16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 16:1–3

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

اللہ کا حکم (عذاب) گویا آہی پہنچا تو اس کے لیے جلدی مت کرو، یہ لوگ جو اللہ کا شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالا تر ہے۔

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہی فرشتوں کو پیغام دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ لوگوں کو بتا دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھ ہی سے ڈرو۔

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو حق سے پیدا کیا ہے، اس کی ذات ان کافروں کے شرک سے اونچی ہے۔

اللہ کے امر (عذاب) کا پیغام تشریح : یہ آیات کیونکہ آنحضرت ﷺ کے مکہ میں آخری زمانہ اور مدینہ کے شروع میں نازل ہوئیں۔ اور آپ کا زمانہ قیامت کے قریب کا زمانہ شمار ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جو عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں ان کو بتا دو کہ عذاب بس آنے ہی والا ہے۔ اور دوسری بات ان کو یہ بھی سمجھا دو کہ اللہ کی اپنی مرضی ہے جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے چن کر قوم کے لیے رسول بنا بھیجے اس کا چنائو دولت اور مرتبہ پر نہیں بلکہ شرافت اور پرہیزگاری پر ہوتا ہے پھر وہ اپنے اس برگزیدہ بندے پر فرشتے کے ذریعے اپنا پیغام بھیجتا ہے، کیونکہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں، لہٰذا صبر کرو بڑی جلد تمہیں اپنے اعمال کے بدلے میں عذاب مل جائے گا۔ لہٰذا نبی کریم ﷺ کی ہجرت کے 9 یا 10 سال بعد کفار کو معلوم ہوگیا کہ توحید کا پیغام سچ ہے اور کفر کا نام باطل ہے۔ بڑی جلد توحید کے ماننے والے پورے عرب پر چھا گئے اور کفار ذلیل و خوار ہو کر تقریباً ختم ہوگئے۔ یہ سب کچھ اس وحدہٗ لاشریک کی طرف سے ہوتا ہے جس نے زمین آسمان کو اور خود انسان کو بڑی حکمت اور کاریگری سے بنایا ہے۔ اس عظیم المرتبت خالق ومالک کے ساتھ اگر یہ کفار کسی دوسرے کو شریک بناتے ہیں تو اپنا ہی نقصان کرتے ہیں اللہ کا تو ان کے شرک سے کچھ نہیں بگڑ جاتا وہ تو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اس لیے عقل کا تقاضہ تو یہی ہے کہ اللہ قوی عزیز سے ہی ڈرا جائے اسی کے سامنے جھکا جائے اور اسی سے دعائیں مانگی جائیں۔ رحمت کی اور بخشش کی، وہی پیدا کرنے والا اور مارنے والا ہے۔ اگلی آیات تخلیق انسان کے بارے میں ہیں۔
Ayahs 16:4–8

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر ( وہ اس خالق کے بارے میں) کھلم کھلا جھگڑنے لگا۔

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور چار پایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا ان میں تمہارے لیے گرم کپڑے اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو۔

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور جب شام کو انہیں چرا کر لاتے ہو اور جب صبح ان کو چرانے لے جاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت و شان ہے۔

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور دور دراز شہر میں جہاں تم بغیر انتہائی مشقت کے جا نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھا کرلے جاتے ہیں کچھ شک نہیں کہ تمہارا رب نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور اسی نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کیے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمہارے لیے رونق اور زینت بھی ہیں اور وہ اور بھی چیزیں پیدا کرے گا جن کی تمہیں خبر نہیں۔

