20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 20:124

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

جو کوئی میری یاد سے روگرداں ہوگا تو اس کی زندگی ضیق میں گزرے گی اور قیامت کے دن بھی اسے اندھے اٹھاؤں گا

جس نے قرآن سے رخ پھیرا اسکی معیشت تنگ ہونے اور قیامت میں اندھا ہونے کی پیشگوئی : 124۔ زیر نظر آیت نے جو وضاحت پیش کی ہے اس کو ذرا غوروفکر سے سمجھنا چاہئے گزشتہ آیت میں ارشاد فرمایا تھا کہ جو شخص ہدایت وحی پر چلے گا تو کامیابی کی راہ سے بےراہ ہوگا ‘ نہ دکھی ۔ جس سے معلوم ہوا کہ یہ ہدایت اس لئے ہے کہ انسان کو بےراہی اور اس کے لازمی نتیجہ سے محفوظ کر دے اور ، ذرا غور کرو کہ انسان کی ساری محرومیوں کی تصویر کس طرح صرف دو لفظوں میں کھینچ کر رکھ دی ہے ؟ ضلالت اور شقاوت کی انسان کو جتنی ٹھوکریں بھی لگتی ہیں ‘ بےراہ ہوجانے سے لگتی ہیں ‘ ہر گوشہ میں کامیابی وسعادت کی ایک مقررہ راہ ہے جونہی اس سے قوم بےراہ ہوئی شقاوت میں گر گئی ، اب زیر نظر آیت میں فرمایا گیا کہ جس نے ہمارے سے اعراض کیا تو اسے دو حالتیں پیش آئیں گی دنیا میں اس کی زندگی ضیق میں پڑجائے گی یعنی وہ بظاہر کتنا ہی نہال ہوجائے لیکن دل کی طمانیت اور روح کا انبساط اسے کبھی نہیں ملے گا اور وہ آخرت میں بینائی سے محروم کردیا جائے گا ۔ سعید انسانوں کی راہیں روشن ہوں گی اس کے آگے پردہ پڑا ہوگا جیسا کہ ارشاد الہی ہے ۔ (آیت) ” کلا انھم عن ربھم یومئذ لمحجوبون “۔ (83 : 15) رہی یہ بات کہ وہ اندھا کیوں ہوگا ؟ اس لئے کہ آخرت کی زندگی دنومی زندگی کا نتیجہ ہے اس نے دنیا میں قدرت کی نشانیوں سے آنکھیں بند کرلی تھیں اس لئے آخرت میں بھی اس کی آنکھیں بند ہی رہیں گی (من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی واضل سبیلا) (17 : 72) معلوم ہوگیا کہ قرآن کریم کے نزدیک ثواب آخرت کی حقیقت یہ ہے کہ نگائیں جمال الہی کے نظارہ سے شاد کام ہوں گی اور عذاب کی حقیقت یہ ہے کہ اندھی ہو کر محجوب ہوجائیں گی اور اس کی مزیدتشریح پیش خدمت ہے ۔ اب ذرا مزید غور کرو اور دیکھو کہ جن لوگوں کے پاس دنیا کا مال و دولت اتنا ہے کہ شاید ان کو خود بھی معلوم نہ ہو اور مختلف بینک بیلنس دیکھ کر ہی وہ بتا سکیں کہ اس کی تعداد کیا ہے اور پھر جن لوگوں کے ہاں زمینیں اتنی ہیں کہ وہ فخر سے کہتے ہیں کہ ہماری زمین میں 8 گھنٹے ریل چلتی ہے تب بھی وہ ختم نہیں ہو پاتی اس طرح بڑی بڑی فیکڑیوں ‘ ملوں کارخانوں اور اقتدار کے مالکوں پر نگاہ ڈالو اور دیکھو کہ کہیں اطمینان و طمانیت کا نشان بھی نظر آتا ہے ؟ آپ یقینا یہ کہیں گے کہ نہیں اور فی الواقعہ نہیں ۔ اور پھر اس لفظ پر غور کرو جو قرآن کریم نے بیان کیا فرمایا (معیشۃ ضنکا) ان کی زندگی تنگ ہوگی ، ہمارے بعض مفسرین نے اس کے معنی سمجھ لئے کہ ان کو روٹی کم ملے گی حالانکہ زندگی تنگ ہونے اور روٹی کم ملنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے روٹی کم ملنے کو سب جانتے ہیں جو اس جگہ بالکل مراد نہیں اور زندگی تنگ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ایک آدمی کے پاس بیسیوں قسم کے مشروبات پڑے ہیں اور سو قسم کے کھانے ہیں لیکن قدرت الہی نے اس کے لئے صرف سوکھا پھلکا اور شوربا جائز رکھا ہے باقی سب حرام کردیئے ہیں ۔ اور وہ خالی پانی کے دو گھونٹ پی سکتا ہے وہ بھی ابلا ہوا اور گرم ، اس کے پاس ملبوسات کی کوئی کمی نہیں لیکن ان کو پہننے اور اتارنے سے وہ تنگ ہے ۔ کار اور ہوائی جہاز اس کو میسر ہے لیکن اس کے باوجود دن رات وہ سفر کی صعوبت میں مبتلا ہے ، فارغ البال نظر آتا ہے لیکن وقت کی اتنی قلت ہے کہ اپنے بچوں تک کی خبر معلوم کرنے اور ان کو دیکھنے کا وقت نہیں ، بینک میں کروڑوں روپے موجود ہیں لیکن قرض داروں کی فہرست میں اس کا نام اول نہیں تو تیسرے ‘ چوتھے نمبر پر ضرور ہے ۔ آرام و سکون نام کی کوئی شے اسے میسر نہیں ، بیٹھتا ہے تو نیچے ٹیوب ہے ‘ سوتا ہے تو پہرہ دار سرھانے کھڑے کرکے ‘ چلتا ہے تو پاؤں گارڈوں کی ایک صف میں ‘ کھاتا ہے پرہیز گار کا کھانا اور ادویات سابقے اور لاحقے کے طور پر استعمال میں ہیں ‘ پیشاب یا پاخانہ کے لئے جاتا ہے تو بغیر سہارے نہیں جاسکتا غور کرو کہ یہ زندگی تنگ نہیں تو اور کیا ہے ؟ ذہنی پریشانیاں جو ان لوگوں کو لاحق ہیں وہ گننے میں نہیں آسکتیں ، قبروں ‘ مزاروں پر اور پیروں کے آستانوں پر یہ دھکے کھاتے پھرتے ہیں اٹھتے ہی ڈاکٹر سے واسطہ ہے اور لیٹنے سے پہلے چیک اپ لازم ہے کیا یہ خوشحال زندگی ہے ۔ اس دھرتی میں جتنی تنگ زندگی آج ان خوش حال اور سونے کے چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والوں کی ہے شاید کسی گداگر اور فٹ پاتھ پر سونے والے کی بھی نہ ہو جو ان چیتھڑوں میں بےفکری کی نیند سوتا ہے اور اپنی مرضی سے جاگتا ہے اور روکھی سوکھی کھا کر ٹوٹی سے پانی پی لیتا ہے حاجت ہے تو آرام کے ساتھ کسی کھیت میں بیٹھ لیتا ہے ۔ رہے وہ لوگ جن کو اندھا کرکے اٹھایا جائے گا جس کے متعلق ارشاد فرمایا (آیت) ” نحشرہ یوم القیمۃ اعمی “۔ کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اعرض کرنے والوں کو اندھا کر کے اٹھایا جائے گا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اللہ نے انکو آنکھیں دیں لیکن انہوں نے کبھی دیکھنے کی زحمت گوار ہی نہ کی ‘ اللہ نے انکو کان دیئے لیکن انہوں نے حق کو سننے سے ان کو ہمیشہ بند رکھا ‘ اللہ نے ان کو دل دیئے لیکن انہوں نے کبھی سوچنے کی کوشش ہی نہ کی اور وہ اس دنیا میں حق کی طرف سے اندھے ‘ بہرے اور گونگے ہی رہے اور حق سے نفرت ان کا شیوہ رہا اب تم خود ہی فیصلہ کرلو کہ ایسے آدمی کی سزا کیا ہونا چاہئے تھی ، ابھی اس کو شکایت ہے کہ اے پروردگار میں اندھا کر کے کیوں اٹھایا گیا ؟ لہذا اس کے اس سوال اور جواب کا ذکر آگے آ رہا ہے ۔
Ayah 20:125

