19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 19:1

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کاف۔ ہا۔ یا۔ عائین۔ صاد

سورة مریم اور حروف مقطعات میں پانچ حروف کی حکمت : 1۔ سورة مریم سے پہلے 14 ‘ 15 سورتوں میں حروف مقطعات آچکے ہیں ، سورة البقرہ میں ان کی پوری بحث بیان کردی گئی ہے اور باقی سورتوں پر مختصر اشارہ بھی کیا گیا ہے ، سب کا ماحصل بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ جن سورتوں کے مضامین انسانی زندگی کے ہر دور میں کام آنے والے اور انسانوں کو سبق دینے کے لئے بیان کئے ہیں ان پر انسانوں کو متوجہ کرنے کے لئے حروف مقطعات لائے گئے ہیں اور اس طرح متوجہ کرنے کے لئے عربوں کے ہاں ایسے حروف بولے جاتے تھے اور آج بھی لوگ ایک دوسرے کو متوجہ کرنے کے لئے مفرد حروف والفاظ بیان کرتے ہیں اور یہ بھی کہ جتنی زیادہ متوجہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اتنے ہی زیادہ حروف لائے جاتے ہیں ، زیر نظر سورت میں پانچ حروف مقطعات استعمال کئے گئے ہیں ، بعض مفسرین نے حروف مقطعات کی بحث میں یہ کہا ہے کہ یہ مختلف اسمائے الہی پر دلالت کرتے ہیں اور پھر ان کے خیال میں جن جن اسماء پر دلالت کرتے ہیں ان کا ذکر بھی کیا ہے لیکن یہ سب وہمی مفروضے ہیں یا ایک قسم کی پہیلیاں جن کے بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہاں ! ان حروف کو احادیث میں لمبا کرکے اور کھینچ کھینچ کر پڑھنے کا ذکر آتا ہے جیسے کا ۔۔۔۔۔‘ ہا۔۔۔۔ ‘ یا ـ۔۔۔۔ ٗ عائی ۔۔۔۔۔ ن ‘ ۔۔۔۔۔ صا ۔۔۔۔ د ۔ گویا آگاہ کیا جارہا ہے کہ متوجہ ہو کر بات سنو اور غور وفکر کر کے سمجھنے کی کوشش کرو ‘ اللہ کرے سمجھ میں آجائے تو اس کے مطابق عمل کرنے کا پختہ عزم کرو۔
Ayah 19:2

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

تیرے پروردگار نے اپنے بندے زکریا پر جو مہربانی کی تھی ، یہ اس کا بیان ہے

اللہ کے بندے زکریا (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کا ذکر : 2۔ قرآن کریم اور احادیث میں بنی اسرائیل کے بارہ خاندانوں کا ذکر آتا ہے اور یہ بارہ قبائل سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد سے تھے ، بنی اسرائیل نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو اس ملک کو بارہ حصوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر ایک حصہ پر ایک خاندان حکمران تھا اور ہر خاندان میں سے ایک سردار لازم قرار پایا تھا ان میں ایک قبیلہ بنی لادی کہلاتا تھا اس کے ذمہ مذہبی خدمات بھی لگائی گئی تھیں ، بعد ازیں یہ خدمت حضرت ہارون (علیہ السلام) کے خاندان میں چلی گئی اور یہ خاندان بہت بڑھ گیا یہاں تک کہ اس کے 24 قبیلے بن گئے انہیں خاندانوں میں سے ایک ” ابیاہ “ کا خاندان بھی تھا جس کے سردار اس وقت زکریا (علیہ السلام) تھے جو اپنے خاندان کی باری کے دنوں میں مقدس میں جاتے اور خداوند کے حضور بخور جلانے کی خدمت سرانجام دیتے تھے ۔ زکریا (علیہ السلام) پر یہ خاص رحمت کیا تھی جس کا ذکر اس جگہ بیان ہوا ؟ اس رحمت کا بیان آنے والی آیات میں آ رہا ہے اور زکریا (علیہ السلام) کا تفصیلی ذکر پیچھے سورة آل عمران کی آیات 33 سے شروع ہو کر آیت 41 تک بیان کیا گیا ہے ۔ ملاحظہ عروۃ الوثقی ، جلد دوم میں سورة آل عمران کی مذکورہ آیات :
Ayah 19:3

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

جب ایسا ہوا تھا کہ زکریا (علیہ السلام) نے چپکے چپکے اپنے پروردگار کو پکارا

زکریا (علیہ السلام) کا اپنے رب کو چپکے چپکے یاد کرنے کا بیان : 3۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ زکریا (علیہ السلام) ابیاہ کے خاندان میں سے تھے ، بہت معمر ہوگئے لیکن اولاد نہ تھی ان کی بیوی الیشبع ہارون (علیہ السلام) ہی کے خاندان سے تھی دونوں راست باز اور خدا کے حکموں پر بےعیب چلنے والے تھے چونکہ ان کے ہاں اولاد نہ تھی وہ اللہ تعالیٰ سے اولاد طلب کرنے کے متمنی تھے اور چپکے چپکے اپنی عرض بارگاہ صمدی میں پیش کرتے رہتے تھے چونکہ دعائیں کرتے کرتے ایک عرصہ ہوگیا تھا لیکن اولاد نہ ہو رہی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ابھی منظوری کا وقت نہ آیا تھا ۔ اس میں ہمارے لئے یہ سبق رکھا گیا ہے کہ ہم بھی زکریا (علیہ السلام) کی طرح اپنی حاجات صرف اور صرف اسی قاضی الحاجات کے سامنے پیش کریں اور پیش کرتے ہی رہیں جب تک سانس تب تک آس صرف اس سے رکھیں ، اگر قبولیت ہوگی تو صرف اس دروازہ سے اور اگر بات کوئی دوسری ہوئی تو بھی یہ مانگی ہوئی دعائیں رائیگاں نہ جائیں گی بلکہ ان کا یقینا کوئی نہ کوئی صلہ ضرور ملے گا نیز اللہ سے مانگنے کا ڈھنگ بھی اس آیت میں سکھا دیا گیا کہ اللہ کی ذات کوئی بہری اور اندھی نہیں ہے کہ اس سے چیخ چیخ کر طلب کیا جائے بلکہ وہ خبیر وبصیر ہے اور بذات الصدور ہے سینوں کے روزوں تک سے واقف ہے لہذا اس سے طلب کرنے کی شرائط دل کی پاکیزگی اور طہارت ہے ۔ دل صیقل ہوگا تو یقینا دعائیں قبول ہوں گی ۔
Ayah 19:4

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

اس نے عرض کیا اے پروردگار میرا جسم کمزور پڑگیا ہے ، میرے سر کے بال بڑھاپے سے بالکل سفید ہوگئے ، اے میرے رب ! کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے تیری جناب میں دعا کی ہو اور محروم رہا ہوں

زکریا (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے پروردگار میرا سر سفید اور جسم کمزور ہوگیا : 4۔ اولاد کی خواہش امر طبعی ہے جو زہد وتقوی اور طہارت کے بھی منافی نہیں بلکہ تقوی و طہارت کا باعث ہے ، نکاح ‘ اولاد اور ضروریات زندگی کو زہد وتقوی ‘ طہارت اور پاکیزگی کے خلاف خیال کرنا ایک جہالت ہے لیکن افسوس کہ یہ آج کل کے پڑھے لکھے دور میں بھی بدستور قائم ہے کہ وہ نن اور منلگ لوگوں کو متبرک خیال کرتے ہیں جو مجسمہ ناپاکی ہوتے ہیں ، قرآن کریم نے بار بار پیغمبروں اور اللہ کے نیک بندوں اور بندیوں سے اس قسم کی دعائیں اور التجائیں نقل کرکے بتا دیا ہے کہ وہ لوگ حقیقت سے کتنے دور ہیں جنہوں نے اپنے زمانہ کے نبی بھی ہیں اور زاہد وعابد بھی معروف ہیں ۔ بحمداللہ شادی انہوں نے کی ہے لیکن ایک عرصہ دراز گزر گیا اولاد نہیں ہوئی وہ بارگاہ الہی میں ملتجی ہیں کہ اے میرے رب ! اب تو میرا سرسفید ہو رہا ہے ‘ جسم کمزور پڑچکا ہے اور میری بیوی بھی بانجھ ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن اولاد نہیں لیکن میں تیری ذات سے امید رکھتا ہوں کہ تو ہی اس روک کو دور فرما کر اولاد ہم کو دے سکتا ہے اس میں ہمارے لئے یہ سبق ہے کہ مایوسی گناہ ہے اور اپنی ضرورت کو جائز طریقہ سے پورا کرنے کے لئے جدوجہد جاری رکھنا اور اپنی جائز طلب کے لئے دعا ودوا کرتے رہنا اجرو ثواب کا مستحق ہونا ہے اگرچہ ہوگا وہی جو اللہ رب العزت کو منظور ہے ۔
Ayah 19:5

