہ استعینوا باللہ واصبروا ان الارض للہ یورثھا من یشآء من عبادہ والعاقبۃ للمتقین “۔ (الاعراف 7 : 128) موسیٰ نے ان لوگوں سے کہا کہ اللہ سے مدد چاہو اور صبر و استقامت سے کام لو ‘ بیشک زمین اللہ کی ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اس کا مالک بناتا ہے اور انجام پرہیزگاروں کے لئے ہے ۔ چناچہ بنی اسرائیل مصروشام وکنعان کی آس پاس بسنے والی بت پرست قوموں سے تعداد میں بہت کم تھے لیکن جب انہوں نے ہمت دکھائی اور بہادرانہ استقامت اور صبر اور ثابت قدمی سے مقابلے کئے تو ان کی ساری مشکلیں حل ہوگئیں اور کثیر التعداد دشمنوں کے نرغہ میں پھنسے رہنے کے باوجود ایک مدت تک خود مختار سلطنت پر قابض اور دوسری قوموں پر حکومت کرتے رہے ، اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی اس کا میابی کا راز اسی ایک لفظ صبر میں ظاہر کیا ہے ‘ فرمایا : (آیت) ” وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُواْ یُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَہَا الَّتِیْ بَارَکْنَا فِیْہَا وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنَی عَلَی بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ بِمَا صَبَرُواْ وَدَمَّرْنَا مَا کَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُہُ وَمَا کَانُواْ یَعْرِشُونَ (137) (الاعراف 7 : 137) اور ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی وراثت بخشی جس میں ہم نے برکت نازل کی ہے اور تیرے پروردگار کی اچھی بات بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر وثبات کے سبب سے پوری ہوئی اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے کاموں کو اور تعمیروں کو برباد کردیا ۔ اس سے ظاہر ہوا کہ بنی اسرائیل جیسی کمزور قوم فرعون جیسی طاقت کے سامنے اس لئے سربلند ہوئی کہ اس نے صبر اور ثابت قدمی سے کام لیا اور اسی کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ان کو شام کی بابرکت زمین کی حکومت عطا فرمائی ‘ چناچہ اسی کی تصریح اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے موقع پر فرمائی : (آیت) ” وجعلنا منھم ائمۃ یھدون بامرنا لما صبروا وکانوا بایاتنا یوقنون “۔ (السجدہ : 33 : 24) اور بنی اسرائیل میں سے ہم نے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے راہ دکھاتے تھے ‘ جب انہوں نے صبر کیا اور ہمارے حکموں پر یقین رکھتے تھے ۔ آیت بالا نے بنی اسرائیل کی گزشتہ پیشوائی کے دو سبب بیان کئے ہیں ‘ ایک احکام الہی پر یقین اور دوسرے ان احکام کی بجا آوری میں صبر اور ثبات قدم ‘ یہی دو باتیں دنیا کی ہر قوم کی ترقی کا سنگ بنیاد ہیں ‘ پہلے اپنے اصول کے صحیح ہونے کا بشدت یقین اور پھر ان اصولوں کی تعمیل میں ہر قسم کی تکلیفوں اور مصیبتوں کو خوشی خوشی جھیل لینا ۔ غزوہ احد میں مسلمانوں کو فتح نہیں ہوتی بلکہ ستر مسلمان خاک وخون میں لتھڑ کر اللہ کی راہ میں جانیں دیتے ہیں بعض مسلمانوں میں اس سے افسردگی پیدا ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ان کے اس حزن وملال کے ازالہ کے لئے پچھلے پیغمبروں کی زندگی کی رواداد ان کو سناتا ہے : (آیت) ” وَکَأَیِّن مِّن نَّبِیٍّ قَاتَلَ مَعَہُ رِبِّیُّونَ کَثِیْرٌ فَمَا وَہَنُواْ لِمَا أَصَابَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَکَانُواْ وَاللّہُ یُحِبُّ الصَّابِرِیْنَ (146) وَمَا کَانَ قَوْلَہُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِیْ أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ (147) (آل عمران 3 : 146 ‘ 147) اور کتنے پیغمبر ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ کے طالب لڑے ہیں ‘ پھر اللہ کی راہ میں تکلیف اٹھا کر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور نہ ان کے دل بودے ہوئے اور اللہ ثابت رہنے والوں (صابرین) کو دوست رکھتا ہے اور وہ یہی کہتے رہے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کو بخش دے اور کام میں ہماری زیادیتوں کو معاف کر اور ہمارے قدم ثابت رکھ اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما ۔ اس آیت پاک نے غلط فہمیوں کے ان توبرتو پردوں کو چاک کردیا ہے جو صبر کی اصل حقیقت کے چہرہ پر پڑے ہیں اور بتا دیا کہ صبر دل کی کمزوری ‘ بےبسی کی خاموشی اور بےکسی کے مجبورانہ درگزر کا نہیں بلکہ دل کی انتہائی قوت وہمت کی بلندی ‘ عزم کی استواری اور مشکلات اور مصائب کو اللہ کے بھروسہ پر خاطر میں لانے کا نام ہے ‘ ایک صابر کا کام یہ ہے کہ مخالف حادثوں کے پیش آجانے پر بھی وہ دل برداشتہ نہ ہو ‘ ہمت نہ ہارے اور اپنے مقصد پر جما رہے اور اللہ سے دعا کرتا رہے کہ وہ اس کی گزشتہ ناکامی کے قصور کو جو اسی کی کمی (ذنب) یا زیادتی (اسراف) سے سرزد ہوا ہے معاف فرمائے اور اس کو مزید ثبات قدم عطا کرکے حق کے دشمنوں پر کامیابی بخشے ‘ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے کامیابی کے حصول کے لئے مسلمانوں کو دو باتوں کی تاکید فرمائی ایک اللہ کی طرف دل لگانا اور دوسرے مشکلات پر صبر و استقامت سے قابو پانا۔ دنیا کی فتح یابی کے ساتھ آخرت کا عیش بھی جس کا نام جنت ہے انہیں کے حصہ میں ہے ‘ جن کو یہ پامردی دل کی مضبوطی اور حق پر ثبات قدم کی دولت ملی ‘ حق کی راہ میں مشکلات کے پیش آنے کی ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ان سے کھرے کھوٹے کی تمیز ہوجاتی ہے اور دونوں الگ الگ معلوم ہونے لگتے ہیں چناچہ فرمایا : (آیت) ” ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یعلم اللہ الذین جاھدوا منکم ویعلم الصبرین “۔ (آل عمران 3 : 142) ” کیا تم سمجھتے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے (آزماکر) ان کو الگ نہیں کردیا جو لڑنے والے ہیں اور جو ثابت قدم (صابر) ہیں۔ ضبط نفس : (آیت) ” اشخاص اور قوموں کی زندگی میں سب سے نازل موقع وہ آتا ہے جب وہ کسی بڑی کامیابی یا ناکامی سے دوچار ہوتی ہیں۔ اس وقت نفس پر قابو رکھنا اور ضبط سے کام لینا مشکل ہوتا ہے مگر یہی ضبط نفس کا اصل موقع ہوتا ہے اور اسی سے اشخاص اور قوموں میں سنجیدگی ‘ متانت ‘ وقار اور کردار کی مضبوطی پیدا ہوتی ہے ۔ دنیا میں غم ومسرت اور رنج و راحت توام ہیں ‘ ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو کی ضرورت ہے یعنی نفس پر اتنا قابو ہو کہ مسرت اور خوشی کے نشہ میں اس میں فخر و غرور پیدا نہ ہو اور غم و تکلیف میں وہ اد اس اور بدل نہ ہو ‘ دل کے ان دونوں عیبوں کا علاج صبر وثبات اور ضبط نفس ہے انسانی فطرت کے راز دار کا کہنا ہے : (آیت) ” َلَئِنْ أَذَقْنَا الإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً ثُمَّ نَزَعْنَاہَا مِنْہُ إِنَّہُ لَیَؤُوسٌ کَفُورٌ (9) وَلَئِنْ أَذَقْنَاہُ نَعْمَاء بَعْدَ ضَرَّاء مَسَّتْہُ لَیَقُولَنَّ ذَہَبَ السَّیِّئَاتُ عَنِّیْ إِنَّہُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ (10) إِلاَّ الَّذِیْنَ صَبَرُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أُوْلَـئِکَ لَہُم مَّغْفِرَۃٌ وَأَجْرٌ کَبِیْرٌ (11) (ھود 11 : 0 ا ‘ 11) ” اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے کسی مہربانی کا مزہ چکھائین ‘ پھر اس سے اس کو اتار لیں تو وہ ناامید اور ناشکرا ہوجاتا ہے اور اگر کوئی مصیبت کے بعد اس کو نعمت کا مزہ چکھائیں تو کہتا ہے کہ برائیاں مجھ سے دور ہوگئیں بیشک وہ شاداں اور نازاں ہے لیکن وہ جنہوں نے صبر (یعنی نفس پر قابو) رکھا اور اچھے کام کئے یہ لوگ ہیں جن کے لئے معافی اور بڑا انعام ہے ۔ ہر طرح کی تکلیف اٹھا کر فرض کو ہمیشہ ادا کرنا : ہنگامی واقعات اور وقتی مشکلات پر پامردی سے ایک کام کیے جانے کے معنی ہی صبر ہیں جو کسی فرض کو عمر بھر پورے استقلال اور مضبوطی سے ادا کرنے میں ظاہر ہوتے ہیں اسی لئے مذہبی فرائض و احکام کو جو بہرحال نفس پر سخت گزرتے ہیں عمر بھر پوری مضبوطی سے ادا کرتے رہنا بھی صبر ہے ‘ ہر حال اور ہر کام میں اللہ کے حکم کی فرمانبرداری اور عبودیت پر ثبات نفس انسانی کا سب سے بڑا امتحان ہے اسی لئے حکم ہوا : (آیت) ” رب السموات والارض وما بینھما فاعبدہ واصطبر لعبادتہ “۔ (مریم 19 : 66) ” آسمانوں کا پروردگار اور زمین کا اور جو ان دونوں کے بیچ میں ہے سب کا تو اس کی بندگی کر اور اس کی بندگی پر ٹھہرا رہ (صبرکر) ایک اور آیت میں نماز پڑھتے رہنے اور اپنے اہل و عیال پر بھی اس کی تاکید رکھنے کے سلسلہ میں ہے : (آیت) ” وامراھلک بالصلوۃ واصطبر علیھا “۔ (طہ 20 : 132) ” اپنے گھروں والوں کو نماز کا حکم کر اور آپ اس پر قائم رہ ۔ یعنی تمام عمریہ فریضہ پابندی کے ساتھ ادا ہوتا رہے : حسب ذیل آیتوں میں غالبا صبر اسی مفہوم میں ہے وہ لوگ جو اللہ کے سامنے حاضری کے دن سے ڈرا کرتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ ان کو خوشخبری سناتا ہے ۔ (آیت) ” فوقاھم اللہ شر ذلک الیوم ولقاھم نضرۃ وسروراوجزآھم بما صبروا جنۃ وحیریرا “۔ (الدھر 76 : 12) تو اللہ نے ان کو اس دن کی برائی سے بچالیا اور ان کو تروتازگی و شادمانی سے ملایا اور ان کے صبر کرنے (یعنی احکام الہی پر ٹھہرے رہنے) کے سبب سے باغ اور ریشمی لباس بدلہ میں دیا ۔ وہ لوگ جو اللہ کی بارگاہ میں توبہ کریں ‘ ایمان لائیں ‘ نیک کام کریں ‘ فریب کے کاموں میں شریک نہ ہوں بیہودہ اور لغو کاموں کے سامنے سے ان کو گزرنا پڑے تو بزرگی کے رکھ رکھاؤ سے گزر جائیں اور اللہ کی باتوں کو سن کر اطاعت مندی سے اس کو قبول کریں اور اپنی اور اپنی اولاد کی بہتری اور پیشوائی کی دعائیں مانگیں ‘ ان کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کی یہ بشارت سناتا ہے : (آیت) ” اولئک یجزون الغرفۃ بما صبروا “۔ (الفرقان 25 : 76) ان کو بہشت کا جھرو کہ بدلہ ملے گا وہ صبر کرتے رہے : ان دونوں آیتوں میں صبر کا مفہوم یہی ہے کہ نیک کاموں کو بار خاطر ‘ خلاف طبع اور تکلیف ومشقت ہونے کے باوجود خوشی خوشی عمر بھر کرتے رہنا اور بری باتوں سے باوجود اس کے کہ ان میں ظاہری خوشی اور آرام ہے ‘ بچتے رہنا ‘ راتوں کو نرم بستروں سے اٹھ کر اللہ کے آگے سربسجود ہونا ‘ صبح کو خواب سحر کی لذت سے کنارہ کش ہو کر دوگانہ ادا کرنا ‘ الوان نعمت کی لذتوں سے محروم ہو کر روزے رکھنا ‘ تکلیف ومشقت ہونے کے باوجود خطرناک موقعوں پر بھی سچائی سے باز نہ آنا ‘ قبول حق کی راہ میں شدائد کو آرام و راحت جان کر جھیل لینا سود کی دولت سے ہاٹھ اٹھا لینا ‘ حسن و جمال کی بےقیدلذت سے متمتع نہ ہونا ‘ غرض شریعت کے احکام کی بجا آوری پھر اس پر عمر بھر استواری اور پائیداری ‘ صبر کی بہت ہی کڑی منزل ہے اور اسی لئے ایسے صابروں کی جزا بھی اللہ کے ہاں بھاری ہے ۔ ان آیات پاک کی اس تشریح میں وہ حدیث یاد آئی جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا : حجبت (حفت) الجنہ بالمکارہ وحجبت (حفت) النار بالشھوات “۔ (صحیح بخاری کتاب الرقاق و صحیح مسلم کتاب الجنہ) جنت ناخوشی کے کاموں اور دوزخ نفسانی لذتوں کے کاموں سے ڈھانپی گئی ہے ۔ یعنی نیکی کے ان کاموں کا کرنا جن کا معاوضہ جنت ہے اس وقت دنیا میں نفس پر شاق گزرتا ہے اور گناہوں کے وہ کام جن کی سزا دوزخ ہے اس وقت دنیا میں بڑے پر لطف اور لذت بخش معلوم ہوتے ہیں ‘ اس عارضی وہنگامی ناخوشی یا خوشی کی پروا کئے بغیر احکام الہی کی پیروی کرنا بڑے صبر اور برداشت کا کام ہے ‘ کسی قارون کے خزانہ مال و دولت کی فراوانی اور اسباب عیش کی بہتات کو دیکھ کر اگر کسی کے منہ میں پانی بھر نہ آئے اور اس وقت بھی مال حرام کی کثرت کے لالچ کے بجائے ‘ مال حلال کی قلت کو صبر کرکے خوشی کے ساتھ برداشت کرلے تو یہ بڑی قوت کا کام ہے جو صرف صابروں کو ملی ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں جو قارون تھا اس کے مال و دولت کو دیکھ کر بہت سے ظاہر پرست لالچ میں پڑگئے جن میں صبر و برداشت کا جوہر تھا ان کی چشم بینا اس وقت میں کھلی ہوئی تھی اور ان کو نظر آتا تھا کہ یہ فانی اور آنی جانی چیز کتنے دن کی ہے اللہ کی وہ دولت جو نیکوکاروں کو بہشت میں ملے گی ‘ لازوال ‘ غیر فانی اور جاودانی ہے ۔ (آیت) ” قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُونَ الْحَیَاۃَ الدُّنیَا یَا لَیْْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِیَ قَارُونُ إِنَّہُ لَذُو حَظٍّ عَظِیْمٍ (79) وَقَالَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَیْْلَکُمْ ثَوَابُ اللَّہِ خَیْْرٌ لِّمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحاً وَلَا یُلَقَّاہَا إِلَّا الصَّابِرُونَ (80) (القصص 28 : 79 ‘ 80) ” جو لوگ حیات دنیاوی کی آرائش کے خواہاں تھے وہ بولے اے کاش ہمارے پاس بھی وہ ہوتا جو قارون کو دیا گیا ۔ وہ بڑا خوش قسمت ہے اور جنہیں علم تھا انہوں نے کہا تمہارا برا ہو اللہ کی جزاء ان کے لئے جو ایمان لایا اور نیک کام کئے سب سے اچھی چیز ہے اور اس حقیقت کو وہی پاسکتے ہیں جو صابر ہیں ۔ یہ اجر اور جزا بہتر سے بہتر ہوگی کیونکہ یہ اس خزانے سے ملے گی جو لازوال اور باقی ہے ۔ (آیت) ” ماعندکم ینفد وما عنداللہ باق ولنجزین الذین صبروا اجرھم باحسن ما کانوایعملون “۔ (النحل 16 : 96) جو تمہارے پاس ہے وہ چک جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ رہ جانے والا ہے اور یقینا ہم ان کو جنہوں نے صبر کیا ان کی مزدور ان کے بہتر کاموں پر دیں گے ۔ ایک اور جگہ فرمایا کہ نمازیں ادا کیا کرو کہ نیکیاں بدیوں کو دھو دیتی ہیں اس پیغام میں نصیحت قبول کرنے والوں کے لئے نصیحت اور یاد دہانی ہے ‘ اس کے بعد ہے ۔ (آیت) ” واصبر فان اللہ لا یضیع اجر المحسنین “۔ (ھود 11 : 115) اور صبر کر بیشک اللہ نیک کام کرنے والوں کی مزدور ضائع نہیں کرتا ۔ صبر کے فضائل اور انعامات : یہ مزدوری کیا ہوگی ‘ یہ حد اور شمار سے باہر ہوگی ۔ (آیت) ” انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب “۔ (الزمر 39 : 10) ” صبر کرنے والوں کو تو ان کی مزدوری بےحساب ملے گی ۔ جن محاسن اور مجاہد صفات اور اعلی اخلاق کا درجہ اس دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ ہے ‘ ان میں صبر و برداشت کا بھی شمار ہے ۔ (آیت) ”إِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِیْنَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِیْنَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِیْنَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِیْنَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِیْنَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِیْنَ فُرُوجَہُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاکِرِیْنَ اللَّہَ کَثِیْراً وَالذَّاکِرَاتِ أَعَدَّ اللَّہُ لَہُم مَّغْفِرَۃً وَأَجْراً عَظِیْماً (35) (الاحزاب 33 : 35) ” بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایماندار مرد اور ایماندار عورتیں اور بندگی کرنے والے مرد اور بندگی کرنے والی عورتیں اور محنت سہنے والے مرد (صابرین) اور محنت سہنے والی عورتیں (صابرات) اور (اللہ کے سامنے) جھکنے والے مرد اور جھکنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں ‘ اللہ نے ان کے لئے تیار رکھی ہیں ‘ معافی اور بڑی مزدوری ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ صبر کا مرتبہ بڑی بڑی نیکیوں کے برابر ہے اس سے انسان کی پچھلی غلطیاں حرف غلط کی طرح مٹ جاتی ہیں اور دین و دنیا کی بڑی سے بڑی مزدوری اس کے معاوضہ میں ملتی ہے ۔ نماز کیا ہے ؟ اسلام کی عبادت کا یہ پہلا رکن ہے جو امیروغریب ‘ بوڑھے جوان ‘ عورت مرد ‘ بیماری وتندرست سب پر یکساں فرض ہے ، یہی وہ عبادت ہے جو کسی شخص سے کسی حال میں بھی ساقط نہیں ہوتی اگر اس فریضہ کو کھڑے ہو کر نہیں ادا کرسکتے تو بیٹھ کر ادا کرو اگر اس کی بھی قدرت نہیں ہے تو لیٹ کر کرسکتے ہو اگر منہ سے نہیں بول سکتے تو اشاروں سے ادا کرو۔ (نیل الاوطارج 2 ص 28) اگر رک کر نہیں پڑھ سکتے تو چلتے ہوئے پڑھو (ابوداؤد) اگر سواری پر ہو تو جس طرف وہ چلے اسی جانب منہ کرکے پڑھتے رہو اور یہ بات نفل نماز میں ہے جب کہ سواری اپنے کنٹرول میں ہو اور اگر اس سواری پر کنٹرول نہ ہو تو فرض نماز بھی پڑھی جاسکتی ہے ۔ یاد رہے کہ اسلام بھی دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں آیا جس میں نماز کو اہمیت نہ دی گئی ہو لیکن چونکہ وہ مذہب خاص خاص قوموں اور وقتوں تک محدود تھے اس لئے ان کے اندر سے عملا اس کی اہمیت جاتی رہی چناچہ اسلام سے پہلے کی دنیا کے کسی مذہب مین آج نماز یعنی پروردگار حقیقی کے سامنے اقرار عبودیت اور اس کی حمد وثنا کو واضح معین اور تاکیدی حیثیت حاصل نہیں یعنی کسی مذہب کے پیروؤں بلکہ عاملوں کے عمل سے بھی اس کی یہ صورت نمایاں نہیں ہوتی حالانکہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق تو دنیا میں کوئی ایسا پیغمبر نہیں آیا جس کو نماز کا حکم نہ دیا گیا ہو اور اس نے اپنی امت کو اس کی تاکید نہ کی وہ مگر موجودہ پوزیشین یہ ہے کہ اسلام کے سوا وہ کہیں نمایاں واضح اور مؤکد صورت میں باقی نہیں رہی اور اس کا سبب یہ ہے کہ چونکہ محمد رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء اور قرآن کریم خاتم ال کتاب ہو کر آیا ہے اس لئے فریضہ الہی کو دین کامل میں ایسی منظم واضح اور مؤکد اور نمایاں صورت دی گئی ہے کہ وہ قیامت تک دنیا میں باقی ہے کسی حالت میں بھی سبکدوش نہیں ہوسکتا ، قرآن کریم میں سو مرتبہ سے بھی کچھ زیادہ اس کی تعریف اور اس کی بجا آوری کا حکم اور اس کی تاکید آئی ہے اس کے ادا کرنے میں سستی اور کاہلی نفاق کی علامت اور اس کا ترک کفر کی نشانی بتائی گئی ہے یہ وہ فرض ہے جو اسلام کے ساتھ پیدا ہوا اور اس کی تکمیل اس مقدس شبستان میں ہوئی جس کو معراج کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ اسلام میں پہلا فرض ایمان اور اس کے لوازم ہیں اور اس کے بعد دوسرا فرض نماز ہے چناچہ سورة الروم میں پہلا حکم دیا گیا کہ (آیت) ” فاقم وجھک للدین حنیفا فطرت اللہ التی فطرالناس علیھا “۔ (الروم 30 : 30) ” اے پیغمبر اسلام ! آپ یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی سمت میں جمادو ‘ قائم ہوجاؤ اسی فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے ۔ “ اور اس کے بعد دوسرا حکم یہ دیا گیا (آیت) ” واقیموا الصلوۃ ولا تکونوا من المشرکین “۔ (الروم 30 : 31) ’ ” اور نماز قائم کرو اور مشرکوں سے نہ ہوجاؤ ۔ “ اور پھر مشرکوں کی تعریف بھی ارشاد فرما دی کہ وہ کون ہیں ؟ فرمایا ۔ (آیت) ” من الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا کل حزب بما لدیھم فرحون “۔ (الروم 30 : 32) ” مشرک وہ ہیں جنہوں نے اپنا دین الگ بنا لیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اس میں وہ مگن ہے ۔ “ بہرحال زیر نظر آیت میں نبی اعظم وآخر ﷺ اور آپ ﷺ کے ذریعہ سے آپ ﷺ کی امت کو نماز کا حکم دیا گیا ہے گو ” سبح بحمدربک “ سے مراد نماز ہی ہے اور اس حکم کے بعد اس کے اوقات کی وضاحت بھی فرما دی ہے کہ ” صبح کو سورج نکلنے سے پہلے ‘ شام کو ڈوبنے سے پہلے ‘ رات کو گھڑیوں میں اور دوپہر کے لگ بھگ بھی “ گویا (آیت) ” قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا “۔ سے دو نمازوں کا حکم ثابت ہوا یعنی نماز فجر اور نماز عصر (بخاری) اور (آیت) ” ومن انآء الیل فسبح “۔ اور رات کی گھڑیوں میں مطلب یہ ہے کہ رات کی کچھ گھڑیاں یعنی وقت گزرنے کے بعد اور یہ نماز عشاء کا ذکر ہوا (آیت) ” و اطراف النھار “۔ اور دن کے اطراف میں تین نمازیں آتی ہیں صبح اور شام تو ظاہر ہے اور ظہر کو اس لئے اس میں رکھا گیا کہ قرآن کریم نے ان کے دو حصے کئے ہیں بلکہ ہر قوم کے ہاں اس کے دو حصے تسلیم ہیں ایک دلوک شمس سے پہلے اور دوسرا دلوک شمس کے بعد اور پہلے حصہ دن کے آخر اور پچھلے حصہ دن کے اول کو (اطراف النھار) ہی کہا جاسکتا ہے اور یہ نماز ظہر کا وقت ہے اور ان اوقات کی مزیدتعیین اور حد بندی خود نبی اعظم وآخر ﷺ نے کردی ہے اور احادیث میں اس کی وضاحت موجود ہے نیز قرآن کریم نے ان اوقات کی تصدیق اس طرح فرما دی کہ (آیت) ” ان الصلوۃ کانت علی المؤمنین کتابا موقوتا “۔ (النساء 4 : 103) ” بلاشبہ نماز مسلمانوں پر وقت کی قید کے ساتھ فرض کردی گئی ہے ۔ “ اور آخر آیت میں ارشاد فرما گیا ” ممکن ہے کہ تو بہت جلد خوشنود ہوجائے ۔ “ گویا اس میں پیش گوئی کے طور پر آپ ﷺ کو بتا دیا گیا کہ جب آپ ﷺ صبر سے کام لیں گے اور نماز کو قائم کریں گے تو اپنا مقصد کامیابی کے ساتھ حاصل کرلیں گے اور ظاہر ہے کہ یہی کچھ ہوا جس کا نبی اعظم وآخر ﷺ کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا اور اب بھی مسلمانوں کی کامیابی کا راز یہی ہے جو زیر نظر آیت میں بتایا گیا ہے لیکن افسوس کہ مسلمان پہلے تو نماز کو بھول ہی چکے ہیں اور ان کو کثیر تعداد نماز کے قریب ہی نہیں جاتی اور جو لوگ اس کو ادا کرتے ہیں وہ بھی اسلام کی نماز نہیں بلکہ گروہ بندی کی نماز ادا کرتے ہیں اور اسلام کی نماز میں روح ہے اور گروہ بندی کی نماز میں روح نہیں جس کا واضح اور صاف مطلب یہ ہے کہ وہ مردہ ہے اور اوپر آپ پڑھ چکے ہیں کہ اسلام کی نظر میں گروہ بندی بھی شرک ہے اس لئے ضروری تھا کہ گروہ بندی کی نماز مردہ ہوتی اور وہی ہوا جو ہونا چاہئے تھا ، جس نماز میں روح تھی وہ جب تک پڑھی جاتی رہی یقینا اس کا نتیجہ بھی وہی نکلتا رہا جو نکلنا چاہئے تھا ، اللہ کرے کہ مسلمان اسلام کی زندہ وجاوید نماز ادا کرسکیں جس کا نتیجہ دین و دنیا کی کامیابی قرار دیا گیا ہے ۔