انسان کی پیدائش اور اللہ کی دی ہوئی نعمتیں تشریح : ان آیات میں ایک بہت بڑا راز انسان کی پیدائش کا بتایا جا رہا ہے اس وقت جب یہ آیات نازل ہوئیں کون جانتا تھا کہ انسان کی پیدائش پانی کے اس قطرہ سے ہوتی ہے جو ماں کے رحم میں ڈالا جاتا ہے۔ یہاں انسان کی ابتدا نطفہ سے بتائی گئی ہے جو کہ سائنس کے طالب علم کے لیے بہت بڑا موضوع بن گیا اور آج سائنسدان ان تمام حقائق تک پہنچ گیا ہے جن کے بارے میں قرآن پاک نے آج سے کئی صدیاں پہلے وضاحت کردی ہے کہ انسان کو نطفہ سے بنایا۔ جب کہ سورة بقرہ میں ایک بہت بڑا راز حضرت آدم کی تخلیق کے قصہ میں بتادیا۔ کہ انسان کو ہم نے مٹی سے بنایا۔ اس ایک جملہ سے تمام سائنسدانوں کی تحقیقات کو مل یا میٹ کردیا جو انسان کی تخلیق کے راز کو معلوم کرنے کے لیے کبھی ڈارون (سائنسدان) کی تھیوری پر پریشان تھے کہ انسان کسی جانور کی شکل تبدیل ہونے سے بنا ہے اور وہ انسان کی ابتدا کو ارتقائی تھیوری میں گھما پھرا رہے تھے۔ جبکہ اللہ نے فرمایا ہم نے مٹی سے پتلا بنایا اس میں اپنی روح پھونک دی اور پھر آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتار دیا جہاں انسان کی تخلیق مرد و عورت کے ذریعے نطفے سے شروع کردی گئی۔ اب اس کو طبی لحاظ سے دیکھا جائے تو ڈاکٹر ہلوک نورباقی صاحب کچھ یوں لکھتے ہیں۔ ماں کے رحم کے اوپر والے حصے میں دائیں بائیں دو پتلی ٹیوبیں فلوپین ٹیوب یا بوٹرین ٹیوب ہوتی ہیں۔ پیڈو کی اطراف ان ٹیوبوں کے سرے پھولوں کی طرح کھلے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ اور ی یا بیضہ رحم کو گھیرے ہوئے ہوتے ہیں جیسے ہی بیضہ والا خلیہ یا او وم پیڈو کے گڑھے میں گرتا ہے تو ان ٹیوبوں کا منہ اسے پکڑ کر او وم کے اندر سمیٹ لیتے ہیں اور ٹیوب سے رحم کے دوسرے کنارے کی طرف سے داخل کردیتے ہیں۔ او وم یعنی بیضے والا خلیہ اسی ٹیوب میں ذرخیز پذیر ہوتا ہے۔ ایک مخصوص عرصہ کے بعد یہ ٹیوب کی لمبائی سے گزارا جاتا ہے اور رحم میں پہنچایا جاتا ہے رحم کے اندر لعابدار جھلی کی بالائی سطح باریک بالوں جیسی سطح سے مشابہت رکھتی ہے اسے ولی کہتے ہیں او وم یا بیضہ والے خلیے کے نکتہ نظر سے اس کی مثال جنگل میں درخت کے نیچے ایک خاص مقام سے دی جاسکتی ہے۔ رائیگوٹ خلیہ کے دو حصوں میں تقسیم در تقسیم کے عمل کو اسی ماحول میں جاری رکھتا ہے اور پھر غیر خلیاتی کیپسول میں ایک جینن یا حمل تشکیل پذیر ہوتا ہے، یعنی پستانیوں کے انڈے کے گرد منڈھی ہوئی جھلی کی صورت میں ہوتا ہے۔ اب یہ حقیقت روشن ہوجاتی ہے کہ ابتدائی توقعات کے برعکس انسان کی ساخت ماں کے پیٹ میں کئی مرحلوں سے گزر کر پوری ہوتی ہے نہ کہ صرف ایک مرحلہ ہے۔ (از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق) یہ سب لکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں اللہ کی بنائی ہوئی مخلوقات کس قدر پیچیدہ اور میزان کن طریقہ سے عمل میں آتی ہے کہ اس کو سمجھنے کے لیے ڈاکٹر حضرات زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ انتہائی محنت میں گزارتے ہیں تو جا کر اللہ کے ان قواعد کا کچھ حصہ جان سکتے ہیں۔ جو اس نے خود انسان کو بنانے کے لیے بنا رکھے ہیں اور اسی طرح تمام مخلوقات کو اس نے مختلف طریقوں سے پیدا کر رکھا ہے۔ سبحان اللہ ! اللہ نے اس بےحد پرانے زمانے میں بڑے چھوٹے سے جملے میں بتا دیا کہ ” انسان نطفے سے بنایا گیا ہے۔ “ یہ اطلاع اس زمانے میں دی گئی جب انسان سفر کے لیے گھوڑے، خچر، اور گدھے استعمال کرتا تھا۔ ان کے علاوہ وہ کچھ ایسے جانور تھے مثلاً بھیڑ، بکری، اونٹ وغیرہ کہ ان کی کھال سے پوشاک بناتا اور اس کا گوشت کھا کر پیٹ بھرتا تھا۔ اگر یہ تمام چیزیں اللہ انسان کے لیے پیدا نہ کرتا تو انسان کو زندگی گزارنی کس قدر مشکل ہوجاتی۔ اس وقت کے بدئو وں کو سمجھانے کے لیے ان کے معیار کے مطابق قرآن نے بات کی کہ اس وقت عربوں کا معیار بھیڑ بکریوں کے گلّے تھے اور یہی ان کی شان اور برتری کا نشان تھے تو ان کو اپنی قدرت سمجھانے کے لیے ان کی عقل، معاشرت، تمدن اور زمانے کے مطابق بات کردی جبکہ نطفے کا ذکر کر کے بعد میں آنے والے علمائ، حکما اور دانشوروں کو سوچ بچار اور تحقیقات کا ایک بہت بڑا موضوع دے دیا اور ان کو اپنی قدرت اور طاقت کا پتہ اس بہت بڑے طبی نکتے سے بتا دیا۔ کیا حکمت ہے کیا جامعیت ہے اور کیا معقولیت ہے قرآن کے کلام میں ! کیوں نہ ہو یہ کلام اس قادر مطلق رحمن و رحیم کا کلام ہے آخر میں فرمایا ” اور وہ اور بھی چیزیں پیدا کرے گا جن کی تمہیں خبر نہیں۔ ، ، یہ ایک بڑا ہی لطیف اشارہ ہے بعد میں آنے والی سواریوں کی طرف۔ جو انسان نے اللہ کی دی ہوئی عقل اور اللہ کی دی ہوئی چیزوں کو استعمال کر کے اپنی پر آسائش سواریوں کے لیے تیار کیں۔ مثلاً بیل گاڑی، ریل گاڑی، موٹر کار، بحری جہاز اور پھر ہوائی جہاز یہ تو ہوئیں اب تک کی سواریاں آئندہ جو کچھ انسان بنانے والا ہے وہ انسان کے علم میں تو بعد میں آئے گا مگر اللہ کے علم میں وہ اس وقت سے ہے جب سے اس نے کائنات بنائی۔ قربان جائیں اللہ کے علم، قدرت اور خلاقی (پیدا کرنے) کے۔ بھلا اس خدائے واحد کا کون مقابلہ کرسکتا ہے اور کون اس کا شریک ہوسکتا ہے ؟ ہرگز کوئی اس کی ہوا تک کو نہیں پہنچ سکتا۔ اگلی آیات میں اللہ کی باقی کچھ عنایات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 16:9–13

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور سیدھا راستہ تو اللہ تک جا پہنچتا ہے۔ اور بعض رستے ٹیڑھے ہیں ( وہ اس تک نہیں پہنچتے) اور اگر وہ چاہتا تو سب کو سیدھے رستے پر چلا دیتا۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اس سے درخت بھی سرسبز ہوتے ہیں جن میں تم اپنے چار پایوں کو چراتے ہو۔

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

اسی پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور بیشمار درخت اگاتا ہے اور ہر طرح کے پھل پیدا کرتا ہے۔ غور کرنے والوں کے لیے اس میں اللہ کی قدرت کی بڑی نشانی ہے۔

