Ayahs 19:41–50سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت اور اللہ کا ان پر فضل و کرم
تشریح : یہاں سے پھر اہل مکہ کو خطاب کیا جا رہا ہے۔ اور ان مسلمانوں کو جو کفار مکہ کی دشمنی کی وجہ سے مکہ کو چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے کردار اور صفات کی وجہ سے یہودی، عیسائی، کفار مکہ اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مکرم و محترم سمجھے جاتے ہیں سب ہی مذاہب میں ان کی بےحد بلند جگہ سمجھی جاتی ہے۔
کفار مکہ کو یاد کروایا گیا کہ تم کو جب بتوں کی پوجا سے منع کیا جاتا ہے تو تم لوگ کہتے ہو ” ہمارے آباو اجداد یہی کرتے آئے ہیں اور ساتھ ہی تم لوگ ملت ابراہیمی کے پیروکار ہونے پر فخر بھی کرتے ہو۔ تو یہ دہری پالیسی کیسے اختیار کیے ہوئے ہو۔ اگر تم لوگ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا جد امجد مانتے ہو تو پھر بت پرستی کیسی۔ انہوں نے تو بت پرستی کی وجہ سے ہی اپنے ماں باپ، رشتہ دار، عزیز دوست اور اپنا وطن چھوڑ دیا تھا۔ دوسرا پہلو اس میں ان مسلمانوں کو تسلی دینا مقصود ہے جو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے تھے۔ ان کو مثال دی جا رہی ہے کہ جس طرح سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی خاطر وطن چھوڑ کر عزت و احترام اور دائمی شہرت اور اللہ کی قربت حاصل کی تمہیں بھی کوئی نقصان نہ ہوگا بلکہ فتح و کامیابی ضرور ملے گی۔ ان شاء اللہ۔
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) پیغمبر فطرت ہیں انتہائی نرم مزاج، مستقل مزاج اور معمار کعبہ ہیں اور آپ کو سیدنا محمد ﷺ کا جد امجد ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ آپ نے دین ابراہیمی کی بنیاد رکھی یعنی توحید کا سبق دیا کہ اللہ ایک ہے اس کی عبادت ہی کرو۔ یہی دعوت جب آپ نے اپنے والد کو بڑے احترام سے دی تو انہوں نے بڑی سختی سے انہیں ہجرت کر جانے کو کہا۔ لہٰذا آپ نے ان کو سلام کہا اور مغفرت کی دعا کرنے کا وعدہ کیا اور پھر اپنے آبائی وطن ” کلدانیہ “ سے ہجرت کر کے ملک شام میں جا آباد ہوئے۔ آپ کی پوری زندگی آزمائشوں میں گزری۔ آپ نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے بیشمار قربانیاں دیں۔ یہ ان قربانیوں کا ہی تو انعام ہے کہ ان کی یاد میں ارکان حج کے بےحد اہم رکن قربانی، طواف، سعی اور پھر درود پاک میں آپ کا نام اور آپ کی آل اولاد کا نام ضروری طور پر شامل کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ آپ کو ویسے ہی تو نہیں مل گیا۔ ہمیں مسلمانوں کو ان کی پاکیزہ زندگی کا بڑے غور سے مطالعہ کرنا چاہیے اور ان کے اسوہ کو اپنا کر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے اندر سوائے اللہ کے اور کسی کا بھی کوئی خوف پیدا نہ ہونے دیں۔ کسی بھی بڑی سے بڑی طاقت کے سامنے جھکنے کی بجائے پورے یقین اعتماد اور کامل بھروسہ رکھتے ہوئے اللہ کی راہ اختیار کریں اسی میں کامیابی اور عزت ہے اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کا راز بھی۔ جو شخص یا قوم اللہ پر پورا بھروسہ کرتے ہوئے شیطان کے خلاف کھڑی ہوجائے اللہ اس کی مدد ضرور کرتا ہے یہ اس کا وعدہ ہے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور آنحضرت ﷺ کی زندگیوں سے ہمیں اسلام کی تبلیغ کرنے کے سلسلے میں چند اصول ملتے ہیں۔
