20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 20:1–8

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجاؤ۔

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

بلکہ اس شخص کو نصیحت دینے کے لیے نازل کیا ہے جو خوف رکھتا ہے۔

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

یہ اس ذات کا اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور اونچے اونچے آسمان بنائے۔

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

وہ رحمٰن عرش پر قائم ہے۔

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے بیچ میں ہے اور جو کچھ زمین کی مٹی کے نیچے ہے سب اسی کا ہے۔

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

اگر تم پکار کر بات کہو تو وہ چھپے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

اللہ وہ ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس کے سب نام اچھے ہیں۔

نزول قرآن کا مقصد اور صفات باری تعالیٰ تشریح : کیونکہ آنحضرت ﷺ رات بھر کھڑے ہو کر عبادت کرتے اور قرآن پڑھتے رہتے تو عبادت کا طریقہ اللہ نے یوں مقرر کردیا کہ اس میں میانہ روی اختیار کریں اور اس بات کو خاص طور سے ذہن میں رکھیں کہ آپ کا کام ہے تبلیغ، یعنی اللہ کی دی ہوئی ہدایات لوگوں تک پہنچائیں یہ نہیں کہ رات بھر عبادت کرتے رہیں۔ تو اس کے بعد سے آپ ﷺ رات کے پہلے پہر آرام کرتے اور پچھلے پہر اٹھ کر عبادت کرتے اور دن بھر درس و تدریس اور اشاعت دین میں مشغول رہتے۔ قرآن ایک بہترین ہدایت کی کتاب ہے۔ یہ کتاب کسی معمولی ہستی کی بھیجی ہوئی نہیں۔ یہ کتاب اس رب جلیل، مالک الملک، رب العلمین کی بھیجی ہوئی ہے جو پوری کائنات کا بادشاہ ہے اور ہر چیز اسی کے حکم اور قبضہ میں ہے اسی لیے اس وحدہٗ لاشریک لہ کو اپنی ضرورتوں، دعائوں، مشکلات، نجات اور عبادت کا منبع سمجھ کر اسی کے سامنے مسلمان جھکتا ہے۔ رکوع و سجود صرف اسی کے لیے خاص ہیں اور کوئی بھی اس کے قابل نہیں اسی لیے تو فرمایا گیا۔ ” اس کے سب نام اچھے ہیں۔ “
Ayahs 20:9–24

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور کیا آپ کو موسیٰ کے حال کی خبر ملی ہے۔

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جب انہوں نے آگ دیکھی تو اپنے گھروالوں سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے، میں وہاں جاتا ہوں شاید اس میں سے میں تمہارے پاس انگاری لائوں یا آگ کے مقام کا رستہ معلوم کرسکوں۔

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

جب وہاں پہنچے تو آواز آئی۔

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

موسیٰ ! میں تمہارا رب ہوں تم اپناجوتا اتار دو تم یہاں پاک میدانِ طو ٰی میں ہو۔

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور میں نے تم کو چن لیا ہے۔ تو جو حکم دیا جائے اسے سنو !۔

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو میری عبادت کیا کرو اور میری یاد کے لیے نماز پڑھا کرو۔

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

قیامت یقینا آنے والی ہے، میں نے اس (کے وقت) کو مخفی رکھا ہے تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ ملے جو اس نے کمایا ہے۔

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

تو جو شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلتا ہے کہیں تمہیں اس کے یقین سے روک نہ دے تو اس صورت میں تم ہلاک ہوجاؤ۔

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور اے موسیٰ ! یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟۔

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے اس پر میں سہارا لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کیلئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اور بھی کئی فائدے ہیں۔

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا : موسیٰ ! اسے ڈال دو ۔

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

انہوں نے اس کو ڈال دیا اور وہ اسی وقت دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ ” اسے پکڑلو اور ڈرنا مت ہم ابھی اس کو پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ بغل سے نکالو وہ کسی بیماری یا عیب کے بغیر سفید چمکتا دمکتا نکلے گا۔ یہ دوسری نشانی ہے۔