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

(قیامت کے روز) وہ کہے گا پروردگار ! تُو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا ؟ میں تو اچھا خاصا دیکھنے والا تھا

وہ کہے گا اے میرے رب ! مجھے اندھا کیوں اٹھایا گیا میں اچھا بھلا دیکھنے والا تھا : 125۔ بارگاہ رب ذوالجلال والاکرام میں وہ اندھا بنا کر اٹھایا جانے والا خود عرض کرے گا کہ اے میرے پروردگار مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا گیا ؟ میں تو اچھا بھلا دیکھنے والا اور آنکھیں رکھنے والا تھا ، گویا اس نے اب بھی اپنی حالت پر غور وفکر کرنے کی کوشش نہیں کی کہ میرا انجام ایسا کیوں ہوا لیکن ایک سوال اس جگہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جگہ تو اندھا کر کے اٹھائے جانے کا ذکر ہے اور یہ وہی ہے جو نافرمان تھا اور آنکھیں رکھنے کے باوجود حق کو دیکھنے کے لئے تیار نہیں تھا لیکن دوسری جگہ قرآن کریم نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ (آیت) ” لقد کنت فی غفلۃ من ھذا فکشفنا عنک غطآئک فبصرک الیوم حدید “۔ (ق 50 : 22) ” کہ یہ وہ چیز ہے جس کی طرف سے تو غفلت میں تھا ہم نے وہ پردہ ہٹا دیا جو تیرے آگے پڑا ہوا تھا اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے ۔ “ کیا ان دونوں باتوں میں تضاد نہیں ہے ؟ اگر نہیں تو کیسے ؟ ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں اس لئے نہیں کہ اندھا کرکے اٹھائے جانے والے کو جو شکایت ہے وہ دراصل بنیائی کے نہ ہونے کی نہیں اور نہ ہی اس اندھے پن سے بینائی کا نہ ہونا مراد ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ میری سزا وہ کیوں ٹھہری جو اندھوں کے لئے مقرر کی گئی تھی حالانکہ میں تو اچھا بھلا دیکھنے والا تھا ، اور ظاہر ہے کہ جو اندھوں کے لئے سزا مقرر ہے وہ ان اندھوں کے لئے تو نہیں جن کی آنکھیں اللہ نے دنیا میں لے لی تھیں بلکہ وہی تھے جو آنکھیں رکھنے کے باوجود اندھے بنے رہے تھے اور یہ سوال کرنے والا اب بھی یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ دراصل دنیا میں اندھا ہو کر رہ گیا تھا بلکہ وہ اب بھی دنیا میں اپنے آپ کو صاحب بصیرت ہی سمجھ رہا ہے گویا یہ وہ چوہدری ہے جو ابھی تک اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ دنیا میں میں نے جو کچھ کیا وہ صاحب بصیرت ہو کر کیا اور میرا کیا غلط نہیں تھا اب جب اس کو بات سمجھائی گئی اور اس کی سزا میں کوئی کمی نہ ہوئی تو اس کی سمجھ میں بات آئی کہ میں تو اندھا ہی رہا اور آنکھوں سے کام میں نے مطلق نہیں لیا اور اگر اس کی نظر تیز نہ کردی گئی ہوتی تو شاہد اس کی سمجھ میں اب بھی نہ آتا کہ دنیا میں میں نے چونکہ بصیرت سے کام نہ لیا اور جس کو میں بصیرت سمجھتا رہا وہ بصیرت نہیں تھی بلکہ میرے آباء واجدادا کا رواج تھا اور اس رواج کی پابندی کو میں نے بصیرت سمجھ رکھا تھا :
Ayah 20:126