(1) اپنی ذات سے کردار کا نمونہ پیش کیا جائے، یعنی جب اس راہ پر چل پڑیں تو دنیا کی کوئی چیز اس راہ پر چلنے سے ہرگز ہٹا نہ سکے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا :
” لہٰذا اسی دین کی طرف تم دعوت دو اور جس طرح تم کو حکم دیا گیا ہے اس پر ثابت قدم رہو اور کہو کہ اللہ نے جو کتاب نازل کی ہے اس پر ایمان لایا ہوں۔ “ (سورۃ الشؤرٰی آیت : 15 )
(2) دعوت کو انتہائی خوبصورت، آسان، موثر اور دلائل کے ساتھ لوگوں کی عقل کے مطابق ان کے سامنے پیش کیا جائے۔
(3) ظلم و ستم، زبردستی اسلام کی دعوت میں ہرگز منع ہے۔ اور فرض کیا گیا ہے کہ جس معاشرے میں بھی مسلمان رہ رہا ہو۔ وہاں کے ہر قانون کی سختی سے پابندی کی جائے۔
(4) صبر و سکون سے ہر مرحلہ طے کیا جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “
(5) ہجرت۔ جہاں ظلم و ستم انتہا سے بڑھ جائیں تو وہاں طاقت کا جواب طاقت سے دینے کی بجائے ہجرت کر جانا بہتر ہے۔ جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے کی، سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ نے کی اور کئی پیغمبروں نے ہجرت کی۔ جیسا کہ قرآن میں اصحاب کہف کے بارے میں آیا ہے :
” بیشک اگر وہ ہمارا پتہ لگانے میں کامیاب ہوگئے تو ہم کو سنگسار کردیں گے یا ہم کو اپنی ملت کی طرف واپس جانے پر مجبور کردیں گے۔ “ ( سورة کہف آیت :20 )
یہ سب مثالیں صرف اس لیے دی جا رہی ہیں تاکہ یہ اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ دین کو قبول کرنا، اس پر قائم رہنا اور پھر اس کی تبلیغ کرنا آسان کام نہیں۔ اس میں مذکورہ تمام مشکلات اٹھانی پڑتی ہیں۔ مگر یہ اسلام کی راہ میں ہرگز مشکل نہیں کیونکہ جب جذبہ سچا ہو اور لگن پاکیزہ ہو اور مقصد بلند ہو، پھر عقیدہ پختہ ہو اور منزل قربت الہ العلمین ہو تو پھر ڈر کیسا ؟ پھر تو ہر قدم، ہر سانس، ہر کام عبادت ہی عبادت میں شمار ہوجاتا ہے۔ کیا بہترین طریقہ ہے مسلمان کی کامیاب زندگی کا مگر افسوس اس بات کا ہے کہ آج کے مسلمان نے اپنی عادات، اعتقادات، معیشت، معاشرت، تمدن اور بود و باش میں قرآنی قوانین کو یکسر بھلا دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم کافی حد تک پستی کی طرف جا رہے ہیں اور اپنی پہچان سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ جب کہ ہماری پہچان اقبال کی نظر میں کچھ اس طرح ہے ؎
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
ایک بہت بڑا نعام جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو دیا گیا وہ ہے پاکیزہ اولاد اور پاکیزہ پوتا جن کو نبوت کے بہترین اعزاز سے نوازا گیا۔ دو مسئلے ہمیں ان آیات میں سے اور ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ غیر مسلم کو سلام کرنا چاہیے یا نہیں ؟
