18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 18:1–5

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

سب تعریف اللہ ہی کی ہے جس نے اپنے بندے (محمد ﷺ پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی اور پیچیدگی نہ رکھی۔

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

بلکہ سیدھی اور آسان اتاری تاکہ لوگوں کو سخت عذاب سے جو اس کی طرف سے آنے والا ہے ڈرائے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ ان کے لیے ان کاموں کا نیک بدلہ (بہشت) ہے۔

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو بھی ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا۔

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

یہ ان کو اس بات کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ ہی ان کے باپ دادا کو ہی تھا۔ یہ بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں محض جھوٹ ہے۔

قرآن کی شان اور غلط اعتقاد تشریح : قرآن پاک اور اس کے نازل کرنے والے کی تعریف اور جس پر نازل کی گئی ان سب کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب لکھتے ہیں : نزول قرآن کا اصل مقصد نفس انسانی کی تہذیب، باطل عقائد (جھوٹے عقیدے) اور فاسد اعمال (برے کام) کی تردید ہے قرآنی نقطہ نظر سے حیات ایک وحدت ہے۔ اس لیے تعلیمات قرآنی جسم و روح کے تمام تقاضوں پر محیط (گھیرے ہوئے) ہے۔ تمام کائنات میں خدائی قانون (اللہ کے قانون) کی بالا دستی ایک بنیادی حقیقت ہے اور اس کا اطلاق (جاری ہونا) تمام انسانوں پر رتبہ، قوت، رنگ، زبان اور جغرافیائی تفریق کے باوجود یکساں طور پر ہوتا ہے۔ (از الفوز الکبیر) شاہ صاحب نے بڑی ہی خوبصورت وضاحت کی ہے، جس پر یہ قرآن نازل ہوا، یعنی مقبول الٰہی، محسن انسانیت اور آخری نبی، یعنی نبی آخر الزمان۔ کسی صحابی نے آپ کے اخلاق کے بارے میں حضرت عائشہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” آپ کا اخلاق تو قرآن ہی ہے۔ “ (مسند امام احمد) یہ دونوں چیزیں کس قدر بڑی اور فائدہ مند نعمتیں ہیں جو رب ذوالجلال، مالک و خالق کائنات نے انسانوں کو عطا کی ہیں یہ الہ العٰلمین ہمیں دکھائی نہیں دیتا، اس کا مقام اور رتبہ اس قدر بلند ہے کہ ہماری آنکھ ان کو ہرگز دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتی تو پھر ہم اللہ کا تصور کس طرح کرسکتے ہیں۔ وہ اس طرح کرسکتے ہیں کہ جب ہم اپنے جسم کی بناوٹ پر غور کریں اور پھر چاروں طرف کائنات پر نظر دوڑائیں تو ہم دیکھتے ہیں ہمارے جسم کی بناوٹ کس قدر عجیب ہے اور پوری کائنات کس قدر حسین ہے۔ دریا، ہوائیں، پہاڑ، گھٹائیں، سمندر، پھل، پھول اور تمام مخلوقات یہ سب اگر ہمیں اللہ کی پہچان نہیں کروا سکے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر ہم نہ مسلمان ہیں اور نہ ہی مرنے کے بعد جنت کے حق دار ہو سکیں گے۔ اس جنت میں جانا اور پھر اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنے کا وعدہ بھی اللہ نے کیا ہے۔ مگر ان لوگوں کے لیے بھی بڑی بری خبر ہے جو اللہ کو نہیں مانتے یا یہ کہتے ہیں کہ ” اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے۔ “ یہ اشارہ یہود و نصاریٰ کی طرف ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے رسولوں کی تعلیمات کو بدل کر کسی نے تین خدا بنا لیے اور کسی نے اپنے نبی کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ اور پھر اس غلط بات پر اس قدر سختی سے پابند ہوگئے کہ یہ انتہائی غلط اور جھوٹ بات نسل در نسل ان میں چلتی چلی آرہی ہے۔ یہ بہت بڑا جھوٹ اور شرک ہے اور شرک بہت بڑا ظلم ہے جو یہ لوگ اپنے اوپر کر رہے ہیں۔ جب کہ قرآن پاک میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے۔ اللہ نے فرمایا : ” بھلا وہ کون ہے جو تخلیق کا آغاز کرتا ہے اور پھر اسے دہراتا ہے ؟ وہ کون ہے جو زمین و آسمان سے تمہیں رزق پہنچاتا ہے ؟ کیا اللہ کے سوا اور خدا بھی ہیں ؟ انہیں کہیے کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔ “ (سورۃ النمل آیت 64 ) یہ تو بڑی عام سی بات ہے کہ اللہ تو ایک ہی ہے اگر دو یا چار اللہ ہوتے تو ضرور ان میں لڑائی ہوتی اور جب لڑائی ہوتی تو یہ نظام کائنات اس قدر مناسب اور ایک ہی طریقہ پر یوں ہمیشہ نہ چلتا رہتا۔ اور اللہ کی سلطنت یوں قائم و دائم نہ رہتی کچھ نہ کچھ کھلبلی تو ضرورپیدا ہوتی۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے۔ ” تم اللہ رحمن کی صفت کے اندر کوئی کسر نہ پا سکو گے، اپنی نگاہ دوڑائو، کیا پاتے ہو کوئی رخنہ ؟ پھر بار بار نظر دوڑائو، تمہاری نگاہ تھک کر پلٹ آئے گی مگر کوئی رخنہ نہ پا سکے گی۔ “ (سورۃ الملک آیت : 4-3 ) پھر فرمایا ” بیشک اس کے اندر یاد دہانی ہے، اس کے لیے جس کے پاس بیدار دل ہو، یا وہ پوری طرح متوجہ ہو کر بات سنے۔ ( سورة ق آیت : 37 ) جو لوگ اللہ سے انکار کرتے ہیں یا اللہ کے ساتھ کسی کو اس کا شریک بناتے ہیں یہ سمجھ تو رکھتے ہیں کہ یہ غلط بات ہے مگر مانتے نہیں۔
Ayahs 18:6–8