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

ارشاد ہوگا ہاں ! اس طرح ہونا تھا ، ہماری نشانیاں تیرے سامنے آئیں مگر تو نے انہیں بھلا دیا سو اس طرح آج تو بھلا دیا گیا ہے

ایسا ہی ہونا تھا کیونکہ تو نے ہماری نشانیوں سے اعراض کیا تھا اور رواج کا پابند رہا تھا : 126۔ اس اندھے پن کی سزا اٹھانے والے سے کہا جارہا ہے کہ دیکھ تیری یہ سزا وہی سزا ہے جو ایک آنکھیں رکھنے کے باوجود نہ دیکھنے کی مقرر کی گئی ہے اور بلاشبہ ہم نے تجھے آنکھیں عطا کی تھیں لیکن تو نے ان سے کام کب لیا بلکہ تو نے ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے اپنے آباء و اجداد کے رسم و رواج کی پابندی کی اور اس کی تلقین کرتا رہا تو نے ان آنکھوں سے وہ کام ہی کب لیا جس کے لئے یہ تجھے دی گئی تھیں ؟ تو آنکھوں والا وہی تو ہے جس کو میں نے اپنی نشانیاں دیں مگر تو نے انہیں دیکھ کر منہ چڑھا دیا اور صاف صاف کہا کہ جو کچھ آج تک ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں وہی صحیح اور سچ ہے چونکہ دنیا میں تو نے ہماری نشانیوں کو بھلا دیا اور ان کی طرف توجہ نہ کی اور آج ہم نے بھی تجھے بھلا دیا اور تیری طرف ہماری ہرگز توجہ نہیں ہوگی اور ہماری طرف سے تو بھلا دیا گیا ، بات کس قدر واضح ہوگئی کہ اس اندھے پن کی شکایت کرنے والے کو جو شکایت تھی اور نہ دیکھنے کے نہیں تھی بلکہ عقل کے اندھوں کی جو سزا مقرر ہے جب اس کو بھی وہ سزا ملی تو اس کو تعجب ہوا کہ میرے پروردگار میں تو فلاں جگہ کا چوہدری ہوں اور لوگوں کے فیصلے کرتا رہا ہوں اور ان کو پڑ کر سناتا رہا ہوں اور آج میں ان لوگوں کے ساتھ عقل وفکر کے اندھوں کی سزا کا کیوں شکار ہوں ؟ اور جب وہ اٹھا کر اس کو دکھا دیا گیا تو تو اس طرح عقل وفکر کا اندھا تھا جس طرح کہ یہ تیرے ساتھی تھے جن کی سزا میں تو بھی شریک ہے اس لئے تیری یہ بات فی نفسہ صحیح نہیں بلکہ سو فی صد غلط ہے کہ تو بصارت رکھتا تھا اور اب تو اس سے محروم ہوا ‘ ہرگز نہیں تو اس طرح اس وقت بھی محروم تھا جیسا کہ اس وقت محروم ہے بلکہ تعجب تو تیری ذات پر ہونا چاہئے کہ تو نے آنکھیں رکھنے کے باوجود ان سے دنیا میں کام نہ لیا اور اب بھی تو ان سے کام لینے کے لئے تیار نہیں اور ہم پر اعتراض کرنے کے لئے بڑا شیر ہے کہ ہم نے تیرا حشر اندھوں کے ساتھ کردیا ہے حالانکہ تو اچھا بھلا صاحب بصیرت اور صاحب نظر انسان تھا اب تو عقل کے ناخن لے اور سچ کو سچ مان لے کہ فی الواقعہ قصور تیرا ہے جس کی پاداش میں تیرا یہ حشر ہوا ہے ۔
Ayah 20:127

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اور جو کوئی بڑھ نکلتا ہے اور اپنے پروردگار کی نشانیوں پر یقین نہیں کرتا تو اس طرح ہم اسے بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب تو بہت زیادہ سخت ہے ، بہت دیر تک رہنے والا ہے

