16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 16:80–83

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے گھروں کو تمہارے لیے رہنے کی جگہ بنایا اور اسی نے جانوروں کی کھالوں سے تمہارے لیے گھر (خیمے) بنائے جن کو تم ہلکا پھلکا جان کر سفر میں اور گھر میں کام میں لاتے ہو اور ان کی اون، روئوں اور بالوں سے کئی اسباب اورچیزیں بناتے ہو جو مدت تک کام دیتی ہیں۔

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے تمہارے آرام کے لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے، پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچاتے ہیں اور ایسے کرتے بھی جو تم کو جنگ (میں اسلحہ کے نقصان) سے بچائیں، اسی طرح اللہ اپنے احسان تم پر پورے کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ پھرجائیں تو (اے پیغمبر ﷺ ! ) آپ کا کام تو صرف وضاحت سے پہنچا دینا ہے۔

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کا احسان پہچانتے ہیں مگر پھر بھی انکار کرتے ہیں اور یہ اکثر نا شکرے ہیں۔

اللہ کے انعامات اور کفار کی ہٹ دھرمی تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی طرف سے دی گئی کچھ اور نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ تمام نعمتیں مستقل جاری وساری رہنے والی ہیں اور یہ سب انسان کو ذہنی اور جسمانی سکون حاصل کرنے کے لیے دی گئی ہیں۔ ان میں سب سے پہلے گھر کا ذکر کیا گیا ہے کہ گھر انسان کے سکون کی بہترین جگہ ہے۔ گھر اوپر سے بنا کر اللہ نے نہیں دیا بلکہ گھر بنانے کی تمام چیزیں مہیا کردی گئیں اور ساتھ میں عقل و فہم اور علم و ادراک بھی دے دیا پہلے خاندان کے رہن سہن کو بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے اور حلال حرام کا بھی ذکر ہوچکا ہے اب جانوروں کے وہ فائدے بیان کیے جا رہے ہیں جو ان کی کھال اور اون سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ یہ تمام بنیادی اصول بتائے گئے ہیں جن کو ترقی دے کر مختلف اور بہترین ایجادات کی جا چکی ہیں مثال کے طور پر اب خیمے کئی قسم کے بنتے ہیں لباس کا تو کوئی حساب ہی نہیں اسی طرح گرمی سردی اور جنگ کے اثرات سے بچنے کے لیے ایسے ایسے بہترین لباس اور ذریعے بن چکے ہیں کہ جو حیرت انگیز ہیں مگر ان تمام چیزوں کو بنانے کی عقل سمجھ اور اشیاء کس نے مہیا کیں ؟ تو سب جانتے ہیں خدائے بلندو برتر نے ہی یہ سب کچھ دیا ہے مگر عقل کے اندھے ایسے ہیں کہ جانتے بوجھتے بھی اللہ کی وحدانیت سے انکار کرتے ہیں۔ اور جب اس سے انکار کرتے ہیں تو بھلا اس کا شکر کیا ادا کریں گے۔ تو ایسے ناشکروں کے لیے اللہ فرماتا ہے۔ ملاحظہ ہو :
Ayahs 16:84–88

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور جس دن ہم ہر امت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ ان کے عذر قبول کیے جائیں گے۔

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب مشرک اپنے بنائے ہوئے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے پروردگار یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ تو وہ ان کو جواب دیں گے کہ تم جھوٹے ہو۔

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور اس دن اللہ کے سامنے جھک جائیں گے اور بھول جائیں گے جو جھوٹ وہ باندھا کرتے تھے۔

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا ہم ان کو عذاب پر عذاب دیں گے اس لیے کہ وہ فساد کیا کرتے تھے۔

