18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 18:32–46

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور ان سے دو آدمیوں کا حال بیان کریں جن میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیے تھے۔ اور ان کے گرد کھجوروں کے درخت لگا دیے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی۔

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ خوب زیادہ پھل لاتے اور اس کی پیدوار میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی۔

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور اس طرح اس آدمی کو ان کی پیداوار ملتی رہتی تھی۔ تو ایک دن جب وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا ” میں تم سے مال و دولت میں بھی زیادہ ہوں اور جمعیت کے لحاظ سے بھی تم سے زیادہ عزت والا ہوں۔

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور ایسی شیخیوں سے اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا اور کہنے لگا میں نہیں سوچتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہو۔

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو وہاں ضرور اس سے اچھی جگہ پائوں گا۔

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

تو اس کا دوست جو اس سے بات چیت کر رہا تھا۔ کہنے لگا کہ کیا تم اس اللہ سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر تمہیں پورا مرد بنایا۔

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

مگر میں تو یہ کہتا ہوں کہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور بھلا جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے ماشَائَ اللٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا باللّٰہِ کیوں نہ کہا ؟ اگر تم مجھے مال اولاد میں کم تر دیکھتے ہو۔

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو عجب نہیں کہ میرا رب مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور تمہارے اس باغ پر آسمان سے آفت بھیج دے، تو وہ صاف میدان ہوجائے (برباد ہوجائے)

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا اس کی نہر کا پانی گہرا ہوجائے تو پھر تم اسے نہ لا سکو۔ (پانی خشک ہوجائے)

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

تو اس کے پھل تباہ ہوگئے۔ (عذاب نے آگھیرا) اور وہ اپنی چھتریوں پر گر کر رہ گیا۔ تو جو مال اس نے اس پر خرچ کیا تھا، اس پر ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اس وقت اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد نہ کرسکی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

یہاں سے ثابت ہوا کہ حکومت پوری کی پوری سچے اللہ کی ہے اسی کا صلہ بہتر ہے اور اسی کا بدلہ اچھا ہے۔

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کر دو ، وہ ایسی ہے، جیسے پانی۔ جسے ہم نے آسمان سے برسایا تو اس کے ساتھ زمین میں رلا ملا سبزہ نکالا، پھر گل سڑ کر چورا چور ہوگیا اور ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں اور اللہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال اور بیٹے تو دنیا کی رونق اور زینت ہیں اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ ثواب کے لحاظ سے تمہارے رب کے ہاں بہت اچھی اور امید کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں۔