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور اسی نے تمہارے لیے رات، دن، سورج اور چاند کو کام میں لگایا اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ سمجھنے والوں کے لیے اس میں اللہ کی قدرت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور جو طرح طرح کے رنگوں کی چیزیں اس نے زمین میں پیدا کیں سب تمہارے زیر فرمان کردیں نصیحت پکڑنے والوں کے لیے اس میں نشانی ہے۔

انسان کے لیے دنیا کی تمام چیزیں مسخر ہیں تشریح : سیدھا راستہ تو وہی ہے جو قرآن نے بتایا اور رسول اللہ ﷺ نے بتایا۔ تقویٰ ہی سیدھے راستہ پر لے جاتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ خار دار جھاڑیوں کے درمیان میں سے اپنے کپڑے سمیٹ کر گزر جانا۔ کیونکہ اس دنیا میں انسان کے لیے چاروں طرف مرغوب چیزیں بکھری پڑی ہیں۔ اولاد، بیوی، مال، جائیداد، دوست احباب خاص طور سے بیوی بچے اور مال یہ تو انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش کا ذریعہ ہیں یہ سب ٹیڑھے راستے ہی تو ہیں۔ انہی کے لیے انسان جھوٹ بولتا ہے، چوری کرتا ہے، فساد کرتا ہے، قتل، جھگڑا غرض جو بھی کرنا پڑے انسان کرجاتا ہے۔ جب کہ یہ بہت بڑی حماقت ہے جو سمجھ دار لوگ ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ سب چیزیں تو اسی دنیا میں رہ جائیں گی ان کی وجہ سے اپنے اعمال نامے کو کیوں خراب کیا جائے جو کہ ہمارے ساتھ جائے گا اور جس کی وجہ سے ہمیں آخرت میں جہنم ملے گی یا جنت ملے گی وہاں نہ تو بیوی کام آئے گی اور نہ اولاد اور نہ ہی مال و دولت ہی کام آئیں گے جوابدہی تو خود اکیلے ہی کی ہوگی۔ تو ایسے عقلمند لوگ اپنی راہیں خراب نہیں کرتے بلکہ بیوی بچے دوست احباب رشتہ دار ان سب کے حقوق، اللہ نے مقرر کر رکھے ہیں بس ان کو ایمانداری سے پورا کرنا اور ہر وقت اللہ کا خوف دل میں رکھنا، یہی سیدھا راستہ ہے۔ جو اللہ کی طرف لے جاتا ہے باقی ٹیڑھے راستے ہیں۔ ہر قدم پر دنیا و آخرت کا خیال رکھنا ہی سیدھا راستہ ہے۔ اور یہی تو انسان کی آزمائش ہے ورنہ اللہ کے لیے کیا مشکل تھا کہ سب کو ہی سیدھے راستے پر چلا دیتا۔ وہ ہر قدرت کا مالک ہے۔ سیدھے راستے پر سب کو چلا دینا بڑا معمولی کام ہے اللہ کے لیے جب کہ وہ اتنے بڑے بڑے بہترین کام کرتا ہے جو اس کے سوا کوئی نہیں کرسکتا، مثلاً آسمان سے بارش برسانا۔ یہاں بھی اللہ نے پانی کی خاصیتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اول تو بارش کا ہونا ہی حیرت انگیز عمل ہے پھر اس کے فوائد ان گنت ہیں یہ ہر مخلوق، نباتات، حیوانات اور ہر ذی روح کے زندہ رہنے کا بنیادی جزو ہے اور ہر جگہ اس کی مناسبت سے پانی کام کرتا ہے۔ مثلاً انسان کو زندگی کی توانائی دیتا ہے کیونکہ انسانی جسم کا یہ ایک اہم جز ہے۔ اسی طرح زمین میں تازگی پیدا کرتا ہے تو زمین سے ہر قسم کی نباتات اگنے لگتی ہیں، پھر مزے کی بات یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کی ضرورت کے مطابق، پھل پھول، سبزی ترکاری اور ہر قسم کی فصل کو اس کے مزاج ضرورت اور خاصیت کے مطابق پہنچاتا ہے۔ جب ہم اپنے چاروں طرف غور سے دیکھتے ہیں تو اللہ کی قدرتوں سے ہمارے سامنے حکمتوں اور حیرتوں کے دفتر کھل جاتے ہیں۔ دانشور، سائنسدان اور مفکرین ان سے بیشمار علوم کی بنیاد رکھ کر اپنے لیے اور خلق خدا کے لیے بیشمار نئی نئی راہیں نکالتے ہیں اور فائدے اٹھاتے ہیں۔ اب ذرا آسمان کی طرف نظر کریں تو وہاں اور ہی حیرتوں کا جہاں پھیلا ہوا ہے قدرت کی ہر چیز سورج، چاند ستارے سب کو اللہ نے ایک بہترین نظام کے تحت مسخر کر رکھا ہے اور ان کو انسان کے لیے باقاعدہ کام میں لگا رکھا ہے کہ انسان کی بقا کے لیے رات، دن، چاند سورج ستارے باقاعدہ چلتے چلے جا رہے ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی مجال نہیں کہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی اپنے کام سے غافل ہوجائے۔ ساری کائنات اور کائنات کی ہر چیز انسان کو تدبر اور تفکر کی دعوت دیتی ہے۔ اگر یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ انسان کی بھلائی کے لیے پیدا کرسکتا ہے تو کیا سب لوگوں کو ہی ہدایت پر لگا دینا اللہ کے لیے کون سا مشکل کام تھا۔ مگر یہ اس کی تدبیر کا حصہ ہے کہ اس نے انسان کو عقل، فہم ہدایت کا راستہ واضح کردینے کے بعد ارادہ بھی اس کو دے دیا اور یہی خاصیت انسان کو باقی تمام مخلوقات سے ممتاز، اور افضل بناتی ہے یہی آزمائش ہے اور یہی انسان کے لیے سب سے مشکل کام ہے اس میں پورا اترنا ہی کامیابی کی نشانی ہے اور ایسے ہی کامیاب انسان اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں اور ان تمام نعمتوں کو بڑے سلیقے اور طریقے سے استعمال کرتے اور فائدے اٹھاتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی سہولتوں اور آسائشوں کا بندوبست کرتے ہیں۔ مثلاً حکیم ارشمیدس کا لیور کا اصول طبیعیات کی بنیاد بنا۔ اسی طرح پیرس کے ڈاکٹر پال لارنس نے ایٹمی دل ایجاد کیا۔ یہ آلہ انگلی کے ناخن کے برابر ہے۔ اسی طرح گندھک اور شوربے کا تیزاب مسلمان سائنس دان جابر بن حیان نے بنایا تھا جو بیشمار مختلف قسم کی مصنوعات میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح البرٹ آئن سٹائن بیشمار ایجادات کا موجد ہے اس نے صرف ذاتی محنت اور جدوجہد کی وجہ سے اتنی کامیاب کارآمد چیزیں بنائیں کہ بغیر کسی خاص سائنسی تجربے کے نوبل انعام حاصل کیا۔ اور اپنی ذاتی لگن اور محنت سے دنیا کو زندگی کی بہترین سہولتیں عطا کیں۔ اسی طرح پاکستان کے ممتاز سائنس دان ڈاکٹر رضی الدین صدیقی نے بلڈ پریشر کی مفید دوائی ” اجملین “ ایجاد کی اور یوں انسانیت کی بڑی خدمت کا باعث بنے۔ یوں اللہ نے بہترین آسائشیں اور آرام کے سامان عطا کیے ہیں اور ساتھ ہی عقل فہم اور فراست بھی عطا کی ہے اور جگہ جگہ حکم دیا ہے کہ غور و فکر کرو تم اللہ کو پہچان سکو گے اس کی توحید کے ماننے والے بن جاؤ گے اور یہی سیدھا راستہ ہے۔ ہے نا پتے کی بات ! بجائے اس کے کہ شیطان کا راستہ اختیار کر کے ادھر ادھر ٹھوکریں کھاتے پھرو نہ دنیا ملے نہ آخرت اور نہ ہی سکون و اطمینان حاصل ہو۔ کیونکہ اللہ کے راستے پر چلنے والے نہ غمگین ہوتے ہیں نہ پریشان ہوتے ہیں۔ کیسا خوبصورت اصول زندگی گزارنے کا اللہ نے اپنے بندوں کو بتایا ہے۔ اللہ فرماتا ہے : ” سیدھا راستہ تو اللہ تک جا پہنچتا ہے۔ “ (آیت 9 ) اور پھر فرمایا : ” سمجھنے والوں کے لیے اس میں اللہ کی قدرت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ “ (آیت 12
Ayah 16:14