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ﷺ اگر یہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے رنج کر کے اپنے آپ کو ہلاک کردیں گے۔

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

جو چیز زمین کے لیے ہے ہم نے اس کو زمین کے لیے آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے ؟

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور جو چیز زمین پر ہے ہم اس کو ختم کر کے چٹیل میدان کردیں گے

لوگوں کے ایمان نہ لانے پر رسول ﷺ کا افسوس تشریح : ان آیات میں ایک بہترین انسان کی خصوصایت بیان کی گئی ہیں۔ کہ وہ کس حد تک فرض شناس، محسن انسانیت، خلقت رحمن سے پیار کرنے والا ان کو ہر مصیبت اور پریشانی سے بچانے والا، ہمدرد، مخلص اور مہربان ہے ان کی بھلائی کے لیے ہر وقت بےچین اور بےسکون رہتا ہے ان کو دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے بچانے کے لیے دن رات محنت اور کوشش کرتا رہتا ہے اور یہ محبوب الٰہی کون ہوسکتا ہے ؟ یہ ہیں پیارے رسول ﷺ اللہ ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ کیوں اس قدر فکر مند ہو رہے ہیں کہ اپنی جان تک کو تنگ کر رکھا ہے۔ آپ کا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے آگے ان لوگوں کا اپنا کیا اپنے کام آئے گا۔ آپ ان کے اعمال کے ذمہ دار ہرگز نہیں۔ اس طرح کی تسلی کے الفاظ قرآن پاک میں کئی دفعہ آچکے ہیں۔ پھر الہ العلمین اپنے طریق کار کا ذکر اس انداز میں کرتے ہیں کہ زمین کی آرائش کا سامان ایک تو انسان کے فائدہ کے لیے اور دوسرے اس کی آزمائش کے لیے کیا گیا ہے۔ آرائش سے مراد پھل پھول، ندی نالے، پہاڑ، صحرا اور بیشمار حسین مناظر جو صبح کے طلوع اور شام کے غروب ہوتے وقت دیکھے جاتے ہیں ایسے ایسے حسین منظر دیکھنے میں آتے ہیں کہ جن کو مصور اپنے ہاتھوں سے تصویر کشی کر کے شہرت کماتا ہے اور پھر کبھی ان کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرلیتا ہے۔ تو اللہ نے یہ تمام حسن و آرائش زمین کو بےمقصد عطا نہیں کیے بلکہ لوگ ان تمام چیزوں سے بیشمار فائدے اٹھاتے ہیں اور اللہ کا یہ دستور ہے کہ وہ انسان کو ہر نعمت دے کر آزماتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ ہر صورت اللہ کی رضا سے شکر ادا کرتے ہوئے اس کی ہر نعمت کو انتہائی احتیاط اور ایمانداری سے بالکل مناسب طریقہ سے یوں استعمال کرے کہ نہ تو ضائع ہو اور نہ ہی ناجائز جگہ پر استعمال ہو۔ مثلاً سبزے کو اللہ نے زمین کا زیور کہا ہے۔ ہمارے کئی مہربان جنگل سے درخت چوری کرتے ہیں اور پھر جنگل میں آگ لگا دیتے ہیں۔ ان کو نہ تو اللہ کا خوف آتا ہے اور نہ ہی ملکی اور انسانیت کے اس نقصان کا خیال آتا ہے جو وہ اپنے چھوٹے سے گناہ کو چھپانے کے لیے ماچس کی ایک تیلی سے کردیتے ہیں۔ ان کو ذرا خیال نہیں آتا کہ وہ اس قدر ظلم اور بربادی کر رہے ہیں۔ یہ درخت جو کئی سالوں کے بعد جوان ہو کر ملکی سرمایہ بنے تھے یوں جل کر راکھ ہوگئے ہیں۔ یہ تو ایک چھوٹی سی مثال ہے اسی طرح بیشمار طریقوں سے انسان زمین کے حسن کو برباد کرتا ہے اور اپنے لیے عذاب کا سامان مہیا کرتا رہتا ہے۔ ہر شخص کو اس قسم کے ظلم اور گناہ سے خود بھی بچنا چاہیے اور دوسروں کو بھی بچاتے رہنا چاہیے۔ اللہ ہم سب پر رحم کرے۔ آمین اور پھر اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا ہے کہ اس کی قدرت اور عذاب سے ڈرو کیونکہ جب چاہے گا اس زمین کی تمام رونقیں اس کا تمام حسن ملیامیٹ ہوجائے گا اور یہ زمین چٹیل میدان کی طرح بےآب وگیاہ و ویران اور بنجر ہوجائے گی۔ اللہ کا خوف اور گناہوں سے بخشش مانگتے رہنا چاہیے۔ انسان کی اتنی ہی حیثیت ہے اور اسی میں خیرو برکت ہے۔
Ayahs 18:9–16