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے بھائی بندوں سے اندیشہ ہے اور میری بیوی بانجھ ہے پس تو اپنے خاص فضل سے مجھے ایک وارث بخش دے

زکریا (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں اپنے عصبات کی نااہلی کا ذکر بھی کیا : 5۔ اولاد ہی والدین کی صحیح اور اصل وارث ہوتی ہے لیکن کسی کے ہاں اولاد نہ ہو تو کیا اس کی وراثت کسی کو نہیں ملے گی ؟ کیوں نہیں جب اصل وارث نہ ہوں گے تو اگر عصبات ہوں گے تو وراثت ادھر منتقل ہوجائے گی ، وراثت میں مال و دولت ہو یا کوئی خاندانی منصب یا کسی اوقاف میں وقف کا متولی ہونا ۔ ہیکل کس نے تعمیر کیا تھا سلیمان (علیہ السلام) نے اور آپ کے بعد ظاہر ہے کہ آپ کا بیٹا متولی ہوگا جو اولاد در اولاد متولی ہوتا رہے گا لیکن اگر کسی مقام پر آکر ہونے والے متولی کی اولاد نہ ہوگی تو متولی ہونے کا عہدہ کہاں جائے گا ظاہر ہے کہ اس کے خاندان میں جو اس کے عصبات ہوں گے جیسے چچا یا چچا کی اولاد یا اولاد در اولاد ۔ زکریا (علیہ السلام) کے ہاں اگر اولاد نہ ہوتی تو ہیکل میں خوشبو جلانے اور مذہبی رسومات ادا کرنے کا آپ کا منصب ظاہر ہے کہ آپ کے خاندان والوں ہی سے کسی کو ملتا لیکن آپ جس خطرہ کا اظہار فرما رہے ہیں وہ یہ ہے کہ میرے خاندان کے عصبات میں سے کوئی بھی اس کا صحیح معنوں میں اہل نہیں کہ جس کے سپرد یہ خدمت لگائی جائے اور وہ اس خدمت کو سرانجام دے سکے (وامراتی عاقرا) اور میری بیوی بانجھ ہے یعنی اس کو ایک مدت ہوچکی ہے کہ میں نے اس سے نکاح کیا اور اپنے فرائض ازدواجی ادا کئے لیکن ابھی تک نتیجہ سامنے نہیں آیا اگر یہی حالت رہی تو میرے بعد کیا ہوگا ؟ اس لئے مجھے اپنی طرف سے ایک صحیح وارث عطا فرما گویا آپ نے آداب بجا لانے کے بعد اپنی عرض بھی پیش کردی اور ہمارے لئے نمونہ پیش کردیا کہ انسانوں کے لئے اپنی عرضیاں پیش کرنے کی جگہ صرف اور صرف رب ذوالجلال والاکرام ہی کی ذات ہے جب تک ہو اپنی عرض پیش کرتے رہو اور نتیجہ اسی پر چھوڑ دو ۔
Ayah 19:6

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

ایسا وارث جو میرا بھی وارث ہو اور خاندان یعقوب کا بھی اور اے پروردگار ! اسے ایسا کر دے کہ پسندیدہ ہو

زکریا (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں اپنی ضرورت کا اظہار کیا : 6۔ فرمایا اے میرے رب ! میں نے جو اولاد طلب کی ہے میری طلب میں اولاد ہے لیکن اولاد نیک ہو جو صحیح معنوں میں میری اور آل یعقوب کی وارث قرار پائے ، آپ کی دعا کے یہ الفاظ بہت معنی خیز ہیں کہ اے میرے پروردگار تو اپنے خاص فضل سے مجھے ایک وارث بخش دے ایسا وارث جو میرا بھی وارث ہو اور خاندان یعقوب کا بھی ۔ گویا خاندان یعقوب کی طرف سے جو وراثت ہمارے خاندان میں منتقل ہوتی چلی آرہی ہے اس وراثت کا وارث اس وقت تک میرے خاندان میں ایک بھی نظر نہیں آتا ۔ (انی خفت الموالی) مجھے اپنے بھائی بندوں سے اندیشہ ہے کہ وہ میرے مرنے کے بعد اس عہدہ کو سنبھال نہیں سکیں گے کیونکہ کسی میں بھی اس کی اہلیت نہیں ہے ۔ اور یہ بھی کہ میں ان کی تربیت نہیں کرسکتا تھا کیونکہ وہ براہ راست میری تربیت میں نہیں ہیں پھر یہ بھی کہ صحیح معنوں میں وارث باپ کے بعد اس کا بیٹا ہی ہو سکتا ہے ۔ اس ” وارث “ کے لفظ نے ایک موضوع دے دیا جو اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان جھگڑے کا باعث ہوا اور اس نے اتنی طوالت حاصل کی کہ اس پر بیسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں صفحات لکھے گئے اور دونوں ہی طرف سے ایک دوسرے پر رقیق حملے کئے گئے ، روایات گھڑی گئیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور ہر طرح کا مال مصالحہ استعمال کیا گیا اور خصوصا شیعہ لوگوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین میں سے پیشتر پر حملے کئے اور بیکار تیر تکے چلانے میں وہ زیادتیاں کیں جنہوں نے تلخیوں میں بہت ہی اضافہ کردیا لیکن اس گیند کو کھولنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اس لئے ہم اس کو بند ہی رہنے دیتے ہیں کیونکہ یہ اس دور میں بنائی گئی جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین میں سے ایک بھی موجود نہیں تھا ۔ ہاں ! صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی موجودگی میں ایک منافقین کا گروہ ایسا موجود تھا جو متحرک ہوچکا تھا لیکن ایک وقت گزرنے کے بعد وہ جڑیں پکڑ گیا اور اس گروہ کے لوگوں نے بعد میں اپنا نام شیعان علی رکھ لیا جو بعد میں ” شیعہ “ کے لفظ سے متعارف ہوئے ۔ اگرچہ اس میں سیدنا علی ؓ اور آپ کی اولاد کا ذرہ برابر بھی حصہ نہیں بلکہ وہ خود ان لوگوں سے ہمیشہ بیزار رہے ۔
Ayah 19:7

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

اے زکریا ! (علیہ السلام) ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں اس کا نام یحییٰ (علیہ السلام) رکھا جائے ، اس سے پہلے ہم نے کسی کے لیے یہ نام نہیں ٹھہرایا ہے

زکریا (علیہ السلام) کو قبولیت دعا کا مژدہ جاں فزا سنایا گیا : 7۔ جیسا کہ پیچھے گزر چکا کہ زکریا (علیہ السلام) اپنے خاندان میں ہیکل کی رسوم ادا کرنے کے لئے کاہن مقرر تھے اور ہر خاندان کے آدمی کی باری مقرر تھی ، ایک مرتبہ جب سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی باری آئی اور وہ قربان گاہ میں خوشبو جلانے کے لئے داخل ہوئے تو رب ذوالجلال والاکرام کا فرشتہ ان کو نظرآیا اس نے کہا اے زکریا ! تیری دعا بارگاہ رب العزت میں قبول ہوگئی ” تیری بیوی بیٹا جنے گی تو اس کا نام یوحنا رکھنا “ (الوقا 1 : 8) زکریا (علیہ السلام) نے جب یہ مژدہ سنا تو خوشی کی انتہا نہ رہی رب کریم کی طرف سے اس بشارت کے ساتھ ہی مبشر بیٹے کا نام بھی تجویز کردیا گیا تاکہ زکریا (علیہ السلام) کو معلوم ہوجائے کہ وہ اولاد جس کے لئے میں نے تمنا کی تھی یقینا بیٹا ہی ہوگا اور اس کا نام تو یحییٰ رکھنا اور تیرے خاندان میں اس نام کا تیرے اس بیٹے سے پہلے کوئی شخص نہیں گزرا اور تیرا بیٹا یقینا اسم بامسمی ہوگا کہ ایک وقت تک وہ زندہ رہے گا اور تیرے خاندان کا نام روشن کرے گا اور یقینا تیری طلب سے بڑھ کر ہوگا ۔
Ayah 19:8

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

زکریا (علیہ السلام) نے کہا اے پروردگار ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے ، میری بیوی تو بانجھ ہوچکی اور میرا بڑھاپا دور تک پہنچ گیا

