Ayahs 17:40–44نزول ِقرآن کا مقصد
تشریح : اللہ تعالیٰ تو ویسے ہی تمام رشتہ داریوں سے بالکل بےنیاز ہے۔ وہ بس اکیلا ہے ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا تو کفار کا یہ کہنا انتہائی نامعقول بات ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں نعوذ باللہ۔ قرآن پاک میں بار بار حکمت اور توحید کے بارے میں بتایا گیا ہے مگر یہ لوگ عقل کے اندھے اور بھی زیادہ گمراہی اور نفرت میں بڑھ جاتے ہیں۔ اگر اللہ کے سوا دوسرے معبود ہوتے تو دستور کے مطابق وہ ضرور اللہ سے جنگ کرنے کے لیے عرش کی طرف بڑھتے اور ضرور بغاوت کرتے۔ توبہ کرو کیونکہ الہ العلمین کفر و شرک سے بہت زیادہ بلند اور عظیم ہے۔ کیونکہ اس کے برعکس ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب مل کر اللہ کی تعریف کرتے ہوئے اپنے طریقہ سے تسبیح کرتے رہتے ہیں۔ جس کو انسان سن اور سمجھ نہیں سکتے۔ بیشک اللہ تعالیٰ تحمل والا اور بخشنے والا ہے۔ سورة بقرہ میں پہاڑوں کے پتھروں کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : پہاڑ کے بعض پتھر اللہ کے خوف سے نیچے گر جاتے ہیں اس سے پتھروں میں شعور اور اللہ سے خوف زدہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ ایٹم سے لے کر بڑے بڑے اجرام فلکی تک سب ارتعاش میں ہیں یہی ارتعاش تسبیح کہلا سکتا ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ ہر چیز حیوانات، جمادات اور نباتات غرض دنیا کی کل مخلوقات سوائے انسان کے اللہ کے اس بنائے ہوئے نظام کے تحت کام کر رہی ہے جو ان کے لیے اللہ نے مقرر کر کے ان کی فطرت میں پوری طرح مقرر کردیا ہے۔ مثلاً سورج، چاند اور باقی تمام اجرام فلکی نے اسی طرح گردش کرنی ہے جیسے ان کے رب نے حکم دے دیا ہے وہ اس کے حکم کے بغیر ہرگز ایک سکینڈ کے لیے بھی ادھر سے ادھر نہیں ہوسکتے یہ بھی اللہ کی تسبیح کی ایک شکل ہوسکتی ہے یعنی اپنے مالک اور خالق کی اس حد تک فرمانبرداری کہ ایک لمحہ کے لیے بھی اس سے غفلت نہ برتی جائے یہ حمد اور تسبیح نہیں تو اور کیا ہے۔ انسان بھی اللہ ہی کی مخلوق ہے مگر اس کو تسبیح و تقدیس کے لیے زبان اور طریقہ بتا کر اختیار دے دیا گیا ہے کہ چلو اب اپنی مرضی سے راہ اختیار کرو، پھر بعد میں تم سے حساب لیا جائے گا۔
اسی لیے انسان، باقی تمام مخلوقات کی تسبیح کا طریقہ اور آواز نہیں جان سکتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ انسان کے کام کی ساخت ایسی بنائی گئی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ 20 ہزار سایئکل فی سکینڈ کی آواز سن سکتا ہے جبکہ سائنس کی رو سے اجرام فلکی کا ارتعاش صفر سے لے کر بیس چکر فی سیکنڈ سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے جو کہ انسانی سماعت سے باہر ہے، ہاں ! البتہ کچھ حیوانات اس لحاظ سے قوت سماعت نسبتاً زیادہ رکھتے ہیں۔ جیسا کہ زلزلہ کی آمد کا احساس پرندوں کو اور کتوں وغیرہ کو بغیر کسی سائنسی آلہ کے بہت پہلے سے ہوجاتا ہے۔ یہ سب قدرت کے کمالات ہیں۔ ان سب کو پوری طرح سمجھ لینا انسان کے بس سے باہر ہے۔ سلطان بشیر محمود صاحب کچھ اس طرح وضاحت کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں :” حقیقت یہ ہے کہ ساری سائنس کا دارومدار ہی اس بات پر ہے کہ اللہ کے قوانین اٹل ہیں اور کائنات کا ذرہ ذرہ ان سے آگاہ ہے، اور ان کی اتباع (پیروی) کرتا ہے اور یوں اپنے مالک حقیقی کا عبد (غلام) ہے۔ “ (از قیامت اور حیات بعدالموت)
کیا خوب تعریف کی ہے موصوف نے واقعی اس کے کمالات کی حقیقت کو پوری طرح سمجھ جانا انسان کے بس سے باہر ہے، البتہ غور و فکر اور جستجو کا حکم اللہ نے ضروردیا ہے اور فہم و فراست بھی عطا کی ہے۔ مگر پھر بھی عبد تو اسی خالق ومالک کا ہے جس نے انسان کو بنایا آسمان کو بنایا اور ان تمام چیزوں کو بنایا جو ان کے درمیان ہیں۔ سورة بقرہ آیت 74 اور سورة ٔرعد آیت 13 اس بات کا ثبوت دے رہی ہیں کہ تمام مخلوقات اللہ کی تسبیح کر رہی ہے اسی سے خوف زدہ بھی ہے مگر انسان نہ اس کی تسبیح کی آواز سن سکتا ہے نہ اس کی تسبیح کے طریقے کا شعور رکھتا ہے۔
Ayahs 17:45–48کفار کی گمراہی اور بد بختی
تشریح ان آیات میں بھی کفار کی حجت بازیاں، اعتراضات اور الزامات کا ذکر کیا گیا ہے، وہ لوگ اکثر اوقات مختلف قسم کی باتیں آپ کے لیے کہتے رہتے تھے۔ مثلاً کبھی کہتے آپ شاعر ہیں، جادو گر ہیں، مجنون ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یعنی ان کو خود اس بات پر یقین نہ تھا کہ آپ کو کیا کہہ کر مسترد کریں۔ ان کی انہی گمراہیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت حاصل کرنے کی حس ہی بالکل فنا کردی تھی، یعنی بالکل پکے کفار بن چکے تھے نہ ہدایت پسند کرتے تھے اور نہ ہی اللہ ان کے لیے ہدایت کے راستے کھولتا تھا۔
