Ayah 17:1عظمت نبوی اور مقام عبد
تشریح : یہ اس مشہور معجزہ کی نشاندہی کی گئی ہے جو معراج کے نام سے مشہو رہے۔ یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے ہوا جبکہ آپ کو تبلیغ کرتے ہوئے بارہ سال گزر چکے تھے آپ کی عمر اس وقت 53 سال تھی تاریخ میں اختلاف ہے مگر معروف یہی ہے کہ 27 رجب کو یہ واقعہ ہوا۔ اس طرح کہ ایک رات آپ ام ہانی کے گھر سو رہے تھے یا بیت اللہ میں تھے کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) آپ کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لے گئے وہاں آپ ﷺ نے انبیاء (علیہم السلام) کو نماز پڑھائی۔ پھر وہ آپ کو عالم بالا، یعنی کائنات کی بلندیوں کی طرف لے چلے پھر مختلف آسمانی طبقات میں آپ کی ملاقات کئی انبیاء سے ہوئی، آخر کار رب جلیل سے ملاقات کے لیے مزید بلندیوں کی طرف پرواز کی جہاں رب کے حضور حاضر ہوئے اور بہت سی ہدایات کے علاوہ پانچ وقت کی نماز کا تحفہ ملا۔ نماز مسلمان کے لیے تحفہ ہی ہے کیونکہ یہ ہر مسلمان کی معراج کہلاتی ہے۔ یہی ایک ذریعہ ہے رب سے ملاقات کرنے اور اپنی حاجات پیش کرنے کا اور اس کا قرب حاصل کرنے کا۔
بہرحال وہاں سے آپ بیت المقدس اور پھر مسجد حرام تشریف لے آئے، پھر بہت سی روایات سے ثبوت ملتا ہے کہ آپ نے جنت و وزخ کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تو صرف یہی کہا کہ ” ہم آپ کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لے گئے۔ “ مگر اس کی تفصیلات میں 25 احادیث مستند آچکی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو معراج جسمانی ہوا نہ کہ خواب میں یا روحانی طور پر آپ ﷺ کو سیر کرائی گئی۔
اسی طرح مقبول خدا متقی، نیک اور اہل معرفت (اللہ کو پہنچاننے والے) لوگ قرآن وسنت کے مطابق اعمال کو اللہ کے قرب کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ فرائض کی پابندی کے ساتھ وہ نوافل کے ذریعے اللہ کی ولایت کا درجہ حاصل کرتے ہیں۔ ایسا شخص روحانی طور پر بہت بلند، پاکیزہ اور ہلکا ہوجاتا ہے اس بلندی کو حاصل کرنے کے لیے گناہوں کی گندگی سے بچنا اور نیکیوں کی طرف بڑھنا بہت ضروری ہے۔ حسد، بغض، نفرت، شرارت، بدگمانی، خباثت اور غصہ یہ سب اعمال انسان کو انتہائی پستیوں میں لے جاتے ہیں۔ ایسا شخص نہ صرف یہ کہ اللہ سے دور رہتا ہے بلکہ خود اپنے لیے بھی بےسکونی اور پریشانی کا باعث بنا رہتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ ان تمام بدعملیوں سے دور رہ کر اللہ کی عبادت میں گم ہوجاتے ہیں کہ اللہ کی نافرمانی بالکل نہیں کرتے۔
رب سے پیار کی یہ انتہا ہے جو عام بہترین متقی اور نیک لوگوں کو حاصل ہوجاتی ہے تو نبی اکرم ﷺ نبیوں کے سردار خاتم النبیین حامل قرآن اور شفیع المذنبین بھلا ان کو معراج کی سعادت جسمانی طور پر حاصل ہوجانا کوئی ناممکن بات ہے۔ اور شروع آیت ” سبحٰن الذی “ کا مطلب ہے الہ العٰلمین قادرمطلق کہ جو کن (ہوجا) سے دنیا بنا دے بھلا اس کے لیے اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے جانا اور پھر عالم بالا کی سیر کروانا کیسے مشکل بات ہوسکتی ہے۔ یہ پہلا ثبوت ہے۔
دوسرا ثبوت یہ ہے کہ اللہ نے آپ کے لیے عبد (بندہ) کا لفظ استعمال کیا اور عبد جسم اور روح کا مجموعہ ہوتا ہے۔
تیسرا ثبوت یہ ہے کہ جب آپ نے اپنے معراج کے واقعہ کا ذکر کرنا چاہا تو ام ہانی ﷺ نے آپ کو منع کیا کہ لوگ آپ کے اور بھی مخالف ہوجائیں گے۔ اگر یہ خواب ہوتا تو وہ آپ کو ہرگز منع نہ کرتیں کہ خواب تو انسان دیکھتا ہی رہتا ہے۔
مگر معراج کا واقعہ اپنی خاص اہمیت رکھتا ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں بڑے واضح الفاظ میں کیا گیا ہے۔ مسجد الحرام اور مسجد اقصیٰ کا فاصلہ اس وقت کے لحاظ سے چالیس راتوں کا سفر تھا جو اللہ نے اپنی قدرت سے رات کے کچھ حصہ میں طے کروا دیا۔ مسجد اقصیٰ کو بابرکت اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ یہ علاقہ قدرتی نہروں، شادابی اور پھلوں کی کثرت کے لیے مشہور ہے اور دوسری بات یہ کہ یہاں بڑے بڑے انبیاء مدفون (دفن) ہیں۔
بہر حال معراج کی صداقت میں ملاحظہ ہو :
” واقعہ اسراء کی حدیث پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے صرف ملحدو زندیق لوگوں نے اس کو نہیں مانا۔ “ (ابن کثیر)
آج کل تو معراج کے واقعہ کو مان لینا یوں بھی آسان ہوگیا ہے کہ اگر انسان نامکمن کو ممکن بنا کر چاند پر اتر سکتا ہے۔ خلا میں چہل قدمی کرسکتا ہے تو اللہ جل شانہ، کے لیے یہ کیونکر مشکل تھا کہ اپنے پیارے نبی، محسن انسانیت، ہادی اعظم ﷺ کو اپنے پاس بلائے مادی جسم کے ساتھ اور سیر کرائے۔ یوں ان کی عزت واکرام میں اضافہ کرے اور پوری انسانی برادری کو بہترین مخلوقات کا درجہ عطا کرے۔ اور نماز جیسا مبارک تحفہ عطا کرے۔ ہم اپنے رب سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنے حبیب ﷺ کی امت کے ہر فرد، مرد، عورت، بچے، بوڑھے، جوان کو پکا اور سچا نمازی بنا دے اور ہمیں نماز کی تمام برکات سے مالا مال کر دے کیونکہ نماز ہی جنت کی کنجی ہے۔ نماز ہی اللہ کی نصرت کا ذریعہ، روحانی قوت کا سرچشمہ، برائیوں سے بچانے کا ہتھیار، اتحاد اور اصلاح کا ذریعہ، تنظیم کا وسیلہ، سکون قلب کا باعث غرض دنیا و آخرت میں ہر طرح کی کامیابیاں حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔ اسی لیے نماز کو بہترین تحفہ کہا گیا ہے جو آپ ﷺ معراج سے ہمارے لیے لے کر آئے۔
اللہ تعالیٰ خوب اچھی طرح دیکھنے اور سننے والا ہے اسی لیے اس نے بندوں کی بہتری کو دیکھتے ہوئے ان پر نماز پانچ وقت کی فرض کردی جو اللہ تعالیٰ کے قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے
اس آیت میں جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے مسجد اقصیٰ اور ملک شام کو دینی اور دنیاوی برکات سے اللہ نے مالامال کر رکھا ہے۔ دینی ایسے کہ وہ تمام گزرے ہوئے انبیاء (علیہم السلام) کا قبلہ تھا اور پھر ان تمام کا مسکن (رہنے کی جگہ) اور مدفن (دفن ہونے کی جگہ) بنا اور دنیوی یوں کہ اس میں بہترین چشمے، نہریں اور باغات ہیں۔ اور پھر چار مساجد کی حرمت یوں بیان کی گئی ہے۔ حدیث ہے۔ ” دجال ساری زمین میں پھرے گا مگر چار مسجدوں تک اس کی رسائی نہ ہوگی۔
(1) مسجد مدینہ
(2) مسجد مکہ مکرمہ
(3) مسجد اقصیٰ
(4) مسجد طور (ازمسند احمد)
Ayahs 17:2–8عبرت کے لیے بنی اسرائیل کا ذکر
تشریح : یہاں معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اچانک بنی اسرائیل کا ذکر یوں آگیا کہ اہل مکہ کو خبردار کردیا جائے کہ یہ پیغمبر جو تم سے مخاطب ہے کوئی معمولی انسان نہیں بلکہ انسانیت کی بلندیوں سے ہو کر آرہا ہے یہ عظیم الشان اور بہترین انسان حقیقت میں ایک سچا اور مقبول الٰہی نبی ہے اگر اس پر یقین نہ کرو گے ایمان نہ لائو گے تو پھر بنی اسرائیل کا حال تمہارے سامنے ہے کہ جو قومیں کتاب الٰہی پانے کے بعد اس پر عمل نہیں کرتیں، نبیوں کو قتل کرتی ہیں، نافرمان اور سرکش ہوتی ہیں، تو ان کو ضرور دردناک سزا دی جاتی ہے۔ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم نوح (علیہ السلام) کی نسل میں سے وہ بچے ہوئے لوگ ہو جو طوفان نوح میں نوح کی کشتی میں سوار ہونے کی وجہ سے بچ گئے تھے۔ تمہیں چاہیے کہ شکر گزاری کا راستہ اختیار کرو۔ اور نبی اکرم ﷺ کی فرمانبرداری کا راستہ اختیار کرو۔ کیونکہ نوح (علیہ السلام) بڑے شکر گزار، نیک اور اللہ کے فرمانبردار بندے تھے۔ کفار مکہ اور یہود و نصاریٰ کو عبرت دلانے کے لیے اللہ رب العزت بنی اسرائیل کے کچھ حالات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ بنی اسرائیل اتنی نافرمان قوم تھی اور ہمیں معلوم تھا وہ کیا کرے گی اسی لیے ہم نے ان کی کتاب میں ان کو پہلے سے آگاہ کردیا تھا کہ ” تم زمین میں دو دفعہ فساد برپا کرو گے۔ “ اور پھر انجام بھی برا ہی ہوا۔ پہلی تباہی تو ان کی بابل کے فرمانروا بخت نصر کے ہاتھوں ہوئی اور یہ واقعہ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے تقریباً چھ سو سال قبل ہوا، اس نے یروشلم میں یہودیوں کو بےدریغ قتل کیا اور بہت ساروں کو غلام بنا لیا۔ یہ عذاب اس لیے آیا کہ جب انہوں نے اللہ کے نبیوں کو قتل کیا۔ تورات کے احکامات کی بری طرح نافرمانی کی، زمین میں فساد پھیلایا اور ہر قسم کی برائی کی، تو پھر ان پر عذاب آیا۔ بڑا عرصہ تم لوگ اس کے ظلم و ستم کے شکار رہے، پھر جب تمہیں دوبارہ اقتدار ملا، جب بخت نصر قتل ہوگیا تو تمہیں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت، آل اولاد اور ہر طرح کی عزت واحتشام عطا کیا اور دوبارہ تمہیں طاقتور اور مضبوط بنا دیا۔ تو کچھ عرصہ بعد تم نے پھر ناشکری نافرمانی اور بداعمالی شروع کردی اور پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے لگے مگر اللہ نے ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا تو اس انتہائی بےراہروی کے بدلہ میں دوبارہ ان پر اس صورت سے عذاب نازل ہوا کہ رومی بادشاہ ٹیٹس نے یروشلم پر حملہ کر کے ان کو تہس نہس کردیا مال و متاع لوٹ لیا آسمانی صحیفوں کو روند ڈالا بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کو خوب نقصان پہنچایا اور ان لوگوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بیت المقدس سے نکال باہر کیا یہ تباہی و بربادی اور ذلت و خواری 70 ء میں ہوئی۔
رب العٰلمین مکہ کے کفار کو خبردار کر رہے ہیں کو جو اس زمانے میں تھے اور یہودیوں کو تنبیہہ کی جا رہی ہے کہ اب اگر تم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ دشمنی کی نافرمانی کی یا بداعمالی کی تو یاد رکھو پھر تیسری دفعہ تمہیں ذلیل و خوار ضرور کیا جائے گا۔ اور اگر نیکی اختیار کی، ایمان لے آئے اور بداعمالیوں سے دور رہے تو رب العلمین ضرور اس کے بدلے میں دنیا و آخرت میں ہر طرح کی بھلائیاں، خوشیاں اور کامیابیاں عطا کرے گا۔ مگر ان عقل کے اندھوں نے پھر وہی طریقہ اختیار کیا اور نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کے نافرمان اور دشمن بنے رہے اور خوب ہی بداعمالیاں کیں اور وہی رویہ آپ کے ساتھ اختیار کیے رکھا جو ان سے پہلے رسالت موسوی و عیسوی کے ساتھ روا رکھا ہوا تھا تو پھر اس نااہل کے بدلے تیسری دفعہ ان پر عذاب الٰہی نازل ہوا اور مسلمانوں کے ہاتھوں خوب ہی ذلیل و خوار ہوئے اور آخر کار ان کو مدینے اور خیبر سے نکلنا پڑا۔ پھر ایک اور خبر ان لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ یہ دیتے ہیں کہ ابھی آخرت کا عذاب ان کے لیے باقی ہے۔ اور وہ بڑا ہی دردناک جہنم کا عذاب ہے جو پورے انصاف کے ساتھ ان کو ضرور دیا جائے گا۔
Ayahs 17:9–12باعث ہدایت کتاب اور انسانی فطرت