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

تاکہ ہم تمہیں اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں۔

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

تم فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہو رہا ہے۔

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت، آزمائش، معجزات اور ہدایت تشریح : تمام نبیوں کو نبوت ملنے کے مختلف طریقے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ مختصراً اس واقعہ کو بیان فرماتا ہے جس کا تعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی سے ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا اور آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے مصر سے بھاگ کر مدین جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد واپس مصر کی طرف جا رہے تھے کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے سے گزرتے ہوئے دور سے آگ نظرآئی۔ آگ کی ضرورت تھی، اس لیے لینے چلے گئے اور وہاں ان کو اللہ نے نبوت عطا کردی اور حکم دیا کہ توحید پر یقین رکھو اور نماز کا حکم دو اور آخرت پر یقین رکھو اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بےمقصد پیدا نہیں کیا اور نہ پیدا کرنے کے بعد بےیارو مددگار چھوڑ دیا ہے۔ جسمانی نشوونما کے لیے کائنات کا ہر ہر ذرہ مددگار ہے اور روحانی نشوونما کے لیے ہر زمانے اور ہر جگہ پیغمبر اور رسول بھیجے گئے جو ہمیشہ اللہ کی وحدانیت یعنی توحید کی تعلیم دیتے رہے پھر اللہ کی عبادت اور زندگی کو بہترین طریقہ سے گزارنے کی تعلیم دیتے رہے اور پھر یہ بتاتے رہے کہ یہ زندگی بےکار، کھیل تماشہ نہیں ہے بلکہ اس کا گزرا ہوا ہر ہر لمحہ، ہر ہر قول اور عمل باقاعدہ ریکارڈ ہو رہا ہے فلم بن رہی ہے ہماری پوری زندگی کی۔ کیونکہ یہ زندگی تو صرف عمل کرنے کی زندگی ہے ایک امتحان کا پرچہ ہے جس کا ٹائم بھی مقرر کردیا گیا ہے ہر چیز کا وقت اللہ نے اپنے پاس مقرر کر کے لکھ رکھا ہے۔ جونہی امتحان کا وقت ختم ہوگا ایک زور دار بگل بجے گا اور تمام مخلوقات اور پوری کائنات ختم ہوجائے گی، پھر دوبارہ ایک بگل بجے گا تو تمام مخلوقات اپنے اپنے امتحان کے پرچے یا وڈیو فلمز لے کر اللہ کے حضور میں حاضر ہوجائیں گے اور ہماری زندگی کا مقصد ہی یہی ہے۔ اس لیے ہر شخص کو بڑی احتیاط اور دین اسلام کے طریقوں کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنی چاہیے۔ یہ امتحانی زندگی بڑی مختصر ہے جبکہ دوسری آنے والی زندگی ہمیشہ کی زندگی ہوگی۔ کبھی ختم نہ ہونے والی ہوگی۔ یہی پیغام تمام نبیوں اور تمام رسولوں نے دیا ہے۔ یہی احکامات سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو دیے گئے۔ لوگوں کو یقین دلانا بڑا مشکل کام ہے تو اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی اس مشکل کو آسان کرنے کے لیے ان کو کچھ مختلف قسم کے معجزات دیے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو دو بہت بڑے معجزے دیے گئے۔ اور پھر حکم دیا گیا کہ جاؤ فرعون کے پاس اور اس کو توحید کی دعوت دو ۔ فرعون کو دعوت توحید دینا کوئی آسان کام نہ تھا۔ کیونکہ وہ تو خود اپنے آپ کو رب کہلواتا تھا اور سو شیطانوں کا ایک شیطان تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے یہ قصہ بیان کیا کہ آپ ان کفار مکہ، مشرکین، یہود اور نصاریٰ سے ہرگز پریشان نہ ہوں اگر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اپنے مشن میں کامیاب ہوسکتے ہیں تو آپ بھی کامیاب ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ اللہ ان کے ساتھ تھا اور اللہ آپ کے ساتھ بھی ہے۔ آپ کا کام ہے لوگوں کو نیکی کرنے کی تعلیم دینا پھر حساب کتاب کر کے ان کو سزا و جزا دینا ہمارا کام ہے۔ یہ قرآن کی حکمت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس ساری بات کو اللہ تعالیٰ نے صرف ایک چھوٹی سی آیت میں بیان کردیا ہے۔ فرمایا ” بیشک وہ گھڑی (قیامت) آنے والی ہے، اللہ تعالیٰ اسے ایک وقت مقرر پر ظاہر کرے گا تاکہ ہر شخص کو بدلہ ملے جو اس نے کمایا ہے۔ معلوم ہوگیا کہ وہ گھڑی یا ساعت کوئی حادثہ نہیں ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کے باقاعدہ پروگرام کے تحت اس دنیا کو دوسری دنیا کی شکل میں تبدیل کرنے کا زبردست عمل ہوگا۔ آج کی ایجادات اور سائنسی ترقی نے اس بات کو ماننا بہت آسان کردیا ہے کہ ہمارے اعمال چاہے صرف سوچ کی حد تک ہوں یا نیت کی حد تک ہوں یا پھر عمل میں آچکے ہوں وہ ضرور ہم خود اپنی تیار کی گئی فلم وڈیو فلم، ٹیلی ویژن یا ریڈیو سے کسی بھی ایکٹر، ایکٹریس، بوڑھے بچے یا جوان عورت ہو یا مرد کی فلم تیار کر کے مدتوں بعد تک محفوظ کرسکتے ہیں تو اللہ جس نے یہ کائنات بڑے عظیم سائنسی حساب کتاب سے بنائی ہے اور اس میں آواز کی لہروں اور شعائوں کا اس قدر منظم اور محکم بندوبست کر رکھا ہے کہ کسی شخص کی کوئی حرکت کوئی خیال اور کوئی نیت اس سسٹم سے اوجھل نہیں جو ہمارے چاروں طرف پھیلا دیا گیا ہے۔ عمل تو فلم میں آگیا اب بندہ سوچتا ہے کہ نیت، ارادہ اور خیال کس طرح ریکارڈ ہوسکتا ہے ؟ وہ اس طرح ریکارڈ ہوجاتا ہے جس طرح خاموش ایکٹنگ چہرے کے تاثرات سے ادا کی جاتی ہے۔ ہمیں یہ یقین کرلینے میں ہرگز کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہوا کی لہریں اور حرارتی لہریں ہمیں ہر طرف سے ہر وقت گھیرے رکھتی ہیں جن سے ہم بچ نہیں سکتے چاہے ہم اندھیرے میں ہوں، اجالے میں ہوں، کھلے میدان میں ہوں، کمرے میں ہوں یا کہیں انتہائی پوشیدہ جگہ میں ہوں۔ ہم ان سے بچ نہیں سکتے بس یہی قدرت کا کمال ہے۔ اللہ کے حکم سے یہ نظام کائنات ہر وقت ہر صورت باقاعدہ چلتا رہتا ہے اسی لیے قرآن میں آتا ہے ” نہ اس کو اونگھ آتی ہے نہ اس کو نیند آتی ہے۔ “ (آیت الکرسی) اب دیکھیں یہ بات سمجھ لینی کس قدر آسان ہے کہ ہم ضرور مریں گے کیونکہ یہ عمل تو دن رات ہمارے سامنے ہوتا رہتا ہے۔ پھر زندہ کیے جائیں گے پھر اللہ کے حضور اپنے وڈیوز فلم کے ساتھ حاضر ہو کر اپنا انعام یا سزا پائیں گے۔ سبحان اللہ۔ دعا ہے اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَسِیْرًا۔ ترجمہ :” اے اللہ میرا حساب آسان کر۔ “ آمین۔