19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 19:1–6

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کٓھٰیٰعٓصٓ

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

یہ تمہارے رب کی مہربانی کا بیان ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے رب کو دبی آواز سے پکارا۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

اور کہا کہ اے میرے رب ! میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں اور سر سفید ہوگیا ہے اور اے میرے رب ! میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

اور میں اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔ تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما۔

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

جو میری اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو اور اے میرے رب ! اسے پسندیدہ انسان بنانا۔

سیدنا زکریا اور ان کی دعا تشریح : سیدنا زکریا (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کا ذکر بڑی تفصیل سے سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ بنی ہارون کے 24 خاندان تھے جن میں سے ابیاہ خاندان کے سردار سیدنا زکریا (علیہ السلام) تھے۔ آپ بڑھئی کا کام کرتے تھے مگر ہدایت خلق کا کام ان کے ذمہ تھا۔ اسی ذمہ داری کو انہوں نے اپنی میراث کہا ہے اسی میراث کو سنبھالنے کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے بیٹا مانگا کہ جو ہدایت خلق کا کام ان کے بعد اچھی طرح سنبھال سکے، حالانکہ آپ اور آپ کی بیوی عمر اور صحت کے لحاظ سے نااہل ہوچکے تھے۔ کیونکہ ایک تو دونوں بوڑھے ہوچکے تھے اور دوسرا ان کی بیوی قدرتی طور پر بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہ رکھتی تھی، یعنی بانجھ تھیں۔ یہاں اللہ کی قدرت، کبریائی اور طاقت کے مظاہرے ہو رہے ہیں کہ جو کام بظاہر ہر لحاظ سے ناممکن تھا اللہ نے کردیا جیسا کہ اگلی آیات میں بیان کیا جا رہا ہے۔ ملاحظہ ہو :
Ayahs 19:7–11

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

اے زکریا ! ہم تم کو ایک بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخض پیدا نہیں کیا۔

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے اللہ ! میرے ہاں کس طرح لڑکا پیدا ہوگا۔ اس حال میں کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں۔

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

حکم ہوا کہ اسی طرح ہوگا تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ مجھے یہ آسان ہے اور میں پہلے تمہیں بھی تو پیدا کرچکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ تھے

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

کہا کہ پروردگار میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما۔ فرمایا ” نشانی یہ ہے کہ تم ٹھیک ٹھاک ہونے کے باوجود تین رات لوگوں سے بات نہ کرسکو گے۔

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پھر وہ (عبادت کے حجرے سے) نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح و شام اللہ کو یاد کرتے رہو۔

بیٹے کی خوشخبری تشریح : یہ سب کچھ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ اوپر آیات میں اللہ تعالیٰ اور سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی گفتگو سے ظاہر ہے۔ سیدنا زکریا (علیہ السلام) اللہ کے مقبول ترین بندوں میں سے تھے جیسا کہ آیات میں کہا جا رہا ہے۔ کہ آپ تین رات زبان سے کلام نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ آپ ہر روز لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے۔ جب باہر آئے تو وعظ کے لیے زبان نے کام نہ کیا تو سمجھ گئے کہ اللہ نے ان کی دعا پوری کردی ہے۔ لہٰذا تین دن تک اشاروں سے وعظ کرتے رہے کہ اللہ کا شکر اور ذکر ہر وقت کرتے رہنا چاہیے ہر وقت سبحان اللہ کا ورد زبان پر ہونا چاہیے۔ بہرحال سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی مراد پوری ہوئی اور ان کو اللہ نے ایک انتہائی مبارک بیٹا عطا کیا۔ جن کا نام اللہ تعالیٰ نے خود یحییٰ رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) نیک پاک اور صاف ماحول میں پلے بڑھے اللہ نے ان کو نبوت عطا کی اور یوں انہوں نے اپنے باپ کی جگہ سنبھالی۔ رب العزت نے فرشتے کے ذریعے آپ کو پیغام دیا کہ آپ کے والد بوڑھے ہوچکے ہیں۔ آپ جوان اور مضبوط ہیں۔ پوری طاقت سے والد کی جگہ سنبھالو اور یہ رشدو ہدایت کی جو کتاب آپ کو دی جا رہی ہے۔ اس کو پورے عزم و استقلال سے سنبھال کر پکڑ لو اور پوری طاقت ہمت اور عزم و ارادہ سے لوگوں کو ہدایت دینے کا مقدس کام سنبھال لو کیونکہ تمہارے والد اب عمر کے اس حصہ میں پہنچ چکے ہیں کہ یہ کام اب ان کے بس میں نہیں۔
Ayahs 19:12–15