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا۔ تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھائو۔ اور اس سے زیور موتی وغیرہ نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں اور اس لیے بھی دریا کو تمہارے اختیار میں کیا کہ تم اللہ کا فضل (معاش) تلاش کرو تاکہ اس کا شکرادا کرسکو۔

سمندری نعمتیں تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں اللہ کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو زمین سے تعلق رکھتی ہیں یہاں ان نعمتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو انسان سمندروں سے حاصل کرتا ہے۔ سمندر اور دریا بھی انسان کے لیے مسخر کردیے گئے ہیں پہلا فائدہ تو بیشمار پانی کا ہے جو ہمیں دھوپ کے ذریعے کشید ہو کر بادلوں اور بارش کے ذریعہ سے ملتا ہے، سمندر کا پانی کھارا ہوتا ہے جس کو انسان بغیر کشید کیے پی نہیں سکتا یہ بھی بڑی حکمت کی بات ہے آئندہ اس پر بحث ہوگی۔ ان شاء اللہ۔ پندرھویں صدی عیسوی میں ایک نئی دریافت یہ ہوئی تھی کہ سمندر کی گہرائیوں میں بہنے والے دریا ہیں جو پانی کا ایک بڑا ذخیرہ ایک خاص طرف باقاعدہ لاتے اور لے جاتے ہیں یہ دریا میٹھے پانی کے ہیں اگر پانی میٹھا ہے تو سمندر کا نمکین پانی اس میں شامل نہیں ہوتا اور اگر گرم پانی کا دریا ہے تو بھی سمندر کا کھاری پانی اس میں شامل نہیں ہوتا۔ قرآن میں اس راز کی طرف یوں اشارہ ملتا ہے۔ اللہ نے فرمایا : ” اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے ایک لذیذ و شیریں اور دوسرا نمکین اور کھارا اور دونوں کے درمیان پردہ حائل ہے جو انہیں آپس میں مکس ہونے سے روکے ہوئے ہے۔ “ (سورۃ الفرقان آیت 52) یہ تو کچھ علیحدہ معلومات ہیں جن کا ذکر آیت 14 میں نہیں کیا گیا، بہرحال سمندری نعمتوں میں یہ بھی شامل ہیں۔ آیت میں موجود ایک تو پانی کی نعمت کا ذکر ہے دوسرا ان آبی جانوروں کا ذکر ہے جن کو انسان سمندر اور دریا میں سے نکال کر خوراک کے طور پر استعمال کرتا ہے جس میں سب سے بڑی خوراک مچھلی کا تازہ گوشت ہے۔ اور مچھلی دوسرے آبی جانوروں کی طرح بیشمار قسم کی ہوتی ہے۔ جو رنگ مزے اور بو میں مختلف ہوتی ہے۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ انسان اس میں سے طرح طرح کے موتی حاصل کرتا ہے۔ یہ موتی بےحد نایاب، قیمتی اور خوبصورت ہوتے ہیں جو عام طور پر عورتیں زیور بنوا کر سجاوٹ کے لیے پہنتی ہیں اور کچھ جواہرات تو دوائوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ چوتھا فائدہ یہ ہے کہ خشکی کا سفر تجارت اور رسل و رسائل کا کام گھوڑے، گدھے کے ذریعے ابتدائی زمانے میں ہوتا تھا اور بعد میں گاڑی، ٹرک، ٹرین وغیرہ کے ذریعے سے ہونے لگا، پھر ہوائی جہاز بن گیا جہاز سے پہلے ایک خشکی کے علاقے سے دوسرے علاقے میں جانے کا راستہ کشتی اور بحری جہاز سے ہوتا تھا۔ یوں لوگ اپنے کاروبار اور روزی رزق (اللہ کا فضل) تلاش کرنے کے لیے کشتی استعمال کرتے تھے۔ کشتی اور جہاز کے پانی میں تیرنے اور لہروں کو چیرنے کا ذکر قرآن میں آیا ہے، جس کی وجہ سے مفکرین نے اس پر تحقیق کر کے ایک ایسی سواری بنائی جو پانی کے اوپر تیرتی بھی ہے اور پانی کو پھیلاتے ہوئے راستہ بناتے ہوئے آگے بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ جب ان تمام نعمتوں کا ذکر ہوتا ہے تو بےاختیار اللہ کی قدرت، رحمت، حکمت اور وحدانیت پر پکا یقین ہوجاتا ہے۔ اور بےاختیار اسکا شکر بھی زبان سے ادا ہونے لگتا ہے۔ اور پھر بندہ سوچتا ہے کہ جو اتنی قدرت والا ہے تو اس نے تمام لوگوں کو خود ہی سیدھا راستہ کیوں نہ دکھا دیا تو یہاں پھر وہی بات آتی ہے کہ انسان فرشتوں، حیوانوں، نباتات اور جمادات سے افضل ہے اس کو عمل کرنے کے لیے ارادہ، علم اور عقل دی گئی ہے۔ جبکہ باقی تمام مخلوقات ارادہ، علم اور عقل کو استعمال کیے بغیر فقط اللہ کے حکم سے چلتی چلی جاتی ہیں اور مجال نہیں کہ اس میں ذرہ برابر بھی فرق آجائے۔ انسان ہونے پر بھی شکر ادا کرنا چاہیے کہ یہ تمام تخلیقات انسان کے لیے ہی کی گئیں ہیں۔
Ayahs 16:15–19