تشریح : اللہ تعالیٰ فصاحت و بلاغت بھرے انداز میں فرما رہے ہیں کہ قرآن رحمت ہے، برکت ہے، کیونکہ اس میں بہترین زندگی گزارنے کے وہ تمام اصول بتا دیے گئے ہیں جو انسان کو اجر عظیم کا حق دار بنائیں گے اور ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جو ایمان نہیں لاتے وہ بچ نہ سکیں گے ان کو درد ناک عذاب ضرور دیا جائے گا۔ پھر انسانی فطرت کا ذکر اس طرح کیا کہ انسان بڑا جلد باز ہے، جیسے بھلائیوں کے لیے دعائیں کرتا ہے اسی طرح تکلیف پہنچنے پر بےصبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لیے بددعا کرنے لگتا ہے یہ تو اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ وہ انسان کی اس حماقت کو سمجھتے ہوئے اس کی بددعا قبول نہیں کرتا۔ اس موضوع پر سورة یونس آیت 11 میں بڑی اچھی وضاحت ہوچکی ہے۔ پھر آخر میں اللہ رحمن و رحیم اپنی نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میری نشانیوں میں سے ایک دونشانیاں دن و رات کا مسلسل آنا ہے اور ان کا ردوبدل بڑے اندازے اور حکمت کی نشانی ہے اور پھر ان کے آنے جانے میں انسان کے لیے فائدے ہی فائدے ہیں۔ روشن دن کام کے لیے اور اندھیری رات آرام کے لیے اور پھر دن مہینے اور سال کا اندازہ بھی تو انہی کے آنے جانے سے لگایا جاتا ہے۔ یہ سب باتیں بڑی وضاحت سے بیان کردی گئی ہیں۔ ایک مفکر اور مدبر اس تحقیق میں کہ آخر اس میں سائنس کا کون سا نکتہ پوشیدہ ہے اس کی جستجو میں کئی اور بیشمار نکات ڈھونڈ لیتا ہے۔ مسلمان ماہر فلکیات نے اس علم کو بہت ترقی دی اور انہوں نے قرآنی آیات کی روشنی میں ستاروں اور سیاروں کی حرکات و مقامات کے حسابات بڑے ٹھیک ٹھیک کیے اور کئی مشہور سائنسدان مثلاً بطلیموس کے کئی مشاہدات کو غلط ثابت کیا اسی طرح بہت سے سائنسدان اپنے تحقیقی مشاہدات کو بدلتے رہتے ہیں جبکہ قرآن پاک کے اشارات بڑے سچے اور پکے ہیں، مثلاً سورج کے بارے میں گردش کرنے کا مسئلہ قرآن پاک میں بتا دیا گیا کہ ” وہ اپنے مستقر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ “ جبکہ سائنس دان اس کو ٹھہرا ہوا ثابت کرتے رہے اور ماضی قریب میں اس نتیجہ پر پہنچے کہ سورج بھی گردش میں ہے، ٹھہرا ہوا نہیں۔ موجودہ دور خلائی دور کہلاتا ہے۔ بیشمار دوربینیں، رصد گا ہیں خلا میں بھیجی چا چکی ہیں جو زمین کے گرد گھوم رہی ہیں 20 جولائی 1969 ء میں انسان چاند پر قدم رکھ چکا تھا اور اس طرح انسان نے چاند سے اپنی زمین کا مشاہدہ کرلیا۔ اب تو یہ پرانی بات ہوچکی ہے۔
معلوم ہوچکا ہے کہ ہمارا سورج اوسط درجے کا ستارہ ہے اس کا قطر تقریباً 1.4 ملین (14 لاکھ) کلو میٹر ہے۔ سورج زمین کی سطح کے نصف کو جو اس کے سامنے ہوتا ہے روشن کردیتا ہے اور زمین کا دوسرا نصف تاریکی میں رہتا ہے۔ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہے اور روشنی وہی رہتی ہے۔ چناچہ نصف کرہ (زمین) کی شکل کا کچھ رقبہ چوبیس گھنٹے میں زمین کے چاروں طرف ایک چکر لگالیتا ہے جبکہ دوسرا نصف کرہ جو تاریکی میں رہ چکا ہے وہ بھی وہی چکر اتنے ہی وقت میں پورا کرلیتا ہے اور یوں دن اور رات کا تسلسل جاری رہتا ہے۔ اور اسی سے تاریخ، یعنی دن، ہفتہ، مہینہ اور سال پھر صدیوں کا حساب کتاب کرلیا جاتا ہے۔ ہے نا ! یہ شان کریمی۔ کس قدر مہربانیاں، رحمتیں اور برکتیں اس ارحم الراحمین نے ہم بندوں پر بالکل مفت کر رکھی ہیں، پھر کچھ بیوقوف لوگ اللہ سے شرک اور کفر کرتے ہیں۔ ہمارے سامنے قدم قدم پر اس کی نشانیاں موجود ہیں جو پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ اللہ ایک ہے، عظیم ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور یہ دنیا ضرور فنا ہوجائے گی ہم سب دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے، سزا اور جزا ضرور ملے گی، پھر بھی ہم غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اللہ ہماری مدد فرمائے اور ہمیں ان اخلاقی اصولوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔
(1) اخلاقی کمال کی اعلیٰ ترین صورت رضائے الٰہی کا حصول ہے۔
(2) اہل حق کا ہر عمل صرف رضائے الٰہی کی خاطر ہوتا ہے۔
(3) اہل حق کی دوستی اور دشمنی کا معیار بھی رضائے الٰہی کا نصب العین ہوتا ہے۔
” اے ہمارے رب جب تو ہمیں ہدایت کرچکا تو ہمارے دلوں کو نہ پھیر اور اپنے ہاں سے ہمیں رحمت عطا فرما، بیشک تو بہت زیادہ دینے والا ہے۔ “ (سورۃ آل عمران آیت 8)
Ayahs 17:13–15اعمال نامہ اور قیامت کا دن
تشریح : ان آیات میں اس سائنسی نکتہ کو بڑے ہی عام الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے کہ ہمارے کائناتی نظام میں اس قدر مضبوط اور معقول نظام ریکارڈنگ اور فلم کا رکھا ہوا ہے کہ ہر شخص اس نظام کے احاطہ کے اندر ہے۔ ہر شخص کی کہی ہوئی بات کیا ہوا عمل اور نیت سب کچھ ایک خود کار عمل کے ذریعے ایسے ہی تیار ہو رہا ہے، جیسے کہ انسان کے اعمال کی تختی ہر وقت اس کے گلے میں لٹک رہی ہو۔ اور پھر وہ تختی اللہ کی اتنی سخت حفاظت میں جمع ہوجاتی ہے کہ قیامت کے دن وہ اپنے اعمال کی تختی خود دیکھ لے گا۔ یہ اس لیے کہ اللہ نے رسول بھیج دیے جس شخص نے اپنی عقل، فہم اور ارادہ سے نیک راہ اختیار کی اور خلوص نیت سے نیک زندگی گزاری یا جس نے گمراہی اختیار کی تو اس کی سزا و جزا میں ہرگز بےانصافی نہ ہوگی بلکہ اپنے ہی اعمال کا ٹھیک ٹھیک بدلہ ملے گا اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر نیکی کرتے ہو تو اپنے لیے برائی کرو گے تو اپنے لیے اعمال میں اور سزا و جزا میں کوئی کسی کا ذمہ دار ہرگز نہیں ہوسکتا۔ مسلمان تو خیر اس پر ایمان رکھتا ہے مگر جدید سائنسی تحقیقات نے بھی اس حقیقت کو ثابت کردیا ہے کہ ہر چیز خواہ اندھیرے میں ہو یا اجالے میں، ساکن ہو یا حرکت میں ہو اپنے اندر سے ایک حرارت نکالتی رہتی ہے۔ ان حرارتی لہروں سے اس کی مکمل تصویر تیار ہوتی رہتی ہے۔ جس طرح آواز کی لہریں زبان سے نکلی ہوئی تھرتھراہٹ سے بات کو محفوظ کرلیتی ہیں۔ یہ ایک لمبا موضوع ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ آجکل جو کیمرے انفرارڈ شعاعوں سے کام میں آرہے ہیں وہ یہی کام دکھا رہے ہیں۔