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ غار اور لوح والے ہماری نشانیوں سے عجیب تھے ؟

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب وہ جوان غار میں جا رہے تو کہنے لگے اے ہمارے پروردگار ! ہم پر اپنے پاس سے رحمت نازل فرما اور ہمارے کام میں درستی کے سامان پیدا کر دے۔

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

تو ہم نے غار میں کئی سال تک ان کے کانوں پر نیند کا پردہ ڈالا، یعنی ان کو سلائے رکھا۔

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ان کو جگا اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ کتنی مدت وہ غار میں رہے ؟ دونوں جماعتوں میں سے اس کی مقدار کس کو خوب یاد ہے ؟

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم ان کے حالات ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں، وہ کئی جوان تھے، جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے۔ اور ہم نے ان کو اور زیادہ ہدایت دی تھی۔

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کو مضبوط کردیا، جب وہ اٹھ کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا مالک ہے ہم اس کے سوا کسی کو معبود سمجھ کر نہ پکاریں گے اگر ایسا کیا تو بےوقوفی کی بات کی۔

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں بھلا یہ ان کے الٰہ ہونے پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے ؟ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے۔

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور جب ہم نے ان مشرکوں سے اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کنارہ کرلیا تو اب اس غار میں جا بیٹھو تمہارا رب تم پر اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے معاملہ میں تمہارے واسطے آسانی پیدا کر دے گا۔