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑے رہو اور ہم نے ان کو لڑکپن میں ہی دانائی عطا فرمائی تھی۔

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی دی تھی اور پرہیزگار تھے۔

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے، اور سرکش اور نافرمان نہیں تھے۔

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وہ وفات پائیں گے اور جس دن زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ان پر سلام اور رحمت ہے۔

سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے اوصاف تشریح : جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ کسی قوم میں سے بہترین انسان کو نبوت کے لیے چن لیتا ہے۔ اور وہ انسان بچپن سے ہی نیک خصلت انسان ہوتا ہے۔ اسی طرح سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) انتہائی نیک دل، نرم مزاج، پاکیزہ، نیک نیت، فرماں بردار، مشفق اور مہربان تھے۔ انہوں نے کبھی بھی کسی پر ظلم نہیں کیا تھا والدین کے انتہائی فرماں بردار انسان تھے۔ نہ خود کبھی برائی کی تھی اور نہ کسی کو برائی کا راستہ دکھاتے تھے۔ کیونکہ ان کو اللہ نے کتاب ہدایت دی تھی جو کہ پوری طرح نیکی اور ہدایت کی کتاب تھی اللہ نے آپ کو عطا کی اور حکم دیا کہ اسے مضبوطی سے پکڑلو۔ یعنی اس میں دیے گئے تمام احکامات پر پوری طرح خود بھی عمل کرو اور دوسروں کو بھی عمل کرنے کی ہدایت کرو۔ آپ اس قدر پاکیزہ صفات کے مالک تھے کہ اللہ نے آپ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے۔ ” جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وہ وفات پائیں گے اور جس دن زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ان پر سلام اور رحمت ہے۔ (آیت 15 : سورة مریم) سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) سے 6 مہینے بڑے تھے۔ آپ دونوں کی مائیں آپس میں رشتہ دار تھیں۔ آپ کو نبوت ملی۔ شرق اردن سے آپ نے تبلیغ شروع کی۔ آپ بہت ہی سادگی پسند تھے۔ اونٹ کے بالوں سے بنے ہوئے کپڑے پہنتے، چمڑے کا پٹکا کمر سے باندھتے خوراک میں شہد زیادہ تر معمولی کھانا ہوتا تھا۔ روزے نماز کی تلقین کرتے اور انتہائی سادہ زندگی گزارنے کی نصیحت کرتے تھے۔ آپس میں اتفاق سے رہنے ظلم و ستم، لڑائی جھگڑے اور دوسروں کی حق تلفی کرنے سے منع کرتے تھے۔ گناہوں سے بچنے اور توبہ کرنے کا سبق دیتے تھے۔ ان کے عہد کا یہودی فرمانروا ہیرو و اینٹی تھا۔ جو خود بھی رومی تہذیب میں غرق تھا اور لوگوں کو بھی فسق و فجور کی کھلی چھٹی ملی ہوئی تھی۔ جب سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) نے اس کو منع کرنے کی کوشش کی تو اس نے آپ کو قید میں ڈال دیا۔ اور پھر اسی کے ہاتھوں آپ کا قتل بھی ہوا۔ یہودی اور عیسائی ہمیشہ اپنے پیغمبروں کو قتل کرتے رہے اور پھر بعد میں ان کی تعلیمات میں بھی فرق کر ڈالتے تھے۔ اپنے مطلب کی باتیں رکھ کر باقی سب بدل دیتے تھے۔ یہ خاصیت صرف قرآن پاک کی ہی ہے کہ اللہ نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود لے رکھا ہے کہ قیامت تک اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی ہرگز نہ ہو سکے گی یہ جیسا اترا تھا ویسا ہی رہے گا ان شاء اللہ۔ اور پھر قرآن پاک میں پچھلی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق بھی کی گئی ہے۔ اور تعلیمات بھی ان سے بہت حد تک ملتی جلتی ہیں۔ جیسا کہ جب نجاشی (شاہ حبشہ) کو سورة مریم کا پہلا حصہ سنایا گیا تو اس نے کہا کہ یہی تو رات میں بھی لکھا گیا ہے۔ اگلی آیات میں سیدہ مریم کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 19:16–34