کفار اور مشرکین جب اکیلے اللہ کا ذکر سنتے تو بھاگ کھڑے ہوتے اور نفرت میں بڑھ جاتے۔ یہ بات صرف دور نبوی اور مکہ کے مشرکین کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ آج کل مشرکین کا بھی یہی حال ہے جو اپنے خطبوں اور تقاریر میں اکثر اولیاء اللہ اور بزرگوں کی کرامات اور تصرفات کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے سامنے جب اللہ کی توحید کا ذکر آئے تو ان پر بڑا گراں گزرتا ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک کو انسانوں کے لیے شفاء بھی کہا گیا ہے تو اس لحاظ سے دشمنوں سے بچنے کے لیے ان کی نظروں سے چھپانے کا یہ ایک بہترین نسخہ ہے جیسا کہ چاروں قل جن و انس کی شرارت اور جادو کو دور کرنے کا بہترین نسخہ ہے۔ اور پھر نظر بد دور کرنے کے لیے بھی چند آیات کا ذکر کیا جاتا ہے اور چند کلمات نظر بد سے بچاتے ہیں مثلاً ۔
خوبصورت چیز یا انسان کو دیکھ کر یہ پڑھنا چاہیے۔
” اَللّھُمّ بَارِکْ عَلَیْہ “ یا ” مَاشَآئَ اللّٰہ لَا قُوّۃَ اِلّا باللّٰہ “
تو اللہ اپنے کلام کی برکت سے نظر بد سے محفوظ رکھتا ہے۔ نظر بھی برحق (سچ) ہے اور جادو بھی برحق ہے۔ جیسا کہ درس قرآن بورڈ میں درج ہے۔ ” لبید بن الاعصم یہودی کے سحر سے نبی اکرم ﷺ پر کچھ اثر ہونے لگا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے معوذتین نازل فرمائیں، جن کے پڑھنے سے وہ اثر بالکل جاتا رہا۔ “ (از درس قرآن بورڈ چوتھی منزل صفحہ 35)
بہرحال کفار کا تو یہ حال تھا کہ ہر صورت اور ہر وقت اللہ کے خلاف نبی ﷺ کے خلاف اور قرآن کے خلاف تاویلیں کرتے رہتے تھے اگلی آیات ملاحظہ ہوں۔
Ayahs 17:49–52کفار کا انکار قیامت اور اللہ کا جواب
تشریح : کائنات کی ہر چیز ہمارے سامنے فنا ہو رہی ہے۔ انسان مر رہے ہیں اور انسان پیدا ہو رہے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ کافی نہیں اس بات پر یقین کرنے کے لیے کہ ہم سب ضرور مرجائیں گے اور دوبارہ اللہ کی اسی قدرت سے زندہ کیے جائیں گے جس قدرت سے ہم پیدا کیے جاتے ہیں۔ کیا ہمارے پیدا ہونے کا عمل حیرت انگیز نہیں ؟ زمین سے پیدا ہونے والی تمام خوراکوں کو کس طریقہ سے تمہارے والدین کے جسموں میں جمع کردیا تاکہ تمہاری پیدائش کا سامان کیا جائے، پھر ماں کے پیٹ میں کس بہترین اور عجیب و غریب طریقہ سے تمہیں ایک مکمل انسان بنا کر ایک انتہائی پیچیدہ عمل سے گزار کر دنیا میں بھیج دیا گیا۔ اگر غور کریں تو یہ ثبوت دوبارہ زندہ کیے جانے کے لیے بڑا ثبوت ہے۔ جس طرح پہلے پیدا کیا گیا اسی طرح دوبارہ ضرور پیدا کیا جائے گا۔ اور پھر انسان بہترین مخلوق ہے اس دنیا کی تو کیا اس کو یونہی بےکار پیدا کردیا گیا ہے ؟ ہرگز نہیں اس کی پیدائش کا مقصد ہے۔ یہ کہ دیکھا جائے انسان کس حد تک حق و صداقت اور رضائے الٰہی حاصل کرنے کے لیے اپنی عارضی اور فانی خواہشات کو قربان کرتا ہے۔ اور کس حد تک اخلاق و کردار میں بلند ترین درجات حاصل کرتا ہے۔ یہ عقیدہ آخرت ہی ہے جو انسان کو انسانیت کی حدود میں مقید کرتا ہے۔ ورنہ انسانی فطرت تو یہ ہے کہ دوسرے انسان کو وہاں مارے جہاں سے اس کو پانی بھی نہ ملے (محاورہ ہے) انسان میں حسد، بغض، رقابت اور شرارت کے جذبات بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج جو فساد مسلمانوں میں دکھائی دیتا ہے وہ اسی عقیدہ آخرت سے ناواقفیت یا عقیدہ کی کمزوری کا سبب ہے۔ جب ہم قرآن پاک میں بار بار یہ پڑھتے ہیں کہ ” کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے تمہیں یونہی بیکار پیدا کیا اور تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئو گے ؟ (سورۃ المومنون آیت 115 )
ہرگز نہیں۔ موت انفرادی ہو یا اجتماعی ضرور آئے گی اور موت زندگی کا انجام نہیں بلکہ یہ ایک دوسری زندگی کا آغاز ہے۔ جو مرتے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ اس عالم کو عالم برزخ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے بعد قیامت آئے گی اور یوم الحساب اسی دن کو کہتے ہیں۔ وہ دن بڑا سخت ہوگا۔ ظالم اور مظلوم علیحدہ علیحدہ کر کے سرکش لوگوں کی گردنیں توڑی جائیں گی، سچے لوگوں کو انعام اور جھوٹوں کو سزا ملے گی۔ وہ بہترین انصاف ہوگا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ یہاں کئی بےگناہ سزا پاتے ہیں اور کئی گنہگار عیش کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” کیا ہم ایمان لانے والے اور اچھے کام کرنے والوں کو ان جیسا کردیں۔ جو زمین میں بگاڑ پھیلاتے ہیں۔ یا ہم پرہیزگاروں کو نافرمان اور شریر لوگوں کے برابر کردیں گے۔ ؟ (سورۃ ص آیت 28 )
کون ہے جو یہ سب کچھ جان کر بھی کفر و شرک، جھوٹ، چوری اور فساد یعنی عبادات اور اخلاقیات سے سستی کرے گا ؟
