18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 18:60–74

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا جب تک میں دو دریائوں کے ملنے کی جگہ تک نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں، خواہ مدتوں چلتا رہوں۔

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنا لیا۔

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

جب آگے چلے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا ہمارے لیے کھانا لائو اس سفر سے ہمیں بڑی تھکان ہوگئی ہے۔

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

اس نے کہا بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی وہیں بھول گیا، اور مجھے آپ سے اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا، اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا راستہ لیا۔

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا یہی وہ مقام ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔ تو وہ اپنے قدموں کے نشانات کو دیکھ کر لوٹ گئے۔

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت عطا فرمائی اور اپنے پاس سے علم سکھایا تھا۔

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ نے اس سے کہا جو علم اللہ کی طرف سے آپ کو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے کچھ بھلائی کی باتیں مجھے سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں۔

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

اس نے کہا آپ میرے ساتھ ہرگز (نہ ٹھہر سکیں گے) صبر نہ کرسکیں گے۔

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کیسے کرسکتے ہو۔

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں آپ کے کہنے کے خلاف نہیں کروں گا۔

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

(خضر) بولا پھر اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو شرط یہ ہے، مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا، جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں۔

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

تو دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو اس نے کشتی میں سوراخ کردیا۔ موسیٰ نے کہا کیا آپ نے اس لیے سوراخ کردیا ہے کہ سواروں کو غرق کردیں یہ تو آپ نے بڑی عجیب بات کی ہے ؟

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

اس نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے۔

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر پکڑ نہ کیجئے اور میرے معاملہ میں مجھ پر مشکل نہ ڈالیے۔

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ راستہ میں ایک لڑکا ملا تو اس نے اسے مار ڈالا۔ موسیٰ نے کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ یہ تو آپ نے بری بات کی۔

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کا قصہ اور کئی نصیحتیں تشریح : اس قصہ کا ذکر ایک تو اس لیے کیا گیا کہ اہل عرب کے آنحضرت ﷺ سے تین سوالوں میں سے دوسرے کا جواب یہ تھا۔ پھر یہ کہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے بغیر ہرگز نہیں ہوسکتا اس کام کے کرنے کے لیے اللہ چاہے کسی کو بھی وسیلہ بنا دے۔ تیسرے یہ کہ ایک دینی اور اخلاقی قانون واضح کردیا گیا کہ غلطی چاہے عام انسان سے ہو یا نبی سے ہو اللہ اس کی پکڑ ضرور کرتا ہے۔ یہاں یہی سبق دیا گیا ہے کہ کبھی بھی اپنی بڑائی کا کلمہ منہ سے نہ نکالا جائے۔ ہوا اس طرح کہ کسی اجتماع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی دوسرا شخص عالم فاضل نہیں ہوسکتا ؟ تو آپ نے سادگی یا لاعلمی میں کہہ دیا کہ ہاں مجھ سے زیادہ کوئی اور علم نہیں رکھتا۔ تو اللہ کو یہ ناگوار گزرا اس لیے آپ کو خضر (علیہ السلام) کے پاس بھیج دیا تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ سے زیادہ علم رکھنے والا بھی موجود ہے اور پھر سب سے بڑا علیم و حکیم تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے وہ جس کو جتنا علم دینا چاہے دے دیتا ہے اس میں کسی شخص کا اپنا کوئی کمال نہیں۔ اسی لیے اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ دو دریائوں کے سنگم پر جائیں تو وہاں ان کو ایک شخص ملے گا جو ان سے بھی زیادہ علم والا ہے۔ اس شخص کا نام قرآن پاک میں نہیں بتایا گیا۔ احادیث میں ان کا نام حضرت خضر (علیہ السلام) بتایا گیا ہے۔ قرآن و احادیث کے دلائل سے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ یہ اللہ کے نبی تھے، کیونکہ تعلیم کے لیے ایک نبی کو دوسرے نبی کی طرف ہی بھیجا جاسکتا ہے ویسے موسیٰ (علیہ السلام) صاحب تورات ہیں، اس لیے ان کی فضیلت خضر (علیہ السلام) سے کہیں زیادہ ہے۔ مزید وضاحت 16 پارے میں کی جائے گی۔ ان شاء اللہ
Ayahs 18:75–82

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

اس نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہ ہو سکے گا ؟

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اگر اس کے بعد پھر کوئی اعتراض کروں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں کیونکہ آپ میری طرف سے عذر قبول کرنے میں انتہا کو پہنچ گئے۔

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

ھر دونوں چلے یہاں تک کہ ایک گائوں میں پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے کھانا دینے سے انکار کردیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرنے والی تھی تو اس (خضر) نے اس کو سیدھا کردیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے اس کا معاوضہ لیتے (تاکہ کھانے کا کام چلتا۔ )

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

اس نے کہا اب مجھ میں اور تم میں علیحدگی مگر جن باتوں پر تم صبر نہ کرسکے میں ان کا بھید تمہیں بتائے دیتا ہوں۔