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اس نے زمین پر پہاڑ بنا کر رکھ دیے کہ تم کو لے کر کہیں جھک نہ جائے اور نہریں بھی بنائیں اور راستے بنا دیے تاکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ تک آسانی سے جا سکو۔

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور (راستوں میں) نشانات بنا دیے اور لوگ ستاروں سے بھی رستے معلوم کرتے ہیں۔

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

تو جو اتنی مخلوقات پیدا کرے بھلا وہ اس کے برابر ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکے تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو گن نہ سکو۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو سب سے اللہ واقف ہے۔

پہاڑ، نہریں اور ستاروں کے وجود کے مقاصد تشریح : پہاڑوں کے بارے میں پہلے بھی لکھا جا چکا ہے مزید اللہ تعالیٰ جل شانہٗ ہمیں یہ اطلاع دیتا ہے کہ یہ اونچے اونچے وسیع پہاڑوں کے سلسلے زمین کی مضبوطی اور حفاظت کا بہت بڑا ذریعہ ہیں کیونکہ یہ جتنے اوپر نظر آتے ہیں اتنے ہی زمین کے اندر گاڑے ہوئے ہیں۔ اور یوں پہاڑوں کے پتھریلے سخت اور وزنی اجزاء سمندر کی زبردست ٹکریں زمین کو ضائع ہونے سے بچاتی ہیں۔ دوسرا زمین کا توازن برقرار رہتا ہے۔ تیسرا پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف جمتی رہتی ہے جو موسم گرما میں پگھل کر دریائوں کی صورت میں زمینوں کو سیراب کرنے کے کام آتی ہے۔ چوتھا پہاڑوں کی وجہ سے مسلسل زلزلوں سے بچائو ہوتا ہے۔ پھر راستوں کا ذکر ہے یہ ان دروں کی طرف اشارہ ہے جو قدرتی طور پر پہاڑوں کے بیچ میں بنائے گئے ہیں جو آمدورفت میں بہت بڑی سہولت کا موجب ہوتے ہیں اور پھر ان راستوں سے انسان کئی جگہوں کی نشان دہی کرسکتا ہے راستے کا تعین کرنا آسان ہوجاتا ہے اور اسی طرح ستاروں کو بھی کئی دوسرے فوائد کے ساتھ ایک فائدہ راستہ تلاش کرنے کا بہت بڑا ذریعہ بنا دیا ہے۔ انیسویں صدی کے وسط تک بحری، بری اور فضائی راستے ستاروں سے ہی تلاش کیے جاتے تھے مگر اب اس کام کے لیے کئی دوسرے ذریعے انسان نے دریافت کرلیے ہیں۔ بہرحال اللہ کی نعمتیں بےشمار، لا تعداد، لاجواب اور انتہائی کارآمد ہیں۔ ان کا شمار کرنا انسان کے بس کی بات نہیں اور ان جیسی تخلیقات کسی بھی عالم، فاضل، حکیم و دانا سائنس دان کے بس میں نہیں، ہاں ! البتہ اب اللہ کی تخلیقات کی نقل سے کچھ نہ کچھ ہلکا پھلکا کام ہونے لگا ہے جو کہ محض نقل تک محدود ہے۔ اتنا کچھ دیکھنے، جاننے اور استعمال کرنے کے باوجود بھی بیشمار لوگ اللہ کو واحد ماننے سے انکار کرتے ہیں اور عجیب و غریب کائنات کی مختلف تخلیقات کی پوجا کرتے ہیں جو کہ خود اللہ کی محتاج ہیں۔ کمال کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو بھی اللہ ہر نعمت عطا کرتا ہے۔ اس سے اللہ کے غفور رحیم ہونے کا بہت بڑا ثبوت ملتا ہے۔ ایسے مشرک اور منافق لوگوں کو اللہ مطلع کرتا ہے کہ ظاہر باطن، عمل اور نیتیں سب کچھ اللہ کے علم میں ہیں۔ اور وہ اسی علم کے ذریعے ہر شخص کو اجر وثواب بڑے ہی انصاف سے دے گا۔
Ayahs 16:20–26