Ayah 20:131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور یہ جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیوی زندگی کی آزمائشیں دے رکھی ہیں اور وہ ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تو تیری نگاہیں اس پر نہ جمیں ، یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالا ہے اور جو کچھ تیرے پروردگار کی بخشی ہوئی روزی ہے وہی بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے

جن لوگوں کو ان کے کفر کے باوجود آسائشیں میسر ہیں آپ ﷺ ان کی طرف دھیان ہی نہ دیں : 131۔ زیر نظر آیت میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو دنیا داروں کی طرف سے بالکل مستغنی ہونے کی ہدایت فرمائی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف دھیان ہی نہ دیں جو اس دنیا کی فراوانیاں حاصل کرنے میں مصروف ہیں اور آخرت سے بالکل بےفکر ہوگئے ہیں۔ ان کے یہ بڑے بڑے محلات ‘ کو ٹھیاں اور ساری ٹھاٹھ باٹھ بالکل عارضی چیزیں ہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ نہ یہ لوگ ہوں گے اور نہ ہی ان کی فراوانیاں اور آسائش و آرام یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ یہی طبقہ ہے جو کسی قوم کے بناؤ اور بگاڑ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے ، ان کے بگڑنے سے پوری قوم بگڑتی ہے اور ان کے سنورنے سے پوری قوم کی قوم سنور جاتی ہے اس لئے جتنے انبیاء کرام اور رسل عظام بھیجے گئے انہوں نے آتے ہی سب سے پہلے قوم کے سرداروں ‘ راہمناؤں ‘ پیشواؤں اور امراء واغنیاء کو مخاطب کیا جس کی ایک وجہ تو یہ تھی جو اوپر بیان ہوئی کہ ان کا بگاڑ پوری قوم کا بگاڑ ہوتا ہے اور ان کی اصلاح پوری قوم کی اصلاح ہوتی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ عوام چونکہ پہلے ہی ان لوگوں کے حاشیہ بردار ہوچکے ہوتے ہیں جب انکو مخاطب کیا جاتا ہے تو ان کے حاشیہ بردار خوب کان لگا کر سنتے ہیں خواہ وہ خود سننے کے لئے تیار نہ ہوں اور پھر ان میں سے کچھ لوگ ضرور ایسے ہوتے ہیں جو داعی کی بات سننے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں کیونکہ داعی حقیقت کو کھول کر بیان کرتا ہے اور یہ غریب لوگ ان کے ساتھ رہ رہ کر ان کی ساری حرکات و سکنات سے واقف ہوچکے ہوتے ہیں داعی الی الحق کی آواز پر لبیک کہتے ہیں تو انکا یہ کہنا ان کے دلوں کی گہرائی سے ہوتا ہے اور اس طرح وہ حق کے لئے سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں نبی کریم ﷺ نے بھی پہلے ان ہی لوگوں کو مخاطب کیا لیکن انہوں نے بھی بالکل وہی کیا جو پہلی امتوں کے یہ طبقے کرتے آرہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے نبی اعظم وآخر ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے جن کو ” ہم نے مختلف قسم کی دنیوی زندگی کی آسانیاں ‘ آسائشیں اور آرائشیں دے رکھی ہیں اور وہ ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تو آپ ﷺ کی نگاہیں ان پر نہ جمیں یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ ہم نے انہیں آزمائش میں ڈال رکھا ہے ۔ “ ہمیں معلوم ہے کہ مخالفیں اسلام نے زیر نظر آیت سے جو تاثر دینے کی کوشش کی ہے لیکن ان حقیقت ناشناسوں کو یہ معلوم نہیں کہ اس نبی رحمت ﷺ کو اگر مال و دولت کی حرص ہوتی تو اس کو ایک طرح کے نہیں بیسیوں طرح کے مواقع ہاتھ آئے تھے لیکن اس اللہ کے بندہ نے ایک موقع سے بھی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کی ، عرب جیسے ملک میں ایسے انسان کو جس کو تجارت کا بہترین تجربہ اور ملک حاصل ہو جب اس کو لاکھوں روپے اس کی بیوی سے مل گئے تو وہ اس دولت سے تجارت کرکے کروڑوں بنا سکتا تھا لیکن اس نے ازدواجی زندگی حاصل کرلینے کے باوجود اس طرف ذرا خیال نہ کیا اور بعد ازیں ایک سے زیادہ بار رؤساء مکہ نے کوشش کی کہ وہ مال و دولت کے ڈھیر پیش کرنے کے لئے تیار ہیں آپ اپنے باپ دادا کے دین سے لوگوں کو باز رکھنے کی کوشش نہ کریں اور ہمارے ساتھ آجائیں ہم آپ کو اپنا سردار ماننے کے لئے تیار ہیں جبکہ آپ کو الامین ‘ الصادق کے القابات سے ہم پہلے یاد کرتے ہیں جب ان کی دولت اور عہدوں پر آپ کا دل نہ للچایا تو