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور کتاب (قرآن) میں مریم کا ذکر کرو جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب چلی گئیں۔

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

تو انہوں نے ان کی طرف سے پردہ کرلیا اس وقت ہم نے ان کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا جو ان کے سامنے ٹھیک آدمی کی شکل میں گیا۔

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

مریم بولیں کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ میں تو تمہارے رب کی طرف سے بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں۔

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے تو کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں۔

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

فرشتے نے کہا کہ یونہی ہوگا، تمہارے رب نے فرمایا کہ یہ مجھے آسان ہے (میں اسے اسی طریق پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لیے اپنی طرف سے نشانی اور رحمت و مہربانی کا ذریعہ بنائوں اور یہ کام مقرر ہوچکا ہے۔ 21 ؎

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

تو وہ اس بچہ کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں۔

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ کہنے لگیں کہ ” کاش میں اس سے پہلے مر چکتی اور بھول بھال چکی ہوتی۔

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے آواز دی کہ ” غمگین نہ ہو تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلائو تم پر تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی۔

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

تو کھائو اور پیوا ور آنکھیں ٹھنڈی رکھو، اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا میں نے اللہ کے لیے روزے کی منت مانی ہے کہ آج میں کسی سے کلام نہیں کروں گی۔

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر وہ اپنے بچے کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں۔ وہ کہنے لگے کہ ” مریم یہ تو تو نے برا کام کیا۔

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن ! نہ تو تیرا باپ ہی بدکردار تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی۔

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

تو مریم نے اس بچے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ بولے کہ ہم اس گود کے بچے سے کیسے بات کریں ؟

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

اس (عیسیٰ ) نے کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور میں جہاں ہوں جس حال میں ہوں مجھے برکت والا بنایا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھے نماز کا زکوٰۃ کا حکم دیا ہے۔

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور مجھے اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا بنایا ہے، سرکش اور بدبخت نہیں بنایا۔

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام و رحمت ہے۔

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ہیں اور یہ سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔

سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور بچپن کی گفتگو تشریح : سیدہ مریم کا پورا واقعہ سورة آل عمران میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو بیت المقدس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا۔ یہ محراب شرقی حصہ میں واقعہ تھی، جہاں آپ نے ایک پردہ ڈال کر اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی سیدہ مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے اور سیدنا مریم (علیہا السلام) کا انتہائی پاکدامن اور نیک ہونے کے باوجود بغیر کسی مرد کے ملے (نکاح وغیرہ) بیٹا پیدا کرنا بھی اللہ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے اللہ رحمن و رحیم کی قدرتیں، حکمتیں اور طاقتیں انسانی عقل سے باہر ہیں۔ اس نے بغیر ماں باپ کے آدم کو پیدا کیا بغیر ماں کے حوا کو پیدا کیا اور پھر بڑھاپے میں بانجھ ہونے والی ماں کو یحییٰ عطا کیا اور پھر اسی طرح سیدہ مریم (علیہا السلام) کو بغیر باپ کے اپنی قدرت سے پاکیزہ بیٹا عیسیٰ (علیہ السلام) عطا کیا جس نے اللہ کی قدرت سے ماں کی بےگناہی، پاکیزگی اور پاکدامنی کا اعلان جھولے میں لیٹے ہوئے اپنی زبان سے کیا۔ یہ ایک بہت بڑا اعلیٰ درجہ کا سائنسی معجزہ ہے جو قرآن پاک میں سورة مریم میں بیان کیا گیا ہے۔ اس معجزہ پر تمام سائنسدان دن رات محنت کر رہے ہیں کہ بغیر باپ کے یعنی جنس مخالف کے بغیر بچہ کی پیدائش ہو سکے۔ اس سے ایک مسئلہ تو حل ہوگیا، یعنی جو لوگ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں وہ کم ازکم اس کفریہ یقین سے تو ہٹ گئے ہیں ڈاکٹر نور ہلوک باقی صاحب اپنی کتاب میں یوں لکھتے ہیں : ” سیدہ مریم (علیہا السلام) کی طرف سیدنا جبرائیل (علیہ السلام) کا ایک اشعاع Irradiation یا ان پر کسی مقناطیسی ذریعہ سے اثر انداز ہونا اس حقیقت کا ایک بیان ہے۔ ورنہ تو رب جلیل کا ارشاد اس طرح ہوتا کہ ” ہم نے یہ خواہش کی اور عیسیٰ کو مریم کے پیٹ میں پیدا کردیا۔ “ اللہ کی طرف سے جبرائیل کو بیچ میں پڑنے والا واسطہ بنانے کا اعلان، اس حیاتیاتی حقیقت پر زور دیتا ہے کہ خالق مطلق کی بلاواسطہ اور خاص قسم کی دخل اندازی کی ہی ضرورت ہوتی ہے کہ تخم مادہ (او وم) اپنا کوڈ خود ہی کھول دے، اور دوبارہ پیداوار کے عمل کے ذریعے ایک نئے انسان کو وجود میں لے آئے۔ “ مزید لکھتے ہیں ” یہ ایک عظیم اور نازک ترین دانائی کی وجہ سے ہے۔ کہ اگرچہ ماں کا تخم خود اپنے تئیں ایک بچہ تشکیل دینے کی اہلیت رکھتا ہے مگر اس کو اس خاص اہلیت کے استعمال کی اجازت نہیں ہوتی۔ چناچہ اصل معجزہ بغیر باپ کے حمل ہوجانا نہیں ہے بلکہ یہ مجبوری ہے کہ بچہ باپ کے ذریعہ ہی پیدا ہو۔ مگر اس کے لیے خالق مطلق کی بلا واسطہ اور خاص قسم کی دخل اندازی ہی کی ضرورت ہوتی ہے کہ تخم مادہ (او وم) اپنا کوڈ خود ہی کھول دے اور دوبارہ پیداوار کے عمل کے ذریعے ایک نئے انسان کو وجود میں لے آئے۔ “ (قرآنی آیات اور سائنسی حقائق) جبرائیل (علیہ السلام) جو اللہ کی طرف سے اہم کام کرنے پر معمور ہیں۔ جب سیدہ مریم (علیہا السلام) کے پاس نیک بیٹے کی خوشخبری لے کر انسان کی شکل میں آئے تو انہوں نے انتہائی مختصر بات کرتے ہوئے اللہ کی پناہ چاہی۔ تو یہاں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر بحالت مجبوری کسی غیر مرد سے بات کرنی پڑجائے تو تمام حدود کا خیال رکھتے ہوئے بڑے ہی پروقار طریقہ سے بات مختصر کرنی چاہیے تاکہ شیطان کا حملہ نہ ہو اور کوئی بھی بدخیالی انسان پر طاری نہ ہو۔ اللہ کا خوف دل میں ہر وقت رکھنا چاہیے۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ تاریخ کا ایک اہم ترین واقعہ ہے۔ سیدہ مریم (علیہا السلام) پیدائش کے وقت بیت اللحم چلی گئیں جہاں سوائے اللہ کے ان کا کوئی مددگار نہ تھا تو اللہ نے ان کے لیے پکی ہوئی کھجوریں مہیا کردیں اور پانی کا چشمہ نکال دیا۔ اور پھر فرمایا کہ ” درخت کے تنے کو ہلائو پکی ہوئی کھجوریں تمہارے اوپر گریں گی۔ “ خشک تنے سے ترو تازہ کھجوریں بھی ایک عجیب معجزہ تھا یعنی جو کام ان کے بس میں تھا کرنے کو کہا گیا۔ اور باقی سب کام اللہ نے اپنی قدرت سے ان کے لیے آسان کردیے اور ان کو ایک ایسا نیک اور متقی بیٹا عطا کیا کہ جو جلیل القدر نبی کی صورت میں تا قیامت یاد کیا جاتا رہے گا۔ اور ان دونوں ماں اور بیٹے پر اللہ کی طرف سے بڑی ہی خاص رحمتیں اور برکتیں نازل کی گئیں اور کی جاتی رہیں گی۔ جیسا کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا جب کہ وہ ابھی چند دن کے بچے تھے۔ ” فرمایا جس دن میں پیدا ہوا، جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام اور رحمت ہے۔ “ (آیت 33 : سورة مریم) ایسے ہی الفاظ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے لیے بھی آئے ہیں۔ سیدہ مریم بی بی جس ثابت قدمی سے اس انتہائی سخت آزمائش میں پوری اتریں اس کی مثال نہیں ملتی۔ آپ نے اللہ کے حکم کے آگے سر جھکا دیا اور پھر اللہ کی رحمتوں کی خود بھی حق دار بنیں اور آپ کے بیٹے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نبوت کے درجہ کے حق دار بنے۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی اس طرح پیدائش میں یہ حکمت ہے کہ لوگ ان کی پیدائش دیکھ کر اللہ کی قدرت کا ٹھیک اندازہ کرلیں اور خود وہ لڑکا اللہ کی طرف سے دنیا کے لیے رحمت ثابت ہو۔ تو یہی وہ سیدنا عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہے جس کے بارے میں ہم نے سچی حقیقت بیان کردی جس میں یہ لوگ جھگڑتے ہیں۔ “ کوئی ان کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں اور کوئی سیدہ مریم (علیہا السلام) کی شادی کا ذکر کرتے ہیں۔ اور یہ دونوں باتیں غلط ہیں سچی بات وہ ہے جو اللہ نے قرآن میں بتا دی ہے۔
Ayahs 19:35–40