سبق آموز کہانی اور نیکیوں کا بدلہ تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی حاکمیت، قدرت کاملہ اور وحدانیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر انسان کو روزی رزق دیتا ہے تو انسان کا فرض ہے اس کی نعمتوں کو حاصل کر کے فخر و غرور نہ کرے اور اس قدر بدمست نہ ہوجائے کہ اللہ کے وجود اور قیامت کا انکار کردے اور نعمتوں کا شکر ہی ادا نہ کرے اور دوسروں کو حقارت سے دیکھنے لگے۔ یہ سب انسانیت کے خلاف اور برے رویے ہیں ہمارا مذہب اسلام ان تمام اخلاقی برائیوں سے منع کرتا ہے، یعنی کسی کو حقیر سمجھنا اور شکر الٰہی ادا نہ کرنا۔ پھر حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی کسی نعمت یا خوبصورت چیز کو دیکھو یا کامیابی حاصل کرو تو اس کو دیکھ کر ماشَائَ اللٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا باللّٰہِ ضرو رکہو۔ اس طرح انسان اللہ کی ناراضگی شیطان کی شرارت اور نظر بد سے بچ جاتا ہے اور یوں انسان اللہ کی حفاظت میں آجاتا ہے۔ کیونکہ نقصان دینا اور نقصان سے بچانا یہ کسی بھی بندہ بشر کے اختیار میں ہرگز نہیں کیونکہ اس سارے انتظام کا مالک صرف اللہ ہی ہے۔ یہ دنیا اور اس کی ہر چیز اور خود انسان بھی سب کچھ فنا ہوجانے والا ہے۔ باقی رہنے والی اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف انسان کے اس دنیا میں کیے گئے اعمال ہیں باقی سب کوڑ کباڑ ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان شدہ اس واقعہ کو غور سے پڑھنا اور اس سے حکمت کی باتیں سمجھ لینی چاہیں۔ آیت 32 میں اللہ تعالیٰ نے ذراعت کا ایک صول بتایا ہے کہ ایک وقت میں تین فصلیں بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جیسا کہا گیا ہے کہ باغ کے گردا گرد کھجور کے درخت ساتھ میں انگور کی بیلیں جو کہ اوپرچڑھا دی جاتی ہیں اور درمیان میں جو جگہ بچی تو اس میں کسی بھی قسم کی فصل یا سبزی کاشت کی جاسکتی ہے۔ بہرحال انسان کا کام ہے کاشت کرنا۔ پھول پھل دینا اور اس کے لیے تمام ذرائع کا بندوبست کرنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے اسی کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے۔ محمد موسیٰ روحانی (رح) تعالیٰ صاحب لکھتے ہیں : پس شکر کا تقاضا یہ ہے کہ دل ہر قسم کے حسد، بغض، کینہ، حب (محبت) دنیا جاہ وغیرہ خباثتوں اور برے اعتقادات و خیالات سے خالی اور پاک ہو اور جملہ انواع صفات حمیدہ (بہترین کردار) اوصاف سعیدہ (بہترین اعمال) یعنی حب اللہ، حب رسول ﷺ ، ایمان کامل، خشوع، تواضع، خوف خدا، انابت الی اللہ اور صحیح اعتقادات سے متصف ہو۔ از (گلستان قناعت صفحہ 225 ) غرض ذکر، شکر، قناعت اور عبادت دنیا میں جنت، اور آخرت میں بھی جنت، سب اسی کے اندر پوشیدہ ہے۔ جبکہ غفلت، ناشکری، لالچ اور اللہ سے دوری دنیا میں بھی جہنم اور آخرت میں بھی جہنم کا ہی راستہ آسان کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (اے آخرت کے مسافرو ! ) ” زاد راہ ساتھ لے لو، اور بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔ “ (البقرہ : 197 )
Ayahs 18:47–49

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف میدان دیکھو گے اور ان لوگوں کو ہم جمع کرلیں گے تو ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور سب تمہارے پروردگار کے سامنے صف باندھ کر لائے جائیں گے تو ہم ان سے کہیں گے جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اسی طرح آج تم ہمارے سامنے آئے، لیکن تم نے تو یہ خیال کر رکھا تھا کہ ہم نے تمہارے لیے قیامت کا کوئی وقت ہی مقرر نہیں کیا

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور عملوں کی کتاب کھول کر رکھی جائے گی تو تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں لکھا ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے شامت ! یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی کو، کوئی بات بھی نہیں مگر اسے لکھ رکھا ہے، اور جو عمل کیے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔

میدان حشر کا منظر تشریح : یہ آیات ایک بہت بڑے واقعہ کو لوگوں کے لیے بڑے ہی سادہ مگر خوفناک انداز میں بیان کر رہی ہیں، جیسا کہ آخرت پر ایمان مسلمان کے عقائد کی تکمیل کا نام ہے، تو اسی صورت حال کو اللہ تعالیٰ مذکورہ بالا آیات میں بیان کر رہے ہیں اور بار بار یاد دہانی کروا رہے ہیں کہ ایک دن زمین بنجر اور وسیع و عریض ہوگی اور وہاں لوگ ہر طرف سے بھاگتے ہوئے اللہ کے حضور جمع کردیے جائیں گے کہ ان کے دنیا میں کیے گئے اعمال کا بدلہ بڑے انصاف اور انتہائی سچائی کے ساتھ دیا جائے اور اس منظر کو قرآن پاک میں بیشمار دفعہ دلیلوں کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے۔ اور وہ تمام لوگ اس دن دیکھ لیں گے اللہ کے وعدے کو جو ہمیشہ موت کے بعد زندگی اور حساب کتاب کے بعد جزا و سزا سے انکار کرتے ہیں۔ اور یہ سب اس وقت بالکل بےکار ہوگا۔ اسی لیے تو قرآن پاک کو رحمت بھی کہا گیا ہے کہ اس انہونی بات پر یقین کرلیں اور اس کے مطابق اس دنیا میں نیک اعمال کر کے پوری تیاری کرلیں۔ اللہ نے بتا دیا ہے کہ لوگ ضرور مریں گے اور دوبارہ ضرور زندہ کیے جائیں گے۔ حساب کتاب ضرور ہوگا اور جنت یا دوزخ ضرور ملے گی۔ یہ سب اللہ نے بتا دیا ہے۔ ہمیں اس آنے والی زندگی کی تیاری کر لینی چاہیے۔
Ayahs 18:50–51