قبولیت دعا پر زکریا (علیہ السلام) کا استعجاب کہ اب بیٹا کیسے ؟ : 8۔ آپ سورة آل عمران میں پڑھ چکے ہیں کہ زکریا (علیہ السلام) کی یہ دعا اس وقت پوری ہوئی جب انہوں نے سیدہ مریم (علیہ السلام) سے ایک سوال کیا تھا کہ (آیت) ” یمریم انی لک ھذا) اے مریم ! یہ چیزیں تجھے کہاں سے مل گئیں ؟ اور سیدہ مریم (علیہ السلام) نے جواب دیا تھا (آیت) ” ھو من عنداللہ “۔ کہ وہ مجھے اللہ سے ملی ہیں اس کے بعد کتنا وقت گزر گیا کہ سیدہ مریم (علیہ السلام) عالم شباب کو پہنچ گئیں اور زکریا (علیہ السلام) نے ان کو اپنی کفالت سے نکال کر ایک دوسری کفالت میں دے دیا ، ادھر زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول ہونے کی بشارت دی گئی تو اس وقت تک حالات کا تقاضا مزید یاس کو پہنچ چکا تھا اس لئے بشارت سنتے ہیں زکریا (علیہ السلام) کی زبان سے نکلا (آیت) ” رب انی یکون لی غلام “۔ اے پروردگار اب میرے ہاں لڑکا ! کیسے ؟ (آیت) ” کانت امراتی عاقرا “۔ اب تو میری بیوی بہت بانجھ ہوچکی (آیت) ” وقد بلغت من الکبر عتیا “۔ اور میرا بڑھاپا بھی دور تک پہنچ چکا ، زکریا (علیہ السلام) کے استعجاب سے واضح ہو رہا ہے کہ ان کی دعا کو ایک خاصا وقت گزر چکا تھا اور اسی طرح سیدہ مریم زکریا (علیہ السلام) بھی دوسری کفالت میں جانے کے بعد اس کفالت کے مقصد سے مایوسی کی حالت کو پہنچ چکی تھیں گویا کم وبیش دعا کئے ہوئے آٹھ دس سال کا عرصہ یقینا گزر چکا تھا انہوں نے دعا کے وقت بھی اپنے بڑھاپے کا ذکر کیا تھا اور اب تو یقینا بڑھاپا مزید زیادہ ہوچکا تھا اور بیوی کا بانجھ پن بھی بالکل واضح تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ اس کی وضاحت فرما دی کہ (آیت) ” واصلحنا لہ زوجہ “۔ کہ ہم نے اس کے لئے اس کی بیوی کی اصلاح کردی اور اس اصلاح کا یقین یہی تھا کہ وہ بحمد للہ اب حاملہ ہوگئی ۔
Ayah 19:9

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

ارشاد ہوا ایسا ہی ہوگا ، تیرا پروردگار فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے کچھ مشکل نہیں ، میں نے اس سے پہلے خود تجھے پیدا کیا حالانکہ تیری ہستی کا نام و نشان نہ تھا

زکریا (علیہ السلام) کو ان کے استعجاب کا جواب بھی نقد سنا دیا : 9۔ زکریا (علیہ السلام) کی حیرانی کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح دور فرمایا ارشاد ہوا کہ ” ایسا ہی ہوگا “ جیسا کہ ہم نے کہہ دیا ہے کیونکہ ہمارا کہا ہو کر ہی رہتا ہے تم اپنے آپ کو بوڑھا اور اپنی بیوی کو بانجھ سمجھتے ہو ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ایک عرصہ تم کو میاں بیوی کی صحیح زندگی گزرانے کو ہو چلا ہے لیکن تم اولاد کی نعمت سے محروم ہو حالانکہ تمہاری اس محرومی کو دور کرتے کتنی دیر لگے گی ، کچھ بھی نہیں کیونکہ میرے لئے کچھ مشکل نہیں ۔ ہاں ! آپ کو تو معلوم ہوگا جب آپ کی بیوی حاملہ ہوگی ۔ تم اپنی فطری کام کرو حمل رہ جانے کی بشارت ہم نے آپ کو سنا دی اور ذرا غور کرو کہ تمہاری اپنی ذات کو اللہ نے کس طرح بنایا تم خود اللہ کے پیدا کرنے سے پہلے کیا تھے ‘ اور کہاں تھے ؟ حتی کہ آپ کی ہستی کا نام ونشان بھی نہ تھا ۔ اللہ نے جس کو کرنا ہوتا ہے کردیتا ہے صحیح ہے کہ اسباب سے ہوتا ہے لیکن مسبب الاسباب آخر کون ہے ؟ انسان کا کام اپنے فرائض کی پابندی ہے نتائج اس کے اختیار کا مسئلہ نہیں ۔
Ayah 19:10

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

اس پر زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ! میرے لیے ایک نشانی ٹھہرا دے ، فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات لگاتار لوگوں سے بات نہ کرے

زکریا (علیہ السلام) نے شکریہ ادا کرنے کا طریقہ طلب کیا جو ان کو بتا دیا گیا : 10۔ زکریا (علیہ السلام) نے اس خوشخبری کے سن لینے کے بعد اس شکریہ کی ادائیگی کے لئے کوئی واضح علامت یعنی طریقہ طلب کیا کہ اس کا شکریہ کیونکر ادا کروں ۔ آپ کو رب کریم کی طرف سے یہ ہدایت دی گئی کہ آپ برابر تین دن رات تک لوگوں سے عام بول چال بند کردیں اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں تسلسل کے ساتھ مصروف ہوں ، لیکن انجیل میں چونکہ یہ بات اس طرح نقل کی گئی تھی کہ ” زکریا نے کہا میں یہ بات کس طرح جانوں کیونکہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ؟ جبریل نے کہا میں جبریل ہوں جو خدا کے ہاں کھڑا رہتا ہوں اور اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تجھ سے کلام کروں اور تجھے ان باتوں کی خوشخبری دوں اور دیکھو جس دن تک یہ باتیں واقع نہ ہولیں تو چپکا رہے گا اور بول نہ سکے گا اس لئے کہ تو نے میری باتوں کو جو اپنی وقت پر پوری ہوں گی یقین نہ کیا ۔ “ (لوقا 1 : 19) اس لئے ہمارے مفسرین نے بھی اس سے یہی سمجھ کر بیان کیا کہ نشانی یہ بتائی کہ تم اس وقت بات چیت نہیں کر سکوگے لیکن یہ خاموشی کسی بیماری کے باعث نہیں ہوگی بلکہ بطور علامت ایسا ہوگا لیکن ایک شخص بول ہی نہ سکے اور اندریں وجہ وہ چپ رہے تو کیا یہ خوبی یا کسی بات کی علامت ہو سکتی ہے ؟ ہاں ! بول سکے ‘ باتیں کرسکے لیکن اس کے باوجود نہ بولے اور نہ ہی باتیں کرے اور ایک وقت تک رضائے الہی کے لئے خاموش ہو کر ذکر وفکر میں لگا رہے تو یہ چیز کمال انسانی میں داخل ہے اور اس بات کو یہاں شکریہ ادا کرنے کی علامت بتائی گئی ہے اور یہی کام زکریا (علیہ السلام) نے کیا۔
Ayah 19:11

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پھر وہ نکلا اور اپنے لوگوں میں آیا اس نے اشارے سے کہا کہ صبح و شام اللہ کی پاکیزگی و جلال کی صدائیں بلند کرتے رہو !