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

اللہ کو ضرورت نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ہے جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے ” ہوجا “ تو وہ ہوجاتا ہے۔

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور بیشک اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ تو جو لوگ کافر ہوئے ہیں ان کے لیے بڑے دن یعنی قیامت کے دن حاضر ہونے میں ہلاکت ہے۔

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

وہ جس دن ہمارے سامنے آئیں گے کیسے سننے والے اور کیسے دیکھنے والے ہوں گے، مگر ظالم آج کھلی گمراہی میں ہیں۔

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور ان کو حسرت و افسوس کے دن سے ڈرائیں جب بات کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ وہ بھول رہے ہیں اور غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

اور ہم وارث ہوں گے زمین کے اور جو کچھ اس میں ہے اور وہ ہماری ہی طرف پھر آئیں گے۔

اللہ کی شان ِبے نیازی اور قیامت کے برحق ہونے کی دلیل تشریح : یہ آیات ایک تو اللہ کی وحدانیت کو ثابت کرتی ہیں کہ وہ تو کسی کی بھی مدد سے بےنیاز ہے۔ اور جو لوگ پیغمبر کی تعلیمات سے ہٹ کر کفر و شرک کرتے ہیں تو ان کو ہوشیار ہوجانا چاہیے کہ ان کا انجام موت پر ہونے والا ہے جیسا کہ صبح سے شام تک یہ عمل ہو رہا ہے۔ کوئی مر رہا ہے کوئی پیدا ہو رہا ہے، یعنی کوئی آرہا ہے اور کوئی جا رہا ہے۔ جو جا رہا ہے اس کو سوچنا چاہیے کہ مرنے کا مطلب ہے دوبارہ زندہ ہو کر اس زندگی کے تنائج کے مطابق انعام حاصل کرنا یا پھر سزا پانا۔ ہر ایک کو اس امتحان اور نتیجہ پر نظر رکھ کر عمل کرنے چاہییں۔ یہ لفظ ” ہوجا “ اور فرمان الٰہی کہ ” ہم زمین کے اور جو کچھ اس میں ہے وارث ہوں گے اور وہ ہماری ہی طرف پھر آئیں گے۔ “ صاف طور پر سائنٹفک معنوں کی حامل ہے۔ کیونکہ ہر چیز حکم الٰہی ” ہوجا “ کا لکھا ہوا ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا پورا پورا پروگرام اس کی اصل میں یعنی ایک بیج میں اس کے پھوٹنے کا وقت بڑھنے پھولنے پھلنے اور پھر ختم ہوجانے کا پورا حساب کتاب رکھ دیا ہوا ہے اسی طرح یہ کائنات اور اس کے اندر موجود ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی ہی ملکیت ہے۔ اس نے ہر چیز کو اپنے ہی قبضہ قدرت میں رکھا ہوا ہے مگر کچھ مدت کے لیے ان کو کھلاچھوڑ دیا ہے کہ اپنی مرضی سے زندگی گزارو۔ یہ مرضی کی رعایت صرف انسان کے لیے ہے۔ انسان کی پیدائش، دوران زندگی کے واقعات اور پھر اختتام یہ سب کچھ اس قطرہ منویہ میں درج کردیا جاتا ہے جس سے اس کی تشکیل ہوتی ہے۔ مگر اس کی ابتدا اللہ کے حکم ” ہوجا “ کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ ثابت ہوگیا کہ دنیا کی ہر چیز اور خود کائنات کا وجود آسمانوں اور زمین کا وجود سب کچھ اللہ کے حکم ” ہوجا “ سے ہوتا ہے اور جب مدت پوری ہوجائے گی تو پھر دوبارہ اپنے اصلی مالک کی طرف لوٹ کر جانا ضروری ہوگا۔ اور پھر اصل مالک یہ ضرور پوچھے گا کہ بتا جو نعمتیں تجھے دی گئی تھیں ان کو کیسے استعمال کیا ؟ ظاہر ہے ہر کسی کو اس کی اپنی ہی زندگی کا حساب دینا ہوگا۔ اصل میں ” ہوجا “ قرآن کے بنیادی قوانین میں سے ایک قانون ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کو کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ ” جدید فزکس اور بیالوجی نے ہمیں بتایا ہے کہ کوئی چیز اپنی تخلیق کے ابتدائی ریاضیاتی پروگرام کو تبدیل کرنے سے ہی اپنی ہئیت کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ مثلاً فزکس میں کسی متحرک چیز کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ اس نتیجہ سے مطابقت رکھے جو اس کی تیزی (رفتار) یا فری کونسی۔ لہر کے عمل (Wave Length) اور توانائی کے باہمی عمل سے پیدا ہو۔ چناچہ سورج اور زمین کے درمیان ہزاروں اثرات میں سے گزر کر روشنی کی ایک پیلی کرن، بغیر کسی تبدیلی کے ہماری آنکھوں تک پہنچتی ہے۔ “ ( قرآنی آیات اور سائنسی حقائق) سلطان بشیر محمود صاحب اس کو کچھ اس طرح لکھتے ہیں :” سائنس دان یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ ایٹم سے لے کر بڑے سے بڑے ستاروں کے اندر اپنے اپنے کلاک ہیں، جس کے مطابق ان کے فیصلے ہوتے ہیں۔ خود انسان جینز (Genes) کا مجموعہ ہے اور ایک ایک جین کمپیوٹر کی مانند ہے۔ جس پر پیدائش سے موت تک کے تمام پروگرام درج ہیں۔ اور وہ خود بخود زندگی کو اس پہلے سے لکھے ہوئے محفوظ دستاویز کے مطابق چلاتے رہتے ہیں۔ “ (قیامت اور حیات بعدالموت) مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان، زمین اور اس کی ہر چیز اللہ کی حاکمیت میں جکڑی ہوئی ہے۔ جو بھی بندہ اس کی بندگی سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں رسوا ہوتا ہے۔ یہی اللہ کا حکم ہے اور یہی اس کا قانون ہے۔ یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کے ذریعے بتا رہا ہے۔ حدیث ہے :” اللہ کی قسم مجھے از خود نہیں معلوم، بخدا میں خود نہیں جانتا کہ میرے اور تمہارے معاملے میں آخرت کے روز کیا کیا جائے گا، حالانکہ میں اللہ کا رسول ہیں۔ “ (بخاری) ” اے اللہ ہم سے آسان حساب لینا۔ “ آمین۔