اصحاب کہف کا قصہ تشریح : قرآن پاک قصہ کہانیوں کی کتاب نہیں بلکہ اس کے ایک ایک لفظ سے حکمت و دانش، دانائی اور ہدایت کا سبق ملتا ہے اسی طرح اصحاب کہف کا واقعہ توحید، ایمان، توکل اور اللہ کی قدرت کاملہ کا اظہار کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” کیا تم خیال کرتے ہو کہ اصحاب کہف ہماری نشانیوں میں سے عجیب تھے، ، ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ صبر، دعا اور ایمان کی مضبوطی کی مثال پیش کر رہے ہیں۔ ہوا اس طرح کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تبلیغ کی وجہ سے یہودی علماء ان کے دشمن ہوگئے۔ یہاں تک کہ ان کو سولی پر چڑھانے کا منصوبہ تیار ہوگیا مگر اللہ نے ان کو زندہ اوپر اٹھا لیا۔ قرآن میں اسی طرح بتایا گیا ہے۔ تو اس طرح دین مسیح تقریباً ختم ہوگیا۔ مگر کچھ ان کو ماننے والے لوگ باقی موجود تھے جو اندر ہی اندر اپنے دین کی تبلیغ کرتے رہتے تھے ان کی وجہ سے کچھ گروہ ایسے بن گئے جو اللہ کی توحید، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت اور قیامت پر یقین رکھتے تھے، مگر ملک میں رومی حکمران تھے اور وہ بت پرست تھے، اس لیے بڑی تعداد بت پرستوں کی ہی تھی، لیکن 248 ء کے آخر میں جب ڈیسیس روما کے تخت کا مالک بنا تو اس نے مکمل طور پر مسیحی دین کو ختم کرنے کا ارادہ کرلیا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا جلد 7 صفحہ 120 پر لکھا گیا ہے کہ اس بادشاہ نے مسیحیت کو جڑ سے نکال پھینکنے کی پوری کوشش کی۔ ایشیائے کوچک بھی اسی ظلم و ستم اور عیسائیوں کے قتل و غارت گری کی زد میں آگیا۔ ڈیسیس کا گزر ایک دفعہ ایشیائے کوچک کی بستی افیسس پر ہوا۔ تو اس نے عیسائیوں کو قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا تو اس وقت کچھ عیسائی نوجوان اپنے ایمان کو بچانے کے لیے قریب ہی ایک وسیع غار میں جا چھپے اور اللہ رب العزت سے اپنی اور اپنے ایمان کی سلامتی اور حفاظت کے لیے گڑ گڑا کر دعائیں کرنے لگے۔ اللہ نے ان کی فریاد سنی اور ان پر نیند طاری کردی۔ اس غار کا منہ شمال کی طرف تھا، اس لیے اس میں دھوپ تو داخل نہ ہوتی مگر ہوا اور روشنی کا گزر بہت اچھی طرح ہوجاتا۔ اللہ کی قدرت سے وہ بغیر جسمانی نقصان اٹھائے قدرتی نیند میں پڑے رہے بلکہ وہ ایسے پہلو بدلتے جیسے سویا ہوا انسان پہلو بدلتا ہے۔ ان کے ساتھ ایک کتا بھی ہو لیا جو اللہ کی حکمت کی نشانی ہے۔ اس سارے راز سے تو اللہ ہی واقف ہے۔ قرآن پاک میں اصحاب کہف کے زمانے، تاریخ اور جگہ کے بارے میں بالکل کوئی وضاحت موجود نہیں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ کہف ایک وسیع غار کو کہتے ہیں اور الرقیم کے بارے میں بہت کچھ اختلاف ہے سب سے مناسب اس کا مطلب یہی لگتا ہے کہ وہ تانبہ کی تختی جس پر ان اصحاب کے نام لکھے ہوئے ہیں اور وہ محفوظ کردی گئی ہے ایک مناسب وقت تک کے لیے۔ ایک خاص جملہ ” بس ہم نے ان کے کان بند کردیے۔ “ یہ نیند کی اس کیفیت کا اظہار ہے جو گہری نیند میں ہوتی ہے۔ ہلکی نیند میں آنکھیں بند ہوجاتی ہیں لیکن کان اپنا کام جاری رکھتے ہیں، یعنی آواز کا سگنل اپنے متعلقہ محکمے کو پہنچاتے رہتے ہیں، پھر نیند کا غلبہ اس حد تک بڑھتا ہے کہ ہلکی پھلکی آواز کان رسیو نہیں کرتے بہت زور کی آواز ہو تو پھر کان کام کرتے ہیں، مگر یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” ہم نے ان کے کان بند کردیے۔ “ یعنی وہ مرے نہیں لیکن اتنی زبردست گہری نیند میں ہیں کہ ان کے کان بھی کام نہیں کر رہے۔ انسان کا یہ سارا سسٹم اسی کا بنایا ہوا ہے۔ وہ اپنی حکمت سے اگر اس میں کوئی تبدیلی کرنا چاہے تو وہ مالک ہے وہی اس پر قدرت رکھتا ہے۔ اس نے ان جوانوں، یعنی اصحاب کہف کو اس حالت میں کیوں رکھا ؟ یہ سب کچھ انسان کے علم سے بالکل باہر ہے، اس لیے اس کی تحقیق میں زیادہ جانے کی ضرورت نہیں، بس اتنا جان لینا کافی ہے کہ اگر اس وقت کے مسلمانوں پر یا آج کے مسلمانوں پر کوئی مصیبت ایمان کی وجہ سے پڑتی ہے تو انہیں گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ ایمان کی سلامتی اور حفاظت کے لیے اصحاب کہف کی طرح قربانی دینی چاہیے، جیسے انہوں نے ایمان کی حفاظت اور سلامتی کے لیے زندگی کی تمام آسائشیں آرام اور رشتہ داریوں، یعنی عزیز و اقارب سب کو چھوڑ کر صرف ایک غار کو اپنا ٹھکانا بنا لیا اور پھر اس حال میں ایمان کی سلامتی کے لیے اللہ سے دعا کی تو ان کی دعا اللہ نے اس طرح قبول فرمائی کہ وہ عام فطری زندگی کے برعکس ایک عجیب و غریب زندگی گزارنے لگے۔ تو یہ صلہ ہے ان کے اس عقیدے اور بےخوفی اور اللہ پر توکل کا جو انہوں نے بڑی دلیری سے تمام بااثر لوگوں کے سامنے اعلان کیا۔ اور کہا کہ اللہ ایک ہے، پوری دنیا اسی کی ملکیت ہے بلکہ ساری کائنات اسی کے حکم سے چل رہی ہے۔ وہی مالک ہے وہی خالق ہے رازق ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور جو لوگ اس کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں وہ بالکل غلط لوگ ہیں گنہگار ہیں اور اللہ کے ناپسندیدہ لوگ ہیں۔ اصحاب کہف کی اسی حق پرستی اور اللہ سے محبت کے بدلہ میں اللہ نے فرمایا :” تو اب اس غار میں جا بیٹھو، تمہارا رب تم پر اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے کاموں میں تمہارے واسطے آرام بنا دے گا۔ “ (سورۃ کہف آیت : 16) جیسا کہ اگلی آیات میں بتایا گیا ہے۔ یہاں تک کا حال مختصراً دوبارہ بیان ہوجائے تو اچھا ہے۔ اصحاب کہف بادشاہ کے ملازم تھے بادشاہ مشرک تھا بلکہ اپنے آپ کو سجدہ کرواتا تھا جبکہ یہ نوجوان اللہ کی وحدانیت حضرت عیسیٰ کی رسالت اور آخرت پر ایمان رکھتے تھے۔ تو اس لیے انہوں نے شرک و کفر کی دنیا سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھنا چاہا تو پھر انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ایمان کی سلامتی یہاں ان لوگوں کے ساتھ رہ کر ممکن نہیں، لہٰذا کہیں دور کسی غار میں چھپ کر زندگی گزاری جائے ایمان کی سلامتی کے ساتھ۔ غار میں گئے تو اللہ نے ان کو دنیاوی ضروریات سے بےنیاز کرتے ہوئے گہری ترین نیند سلا دیا پھر بڑے طویل عرصہ کے بعد وہ جاگے تو بھوک مٹانے کے لیے بازار کا رخ کیا۔ ان اصحاب کہف نے آپس میں پوچھا کہ کتنی دیر سوئے ہوں گے تو انہوں نے کہا کہ شاید ایک دن یا دن کا کچھ حصہ سوئے ہوں گے۔ بہرحال بازار میں ان کا اتنا پرانا سکہ اور لباس دیکھ کر شور مچ گیا۔
Ayahs 18:17–18