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

جو کشتی تھی غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت کر کے روزی کماتے تھے اور ان کے سامنے ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا اس کو عیب دار کر دوں (تاکہ وہ اس کو چھین نہ سکے۔ )

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ بڑے نیک لوگ تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ بڑا ہو کر کہیں ان کو سر کشی اور کفر میں نہ پھنسا دے۔

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

تو ہم نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ اس کی جگہ ان کو اور بچہ عطا کر دے جو نیک خصلت ہو اور مخلص ہو۔

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور وہ جو دیوار تھی وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں رہتے تھے اور اس کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا تو تمہارے رب نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ کر اپنا خزانہ لے لیں یہ تمہارے رب کی مہربانی ہے اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کیے۔ یہ ان باتوں کی حقیقت ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے۔

قَالَ اَلَمْ (پارہ نمبر 16) سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کی جدائی تشریح : اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ کسی اجتماع میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی دوسرا شخص عالم فاضل نہیں ہوسکتا ؟ تو آپ نے سادگی یا لاعلمی میں کہہ دیا کہ ہاں مجھ سے زیادہ کوئی اور علم نہیں رکھتا۔ تو اللہ کو یہ ناگوار گزرا، اس لیے آپ کو خضر (علیہ السلام) کے پاس بھیج دیا تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ سے زیادہ علم رکھنے والا بھی موجود ہے اور پھر سب سے بڑا علیم و حکیم تو صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ جس کو جتنا علم دینا چاہے دے دیتا ہے اس میں کسی شخص کا اپنا کوئی کمال نہیں۔ اسی لیے اللہ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ دو دریائوں کے سنگم پر جائیں تو وہاں ان کو ایک شخص ملے گا جو ان سے بھی زیادہ علم والا ہے۔ اس شخص کا نام قرآن پاک میں نہیں بتایا گیا احادیث میں ان کا نام سیدنا خضر (علیہ السلام) بتایا گیا ہے۔ یہ عبادت اور تقویٰ میں بہت درجہ رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندے تھے۔ قرائن اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا خضر (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے کیونکہ ان کا یہ بات فرمانا کہ ” وَمَا فَعَلْتُہٗ عَنْ اَمْرِ رَبِّیْ “ کہ میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا۔ “ (الکہف) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تمام کام انہوں نے اللہ تعالیٰ کی مرضی سے کیے ہیں اور براہ راست اللہ کی طرف ایسی بات اللہ کا نبی ہی کرسکتا ہے۔ یہاں کشتی میں سوراخ کا مطلب یہ تھا کہ اللہ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے کیونکہ بعض اوقات ایک مصیبت آتی ہے تو وہ ایک دوسری بڑی مصیبت کا علاج ہوتی ہے۔ لڑکے کا قتل یہ بتا رہا ہے کہ صبر کا پھل بڑا میٹھا ہوتا ہے۔ نیک والدین کو بری اولاد سے بچا کر نیک، مخلص اور فرمانبردار اولاد عطا ہونے کی خوشخبری سنادی۔ تیسرے واقعے میں کسی کی نیکی کا لحاظ کرتے ہوئے اس کی نیک کمائی اس کی نیک اولاد تک پہنچانے کا بندوبست کردیا کہ دفن شدہ خزانے کی نشاندہی کے لیے اس گرتی ہوئی دیوار کو مضبوط کروا دیا تاکہ خزانہ مستحقین تک پہنچ سکے اس وقت جب وہ بالغ ہوجائیں۔
Ayahs 18:83–98

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ میں اس کا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں۔

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

ہم نے اس کو زمین میں بڑی دسترس دی تھی اور ہر طرح کا سامان عطا کیا تھا۔

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

تو اس نے سفر کا ایک سامان کیا۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچا تو اسے ایسا پایا کہ کیچڑ کی ندی میں ڈوب رہا ہے اور اس ندی کے پاس ایک قوم دیکھی۔ ہم نے کہا ذوالقرنین ! تم ان کو خواہ تکلیف دو ، خواہ ان کے بارے میں بھلائی اختیار کرو ( دونوں باتوں کی تم کو قدرت ہے۔ )

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

ذوالقرنین نے کہا کہ جو کفر و بدکرداری سے ظلم کرے گا اسے ہم عذاب دیں گے، پھر جب وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ بھی اسے برا عذاب دے گا۔

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اس کے لیے بہت اچھا بدلہ ہے اور ہم اپنے معاملہ میں اس سے نرم بات کہیں گے۔

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر اس نے ایک اور سامان سفر کا کیا۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کے مقام پر پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایسے لوگوں پر طلوع ہوتا ہے جن کے لیے ہم نے سورج کے اس طرف کوئی اوٹ نہیں بنائی تھی۔

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

حقیقت الحال یوں تھی اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم کو سب کی خبر تھی۔

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر وہ ایک راستہ پر چل نکلا۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیان پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے۔

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا کہ ذوالقرنین ! یا جوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپ کے لیے خرچ کا انتظام کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار کھینچ دیں۔

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

ذوالقرنین نے کہا کہ خرچ کا جو مقدور اللہ نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے تم مجھے قوت بازو سے مدد دو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنا دوں گا۔