میرے خیال میں عقیدہ آخرت کے بغیر اچھا، بہترین اور پاک صاف معاشرہ وجود میں نہیں آسکتا۔ عقیدہ آخرت کی حکمتیں اور فائدے اتنے ہیں کہ اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا اس کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ایک طالب علم امتحان کی تیاری کو سامنے رکھتا ہے تو بہتر طریقہ سے پڑھائی کرتا ہے کہ کہیں فیل نہ ہوجاؤں اور پھر بہترین کامیابی کے لیے بہترین نتائج کو سامنے رکھتا ہے۔ اسی طرح جس انسان کو جس قدر عقیدہ آخرت پر یقین ہوگا وہ اتنا ہی زیادہ پرہیزگار، نیک، صالح اور کامیاب انسان ہوگا، یعنی انسان اور قوموں کو ترقی کی راہ پر چلانے کے لیے عقیدہ آخرت پر یقین رکھنا ایک انمول اور لاجواب نسخہ ہے۔ ہمارے سامنے اسلام کے ابتدائی دور کی فتوحات، ترقیاں، کامیابیاں اور اشاعت و تبلیغ کا پورا نقشہ موجود ہے جس کی بنیاد یہی عقیدہ آخرت ہی ہے۔ اسی کی وجہ سے انسان روحانی طور پر بلند ہوتا چلا جاتا ہے اور دنیا کی زندگی انتہائی شاندار مطمئن اور پر آسائش گزار سکتا ہے۔ اور آخرت اس سے بھی بڑھ کر اچھی۔ اس میں کوئی شک و شبہ کی بات نہیں کہ مسلمان نے جو کمزوری اور ذلت و خواری اختیار کر رکھی ہے وہ اسی عقیدہ آخرت پر کمزوری کی وجہ سے ہے۔ اس وقت قرآن پاک کی تعلیمات کو انتہائی محتاط اور پر اثر طریقہ سے بہت زیادہ عام کرنے کی بےحد ضرورت ہے۔ کیونکہ یہی ہمارے بگاڑ کو سنوار سکتی ہیں۔ ہمارے بچے، ہمارے جوان اور بہت سے بزرگ بھی قرآنی تعلیمات سے بہت حد تک بالکل لا علم ہیں۔ صرف مرنے کو ہی یاد رکھ لیں تو بیشمار برائیوں سے بچ سکتے ہیں۔ ہمارے سامنے دن رات یہ ہوتا رہتا ہے کہ ڈاکو مارا گیا، سمگلر مارا گیا، بددیانت اپنی حرام حلال تمام مال و دولت چھوڑ کر مرگیا اور ایک ایسا شخص جو صرف دولت کمانے کے لیے اللہ رسول اور دین و مذہب کو بھی بھول گیا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فوت ہوگیا۔ سکندر اعظم نے وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو میرے دونوں ہاتھ کفن سے باہر رکھ دینا تاکہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو کہ میں نے اتنی فتوحات کیں اور اب صرف خالی ہاتھ تن تنہا، اس دنیا سے رخصت ہو رہا ہوں۔ قارون نے کیا کمایا سب کچھ اس کے ساتھ ہی زمین میں دھنس گیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی زندگیوں کو ایک ایسے نظام کے مطابق بسر کرو جو بہترین ہو اور وہ ہے اللہ کا دیا ہوا نظام حیات۔ جس کو کھول کھول کر قرآن پاک میں بیان کیا گیا ہے اور پھر امیر ترین بننے کی ترکیب یہ ہے کہ قناعت کو اپنایا جائے۔ بندہ فقیر بازی کہتا ہے۔ ” قناعت و حرص دو متضاد چیزیں ہیں۔ قناعت عظیم سعادت و رحمت ہے اور حرص دنیا بہت بڑی شقاوت و آفت ہے۔ “ (از گلستان قناعت مصنف محمد موسیٰ روحانی بازی)
تمام ظاہری و باطنی بیماریاں اور خرابیاں صرف اس عقیدہ آخرت کی کمزوری کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
محمد موسیٰ روحانی (رح) تعالیٰ لکھتے ہیں۔ ” بعض حکماء سے پوچھا گیا کہ غنا (امیری) کس چیز کا نام ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ تیری تمنا اور آرزو کے کم ہونے اور بقدرکفایت رزق پر تیرے راضی ہونے کا نام غناء ہے۔ “ (ازگلستان قناعت)
یہ سب کچھ کہنے کا مطب یہ ہے کہ جو لوگ دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ لیتے ہیں وہ سب سے زیادہ نقصان میں ہیں کیونکہ قرآن پاک میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے۔ ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی تعریف کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرو گے کہ تم دنیا میں بہت کم مدت رہے۔ “ (سورۃ بنی اسرائیل آیت : 52)
واقعی دنیا کی زندگی بہت مختصر اور امتحان کا کمرہ ہے۔ آخرت کی زندگی ہمیشہ کی زندگی اور انعام و سزا کا یعنی نتیجہ کا کمرہ ہے۔ ہر وقت اچھے اور بہترین نتیجہ حاصل کرنے کی فکر کرو۔
Ayahs 17:53–54اللہ کا حکم نبی کے لیے
تشریح : ان آیات میں سخت کلامی سے منع کیا گیا ہے کیونکہ سخت بات کے بعد پھر جھگڑا کھڑا ہوسکتا ہے۔ آپ کو ہدایت کی گئی ہے کہ آپ ہدایت کا پیغام پہنچا دیں بس۔ اس کے بعد آپ کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔
Ayahs 17:55–58انبیاء کی فضیلت کے پہلو، دعا اور اعمال کا وسیلہ، بستیوں کی ہلاکت