سائنس بتاتی ہے کہ ہمارے اعمال اندھیرے میں کیے گئے ہوں یا اجالے میں ہوں، چھپ کر ہوں یا ظاہراً کیے گئے ہوں سب فضا میں فلم کی صورت میں موجود رہتے ہیں۔ جن کو جمع کر کے کسی بھی شخص کی پوری زندگی کی فلم تیار مل سکتی ہے۔ اسی لیے اللہ علیم وخبیر فرماتا ہے :
” اور پھر قیامت کے دن ہم اس کے لیے ایک کتاب نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔ “ ( سورة بنی اسرائیل آیت :13)
قرآن کس قدر سچی اور حقیقت سے بھری ہوئی کتاب ہے ! اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے اسے انسانوں کے لیے رحمت کہا ہے۔ مگر یہاں عمل اور ارادہ کی خود مختاری دے کر انسان کو حیوان سے ممتاز کردیا گیا ہے اور یہی انسان کے لیے مشکل ترین کام ہے۔ ڈاکٹر علامہ اقبال فرماتے ہیں ؎
تقدیر کے پابند نباتات و جمادات
مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند
Ayahs 17:16–17فسق وفجور ہلاکت کی نشانی
تشریح : یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے پیغمبر آنے کے بعد بھی نافرمانی کی۔ ایک تو سزا کا طریقہ یہ ہے کہ بری قوم پر برے سربراہ سزا کے طور پر مقرر کردیے جاتے ہیں۔ جو خود بھی برائیاں کرتے ہیں اور برائیوں کو پسند کرتے ہیں اس طرح بری قوم بالکل ہی بری ہوجاتی ہے۔ اور دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مال و دولت بذات خود ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ جو لوگ تو دولت کے نشے میں اللہ، رسول اور آخرت کو بھول جاتے ہیں وہ بہت سے لوگوں کو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اور جو مال و دولت کی فراوانی میں اللہ اور رسول کو یاد رکھتے ہیں وہی اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ مگر یہاں پہلی قسم کے لوگوں کا ذکر ہے کہ ایسے امیر بدکردار پوری قوم کو لے ڈوبتے ہیں اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد بیشمار ایسی قومیں گزر چکی ہیں جو اسی وجہ سے تباہ و برباد کردی گئیں۔ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا دیکھنے اور جاننے والا ہے۔ وہ کسی کو ناحق تباہ و برباد نہیں کرتا۔
Ayahs 17:18–22دنیا کی خواہش اور آخرت کی طلب
تشریح : دعا کا یہ انداز کہ صرف دنیا کی بھلائیاں مانگی جائیں اچھا نہیں اس سے دنیا کی محبت کا اظہار ہوتا ہے اور صرف دنیا کی ہی بھلائیاں ملیں گی جو بالکل نقصان کا سودا ہے کیونکہ آخرت کی بھلائیاں بہت بلند درجہ رکھتی ہیں۔ اور جو آخرت کی بھلائیاں مانگے اس کو آخرت کی بھلائیاں مل جاتی ہیں اور دنیا کی بھی مل جاتی ہیں مگر ایسا بندہ زیادہ فائدہ میں رہتا ہے۔ اللہ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں، اس لیے اس سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں مانگنی چاہییں، مگر شرط یہ ہے کہ دعا میں خلوص اور ایمان شامل ہو۔ کفر و شرک تو ویسے ہی جہنم کی طرف لے جانے والے ہیں صرف دعا سے بچ نہیں سکتے۔ اس لیے دعا کے لیے خشوع و حضوع اور ایمان کی مضبوطی شرط ہے۔
Ayahs 17:23–39بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول
تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر کے کفار عرب سے ٹکرا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس مرد آہن نے پورے عرب پر اسلام کا جھنڈا لہرا دیا پورے عرب پر ہی نہیں بلکہ اس وقت دنیا کے ہر ملک میں مسلمانوں کی تعداد کافی موجود ہے۔ یہ آیات بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مسلمان کی زندگی کا منشور اس وقت دیا گیا جب مکہ کی زندگی کا اختتام اور مدینہ کی نئی زندگی کا آغاز ہو رہا تھا۔ اللہ کا دیا ہوا یہ ہدایت نامہ انسانی زندگی کے ہر شعبہ کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اللہ کیونکہ سمیع وبصیر، خالق و معبود، فتاح و رزاق، مبدی و محصی، مالک الملک اور ارحم الراحمین ہے۔ اس نے انسان کو پیدا کیا اس کے آرام کے لیے آسمان زمین اور ہر قسم کی تمام چیزیں پیدا کردیں اور پھر اخلاقی مذہبی، تمدنی غرض زندگی کو بہترین طریقہ سے گزارنے اور اصول سمجھانے کے لیے انبیاء بھیجے، آسمانی صحیفے بھیجے جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتے چلے گئے تو سب سے آخر میں انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے حضرت محمد ﷺ کو آخری کتاب (قرآن مجید) دے کر بھیجا جو سب سے بڑی ہدایت کی کتاب ہے۔ اس میں انسان کے لیے دنیا و آخرت کے لیے تمام نعمتیں، برکتیں اور آسائشیں جمع کردی گئی ہیں۔ ان آیات میں وہ زندگی کا بہترین چارٹ بنا کر دے دیا گیا ہے جو کوئی بڑے سے بڑا عالم فاضل نہیں بنا سکتا۔ ملاحظہ ہو :
انسان کو اس کے خالق کی پہچان دلائی گئی۔ اور فرمایا :
” اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو۔ ، ، ( سورة بنی اسرائیل آیت : 23 )