قیامت کے دن مشرک اور شریکوں کا حال تشریح : یہاں قیامت اور مشرکین کا انجام بڑی وضاحت سے کردیا گیا ہے۔ کافر، مشرک اور فسادی اللہ کے عذاب سے ہرگز بچ نہ سکیں گے، لہٰذا ہر وقت قیامت اور روز حساب کو ذہن میں رکھنا چاہیے معلوم یہی ہوتا ہے کہ ہم سب جو کچھ بھی کرتے ہیں زیادہ تر اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہمارے شکر اور خدمت گزاری سے بالکل بےنیاز ہے وہ تو ہر ہر صورت سے بندے کی بھلائی ہی چاہتا ہے کیونکہ اس نے بندے کو پیدا کر کے بےیارو مددگار نہیں چھوڑ دیا بلکہ کھانے، پینے، رہنے سہنے، غرض بہترین زندگی گزارنے کے لیے اس قدر نعمتیں اور برکتیں عطا فرمائیں کہ جو شمار سے باہر ہیں پھر ان کو استعمال کے طریقے بھی بالوضاحت بیان کردیے۔ اس لیے آپ سے گزشتہ تمام نبیوں کی گواہی لی جائے گی اور تمام انبیاء پر رسول کریم ﷺ کو گواہ مقرر کیا جائے گا۔ آخر میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔ کہ اس دن پھر ہم بتائیں گے ” اے رسول ہم نے آپ کی طرف ایک عظیم الشان کتاب اتاری جس کا نام قرآن ہے۔ اور جس میں قیامت کے دن تک کے لیے تمام چیزوں کو خوب کھول کر بیان کردیا گیا ہے جو انسان کے کام آنے والی ہیں۔ اور پھر جو اس کتاب پر ایمان لائیں گے ان کے لیے خوشخبری ہے۔ “ خوشخبری کیا ہے ؟ جنت کی خوشخبری ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو قرآن کے احکامات پر پابندی سے عمل کریں گے۔
Ayahs 16:89–91

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور اس دن (کو یاد کرو) جب ہم ہر امت میں سے خود انہی پر گواہ کھڑا کریں گے اور اے پیغمبر ! آپ کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے اور مسلمانوں ( فرمانبرداروں) کے لیے ہدایت، رحمت اور بشارت ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

اللہ تم کو حکم دیتا ہے انصاف، احسان اور رشتہ داروں کو (خرچ میں مدد) دینے کا، بےحیائی، نامعقول اور سرکشی سے منع کرتا ہے اور تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور جب اللہ سے پکا عہد کرو تو اس کو پوررا کرو اور جب پکی قسمیں کھائو تو ان کو مت توڑو کہ تم اللہ کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو جانتا ہے۔

آنحضرت ﷺ کی تمام انبیاء پر گواہی شریح : اس آیت میں ایک بہت بڑا راز بتایا گیا ہے، یعنی میدان حشر کا حال۔ اس خبر کو بڑے خوبصورت انداز میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے۔ جیسا کہ بتایا گیا ہے ہر امت میں سے ان کا پیغمبر رہبر یا رسول جو بھی اس کی طرف ہدایت کے لیے بھیجا جا چکا ہے اللہ کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی امت کی گواہی دے گا، پھر سب سے آخر میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنی امت اور ان تمام رسولوں کی گواہی دینے کے لیے اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر تمام انبیاء و رسل کی گواہی دیں گے کیونکہ وہ آخری نبی اور آخری کتاب قرآن حکیم کے لانے والے ہیں اور قرآن پاک میں گذشتہ انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات بتائے گئے ہیں۔
Ayah 16:92

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے سوت کاتا، پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ اللہ تمہیں ان (قسموں اور معاہدوں کے ذریعے) آزماتا ہے اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا۔

اعمال حسنہ اور برے اعمال کی پہچان تشریح : ان تمام احکامات کا ذکر بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ مختصراً عرض ہے کہ یہاں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے یعنی عدل، احسان اور قرابت داروں پر خرچ کرنا اور تین باتوں سے منع کیا گیا ہے یعنی فحش کلامی، ہر برا کام اور ظلم وستم۔ ان میں جن اعمال کو بجا لانے اور جن سے روکا گیا ہے یہ احکامات اصل میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے بہترین نسخہ ہیں۔ جو دنیا و آخرت کی بھلائیاں کامیابیاں اور خوشیاں حاصل کرنے کی پکی سند ہیں۔ پھر ایفائے عہد، یعنی وعدے کو پورا کرنا ایک مسلمان کی شان ہے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے اپنے کیے گئے وعدہ کو نبھانا فرض ہے۔ پھر قسموں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ قسم اول تو کھانی ہی نہیں چاہیے اگر کھا لیں تو توڑنی نہیں چاہیے۔ اس بارے میں تفصیلات گزر چکی ہیں بہرحال قسم کو توڑنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ کفارہ دینا لازم آتا ہے۔
Ayahs 16:93–98