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ دھوپ ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس غار کی کھلی جگہ میں ہیں۔ یہ سب اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں جس کو اللہ ہدایت دے وہ ہدایت پا جاتا ہے اور جس کو گمراہ کرے تو تم اس کے لیے کوئی مددگار راہ بتانے والا نہ پائو گے۔

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور تم ان کو خیال کرو کہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سوتے ہیں، اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے ہیں اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے ہے اور اگر تم ان کو جھانک کر دیکھو تو پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہو اور دہشت میں آجاؤ۔

غار کا بہترین بندوبست تشریح : ان آیات میں اللہ کی طرف سے ان کی حفاظت کا خاص بندوبست بتایا گیا ہے۔ پہلا تو یہ کہ وہ گہری نیند سوئے پڑے ہیں اور جب بندہ سو جاتا ہے تو سکون میں ہوجاتا ہے نہ کسی قسم کی فکر نہ پریشانی اور نہ ڈر۔ دوسرا یہ کہ غار کا منہ کیونکہ شمال کی طرف ہے اس لیے دھوپ کسی بھی موسم میں اندر نہیں پہنچتی اور وہ لوگ اس کی سختی سے بچے رہتے ہیں جب کہ ہوا اور روشنی برابر ان کو پہنچتی رہتی ہے۔ یہ بھی اللہ کی قدرت کی بہترین نشانیاں ہیں۔ نیک فطرت لوگوں کے ایمان کو اللہ اور بھی بڑھا دیتا ہے اور بد فطرت کو تو کوئی بھی ہدایت نہیں دیتا یہاں تک کہ اللہ بھی ان کے لیے نیکی اور راستی کے دروازے نہیں کھولتا۔ کیونکہ یہ سب فطرت کے خلاف کام ہے اس لیے کوئی بھی اندر جا کر تحقیق کرنے کی ہمت ہرگز نہ کرتا تھا بلکہ باہر سے جھانک کر ہی دہشت میں آجاتے کہ یہ سب کیا ہے۔ غار میں لوگ سو رہے ہیں اور کتا دہلیز پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا ہے۔ اور یوں یہ راز راز ہی بنا رہا۔ اس سورت میں جہاں بہت سے اخلاقی پہلوئوں پر زور دیا گیا ہے وہاں کچھ تعمیراتی اور جسمانی نکات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ مثلاً ان کے غار کا رخ اس قدر موزوں تھا، یعنی غار کا منہ شمال کی طرف تھا، جب سورج مشرق سے نکلتا تو دھوپ بجائے غار کے اندر جانے کے غار کے داہنی طرف سے ہو کر گزر جاتی اور جب سورج غروب ہوتے ہوئے مغرب کی طرف ہوتا تو دھوپ پھر بجائے اندر داخل ہونے کے غار کے منہ سے بائیں طرف ہو کر گزر جاتی اور یوں غار کے اندر دھوپ کی روشنی اس طرح داخل ہوتی ہے کہ غار کا اندر کا ٹمپریچر بڑا نارمل رہتا گرم زیادہ نہیں ہوتا اور اندر کا ماحول دھوپ کی افادیت بھی حاصل کرلیتا اور ہوائیں بھی کیونکہ عموماً شمالاً جنوباً چلتی ہیں اس لیے تازہ ہوا بھی مستقل طور پر اندر پھرتی رہتی اور یوں اندر کا ماحول بڑا ہی مناسب رہتا۔ اگر یہی رخ یعنی غار کا منہ شرقاً غرباً ہوتا تو اندر کا ٹمپریچر نسبتاً گرم ہوتا جو کہ اندر رہنے والوں کے لیے نامناسب ہوتا۔ آج کل جب بھی گھر کا نقشہ بنایا جاتا ہے تو اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ گھر کا میں دروازہ شمال کی طرف ہو۔ اور جو گھر اس بات کو مدنظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں وہ ہر طرح سے آئیڈیل، یعنی بہت مناسب گھر ہوتے ہیں۔ اصحاب کہف کی غار کا رخ اللہ رب العزت نے ایسا ہی آئیڈیل رکھا کہ دھوپ اندر جا کر ان کو تنگ نہ کرے اور وہ دھوپ کی روشنی مناسب حرارت اور ہوا سے پوری پر طرح مستفیدہو سکیں اور اندر کا ماحول نہ تو گرم ہو اور نہ ہی سیلن ہو یعنی نمی کے اثرات پیدا ہوں کہ جس کی وجہ سے ان کو تکلیف ہو۔ کس قدر بڑی اور حیرت انگیز نشانیاں ہیں ؟ یہ سب رب رحمن ورحیم کی قدرتیں اور حکمتیں ہیں۔ اس وقت کا انسان ان باریکیوں کو کہاں سمجھتا تھا۔ ابھی بھی اصحاب کہف کا یوں اتنا طویل عرصہ تک گہری نیند میں پڑے رہنا، کس قدر عجیب بات ہے، کیونکہ نیند کا انتظام جو اللہ نے ایک نارمل انسان کے لیے کر رکھا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ نیند بےہوشی کی وہ حالت ہے جس سے انسان کی جسمانی صحت اچھی ہوتی ہے اور اس کو جگایا جاسکتا ہے، کیونکہ نیند کے دو مرحلے ہوتے ہیں۔ ہلکی نیند اور گہری نیند۔ ہلکی نیند سونے کے پہلے گھنٹے میں ہوتی ہے اور جسم کو آرام پہنچاتی ہے پھر یہی نیند گہری ہوجاتی ہے اور یہ ایک جوان آدمی کی نیند کا 25% حصہ ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ نیند ہر 90 منٹ کے بعد ساڑھے پانچ منٹ کے لیے ہلکی نیند میں تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اس گہری نیند میں تمام جسم کے مسلز (Museles) ریسٹ (آرام) کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ دل اور پھیپھڑے بھی کچھ بےترتیب ہوجاتے ہیں۔ بلڈ پریشر، سانس اور جسم میں ہونے والی توڑ پھوڑ 30% سے 10% تک کم ہوجاتی ہے۔ یہ نیند موت کے مشابہ ہوتی ہے مگر موت نہیں ہوتی۔ بیشک اس حالت میں انسان کو اردگرد کی کوئی ہوش نہیں ہوتی مگر اسکو جگایا جاسکتا ہے وہ نیند کے غلبے سے باہر لایا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ اصحاب کہف کو ایک طویل مدت کے بعد اللہ نے اپنی قدرت سے اٹھا کھڑا کیا۔ یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے ایک تھی۔ کیونکہ عام حالات میں انسانی جسم کی ساخت ایسی نہیں کہ اس قدر طویل عرصہ بغیر کھائے پیئے اس قدر گہری نیند سویا رہے اور پھر اٹھ بھی کھڑا ہو۔ یہ تو صرف اس لیے ہوا کہ اللہ نے اپنی نشانیاں لوگوں کو دکھانی تھیں۔ کہ اگر اس قدر لمبے عرصے کے بعد کوئی اللہ کے حکم سے زندہ سلامت آکر کھڑا ہوسکتا ہے تو پھر بھلا آخرت میں اللہ کے سامنے دوبارہ لوگوں کا زندہ ہوجانا کیسے ناممکن ہے۔ اس وقت شہر میں یہی شور ہو رہا تھا کہ دوبارہ زندہ ہونا ممکن نہیں تو اللہ نے اصحاب کہف کے ذریعہ ان کو یہ یقین دلا دیا کہ اللہ کے لیے یہ کام ہرگز کوئی مشکل کام نہیں۔ وہ جو چاہے کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ وہ ضرور لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا اور ضرور حساب کتاب لیا جائے گا۔ اور سزا و جزا ضرور دی جائے گی۔
Ayahs 18:19–21

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھیں، ایک کہنے والے نے کہا کہ تم یہاں کتنی مدت رہے ؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا کہ جتنی مدت بھی تم رہے ہو تمہارا رب ہی اسے خوب جانتا ہے۔ تم اپنے میں سے کسی کو روپیہ دے کر شہر بھیجو وہ دیکھے کہ عمدہ کھانا کون سا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور اسے نرم رویہ اختیار کرنا چاہیے اور تمہارا حال کسی سے نہ کہے۔

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

اگر وہ تم پر قابو پالیں گے تو تم کو سنگسار کردیں گے یا پھر اپنے مذہب میں شامل کرلیں گے اور پھر تم کبھی فلاح نہ پائو گے۔