اب ان میں ہی روساء وامرا کی دولت پر آپ کا دل کیونکر جم جاتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ ان کو اپنے خاندان کے جانے پہچانے اور سمجھ دار لوگ سمجھ کر توجہ دیت تھے کہ کسی نہ کسی طرح یہ لوگ ایمان لے آئیں اور اپنی آخرت کو سنوار لیں یعنی دنیا تو ان کو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بہت دے رکھی ہے ان کی آخرت کی زندگی بھی اصلاح پذیر ہوجائے تو آخرت میں نگاہ خداوندی میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جائیں لیکن جب انہوں نے مخالفت پر کمر باندھ لی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آیا کہ اب ان کی طرف آپ دھیان نہ دیں ان کو جو مال ومتاع ہم نے دے رکھا ہے یہ محض ان کی آزمائش کے لئے ہے اور اس مال ومنال کی یہ چمک دمک چند روزہ ہے اس کا اگر کوئی نفع ہے تو یہ کہ اس سے وہ کچھ آخر کے لئے کمائی کرلیں اگر وہ یہ کرنے کے لئے تیار نہیں تو ہم مجبور کرکے کسی کو آخرت نہیں دیتے اور نہ ہی ہمارا یہ قانون ہے ۔ جس طرح ہم بعض انسانوں کو مال و دولت اور باغات وکھیت اور ان کے پھل اور انسانی جانیں واپس لے کر آزماتے ہیں اسی طرح ان ساری چیزوں کی بہتات وفراوانی سے بھی آزماتے ہیں ان کے حق میں یہ مال و دولت اور دنیا کی ریل پیل بطور آزمائش ہم نے رکھی ہے اور یہ چار دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات کا مصداق ہیں ۔ فرمایا ” جو کچھ تیرے پروردگار کی بخشی ہوئی روزی ہے وہی بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے ۔ “ ظاہر ہے کہ جن کو یہ رزق اور مال و دولت کی فراوانیاں دی گئی ہیں جب یہ چند روزہ اور فانی ہیں تو اس کے مقابلہ میں جو کچھ اللہ نے آپ کو دے رکھا ہے وہ بہت بہتر ہے کہ اس سے آپ اور آپ کے ساتھی مستفید بھی ہو رہی ہیں اور پھر صرف اسی دنیا میں نہیں بلکہ اپنی اخروی دنیا کے لئے بھی ذخیرہ کر رہے ہیں یہی وہ آب حیات ہے جس سے نیکی کا پودا پروان چڑھے گا اور حق کا بول بالا ہوگا ۔ ان لوگوں کا انحصار اس دولت پر ہے اور آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی ذات لازوال پر انحصار کرتے ہوئے اس پودے کی اسی آب حیات سے نالائی کرتے رہیں جب یہ بار آور ہوگا تو اس کے لازوال پر انحصار کرتے ہوئے اس پودے کی اسی آب حیات سے نالائی کرتے رہیں جب یہ بار آور ہوگا تو اس کے لازوال پھلوں کو جو کھائے گا وہ بھی ابدی زندگی کی خوشحالیاں حاصل کرتا رہے گا ۔
Ayah 20:132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کا حکم دے اور اس پر مضبوطی کے ساتھ جم جا ، ہم تجھ سے روزی کا سوال نہیں رکھتے تو ہم سے سائل ہے ، ہم بخشنے والے ہیں اور انجام کار تقویٰ ہی کے لیے ہے

تفسیر : اپنے اہل کو نماز کا حکم دے اور روزی کی ذمہ داری ہم پر ہے : 132۔ (وامر اھلک بالصلوۃ) اپنے اہل یعنی گھر والوں اور ماننے والوں کو بھی نماز کا حکم دے ۔ اہل سے مراد بلاشبہ اہل و عیال ہوتے ہیں لیکن فقط اہل و عیال نہیں بلکہ اہل کا مفہوم عربی زبان میں بہت وسیع معنی رکھتا ہے اور وہی سے یہ لفظ ہماری زبان میں بھی آیا ہے اور یہاں بھی اس کے معنوں کی وسعت بدستور قائم ہے ، مثلا اہل اللہ ‘ اہل بستی اہل خیر ‘ اہل کتاب ‘ اہل انجیل ‘ اہل توراۃ ‘ اہل محلہ ‘ اہل قریہ ‘ اہل شہر ‘ اہل حدیث اور اہل بیت وغیرہ لیکن اس آخری جملہ کو معلوم نہیں کیا سمجھ لیا گیا اور پھر جو صحیح معنوں میں اہل بتت تھے ان کو گھر سے نکال کر ” اہل کسا “ کو اہل بیت بنا دیا گیا اور پھر اس سازش نے اسلام کے اندر وہ وہ رخنہ اندازیاں پیدا کرنے کی کوشش کی اور اس طرح منافقت سے کام لیا گیا کہ جس کے اثرات آج تک اہل اسلام پر بدستور پائے جاتے ہیں ، بہرحال اس جگہ (اھلک) کے لفظ سے مراد ہر وہ شخص ہے کو اہ وہ مرد ہو یا عورت جو آپ ﷺ کی تحریک سے وابستہ ہوچکا تھا اور آپ ﷺ پر ایمان لا چکا تھا پھر جوں جوں اسلام کا دائرہ وسیع ہوتا گیا تو اس لفظ (اھلک) کا دائرہ بھی اتنا ہی وسیع ہوتا گیا اور اس طرح تمام اہل اسلام ہی اس سے مراد ہیں اور آپ ﷺ نے سب ہی کو ایک جیسا حکم دیا ہے اور کوئی بھی اس حکم سے مستثنی نہیں فقط وہ لوگ جو نماز کے قریب نہیں جانا چاہتے اور فقط انگوٹھوں کو چومنے ‘ یا علی اور یا حسین کہہ لینے کو دین وملت کے لئے کافی سمجھتے ہیں وہی اس (اھلک) کے دائرہ کو کم کرکے چند افراد تک محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہرحال فرمایا کہ نماز کو قائم کرو اور اپنے لوگوں کو بھی اس کا حکم دو اور دیتے ہی رہو باقی رہا رزق کا معاملہ تو اس کے متعلق بالکل مطمئن رہو کہ وہ ہمارے ہاتھ میں ہے تمہارا کام فقط کام ‘ کام اور کام کرنا ہے وہ دیانتداری سے کرتے رہو اور اپنے لوگوں کو بھی حکم دو کہ وہ بھی کریں اور وہ کام کیا ہے ؟ فرمایا نماز کا قائم کرنا اور نماز کا قائم کرنا کیا ہے ؟ یہی کہ جس کا نماز تم کو حکم دے وہ کرو اور جس سے تم کو نماز روکے اس سے رک جاؤ گویا ارکان نماز کے ادا کرنے کے ساتھ ساتھ قیام نماز بھی ضروری ہے اس لئے قرآن کریم نے ہمیشہ قیام صلوۃ یعنی نماز ہی کا حکم دیا ہے فقط نماز پڑھنے کا نہیں ۔ کیونکہ زندہ نماز وہی ہے جس سے قیام نماز ہو جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ، فرمایا یہ جو تم کو نماز قائم کرنے کا حکم دیا جارہا ہے تم یہ کرو اور لوگوں کو کرنے کا حکم دو روزی ہمارے ہاتھ میں ہے وہ تم تقسیم کرتے ہیں اور تمہارے اندر بھی کریں گے ۔ اس میں یہ بات تفہیم کرائی جا رہی ہے کہ اسلامی معاشرہ کے افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ محنت ولگن اور دیانتداری سے کام تو کرتے رہیں لیکن روزی اس کام کے اندر مت سمجھیں بلکہ اس کو اللہ کے ہاں جانیں وہ جتنی چاہے گا بہم پہنچائے گا اس کی مثال ایک کاشتکار کے مال سے سمجھی جاسکتی ہے کہ کاشتکار کے ذمہ جو کام ہیں وہ پوری دیانتداری کے ساتھ کرے وہ ہے زمین میں ہل چلانا ‘ حالات کے مطابق بروقت زمین کو ہموار اور درست کرکے بیچ ڈالنا ‘ اس کو وقت پر کھاد اور پانی پہنچانا اور اس کی رکھوالی کرنا بس یہ کام اگر وہ بروقت اور دیانتداری سے کرتا ہے اور باقی معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہے کیوں ؟ اس لئے باقی کاموں پر اس کو اختیار حاصل نہیں اور وہیں سے اللہ تعالیٰ جتنی چاہتا ہے اس کو روزی فراہم کردیتا ہے یہی حال ہر معاملہ میں ہونا چاہئے کہ جو انسان کے اختیار میں ہے وہ سارے کام دیانتداری سے کرے اور روزی کا مالک اس کو سمجھے ، فرمایا اگر یہ بات ہے تو ہم پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ (آیت) ” نحن نرزقک “۔ آپ کی روزی دینے والے ہم ہیں اور آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) ” والعاقبۃ للتقوی “۔ کہ انجام کار پرہیزگاروں ہی کے لئے ہے گویا اصل کامیابی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور وہ اس کے حصہ میں آئے گی جو تقوی سے کام لے گا ۔ اس جگہ شاید کسی ظاہر پرست کو یہ خیال پیدا ہو کہ نماز بھلا آدمی کے رزق کی ضامن کیسے ہو سکتی ہے ؟ تو ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ جو نمازیں ادا کرتے ہیں اگر وہ بھوکوں نہیں مر رہے تو یقینا نماز ان کے رزق میں حائل نہیں باقی رہی نماز سے رزق کی ضمانت تو یہ ضمانت نماز نہیں دے رہی بلکہ وہ دے رہا ہے جس نے نماز کا حکم دیا ہے اور روزی کی ذمہ داری اپنے اوپر لی ہے آپ کی تفہیم صحیح نہیں ہوئی اس لئے اس کو صحیح کریں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو چیز بیا یہاں سمجھ میں نہ آئے اس لئے کہ ان کے سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی جائے ان کے سمجھنے کے لئے ایک وقت مقرر ہے وہ یقینا سمجھ میں آئیں گی اگرچہ اس وقت سمجھ میں آجانے سے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوگا ۔ بلاشبہ یہ معاشرہ اسلامی معاشرہ ہے اور نہ ہی اس میں نماز کو قائم کرنے والے نمازی کہیں نظر آتے ہیں الا ماشاء اللہ تاہم نمازیں ادا کرنے والوں کو روزی مل رہی ہے اور کوئی آدمی یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ فلاں آدمی نماز میں اتنا وقت ضائع کرتا ہے اس لئے اس کے رزق میں کمی ہے اور اس کے مقابلہ میں فلاں چونکہ نماز نہیں پڑھتا اس لئے اس کے رزق میں اس کے مقابلہ میں اتنا اضافہ ہورہا ہے ، اور مزید غور کریں تو آپ کو اس طرح بھی معلوم ہوگا کہ حرام کھانے کے لئے زیادہ میسر آئے اور اس کے مقابلہ میں حلال کم میسر آجائے تو اس میں کیا فائدہ ہے ؟ ظاہر ہے کہ جس کو صرف کھانے سے غرض ہے اور حلال و حرام کی اس کے ہاں کوئی تمیز نہیں رہی وہی ایسی بات کہہ سکتا ہے یا کرسکتا ہے ۔