زکریا (علیہ السلام) عبادت خانہ سے باہر آئے تو خاموش تھے : 11۔ قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ زکریا (علیہ السلام) بطور علامت یا نشان گونگے ہوگئے تھے یہ یقینا اس واقعہ کے بعد کی تعبیرات ہیں اور قرآن کریم نے ان تعبیرات کی تصدیق نہیں کی اور تردید کا انداز ایسا اختیار کیا کہ یہ باتیں قابل بحث نہ بن جائیں اور اپنے مدعا کی بات بھی کہہ دی جائے چناچہ فرمایا کہ وہ اپنے حجرہ سے باہر تشریف لائے جو حسب معمول آپ کا انتظار کر رہے تھے تو اس نے زبان نہ کھولی اور اشارہ سے صرف یہ بات کہی کہ میں تین دن رات تک عام باتیں نہیں کروں گا اس وقت آپ چلے جائیں اور تین دن کے بعد تشریف لائیں اور بہتر ہے کہ تم لوگ بھی سارا سارا دن اور ساری ساری رات نہیں تو کم از کم ہر روز صبح وشام ان نعمت عظمی کی خوشخبری ملنے کے بعد اللہ کی یاد میں مصروف رہنے کے لئے وقت نکالو تاکہ آپ لوگوں بھی اس کی تسبیح وتہلیل میں میرے ساتھ شریک ہوں ۔ اگر تم میری بھلائی کے خرظ خواہ ہو تو ایسا ضرور کرو ، اس مختصر ذکر کے بعد زکریا (علیہ السلام) کے موعود بیٹے سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کا ذکر شروع ہوتا ہے جس میں بہت زیادہ اختصار سے کام لیتے ہوئے ان کی ساری ضروری باتوں کی طرف اشارہ کردیا ‘ کچھ کہا بھی نہیں اور سب کچھ کہہ بھی دیا ۔ سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت : قرآن کریم میں زکریا (علیہ السلام) کا ذکر چار سورتوں میں آیا ہے آل عمران ، الانعام ‘ مریم ‘ اور الانبیاء میں ۔ ان میں سے سورة الانعام میں تو صرف انبیاء کرام (علیہم السلام) کی فہرست میں آپ کا نام ذکر کیا گیا ہے اور باقی تین سورتوں میں آپ کا مختصر تذکرہ منقول ہے ، خیال رہے کہ قرآن کریم میں جن زکریا (علیہ السلام) کا ذکر منقول ہے یہ وہ زکریا نہیں ہیں جن کا مجموعہ توراۃ کے صحیفہ زکریا میں کیا گیا ہے اس لئے کہ تورات میں جن زکریا (علیہ السلام) کا تذکرہ ہے اس صحیفہ میں آیا ہے انکا ظہور داریوس (دارا) کے زمانہ میں ہوا ہے جیسا کہ زکریا نبی کی کتاب میں ہے کہ : ” دارا کے دوسرے برس کے آٹھویں مہینے میں خداوند کا کلام زکریا نبی بن برکیاہ بن عدو پر نازل ہوا۔ “ (زکریا باب ! : 1) اور یہ بات سب پر واضح ہے کہ دارابن گشتاسپ کا زمانہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ولادت باسعادت سے پانچ سو سال قبل ہے کیونکہ وہ کیقباد وکیخسرو کے انتقال کے بعد 521 ق م تحت نشین ہوا تھا اور قرآن کریم نے جن زکریا (علیہ السلام) کا ذکر کیا ہے وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ سیدہ مریم ؓ کے مربی اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ایک لحاظ سے معاصر ہیں اور ان کے اور یحییٰ بن زکریا اور مسحا (علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور یہ زکریا (علیہ السلام) سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے والد ماجد ہیں جیسا کہ فتح الباری 6 ص 365 میں ذکر کیا گیا ہے ۔ سیدنا زکریا (علیہ السلام) کے والد ماجد کا نام کیا تھا ؟ اس میں اصحاب سیر کے مختلف اقوال ذکر کئے گئے ہیں اور ان اقوال میں سے کس قول کو ترجیح دی جائے کچھ نہیں کہا جاسکتا ، چناچہ حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری میں اور حافظ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر اور اپنی تاریخ میں ابن عساکر سے وہ سب اقوال جمع کردیئے ہیں جو فتح الباری ج 6 اور تاریخ ابن کثیر ج 2 ص 67 میں دیکھے جاسکتے ہیں لیکن یہ بات سب کے نزدیک مسلم اور تسلیم شدہ ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) کی ذریت میں سے ہیں ۔ (تاریخ ابن کثیر ج 2 ص 47) زکریا (علیہ السلام) کی حیات طیبہ کے حالات سیر کی کتابوں میں نہیں ملتے تاہم جس قدر قرآن کریم اور سیروتاریخ کی قابل اعتماد روایات میں مذکور ہیں وہ اس طرح ہیں : جیسا کہ آپ نے پیچھے بنی اسرائیل میں سورة التوبہ وغیرہ میں پڑھا ہے کہ بنی اسرائیل میں ” کاہن “ ایک معزز مذہبی عہدہ تھا اور اس کے ذمہ ہیکل کی خدمت ہوتی تھی یعنی بیت المقدس کی مقدس رسوم ادا کرنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا اور چونکہ بنی اسرائیل الگ الگ گروہوں میں تقسیم ہوچکے تھے اس لئے ہر گروہ کا اپنا ” کاہن “ ہوتا تھا اور اپنی اپنی باری پر اس خدمت کو انجام دیتے تھے ، چناچہ سیدنا زکریا (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں ایک معزز کاہن بھی تھے اور جلیل القدر پیغمبر بھی جیسا کہ قرآن کریم نے ان کو انبیاء کرام کی فہرست میں شمار کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” ۔۔۔۔۔۔۔ وزکریا ویحیٰ و عیسیٰ والیاس کل من الصلحین “۔ ” اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس یہ سب نیکوں کاروں میں سے ہیں “ اور لوقا کی انجیل میں ان کو کاہن کہا گیا ہے جیسا کہ تحریر ہے کہ : ” یہودیہ کے بادشاہ ” ہیرودیس “ کے زمانہ میں ابیاہ کے فریق میں زکریا نام کا ایک کاہن تھا اور اس کی بیوی ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھی اور اس کا نام الیشبع تھا اور وہ دونوں خدا کے حضور راست باز اور خداوند کے سارے حکموں اور قانونوں پر بےعیب چلنے والے تھے ۔ “ (لوقا باب 1 : 5 ، 6) اور انجیل برنباس میں بصراحت مذکور ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ پیغمبر تھے چناچہ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے یہود کو مخاطب کرکے ایک جگہ فرمایا کہ : ” وہ وقت قریب ہے جب تم پر ان انبیاء کرام (علیہم السلام) کا وبال پڑنے والا ہے جن کو تم نے سیدنا زکریا (علیہ السلام) کے زمانہ تک قتل کیا اور جب کہ زکریا (علیہ السلام) کو ہیکل اور قربان گاہ کے درمیان قتل کیا ۔ “ (انجیل برنباس) سیدنا زکریا (علیہ السلام) سلالہ داؤد (علیہ السلام) سے تھے اور ان کی زوجہ مطہرہ ” ایشاع “ یا ” الیشبع “ سیدنا ہارون (علیہ السلام) کی ذریت میں سے تھیں (فتح الباری ج 6 اور تاریخ ابن کثیر جلد 2) تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) خواہ وہ بادشاہ اور صاحب حکومت ہی کیوں نہ تھے اپنی روزی اپنے ہاتھوں سے کمایا کرتے تھے اور کسی دوسرے کے لئے بار دوش نہیں ہوتے تھے جیسا کہ پیچھے سورة ہود میں (آیت) ” وما اسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین “۔ ” میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے پاس نہیں ہے ۔ “ اسی طرح سیدنا زکریا (علیہ السلام) بھی اپنی روزی کے لئے نجاری کا کام کیا کرتے تھے جیسا کہ صحیح مسلم ، ابن ماجہ اور مسند احمد میں بصراحت مذکور ہے کہ : عن ابی ہریرہ ؓ ان رسول اللہ ﷺ قال کان زکریا نجارا “۔ (کتاب الانبیاء) ” ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سیدنا زکریا (علیہ السلام) نجاری (بڑھئی کا کام) کرتے تھے ۔ “ اور یہ بات بھی پیچھے عرض کی جا چکی ہے کہ وہ خاندان سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) کی نسل میں سے تھے ، عمران بن ناش اور ان کی بیوی حنہ بنت خاتوذ نیک نفس انسان تھے ۔ (فتح الباری ج 6 ص 364) جو پارسائی کی زندگی بسر کرتے تھے مگر لاولد تھے ان کا ذکر سیدہ مریم کے ذکر میں تفصیل کے ساتھ آئے گا ان کے گھر میں ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام انہوں نے اللہ کے حکم سے ” مریم “ رکھا اور ان کی والدہ محترمہ حنہ نے اپنی منت کے مطابق مریم کو جب وہ خدمت کرنے کے قابل ہوگئیں تو ہیکل کی نذر کردیا اور اس طرح یہ سوال پیدا ہوا کہ اب ان کی پرورش کی ذمہ داری کس کے سپرد کی جائے ؟ کاہنوں کے درمیان اس مقبول کے درمیان اس مقبول نذر الہی کے بارے میں اختلاف ہو کر جب بات قرعہ اندازی پر آکر ٹھہری تو قرعہ سیدنا زکریا (علیہ السلام) ہی کے نام نکلا اور وہی مریم (علیہ السلام) کے کفیل قرار پائے ، جس کا ذکر قرآن کریم کی سورة آل عمران میں آپ پڑھ چکے ہیں ۔ علمائے سیروتاریخ کہتے ہیں کہ سیدنا زکریا (علیہ السلام) ویسے بھی مریم (علیہ السلام) کی کفالت کے حق دار تھے اس لئے کہ سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی بیوی ایشاع یا الیشبع سیدہ مریم ؓ کی والدہ ماجدہ سیدہ حنہ کی حقیقی بہن تھیں جیسا کہ فتح الباری ج 6 ص 364 میں بیان کیا گیا ہے اور خالہ بمنزلہ والدہ کے ہوتی ہے جیسا کہ خود نبی اعظم وآخر ﷺ نے عمارہ بنت حمزہ ؓ کے متعلق فرمایا تھا کہ ان کی پرورش حضرت جعفر ؓ کی بیوی کریں کیونکہ وہ عمارہ ؓ کی خالہ ہیں ۔ (الخالہ بمنزلہ الام ہوتی ہے ) (بخاری باب الحضانہ) جب مریم ؓ سمجھدار ہوگئیں تو سیدنا زکریا (علیہ السلام) نے ان کے لئے ہیکل کے قریب ایک حجرہ یعنی خانہ خلوت مخصوص کردیا جہاں وہ دن میں عبادت الہی میں مشغول رہتی اور رات اپنی خالہ کے پاس گزارتی تھیں ، جب کبھی سیدنا زکریا (علیہ السلام) مریم کے حجرہ میں داخل ہوتے تو دیکھتے کہ ان کے پاس عطیات اور ہدایا کی آئی ہوئی چیزیں اور پھل کافی مقدار میں موجود ہیں تو اکثر پوچھ لیتے کہ مریم یہ اتنا کچھ کہاں سے آگیا تو مریم ؓ ہمیشہ یہی جواب مرحمت فرماتیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے وافر رزق عطا کردیتا ہے ۔ اس وقت تک سیدنا زکریا (علیہ السلام) کے پاس کوئی اولاد نہ تھی اور وہ اکثر یہ محسوس کرتے تھے کہ اس بات کے علاوہ کہ میں اولاد کی دولت سے محروم ہوں زیادہ فکر اس امر کا ہے کہ میرے بھائی بند ہرگز اس کے اہل نہیں ہیں کہ میرے بعد بنی اسرائیل کی رشد وہدایت کی خدمت انجام دے سکیں اس لئے ان کے دل میں مریم کا کردار اور گفتار دیکھ کر اکثر یہ خیال پیدا ہوتا کہ اگر اللہ تعالیٰ ایسے کردار وگفتار کا کوئی لڑکا مجھے عطا فرما دیتا تو مجھ کو یہ اطمینان ہوجاتا کہ بنی اسرائیل کی راہنمائی کا خدمت گزار میری بعد موجود ہے مگر چونکہ ان کی عمر کافی ہوچکی تھی اور شادی کو بھی ایک عرصہ گزر چکا تھا اور اولاد نہ ہونے کے باعث وہ مایوسی کی حد تک پہنچ چکے تھے کہ شاید اب اولاد ہونے کی کوئی صورت نہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے دعا کا سلسلہ منقطع نہیں کیا تھا اور مریم کے کردار وگفتار نے اتنا متاثر کیا تھا کہا انہوں نے مزید الحاح وزاری سے دعا مانگنا شروع کردی چناچہ آپ کی آہ بھری دعا نے اپنا اثر دکھایا اور قوم کی رشد وہدایت کی خاطر مانگی ہوئی دعا رب ذوالجلال والا کرام نے منظور فرما لی ، سیدنا زکریا (علیہ السلام) ہیکل ہی میں مصروف عبادت تھے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک فرستادہ فرشتہ آپ سے مخاطب ہوا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیٹے کی خوشخبری سیدنا زکریا (علیہ السلام) کو سنا دی کہ اے زکریا اللہ تعالیٰ نے تیری دعا قبول کرلی اور تجھے ایک بیٹے کی خوشخبری سنانے کے لئے مجھے روانہ کیا گیا ۔ چناچہ آپ سن لیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بیٹے کی خوشخبری دی ہے اور ہاں ! اسی بیوی سے دی ہے جس کو تو نے بانجھ سمجھ لیا تھا اللہ نے اس کی اصلاح کردی اور اب اس کے ہاں تیرا ایک بچہ پیدا ہوگا جس کا نام آپ کو یحییٰ رکھنا ہوگا ۔ سیدنا زکریا (علیہ السلام) کو اس بشارت سے بیحد خوشی ہوئی اور متعجب ہو کر دریافت کیا کہ اے میرے اللہ ! اس کے شکریہ میں میرے اوپر کیا لازم آیا جب کہ میں بوڑھا اور میری بولی ایک عرصہ کی بانجھ تھی ، اب اس خوشخبری کو سن کر اس نعمت کا شکریہ میں کیونکر ادا کروں ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ آپ تین دن رات تک اللہ کی عبادت میں پہلے سے بھی زیادہ توجہ کے ساتھ مصروف ہوجاؤ اور اپنے دوسرے لوگوں کو بھی عبادت میں مصروف رہنے کا حکم دو ۔ چناچہ سیدنا زکریا (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم کو سر آنکھوں پر رکھا اور تین دن رات کا اعتکاف مکمل کیا اور اب اس مولود بیٹے کی خوشخبری نے سیدنا زکریا (علیہ السلام) کو چاک وچوبند کردیا کیونکہ سیدنا زکریا (علیہ السلام) کے لئے فی الواقع یہ بشارت باعث صد ہزار مسرت کے تھی جو یقینا قوم بنی اسرائیل کے لئے بھی کچھ کم خوشی کا باعث نہ تھی کہ سیدنا زکریا (علیہ السلام) کا ایک صحیح جانشین اور علم و حکمت اور نبوت کا سچا وارث عالم وجود میں آنے والا ہے ۔ انجیل میں اس کو اس طرح بیان کیا گیا ہے : ” جب وہ خدا کے حضور اپنے فریق کی باری پر کہانت کا کام انجام دیتا تھا تو ایسا ہوا کہ کہانت کے دستور کے موافق اس کے نام کا قرعہ نکلا کہ خداوند کے مقدس میں جا کر خوشبو جلائے اور لوگوں کی ساری جماعت خوشبو جلاتے وقت باہر دعا کر رہی تھی کہ خداوند کا فرشتہ خوشبو کے مذبح کی داہنی طرف کھڑا ہوا اس کو دکھائی دیا اور زکریا (علیہ السلام) دیکھ کر گھبرایا اور اس پر دہشت چھا گئی مگر فرشتہ نے اس سے کہا اے زکریا خوف نہ کر کیونکہ تیری دعا سن لی گئی ہے اور تیرے لئے تیری بیوی الیشبع کے بیٹا ہوگا تو اس کا نام یوحنا رکھنا اور تجھے خوشی وخرمی ہوگی اور بہت سے لوگ اس کی پیدائش کے سبب سے خوش ہوں گے کیونکہ وہ خداوند کے حضور میں بزرگ ہوگا اور ہرگز نہ مے اور نہ کوئی اور شراب پئے گا اور اپنی ماں کے بطن سے روح القدس سے بھر جائے گا اور بہت سے بنی اسرائیل کو خداوند کی طرف جو ان کا خدا ہے پھرے گا اور وہ ایلیاہ کی روح اور قوت میں اس کے آگے آگے چلے گا کہ والدوں کے دل اولاد کی طرف اور نافرمانوں کو راست بازوں کی دانائی پر چلنے کی طرف پھیرے اور خداوند کے لئے ایک مستعد قوم تیار کرے زکریا نے فرشتہ سے کہا میں اس بات کو کس طرح جانوں کیونکہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی عمر رسیدہ ہے ، فرشتہ نے جواب میں اس سے کہا میں جبرائیل ہوں جو خدا حضور کھڑا رہتا ہوں اور اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تجھ سے کلام کروں اور تجھے اور دیکھو جس دن تک یہ باتیں واقع نہ ہولیں تو چپکا رہے گا اور بول نہ سکے گا اس لئے کہ تو نے میری باتوں کو جو اپیر وقت پر پوری ہوں گی یقین نہ کیا اور لوگ زکریا کی راہ دیکھتے اور تعجب کرتے تھے کہ اسے مقدس میں کیوں دیر لگی اور جب وہ باہر آیا تو ان سے بول نہ سکا ، پس انہوں نے معلوم کیا کہ اس نے مقدس میں رویا دکھیں اور وہ ان سے اشارے کرتا تھا اور گونگا ہی رہا پھر ایسا ہوا کہ جب اس کی خدمت کے دن پورے ہوگئے تو وہ اپنے گھر گیا ان دنوں کے بعد اس کی بیوی الیشبع حاملہ ہوئی اور اس نے پانچ مہینے تک اپنے تائیں یہ کہہ کر چھپائے رکھا کہ جب خداوند نے میری رسوائی لوگوں میں دور کرنے کے لئے مجھ پر نظر کی ان دنوں میں اس نے میرے لئے ایسا کیا۔ “ (لوقا باب 1 : 8 تا 25) اناجیل کا اصل نسخہ دنیا ہی سے ناپید ہے اور جو کچھ اس وقت ہے وہ صرف ترجمہ ہی ترجمہ ہے خواہ وہ کسی زبان میں دستیاب ہو ، ہمارے سامنے اردو ترجمہ جو برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور نے 1956 ء میں طبع کرایا تھا اس نسخہ سے ہم نے وہ عبارت درج کی ہے جو اوپر مذکور ہے ، ہم اس وثوق کے ساتھ جو اللہ کی کتاب کے ساتھ ہمیں حاصل ہے یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس میں مترجمین نے اپنی طرف سے بہت کچھ اضافہ کیا ہے اور اصل اور حقیقت صرف اور صرف وہ ہے جو اس وقت قرآن کریم میں موجود ہے بجائے اس کے کہ قرآن کریم پر انحصار کرتے ہوئے مفسرین کرام وہ تفسیر اختیار کرتے جس کے حامل قرآن کریم کے الفاظ تھے انہوں نے سہل انگاری سے اس عبارت کو قرآن کریم کے الفاظ میں بطور تفسیر لکھ دیا کہ سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی زبان تین دن رات تک بند ہوگئی اور وہ بول نہ سکتے تھے حالانکہ قرآن کریم کے اندر کوئی لفظ ایسا موجود نہیں ہے جس کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہنا اور عام بول چال ترک کردینا بلاشبہ اسلام میں آج بھی اعتکاف کی حالت میں قابل تحسین و خوبی ہے لیکن کسی نہ سکنا مرض اور بیماری تو ہو سکتی ہے کوئی خوبی کی بات نہیں جیسا کہ لوقا کی عبارت میں آپ نے پڑھا کہ جب وہ ہیکل سے باہر آیا تو ” وہ بول سکا اور وہ ان سے اشارے کرتا تھا اور گونگا ہی رہا ۔ “ (لوقا 1 : 22) حالانکہ یہ اس بشارت کی خوشی کے اظہار کی صورت بتائی گئی ہے جب کہ ابھی بچے کے سلالہ کی بنیاد بھی نہیں رکھی گئی تھی فقط بشارت تھی اور اس بشارت کے بعد وہ زدواجی تعلق پیدا ہوا جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے زکریا کے موعود بیٹے کا اپنا وعدہ پورا کردیا اور سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی بیوی الیشبع یا ایشاع حاملہ ہوئی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنے وقت پر یحییٰ تولد ہوئے جو وعدہ الہی کے مطابق حلیم وکریم طیبعت کے مالک تھے اور اعجازی طور پر ان کو دوسرے انبیاء کرام (علیہم السلام) کے مقابلہ میں صغر سنی ہی میں نبوت سے نوازا گیا اگرچہ اس صغر سنی سے مراد گود کا بچہ نہیں بلکہ بمقابلہ دوسرے انبیاء کرام (علیہم السلام) ابھی بچہ ہی تھے اگرچہ سن رشد کو پہنچ چکے تھے ۔ بہرحال سیدنا زکریا (علیہ السلام) نہ گونگے ہوئے اور نہ ان کی زبان بند ہوئی بلکہ یہ بشارت سن کر انہوں نے بحکم الہی روزہ رکھا اور اعتکاف کی سی کیفیت اختیار کرلی تاکہ اس بشارت کی خوشی کا اظہار بارگاہ رب ذوالجلال والاکرام میں پیش کرسکیں جو ایک خوبی کی بات تھی اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے جو الفاظ اختیار کئے وہ (آیت) ” الا تکلم الناس ثلث لیال سویا “۔ کے الفاظ ہیں یعنی تین دن رات لگاتار لوگوں سے بات نہ کر ۔ غور کیجئے کہ قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) گونگے ہوگئے تھے یہ یقینا بعد کی تعبیرات ہیں جو حسب معمول پیدا ہوگئیں صاف بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ سیدنا زکریا (علیہ السلام) کو روزہ رکھنے اور مشغول عبادت رہنے کا حکم ہوا اور یہودیوں کے ہاں روزہ کے اعمال میں سے ایک عمل خاموشی بھی تھا ۔ اب ایک بار پھر غور کرو کہ سیدنا زکریا (علیہ السلام) نے جس بیٹے کے لئے دعا کی تھی اس بیٹے کے ساتھ آپ کی کیا امیدیں وابستہ تھیں ۔ 1۔ اے میرے رب ! مجھے اپنے بھائی بندوں سے اندیشہ ہے اور میری بیوی بانجھ ہے پس تو اپنے خاص فضل سے مجھے ایک وارث بخش دے ‘ ایسا وارث جو میرا بھی وارث ہو اور خاندان یعقوب کا بھی ۔ (مریم) 2۔ اے میرے رب ! اس بچے کو ایسا کر دیجئے کہ تیرے بندوں کی نظر میں پسندیدہ ہو ۔ (مریم) 3۔ اے میرے رب ! مجھے اپنے فضل سے پاکیزہ اولاد عطا فرما بلاشبہ تو ہی دعا کا سننے والا ہے ۔ (آل عمران) اللہ تعالیٰ نے کی دعا دعا کو شرف قبولیت بخشا اور بیٹے کی خوشخبری سناتے ہوئے ارشاد فرمایا : (آیت) ” فنادتہ الملئکۃ وھو قائم یصلی فی المحراب ان اللہ یبشرک بیحی مصدقا بکلمۃ من اللہ وسیدا وحصورا ونبیا من الصلحین “۔ (ال عمران 3 : 39) ” پھر جب زکریا حجرہ کے اندر نماز پڑھ رہا تھا تو فرشتوں نے اس کو آواز دی کہ اللہ تجھ کو یحی کی ولادت کی خوشخبری دیتا ہے جو شہادت دے گا اللہ کے ایک کلمہ (عیسی علیہ السلام) کی اور وہ صاحب مرتبہ ہوگا ‘ پارسا ہوگا اور اللہ کے نیک بندوں میں سے ایک نبی ہوگا۔ “ گویا سیدنا زکریا (علیہ السلام) نے جو تین باتیں بیٹے کے لئے طلب کی تھیں وہ تینوں آپ کے بیٹے کو عطا کردیں اور ان تین باتوں سے بہت کچھ زائد بھی دیا ۔ 1۔ زکریا (علیہ السلام) کو خاندان یعقوب کے وارث ہونے کے ضمن میں نبوت عطا کی گئی ۔ 2۔ پسندیدہ ہونے کی صورت میں اس کے سردار ہونے کی اطلاع دی اور ۔ 3۔ پاکیزہ ہونے کے باعث پارسا ہونے کا وعدہ الہی ہوا اور ایک کلمہ کی تصدیق جس کے معنوں میں بڑی وسعت ہے اس کی زائد صفت بتا دی اور اس کا نام بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رکھا گیا اور یہ بھی خوشخبری سنائی گئی تیرے بیٹے کے نام کا اس سے پہلے کوئی انسان دنیا میں پیدا نہیں ہوا اور گویا زندگی اس کے نام کے اندر داخل کردی کہ ایک عرصہ تک زندہ رہے گا اور ایک نئی نبوت کو زندگی بخشے گا ۔ بلاشبہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہے گا اور کبھی نہیں مرے گا لیکن یہ بھی بہت ناانصافی ہے کہ ایسے بیٹے کو زکریا (علیہ السلام) کی موجودگی میں قتل کرا دیا جائے اور کبھی نہیں مرے گا لیکن یہ بھی بہت ناانصافی ہے کہ بات کی طرف دھیان نہ دیا اور اسرائیلی روایات کو اتنی اہمیت دی کہ ان کے سامنے قرآنی آیات کی کوئی قدر و قیمت نہ رہی اور جو قرآن کریم نے بیان دیا تھا اور اس میں جو اشارات بطور پیش گوئی دیئے تھے ان سب کو طاق نسیان پر رکھ دیا گیا اور پھر قرآن کریم کے وہ الفاظ جو یحییٰ (علیہ السلام) کے مناقب اور فضیلت میں بیان کئے گئے تھے ان کو مثالب اور ذم بنا کر رکھ دیا کیوں ؟ اس لئے کہ وہ روایات جن کا نہ سر ہے نہ پیران کو صحیح ثابت کیا جاسکے قرآن کریم کے الفاظ اس مفہوم کے متحمل ہوں یا نہ ہوں لیکن انہوں نے وہ مفہوم بزور طاقت ان میں رکھ دیا اور قوم کو اس پر مجبور کردیا کہ اس مطلب کو قبول کرو ورنہ کفر کے فتوی کے لئے تیار ہوجاؤ پھر کتنے تھے جو فی الواقعہ مجبور ہوگئے تھے جنہوں نے کفر کو قبول کیا لیکن اس مفہوم کو قبول نہ کیا جو انہوں نے قرآن کریم کے الفاظ کے منہ میں بزور داخل کیا تھا ۔ زکریا (علیہ السلام) کی یہی وہ حالات تھے جو قرآن کریم اور صحیح احادیث کی روشنی میں بیان کئے گئے علاوہ ازیں یا تو اسرائیلی روایات ہیں جو بیشتر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کے بیان کردہ واقعات کی مطابقت نہیں کرتیں اس لئے ساقط الاعتبار ہیں اور بعض وہ روایات وآثار ہیں جو روایت کے اعتبار سے ناقابل حجت اور غیر مستند ہیں ۔ زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا سلسلہ کب تک چلتا رہے لیکن جب بات منظور ہونے پر آئی تو کوئی دیر نہ لگی اور باوجود اس کے خود صاحب دعا کو تعجب تھا کہ میری دعا کیسے قبول ہوگئی لیکن بگڑی حالت درست کرنے والے رب ذوالجلال والاکرام نے خوشخبری کے ساتھ یہ بات بھی سنا دی کہ ” ہم نے تیری بیوی کی اصلاح کردی “ جس کا صاف مطلب یہ ہے ۔ کہ فریقین میں سے ایک کی اصلاح کی ضرورت تھی اور جب تک اصلاح نہ ہوئی اولاد نہ ہوئی اور جب اولاد عطا کرنا تھی اس کی اصلاح کردی تاکہ اصول خداوندی قائم رہے کہ ولد کے لئے والد کے ساتھ والدہ کا ہونا لازم وضروری ہے اور والدہ کے ساتھ ولد کے والد کا ہونا بھی لازم ہے احد الزوجین سے ولد نہیں ہوتا رہا مخلوق کا معاملہ تو اس کے لئے نہ والد کی ضرورت ہے اور نہ والدہ کی کیونکہ اس طرح کی مخلوق کو مخلوق تو کہیں گے لیکن کسی کا ولد نہیں کہہ سکتے ۔ زکریا (علیہ السلام) کے واقعات میں سے صرف قرآن کریم میں آپ کی دعاء قبولیت دعا اور فہرست انبیاء میں فقط نام پر اکتفا کیا گیا ہے اس سے زیادہ حالات زندگی ‘ زمانہ بعثت اور آپ کی تبلیغ کے کسی پہلو پر بحث نہیں کی گئی اس لئے ہم بھی اتنے ہی پر اکتفا کرتے ہیں اور ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق سمجھنے اور حق کے مطابق عمل کرنے اور اس پر زندہ رہنے اور اسی پر مرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین ثم آمین) ہاں ! اتنی بات مزید قابل ذکر ہے کہ سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی وفات طبعی موت سے واقع ہوئی یا وہ شہید کئے گئے اور پھر یہ کہ وہ یحییٰ (علیہ السلام) سے پہلے قتل ہوئے یا طبعی طور پر وفات پائی ؟ ہمارے خیال میں یحی (علیہ السلام) سیدنا زکریا (علیہ السلام) کے بعد بھی زندہ رہے لیکن دونوں طرح کی روایات موجود ہیں اور تعجب یہ ہے کہ دونوں کی سند وہب بن منبہ ہی پر جا کر پہنچتی ہے ۔ اور یہ بھی تحریر ہے کہ ” جب یحییٰ (علیہ السلام) کو شہید کردیا گیا تو پھر سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے کہ ان کو بھی قتل کریں سیدنا زکریا (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا تو وہ بھاگے تاکہ ان کے ہاتھ نہ لگ سکیں ‘ سامنے ایک درخت آگیا اور وہ اس کے شگاف میں گھس گئے ، یہودی تعاقب کر رہے تھے تو انہوں نے دیکھا تو ان کو نکلنے پر مجبور کرنے کی بجائے درخت پر آ رہ چلا دیا جب آ رہ سیدنا زکریا (علیہ السلام) پر پہنچا تو اللہ کی وحی آئی اور زکریا سے کہا کیا گیا اگر تم نے کچھ بھی آہ وزاری کی تو یہ سب زمین تہ وبالا کردی جائے گی اور اگر تم نے صبر سے کام لیا تو ہم یہود پر فورا اپنا غضب نازل نہیں کریں گے ، چناچہ سیدنا زکریا (علیہ السلام) نے صبر سے کام لیا اور اف تک نہیں کی ۔ “ اور علاوہ ازیں بہت کچھ بیان کیا گیا ہے لیکن ہم ایک ہی روایت پر اکتفا کرتے ہیں اور قارئین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ خود اپنی عقل وفکر سے کام لے کر فیصلہ کرلیں کہ گزشتہ واقعات کو جس انداز میں پیش کیا گیا ہے کیا ان کی کوئی حقیقت بھی ہے ؟ یا کم از کم یہ کہ ان کا کوئی فائدہ بھی ہے ‘ جن چیزوں کو قرآن وحدیث میں چھوا تک نہیں گیا ان کے پیچھے لگنے اور ان کی تحقیق وتفتیش کا کوئی فائدہ ؟
Ayah 19:12