تشریح : یہاں اللہ کے علیم وخبیر ہونے کا ذکر ہے اور پھر حضرت داود (علیہ السلام) کا ذکر خاص طور سے کیا گیا کیونکہ ان کو ایسی بادشاہت ملی تھی کہ جیسی کسی اور کو نہیں ملی اور ان پر نازل ہونے والی کتاب زبور کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ پھر حکم ہوا کہ شرک کو چھوڑ دو کیونکہ یہ ظلم ہے اور پھر جب بھی چاہو تو ان معبودوں کو اپنی مصیبت ٹالنے کے لیے پکار کر دیکھ لو وہ کچھ نہیں کرسکتے بلکہ وہ تو خود اللہ کے مختاج ہیں۔ اور پھر قیامت سے پہلے ایسی تمام بستیاں تباہ کردی جائیں گی جو کفر و شرک اور بداعمالیوں کا مقام ہوں گی۔ یہ سب کچھ ہو کر رہے گا کیونکہ عالم کا تمام انتظام لوح محفوظ (کمپیوٹر) میں محفوظ کردیا جا چکا ہے۔ عذاب سے بچنے کا ذریعہ صرف قرآن پر عمل ہے۔ خشوع و خضوع سے عبادت کرنا۔ عبادت کی بنیاد تین باتوں پر ہے ایک رب کی وفاداری دوسرے رب کی اطاعت اور تیسرے مالک کا ادب اور اس کی تعظیم۔ جب ہم اس طریقہ پر اپنی زندگی گزارتے ہیں تو پھر ہماری زندگی کا ہر ہر عمل یہاں تک کہ سونا جاگنا، چلنا، پھرنا اور زندگی کا ہر کام عبادت میں شمار ہوتا ہے اور ہم مفت میں دہرا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دنیا میں کامیاب اور آخرت میں بھی کامیاب۔ یہی اسلام ہے اور یہی مسلم کی شان ہے جو اس کو کفار سے افضل کرتی ہے۔ اس خالص عبادت کے بعد ہمیں دنیا میں آسمانوں سے لے کر زمین تک کوئی چیز کوئی مخلوق۔ ایسی نظر نہیں آتی جو اللہ کے مقابلہ میں عبادت کے لائق نظر آئے اور ایسے ہی سچے مسلمان اللہ کے مقبول ہوتے ہیں، ورنہ اللہ رزق تو کفار و مشرکین کو بھی دیتا ہے مگر ان کے بداعمالی اور گمراہیوں کی وجہ سے ان سے ناراض ہوتا ہے اور پھر جب وہ حد سے گزر جاتے ہیں تو پھر ان پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑتا ہے اور پوری پوری بستیاں پلک جھپکنے میں نیست و نابود ہوجاتی ہیں۔ باقی رہا قیامت کا مسئلہ وہ تو ایک علیحدہ نظام کے تحت آئے گی۔ کہ جب اللہ نے اس جہان کو ختم کرنے کا وقت مقرر کر رکھا ہے تو پھر اس کے نظام تقدیر کے مطابق یہ تمام جہان ختم کردیا جائے گا ایک نئے نظام کو بنا دیا جائے گا۔ یہی اللہ کی حکمت ہے۔
Ayahs 17:59–60انسان کی آزمائش کے طریقے
تشریح : کفار مکہ آنحضرت ﷺ کو ہر وقت کہتے ہیں کہ ہمیں معجزہ دکھائیں جیسا کہ پچھلی قوموں کو دکھائے گئے۔ پہلے انسان بالکل ہی سیدھا سادھا تھا تو اس وقت کے مطابق ان کو معجزے دکھائے گئے، مثلاً حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کو اونٹنی کا معجزہ دیا گیا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی ان لوگوں نے ایمان قبول نہ کیا اور یہ آخری حد ہوتی ہے، لہٰذا ان کو تباہ و برباد کردیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :” کہ آپ کا معجزہ تو یہ ہے کہ ہم نے کہا کہ ” آپ کا رب لوگوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ “ (بنی اسرائیل :60)
اسی طرح ایک جگہ فرمایا :
” مگر یہ کافر جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں، اور اللہ نے ان کو ہر طرف سے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ “ ( سورة بروج)
ان کو دکھائی نہیں دیتا کہ ہم نے کس طرح اپنے قول، ارادے، نظام اور کام کو مضبوط اور محفوظ کر کے کامیاب و کامران کر دکھایا ہے۔ یعنی آپ کو جو کہا کہ آپ اپنے کام میں لگے رہیں آپ کے ساتھ اللہ کی مدد ہے یہ کفار چاہے جو مرضی ہے کرلیں ایڑی چوٹی کا زور لگا لیں یہ نہ تو آپ کو روک سکتے ہیں اور نہ اسلام کی تبلیغ کو روک سکتے ہیں۔ ان کو سمجھ نہیں آتی کہ کس طرح ایک اکیلے بندے نے اتنی بڑی زبردست کفر و شرک کی طاقت سے مقابلہ کیا اور پھر ان کو اللہ کی مدد سے شکست پر شکست دی۔ کیا یہ کوئی معمولی بات ہے۔ اس سے بڑا معجزہ اور کیا ہوگا اور پھر دوسرا بہت بڑا اعزاز جو آپ کو اللہ نے عطا کیا وہ ہے جیتے جاگتے آسمانوں کی سیر۔ جو کہ معراج کے نام سے کافی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہ بھی صرف آپ ﷺ کو نصیب ہوا معراج کے موقع پر چند احکامات مسلمانوں کو دیے گئے اور مسلمانوں کی تمام تعلیمات دو طرح سے فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں ایک تو یہ انسانی زندگی کو سنوارتی ہیں اور دوسرے اللہ کی خوشنودی حاصل کر کے جنت حاصل کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں، پھر تھوہر کے درخت پر کفار ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ لو بھلا دوزخ کی آگ میں درخت کیسے ہوسکتا ہے۔ تو ان بیوقوف لوگوں کو اتنا بھی اندازہ نہیں ہو رہا کہ یہ درخت تو لعنتی لوگوں کے عذاب کا ایک ذریعہ ہیں جیسے لوگ اللہ کی رحمت سے دور ہو کر دوزخ میں جائیں گے اسی طرح ان کی خوراک کا پودا بھی اللہ کی رحمت سے بہت دور ہے اور اسی لیے وہ دوزخ کی تہہ میں آگ کی تپش میں آگ جیسی خصوصیات رکھنے والا پودا یا درخت ہے۔ یہ کونسی مشکل بات ہے اللہ کے لیے وہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے۔ معجزے اور عذاب یہ سب تو صرف لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے ڈرانے کے لیے بھیجے جاتے ہیں مگر یہ لوگ اس قدر ہٹ دھرم اور فضول ہیں کہ جیسے جیسے ان کو نیکی کی طرف بلایا جاتا ہے یہ اور بھی ضد، ہٹ دھرمی اور گمراہی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے تو دوزخ کا عذاب اور تھوہر کی خوراک بنائی گئی ہے۔
