Ayahs 16:41–42مہاجرین کا اجروثواب
تشریح : ہجرت کے فضائل یہاں بیان کیے گئے ہیں۔ ہجرت کی تفصیلات سورة نساء کی آیت 97 میں بیان ہوچکی ہیں یہاں تو اللہ کے ان وعدوں کا ذکر ہے جو مہاجرین سے کیے گئے۔
پہلا یہ کہ مہاجرین کو دنیا و آخرت میں بہترین اجر ملے گا۔ جیسا کہ ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ سے مسلمان ہر قسم کی فتح و کامرانی اور عزت ووقار سے مالا مال ہوگئے۔
دوسرا یہ کہ دنیا و آخرت میں بھلائی کا وعدہ تمام مسلمان مہاجرین کے لیے ہے۔ پھر ہجرت کے خالص ہونے کی کچھ شرائط ہیں۔
پہلا : ہجرت کا مقصد خالصتاً اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو۔
دوسرا : مظلوم ہونا۔ تیسرا۔ تکالیف پر صبر کرنا۔ چوتھا اللہ پر مکمل بھروسا ہونا۔
اسی طرح ہجرت کی کچھ قسمیں ہیں :
(1) دارالکفر سے دارالسلام کی طرف جانا۔
(2) جسمانی اذیتوں سے بچنے کے لیے ہجرت کرنا۔
(3) آب و ہوا کی خرابی اور امراض سے بچنے کے لیے ہجرت کرنا۔
(4) مال، جان اور عزت کی حفاظت کے لیے ہجرت کرنا۔
آخر میں صبرو استقامت اور توکل علی اللہ کی بہت بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ قرآن پاک میں بیشمار جگہ پر آیا ہے کہ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس لیے مصیبت اور پریشانی میں صبر و سکون اور شکر سے کام لینا چاہیے۔ تمام تکلیفوں کا حل اسی میں ہے۔ اور آخرت میں تو صبر کرنے والے بڑا درجہ حاصل کریں گے۔
Ayahs 16:43–44رسول آئے لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے
تشریح : یہاں اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ جو کفار ہمیشہ کہتے آئے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کو ہی کیوں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا فرشتے کو کیوں نہ بھیجا گیا ؟ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” پیغمبر، رسول اور نبی ہمیشہ انسان ہی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ پچھلے لوگوں ( اہل کتاب) کسی سے بھی پوچھ لو یہی جواب ملے گا کہ ہمیشہ انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی رسول بنائے گئے، اس میں مصلحت یہی ہے کہ انسان ہی انسان کو علم اور عمل کے ذریعے اللہ کا وہ پیغام اچھی طرح سمجھا سکتا ہے کوئی دوسری مخلوق یہ کام نہیں کرسکتی۔
یہاں سنت رسول، سیرت مبارکہ، احادیث رسول اور شریعت کی اہمیت بھی واضح کردی گئی ہے۔ کیونکہ آپ کی پاکیزہ اور مبارک زندگی رشدو ہدایت کا بہترین نمونہ ہے جو قرآن کے اصول و قوانین کو اچھی طرح ہمارے اوپر واضح کردیتے ہیں۔ یہ ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا موجودہ انسان نے جہاں بیشمار ایجادات کی ہیں وہاں اپنا اصلی سکون جو اللہ کی قربت سے ملتا ہے بالکل ختم کرلیا ہے۔ سائنسی ترقی نے انسان کو مادی سہولتیں تو دی ہیں مگر روحانی پستی میں مبتلا کردیا ہے۔ ایسے نفسانفسی کے دور میں قرآن و حدیث کا مطالعہ بھی رکھا جائے تو یقینا ایک سائنس دان بہترین عالم دین اور پکا مسلمان ثابت ہوسکتا ہے۔ الحمدللہ کہ نبی پاک ﷺ کی لائی ہوئی آخری کتاب قرآن مجید اور ان کی شریعت سیرت النبی ﷺ آج بھی زندہ و قائم ہے اور آج کا بےچین بےسکون اور بھٹکا ہوا انسان اللہ کے قوانین سے رہبری حاصل کر کے دنیا و آخرت کا سکون حاصل کرسکتا ہے۔