جب ایک بندہ کہتا ہے ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ تو اس کا مطلب ہے اس نے اپنے آپ کو ہر ہر لحاظ سے ایک اکیلے اللہ کی بندگی میں دے دیا، یعنی اب اس کا جینا، مرنا، ہنسنا، بولنا، اٹھنا، بیٹھنا، غرض اس نے اپنی مشکل اپنی خوشی اپنادکھ، اپنا سکھ سب اللہ کے سپرد کردیا اور خود اس کی محبت میں مست دنیا کے کاموں میں مصروف ہوگیا اور یوں وہ دنیا کے رنج و الم اور خوف و خطر سے بالکل محفوظ ہوگیا اسی لیے تو فرمایا ” نہ اس پر خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں “ ایسے مرد کا مل کا اپنے رب پر اس قدر اعتماد اور یقین ہوتا ہے کہ کوئی مشکل کوئی پریشانی کوئی جن اور کوئی انسان کسی صورت بھی اسے ہرا نہیں سکتا۔ ایسا شخص صبر، بہادری اور یقین کی ایسی مضبوط چٹان بن جاتا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کو زیر نہیں کرسکتی۔ ہمارے سامنے ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ کی اتنی شاندار مثال موجود ہے۔ ان کو اپنے رب سے محبت تھی۔ وہ اپنی زندگی کے ہر مرحلہ میں اس قدر کامیاب و کامران رہے کہ ان کے جانی دشمن بھی ان کو صادق (سچا) اور امین (امانت دار) کہتے تھے۔ اور پھر انہوں نے دنیا کو اسلام کی تعلیم اس کامیابی سے دی کہ باقی جتنے پیغمبر آئے وہ کسی قوم یا خاص ملک کے لیے آئے اور کچھ عرصہ بعد ان کی تعلیمات قوم اور ملک ختم ہوگئے مگر پیارے رسول حضرت محمد ﷺ پوری دنیا کے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے اور ان کی تعلیمات ان پر نازل ہونے والی کتاب قرآن پاک تا قیامت محفوظ رہے گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اب ہم ذرا ان تعلیمات پر غور و فکر کرتے ہیں جن کی برکت سے مسلمان کو تمام اقوام عالم پر فضیلت دی گئی۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت اور بندوں کی محبت کا سبق دیا ہے۔ یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد۔
حقوق اللہ میں توحید، نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج آجاتا ہے۔
دیکھا جائے تو یہ عبادات انسانی عمارت کی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جب ہمارا اعتقاد اللہ پر اس قدر پکا ہوجاتا ہے کہ اس کے سوا نہ ہمیں کسی نے پیدا کیا ہے اور نہ ہی ہمارا کوئی اور رازق ہے تو ہماری زندگی کی یہ بنیادی اینٹ بالکل سیدھی اور مضبوط ہوجاتی ہے۔ اور یوں ہم دنیا کی تمام خباثتوں، رنج و غم اور پریشانیوں سے آزاد ہوجاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان کو کوئی تکلیف ہی نہیں پہنچتی۔ دکھ سکھ، رنج و راحت، کامیابی و ناکامی، نفع و نقصان یہ سب کچھ انسانی زندگی کا ضروری حصہ ہیں کیونکہ اگر زندگی صرف ایک ہی طرح گزرنے لگے بیشک خوشی ہی خوشی ہو تو انسان کی فطرت ہے وہ اکتا جاتا ہے اسی لیے ملے جلے حالات کا نام ہے بہتر زندگی اور پھر اس کو بہترین بنانے کا طریقہ ہے رب سے محبت۔ جب اللہ پر یقین پکا ہوجاتا ہے تو پھر کوئی غم، غم نہیں لگتا۔
توحید کے علاوہ جتنی عبادات ہیں ان کے بارے میں بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ تمام عبادات انسان کے اپنے بھلے اور کامیابی کا ذریعہ ہیں۔ عبادت تو اللہ کی کرتے ہیں مگر جسمانی، روحانی، تمدنی اور اخلاقی کامیابیاں خود ہمیں اپنے لیے حاصل ہوتی رہتی ہیں۔ اور ہم ایک فرد یا افراد ہوں ہر طرح دنیا و آخرت کو فتح کرلیتے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ان عبادات میں اللہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ سو فیصد فائدہ خود انسان کا اپنا ہی ہوتا ہے۔
اب آتے ہیں حقوق العباد کی طرف۔ حقوق العباد کا کیا کہنا یہ تو خوشیوں، برکتوں، کامیابیوں اور سکون کی گویا کنجی ہے۔
حقوق العباد کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ یعنی انسانی اخلاقی اور دوسرا آپس کے معاملات۔ انسان سوشل حیوان ہے۔ یہ اکیلا نہیں رہ سکتا۔ جیسا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ حضرت حوا کی اور پھر ان کی اولاد کی کہانی ہے۔ لیکن کیونکہ مل جل کر رہنے میں لڑائی جھگڑا بھی ہوجاتا ہے جو معاملات و اخلاقیات پر مبنی ہے تو اس کے لیے جو سب سے پہلا اصول اللہ نے اپنے بندے کو بتایا وہ ہے والدین کا ادب
(1) والدین کا ادب : پہلا خالق اللہ ہے اور دوسرا پیدائش کا ذریعہ والدین ہیں۔ اللہ کے بعد ان کی فرمانبرداری پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ خاص طور سے جب وہ بوڑھے ہوجائیں ان کے ساتھ سلوک کو اللہ نے ایک چھوٹے سے جملہ میں سمیٹ دیا ہے فرمایا :
” والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہوجائیں تو انہیں اف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑک کر جواب دو ، بلکہ ان کے ساتھ احترام سے بات کرو، نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو، اور دعا کیا کرو کہ ” پروردگار ! ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا۔ “ (بنی اسرائیل آیت :23 )
یہ بنیادی فرق ہے مسلم اور غیر مسلم کے خاندانی دستور کا۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
” رب کی رضا والد کی رضا اور رب کی ناراضگی باپ کی نارضگی میں ہے۔ “
صرف ایک حکم ہے جو والدین کا ماننا منع ہے وہ ہے شرک و کفر کا حکم۔
(2) ” اور رشتہ داروں محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو۔ “ (آیت 26 )
یہ انسانی محبت آپس میں بھائی چارے اور مال کی تقسیم کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور انہیں تین دفعات پر مدینہ کے معاشرے کا اخلاقی نظام ترتیب دیا گیا جس کی وجہ سے غیر مسلم اسلام کی طرف بےساختہ جھکتے چلے گئے اور لوگ خود بخود اس بہترین اخلاقی نظام کے عادی ہوگئے اور پورے ماحول میں فیاضی، تعاون، بھائی چارے اور ہمدردی کا طریقہ جڑ پکڑ گیا اور یوں اسلام مضبوط اور مقبول مذہب ثابت ہوا۔
(3) ” فضول خرچی سے بچو۔ “ اللہ نے فرمایا :
” اور فضول خرچی سے مال نہ اڑائو۔ “ (بنی اسرائیل آیت : 26 )