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا وہ جنات میں سے تھا تو اپنے رب کے حکم سے باہر ہوگیا، کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو ؟ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں اور شیطان کی دوستی ظالموں کے لیے اللہ کی دوستی کا برا بدل ہے۔

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت، اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا۔

شیطان اور اس کے دوستوں کے کردار سے بچو تشریح : اللہ تعالیٰ انسان کا خالق، رازق اور رحیم و کریم ہے جب کہ شیطان تو شروع دن سے انسان کا دشمن ہے اس کی وجہ بتا دی گئی ہے۔ اب اگر عقل سمجھ کو انسان کامل میں لائے تو اس کو پتہ چل جائے گا کہ اللہ کی قربت یا دوستی اچھی ہے یا کہ شیطان کی دوستی اچھی ہے ؟۔
Ayahs 18:52–53

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور جس دن اللہ فرمائے گا، اب میرے شریکوں کو جن کو تم اللہ کے شریک مانتے تھے، بلائو۔ تو وہ ان کو بلائیں گے۔ مگر وہ ان کو کچھ جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے بیچ میں ایک ہلاکت کی جگہ بنا دیں گے۔

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور گنہگار لوگ دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں اور اس سے بچنے کا کوئی رستہ نہ پائیں گے۔

مشرکوں کا انجام تشریح : قیامت کے دن مشرکوں اور ان کے جھوٹے خدائوں کو اللہ ان کے انجام تک ضرور پہنچا دے گا۔ جو بڑا ہولناک ہوگا۔ دوزخ کا ذکر بیشمار دفعہ قرآن پاک میں آچکا ہے اور یہ حقیقت بالکل سچ ہے۔
Ayahs 18:54–59

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو سمجھانے کے لیے طرح طرح کی مثالیں بیان کی ہیں۔ لیکن انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آگئی تو ان کو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لائیں اور اپنے رب سے بخشش مانگیں۔ سوائے اس کے کہ اس بات کے منتظر ہوں کہ انہیں بھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا ان پر عذاب سامنے موجود ہو۔

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف اس لیے کہ لوگوں کو (اللہ کی نعمتوں کی) خوشخبریاں سنائیں اور (عذاب سے) ڈرائیں اور جو کافر ہیں وہ (باطل) جھوٹا جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو ٹلا دیں اور انہوں نے ہماری آیتوں کو اور جس چیز سے ان کو ڈرایا جاتا ہے ہنسی بنا لیا۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون جس کو اس کے رب کے کلام سے سمجھایا گیا تو اس نے اس سے منہ پھیرلیا، اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اس کو بھول گیا۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں اور اگر آپ ان کو رستے کی طرف بلائیں تو کبھی رستے پر نہ آئیں گے

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور آپ کا رب بخشنے والا مہربان ہے، اگر وہ ان کے عملوں پر ان کو پکڑنے لگے تو ان پر جھٹ عذاب بھیج دے مگر ان کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے کہ اس کے عذاب سے کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے۔

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور یہ بستیاں جو ویران پڑی ہیں جب انہوں نے کفر سے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا اور ان کی تباہی کے لیے ایک وقت مقرر کردیا تھا