Ayahs 16:45–47مکار لوگوں کے لیے مختلف عذابوں کی وعید
تشریح : اسی مضمون کی آیات پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کفار نبی کی مخالفت اور کفر و شرک میں اتنی زیادہ مصروفیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ گویا وہ اللہ کی پکڑ سے بالکل آزاد ہیں۔ حالانکہ اللہ ان کو فوراً عذاب صرف اس لیے نہیں دیتا کہ شاید وہ سمجھ جائیں اور ہدایت پائیں جبکہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر قسم کا عذاب دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے، مگر یہ تو اس کے رحیم وکریم ہونے کی نشانی ہے کہ وہ ہوشیار کرنے کے لیے ہلکی پھلکی سزا دیتا ہے پھر فراخی دیتا ہے، لیکن جب انسان ہر طرح سے غافل اور اپنے اعمال بد پر ڈٹ کر کفر و شرک کرتا چلا جائے تو پھر سوائے تباہی و بربادی کے عذاب کے اور کوئی چارہ کار ہی نہیں ہوتا اور یہ پوری طرح اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ چاہے تو سسکا سسکا کے مارے یک دم عذاب عظیم سے مار دے۔ لیکن اللہ تو انسان کو محبت سے سمجھاتا رہتا ہے کہ باز آجاؤ، باز آجاؤ۔ یہ اس کی رحمت ہی تو ہے کہ پہلے ہدایت دیتا ہے پھر ڈراتا ہے پھر ہلکا عذاب دیتا ہے اور پھر آخر میں بڑا عذاب دتیا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ چھوٹی موٹی لغزشوں پر توبہ و استغفار کا وظیفہ کرتے ہوئے نیک راہیں اختیار کرے اور دوسروں کو بھی حکم دے۔ بندگی کا یہی دستور ہے۔
Ayahs 16:48–60کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے
تشریح : یہاں عربوں کی انتہائی بری عادت بیان کی گئی ہے جو کہ ان میں عام طور پر رواج پا چکی تھی۔ اول تو وہ لڑکی ذات کو ہی ناپسند کرتے تھے، پھر جب وہ پیدا ہوجاتی تو اس کو اپنی انتہائی ذلت کا باعث سمجھتے تو اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنی بچی کو مار دیتے یا زندہ کو ہی دفن کردیتے اور یوں تین گناہ کرتے ایک تو اپنی اولاد پر ظلم کرتے دوسرا قتل کا گناہ کرتے اور تیسرا حکمت الٰہی میں دخل دیتے۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑا گناہ یہ کرتے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے، یعنی جس بات کو اپنے لیے باعث شرم سمجھتے اس کو اللہ کے لیے مناسب سمجھتے اور یوں شرک کا بڑا گناہ کرتے۔ اسلام نے ان تمام گناہوں سے سختی سے منع کیا ہے، بلکہ بیٹی کی پرورش اور اسکی تعلیم و تربیت کو باعث جنت قرار دیا ہے اور یوں عورت کو عزت و احترام کی جگہ دی گئی ہے اسلام نے بتایا کہ شریعت اور قانون کی نظر میں جس طرح مرد کے حقوق ہیں اس طرح عورت کے بھی حقوق ہیں اگرچہ مرد کا درجہ زیادہ ہے۔ (سورۃ البقرہ آیت 228 )