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو ان کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بنائو کہ لوگوں کے قدم جم چکنے کے بعد لڑکھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو اللہ کے رستے سے روکا تم کو برائی کا مزہ چکھنا پڑے گا اور بہت بڑا عذاب ملے گا۔

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور اللہ کے عہد کو مت بیچو اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت مت لو (کیونکہ عہد پورا کرنے کا جو بدلہ) اللہ کے پاس مقرر ہے وہ اگر تم سمجھو تو تمہارے لیے بہتر ہے۔

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے پاس ہے ختم ہوجاتا ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جو شخص نیک اعمال کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو ہم اس کو دنیا میں پاک اور آرام کی زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) ان کے نیک اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے۔

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

پھر جب آپ قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔

اللہ کا عہد اور پاکیزہ زندگی تشریح : یہاں بھی اللہ کی قدرت کاملہ کا اظہار یوں کیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا یا سب کو ہی گمراہ کردیتا مگر اس نے تو انسان کو دونوں راستے دکھا کر ارادہ اور مرضی کا اختیار دے دیا جو چاہو اختیار کرلو اور پھر اعمال صالحہ میں عہد کا پورا کرنا، قسموں کو نہ توڑنا اور غلط کاموں کے لیے اپنے عہد کو یا قسموں کو توڑ دینا کہ تمہاری اس بدفعلی کو دیکھ کر، یعنی اخلاقی کمزوری کو دیکھ کر نو مسلم اسلام سے نفرت کرنے لگیں۔ اس کی کئی شکلیں ہیں۔ مثلاً کسی کو دھوکہ دینے کے لیے قسم کھا لینا، یا پھر ناجائز کام کرنا، مثلاً ابن عطیہ کے کلام سے اس کی تعریف یوں ہوتی ہے۔ جس کام کا کرنا اس کے ذمے واجب ہے اسکے چھوڑنے پر معاوضہ لینا یا جس کام کا چھوڑنا اسکے ذمے لازم ہے اس کے کرنے پر معاوضہ لینا رشوت ہے۔ (اور بد عہدی بھی ہے اللہ کیساتھ رسول کے ساتھ اور اپنے ساتھ) ۔ (تفسیر بحر محیط، ص 533 جلد 5) پھر تاکید کی گئی ہے کہ ہمیشہ یاد رکھو اس دنیا کے دکھ سکھ، دوستی دشمنی سب فنا ہوجانے والے ہیں صرف ان کے اجر وثواب باقی رہ جائیں گے جو سب حساب کتاب کے ساتھ اللہ کے پاس موجود رہیں گے اور پھر آخرت میں ہمیں مل جائیں گے۔ جیسا کہ آیت 97 میں صاف صاف اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے : ”(آخرت میں) ان کے نیک اعمال کا ہم بہت اچھا بدلہ دیں گے۔ “ (النحل آیت : 97)
Ayahs 16:99–100

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

اسے ان لوگوں پر غلبہ حاصل نہیں ہوتا جو ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

اس کا زور تو انہیں لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو اپنا سرپرست بناتے ہیں اور اس کے بہکانے سے شرک کرتے ہیں۔