تفسیر : پروردگار عالم کی نشانیوں سے اعراض کرنے والوں کی یہی سزا مقرر ہے : 127۔ جو حدود الہی سے تجاوز کرنے والے ہیں اور اپنی قوتوں کا مصرف ناجائز طریقہ سے کرتے ہیں اور اس طرح ان کو تباہ وبرباد کرلیتے ہیں اور اپنی من مانیوں میں مصروف رہتے ہیں ہمارے حکم کی پروا نہیں کرتے ، جن چیزوں اور جن کاموں سے ہم نے منع کیا ہے ان کی ساری رغبت ان ہی کے کرنے میں ہے اور جن جن کاموں کے کرنے کا ہم حکم دیتے ہیں وہ وہی ہیں کہ ان کا جی ان کو دیکھنے کے لئے بھی تیار نہیں ‘ ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ اس کو ہماری نشانیوں پر مطلق یقین نہیں ہے اور جو ہماری نشانیوں پر یقین نہیں رکھتے اس کا بدلہ ہمارے ہاں یہی ہے کہ ہم دنیا میں بھی ان کو ذلیل ورسول کرتے ہیں اور آخرت میں بھی ان کے لئے بہت عذاب تیار کر رکھا ہے جو دیر تک ان پر مسلط رہے گا کیونکہ اس دنیوی زندگی کے عذاب کے خاتمے کا سبب اور کچھ نہ ہو تو موت تو بہرحال ہے لکنے آخرت کے عذاب سے مفر کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے کیونکہ اس کے بعد تو زندگی ہی زندگی ہے جلد ہی وہ وقت آنے والا ہے کہ موت کو موت آجائے گی اور اس طرح وہ ایک لمبی مدت تک عذاب میں پڑے رہیں گے اس لئے کسی نے کہا ہے کہ ۔ اب تو گھبر ا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے لیکن مر کر بھی چین نہ پایا تو پھر کدھر جائیں گے ۔
Ayah 20:128

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو اس بات سے بھی ہدایت نہ ملی کہ ان سے پہلے قوموں کے کتنے ہی دور گزر چکے ہیں جنہیں ہم ہلاک کرچکے ؟ یہ ان بستیوں میں چلتے پھرتے ہیں ، جو لوگ دانش مند ہیں ان کے لیے اس ایک بات میں کتنی ہی نشانیاں ہیں