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال سے خبردار کردیا تاکہ وہ جانیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کہ جس کا وعدہ کیا جاتا ہے اس میں کچھ شک نہیں۔ اس وقت لوگ آپس میں جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان کے غار پر عمارت بنا دو ۔ ان کا رب ان کے حال سے خوب واقف ہے جو لوگ ان کے معاملہ میں غالب تھے وہ کہنے لگے کہ ہم ان کے غار پر مسجد بنائیں گے۔

اصحاب کہف کا جاگنا اور اللہ کی حکمت تشریح : ان آیات میں اصحاب کہف کے دوبارہ جاگ جانے کی مصلحت بیان کی گئی ہے۔ جس طرح اللہ نے اپنی قدرت سے ان کو سلائے رکھا اسی طرح ایک طویل مدت کے بعد ان کو جگا بھی دیا۔ اس میں مصلحت یہ تھی کہ جب وہ لوگ جاگے اور کھانے کی تلاش میں بازار گئے تو شہر میں بت پرست روم کو عیسائی ہوئے عرصہ گزر چکا تھا۔ جب انہوں نے اس انتہائی پرانے طرز کے لباس میں اتنے پرانے سکے کے ساتھ اس آدمی کو دیکھا تو سارے شہر میں کھلبلی مچ گئی۔ تحقیقات شروع ہوگئیں تو معلوم کرلیا گیا کہ عرصہ دراز قبل جو لوگ غاروں میں جا چھپے تھے یہ وہی لوگ ہیں۔ اس میں اللہ کی حکمت یہ تھی کہ اس وقت لوگوں میں مرنے کے بعد زندہ ہونے میں بڑی سخت بحث چل رہی تھی۔ جب انہوں نے اس اتنے پرانے زمانے کے بندے کو دیکھا اور اس سے ان کو اس کے ساتھیوں کا بھی پتہ چلا تو یوں ان لوگوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوجانے کا بہت بڑا ثبوت مل گیا اور یوں اللہ رب العزت نے ان کے اس عقیدے میں ان کو بالکل پکا کردیا کہ آخرت ضرور ہوگی دوبارہ زندہ ضرور کیے جائیں گے۔ یہ سب کچھ جان لینے کے بعد شہر والوں میں اس بات پر جھگڑا شروع ہوگیا کہ کوئی کہتا یہاں اس غار پر مسجد بنانی چاہیے کوئی کہتا یادگار بنانی چاہیے بہرحال اصحاب کہف کا ان کو بھی کچھ سمجھ نہ آیا تو بولے کہ ان کا حال بھی اللہ ہی جانتا ہے۔ ان آیات سے قبروں پر مساجد اور مزار بنانے کا ہرگز ثبوت نہیں ملتا، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے مرض الموت میں یہ بات بار بار ارشاد فرمائی کہ اللہ تعالیٰ یہود ونصار ٰی پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ (صحیح بخاری) نیز آپ نے اللہ سے دعا کی اے اللہ میری قبر کو عیدگاہ نہ بنانا، لہٰذا قبروں پر مسجدیں اور مزار تعمیر کرنا حرام ہے۔
Ayahs 18:22–29

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

بعض لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور بعض کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا، اور بعض کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ فرمادیں کہ ” میرا رب ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے، ان کو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے لوگ جانتے ہیں تو آپ ان کے معاملہ میں گفتگو نہ کرنا، مگر سرسری سی گفتگو۔ اور نہ ان کے بارے میں ان سے کچھ دریافت ہی کرنا۔

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کر دوں گا

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

مگر انشاء اللہ کہہ کر (اگر اللہ چاہے تو کر دوں گا) اور جب اللہ کا نام لینا بھول جاؤ تو یاد آنے پر لے لو اور کہہ دیں کہ امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے بھی زیادہ ہدایت کی باتیں بتائے۔

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور اصحاب کہف اپنے غار میں نو اوپر تین سو سال رہے

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

کہہ دیں کہ جتنی مدت وہ رہے اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے اسی کو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں معلوم ہیں وہ کیا خوب دیکھنے والا اور کیا خوب سننے والا ہے۔ اس کے سوا ان کا کوئی کارساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے۔

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور اپنے اللہ کی کتاب کو جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور اس کے سوا تم کہیں پناہ بھی نہ پائو گے۔

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور اس کی رضا کے طلبگار ہیں ان کے ساتھ صبر کرتے رہو اور تمہاری نگاہیں ان میں سے گزر کر اور طرف نہ دوڑیں کہ تم آرائش زندگی یعنی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ، اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ لوگو ! یہ (قرآن) تمہارے رب کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے ہم نے ظالموں کے لیے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو گھیر رہی ہوں گی اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی داد رسی کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح گرم ہوگا جو مونہوں کو بھون ڈالے گا۔ ان کے پینے کا پانی بھی برا اور آرام گاہ بھی بری۔

