17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 17:78–82

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

(اے نبی ! ) سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک ( ظہر، عصر، مغرب اور عشاء) کی نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو، کیونکہ صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا موجب حضور ملائکہ ہے۔

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور بعض حصہ رات میں بیدار ہوا کریں اور تہجد کی نماز پڑھا کریں یہ رات کو جاگنا تمہارے لیے زائد (نماز) ہے، قریب ہے کہ اللہ آپ کو مقام محمود میں داخل کرے۔

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور فرمادیں کہ اے رب العزت مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور اپنے پاس میرے لیے غلبہ اور امداد مقرر فرما۔

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور فرمادیں کہ حق آگیا اور باطل چلا گیا بیشک باطل نابود ہونے والا ہے۔

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور ہم قرآن کے ذریعے سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے۔

اوقات عبادت، نماز اور قرآن کی فضیلت تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی وحدانیت اور اس کے قادر مطلق ہونے کا ذکر ہے۔ تو یہاں اس کی عبادت کے چند اصول بتائے گئے ہیں دعا کا طریقہ حق و باطل کا مطلب اور قرآن کی برکتیں بتائی گئی ہیں۔ سب سے پہلے تو نماز کا ذکر ہے نماز کے فضائل تو کافی بیان ہوچکے ہیں یہاں نمازوں کی تعداد اور اوقات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ نے حکم دیا کہ پانچ نمازیں، فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء فرض کی گئی ہیں۔ فجر کی نماز میں تلاوت قرآن لمبی کرنے کا حکم ہے اور صبح کے وقت قرآن پڑھنے کی فضیلت بتائی گئی کہ اس وقت فرشتوں کے نازل ہونے کا وقت ہوتا ہے جو کہ بڑی قبولیت کا وقت ہوتا ہے، اس کے علاوہ اللہ رحیم و کریم تہجد کی نماز سے بہت خوش ہوتے ہیں۔ کیونکہ نیند بھی انسان کی بڑی پیاری چیز ہے اور خاص طور سے صبح کی نیند، یعنی رات کے پچھلے پہر کی نیند بہت میٹھی ہوتی ہے۔ اس وقت جو اٹھ کر اللہ کو یاد کرتا ہے گرم بستر اور میٹھی نیند کو اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لیے چھوڑتا ہے وہ مقبول الٰہی کیوں نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ تو آپ کے انتہائی مقبول اور خاص بندے تھے وہ تو اکثر راتوں کو کھڑے رہتے اور سجدے میں پڑے رہتے تھے۔ اسی لیے ان کو مقام محمود کی بشارت دی گئی ہے۔ مقام محمود کا مطلب ہے وہ رتبہ کہ جو قیامت کے دن امت کی سفارش کے لیے دیا گیا۔ احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ سوائے آپ کے کسی کو امت کی سفارش کی اجازت نہ ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ تہجد کی نماز گو کہ فرض نہیں لیکن اس کا ثواب اور برکت بےحساب ہے۔ اس کا درجہ بہت بلند ہے، حالانکہ یہ نفل نماز ہے۔ اور پھر بہترین دعا کا طریقہ اس طرح بتایا گیا۔ آیت 80 میں رب رحمان فرماتا ہے : ” اور کہو کہ اے رب العزت ! مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور اپنے پاس سے میرے لیے غلبہ اور امداد مقرر فرما۔ “ (بنی اسرائیل :80) یقیناً یہ ہجرت سے پہلے نازل ہونے والی دعا ہے۔ جب کہ آپ بےحد پریشان اور رنجیدہ ہوگئے تھے کفار کی زیادتیوں اور مخالفت سے تب آپ کو یہ دعا پڑھنے کو کہا گیا۔ اس دعا کی بڑی فضیلت ہے۔ ہر مسلمان کسی بھی مصیبت اور پریشانی میں خشوع و خضوع سے یہ دعا پڑھے تو انشاء اللہ اس کو بھی ایسے ہی نجات اور فتح و کامرانی حاصل ہوگی جیسی کہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے وقت رسول اللہ ﷺ کو عطا کی۔ پہلے حبشہ کو ان کے لیے نجات کی جگہ بنایا اور پھر مدینہ میں ان کے حالات اتنے اچھے کردیے کہ وہاں بڑے کم عرصہ میں بڑی مضبوط اسلامی ریاست قائم ہوگئی تب مسلمانوں کو فتح مکہ بھی حاصل ہوئی جو مسلمانوں کے لیے انتہائی سود مند فتح ثابت ہوئی یقینا اسی فتح کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ کیونکہ جب مکہ فتح ہوا تو اس وقت خانہ کعبہ میں 360 بت پڑے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ اپنی چھڑی سے بتوں کو مارتے جاتے اور ساتھ فرماتے جاتے۔” حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل ہے ہی مٹنے والا۔ “ پھر آیت 82 میں قرآن کی فضیلتیں اور برکتیں بیان کی گئی ہیں۔ کہ قرآن پاک میں انسان کے لیے اتنی اچھی اور پیاری باتیں بتائی گئی ہیں کہ جو انسان کو عمل کرنے پر روحانی، جسمانی اور ابدی (ہمیشہ رہنے والی) بیماریوں سے مکمل طور پر نجات دلاتی ہیں۔ کیونکہ قرآن سے دور ہو کر جو لوگ دنیاوی جدوجہد اور مال و دولت جمع کرنے اور حرص و طمع کے چکر میں زندگی گزار دیتے ہیں ان کو اس طرح زندگی گزارنے سے اندر ہی اندر کئی قسم کی بیماریاں آچمٹتی ہیں جن کا علاج دوائوں سے تو کچھ نہ کچھ ہوجاتا ہے مگر طبیعت کی بےچینی کو صبر و سکون ہرگز نہیں ملتا اور اس دوڑ دھوپ میں جو وہ اللہ سے غافل ہو کر انتہائی غفلت کی الٹی سیدھی زندگی گزارتے ہیں اس کا حساب اور عذاب تو ان کو آخرت میں ضرور ہی ملے گا۔ جس سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ اور جو قرآن پڑھتے سنتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے تو ان کو دگنا عذاب ملے گا۔ آج کل کے مسلمانوں کی اکثریت اسی زمرہ میں آتی ہے۔ اسی لیے شاعر خبردار کرتے ہوئے کہتا ہے ؎ کھول آنکھ زمین دیکھ، فلک دیکھ فضا دیکھ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ اس جلوہ بےپردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ ایام جدائی کے ستم دیکھ جفا دیکھ بے تاب نہ ہو معرکہ بیم ورجاء دیکھ (ڈاکٹر علامہ اقبال) مشہور جرمن فلاسفر کانٹ کا قول ہے۔ ” دو ایسی چیزیں ہیں کہ میں ان پر جتنا غور کرتا ہوں اتنی ہی میری حیرت بڑھتی جاتی ہے۔ ایک تاروں بھرا آسمان، دوسرا وہ عظیم اخلاقی اصول جن پر زندگی کی عمارت قائم ہے۔ “ (از خدا موجود ہے صفحہ : 240 ) کئی غیر مسلم جن کو اللہ ہدایت دے جب قرآن کو غور سے پڑھتے ہیں تو ایمان لے آتے ہیں۔ قرآن میں بڑی رحمت ہے شفا ہے اور برکت ہے۔ قرآن جو کائنات میں تمام دانائیوں کا منبع (بنیاد) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے وصال سے 12 سال کے اندر اندر عربوں کے قبضہ میں فارس، شام اور افریقہ کے چھتیس ہزار سے زیادہ شہر، قصبے اور قلعے آگئے۔ چند ہی سالوں میں مسلمانوں نے قرآن مجید کی حکمرانی کو مشرق و مغرب میں ایک ہزار میل تک پھیلا دیا افریقہ کی طرح شام میں بھی کامیابیاں ہوئیں دمشق کی فتح کے بعد ہرقل کو فتح کیا۔ یروشلم، انطاکیہ، حلب، ٹائرطرابلس، ملک شام اور بحیرہ قلزم کی بندرگاہوں پر قبضہ ہوا، رھوڈ سو اور قبرص کے جزیرے فتح ہوئے ایران اور شام پر مکمل طور پر قبضہ ہوگیا۔ یہ سب اس قدر تھوڑی مدت میں کیسے ہوگیا ؟ یہ صرف قرآنی تعلیمات کی برکت سے ہوگیا۔ ہم بھی اپنے آپ کو اتنا ہی مضبوط اور ناقابل شکست ضرور بنا سکتے ہیں اگر ہم قرآن پڑھیں، سمجھیں، سمجھائیں اور اس پر عمل کریں تو ہم کسی سے کم نہیں مگر شرط یہ ہے کہ اپنے آپ کو اس معیار پر لے آئیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ” حقیقت میں مومن تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے کہ پھر انہوں نے کوئی شک و تردد نہ کیا، اور اپنی جان مار کر اور مال لگا کر اللہ کی راہ میں جہاد کیا یہی سچے اور راست گو ہیں۔ “ (الحجرات آیت : 15 )
Ayahs 17:83–84