رسول مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہود ونصارٰی کو سلام کرنے میں پہل مت کرو۔ مزید فرمایا : جب تمہیں اہل کتاب سلام کریں تو تم انہیں صرف ” وعلیکم “ کہا کرو۔ (صحیح بخاری صحیح مسلم )
دوسرا مسئلہ ہے کفا رکے لیے مغفرت کی دعا کرنے کا۔ تو اس سے اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں منع فرمایا ہے۔ کیونکہ کفر اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کی مغفرت ناممکن ہے۔ اللہ نے منع فرمایا ہے کافر کی مغفرت کے لیے دعا کرنے سے۔ جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کی محبت میں کہہ دیا کہ میں آپ کی مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا اسی طرح سیدنا محمد ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کی مغفرت کی دعا کرنے کا کہا کیونکہ ان سے بےحد محبت کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے مشرک کی مغفرت سے منع فرما دیا فرمان رب العلمین ہے۔
” نبی اور ایمان والوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ مشرکین کے لیے استغفار کریں۔ “ ( سورة توبہ)
اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ نے چچا کی محبت سے زیادہ اللہ کی محبت کو جانا اللہ کے حکم کی اطاعت کی اور چچا کی مغفرت کی دعا کرنا چھوڑ دی۔ مشرک کی زندگی میں اس کو توبہ کی ہدایت کرنا اور اللہ سے اس کی ہدایت کے لیے دعا کرنا جائز ہے مگر مرنے کے بعد اس کے لیے معافی کی دعا کرنا بالکل ناجائز اور منع ہے۔
Ayahs 19:51–53سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون (علیہما السلام) کا تذکرہ
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد کچھ اور پیغمبروں کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر مختصر الفاظ میں یوں کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ ان کے بارے میں تفصیلاً پہلے گزر چکا ہے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے خاص طور پر چن لیا تھا، یعنی رسول بنایا۔ نبی اور رسول کا مطلب ایک ہی ہے کیونکہ نبی کا مطلب ہے خبر دینے والا اور رسول کا مطلب ہے اللہ کا پیغام دینے والا، یعنی ایسا خاص، عالی مرتبہ، نیک خصلت اور پاکیزہ متقی انسان جس کو اللہ تعالیٰ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے اپنی طرف سے کتاب ہدایت دے کر مقرر کر دے کہ اللہ کے بتائے ہوئے زندگی گزارنے کے بہترین اصول و قوانین لوگوں تک پہنچا دے تاکہ لوگ توحید اور شرک، نیکی اور بدی میں فرق جان لیں اور پھر راہ ہدایت پر چلنے کی کوشش کریں اور آخرت میں جنت حاصل کریں، دوزخ کے عذاب سے بچ سکیں۔
موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے خاص عزت یوں دی کہ آپ کو کوہ طور پر بلایا اور ان سے کلام کیا۔ یہاں ذکر ہے کہ کوہ طور کی داہنی جانب بلایا، یعنی پہاڑ کا مشرقی دامن۔ سیدنا موسیٰ مدین سے مصرجاتے ہوئے پہاڑ کے جنوب سے گزر رہے تھے تو یوں کوہ طور کے دائیں جانب مشرق اور بائیں جانب مغرب ہوا۔ لہٰذا طور کے مشرقی دامن کو داہنی جانب کہا گیا، ورنہ پہاڑ کا دایاں، بایاں رخ تو ہوتا نہیں۔ پھر ان پر یہ مہربانی کی کہ مددگار کے طور پر ان کے بھائی ہارون کو بھی نبوت دے کر ان کے ساتھ کردیا۔ تاکہ دونوں مل کر مصر جائیں اور فرعون کو سمجھائیں کہ ظلم و ستم سے باز آجائے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دے۔ اسی طرح دوسرے کئی نبیوں کا ذکر کیا گیا۔