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

اے یحییٰ (علیہ السلام) ! کتاب الٰہی کے پیچھے مضبوطی کے ساتھ لگ جا چناچہ وہ ابھی لڑکا ہی تھا کہ ہم نے اسے علم و فضیلت بخش دی

یحیٰ (علیہ السلام) کو کتاب الہی کے مضبوط پکڑنے کی ہدایت : 12۔ غور کیجئے کہ اس آیت سے پہلے کتنا مضمون حذف کردیا گیا اور پھر ضرورت کی بات کو بیان کردیا ، قرآن کریم جو کتاب ہدایت ہے نہ کہ مربوط قصے کہانیوں کی کتاب وہ اس طرح ضرورت کی باتوں کو بیان کرتا اور غیر ضروری کو حذف کرتا ہے لیکن اکثر لوگ ایسے مواقع پر خواہ مخواہ کی بحثیں شروع کردیتے ہیں اور علمائے کرام بھی جاننے بوجھنے کے باوجود انہی لوگوں کی ترجمانی کرتے رہتے ہیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ اس طرح کی باتیں سمجھانے اور ان کو بیان کرنے پر وقت خرچ ہوتا ہے جن لوگوں کے ذہن میں سنی سنائی باتیں بیٹھ گئی ہوتی ہیں وہ بات بات پر مزاحمت کرتے ہیں اور خواہ مخواہ طول کلامی ہوتی ہے اس لئے وہ ان ساری باتوں سے گلو خلاصی کرنے کے لئے ان کے ترجمان بن کر رہ جاتے ہیں ۔ زیر نظر قصہ ہی کو پیش نظر رکھ کر آپ اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ ادھر بشارت کی آیت آپ نے پڑھی اور ساتھ ہی حکم مل گیا کہ (آیت) ” ییحیٰ خذ الکتب بقوۃ “۔ اے یحییٰ کتاب کو پوری قوت کے ساتھ تھام لے ۔ ظاہر ہے کہ اس خوشخبری کے بعد ایک عرصہ تک جس کی مدت کم از کم 9 ماہ ہے بطن مادر میں رہے پھر پیدا ہوئے بچپن گزرا اور بائیس پچیس سال کی عمر کو یقینا پہنچے کہ یہ حکم نازل ہوا لیکن اتنی لمبی مدت کس طرح نکل گئی آنکھ جھپکتے ؟ نہیں وقت وقت تو اسی طرح گزرتا گیا جس طرح اب گزرتا ہے لیکن اس دورانیہ کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ اس کی کوئی ضرورت نہ تھی اور اصل مقصود سیدہ مریم (علیہ السلام) اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر تک پہنچنا ہے تاکہ عیسائیوں کو ان دونوں شخصیتوں کا صحیح تعارف کرایا جائے لیکن اس سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) کے مناد یحییٰ (علیہ السلام) کا متخصر تذکرہ کرنا ضروری تھا تاکہ دونوں نبیوں کا تقابل بھی ہوتا جائے اور اس تقابل میں ان غلط فہمیوں کی نشاندہی بھی کردی جائے جن غلط فہمیوں میں عیسائی دنیا مبتلا تھی ، اور سب سے بڑی غلطی چونکہ یہی تھی کہ عیسائی سمجھتے تھے کہ ادھر عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور ادھر ساتھ ہی (آیت) ” انی عبداللہ “ ۔ کا ذکر بھی شروع کردیا اور ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش عام حالات سے ہٹ کر روح القدس کی طاقت وقوت سے ہوئی تھی اور اس میں یہ قوت روح القدس کی طرف سے منتقل ہوئی تھی ، لہذا ان کی اس غلطی کو دور کرنے کے لئے پہلے یحییٰ (علیہ السلام) کا ذکر اس انداز میں پیش کیا گیا کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی کئی لحاظ سے فوقیت لے گیا تاکہ اس غلطی کا ازالہ ہو سکے کہ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) مافوق انسانیت ہیں تو یحییٰ (علیہ السلام) کو بدرجہ اتم مافوق انسانیت ہونا چاہئے اور جب یحییٰ (علیہ السلام) ان باتوں کے باعث مافوق انسانیت نہیں تو عیسیٰ (علیہ السلام) مافوق انسانیت ہو کر اللہ ‘ اللہ کا جز یا اللہ کا بیٹا کس طرح ہوگئے ؟ یحییٰ (علیہ السلام) پر ظاہر ہے کہ کوئی کتاب نازل ہوئی تھی جس کتاب کو قوت کے ساتھ تھامنے کا حکم ہوا وہ تورات ہی تھی چونکہ بنی اسرائیل نے اس کو اس طرح پشت پیچھے ڈال دیا تھا جس طرح آج مسلمانوں نے قرآن کریم کو ڈال رکھا ہے اس لئے یحییٰ (علیہ السلام) کو ہم نے یہ حکم اس وقت دیا جب وہ ابھی تیس سال کی عمر کو بھی نہیں پہنچے تھے اور اس عمر میں انسان فی والوقعہ طاقت سے کام لے سکتا ہے ۔ اس لئے کہ پیدائش سے لے کر تیس سال کی عمر تک (صبی) کا لفظ اطلاق کرتا ہے چناچہ سیر کی کتابوں میں تحریر ہے کہ ” وہ تیس سال سے قبل ہی نبی بنا دیئے گئے تھے ۔ (قصص الانبیاء للنجارص 420 بحوالہ قصص ج 2) بلاشبہ ” طاقت وقوت “ اور ” حکم “ دونوں کا اکٹھا ہونا وہ اعجاز ہے جو یحییٰ (علیہ السلام) ‘ عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی اعظم وآخر ﷺ کے سوا شاید ہی کسی دوسرے نبی کو عطا کیا گیا ہو ، کسی بات پر مضبوطی سے قائم رہنے اور دوسروں کو مضبوطی سے قائم رکھنے کے لئے جس قوت فیصلہ قوت اجتہاد تفقہ فی الدین اور معاملات میں صحیح رائے اختیار کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے وہ اس کم عمری میں ہی ان انبیاء کرام (علیہم السلام) میں پختہ سے پختہ تر کردی گئی ۔
Ayah 19:13