آداب تلاوت، شیطان کا غلبہ کن پر ؟ تشریح : پچھلی آیات میں وعدہ پورا کرنے اور نیک اعمال کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ تو یہ سب کچھ بڑی تفصیل کے ساتھ ہمیں قرآن پاک میں بتایا گیا ہے اسی لیے رب العزت نے فرمایا ہے کہ شیطان تمہارا بڑا پرانا دشمن ہے وہ ہرگز پسند نہیں کرتا کہ انسان نیکی اختیار کرے اس لیے جب بھی تم لوگ قرآن پاک پڑھنے لگو تو پہلے شیطان رجیم کی شرارت سے اللہ کی پناہ ضرور مانگ لیا کرو کیونکہ شیطان کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی اسلحہ کی ضرورت نہیں بلکہ پکے ارادے اور اللہ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن لوگوں کو عبادت، ریاضت سے اتنی طاقت حاصل ہوجاتی ہے کہ شیطان کو مغلوب کرسکیں ان پر پھر شیطان کا زور نہیں چلتا۔ بدفطرت لوگ ہی اس کے قبضے میں آتے ہیں نیک بندوں سے تو وہ خود دور بھاگتا ہے۔ اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اول تو انسان قرآن پڑھے ہی نہ اور اگر پڑھنے بیٹھ ہی جائے تو بغیر سمجھے پڑھے کیونکہ جب سمجھے گا ہی نہیں تو عمل کیا کرے گا۔ اسی لیے اللہ نے حکم دیا ہے کہ : ” جب قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ “ (سورۃ النحل آیت 98 ) سبحان اللہ، اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے کس قدر پیار ہے۔ کہ جس طرح ایک ماں اپنے بچے کے ہر فعل پر نظر رکھتی ہے اور قدم قدم پر پوری کوشش سے اس کی راہنمائی کرتی ہے کہ کہیں ٹھوکر کھا کر گر نہ پڑے، کہیں بری صحبت میں نہ پڑجائے وغیرہ وغیرہ۔ اللہ تو ماں سے کئی گنا زیادہ اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے یہ ساری کائنات اور اس کی ہر چیز بندوں کی سہولت کے لیے پیدا کی گئی ہے پھر رسول اللہ ﷺ اور قرآن تو اس قدر بڑی نعمتیں ہیں کہ کوئی حساب نہیں تو کیا بندوں کا فرض نہیں کہ اپنی ہی بھلائی کے لیے اللہ کو پکاریں اس کے بتائے ہوئے راستوں پر خلوص نیت سے چلیں اور شیطان مردود کو کبھی اپنے نزدیک بھی نہ پھٹکنے دیں۔ ” برے خیالات نیک کاموں میں سستی، ، یہ سب کیا ہے ؟ صرف شیطان کا غلبہ ہوتا ہے۔ جو اس سے ہار گیا تو گویا شیطان کا ساتھی بن گیا اور جس نے اس پر غلبہ پا لیا اپنے پکے ارادے اور مضبوط سہارے، یعنی اللہ کی مدد سے تو گویا ایسا بندہ دنیا میں بھی کامیاب ہوا اور آخرت میں تو کامیابی کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ شیطان کیا ہے عام زبان میں ہم اس کو نفس امارہ کہتے ہیں۔ اس کی تفصیلات گزر چکی ہیں اس کا ذکر سورة یوسف کی آیت 53 میں ہوچکا ہے۔ یہ نفس پوری طرح خواہشات کا غلام ہوتا ہے اور اسی لیے انسان کے لیے بےسکونی کا باعث بنا رہتا ہے۔ اس کو قابو میں رکھنا کامیابی کی نشانی ہے۔ بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارا (ڈاکٹر علامہ محمد اقبال)
Ayahs 16:101–102

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور اللہ جسے نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو کافر کہتے ہیں کہ تم تو یونہی اپنے پاس سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

فرمادیں کہ اس کو روح القدس آپ کے رب کی طرف سے سچائی کے ساتھ لے کر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ قرآن مؤمنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لیے تو یہ ہدایت اور بشارت ہے۔