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو روگردانی کرتا ہے اور پہلو پھیر لیتا ہے اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے۔

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریق کے مطابق عمل کرتا ہے تو تمہارا رب اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے راستے پر ہے۔

انسان کا رویہ تشریح : اس مضمون کی تفصیلات سورة ھود کی آیات 9 تا 11 اور پھر اسی سورت کی آیات 121، 122 میں اچھی طرح بیان کی جا چکی ہیں۔ بہرحال یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر حال میں اچھے دوست بنانا چاہیں اور اللہ کے ذکر و شکر سے بھر پور زندگی گزارنی چاہیے۔ نیت کا خلوص اور عمل کی پاکیزگی اللہ سے ہرگز چھپی ہوئی نہیں۔ وہ علیم وخبیر ہے۔ (جاننے والا خبر رکھنے والا)
Ayah 17:85

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

اور آپ سے وہ روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں فرمادیں کہ ” وہ میرے رب کی ایک شان (حکم) ہے اور تم لوگوں کو بہت ہی کم علم دیا گیا ہے

روح کی حقیقت تشریح : اس آیت کا شان نزول اس طرح ہے کہ یہودیوں نے کہا کہ ہم محمد ﷺ سے پوچھیں کہ روح کیا چیز ہے ؟ اگر تو انہوں نے بتا دیا تو ٹھیک ورنہ پھر یہ سچے نہیں۔ جب انہوں نے آپ سے پوچھا کہ روح کیا چیز ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو کہہ دو کہ ” روح اللہ کا حکم ہے جو انسان کو طاقت عطا کرتا ہے کہ وہ حرکت کرسکے بس تم اتنا ہی سمجھ لو۔ “ اس وقت کے لوگوں کے لیے یہی علم کافی تھا مگر اب تو روح کی اصلیت معلوم کرنے کے لیے سائنس دان پاگل ہو رہے ہیں۔ اصل میں جسم اور روح مل کر انسان مکمل ہوتا ہے۔ جسم کے اجزا تو معلوم کرلیے گئے مگر روح ڈالنا انسان کے نہ تو بس میں ہے اور نہ عقل میں آرہا ہے۔ انسانی جسم ایک فرض شناس مشین ہے جو کہ ایک سو چھبیس عناصر سے بنتی ہے یہ مشین انتہائی پچیدہ اور لاجواب مشین ہے موٹی موٹی خاصیتیں، مثلاً یاد داشت ایک ایسی لائبریری ہے جہاں بچپن کا ہر لمحہ محفوظ رہتا ہے۔ خوشی اور غم کے جذبات میں بہنے والے آنسو مختلف ہوتے ہیں اسی طرح آنکھ، کان، ناک، معدہ، دل ہر حصہ اپنے طور پر ایک مکمل شعبہ ہے جو بڑی مستعدی سے کام کرتا ہے۔ اور کوئی شور شرابا نہیں ہوتا۔ لیکن اس مشین کا کنٹرول یعنی اصل انسان کیا ہے ؟ وہ ہے روح۔ اور اس کی تعریف تو سمجھ میں آچکی ہے کہ یہ مشین انسانی حرکت کا موجب ہے اور یہ انسان کو ہمیشہ بلندیوں کی طرف متوجہ کرتی رہتی ہے۔ روح جس قدر پاکیزہ ہوگی انسان اسی قدر بہترین صفات کا مالک ہوگا۔ اس کی سوچ تعمیری ہوگی، فسق و فجور اور دنگا فساد سے دور رہے گا، ہمیشہ پرامن رہے گا اور دوسروں کو بھی آرام و راحت پہنچانے کی کوشش کرے گا اور یوں گوشت پوست کا پتلا، یعنی انسان اللہ کا مقبول بندہ بن کر اچھی زندگی گزارے گا، لیکن اگر کسی کی روح ہی بد ہو، کیونکہ نیک روح فرشتوں کی دوست اور بد روح شیطان کی دوست ہوتی ہے۔ ظاہر ہے شیطان کی دوست روح انسان کو چین سے نہیں رہنے دیتی اور یوں ایک بےچین انسان پورے معاشرے کو بےچین کرتا رہتا ہے۔ خود بھی جہنم نما زندگی گزار کر جہنم کا ایندھن بن جاتا ہے اور دوسروں کو بھی مشکلات میں ڈال کر حیران و پریشان کرتا رہتا ہے، مگر روح کی اجزائے ترکیبی سوائے اس کے اور کچھ معلوم نہیں ہوسکی کہ یہ اللہ کا حکم ہے اور بس۔ جب ماں کے پیٹ میں ایک جرثومہ داخل ہوتا ہے تو وہ زندہ ہوتا ہے اللہ کے حکم سے وہ اپنی جگہ پر پہنچ کر نشو ونما پانے لگتا ہے اور پھر اللہ کے حکم اور مرضی سے دنیا میں آجاتا ہے اور زندگی گزارنا شروع کردیتا ہے، پھر اچھی یا بری جیسی بھی اس کو راہیں ملتی ہیں گزارتا رہتا ہے اور جب بھی اللہ کا حکم ہوتا ہے روح اللہ کی طرف چل پڑتی ہے اور جسم بےحس و حرکت اور بیکار ہوجاتا ہے اور انسان مردہ ہوجاتا ہے۔ بڑے بڑے سائنسدان ربوٹ تو بنا رہے ہیں مگر وہ چلتے بجلی کی طاقت سے ہیں وہ ان میں روح ڈالنے سے بالکل قاصر ہیں۔ یہ تو صرف اللہ کا حکم ہے اللہ کی شان ہے اور اسی کی قدرت میں ہے انسان تو اس کو سمجھنے سے بھی معذور ہے۔ روح کا بنالینا یہ تو ممکن ہی نہیں یہ پہلے بھی غائب کا علم تھا اور آج بھی غائب کا علم ہے۔ انسان نے خلا میں کئی تحقیقات کرلیں، چاند پر پہنچنا تو پرانی بات ہوگئی اب تو اس سے بہت آگے کی باتیں ہو رہی ہیں مگر روح کے راز سے انسان پردہ نہیں اٹھا سکا۔ اور یقیناً کبھی بھی اٹھا نہ سکے گا یہ بھی اللہ کی مرضی اور حکم پر ہی منحصر ہے۔ اس میں انسان بےبس ہے۔
Ayahs 17:86–89