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

تو تم لوہے کے بڑے بڑے تختے لائو تاکہ کام شروع کردیا جائے یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان کا حصہ برابر کردیا اور کہا کہ اب اسے دھونکو۔ یہاں تک کہ جب اس کو دھونک دھونک کر آگ کردیا تو کہا کہ اب میرے پاس تانبہ لائو کہ اس پر پگھلا کر ڈال دوں۔

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں۔

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

بولا کہ یہ میرے رب کی مہربانی ہے۔ جب میرے رب کا وعدہ آپہنچے گا تو اس کو گرا کر ہموار کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔

نقشہ بسلسلہ قصہ ذوالقرنین ذوالقرنین کا واقعہ تشریح : قرآن پاک کے بیان کے مطابق ذوالقرنین کی تمام علامات خورس میں پائی جاتی ہیں۔ مگر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نام کی وضاحت نہیں کی، اس لیے یہ صرف اندازہ ہی ہے کہ نزول قرآن سے پہلے جس قدر فاتحین گزرے ہیں ان سب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی بتائی ہوئی تمام نشانیاں خورس میں پائی جاتی ہیں۔ خورس ایک ایرانی بادشاہ تھا جس کا عروج 549 قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ اس نے بڑے کم عرصہ میں میڈیا (الجبال) اور لیڈیا (ایشیائے کوچک) کو فتح کرلیا اور پھر بابل کو فتح کرنے کے بعد اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور ترکستان سے لے کر ایک طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری طرف تھریس اور مقدونیہ تک وسیع ہوگیا۔ شمال میں کا کیشیا اور خوارزم تک پھیل گئی۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت کی پوری مہذب دنیا کو اس نے فتح کرلیا تھا۔ کیونکہ غروب آفتاب کی جو کیفیت قرآن میں بیان کی گئی ہے کہ سورج سیاہی مائل گدلے پانی میں ڈوب رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس سے مراد ایشیائے کوچک کا مغربی ساحل ہے جہاں بحرایجین چھوٹی چھوٹی خلیجوں کی شکل میں موجود ہے۔ اس کا امکان یوں بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے لیے قرآن میں بحر (سمندر) کی بجائے عین (جھیل) یا خلیج کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ سب تفہیم القرآن تفسیر کی مدد سے اخذ کیا گیا ہے۔ ورنہ قرآن پاک میں صرف ذوالقرنین ہی کہا گیا ہے۔ جس کا مطلب ہے دو سینگوں والا یا دو زلفوں والا۔ یہ لقب ہے نام نہیں بتایا گیا۔ اس قصہ کا ذکر کفار مکہ کے ان تین سوالوں کے جواب میں تیسرا جواب ہے جو انہوں نے آپ ﷺ کا امتحان لینے کے لیے آپ سے کیے تھے۔ سورة کہف میں انہی تین سوالوں کا جواب دیا گیا ہے۔ ذوالقرنین کے بارے میں بڑی وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ وہ صرف ایک فاتح ہی نہ تھا بلکہ پکا مسلمان تھا کیونکہ وہ توحید اور آخرت پر مکمل ایمان رکھتا تھا۔ اس نے تین سفر کیے جن کا ذکر ہوچکا مشرق کی طرف، مغرب کی طرف اور پھر کا کیشیا کے شمال میں بحر خزر کے قریب یا جوج اور ماجوج سے بچائو کے لیے مضبوط سیسہ پلائی دیوار بنائی اتنا کچھ کرنے کے باوجود وہ اتنہائی منکسرالمزاج تھا۔ جب اس نے کہا کہ بیشک یہ دیوار انتہائی مضبوط ہے مگر لازوال نہیں۔ جب تک اللہ کی مرضی ہے، یہ قائم رہے گی۔ اور جب ” وعدے کا وقت “ آئے گا تو پارہ پارہ ہوجائے گی۔ یعنی وہ فتح و کامیابی کے نشے میں قیامت اور روز آخر کو بھولا ہوا نہیں تھا۔ وہ نیک دل، رحم دل، فیاض، عادل، محنتی اور اپنی رعایا سے محبت کرنے والا اور اللہ پر بھروسہ کرنے والا جنگ جو بادشاہ تھا۔ اس میں غرور، لاپرواہی، تن آسانی، حرص اور لالچ کا نام و نشان نہ تھا۔ بلکہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں، برکتوں اور فضل و کرم کو وہ اللہ کے لیے خرچ کرتا تھا اور اللہ کا شکر گزار بندہ تھا۔ اس نے کہا کہ ” یہ میرے رب کی مہربانی ہے جب میرے رب کا وعدہ آپہنچے گا (قیامت) تو اس کو گرا کر ہموار کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔ ، ، ( سورة ٔ کہف آیت :98 ) کس قدر خوبصورت کردار کا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ ہمارے رہنما ہمارے لیڈر اور ہمارے سربراہ مسلمان ہیں دعا ہے کہ الہ العلمین آج کے حکمرانوں کے کردار، مزاج اور اخلاق و کارکردگی ذوالقرنین جیسی بنا دے۔ آمین۔