واقعہ معراج اور تھوہر کا درخت کفار کے لیے آزمائش بن گئے، باوجود اس کے کہ رسول کریم ﷺ نے بیت المقدس کے بارے کفار کے تمام سوالات کے جوابات دیے لیکن انہیں پھر بھی ایمان نصیب نہیں ہوا۔
واقعہ معراج النبی ﷺ
واقعہ معراج النبی واقعی بہت بڑا سچا اور علم وعرفان کا خزانہ اپنے اندر لیے ہوا ہے۔ یہ واقعہ 27 رجب ہجرت سے ایک سال قبل رونما ہوا۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر مبارک 53 سال تھی جب آپ ﷺ نے اس واقعہ کا ذکر کیا تو عام شخص اس پر ہرگز نہیں یقین کرسکتا تھا کیونکہ یہ معجزہ تھا۔ انسانی عقل سے ماورا، کیسے کوئی یقین کرسکتا تھا کہ ایک ہی رات میں انسان جسمانی وروحانی ساخت کے ساتھ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور پھر عالم بالا کی سیر کر کے واپس مسجد حرام پہنچ سکتا ہے مگر یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس واقعہ کی افادیت، مقصد اور حقیقت قرآن میں تقریباً 7 مقامات پر بتائی گئی ہے۔ اب یہ انسان کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی دی گئی عقل وعرفان کو کس حد تک استعمال میں لا کر کائنات وقرآن سے کتنا کام لیتا ہے ؟ یہ بھی اللہ کی دین ہے کہ وہ کس کام کے لیے کس کو چن لیتا ہے اور پھر وہ انسان جس قدر جوش جذبے محنت اور لگن سے کام کرے گا۔ اللہ اس کی اتنی ہی مدد کرے گا خواہ وہ سائنس سے تعلق رکھتا ہو یا کسی بھی عصری علوم سے تعلق رکھتا ہو۔ انسان کے لیے ان پر دسترس حاصل کرنا ایک فطری عمل ہے۔ چھان بین کرنا، غور وفکر کرنا اللہ کا حکم ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کشف والہام کے ذریعہ بھی ایسے لوگوں کی بھر پور مدد فرماتا ہے۔ مثلاً واقعہ معراج النبی انسان کے لیے کیسے کیسے راز بیان کر گیا ہے۔ ذرا اس پر غور کرتے ہیں۔
” وہ ذات پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام، یعنی خانہ کعبہ سے مسجد اقصیٰ ، یعنی بیت المقدس تک لے گیا جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے تاکہ ہم اسے اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کرائیں، حقیقت میں وہی سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ “ (سورۃ بنی اسرائیل :1)
سورة الذاریات : پارہ 26 آیت نمبر 7 : ” والسماء ذات الحبک “ اور آسمان کی قسم جس میں ہلتے ہوئے راستے ہیں۔ یو آسمانی طبقات کے درمیان راستوں کا ذکر کردیا۔ سائنسدانوں نے ان راستوں کو (Moving Wearmholes) کا نام دیا گیا ہے بہرحال نبی کریم ﷺ نے ان راستوں سے روشنی کی رفتار سے 30 ارب گنا زیادہ رفتار سے سفر معراج کیا، جس کا ذکر قرآن پاک میں بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے۔ مثلاً سورة السجدہ کی آیت نمبر 5 میں رب العزت فرماتے ہیں ” دنیا کے معاملات ان کے پاس ایک دن میں پہنچتے ہیں اور وہ ایک دن انسان کی گنتی کے ایک ہزار سالوں کے برابر ہوتا ہے۔ “ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم چاند کے ایک ہزار سال کے سفر کی ایک دن کے سیکنڈ پر تقسیم کریں تو وہ روشنی کی سپیڈ نکلتی ہے۔ یعنی ایک لاکھ چھہتر ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار بنتی ہے جبکہ چاند کا فاصلہ زمین سے 176000 میل ہے اور چاند سے روشنی زمین تک ایک سیکنڈ میں پہنچتی ہے، جیسا کہ سورة المعارج کی آیات 3 اور 4 میں رب العزت فرماتے ہیں : کہ وہ مالک ہیں کائنات میں ان راستوں کے جو کہ چڑھنے اور پھلانگنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ فرشتے اور روحیں رب العزت کے پاس ایک دن میں پہنچتے ہیں جو انسان کی گنتی کے مطابق 50000 سال کے برابر ہے “ انسان تو اب ان راستوں کی کھوج میں سرگرداں ہے جبکہ رب العزت نے اپنے فرشتوں کے لیے وہ پہلے ہی بنادیے ہیں۔ ایک دن کا تعین ہزار سال کے برابر ہے۔ یعنی روشنی کی سپیڈ سے 1000 گنا اور یوں ایک فرشتے کی رفتار 1000x50000=500000000 یعنی پانچ کروڑ گنا روشنی کی سپیڈ سے زیادہ بنتی ہے جب کہ کچھ فرشتے ایسے بھی ہیں جیسا کہ سورة الفاطر کی آیت ایک میں ذکر کیا گیا ہے کہ :” دو دو تین تین یا چار چار پر ہیں ہوسکتا ہے کہ ان کی رفتار عام فرشتوں سے دوگنا، تین گنا یا چار گنا ہو یعنی روشنی کی رفتار سے 10 کروڑ یا 20 کروڑ گناہ زیادہ ہو۔ احادیث شریف میں ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے 600 پر ہیں تو یوں پانچ کروڑ کو 600 سے ضرب دیں تو یہ روشنی کی رفتار سے 30 ارب گنا زیادہ بنتی ہے اور یوں معلوم ہوا کہ سفر معراج نبی کریم ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ ان راستوں سے روشنی کی رفتار 30 ارب گنازیادہ رفتار سے کیا۔ یہ سفر آپ ﷺ نے ہوش و حواس میں جسمانی ساخت کے ساتھ کیا کائنات کی وسعتوں میں ایسے ہی راستوں سے کیا جن کو سائنس دان (Moving hole) کا نام دیتے ہیں۔ سورة المؤمنون کی آیت نمبر 17 میں رب العزت فرماتے ہیں :” اور ہم نے تمہارے اوپر کی جانب سات راستے بنا دیے ہیں اور خلقت سے غافل نہیں ہیں۔ “ سورة المعارج میں معارج کہا گیا ہے یعنی (Elevatot Taype) راستے جو کہ کائنات کے طبقات میں تیز ترین سفر کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یہ تو تھیں سائنسی دریافتیں اب ذرا دینی لحاظ سے بھی بات ہوجائے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا پھر محمد ﷺ کو افضل الانبیاء کا رتبہ دیا پھر آپ ﷺ کی امت کو بہترین امت کا شرف عطا کیا اسی طرح معراج النبی ﷺ تو ہر ہر صورت افضل واکمل معراج ہے۔ یہ عظیم واقعہ رجب کی 27 تاریخ کی شب میں پیش آیا مسلمانوں کو دن میں پانچ وقت نماز کا تحفہ ملا۔ تحفہ اس لیے کہ یہ نماز بھی معراج کی ہی حیثیت رکھتی ہے۔ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو خود کو اللہ کے دربار میں حاضر پاتے ہیں، اللہ سے باتیں کرتے ہیں، رازو نیاز کرتے ہیں، عجزو انکساری سے معافی مانگتے ہیں، اپنی حاجات پیش کرتے ہیں سب سے بڑی عزت افزائی یہ ہے کہ اللہ سے ملاقات کرتے ہیں کتنا بڑا اعزاز ہمیں معراج النبی کے حوالے سے حاصل ہوا۔ اللہ رب العزت نے اپنے پیارے بندے اور رسول حضرت محمد ﷺ کو اپنے پاس بلایا اور اس کو سدرۃ المنتہی تک رسائی دی عالم بالا کی سیر کرائی اور وہا مختلف طبقات میں جلیل القدر انبیاء سے ملاقات کرائی۔ جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کروایا یہ سفر شروع ہوا جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئے اور وہاں آپ نے جلیل القدر انبیاء کے ساتھ نماز ادا کی اور پھر ان راستوں سے عالم بالا تک جا پہنچے اور بیشمار نشانیاں دیکھیں اور تین چیزوں سے آپ ﷺ کو نوازا گیا۔
(1) پانچ وقت کی نمازیں۔
(2) سورة البقرہ کی آخری آیات۔
(3) اور اس مسلمان کی مغفرت کا وعدہ جو شرک کی آلودگیوں سے پاک ہوگا۔ (صحیح مسلم )
اسی طرح سورة النجم میں اور بھی وضاحتیں معراج النبی ﷺ کی مل سکتی ہیں ایک بہت بڑی فائدے کی بات یہ ملی کہ ان عجیب و غریب آسمانی راستوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو موجودہ دور کے سائنس دانوں کو کائناتی تحقیقات میں ممدومعاون ثابت ہوسکتی ہے۔ سچ کہا ہے آئن سٹائن نے :” سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے اور مذہب سائنس کے بغیر اندھا ہے “
یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو عالم بالا پر بلوا کر انسان کو ستاروں اور پہاڑوں پر کمندیں ڈالنے کا اشارہ دے دیا۔ قرآن پاک میں بیشمار جگہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ :” میری نشانیوں پر غور وخوض کرو ان میں عقل مندوں کے لیے نصیحت ہے۔ “ غرض یہ کہ کائنات کی ہر چیز اس کی ہی نشانی ہے اور قرآن نصیحت سے بھر پور ہے۔ قرآن کتاب ہدایت ہے مگر ساتھ ہی ساتھ تمام عصری علوم کی جڑ بنیاد بھی اسی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ اپنے اسلاف کی پیروی کریں قرآن سے پوراپورا استفادہ کریں اور اپنی کھوئی ہوئی عظمت واقتدار کو حاصل کرلیں اور یہ ہمارا حق بھی ہے جس کو ہم نے چھوڑ رکھا ہے۔
) إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِيْنَ (صحیح مسلم (1934 )
بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سی قوموں کو عزت وسربلندی عطا کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو (جو اس پر عمل نہیں کرتے) ذلیل و خوار کرتا ہے۔
Ayahs 17:61–65شیطان، اس کی چالیں اور اس کا دعو ٰی
تشریح : جیسا کہ شیطان کی ابتدا ہوئی اللہ کی نافرمانی سے اور انسان کی ابتدا ہوئی اللہ کی رحمت سے اور یہ قصہ بڑی تفصیل سے سورة بقرہ آیات 30 تا 39، سورة النساء آیات 117 سے 121 الاعراف آیات 11 سے 25، الحجر آیات 26 تا 42 ابراہیم آیت 22 ۔ ان تمام سورتوں میں شیطان اور انسان کی ہمیشہ کی لڑائی کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ پچھلی آیات میں اچھے اور نیک انسان کی صفات بیان کردی گئی ہیں پھر دہرائے دیتے ہیں۔ جو بھی شخص اللہ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلے گا دنیا و آخرت میں بھلائی حاصل کرے گا، مگر جو اس کے علاوہ راستہ اختیار کرے گا تو وہ گویا شیطان کا دوست بن گیا اور وہ شیطان کے ساتھ دنیا میں بھٹکتا رہے گا اور آخرت میں جہنم میں جائے گا۔ اب یہاں نیکی اور بدی کی لڑائی ہر وقت انسان کے سامنے ہوتی رہتی ہے۔ اور یہ بڑی پکی بات ہے کہ اکثر انسان کو بری راہیں اچھی اور خوبصورت لگتی ہیں یہاں پر اللہ کے دوست اور شیطان کے دوست ہونے کا فرق صاف معلوم ہوجاتا ہے۔ جو لوگ اللہ کے دوست اس کے فرمانبردار اور پاکیزہ ذہن رکھنے والے ہیں وہ تو اللہ کے سچے بندے ہوتے ہیں ان پر شیطان کا راستہ ہرگز کسی صورت بھی آسان نہیں ہوتا مگر اس کے علاوہ کمزور مسلمان پر شیطان، یعنی برائی، بےحیائی، گمراہی اور فسق و فجور کا قبضہ بڑی آسانی سے ہوجاتا ہے۔ اسی لیے تو بری صحبت سے بچنے کی ہر وقت تاکید کی جاتی ہے اور اچھی صحبت (دوستی) کو انسان کے لیے اللہ کی رحمت کہا گیا ہے، اسی لیے رب العزت فرماتے ہیں۔ ” اے پیغمبر تمہارا رب کارساز کافی ہے۔ “ (بنی اسرائیل آیت : 65 )
بہرحال تواضع اور انکساری کے ساتھ ساتھ نیک لوگوں کی مجلس (دوستی) اختیار کرنا اور صالحین و بزرگان دین کی تعلیم و تربیت سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا مسلمان کے لیے بہت بڑی سعادت ہے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق دے۔ آمین
Ayahs 17:66–70اللہ کی رحمتیں برکتیں اور انسان کی ناشکری
تشریح : یہاں پھر ان تمام احسانات کا ذکر کیا گیا ہے جو انسانوں کی سہولت آرام و آسائش کے لیے اللہ نے انسان کو دے رکھے ہیں مثلاً اتنے بڑے بڑے پانی سے بھرے ہوئے موجیں مارتے دریا اور زبردست سمندر سب کو انسان کے لیے اس طرح مسخر (تابع) کردیا کہ انسان اپنی عقل سے کام لے کر جو اللہ نے اس کو دی ہے بڑی بڑی کشتیاں اور جہاز بنا کر ان کے ذریعے سفر کرتا ہے، تجارت کرتا ہے، مگر پھر بھی اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا مگر کیونکہ فطرتاً انسان اللہ کو ہی رب مانتا ہے، اس لیے جب طوفان اور مصیبت میں گھر جاتا ہے تو پھر مدد کے لیے بےاختیار اللہ ہی کو پکارتا ہے اس وقت وہ اپنے کسی ایسے اللہ کو نہیں پکارتا جسے اس نے اللہ کا شریک بنارکھا ہوتا ہے۔ مگر انسان اس قدر ناقص عقل کا مالک ہے کہ جب طوفان سے بچ جاتا ہے تو پھر وہی پرانی گمراہی اور شرک کرنے لگتا ہے۔
حالانکہ مصیبت خشکی پر بھی آسکتی ہے سمندر میں سفر دوبارہ بھی ہوتا ہے مگر انسان اتنا ناشکرا ہے کہ مصیبت ٹلنے پر پھر وہی کفر و شرک یہ جو اللہ رحمت سے اپنے بندوں کو نوازتا رہتا ہے تو یہ صرف اس لیے کہ انسان اللہ کی بہترین تخلیق ہے۔ دنیا کی تمام مخلوقات، نباتات، حیوانات اور جمادات انسان کے سامنے کم تر ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ اللہ کی دی ہوئی ان تمام نعمتوں سے بھر پور فائدہ اٹھا کر اس مرتبہ کو بلند سے بلند ترین کر کے واقعی ایک بہترین مخلوق ہونے کا ثبوت دے۔ یہی انسانیت کی کامیابی، فخر اور خوش نصیبی ہے۔ انسان کے لیے اللہ نے تمام دنیا اور اس کی ہر چیز بنائی کہ وہ آرام سے رہے اور دنیا میں انسان کو اس قدر عزت عطا کی کہ اس کو اپنا خلیفہ (نائب) بنا کر بھیجا ہے، تو کیا انسان کا فرض نہیں کہ اپنے اس مرتبہ کا خیال کر کے انتہائی خوبصورتی سے دنیا پر حکومت کرے اور ہر وقت اس مہربان قادر مطلق کا احسان مند رہے اور ہر وقت اس کا شکر ادا کرے اور ہر صورت اسی کی طرف اپنا رخ موڑے رکھے اور اس کی دی ہوئی ہدایات پر خلوص نیت سے عمل کر کے زندگی گزارے۔
یعنی اگر وہ والدین ہیں تو بہترین والدین، اگر اولاد ہے تو بہترین اولاد، اگر استاد ہے، ڈاکٹر ہے، وکیل ہے، عالم ہے، لیڈر ہے یا سربراہ مملکت ہے غرض جس عہدہ یا جس مقام پر بھی وہ زندگی گزار رہا ہو اس مقام کے تمام فرائض انتہائی ایمانداری، خلوص، محبت اور محنت سے اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق ادا کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ انسان کی نجات اس جہان میں اور آخرت میں بخیر و خوبی نہ ہو۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم مسلمان کے گھر پیدا ہوئے اور ہمیں دنیا کی بہترین کتاب قرآن پاک عطا ہوئی۔ ” اے ہمارے رب ہمارے دلوں میں صبر ڈال دے اور ہمارے پائوں جمائے رکھ اور کفار کی قوم پر ہمیں غلبہ دیجئے۔ “
(البقرہ آیت :250)
شیطان کے لشکر ہر وقت ہمارے سروں پر سوار رہتے ہیں ان سے ہوشیار رہنا چاہیے، اور اللہ سے مدد مانگتے رہنا چاہیے۔
Ayahs 17:71–72انسان کا انجام