Ayahs 19:54–58مختلف انبیاء کا مختصر ذکر
تشریح : سیدنا اسحق، سیدنا موسیٰ ، سیدنا ہارون اور سیدنا اسمعٰیل (علیہم السلام) کا ذکر بڑے پیارے انداز میں کیا گیا ہے۔ یہ سب انبیاء بڑے ہی نیک، مستقل مزاج اور مقبول الٰہی بندے تھے ان میں سے ایک اسماعیل (علیہ السلام) تھے۔ اللہ نے ان کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے ” اور بیشک وہ وعدے کے سچے اور ہمارے نبی تھے ! اور اپنے گھر والوں کو نمازو زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے تھے اور وہ اپنے رب کے پسندیدہ تھے۔ “
سیدنا ادریس (علیہ السلام) کا زمانہ سیدنا آدم (علیہ السلام) اور سیدنا نوح (علیہ السلام) کے درمیان کا زمانہ تھا۔ آپ کو بھی رب العزت نے ایک خاص مقام دیا تھا آپ بڑے سچے متقی اور علوم و فنون میں بڑا اونچا درجہ رکھتے تھے۔ یہ سب ایسے اچھے اور بہترین انسان تھے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح سے اپنے فضل و کرم سے مالا مال کر رکھا تھا۔ یہ لوگ وعدے کے سچے اور نماز و زکوٰۃ پر سختی سے پابندی کرنے والے اور رشد و ہدایت کی تلقین کرنے والے متقی لوگ تھے۔ یہ تمام لوگ سیدنا آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے چنے ہوئے خاص لوگ تھے اور یہ لوگ ان برگزیدہ لوگوں کی نسل میں سے تھے جن کو طوفان نوح سے بچانے کے لیے کشتی میں سوار کروا دیا گیا تھا۔ ان لوگوں میں اللہ کا خوف اور انکساری اس قدر موجود ہے کہ جب بھی ان کے سامنے اللہ کی نازل کردہ آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ عجزو انکسار سے سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زارو قطار روتے ہیں یہ سب اللہ کے خوف اور اس کی بندگی کا نشان ہے۔ یہ آیت 58 سورة سجدہ کی آیت ہے یعنی جو بھی کوئی اسے پڑھے یا سنے سجدہ ادا کرے۔ مطلب یہ ہے کہ عاجزی و انکساری انسان کی بہت بڑی صفت ہے۔ کسی بھی صورت سے چاہے مالی ہو، روحانی ہو عزت و وقار کا معاملہ ہو کبھی بھی غرور نہیں کرنا چاہیے۔ غرورو تکبر اور اللہ سے دوری، غفلت کسی صورت میں اللہ رب العزت کو پسند نہیں۔
Ayah 19:59نماز چھوڑنے اور گمراہ ہونے والے
تشریح : سیدنا آدم (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا محمد ﷺ تک لوگوں کا یہی دستور رہا ہے کہ اپنے بھیجے ہوئے نبی کی تعلیمات کو اتنی دیر پا رکھا جتنی دیر نبی موجود رہے سوائے آخری نبی اور آخری کتاب قرآن پاک کے باقی تمام انبیاء کی لائی ہوئی کتابوں کو ہی بدل دیا گیا اور پھر فسق و فجور میں ایسے گم ہوئے کہ آخرت کا خیال ہی نہ رہا۔ نماز کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ ایسی عبادت ہے کہ جو زندگی کی مصروفیات میں اعتدال پیدا کرتی ہے اور دن کے ہر اہم حصہ میں یاد دلاتی ہے کہ اپنے رب کو یاد کرو۔ اس سے ملاقات کرو۔ اس سے مدد مانگو (کسی اور سے مدد مت مانگو) وہ تم پر رحمتوں اور برکتوں کی بارش کر دے گا۔ اگر کوئی گناہ ہوگیا ہے تو بھی اللہ کے آگے جھکو اور فوراً توبہ کرلو غرض نماز ہماری زندگی کی سلوٹیں نکال دیتی ہے۔ اور تازہ تازہ استری شدہ زندگی ملتی رہتی ہے۔ جبکہ نماز سے دوری انسان کو نفسانی خواہشات میں پھنسا کر اتنی دور لے جاتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو بھی بھول جاتا ہے اور صرف خواہشات کے پیچھے ہی بھاگنا شروع کردیتا ہے۔ اور پھر اسے اپنی اصل منزل یعنی موت، قبر اور قیامت سب کچھ بھول جاتا ہے۔ خواہشات کا نشہ اس کے اوپر جن کی طرح سوار ہوجاتا ہے ایک نشہ کی طرح اس کو مدہوش کردیتا ہے۔ اور جب وہ مرتا ہے تو سب کچھ یہاں چھوڑ کر گندا اعمال نامہ لے کر دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ تو اس کو وہاں کیا ملے گا۔ بہت برا بدلہ اور بہت برا ٹھکانا۔ اور یہ بہت جلد ہونے والا کام ہے۔ کیونکہ زندگی کی مدت زیادہ طویل نہیں ہوتی۔ اور یوں سمجھ لیں کہ یہ مہلت بڑی ہی تھوڑی ہے۔ یہ رابطہ جو نماز کے ذریعہ انسان کو ملا ہوا ہے اللہ کے ساتھ جڑ نے کا، اس سے لاپرواہی سراسر نقصان کا ہی باعث ہے۔ اگر دنیا ہی میں اس کا احساس ہوجائے تو عیش ہی عیش ہیں۔ دنیا اور آخرت میں بھلائی حاصل ہوتی ہے۔
Ayahs 19:60–63نیک لوگوں کے لیے انعامات
تشریح : ان آیات میں ایسے لوگوں کے انعامات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوئے اور پوری شرائط کے ساتھ توبہ کرلی اور پھر کبھی غلط راستوں کا رخ نہ کیا تو ان لوگوں سے ایسی بہشت کا وعدہ کیا گیا ہے جو بہترین زندگی کا نمونہ ہوگی یہ تو راز کی بات ہے کیونکہ کسی نے اپنی آنکھوں سے اسے نہیں دیکھا یہ تو اللہ کا وعدہ ہے جو کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ اور اس جنت کو حاصل کرنا آسان کام نہیں اس کے لیے پوری زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزارنی ضروری ہے۔ جس سے جنت حاصل ہوگی۔
جنت کا تصور ہی انسان کو باغ و بہار کردیتا ہے۔ اور پھر سونے پہ سہاگہ کہ یہ دنیاوی عیش و آرام کی طرح نہ ختم ہوگا اور نہ ہی اس عیش و آرام سے انسان اکتائے گا۔ یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوگا۔ مگر صرف پرہیزگاروں کے لیے ہوگا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ کسی انسان کا نہیں کہ پورا ہونے میں شک و شبہ ہو۔
Ayahs 19:64–65فرشتے حکم الٰہی کے پابند ہیں
تشریح : فرشتوں کا ذکر یہاں اچانک آرہا ہے۔ حدیث صحیح بخاری میں اس کا شان نزول (نازل ہونے کا مقصد) یوں بیان کیا گیا ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) سے یہ آرزوظاہر فرمائی کہ ذرا زیادہ آیا کرو، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس میں جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنی حیثیت، اپنا کام اور اللہ کی حاکمیت اور قدرت کا اظہار پوری طرح سے کردیا کہ میں آپ اور سب چیزیں تمام مخلوقات صرف اسی کے حکم کی پابند ہیں، اس لیے اس پر مکمل بھروسہ رکھو۔ دل و جان سے صرف اسی کی ہی عبادت کرو۔ اور غور کرو تو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کا نام اور اس کے تمام صفاتی نام صرف اسی کے ہی ہیں۔ کوئی شخص کوئی طاقت اور کوئی چیز اس کے کسی نام میں نہ مقابلہ کرسکتی ہے نہ ہم معنی ہوسکتی ہے اور نہ ہی کبھی ہو سکے گی۔ اللہ کے صفاتی نام 99 ہیں اور ان تمام ناموں میں کون ہے جو اس کا مقابلہ کرسکے مثال کے طور پر الہ کا مطلب ہے معبود (جس کی عبادت کی جائے۔ ) عبادت کس کی ہونی چاہیے ؟ کس کے سامنے سجدہ کر کے اپنی حیثیت کی نفی ہوسکتی ہے۔ (یعنی اپنے کو کم ترین، کمزور ترین، بےبس اور لاچار سمجھنا) اور پھر اس سے ہر طرح کی مدد مانگی جاسکتی ہے۔ اس کو اپنا سب سے بڑا مددگار رحیم و کریم اور مہربان سمجھا جاسکتا ہے۔ کون ایسا ہوسکتا ہے جو ہمیں پیدا کرسکتا ہے ؟ کیا ہماری پیدائش کا ذریعہ اللہ اور اس کی پیدا کی ہوئی ماں کے سوا کسی بھی اور طریقہ سے ہوسکتی ہے ؟ کیا ہمیں ماں جیسی مہربان ہستی اللہ کے سوا کوئی اور دے سکتا ہے ؟ اور پھر ہماری ساری زندگی کے سامان، زندہ رہنے کے سامان، ہوا، پانی، روشنی، پھول، پھل، رہنے کو زمین اور حفاظت کے لیے آسمان (آسمان بہت زیادہ فضائی مشکلات سے ہمیں بچاتا ہے۔ سورج کی بےپناہ تپش اور ہر وقت شہاب ثاقب کی بارش اور بیشمار فضائی آفات سے آسمان کا غلاف ہمیں بچاتا ہے) کیا یہ سارا بندوبست اللہ کے سوا کوئی اور کرسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں دنیا کی کوئی طاقت یہ سب کچھ تو بڑی بات ہے، ایک تنکا تک نہیں بنا سکتی خود اپنی قدرت سے۔ تو پھر کون سے ایسے جذبات ہیں جو لوگوں کو اس خالق ومالک کی عبادت سے روک کر انسانوں کے سامنے جھکنے پر مجبور کرتے ہیں ؟ حاجت روائی کے لیے پتھروں، بتوں، پہاڑوں، دریائوں، سورج، چاند، ستاروں، دیوی دیوتائوں اور طاقتور ملکوں کے سامنے جھکنے پر مجبور کردیتے ہیں ؟ آخر لوگوں کا یقین اللہ پر اس قدر مضبوط کیوں نہیں ہوجاتا کہ اللہ رب العلمین ہی کو پکاریں۔ اس اللہ کو پکاریں جس کے علاوہ کوئی الٰہ ہی نہیں۔ الہ کا مطلب ہے خاص وہ جو حاجت پوری کرتا ہے، پناہ دیتا ہے، سکون دتیا ہے۔ جو سب سے بالاتر ہے۔ جو بالا دستی دیتا ہے۔ شرک کیا ہے ؟ صرف یقین کی کمزوری جو انسان کو بلندی سے پستی میں گرا دیتی ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی انسان کو ذلیل و خوار کردیتی ہے۔ کیوں نہ قرآن کی ہدایات پر عمل کر کے اپنے آپ کو شرک کی غلاظت سے پاک صاف رکھا جائے۔ قرآن پاک میں بار بار اللہ کی وحدانیت پر زور دیا گیا ہے شرک سے منع کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے۔ ” اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو نہ پکارو اس کے سوا کوئی الہ نہیں۔ ( سورة قصص آیت : 88) دلوں کو سکون صرف اللہ ہی بخشتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا :
” اور وہ ذات باری ہے جو انسانوں کے دلوں پر سکون اتارتی ہے تاکہ وہ اپنے ایمان میں اضافہ کریں۔ “ ( سورة الفتح آیت : 4 )
ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ جب بھی ہم کسی دوسرے شہر یا ملک کے لیے سفر پر نکلتے ہیں تو ہم وہاں کے موسم، رسم و رواج اور راستہ کی طوالت (دوری) کے مطابق بندوبست کرتے ہیں سامان اور کھانے پینے کا بندوبست اس لحاظ سے کرتے ہیں کہ راستہ میں اور وہاں پہنچ کر کوئی پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔ اسی طرح یہ زندگی بھی ایک سفر ہے اور ہماری منزل قبر ہے۔ جبکہ قبر صرف جسم کی پناہ گاہ ہے روح کی پناہ گاہ دوسری دنیا میں موجود ہے۔ پہلے عالم برزخ اور پھر قیامت یوم الحساب، پھر سزا یا جزا۔ اس منزل کو آسان ترین اور بہترین کرنے کے لیے ہم نے اللہ کو وسیلہ بنا لیا ہے جو کہ سب سے بہترین وسیلہ ہے اس نے ہمیں قرآن کتاب ہدایت دے دی ہے اور قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں (اینٹیں) یہ ہیں۔ (1) الٰہ۔ (2) رب۔ (3) عبادت۔ (4) دین۔
یہی پیغام فرشتے نے آنحضرت ﷺ اور پورے ابن آدم کو دیا ہے۔ ” تمہارا رب بھولنے والا نہیں۔ آسمانوں اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے سب کا رب ہے، تو اسی کی عبادت کرو اور اس کی عبادت پر ثابت قدم رہو۔ بھلا تم کوئی اس کا ہم نام جانتے ہو۔ “ ؟ ( سورة مریم آیت : 65 )
اس سے زیادہ اور کیا وضاحت ہوسکتی ہے ؟ سمجھنے والے کے لیے تو صرف ایک لفظ ” اللہ “ ہی جھک جانے کے لیے کافی ہے نہ سمجھنے والوں کے لیے آپ کچھ بھی کرلو جھک نہیں سکتے۔ ایسے ہی بدنصیب لوگوں کے بارے میں اگلی آیات میں وضاحت کی گئی ہے۔ اور قیامت کے احوال ہیں۔
Ayahs 19:66–72دوبارہ زندہ ہونا، قیامت اور پل صراط کا بیان
تشریح : جب کفار نے دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب کتاب کے بارے میں سنا تو بولے یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس کا آسان سا جواب ہے اگر اللہ نے ہمیں یہاں زندگی دی ہے جو کہ یقینی طور پر موت آنے پر ختم ہوجائے گی تو سوچنے کی بات ہے کیا اللہ نے ہمیں بےمقصد پیدا کیا ہے ؟ ہرگز نہیں ہمیں ضرور پوچھا جائے گا کہ دنیا میں کیا کیا ؟ اور یہی حساب کا دن ہوگا۔ اور اسی کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے۔ ” پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔ “ (مریم آیت :72 )
یہ سب غائب کی باتیں ہیں جن کے بارے میں ہمیں پہلے سے بتا دیا گیا اور مہلت بھی دی گئی ہے۔ انسانی عقل ان غائب کے معاملات کو، اللہ کی ذات کو صرف اتنا ہی جان سکتی ہے جتنا اللہ نے اس کو بتا دیا ہے۔ اس سے آگے انسان مجبور و بےبس ہے۔ ڈاکٹر کا منے ڈو نوائے نے اپنی کتاب The Human Destuny میں لکھا ہے۔ ” اگر ہم سائنس کے جمع شدہ سرمایہ کا تنقیدی مطالعہ کریں اور اس سے منطقی اور عقلی نتائج جمع کریں تو یہ نتائج لازمی طور پر ہمیں اللہ تک لے آتے ہیں۔ “
(از The Observer London 13 April 1930. )
اس لیے اللہ کی نشانیاں جو ہمارے چاروں طرف بکھری پڑی ہیں ان سے اللہ کو پہچان کر اس کی بتائی ہوئی راہوں پر چل کر نجات حاصل کرنے کا بندوبست کرنا چاہیے۔ آیت نمبر 1 تا 7 میں پل صراط کا ذکر ہے، یعنی جہنم کے اوپر جو پل قائم کیا جائے گا اس پر سے ہر ایک نے گزرنا ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ہم نے پوچھا کہ پل صراط کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ ایک پل ہے جو جہنم کی پشت پر رکھا جائے گا۔ (صحیح بخاری )