یہ ذہنی اور اخلاقی تربیت کا بہترین نسخہ ہے۔ اس سے عیاشی کا رجحان ختم ہوتا ہے، دوسرے قانونی طور پر بےجا مال خرچ کرنے سے روکا گیا ہے، تیسرے معاشرتی اصلاح کے ذریعہ ان تمام فضول رسموں کا خاتمہ کیا گیا ہے جو غلط اور بےکار ہیں۔ چوتھے صدقات و خیرات اور زکوٰۃ کے احکام سے دولت بجائے جمع ہونے کے گردش میں رہنے لگی اور یوں مدینہ کی نئی ریاست کو ایک بہترین قانون کے ذریعے مضبوط اور دوسروں سے معروف بنا دیا گیا اور اس اخلاقی تربیت کا اثر آج بھی مسلم معاشرے میں نظر آتا ہے۔ جو اس سے ہٹ کر زندگی گزارتے ہیں وہ اللہ کے گنہگار اور ناکام لوگ ہیں کیونکہ ضرورت سے زیادہ مال جمع کرنا حرام ہے۔
(4) میانہ روی : یہ انسانی زندگی میں بےحد ضروری ہے۔ نہ صرف یہ کہ مال و دولت میں ہی میانہ روی اختیار کرو بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں ’ میانہ روی، مصیبت، پریشانی اور بےچینی سے بچاتی ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو بڑی اچھی طرح جانتا ہے اور دیکھتا ہے۔ اس کا یہ نظام ہے کہ اس نے تمام لوگوں کو روزی رزق میں برابر نہیں رکھا ہوا۔ یہ بھی اس کی بہت بڑی حکمت ہے (وضاحت پچھلے اسباق میں ہوچکی ہے) اس اونچ نیچ کو بھی مدینہ کی سیاسی زندگی کو معمول پر لانے کے لیے یہی قانون نافذ کیا گیا کہ اعتدال سے کام لیا جائے تاکہ معاشی لحاظ سے لوگوں میں جو فرق اللہ نے رکھا ہوا ہے وہ بجائے ظلم و ناانصافی کے بہترین اخلاقی، روحانی اور تمدنی اصلاح کا ذریعہ بن جائے۔ اور یوں مسلم معاشرہ دوسرے تمام معاشروں سے ممتاز ہوجائے اس منشور کی یہ دفع بھی اسلام کی مضبوطی اور کامیابی کا ذریعہ بنی۔
(5) ” مفلسی کے باعث اولاد کو قتل نہ کرو۔ “ (بنی اسرائیل آیت : 31 )
انوار القرآن میں ڈاکٹر ملک غلام مرتضیٰ صاحب نے بڑی اچھی وضاحت کی ہے لکھتے ہیں :
” قدیم زمانے میں لوگ افلاس کے خوف سے اولاد کو قتل کردیتے تھے امت محمدیہ کو اس قبیح کام سے روکا گیا ہے بلکہ خاص طور پر آپ نے ایک موقعہ پر ارشاد فرمایا کہ :
” ایسی عورتوں کے ساتھ شادی کرو جو محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی ہوں تاکہ میں کل صبح قیامت کے دن اپنی امت کی کثرت پر فخر کرسکوں۔ “
ڈاکٹر صاحب مزید لکھتے ہیں۔ ” اس سائنسی اور میڈیا کے دور میں برتھ کنٹرول کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور اس کی تشہیر کے بارے میں بحیثیت مسلم ہمیں غور کرنا چاہیے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم ادارے تیسری دنیا خصوصاً مسلم ممالک میں برتھ کنٹرول کے ذریعے امت مسلمہ کی تعداد کو محدود کرنا چاہتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کا تصور تک نہیں جہاں تک وسائل اور افلاس کا معاملہ ہے باری تعالیٰ کا اس بارے میں ارشاد مبارک ہے۔ “
” ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں۔ “ (بنی اسرائیل آیت : 31 از انوار القرآن)
تاریخ کا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں کھانے والی آبادی جتنی بڑھتی گئی اتنے ہی زیادہ معاشی ذرائع وسیع ہوتے گئے۔ تو ثابت ہوا کہ اللہ کے اس تخلیقی پروگرام میں دخل دے کر صرف اپنے آپ کو گنہگار بنانے والی بات ہے۔ ورنہ اس نے تو ہر طرح کا بندوبست خود ہی کر رکھا ہے۔ انسان کو چاہیے بجائے اللہ کی اس رضا میں دخل دینے کے اس کے پیدا کیے ہوئے وسائل پر توجہ دے اور محنت و کوشش کو اپنا شعار بنائے۔
(6) ” زنا کے قریب مت جاؤ کہ یہ بےحیائی ہے۔ “ (بنی اسرائیل : 32 )
یہاں یہ نہیں فرمایا کہ ” زنا نہ کرو۔ “ بلکہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ ” زنا کے قریب مت جاؤ۔ “ ” زنا کی طرف جانا “ یہ ہر اس قدم کی طرف اشارہ کرتا ہے جو معاشرے میں بےحیائی، مردو زن کا کھلے عام ملنا جلنا، سر عام عورتوں کا کھلے منہ بےپردہ سج بن کر بازاروں میں، پارکوں میں، تفریح گاہوں میں، غرض گھر سے باہر بےمقصد نکلنا یہ سب انہی راستوں میں شمار ہوتا ہے جو بےحیائی کے راستے زنا تک پہنچاتے ہیں اور پھر زنا میں بیشمار صورتیں شامل ہیں۔ آنکھ، کان، ناک، دل، دماغ غرض جسم کا ہر وہ حصہ جو بےحیائی کی طرف بڑھے زنا میں شامل ہے۔ یہ دفعہ اسلامی نظام زندگی کی مضبوط بنیاد بنی، کیونکہ بےحیائی کے تمام راستے قانوناً سختی سے بند کردیے گئے وہ اس طرح کہ اسلامی ملک میں زنا اور تہمت زنا کو فوجداری جرم قرار دیا گیا۔ پردے کے احکام جاری کیے گئے، شراب موسیقی اور تمام اخلاقی برائیوں پر پوری طرح بندش لگائی گئی اور پھر نکاح ایسے اچھے اور آسان طریقے کے وضع کردیے گئے کہ یہ اخلاقی گناہ خود بخود ختم ہوگیا۔ اب اگر ہم اپنے اس معاشی، تمدنی اور معاشرتی دستور پر غور کریں تو یہ پر سکون ماحول ہمیں اسلامی ممالک میں ہی دکھائی دیتا ہے۔ اور یہ بہت بڑی رحمت ہے ہم مسلمانوں پر کہ اللہ نے اس اتنی بڑی خباثت، گناہ اور اخلاقی پستی سے بچا کر پر سکون راستہ دکھایا۔ آج اگر ہم غور کریں تو ہمیں اسلامی معاشرے اور غیر اسلامی معاشرے میں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ ہمارے مرد، عورتیں اور بچے پرسکون پاکیزہ اور انتہائی خوبصورت زندگیاں گزار رہے ہیں جبکہ غیر اسلامی ممالک میں سکون نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی کیونکہ ازدواجی اور خاندانی نظام اس قدر ناقص ہے کہ کسی کو نہ سکون ہے نہ آرام۔ وہ لوگ سکون کی تلاش میں نائٹ کلب، رقص و سرود اور نشہ آور مشروبات کا رخ کرتے ہیں۔ اور یہ راستے سوائے تنزل کے اور کہیں نہیں جاتے۔ اللہ ہم تمام مسلمانوں کو ان تمام بدکرداریوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہر طرح سے محفوظ و مامون رکھے۔ آمین ثم آمین۔
(7) قتل و غارت سے بچو۔ اللہ فرماتا ہے :
” اور جس جاندار کو مارنا اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے تم اس کو نہ مارو سوائے حق کے۔ “ (بنی اسرائیل آیت : 33 )