کفار کا اعتراض اور اللہ کا جواب تشریح : کفار تو ہر وقت اس کوشش میں رہتے تھے کہ کوئی بہانہ ملے تو قرآن اور نبی ﷺ کو جھٹلائیں ان پر الزامات لگائیں۔ اسی طرح جب بھی کبھی کوئی حکم کسی مصلحت کی وجہ سے پہلے سے ذرا مختلف ہوتا تو کفار کہنے لگتے کہ یہ کلام اللہ کا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اللہ تو حکیم وخبیر ہے اس کو احکامات بدل کردینے کی کیا ضرورت ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ ان کو بتا دیجیے کہ یہ کلام حضرت جبرائیل لے کر میرے پاس آتے ہیں اور یہ جو احکامات میں تھوڑی سے تبدیلی ہوتی ہے تو یہ بھی اللہ رب العزت کی مصلحت کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ لاعلمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مثلاً مکی اور مدنی زندگی کے حالات جیسے جیسے بدلتے گئے ویسے، ویسے مصلحتاً احکامات میں بھی تبدیلی آتی گئی۔ شروع میں شراب کو حرام قرار نہ دیا، پھر اس کو ناپسندیدگی میں شمار کیا گیا اور پھر یکدم اس کو حرام قرار دیا گیا۔ تو یہ انسان کی فطرت کے مطابق احکامات جاری کیے گئے۔ اسی طرح شروع میں تبلیغ اسلام کی کھلم کھلا اجازت نہ دی گئی بلکہ چھپ چھپا کر تبلیغ کی اجازت دی گئی۔ لڑائی سے منع کیا گیا۔ مگر جب حالات مضبوط ہوگئے اور مسلمان تھوڑی سی طاقت پکڑ گئے مدینہ میں ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست بن گئی تو ہجرت سے پہلے تو اعلانیہ تبلیغ کے لیے حکم ہوا اور پھر بعد میں جنگ کا بھی حکم ہوا۔ جبکہ مسلمان جنگ سے گھبرائے تو اللہ نے وعدہ کیا کہ فکر نہ کرو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور پھر فتح کی خوش خبری بھی دی گئی۔ تو یہ سب اللہ کی حکمتیں ہیں جن کو ہم تھوڑا تھوڑا سمجھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ زبردست جواب دے رہے ہیں کہ گھبرائو نہیں اور صاف صاف بتا دو کہ : ” اس (قرآن) کو روح القدس آپ کے رب کی طرف سے سچائی کے ساتھ لے کر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ قرآن مؤمنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لیے تو یہ ہدایت اور بشارت ہے۔ “ (سورۃ النحل آیت 102)
Ayahs 16:103–104

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس پیغمبر کو ایک شخص سکھا جاتا ہے مگر اس شخص کی زبان جس کی طرف یہ اشارہ کرتے ہیں غیر عربی ہے اور یہ صاف عربی زبان میں ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو اللہ ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

اللہ کی ہدایات تشریح : ان آیات میں اللہ کی طرف سے اس بات کا جواب دیا گیا ہے جو کفار نبی اکرم ﷺ کے لیے کہتے تھے۔ کفار نے کہنا شروع کیا کہ ان کو تو وہ غیر مسلم غلام سکھاتے ہیں۔ جو تورات انجیل پڑھتے تھے اور نبی اکرم ﷺ کے پاس اکثر و بیشتر آتے رہتے تھے پھر بعد میں وہ مسلمان ہوگئے تھے۔ تو ان غلاموں کے بارے میں رب العلمین فرماتے ہیں کہ وہ تو عربی زبان ٹوٹی پھوٹی جانتے ہیں وہ بھلا اس قدر فصیح وبلیغ اور جامع آیات کیسے بنا سکتے ہیں جب کہ قرآن کی آیات جیسی آیات عرب کے بڑے بڑے دانش ور اور علماء اور شعراء بھی نہیں بنا سکتے اور پھر اس میں تو اس قدر حکمت کی اور راز کی باتیں ہیں کہ کوئی ان کو جانتا تک نہیں مثلاً بچے کی پیدائش کو ہی لے لیں قرآن میں آج سے چودہ سو سال پہلے اس کو ہر مرحلہ وار تفصیل سے بیان کردیا ہوا ہے۔ جب کہ سائنس دان بہت بعد میں اس تمام مسئلہ کو سمجھ سکے۔ بہرحال یہ اعتراضات اور اس قسم کی بیشمار فضول باتیں کفار اپنے پاس سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اکثر کرتے رہتے ہیں۔ ایسے ہی ہٹ دھرم اور بیوقوف لوگوں کے لیے ہی تو رب ذوالجلال فرماتا ہے۔ ” یہ لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو اللہ ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (النحل :104)
Ayahs 16:105–114

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

جھوٹ افترا تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے وہی جھوٹے ہیں۔