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اسے اپنے فضل خاص سے دل کی نرمی اور نفس کی پاکیزگی عطا فرمائی ، وہ پرہیزگار تھا

یحییٰ (علیہ السلام) کی دوسری امتیازی صفات کا مختصر بیان : 13۔ (حنان) کی اصل ح ن ن ہے جس کے معنی رحمت و شفقت کے ہیں جس میں ذوق وشوق اور سوز و گداز کی آمیزش بھی ہوتی ہے اور یہی ہے جو انسان کے قلب وروح کی زندگی کی اصل علامت ہے یہ نہ ہو تو سچی بات ہے کہ انسان انسان ہونے کا اہل نہیں اگرچہ جسم وڈھانچہ اور شکل و صورت وہ انسان کی سی رکھتا ہو سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کو یقینا اس میں وافر حصہ ملا تھا اور یہی بات (من لدنا) کے الفاظ سے ظاہر ہوتی ہے اور یہ بات آپ کو معلوم ہی ہے کہ قرآن کریم نے اس کی وضاحت فرما دی ہوئی ہے کہ انبیاء کرام اور رسل عظام میں سے بھی بعض بعض پر فضیلت رکھتے تھے کسی کو کسی معاملہ میں فضیلت حاصل تھی اور کسی کو کسی معاملہ میں اور مجموعی طور پر ساری فضیلتیں ہمارے نبی کریم ﷺ میں پائی جاتی تھیں ۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) میں بنی نوع انسان کے لئے جو رحمت و شفقت اور شوق وذوق تھا اس کا ذکر آج بھی اناجیل میں موجود ہے ان کے مطالعہ سے یقینا آج بھی انسانی ہمدردی کا پہلو اجاگر ہوتا ہے بلکہ انکے اقوال کی حرارت آج بھی دلوں کو گرما دیتی ہے اور روحوں کو تڑپا دیتی ہے ، سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے یہ مواعظ آج بھی ” لوقا “ میں دیکھے جاسکتے ہیں لیکن افسوس کہ ہمارے جس پہلو سے انکی شہرت ہوئی وہ یہ تھا کہ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کا بچپن اور جوانی ساری بیابانوں میں گزری اور ساری زندگی کسی بستی کے قریب نہ آیا ‘ اس نے بیابان ہی میں دریاؤں اور صحراؤں کے کناروں پر نبوت کا پیغام دیا ‘ ساری زندگی شادی نہ کی کیونکہ وہ شادی کے قابل ہی نہ تھا اور قوت مردمی رکھی ہی نہ گئی تھی اس طرح کی کتنی باتیں ہیں جو سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے متعلق زبان زد خاص وعام ہیں اور علمائے کرام کے مواعظ کا حصہ ہیں اور کبھی کسی نے اس دعا پر غور نہیں کیا جو زکریا (علیہ السلام) نے اللہ سے مانگی تھی اور اللہ تعالیٰ نے جس کی قبولیت کا خاص طور پر ذکر کیا ہے کیا اس کی قبولیت کا یہی مطلب نکلتا ہے کہ زکریا (علیہ السلام) کے ہاں جو بچہ پیدا ہو وہ اس قدر نکارہ ہو کہ وہ نبوت عطا ہونے کے باوجود کوئی نبوت کا کام سرانجام ہی نہ دے اور جنگلوں اور بیابانوں میں دھکے کھانے کے بعد خود زکریا (علیہ السلام) کی زندگی میں قتل کردیا جائے ۔ جو شخص ذرا بھی عقل وفکر سے کام لے گا وہ یقینا اس سے واضح طور پر انکار کر دے گا اور صاف کہہ دے گا کہ یہ سو فی صدی جھوٹ ہے کیونکہ اس سے زکریا (علیہ السلام) کے مبشر بیٹے کی ایک صفت بھی نہیں پائیں جاتی ہے حالانکہ زکریا (علیہ السلام) سے جو وعدہ کیا گیا تھا وہ اللہ رب العزت کی طرف سے تھا جس کا پورا ہونا لازم وضروری تھا اور وہ یقینا پورا ہوا اور ہم تک سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے حالات زندگی جو تاریخی لحاظ سے پہنچے وہ صحیح نہیں ہیں اور قرآن کریم کے اشارات ان سارے واقعات کی یک قلم نفی کرتے ہیں جو واقعات تاریخ کے صفحات سے ہم کو ملتے ہیں ، سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے کمالات کا ذکر ہم پیچھے عروۃ الوثقی جلد دوم تفسیر سورة آل عمران کی آیت 39 کے تحت ص 155 سے 157 تک بیان کرچکے ہیں ۔ زیر نظر آیت میں (حنانا) کے بعد آپ کی صفت میں (زکوۃ) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی پاکیزگی و طہارت کے ہیں جس سے مراد یقینا ظاہری اور باطنی طہارت ہے اور حنان کے بعد زکوۃ کا ذکر ایسا ہی ہے جیسا کہ دودھ کے ساتھ شکر کا خالص دودھ بھی ہو پھر اس میں شکر بھی ڈال دی جائے تو میٹھا ہونے میں کیا کسر باقی رہ گئی جبکہ موسم اور وقت کے مطابق وہ ٹھنڈا یا گرم بھی ہو تو سبحان اللہ ! پھر زکوۃ کہہ کر بھی ذکر کو ختم نہیں کیا ساتھ (تقیا) کا لفظ مزید بڑھا دیا ‘ کیوں ؟ اس لئے پچھلی دونوں صفتوں کا تعلق انسان کے باطن کے ساتھ تھا جس سے اس کا ظاہر مکمل طور پر اجاگر نہی ہوتا (تقیا) کا لفظ بول کر آپ کی ظاہری خوبیوں کا بھی ذکر کردیا کہ وہ ظاہری طور پر بھی نہایت ہی پرہیز گار اور متقی تھے ۔
Ayah 19:14

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور ماں باپ کا خدمت گزار تھا ، سخت گیر اور نافرمان نہ تھا

سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) والدین کے فرمانبردار تھے سخت گیر نہ تھے ۔ 14۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی نبی اپنے ماں باپ کا نافرمان اور ان پر سختی کرنے والا بھی ہو سکتا تھا لیکن یحییٰ (علیہ السلام) ایسے نہیں تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ انکے والدین بھی ایسے تھے کہ ان کی کسی معاملہ میں بھی نافرمانی ممکن نہ تھی یعنی دین و دنیا میں وہ والدین کے ساتھ تھے اور کسی معاملہ میں بھی وہ والدین سے الگ تھلگ نہیں ہوئے ممکن ہے کہ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہو کہ جو اولاد اکلوتی ہو اور ایک مدت کے بعد میسرآئے وہ لاڈ پیار میں عموما خراب ہوجاتی ہے ایسے لوگوں کے لئے ایک نمونہ پیش کرنے کے لئے اس صفت کو خاص کر اجاگر کیا گیا ہو لیکن تعجب ہے کہ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ” ماں باپ کے ساتھ ان کی وفاداری کا بیان اس لئے کیا گیا کہ باوجود اس کے کہ ان کی ولادت سے لے کر ان کی تعلیم وتربیت تک ہرچیز براہ راست اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں ہوتی ہے وہ کسی چیز میں بھی اپنے ماں باپ کے محتاج نہیں ہوئے لیکن اس کے باوجود فرمانبردار رہے اور انہوں نے سرکشی نہیں کی ۔ “ گویا ماں باپ کا نام ٹوٹل پورا کرنے کے لئے لیا گیا ورنہ نہ تو وہ ماں کے پیٹ میں بطور جنین رہے اور نہ ہی ماں نے ان کو وضع کیا ‘ نہ دودھ پلایا اور نہ ہی ان کی پرورش میں والدین کا کوئی حصہ ہے اور اگر بات اس طرح ہے تو معلوم نہیں کہ مفسر صاحب نے یہ کیوں نہیں فرما دیا کہ وہ بغیر ماں باپ کے محض قدرت الہی سے پیدا ہوئے تھے صرف خانہ پری کرنے کے لئے ماں باپ کا نام لیا گیا تاکہ مسیح (علیہ السلام) کی فوقیت ان پر قائم رہے ، گویا مفسرین کی اپنی مرضی ہے چاہے وہ جو بات قدرت الہی کے ذمہ ڈال دیں ‘ کون ان کو پوچھ سکتا ہے ۔