تشریح : ان آیات میں میدان حشر اور حساب کتاب کے دن کا نقشہ بڑے ہی ڈرا دینے والے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بیشمار دفعہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ ہم مرنے کے بعد ضرور زندہ ہو کر اللہ کے حضور پیش کیے جائیں گے تو یہاں بھی اسی بات کو دہرایا جارہا ہے کہ سب لوگ اپنے اپنے نبی یا اپنے پیشوا کے ساتھ حاضر ہوں گے اور پھر ان کے اعمال نامے جو کہ دنیا کی زندگی میں تیار کیے جا چکے ہوں گے ان کے ہاتھ میں دیے جائیں گے اور اسی وقت ان کا نتیجہ اس طرح سامنے آجائے گا کہ اچھے لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے جبکہ برے لوگوں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے۔ ان کے اعمال نامے اس قدر ٹھیک ہوں گے کہ ایک ذرا برابر بھی ان پر ظلم نہ کیا جائے گا انتہائی مناسب اور صحیح ہوں گے اور وہ لوگ اسی طرح خوش ہوں گے جس طرح کوئی امتحان میں بہترین کامیابی پر اس دنیا میں خوش ہوتا ہے، مگر دوسرے لوگ جنہوں نے دنیا میں حق سچ اور نیکی کی راہ دیکھنے سے غفلت کی، یعنی اچھے راستے سے یوں منہ موڑے رکھا گویا اندھے ہیں اور ان کو دکھائی ہی نہیں دیتا تو ایسے لوگ دکھ، ناکامی اور رنج کی وجہ سے اندھوں کی طرح ادھر ادھر بھٹکتے پھریں گے۔ یہ کتنی بڑی راز کی بات اللہ نے ہمیں بتا دی ہے پہلے سے۔ ابھی وقت ہے اپنے کیے گئے گناہوں سے معافی مانگ کر اچھی، سچی اور ایمان کی راہیں اختیار کرلی جائیں تاکہ آخرت میں ہمیشہ والی زندگی میں اللہ کی طرف سے انعام و اکرام اور بہترین خبر کا تحفہ ملے۔ زندگی تو گزارنی ہی ہے تو اچھی زندگی کیوں نہ گزاری جائے۔ سوچنے کی بات ہے ایک نیک، سچا اور دیانتدار محنتی انسان جس قدر سکون آرام اور بےفکری کی زندگی گزارتا ہے ویسی زندگی ایک جھوٹا، چور، بددیانت اور سست انسان نہیں گزار سکتا۔ بس یہی حال میدان حشر میں اچھے اور برے انسان کا ہوگا۔ کسی پر ظلم ہرگز نہیں کیا جائے گا۔” اس روز حقیقی بادشاہت صرف رحمن کی ہوگی۔ (سورۃ الفرقان آیت : 26 )
Ayahs 17:73–77نبی کے لیے کفار کے فتنہ سے بچنے کا
تشریح : یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب کفار مکہ نے آپ کو ہر قسم کا لالچ دے کر یہ کہا کہ قرآن میں کچھ آیات بدل دو جو ہمارے مفاد میں، یعنی بت پرستی وغیرہ کے حق میں ہوں تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے جو کہو گے دیں گے، یعنی مال و دولت، بیوی اور عزت و احترام۔ آپ ﷺ دنیاوی راحتوں کو تو خیر کسی گنتی میں ہی نہیں لاتے تھے البتہ یہ خیال آیا ہو کہ اس وقت اگر ان کو تھوڑی سی رعایت دے دی جائے تو شاید بعد میں حق کی طرف آجائیں تو اللہ تعالیٰ نے سختی سے حکم دیا کہ ہرگز کسی کافر کی رعایت دوستی یا مشورہ کا خیال مت کرنا۔ یہ تمام مسلمانوں کے لیے بھی تنبیہ ہے کہ کبھی بھی کسی برے کافر اور مشرک کے مشورہ پر عمل کر کے نیکی کی راہ سے ایک ذرا برابر بھی ادھر سے ادھر نہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس کی پکڑ اور نقصان انسان کو بہت زیادہ اور سخت اٹھانا پڑے گا اور یہاں تک اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا مقبول ترین، بہترین پیغمبر حضرت محمد ﷺ بھی اس لحاظ سے ہلکی سی لغزش کا شکار ہوجاتے تو ان کو بھی سزا سے کوئی نہ بچا سکتا بلکہ نبی، پیغمبر کی سزا تو عام انسان سے دگنی ہوتی ہے۔ پھر رب ذوالجلال نبی کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کیونکہ نیک پارسا بندوں کی حفاظت گمراہی سے ہم خود کرتے ہیں اور شیطان بھی ان پر قدرت نہیں رکھتا، اس لیے آپ کو ہم نے کفار کی سازش سے بچا لیا اور آپ اپنے ارادہ میں مضبوط ثابت ہوئے اللہ کی مہربانی اور مدد سے۔ پھر اللہ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے مزید فرمایا کہ ” اگر یہ لوگ آپ کو تنگ کر کے مکہ سے نکال بھی دیں تو فکر کی بات نہیں یہ خود بھی چین سے نہ رہ سکیں گے۔ کیونکہ جو پیغمبر ہم نے آپ سے پہلے بھیجے تھے ان کا اور ان کے بارے میں ہمارا یہی طریقہ رہا ہے اور آپ ہمارے طریقہ میں تغیر و تبدل نہ پائیں گے۔ “ (بنی اسرائیل : 77, 76)
یہ تو اللہ کا دستور بالکل پکا ہے۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جن قوموں نے اپنے نبیوں کو ملک سے نکال دیا وہ خود ضرور تباہ و برباد ہوگئے اور اللہ کے اس دستور سے کوئی سائنس دان، کوئی عالم دین، محقق اور ماہر طبیعیات بھاگ نہیں سکتے۔ سب اس دستور کے اندر قید ہیں۔ اللہ کی تقدیر کو بدلنا یا اس سے بچ جانا کسی کے بس میں نہیں۔ اسی لیے اللہ کے قوانین کی پابندی پر زور دیا گیا ہے مذکورہ بالا آیات میں سبق یہ دیا گیا ہے کہ ایمان پر ہر طرح مضبوطی سے قائم رہو اور کبھی بھی برے لوگوں کی دوستی اختیار نہ کرو کیونکہ ان کی چکنی چپڑی باتیں تمہارے دل میں کھوٹ پیدا کرسکتی ہیں۔ لہٰذا ان سے دور رہو اور اللہ کا ذکر اور اس کی مدد ہر وقت مانگتے رہو کہ وہی سب کا نگہبان ہے۔ اور وارث بھی وہی ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے
؎ دیر وحرم کی کشمکش ہوگی کہیں یہاں نہیں
تیری قیام گاہ سے آگے کوئی جہاں نہیں۔
(انجم بدایونی )