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو کفر پر زبردستی مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو، بلکہ وہ جو دل سے اور دل کھول کر کفر کرے تو ایسوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا اور اس لیے کہ اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے۔

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ہجرت کی پھر جہاد کیا اور ثابت قدم رہے آپ کا رب ان کو بیشک ان آزمائشوں کے بعد بخشنے والا اور ان پر رحمت کرنے ولا ہے۔

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی کا نقصان نہیں کیا جائے گا۔

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے کہ ہر طرح سے امن چین کی بستی تھی، ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا، مگر ان لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان پر بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر ناشکری کا مزہ چکھا دیا۔

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور ان کے پاس انہی میں سے ایک پیغمبر آیا تو انہوں نے اسے جھٹلایا سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے۔

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

پس اللہ نے جو تم کو حلال اور پاکیزہ رزق دیا ہے اسے کھائو اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔ اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔

کفار کے کرتوت اور ان کا انجام تشریح : ان آیات میں پچھلی آیات کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر جو الزام لگایا گیا کہ یہ چند غلاموں سے پوچھ کر قرآن بنا لائے ہیں تو یہ ہر صورت بہتان ہے کیونکہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ تو ہمیشہ سے پاکباز اور سچے اور امین مشہور ہیں وہ ہرگز کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کی سچائی بیشمار طریقوں سے ثابت ہوچکی ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر ؓ کے سامنے ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ کو شہید کیا گیا (چونکہ عمار اور ان کے والدین ابو جہل کے غلام تھے) چناچہ عمار ؓ نے وہ کچھ کہہ دیا جو کفار آپ سے کہلوانا چاہتے تھے، پھر رسول کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور یہ سب کچھ بیان کیا کہ میں نے کفار کے پاس آپ ﷺ کو برا بھلا کہا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اپنے دل کی کیفیت بتاؤ ؟ سیدنا عمار ؓ کہنے لگے کہ میرا دل تو ایمان پر مطمئن ہے۔ آپ نے فرمایا : اگر پھر کبھی ایسی صورت پیش آئے تو رخصت سے فائدہ اٹھالینا، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (صحیح بخاری) جس شخص کو کفر پر مجبور کیا جائے اور وہ جان بچانے کے لیے زبان سے یا عمل سے کفر کا اقرار کرلے، جب کہ اس کا دل پوری طرح ایمان پر قائم ہو، تو وہ کافر نہیں ہوگا، نہ اس کی بیوی اس سے جدا ہوگی اور نہ اس پر دیگر احکام کفر لاگو ہوں گے۔ “ (از فتح القدیر) جیسا کہ حرام حلال میں چھوٹ دی گئی ہے اسی طرح اس میں بھی نرمی رکھی گئی ہے کہ جان بچانے کے لیے صرف ظاہری اور عارضی طور پر اس کی اجازت ہے۔ ورنہ تو حرام کھانے والا اور ایمان لانے کے بعد کفر کرنے والا اللہ کے عذاب سے ہرگز بچ نہ سکے گا۔ ایسے لوگوں کے لیے بڑا سخت عذاب ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ جو لوگ جان بوجھ کر کفر کی راہیں اختیار کرتے ہیں تو ان کے لیے وہی راہیں کھول دی جاتی ہیں جیسا کہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ کہ ایسے لوگ پھر اندھے گونگے اور بہرے کردیے جاتے ہیں کہ چلو جاؤ پھر کفر کی دلدل میں ڈوبتے جاؤ۔ کیونکہ اللہ نے انسان کو حکمت و دانائی دی ہے۔ جیسا کہ ابن مسکو یہ کہتا ہے۔ ” حکمت و دانائی۔ تدبر اور تفکر کا نام ہے : مگر خلوص نیت اور بوجہ اللہ شرط ہے، تمام مسائل پر جو زندگی سے متعلق ہیں احتیاط سے غور کرنا۔ اللہ کی خوشنودی کو ہر حال میں پیش نظر رکھنا۔ اللہ کی مصلحتوں سے غافل نہ رہنا۔ نشیب و فراز کو سمجھنا، اور پورے عزم کے ساتھ ایک فیصلہ کرلینا۔ (از مسلمان سائنس دان اور ان کی خدمات مصنف ابراہیم عمادی ندوی) کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے مضبوط ارادے کے لوگ کامیاب لوگ ہوتے ہیں اسی لیے رب العزت بھی ان کے لیے نیک اور سیدھی راہیں آسان کردیتا ہے اور شیطان تو ویسے ہی ان سے گھبراتا ہے۔ اس کا دائو ان پر چلنا بہت مشکل کام ہے۔ پھر مکہ کے مسلمانوں کی مثال دے کر اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو بتاتے ہیں کہ جس طرح ان لوگوں نے کفار مکہ کی بےحدو حساب اذیتیں برداشت کیں، پھر اللہ کی خوشنودی اور اسلام کی محبت میں اپنے مال و دولت، جائیداد اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر حبشہ اور پھر بعد میں مدینہ کی طرف ہجرت کی، پھر جب جہاد کا حکم ہوا تو اللہ کا نام لے کر دشمن کے مقابلہ میں بےدھڑک چل نکلے تو ایسے لوگوں کی مدد بھلا الہ العلمین کیسے نہ کرتا۔ اللہ نے ان کو دنیا میں فتح، کامیابی عطا کی اور آخرت میں بےحساب انعامات کا وعدہ کیا ایسا وعدہ جو کبھی غلط نہیں ہوسکتا۔ یہ حالات صرف اسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ایسے حالات ہر زمانہ میں ہر صورت مسلمانوں کو پیش آتے رہتے ہیں۔ پھر جو ثابت قدم رہتے ہیں اپنا سب کچھ اللہ اور رسول کی محبت میں قربان کردیتے ہیں ان کو قیامت کے دن پورے انصاف کے ساتھ بہترین انعامات جنت الفردوس کی شکل میں ضرور دیے جائیں گے۔ وہ زندگی ہمیشہ کی زندگی ہوگی۔ کیا یہ فائدے کا سودا نہیں کہ یہاں کی عارضی زندگی کو اللہ کے لیے قربان کر کے آخرت کے ہمیشہ کے بہترین انعامات حاصل کیے جائیں۔ آخر میں پکے مسلمان کی ایک نشانی اور بتائی کہ وہ لوگ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں جو اللہ کی نعمتوں کا شکر زبان سے ادا کرتے رہتے ہیں اور اس کی دی گئی تمام نعمتوں کو انتہائی جائز اور مناسب طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ اگر نیت صاف ہو تو دنیا کا ہر کام ہر قدم اور ہر سانس عبادت شمار ہوتا ہے۔ کس قدر رحیم و کریم اور قدر دان ہے ہمارا رب کہ صرف اس کی خوشنودی کو سامنے رکھ کر روزی کمائیں، بچے پیدا کریں، ان کی پرورش کریں، گھر کی صفائی کریں، برتن دھوئیں یا میاں کو خوش رکھیں سب کچھ عبادت میں شمار ہوجائے گا۔ صبح و شام اسی کی ہی تسبیح میں شمار ہوجائے گا۔ سبحان اللہ، اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور مہربانیاں تمام لوگوں پر برابر ہوتی رہتی ہیں لیکن جیسا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ناشکرے، بدنیت اور خراب لوگوں کو ضرور عذاب دے کر تباہ و برباد کردیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی ان کو ہمیشہ رہنے والا درد ناک عذاب ضرور دیا جائے گا۔ یہعین حقیقت ہے، کیونکہ یہ بات قرآن پاک میں اللہ قادر مطلق بادشاہوں کے بادشاہ نے بار بار کہی ہے۔ جو ہرگز جھوٹ نہیں ہوسکتی۔ بیشک اللہ غفور ورحیم ہے۔ اگر غلطی سے گناہ ہوجائے تو سچی توبہ اس گناہ سے بخشش دلا سکتی ہے۔ مگر توبہ کی شرائط ( جو کئی بار بیان ہو چکیں) پوری ہونی چاہئیں۔ ورنہ توبہ بےکار ہے۔ بلکہ جب اللہ کی پکڑ ہوتی ہے تو بڑی سخت پکڑ ہوتی ہے کیونکہ وہ صرف غفور الرحیم ہی نہیں بلکہ عزیز ذوانتقام بھی ہے۔ ایک سچی اور پکی حقیقت اللہ تعالیٰ نے یہ بھی انسان کو بتائی ہے کہ خوراک کے اثرات انسان کی صحت پر تو پڑتے ہی ہیں انسان کے کردار پر حلال اور حرام خوراک کا اثر ضرور پڑتا ہے۔ اس کی تفصیلات بیان کی جا چکی ہیں۔ بہرحال سور کا گوشت اور شراب دونوں حرام ہیں جب کہ کفار و مشرکین یہ دونوں چیزیں کھاتے اور پیتے ہیں تو ان کی اخلاقی گراوٹ، یعنی بےحیائی، بدکرداری اور خاندانی انتشار صاف دکھائی دیتے ہیں۔ جب کہ مسلم معاشرہ فی الحال ان تمام اخلاقی برائیوں سے پاک صاف ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں اور جوانوں کو کفار کی رسومات، تمدن، لباس اور معاشرت سے ہر صورت بچا کر رکھیں کیونکہ اب ہر صورت یہ فرض ہر مسلمان پر عائد ہوتا ہے کہ نیکی کا حکم دے اور بدی سے منع کرے۔ پوری دنیا اس وقت مخرب الاخلاق ماحول کی زد میں آچکی ہے اس کے خلاف بڑے زبردست جہاد کی ضرورت ہے۔ جب آنحضرت ﷺ اسلام کا نام لے کر کھڑے ہوئے تو پوری دنیا کے خلاف لڑنے کے لیے اس وقت ان کے پاس صرف ایک طاقت تھی ” قرآن پاک “۔ جو کہ اب بھی ہمارے پاس صحیح و سلامت موجود ہے۔ اللہ کرے ہم اسے پڑھیں، سمجھیں اس پر عمل کریں اور بچے بچے تک اس کا بہترین پیغام پہنچائیں۔ آمین۔ دعا ” اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! آپ ہی میرے کار ساز ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، مجھے پوری فرمانبرداری کی حالت میں دنیا سے اٹھائیے اور مجھے خاص نیک بندوں میں شامل کردیجیے۔ “ (سورۃ یوسف آیت 101 )
Ayahs 16:115–119