کیا ان لوگوں نے گزشتہ امتوں سے اتنا بھی سبق حاصل نہ کیا : 128۔ اظہار تعجب کے طور پر کہا جارہا ہے کہ یہ لوگ عجیب ہیں کہ ان کے سامنے کتنی قوموں کا ذکر کیا گیا نوح (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) تک کتنے ہی نبی ورسول آئے جن کے تذکرے ان کے سامنے پیش کئے گئے اور ان میں کتنی جماعتیں تھیں جن کے گھروں کے کھنڈرات سے یہ لوگ گزرتے ہیں اور ان علاقوں کی بربادی یہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور ان کے دل کس چیز کے ہیں کہ ان پر ذرا اثر نہیں ہوتا کہ کبھی وہ لوگ بھی اسی طرح اپنے علاقوں میں رہتے اور بستے تھے اور ان کے پاس ساری آرام و آسائش کی چیزیں موجود تھیں ، جس طرح یہ لوگ عمارتوں اور مکانوں کی تعمیر میں مصروف ہیں کبھی وہ بھی تھے اگر ان کے مکانوں اور عمارتوں کو آج یہ کھنڈرات کی صورتوں میں دیکھ رہے ہیں تو کل ان کی تعمیرات بھی کھنڈرات ہو کر رہ جائیں گی اور جس طرح ان لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے باعث تہس نہس کیا گا ان کو بھی کردیا جائے گا کیونکہ یہ لوگ بھی اسی طرح کی بداعتدالیاں کر رہے ہیں جیسے انہوں نے کی تھیں ۔ پہلی قوموں کی یہ حالت دیکھ کر ان کے قصص جو قرآن کریم میں ان کو سنائے جا رہے ہیں پڑھ اور سن کر چاہئے تو تھا کہ یہ لوگ اس طرح کی بداعتدالیوں سے باز آجاتے اور اس طرح کے کام نہ کرتے بلکہ اپنی دنیا کو اس طرح سنوارتے کہ ان کی آخرت بھی ساتھ ساتھ سنورتی چلی جاتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی حالت پر غور وفکر وہی لوگ کرسکتے ہیں جو صحیح معنوں میں دانش مند ہیں اور رہے وہ لوگ جن کے دل و دماغ میں کبھی گزشتہ قوموں اور جماعتوں اور ان کی داستانوں کا خیال تک نہیں آیا یا اگر آیا ہے تو انہوں نے سمجھا ہے کہ بس اسی طرح ہوتا آیا ہے اور اسی طرح ہوتا جائے گا لہذا تم اپنا الو سیدھا کرتے رہو جب تک کرسکتے ہو تو ایسے لوگ ہی ہیں جن کو قرآن کریم کی زبان میں جاہل ‘ اکھڑ اور الو الخصام کے ناموں سے یاد کیا گیا ہے اور وہ اپنے آپ کو خواہ بڑے دانش مند اور صاحب عقل وفکر ہی سمجھتے ہوں ، آج ہم کیا کر رہے ہیں ؟ کیا ہم نے کبھی گزشتہ قوموں اور جماعتوں کے تذکار سے نصیحت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ؟ کیا آج ہم ان لوگوں کی بداعتدالیوں سے کہیں زیادہ آگے تو نہیں نکل گئے ؟ کیا آج ہم نے قرآن کریم پڑھتے وقت کبھی تقابل کرکے دیکھنے کی کوشش بھی کی ؟ کیا ہم جب گزشتہ قوموں کے فرعونوں قارونوں کا نام لے کر بھی بتایا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کا نام لینا ہمارے لئے آسان ہے کہ ہماری کوئی غرض ان سے وابستہ نہیں اور اپنے زمانہ کے ان سارے لوگوں سے ہماری اغراض وابستہ ہیں اور یہ بھی کہ ان لوگوں کی جن لوگوں نے نشاندہی کی اور ان کو ہدایت دینے کی کوشش کی اور پیغام الہی پہنچایا ہم کو معلوم ہے کہ انہوں نے ان پیغام پہنچانے والوں کے ساتھ کیا کیا آج اگر ہم ان کا نام لیں اور ان کو پیغام الہی پہنچانے کی کوشش کریں گے تو یہ ان سے زیادہ بڑھے ہوئے ہیں لہذا ہمیں تکالیف پہنچانے اور مخالفت کرنے میں ان سے بھی زیادہ تیز ہوں گے اس لئے ہماری خیر اسی میں ہے کہ ہم ان کو سلام کریں اور ان کو بڑے القابات وخطابات سے نوازیں ، دور کیوں جاتے ہو آج جس تفسیر کو آپ پڑھ رہے ہیں اور اس کو دیکھ کر آج کے مولانا اور علامہ حضرات یہ کہیں گے کہ یہ قرآن کریم کی تفسیر ہے یا نرے ہی بکواس ہیں ‘ بھلا قرآن کریم میں ہمارے ان لوگوں کا کہیں ذکر آیا ہے جو یہ کررہا ہے ۔ گویا قرآن کریم صرف انہی لوگوں کا ذکر کرتا ہے جو اس کے زمانہ میں تھے یا اس سے پہلے ہو گزرے موجودہ یا آنے والے لوگوں کا ذکر اس میں کیوں ؟ اور یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ قرآن کریم نے کسی زمانہ میں لوگوں کے نام محض اس لئے پیش نہیں کئے کہ لوگ اس غلطی میں مبتلا نہ ہوں اور آنے والے زمانوں میں ان صفات کے لوگ جب ہوں گے تو قرآن کریم کی ابدی تعلیم ان سب کو اسی طرح مخاطب کرے گی جیسے آج سے پندرہ سو سال پہلے اس نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو اس کے زمانہ کے لوگ تھے ، اس لئے کہ قرآن کریم ہر دور کے لوگوں کے لئے ہے اور وہ رہتی دنیا تک کے لوگوں کو اسی طرح مخاطب کرتا رہے گا جیسا کہ اس نے خود محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ان لوگوں کو مخاطب کیا تھا ، اور اس کی تعلیمات کے ابدی ہونے کا یہی مفہوم اور مطلب ہے ۔ ایک بار پھر غور کرو کہ قرآن کریم نے جب وہ نازل ہوا تو اپنے مخاطبین کے اسی طرح مخاطب کیا جس طرح نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو مخاطب کیا اور اسی طرح سارے انبیاء رسل کی دعوتوں کا یہی حال ہے اور اب اس وقت جو لوگ انہیں بداعتدالیوں میں مبتلا ہوں گے تو وہ ان کو بھی اسی طرح مخاطب کرتا ہے اور آنے والے کل میں جب ہم سب نہیں ہوں گے لیکن ہماری جگہ دوسرے لوگ آجائیں گے تو قرآن کریم ان کو بھی بالکل اسی طرح مخاطب کرے گا اور ان کے سامنے اپنی ہدایت کو پیش کرے گا گویا کہ ان کے لئے ابھی ابھی اترا ہے اور ان ہی لوگوں کو اس نے مخاطب کیا ہے اور یہی قرآن کریم کا سب سے بڑا اعجاز ہے لیکن افسوس کہ لوگوں اور خصوصا ہمارے علمائے کرام نے اس کو سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی اور وہ آخر یہ کوشش کرتے بھی کیوں جس کے لئے استروں کی مالا ان کو پہننا پڑتی اور لوہے کے چنے چبانے پڑتے وہ تو نوٹوں کے ہار اور حلوے کی پلیٹیوں کو چاہتے تھے اور وہ ان کو اسی طرح مل سکتی تھیں ، اس لئے انہوں نے میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو کردیا ، وہ جب قرآن کریم کھول کر بیٹھتے ہیں تو لوگوں کو مخاطب ہوتے ہی یہ جملہ حفظ کراتے ہیں لوگو ! ہمارے نبی کریم ﷺ نے علماء کرام کو انبیائے کرام (علیہم السلام) کا وارث قرار دیا ہے اس لئے علماء کرام کی خدمت اور عزت لازم ہے اور یاد رکھو کہ ” جو دین کے پیشیواؤں پر طعن کرے وہ سامری اور خارجی ہے ۔ “ (تفسیر عثمانی) کاش کہ وہ یہ بھی بتاتے کہ دین کے پیشوا کن لوگوں کو کہا جاتا ہے اور علم کی شان کیا ہے ؟ اور کون ہے جس کو صحیح معنوں میں دین کا پیشوا یا دین کا عالم کہا جاتا ہے ، قرآن کریم نے بلاشبہ علماء کرام کی عزت و تکریم کا حکم دیا ہے لیکن اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ لوگ کیسے ہیں اور اس نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایسے بھی تھے جو اپنے آپ کو علماء سمجھتے تھے اور لوگوں میں وہ علمائے کرام سمجھے جاتے تھے لیکن قرآن کریم نے ان کو ” گدھے “ سے تشبیہ دی ہے جس کی پیٹھ پر کتابیں لادی گئی ہیں ۔ (الجمعہ 62 : 5)
Ayah 20:129