قتل کے بارے میں سورة بقرہ میں کافی تفصیلات بیان کی جا چکی ہیں۔ یہاں ” حق کے ساتھ، ، کی وضاحت مقصود ہے۔ اور اس میں قصاص، سزا اور جنگ اسلامی حکومت کو الٹنے کی کوشش اور پانچواں ارتداد شامل ہے۔ قتل بالحق انہی پانچ صورتوں میں جائز ہے۔ اسی طرح خود کشی بھی قتل کے گناہ میں شمار ہوتی ہے۔ کچھ صورتیں یوں بھی قتل کے گناہ میں شمار ہوتی ہیں مثلاً انتقام کے جوش میں مجرم کے علاوہ دوسروں کو بھی مار دینا، مجرم کو تکلیف دے دے کر مارنا، مار دینے کے بعد اس کی لاش کی بےحرمتی کرنا اور خون بہا لینے کے بعد پھر بھی اس کو قتل کردینا۔ یہ تمام قتل کے گناہ میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ سب اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں جو اسلامی ممالک کو بےسکونی افراتفری اور جھگڑے فساد سے بچا کر ایک انتہائی پرسکون ماحول دیتی ہیں۔ قتل کے بارے میں سورة الانعام کی آیت 151 میں تفصیلاً گزر چکا ہے، حدیث میں آتا ہے کہ شرک کے بعد قتل سب سے بڑا گناہ ہے۔
(8) یتیم کے مال کی حفاظت : اللہ نے فرمایا یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ، علاوہ اس راستے کے جو بہتر ہے۔ “ (بنی اسرائیل آیت : 34 )
یہ بھی اسلامی قانون کی ایک خاص ہدایت ہے۔ کیونکہ جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو یہ اصول قانونی طور پر نافذ کیا گیا کہ جو اپنے مال کی خود حفاظت نہ کرسکیں تو اسلامی ریاست اپنے ایسے تمام شہریوں کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔ اس کی تمام تفصیلات سورة نساء میں بیان کی جا چکی ہیں۔ بہر حال اسلامی دستور کی یہ بھی ایک بڑی بنیادی اور کار آمد شق ہے۔ جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو یتامیٰ کے حقوق کی حفاظت کے لیے انتظامی اور قانونی تدابیر اختیار کی گئیں۔
(9) عہد کی پابندی : اللہ نے فرمایا ” وعدے کو پورا کرو کیونکہ وعدے کے بارے میں ضرور باز پرس ہوگی۔ “ (بنی اسرائیل آیت : 34 )
ڈاکٹر ملک غلام مرتضیٰ صاحب لکھتے ہیں۔ ” ایفائے عہد کا مسئلہ انفرادی اخلاقیات کا نہیں بلکہ قومی، ملکی اور اجتماعی معاملات بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔ اس مسئلہ پر ہم پاکستانیوں کو خصوصاً غور کرنا چاہیے کہ من حیث القوم (ایک قوم ہونے کی صورت میں) ہم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس برصغیر کی تقسیم کے وقت کیا عہد کیا تھا ؟ اور اگر ہم نے ایفائے عہد نہیں کیا اور یقینا ہم ایسا نہیں کرسکے تو ہم اللہ کے حضور کس طرح جواب دہی کے لیے کھڑے ہو سکیں گے۔ ؟ “ (ازانوار القرآن)
پاکستان بننے کے وقت ہم یہ نعرہ لگا رہے تھے۔ ” پاکستان کا مطلب کیا ؟ لَا اِلَہ الاّ اللّٰہ “ سب کے سامنے ہے کہ ہم سب نے مل کر پاکستان کا کیا حال بنا دیا ہے، حالانکہ جب مدینہ میں اسلامی حکومت قائم ہوئی تو اسی دفعہ کو داخلی اور خارجی سیاست کی بنیاد بنایا گیا، پاکستان میں وعدہ کی پابندی کیوں نہیں کی گئی، جبکہ وعدہ کی پابندی کرنا آج بھی مسلمانوں کا امتیازی کردار سمجھا جاتا ہے۔
(10) وزن کو پورا کرنا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
” اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور جب تول کر دو تو ترازو سیدھی رکھو۔ “ (بنی اسرائیل آیت : 35)
تجارت کا شعبہ ایمانداری اور باہمی اعتماد پر ہی چلتا ہے۔ جس قدر سچائی اور دیانت داری سے کام لیا جائے اسی قدر تجارت بڑھتی ہے اور چمکتی ہے۔ یہ بھی ایک بنیادی اصول ہے جو قانون کی شکل میں نافذ کیا گیا، لہٰذا جب اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آیا تو یہ قانون حکومت کے فرائض میں شامل کیا گیا کہ حکومتی کارندے بذات خود منڈیوں اور بازاروں میں روائتی اوزان کی جانچ پڑتال کریں اور ہر قسم کی بےاعتدالی، بےایمانی اور دھوکہ سے معاشرے کو بالکل پاک صاف کردیں۔ تاکہ مسلمان کا کردار کھل کر سامنے آجائے اور لوگ مسلمانوں سے تجارت کرتے ہوئے پورے اطمینان کا اظہار کریں۔ سورة اعراف میں آیا ہے کہ ناپ تول میں کمی بیشی کے باعث ہی قوم شعیب پر تباہی آئی تھی۔ اس بارے میں مکمل تفصیلات بیان کی جا چکی ہیں۔
(11) اعضاء کی حفاظت کرو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
” کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو۔ یقینا آنکھ، کان اور دل سب کی ہی پوچھ گچھ ہوگی۔ “
اس دفعہ کے لگانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ تمام معاشرتی برائیاں جڑ سے ختم کردی جائیں جو کسی گھر محلے یا شہر یا ملک کی تباہی و بربادی کا سبب بنتی ہیں۔ ان کا تعلق انسان کے کان آنکھ اور دل سے بہت قریبی ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ افواہیں پھیلانا، تہمت لگانا، بدگمانی اور بغیر تحقیق کے کوئی بھی بات کہہ دینا چاہے وہ کسی فرد کے بارے میں ہو جماعت یا ملک کے بارے میں ہو۔ ملکی، گھریلو، کسی خبر یا علمی نکتہ کے بارے میں ہو مکمل تحقیقات کے بغیر اس کے بارے میں صرف گمان یا شک کی صورت میں بول دینا بڑا سخت اخلاقی گناہ ہے اس سے کسی گھر میں، شہر یا ملک میں، خاندان میں، کئی قسم کی لڑائیاں، بدگمانیاں اور فساد پیدا ہوسکتے ہیں اسی لیے اسلامی قانون میں یہ شامل کردیا گیا ہے کہ کسی کو محض شک کی بنا پر حوالات میں دے دینا، مارپیٹ کرنا بالکل ناجائز ہے۔ اور اوپر دیے گئے تمام احکامات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اور خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا میں تو اس قانون شکنی کا جو دکھ اٹھانا پڑے گا وہ تو ہے ہی اس کے علاوہ جو محاسبہ آخرت میں ہوگا اس کا تو اندازہ ہی نہیں۔ اللہ رحیم ہے مگر جبار بھی ہے۔ اس کی پکڑ اور سزا معمولی نہ ہوگی۔ کان، آنکھ اور دل سے سوال کیا جائے گا کہ کیا اس نے سنا تھا، دیکھا تھا اور جانا تھا۔