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

اس نے تم پر مردار اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جو چیز اللہ کے سوا اور کسی کے نام پر پکار (ذبح) کردی جائے وہ بھی حرام ہے، ہاں ! اگر کوئی مجبور ہوجائے مگر گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ ہی حد سے نکلنے والا ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور یونہی جھوٹ موٹ مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے اور یوں اللہ پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو ایسے لوگوں کا بھلا نہیں ہوگا۔

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

(جھوٹ کا) فائدہ تو تھوڑا ہے مگر اس کے بدلے درد ناک عذاب بہت زیادہ ہوگا۔

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور جو چیزیں ہم آپ سے پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں، اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا پھر اس کے بعد توبہ کی اور نیکوکار ہوگئے تو آپ کا رب ان کو توبہ کرنے اور نیکو کار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور ان پر رحمت کرنے والا ہے۔

حرام چیزیں اور اللہ کے احکامات تشریح : حرام حلال کو بڑی وضاحت سے سورة بقرہ، المائدہ اور سورة الانعام میں بیان کیا جا چکا ہے۔ خاص نکات دہرا دیے جاتے ہیں۔ (1) مجبوری میں معافی مل سکتی ہے۔ (2) اللہ کے بنائے ہوئے احکامات میں دخل اندازی کی سخت ممانعت ہے۔ (3) اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھنا بڑے سخت عذاب کا سبب بنے گا۔ (4) یہودیوں پر بہت سی چیزیں صرف اس لیے حرام کردی گئی تھیں کیونکہ انہوں نے اللہ کے احکامات کے بارے میں بڑے سوال کیے، لہٰذا اللہ کے احکامات کے بارے میں زیادہ سوال کرنا خود اپنے اوپر ظلم کرنے کے برابر ہے۔ (5) سچی توبہ پوری شرائط کے ساتھ قبول ہوسکتی ہے۔ کیونکہ بخش دینا اور رحم کرنا اللہ کی صفات میں شامل ہے۔