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اور اگر ایسا نہ ہوتا کہ پہلے سے تیرے پروردگار نے ایک بات ٹھہرا دی ہوتی تو اس گھڑی ان پر الزام لگ جاتا اور مقررہ وقت نمودار ہوجاتا !

بات رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے طے نہ ہوتی تو انکو ابھی عذاب میں مبتلا کردیا جاتا : 129۔ ان لوگوں کی حالت بتائی جارہی ہے جو ہر سنی ان سنی اور ہر دیکھی ان دیکھی کردیتے ہیں یا یہ کہ وہ مطلب کی سنتے ہیں اور اسی کو یاد رکھتے ہیں جو انکے مطلب کی بات نہ ہو اس پر کبھی انہوں نے دھیان ہی نہیں دیا فرمایا جارہا ہے کہ ” اے پیغمبر اسلام ! اگر ایسا نہ ہوتا کہ پہلے سے تیرے پروردگار نے ایک بات ٹھہرا دی ہوتی تو اسی وقت ان پر عذاب لازم کردیا جاتا اور مقررہ وقت نمودار ہوجاتا ۔ “ مطلب یہ ہے کہ اگر پہلے سے اللہ کا یہ قانون موجود نہ ہوتا کہ انکار و بدعملی کے نتائج اپنے مقررہ وقت اور مقررہ حالت کے مطابق ظہور میں آئیں تو یہ لوگ اپنی سرکشیوں کی وجہ سے کب کے ملزم ہوچکے تھے لیکن یہاں تو ہر گوشہ میں رحمت الہی نے ڈھیل دے رکھی ہے اور ضروری ہے کہ مقررہ وقت کا انتظار کیا جائے ‘ لیکن یہ انتظار کس طرح کیا جائے ؟ آنے والی آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے اور بتا دیا گیا ہے غور کیجئے کہ قانون الہی کس اہمیت کا حامل ہے کہ حالات کچھی بھی ہوں لیکن قانون الہی میں تغیر وتبدل واقع نہیں ہوسکتا ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ یہی بات اس چیز کی دلیل ہے وہ ذات صاحب ذوالجلال والاکرام ہے اسی نے جو قانون بنایا اور اس کا اعلان کیا ہے وہ اس کو کبھی نہیں بدلتا اور نہ ہی کبھی اس کو اس کے بدلنے کی ضرورت پیش آئی اور یہ بھی کہ قانون کو بدلنا ایک کمزوری ہے اور ہر کمزوری سے وہ پاک ہے لیکن افسوس کہ ہمارے موجودہ دور کے علماء کو یہ بات سمجھ میں نہ آئی اور انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کو طاقت سے تعبیر کیا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ہمارے زمانہ میں چونکہ ان کو طاقتور سمجھا جاتا ہے جو کسی ضابطہ کے پابند نہ ہوں خود ہی قانون بنائیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزیاں کریں ۔ قانون نافذ ہو لیکن قانون شکنی کرنے والوں کو کوئی نہ پوچھے ‘ پھانسی دینے کے لئے اس کے مستحق کو نہ دیکھا جائے بلکہ جس کے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈالا جاسکے اس کو پھانسی پر چڑھا دیا جائے تو اس کو یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ زور و طاقت کی نشانی ہے حالانکہ یہی سب سے بڑی بزدلی ہے اور اس سے بڑی کوئی بزدلی نہیں اور یہی سب سے بڑی کمزوری ہے اس سے بڑی اور کوئی کمزوری نہیں ، اس دور کی حکومتیں خصوصا جو ہمارے ملک عزیز میں بنائی جاتی ہیں وہ کمزور ہیں یا طاقتور ہیں ‘ سب کہیں گے کہ کمزور کیوں ؟ اس لئے کہ یہ بنتی ہیں تو دھاندلی اور دھینگا مشتی ہے اور اترتی ہیں تو دھاندلی اور دھینگا مشتی ہے نہ ان کے بننے کے لئے کوئی صحیح ضابطہ و قانون ہے اور نہ ان کو ختم کرنے کے لئے اور نہ ان حکمرانوں کی اپنی زندگیوںٗ کا کوئی ضابطہ حیات اور اصول ہے جس سے خود بخود یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ضابطہ و قانون کی پابندی کا نہ ہونا کمزوری ہے طاقت نہیں ۔ کاش کہ یہ بات ہمارے علماء کی سمجھ میں آجائے تو اللہ رب العزت کو جو نہایت ہی بااصول اور قوی ہے اس کو بےاصولا اور کمزور بنانے میں نہ لگے رہیں بلکہ حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