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو جو کتاب ہم آپ کی طرف بھیجتے ہیں اسے دلوں سے محو کردیں پھر آپ اس کے لیے ہمارے مقابلہ میں کسی کو مددگار نہیں پائیں گے۔

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

مگر اس کا قائم رہنا آپ کے رب کی رحمت ہے، کچھ شک نہیں کہ آپ پر اس کا بڑا فضل ہے۔

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

فرما دیں کہ اگر انسان اور جن اس بات پر جمع ہوجائیں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہ لاسکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن میں سب باتیں طرح طرح سے بیان کردی ہیں مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا۔

اللہ کی قدرت اور قرآن کا معجزہ تشریح : یہاں پر اللہ کی قدرت کاملہ کا یوں بیان دیا گیا ہے کہ اے نبی ! اللہ تعالیٰ کی قدرت کو سمجھنے کے لیے یہ بات بھی سامنے رکھو کہ ہم نے جو قرآن آپ کی طرف رشدوہدایت کے لیے نازل کیا ہے اگر ہم چاہیں تو آپ کے ذہن سے بلکہ ہر ذہن اور تحریر سے اس کو بالکل ختم کردیں اور ہم اس کی طاقت بھی رکھتے ہیں، مگر ہم ایسا نہیں کریں گے کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے آپ پر خاص فضل ہے کہ یہ اتنی عظیم الشان کتاب نازل کی گئی، پھر قرآن کی مضبوطی کی دلیل کے لیے فرمایا کہ ایسا بہترین کلام کوئی بندہ بشر بلکہ جن بھی بنانا چاہیں تو نہیں بنا سکتے۔ انسانی روح اور وحی الٰہی دونوں رضائے الٰہی اور شان الٰہی کے ہی دائرے میں آتے ہیں۔ دونوں مطلب ہی اللہ کی قدرت، حاکمیت اور وحدانیت کو ثابت کرتے ہیں۔ دعا ہے : ” میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں وہ اپنی ذات وصفات میں بےمثال ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ ! مجھے توبہ کرنے والوں میں شامل کر دے اور پاکی حاصل کرنے والوں میں سے بنا دے۔ “ آمین (ترمذی)
Ayahs 17:90–111

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ آپ ہمارے لیے زمین سے چشمہ جاری نہ کردیں۔

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا آپ کے لیے کھجور اور انگور کا باغ پیدا ہوجائے اور آپ اس کے بیچ میں نہریں بہا دیں۔

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا جیسا آپ کہا کرتے ہو ہم پر آسمان سے ٹکڑے لا گرائو یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئو

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا آپ کا سونے کا گھر ہو یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں، پھر بھی ہم ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ کوئی کتاب ہمارے لیے لے کر نہ آئیں ایسی کتاب جسے ہم پڑھ بھی لیں۔ فرمادیں کہ میرا رب پاک ہے میں تو صرف ایک پیغام پہنچانے والا بشر ہوں۔

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو ان کو ایمان لانے سے اس کے سوا کوئی چیز مانع نہ ہوئی کہ کہنے لگے کہ کیا اللہ نے آدمی کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ؟

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

فرمادیں کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے کہ زمین میں چلتے پھرتے اور آرام سے بستے تو ہم ان کے پاس فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے۔

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

فرمادیں کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے وہی اپنے بندوں سے خبردار اور ان کو دیکھنے والا ہے۔

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

اور جس شخص کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جن کو گمراہ کرے تو آپ اللہ کے سوا ان کا مددگار نہیں پائیں گے اور ہم ان کو قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے، گونگے اور بہرے بنا کر اٹھائیں گے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب اس کی آگ بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو عذاب دینے کے لیے اور بھڑکا دیں گے۔

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ ان کے لیے عذاب ہے، اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں سے کفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم مر کر بوسیدہ ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا از سر نو پیدا کیے جائیں گے ؟

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے لوگ پیدا کر دے اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کردیا ہے جس میں کچھ بھی شک نہیں تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا۔