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کوئی چیز بھی تو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

وہ مردے ہیں زندہ تو نہیں، ان کو یہ بھی تو معلوم نہیں کہ اٹھائے کب جائیں گے۔

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا معبود تو اکیلا ہے تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں۔

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں اللہ اس کو ضرور جانتا ہے۔ وہ اللہ سرکشوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان کفار سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا اتارا ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ ” وہ تو پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

( اے پیغمبر ﷺ ! ) ان کو بکنے دو یہ قیامت کے دن اپنے اعمال کے پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے، سن لو کہ جو بوجھ اٹھا رہے ہیں برے ہیں۔

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

ان سے پہلے لوگوں نے بھی ایسی ہی مکاریاں کی تھیں تو اللہ کا حکم ان کی عمارتوں کے ستونوں پر آپہنچا اور چھت ان پر اوپر سے آگری اور ایسی طرف سے ان پر عذاب آ واقع ہوا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا۔

غیر اللہ کی حقیقت اور ان کو پوجنے والوں کا انجام تشریح : پچھلی آیات میں اللہ نے اپنی نعمتوں، برکتوں اور بہترین تخلیق کا تذکرہ کیا ہے۔ اس قدر واضح ثبوت اور نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی کفار کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور وہ جوں کے توں کفر و شرک پر ہی قائم رہتے ہیں۔ بلکہ دوسروں کو بھی گمراہی کا سبق دیتے ہیں اور یہ ان کے لیے دہرے عذاب کا باعث بنے گا۔ کیونکہ ان کا گمراہی کا دیا ہوا سبق جہاں تک دوسرے لوگوں تک پہنچے گا اور پھر اس سے آگے جتنا یہ سبق پھیلتا چلا جائے گا تو ان تمام لوگوں کی گمراہی کا عذاب ان شروع میں سبق دینے والوں کے لیے ہی ہوگا کیونکہ گمراہی کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی۔ یہاں یہ بات واضح ہے کہ مِنْ دُوْنِ اللٰہِ سے مراد صرف بےجان (سورج، چاند، ستارے یا بت) نہیں کیونکہ ان کے لیے تو مرنے کے بعد اٹھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ فرشتے کیونکہ وہ مرتے نہیں، یہاں اصل میں مِنْ دُوْنِ اللٰہِ میں اصحاب قبور ہی آتے ہیں جن میں انبیاء، اولیائ، شہداء اور نیک لوگ آتے ہیں کہ جنہیں انکی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک بنایا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا، تو یہ الٰہ اور مشکل کشا کیسے بن گئے۔ بزرگوں کی عزت و احترام میں حدود کا خیال رکھنا بےحد ضروری ہے کہ کہیں شرک کا احتمال نہ ہوجائے، ان بزرگوں اور اولیائے کرام کو ہز گز ایسے القابات نہ دیے جائیں جو اسمائے حسنیٰ سے ملتے جلتے ہوں، یا اللہ کے اوصاف یا صفات کے ساتھ مشابہت رکھتے ہوں۔ آخر میں اللہ جل شانہٗ فرماتے ہیں کہ ان سے پہلے جو گمراہ لوگ گزر چکے ہیں ان کا عبرت ناک انجام ان سب لوگوں کے سامنے ہے بجائے ان سے عبرت حاصل کرنے کے الٹا کہتے ہیں کہ قرآن کیا ہے ؟ کچھ بھی نہیں بس پچھلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہی اس میں بیان کی گئی ہیں۔ ان ہی لوگوں کی طرح وہ لوگ بھی کفر و شرک، گمراہی، اور فخر و غرور میں بدمست ہو کر غافلوں کی سی زندگی گزار رہے تھے کہ اچانک اللہ کے غضب کا نشانہ بن گئے ان کی تباہی و بربادی عقل و شعور رکھنے والوں کے لیے بڑی عبرت کا ذریعہ ہیں۔
Ayahs 16:27–29

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر وہ ان کو قیامت کے دن بھی ذلیل کرے گا اور کہے گا میرے وہ شریک کہاں ہیں ؟ جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے تھے جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے آج کافروں کی رسوائی اور برائی ہے۔

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

ان کا حال یہ ہے کہ فرشتے جب ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں اور یہ اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے ہوتے ہیں تب وہ اطاعت ظاہر کرتے ہوئے کہیں گے ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں ! جو کچھ تم کیا کرتے تھے اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

سو دوزخ کے دروازوں سے داخل ہوجاؤ، ہمیشہ اس میں رہو گے، اب تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔

قیامت کے دن مشرکین اور کفار کی رسوائی اور ذلت تشریح : پچھلی آیات میں دنیا میں دیے گئے عذاب کا ذکر ہے اب ان آیات میں کفار کی وہ حالت بیان کی گئی ہے جو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب کتاب کے وقت ہوگی۔ تب وہ سوحیلے بہانے بنائیں گے اور عذاب الٰہی سے بچنے کی کئی تدبیریں کریں گے مگر سب بےکار ہوگا۔ کیونکہ اللہ سب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے رہے لہٰذا ان کے برے اعمال اور شرک و کفر کی وجہ سے ان کو حکم دیا جائے گا کہ دوزخ کے دروازوں سے جہنم میں داخل ہوجاؤ اور ہمیشہ اسی میں رہو۔ ان کا کوئی شریک وہاں کام نہیں کرے گا۔ آخرت کا لفظ 115 دفعہ اور دنیا کا لفظ بھی قرآن میں 115 دفعہ آیا ہے۔ اور قیامت تو ایک ایسی حقیقت ہے جو موجودہ سائنس دانوں پر بھی دلائل سے واضح ہوچکی ہے۔ قرآن میں تو اس کی وضاحت بیشمار آیات میں تفصیل سے کردی گئی ہے۔ عام الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ بڑی اور آخری قیامت موجودہ کائنات کا مکمل خاتمہ ہوگا۔ کیونکہ قیامت اچانک آئے گی اور پوری کائنات ایک دھماکے سے بھسم ہوجائے گی۔ کچھ نہ بچے گا سوائے اللہ کی ذات کے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” وہ دن ہوگا جس دن پھٹ جائیں گے آسمان جس طرح پھٹ جانے کا حق ہوتا ہے۔ اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ کر تیرنے لگیں گے۔ ( سورة طور آیات : 9 تا 10 ) یہ انتہائی خوفناک وقت ہوگا اور بالکل اچانک ہوگا۔ اس واقعہ کے بارے میں سائنسی نظریات ملاحظہ ہوں ” پال ڈیویز کا کہنا ہے کہ کائنات کا سکڑنا، یعنی انہیں اولین حالات میں آسمان کہیں بھٹی میں تپتے ہوئے اور پگلتے ہوئے تانبے کی طرح نظر آئیں گے اور کہیں تازہ خون اور چربی کی کھال کا منظر پیش کریں گے، مندرجہ ذیل آیات دی جا رہی ہیں تاکہ ہم قرآنی حکمت کی نگاہ سے اپنے سائنسی تصورات کو صحیح طور پر پرکھ سکیں۔ اس سلسلے میں ارشاد ربانی ہے : ” جس دن کہ آسمان پگلے ہوئے بھٹی سے نکلنے والے تانبے کی طرح معلوم ہوگا۔ ( سورة معارج آیت : 8 از قیامت اور حیات بعد الموت مصنف مشہور سائنسدان صوفی منش سلطان بشیر محمود) آخر میں دوزخ کے بارے میں فرمایا ہے۔ کہ وہ بڑی ہولناک جگہ ہے۔ اس کا ذکر سورة الانفال کی آیات 50 تا 52 میں ہوچکا ہے۔ وہ ایسی جگہ ہے جہاں ہر طرح کی اذیت کے سامان ہوں گے۔ جسمانی اذیت، ذہنی اذیت اور روحانی اذیت دی جائے گی۔ اور اس کے دروازوں کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ اے غفور ورحیم، رحمن ورحیم اللہ ! ہم سب کو اس عذاب سے اپنی پناہ میں رکھنا۔ آمین۔
Ayahs 16:30–32

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور جب پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ بہترین کلام جو لوگ نیکوکار ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو بہت ہی اچھا ہے اور پرہیزگاروں کا گھر بہت خوب ہے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

وہ ہمیشہ رہنے والے بہشت ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہاں جو چاہیں گے ان کو ملے گا۔ اللہ پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتا ہے۔

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

ان کی حالت یہ ہے کہ جب فرشتے ان کی جانیں نکالنے لگتے ہیں اور یہ ( کفر وشرک سے) پاک ہوتے ہیں تو سلام علیکم کہتے ہیں اور کہتے ہیں جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں بہشت میں داخل ہوجاؤ۔

نیک لوگوں کے لیے خوش خبری تشریح : اللہ تعالیٰ کا یہ خاص طریقہ ہے کہ جہاں وہ دوزخ کا ذکر کرتے ہیں تو ساتھ ہی جنت کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔ یہاں ان آیات میں جنت کا ذکر ہے۔ جنت کی دو خاص صفتیں بتائی گئی ہیں۔ ایک تو وہاں کے عیش و آرام ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ دوسرا ان سے انسان کبھی اکتائے گا نہیں۔ جیسا کہ دنیا میں دکھ اور سکھ ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ وہاں ایسا نہ ہوگا حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جو شخص جنت میں داخل ہوجائے گا وہ (ہمیشہ) عیش میں رہے گا، اسے کوئی رنج و تکلیف نہیں پہنچے گی۔ نہ اس کے کپڑے پرانے ہوں گے اور نہ اس کا ثبات فنا ہوگا۔ “ (صحیح مسلم) ایک بہت بڑا راز اللہ تعالیٰ ان آیات میں یہ بتا رہے ہیں۔ جس کی وضاحت رسول اللہ ﷺ یوں کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ” حشر نشر تک قبر ہمارے سفر کی پہلی منزل ہے۔ اگر یہ مرحلہ آسانی سے گزر گیا تو اگلے مرحلے بھی آسان ہوں گے لیکن اگر یہاں خرابی ہوئی تو پھر حشر و نشر کے باقی واقعات اس سے بھی بدتر ہوسکتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف) موت اور موت کے بعد کے حالات کچھ یوں پتہ دیتے ہیں۔ (1) موت کا مطلب ہے ہمارے نگہبان فرشتے روح کو مادی جسم سے نکال لیتے ہیں۔ (2) موت کی تکلیف کافر اور مومن دونوں کو ہوتی ہے۔ مومن کی روح یوں نکلتی ہے جیسے مشکیزے سے پانی اور کافر کی جیسے کانٹے دار سلاخ سے ململ کا کپڑا کھینچ لیا جائے۔ (3) موت کی جسمانی تکلیف موت کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہے اور روح کی تکلیف یا آرام اعمال کے مطابق فوراً شروع ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ اس سورت کی آیت 32 میں کہا گیا ہے۔ (4) موت کے بعد حشر تک انسان کی روح عالم برزخ میں رہتی ہے۔ یہاں نیک لوگ خوشحال رہیں گے جبکہ برے لوگ عذاب میں رہیں گے۔ اور درمیانہ درجہ کے لوگ نیند کے عالم میں رہیں گے اور اپنے اعمال کے مطابق برے پریشان کن خواب دیکھیں گے جب کہ اچھے لوگ خوشگوار خواب دیکھیں گے۔ اور یوں اعمال کا بدلہ ہمیشہ پاتے رہیں گے حشر نشر کے زمانے کے آنے تک جس کی کوئی اطلاع مدت کے بارے میں نہیں دی گئی۔ یہ سب کچھ بالکل سچ ہے کیونکہ اس کی اطلاع قرآن پاک میں دی گئی ہے، لہٰذا ہر وقت اپنے اعمال پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ دنیا و آخرت میں آرام و سکون اور راحتیں حاصل کرسکیں۔ دنیا میں بھی عزت عطا فرمائے اور آخرت میں انعام۔
Ayahs 16:33–35