ہدایت واضح ہوجانے کے بعد ایمان نہ لانے والوں کا انجام تشریح : قرآن سو فیصد انسان کے لیے رحمت، نعمت اور برکت ہے۔ اور پیغمبر جو یہ نعمت لے کر بندوں کے پاس آئے وہ بھی انسان کے لیے بہت بڑی رحمت اور فضل ہے، مگر انسان فطرتاً جھگڑالو ہے۔ اتنا کچھ لینے اور سمجھنے کے باوجود بھی بےوقوفی اور نااہلی کا ثبوت دیتا ہے۔ کبھی شیطان کا دوست بن کر شیطانی کام کرنے لگتا ہے اور یوں اپنے لیے دنیا کی زندگی کو عذاب بنا لیتا ہے کیونکہ برے کاموں کا برا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ جو دوسروں کے لیے گڑھا بناتا ہے وہ خود بھی اس میں گرتا ہے۔ ایک چور کی زندگی جس پریشانی اور مصیبت میں گزرتی ہے وہ ایک نیک صالح اور متقی کی زندگی کی طرح پر سکون بےخوف اور کامیاب زندگی کی طرح ہرگز نہیں ہوسکتی کیونکہ چور کو ہر وقت بندوں کا خوف ہوتا ہے جو اس کا سکھ اور چین ختم کردیتا ہے جب کہ پرہیزگار نیک بندے کو صرف اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ اور اس خوف کے وقت وہ اللہ کو یاد کرتا ہے اس سے دعا کرتا ہے۔ اس سے معافی مانگتا ہے اور یوں اللہ کی پناہ میں آخر کار تمام دکھ درد اور فکر سے آزاد ہوجاتا ہے اور یوں دنیا میں خوش اور آخرت میں خوش۔ کیونکہ ایسے لوگوں کے لیے اللہ نے قرآن پاک میں بار بار جنت کی خوشخبریاں دی ہیں۔ جبکہ شیطان کے دوستوں کے لیے بار بار جہنم کی خبر دی گئی ہے جو کہ بڑی خوفناک خبر ہے۔ اب جب کہ انسانوں کو قرآن پاک میں بڑی وضاحت سے ہدایات دے دی گئی ہیں کہ وہ زندگی کیسے بسر کرے تو پھر جو لوگ ان پر عمل نہ کریں تو ان کے لیے ایسی قوموں اور ایسے لوگوں کے واقعات مثال کے طور پر بیان کیے گئے ہیں تاکہ ان کے برے انجام سے سبق حاصل کریں اور نیک اعمال کریں، پھر بھی جو ہوش سے کام نہ لیں تو پھر کیا کہا جائے۔ ایسے لوگ پھرجائیں جہنم میں۔ گو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بےپناہ محبت کرتا ہے ہر وقت بندوں پر اپنی رحمتوں کی بارش کرتا رہتا ہے نافرمان لوگوں کے لیے وہ ہدایت کی رحمت بھی بند کردیتا ہے۔ دنیا میں بھی ان سے ناراض ہوتا ہے اور آخرت میں تو ان کے لیے ایسے ایسے عذاب کا ذکر اللہ نے قرآن پاک میں کیا ہے کہ اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔ دنیا و آخرت میں خوشی حاصل کرنے کا بہت بڑا نسخہ ہے قرآن پاک۔ تقویٰ اور استغفار اللہ کو اس قدر پسند ہے کہ اللہ فرماتا ہے : ” جو تقویٰ اختیار کرے اور اپنی حالت درست کرے، ایسے لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ حزن۔ “ (الاعراف :35) غلط، برے، مشرک اور کافر لوگوں پر بھی اللہ اپنے رزق کے دروازے بند نہیں کرتا۔ انہیں بھی دنیا کی تمام نعمتیں دیتا ہے مگر ان کی نافرمانی پر ان کو مقررہ وقت کے مطابق دنیا میں عذاب دیتا ہے اور آخرت میں بھی اپنے مقرر کیے گئے اصول کے تحت عذاب ضرور دے گا۔ مگر یہ سب کچھ فوراً نہیں ہوتا بلکہ ان لوگوں کو پوری طرح مہلت دی جاتی ہے اور پھر جب وہ ہر حد سے باہر نکل جاتے ہیں تو پھر ان کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے اور پھر اللہ کی اس پکڑ سے ان کو کوئی طاقت ہرگز بچا نہیں سکتی۔ ان کو پھر سزا ضرور ملتی ہے اور آخرت میں بھی ضرور ملے گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے : ” کہ اس کے عذاب سے کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے۔ “ (آیت 58 کہف)