اصحاب کہف کی تعداد اور غار میں ٹھہرنے کی مدت تشریح : ان آیات میں مزید کچھ نکات اور نصیحتیں بیان کی گئی ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے ذریعے ہمیں بتائے گئے ہیں۔ پہلے تو یہ نصیحت کی گئی کہ جو کچھ علم اللہ نے دیا ہے بس اسی کو سمجھ لو جن باتوں کو اللہ نے واضح نہیں کیا ان کے کھوج میں مت لگو، یعنی اللہ نے اصحاب کہف کے ذریعے سے جو سبق دینے تھے ان پر غور کرو۔ ان کی تعداد جگہ اور زمانے کو اللہ نے واضح نہیں کیا اس لیے جتنا جانتے ہو بتا دو ۔ دوسری نصیحت یہ کی کہ جو بھی بات آئندہ کے لیے کہو تو اس کے لیے انشاء اللہ ضرور بولو، کیونکہ مستقبل کا کسی کو علم نہیں، سوائے اس کے جو اللہ نے چاہا۔ غریب اور مخلص مؤمنوں یعنی صحابہ کرام کے ساتھ آپ کو وابستہ رہنے کی ہدایت دی گئی، جو صبح وشام اللہ کا ذکر کرنے والے اور اللہ کی رضا چاہنے والے لوگ ہیں اور ان سے مراد سیدنا بلال، سیدنا صہیب رومی، سیدنا خباب، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عمار بن یاسر ؓ اجمعین ہیں جو آپ کی صحبت میں رہتے تھے۔ یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اللہ رحیم و کریم ہے تو ساتھ ہی جبار و منتقم بھی ہے۔ اور پھر یہ کہ پیارے نبی کو بھی خبردار کردیا گیا ہے کہ اللہ کی وحدانیت قدرت کاملہ اور علم الیقین اور کار ساز کل مالک کون و مکان ہونے کے بارے میں جو کچھ ان آیات میں بیان کیا گیا ہے ان پر سختی سے عمل کرنا اور بڑی احتیاط سے زندگی کو سادگی، صفائی اور پاکیزگی سے اسی طرح گزارو جس طرح اللہ نے قرآن میں بتا دیا ہے۔ کیونکہ قرآن ایک مکمل ہدایت نامہ ہے انسانوں کے لیے زندگی کی بہترین راہوں کے بارے میں قرآن بتاتا ہے یہ اللہ کی بھیجی ہوئی سچی اور پکی نہ بدلنے والی بہترین کتاب ہے۔ اس کے بعد نافرمان، گمراہ اور کفار و مشرک لوگوں کے انجام اور آخرت میں ان کے عذاب کا ذکر بڑے ہی ہولناک الفاظ میں کیا گیا ہے۔ اللہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔ جیسا کہ عذاب کے ساتھ ہی انعام کا ذکر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کرتے ہیں اگلی آیات خوشخبری کی ہیں ملاحظہ ہو :
Ayahs 18:30–31

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک عمل کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن میں ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے اور تختوں پر تکیے لگا کر بیٹھا کریں گے کیا خوب بدلہ اور کیا خوب آرام گاہ ہے۔

مؤمنوں کے انعام تشریح : ذرا آنکھیں بند کر کے تصور کریں کیا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے رب العلمین نے جنت کا۔ کون ہے جو اس خوبصورت ہمیشہ والی زندگی کے لیے اس عارضی زندگی کا سب کچھ قربان نہ کر دے گا۔ ” کسی حکیم اور دانا شخص سے پوچھا گیا کہ آپ کا مال کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے ظاہر کو اوصاف جمیلہ (بہترین کردار) سے آراستہ کرنا اور جو چیز لوگوں کے پاس ہے اس کی توقع نہ رکھنا، میرا سرمایہ اور مال ہے۔ “ (ازگلستان قناعت صفحہ 82) مزید لکھتے ہیں : آج کل مسلمان توکل علی اللہ کے وصف (صفت) سے یا تو بالکل محروم ہیں یا یہ وصف ان میں نہایت کم ہے۔ ہمارے سلف صالحین میں یہ وصف بطریق اکمل (بہت زیادہ) موجود ہوتا تھا۔ اور یہی وصف انسان کو دنیا کی محبت سے دور اور آخرت کی محبت کے قریب کرتا ہے۔ دیکھا جائے تو قناعت ہی جنت کا راستہ دکھاتی ہے کیونکہ یہ بیشمار اخلاقی برائیوں سے بالکل بچا کر تقویٰ کی راہ پر لگا دیتی ہے گویا تقویٰ ہی جنت کی کنجی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کام کاج چھوڑ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاؤ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مال کی طلب اور مستقبل کی فکر تمہارے اوپر اس قدر سوار نہ ہوجائے کہ اللہ سے روز آخرت سے، اور جنت و دوزخ کے خیال سے ہی غافل ہوجاؤ۔ دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دے بیٹھو۔ بس یہی غلط ہے۔ چاندی، سونے اور بال بچوں کا نام دنیا نہیں۔ دنیا تو اللہ سے غافل ہوجانے کا نام ہے۔ بیشک اللہ کا ذکر دلوں کو سکون دیتا ہے اور سکون روح کو تازگی اور جسم کو توانائی دیتا ہے۔