(12) اترا کر، غرور سے اکڑ کر نہ چلو اللہ جل شانہ، فرماتے ہیں :
” زمین پر اکڑ کر نہ چلو کیونکہ تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔ “ (بنی اسرائیل آیت : 37)
القصص :81 میں قارون کا دھنسا دینا مذکور ہے۔
چال بھی انسانی کردار کا آئینہ ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ رب العزت نے اپنے دیے گئے منشور میں متکبرانہ چال کو ناپسند فرمایا ہے۔ اس کے پیچھے بھی بیشمار اخلاقی برائیاں موجود ہیں جو نہ صرف ایک فرد پر ہی اثر ڈالتی ہیں بلکہ پوری قوم اس کی زد میں آجاتی ہے، لہٰذا مدینہ منورہ میں جو حکومت قائم ہوئی اس کے اسی منشور کی وجہ سے فرد سے لے کر فرماں روا، گورنر اور سپہ سالار تک سب کو عاجزی و انکساری سے رہنے کی تلقین کی گئی تھی حتیٰ کہ حالت جنگ میں فاتح کی حیثیت سے کسی شہر میں داخل ہوتے ہوئے کبھی بھی غرور، رعب داب اور فخر کا اظہار ہرگز نہ کرتے تھے بلکہ ان میں عجزو انکساری فقیری اور درویشی کے فضائل پائے جاتے تھے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں ؎
مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
پھر آخر میں الہ العٰلمین وضاحت کرتے ہیں کہ سب کچھ اچھائی برائی وضاحت سے بیان کردی گئی ہے اب جو لوگ احکام الٰہی کی نافرمانی کرتے ہوئے برائیوں کو اپنائیں گے وہ مقبول الٰہی کیسے ہوسکتے ہیں۔ اور پھر تاکیداً بتا دیا گیا کہ تمام حکمت و دانائی وعظ و نصیحت کی باتیں اے نبی ﷺ ہم نے آپ کی طرف وحی کر کے بتائی ہیں، یعنی یہ کسی فرد کی خود بنائی ہوئی باتیں نہیں ہیں۔ جب ہم نے یہ سب کچھ غور سے پڑھ لیا تو یہ راز معلوم ہوگیا کہ آخر وہ کون سا راز تھا کہ مدینہ اتنی کم مدت میں اس قدر شاندار اور کامیاب اسلامی ریاست بن گئی۔ مودودی صاحب اس کو اس طرح بیان کرتے ہیں۔
” اسلام اور حکومت دو جڑواں بھائی ہیں۔ دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے بغیر درست نہیں ہوسکتا، پس اسلام کی مثال ایک عمارت کی ہے اور حکومت گویا اس کی نگہبان ہے۔ جس عمارت کی بنیاد نہ ہو وہ گر جاتی ہے اور جس کا نگہبان نہ ہو وہ لوٹ لیا جاتا ہے۔ “ (از سید ابو الاعلی مودودی)
عہد رسالت میں مدینہ کی ریاست میں کسی شخص کی حاکمیت کی بجائے اللہ کی حاکمیت تھی۔ حضرت محمد ﷺ ریاست کے سربراہ تھے مصلح اور معلم بھی تھے۔ اس وقت کوئی تحریری دستور نہ تھا لیکن قرآن کے احکام اور احادیث رسول کی روشنی میں زندگی کے تمام پہلوئوں کو سامنے رکھ کر ایک خاص ہدایت نامہ اللہ کی طرف سے نافذ کردیا گیا تھا۔ عام طور پر حکومت عوام کی اخلاقی اصلاح کی طرف سے لا تعلق ہوتی ہے مگر مدینہ کی ریاست میں حکومت عوام کی اخلاقی اصلاح کی طرف خاص توجہ دیتی تھی وہ ایسے حالات پیدا کرنا چاہتی تھی جن میں انسان ایک کامل انسان بن سکے کیونکہ اس طرح ملک خود بخود ہی سیاست، معیشت، اخلاق، تعلیم، صنعت و حرفت، زراعت اور معاشرتی امور میں انتہائی مضبوط اور کامیاب ملک بن سکتا ہے۔ کیونکہ بہترین کردار کے لوگ بہترین کارنامے انجام دیتے ہیں، مثلاً جس معاشرے میں کفر و شرک، جھوٹ، بہتان، چوری، جوا، شراب، بےحیائی، ناانصافی، بےایمانی، قتل و غارت گری، زنا، بےپردگی اور فسق و فجور پر پابندی حکومتی سطح پر لگا دی جائے بھلا ایسا معاشرہ کیونکر نقصان اٹھا سکتا ہے۔ اور پھر سب سے بڑی بات خاندانی مضبوطی ہے۔ جہاں خاندان مضبوط ہوتے ہیں وہاں نظم و ضبط اور اتحاد و تنظیم کی ہرگز کمی نہیں ہوتی۔ مسلمان کو حکم دیا گیا ہے کہ نکاح کریں تاکہ حرامکاری کا خاتمہ ہو سکے۔ کیونکہ یہ انسانیت کی سب سے بڑی ذلت کا نشان ہے۔ کو ریا اور ویتنام امریکی فوجیوں کے ناجائز بچوں سے بھرا پڑا ہے۔ آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ یہ لاوارث بچے بڑے ہو کر کیا کچھ غلط کاریاں نہ کرتے ہوں گے۔ اسی طرح نسل کشی کا نقصان فرانس وغیرہ ممالک میں نظر آتا ہے۔ کہ انہوں نے ضبط تولید سے اپنی تعداد اس قدر کم کرلی تھی کہ جب جرمن فوجوں نے حملہ کیا تو نوجوان افراد فوجیوں کی اس قدر کمی ہوگئی کہ کوئی لڑنے والا ہی نہ تھا، یعنی لڑنے والوں کی تعداد بہت ہی کم تھی۔ کیا یہ دانش مندی کہلا سکتی ہے ؟ ہرگز نہیں۔ جب ہم یہ جان گئے ہیں کہ کفر و شرک کے علاوہ اخلاقی برائیاں بھی حکومتی سطح پر کنٹرول کی جانی چاہئیں تو پھر ہمارے ملک پاکستان یا تمام اسلامی ممالک میں اس طرف سے اس قدر کوتاہی کیوں کی جا رہی ہے۔ ویسے اپنے طور پر ہر مسلمان کو ان تمام ہدایات کو ہر وقت سامنے رکھ کر زندگی گزارنی چاہیے بلکہ دوسروں کو بھی اس راہ پر چلنے کی تلقین کرنی چاہیے۔ تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم تمام اقوام عالم پر فوقیت حاصل نہ کرسکیں اللہ ہماری مدد فرمائے مگر موجودہ مسلمان کے حالات کچھ یوں نظر آرہے ہیں ؎
وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر
تو ہمیں چاہیے کہ مذکورہ آیات یعنی آیت 23 تا 39 اپنی زندگی میں اچھی طرح فافذ کردیں کہ یہ ہمارے خالق ومالک کی طرف سے بھیجا گیا ایک بہترین دستور ہے۔ جس کا بھیجنے والا وحدہٗ لا شریک ہے اور اگر ہم میں سے کوئی بھی اس کا شریک بنائیں گے تو ہمیں دھکے دے کر ذلت و خواری کی حالت میں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
” اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں نیکی اور آخرت میں بھی نیکی دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ “ (البقرہ :201 )