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

فرمادیں کہ اگر میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے ان کو بند کر رکھتے اور انسان دل کا بہت تنگ ہے۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ ! میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے۔

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا اس کو کسی نے نازل نہیں کیا اور یہ بھی تم لوگوں کے سمجھانے کو اور اے فرعون ! میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے۔

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

تو اس نے چاہا کہ ان کو مصر سے نکال دے تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو ڈبو دیا

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس ملک میں رہو پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو جمع کر کے لے آئیں گے۔

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن کو سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ سچائی کے ساتھ نازل ہوا اور (اے نبی ! ) ہم نے آپ کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کر کے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سنائو اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

فرمادیں کہ تم اس پر ایمان لائو یا نہ لائو یہ بذات خود حق ہے۔ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم کتاب دیا گیا ہے جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہمارے رب کا وعدہ پورا ہو کر رہا۔

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور وہ ٹھوڑیوں کے بل گرپڑتے ہیں اور روتے جاتے ہیں اور اس سے ان میں اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے۔

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

فرمادیں کہ تم اللہ کو اللہ کے نام سے پکارو یا رحمن کے نام سے، جس نام سے پکارو اس کے سب نام اچھے ہیں، اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو نہ آہستہ، بلکہ اس کے بیچ کا راستہ اختیار کرو۔

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور فرمادیں کہ سب تعریف اللہ ہی کی ہے جس نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ ہی اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے۔ اور نہ اس وجہ سے کہ وہ عاجز و ناتواں ہے کہ کوئی اس کا مددگار ہے اور اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی کرتے رہو۔

کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی سخت سزا کا پیغام دیا گیا۔ اور نبی کریم ﷺ کا درجہ بتایا گیا کہ وہ انتہائی محترم و مکرم رسول ہیں اور انہیں ڈرانے والا گناہ اور عذاب سے اور نیکو کار لوگوں کو جنت اور انعامات کی خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجا گیا اور پھر قرآن کی عظمت و اعجاز کا بیان ہے اور اس کو سن کر رونے والے اور سجدہ میں گر جانے والے ان متقی مسلمانوں کا ذکر ہے جو قرآن کی تلاوت سن کر روتے تھے اور یوں ان کے ایمان میں اور بھی پختگی اور روح میں پاکیزگی اور بلندی پیدا ہوجاتی اور وہ اللہ کے اور بھی قریب ہوجاتے۔ اس کے بعد اس بات کی وضاحت کی گئی کہ اللہ رحمن و رحیم سے مراد ایک ہی اللہ ہے یہ اس کے دو صفاتی نام ہیں، کیونکہ عرب کے لوگ اس وقت اللہ کے صفاتی ناموں سے واقف نہ تھے جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کے منہ سے اللہ کے لیے رحمن و رحیم کے الفاظ سنے تو وہ کہنے لگے کہ ہمیں تو کہتا ہے اللہ ایک ہے اور خود اللہ کے دونام لیتا ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ اللہ عرش پر موجود ہے اور وہ ہر چیز کو دیکھتا اور ہر قول کو سنتا ہے، وہ بڑی قدرت اور رحمت والا ہے اور اس کے خزانے سب کے لیے برابر کھلے ہوئے ہیں وہ سب کو بڑی فراخی سے روزی رزق اور تمام آسائشیں دیتا ہے، پھر نماز پڑھنے کے آداب بتائے کہ نہ تو بالکل آہستہ پڑھو اور نہ ہی بہت بلند آواز میں بلکہ درمیانی آواز میں نماز پڑھا کرو اور آخر میں اس رب العلمین وحدہٗ لا شریک، مالک الملک، رحمن و رحیم کی وحدانیت کی شہادت دی گئی ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ ” اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی بیان کرتے رہو۔ “ (بنی اسرائیل :111) تو ہی مالک، تو ہی خالق، تو ہی آقا، تو ہی مولا۔