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

کیا یہ کافر اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس جان نکالنے آئیں یا تمہارے رب کے عذاب کا حکم آپہنچے اسی طرح ان لوگوں نے کیا تھا جو ان سے پہلے تھے اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

تو ان کو ان کے اعمال کے برے بدلے ملے اور جس چیز کے ساتھ وہ ٹھٹھے کیا کرتے تھے اس نے ان کو ہر طرف سے گھیر لیا۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور مشرک کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم ہی اس کے سوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی پوجتے اور نہ اس کے فرمان کے بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ ( اے پیغمبر ! ﷺ اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے کیا تھا، تو پیغمبروں کے ذمے اللہ کے احکام کو کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔

کفار کے حیلے اور بہانے تشریح : ان آیات میں بھی پہلے بیان کیے گئے مضمون کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ کفار اکثر یہی کہتے ہیں کہ اللہ تو اتنی زیادہ قدرت رکھتا ہے ہمیں بھی گمراہ نہ ہونے دیتا تو الہ العلمین اس کا جواب یہی دیتے ہیں کہ بندوں کی ہدایت کے لیے رسول بھیجے گئے جس نے ان کی بات سنی اور غور کیا، اور پھر عمل کرتے ہوئے سیدھی راہ اختیار کی اس نے نجات پائی، مگر جس نے ہٹ دھرمی سے کام لے کر اپنی عقل و ارادہ کو کام میں نہ لا کر گمراہی کی راہ اختیار کی تو وہ اس کی سزا ضرور پائے گا۔ اس میں نہ تو اللہ پر الزام آتا ہے اور نہ ہی رسول پر الزام آتا ہے۔ اللہ نے ہدایت کے لیے رسول بھیجا اور رسول نے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے لوگوں کو ہدایت کی طرف بار بار بلایا۔ اپنے رسول ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے اللہ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ کا کام تھا ہدایت کا راستہ واضح کردینا بس آگے ماننا یا نہ ماننا یہ ان لوگوں کی صوابدید پر منحصر ہے، مگر یہ کفار سمجھ نہیں رہے اور یہ اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں کہ فرشتہ آکر ان کی جان نکال لے یا پھر عذاب آجائے اور یہ ختم ہوجائیں یہ دونوں باتیں ان سے عمل کرنے کی مہلت ختم کردیں گی کیونکہ عمل تو صرف اس دنیا کی اس زندگی میں ہی ہوسکتا ہے۔ جو مرگیا تو پھر بس اس کو تو کفر و شرک کی سزا ہی ملے گی۔ یہ نئی بات نہیں ان کے آباواجداد بھی یہی کام کرتے آئے ہیں۔ آپ ان کی فکر نہ کریں بس اپنا کام کرتے جائیں۔
Ayahs 16:36–40

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ اللہ ہی کی عبادت کرو۔ اور بتوں کی پوجا سے بچو، اور ان میں بعض ایسے ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی تو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

اگر آپ ان کفار کی ہدایت کی خواہش کریں تو جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ اور ایسے لوگوں کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوتا۔

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور یہ اللہ کی سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجائے گا اسے اللہ قبر سے نہیں اٹھائے گا۔ ” ہرگز نہیں “ یہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور اسے وہ ضرور پورا کرے گا۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کر دے اور اس لیے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہماری بات یہی ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔

ہدایت اور آخرت سے انکار تشریح : پیغمبر کا آنا اور کفار و مشرکین کا عذاب سے تباہ و برباد ہونا یہ سب بڑی تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔ اسی طرح حیات بعد موت کا بھی بیان ہوچکا ہے یہاں پھر وضاحت کی جا رہی ہے کیونکہ کفار اس بات پر قسمیں کھا رہے ہیں کہ ہم دوبارہ زندہ نہ ہوں گے جبکہ قرآن میں اس بات کو بار بار دہرایا جا رہا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اور قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں، اس وقت وہ تمام جو قبروں میں ہیں پھر سے زندہ کیے جائیں گے۔ ( سورة حج آیات 5 تا 7) ان آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یقینا انسانی جسم کے تمام اجزا مناسب طریقہ سے ملا کر انسان کو دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔ علم الابدان کے ماہر بتاتے ہیں کہ انسان کا جسم تقریباً 26 پدم خلیات (Cells) سے مل کر بنتا ہے۔ یہ سلز ٹوٹتے ختم ہوتے اور نئے وجود میں آتے رہتے ہیں ہر دس سال میں یہ تبدیلی ہوتی رہتی ہے مگر اندر کا انسان یعنی روح ویسی کی ویسی ہی رہتی ہے اور انسان ہر عمر میں اپنے آپ کو وہی پچھلا انسان محسوس کرتا ہے کیونکہ جسمانی تبدیلی تو ہوتی ہے مگر روحانی تبدیلی، یعنی تمنائیں، خیالات اور عادات نہیں بدلتیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ انسانی زندگی، جسم سے علیحدہ کوئی چیز ہے کیونکہ مرجانے پر روح قائم رہتی ہے اور قیامت کے دن اس کو حکم دیا جائے گا کہ عالم برزخ سے نکل کر اپنے مادی جسم کے ساتھ مل جائے اور دوبارہ اصل انسان کی شکل میں اللہ کے سامنے پیش ہوجائے تاکہ اس دنیا میں کیے گئے اعمال کا بدلہ پا سکے اور جان جائے کہ اللہ کا فرمان سچا اور پکا ہوتا ہے۔ اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں اس کی قدرت تو اتنی عجیب و غریب مگر مستحکم ہے کہ اس نے کن (ہو جا) کہا اور یہ اتنی بڑی کائنات وجود میں آگئی۔ پھر انسان کا ماں کے پیٹ میں وجود اسی ، ، کن فیکون، ، کا کمال ہے۔ غرض ایک ذرہ بھی اللہ کے حکم سے باہر نہیں۔ اور وہ ہر چیز پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے اور وہی قادر مطلق ہے۔