بچیوں سے سلوک، تعلیم و تربیت میں بچیوں کو بچوں سے کم رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ تاکہ معاشرے میں عورت کسی بھی طرح کم تر درجہ میں نہ رہے۔ اسی آزادی اور بہترین اصول و ضوابط کا نتیجہ ہے کہ ہمیں عورت دنیا کے ہر میدان میں شاندار کامیابیاں حاصل کرتی ہوئی نظر آتی ہے، اس کے لیے شرم و حیا اور پاکیزگی کے قائم رکھنے پر زور دیا گیا ہے اور بڑے مناسب اصول اس کے لیے وضع کیے گئے ہیں جو کہ ہر صورت میں معاشرے اور عورت کی بھلائی کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً پردہ کا خیال رکھنا اور مردوں سے آزادانہ میل جول سے احتیاط برتنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر ان حدود میں رہ کر عورت کام کرے تو کوئی برا نہیں۔ آپ عورت کی تخصیص کے بارے میں غور کریں کہ اس کے بارے میں قرآن پاک میں پوری سورت سورة نساء کے نام سے اتری ہے۔ جس میں اس کے تمام تر حقوق اور فرائض کو واضح کیا گیا ہے۔
Ayahs 16:61–65رحمت الٰہی، کفار کو دردناک عذاب کی وعید اور نزول قرآن کا مقصد
تشریح : اللہ کی رحمتیں بیشمار ہیں اور سب کے لیے ہیں۔ اللہ کا نظام چل رہا ہے ہر کافر و مشرک اور مسلمان اس کی رحمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر جو لوگ اس کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اچھی جزا پائیں گے جو ہدایات سے ہٹ کر بری زندگی گزارتے ہیں وہ بری جزا پائیں گے۔ اور یہ وقت اللہ کے منتخب کیے گئے پروگرام کے مطابق ٹھیک وقت پر ضرور آجائے گا۔ اور اس حقیقت سے ہر عقل مند آدمی خوب اچھی طرح واقف ہے۔
Ayah 16:66دودھ ایک عظیم نعمت باری تعالیٰ
تشریح : اس آیت میں اللہ کی طرف سے دی گئی ایک بہت بڑی نعمت کا ذکر ہے، یعنی دودھ۔ یہ اس قدر شفاف، فائدہ مند، غذائیت سے بھر پور، خوشبودار اور سفید ہوتا ہے کہ تمثیلاً کہا جاتا ہے دودھ کی طرح سفید۔ جب ہم غور کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ چوپائوں کے ذریعے انسان کے لیے مہیا کیا جاتا ہے۔ کیسی عجیب فیکٹری ہے دودھ بنانے کی۔ دودھ دینے والے جانوروں میں گائے، بھینس، اونٹ، بھیڑ، بکری، دنبہ، شامل ہیں۔ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ جانور جو کچھ کھاتا ہے اس سے اس کی اپنی غذا، اس کے بچے کی غذا اور پھر انسان کی غذا پیدا ہوتی ہے۔ وہی غذا جو وہ کھاتا ہے اس سے اس کے جسم کی طاقت اور نشوو نما کے لیے خون بنتا ہے، گوبر بنتا ہے اور پیشاب بنتا ہے۔ خون رگوں میں دودھ تھنوں میں اور گوبر پیشاب اپنے باہر نکلنے کے نظام کی طرف چلا جاتا ہے۔ سبحان اللہ ! کس قدر زبردست انتظام کیا گیا ہے جانور کی اندرونی کارکردگی کا۔ کہ دودھ جو ہم اس سے حاصل کرتے ہیں وہ پینے کی بہترین چیزوں میں سے ایک ہے۔ ایک ایسی جگہ تیار ہوتا ہے جہاں چارہ ہوتا ہے اور اس سے یہ تینوں چیزیں ایسے تیار ہوتی ہیں کہ ہر چیز بالکل علیحدہ علیحدہ اور خالص شکل میں انسان کو مل جاتی ہے دودھ بہترین غذا ہے اس میں نہ گوبر کی ملاوٹ ہوتی ہے نہ خون کا رنگ، مزہ اور بو ہوتی ہے۔ ہے نا یہ اللہ کا کمال اور بندوں پر اس کی بہترین عنایت۔ اب تھوڑا سا اس نظام کے بارے میں وضاحت کی جاتی ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ خوراک خون بناتی ہے جو فالتو پھوک رہ جاتا ہے اس کا گوبر اور پیشاب بن کر جسم سے خارج ہوجاتا ہے جبکہ خوراک کی پوری طاقت اپنے مکمل نظام کے تحت خون بن کر تمام جسم میں پھیل جاتی ہے جب بچہ ماں کے پیٹ میں نشوونما پانے لگتا ہے تو فوراً ہی دودھ بنانے والے گلینڈرز حرکت میں آجاتے ہیں جیسے جیسے بچہ پیدائش کے قریب آتا ہے تھنوں میں دودھ بنانے والے گلینڈرز کو خون کی سپلائی طاقت ور بنانے لگتی ہے بچے کی پیدائش کے بعد تھنوں میں دودھ پوری تیزی سے تیار ہونا شروع ہوجاتا ہے، پھر جیسے ہی بچہ تھنوں میں دودھ پینے کی پوری کوشش کرتا ہے دماغ سے فوراً ایک خاص گلینڈرز کو حکم ہوتا ہے جو آگے گلینڈرز کو دودھ بنانے کا حکم دیتا ہے یہ گلینڈرز تھنوں میں ہوتے ہیں اور یوں دودھ کی مشین فرافر دودھ بنانے لگتی ہے یہی طریقہ انسان کے ساتھ بھی ہے فرق صرف یہ ہے کہ جانور کا دودھ بڑی زیادہ مقدار میں ہوتا ہے کیونکہ اس کو انسان نے اپنی جسمانی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کرنا ہوتا ہے جبکہ انسان، یعنی عورت کے دودھ کی یہ نوعیت نہیں ہوتی بلکہ وہ صرف بچے کی نشوونما کے لیے دو سال تک پلایا جاسکتا ہے۔ کیا کہنا اللہ کی کاریگری کا اسی لیے تو موجودہ سائنس دان اب بڑی تیزی سے رب کی طرف آرہے ہیں۔ یہ تو تھی دودھ کی نعمت اگلی آیات میں کچھ اور نعمتوں کا ذکر ہے۔ ملاحظہ ہو :
Ayah 16:67پھلوں کی نعمت
تشریح : یہاں اللہ کی دی گئی نعمتوں میں سے کھجور اور انگور کا ذکر کیا گیا ہے۔ دونوں پھل اپنی افادیت (فائدے) کے لحاظ سے بالکل منفرد پھل ہیں ان میں بیشمار وٹامنز اور بہترین غذائیت بھری ہوتی ہے۔ ان دونوں پھلوں کو تازہ بھی کھاتے ہیں خشک کرکے بھی کھاتے ہیں اور ان سے بیشمار مفید مشروب بھی بنائے جاتے ہیں۔ آیت میں سکراً کا لفظ آیا ہے جس کا مطلب ہے نشہ، یعنی شراب۔ ضیاء القرآن میں مولانا صاحب بحر قرطبی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں ” دوسرے علماء نے کہا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ اپنے احسانات کا ذکر فرما رہا ہے ایسے مقام پر کسی پلید اور نجس چیز کا ذکر کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ ان کی رائے میں سکر سے مراد کھجور اور انگور کا میٹھا رس ہے جو حلال ہوتا ہے۔ “ (از پیرمحمد کرم شاہ۔ ). میں خود بھی اسی خیال کے حق میں ہوں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
Ayahs 16:68–69شہد کی مکھی کی کاریگری
تشریح : ایک سائنسی عجوبہ دودھ کا ذکر ہوچکا اب یہ ایک اور بہترین سائنسی معجزے کا ذکر قرآن میں کیا جا رہا ہے۔ جو واقعی انسان کے لیے معاشرت، معیشت، محنت، کار کردگی، ، خلوص، محبت، نظم و ضبط، کاریگری اور اللہ کی قربت کا ایک بہترین نمونہ اور بہترین ذریعہ ہے اللہ نے عالم حیوانی میں شہد کی مکھی کو کس قدر اہمیت دی ہے جس کے نام پر ایک سورت کا نام رکھ دیا۔ کیوں نہ ہو ! یہ ہے ہی اس قابل کہ اس کو غوروفکر کا درجہ دیا جائے۔ یہ انسان کو صرف شہد ہی مہیا نہیں کرتی بلکہ بہت سے سبق سکھاتی ہے اور اللہ پر ایمان کو پختہ کرتی ہے۔ سب سے پہلے ہم اس کے خاندان کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ سوشل کیڑا ہے اس کا خاندان تین ممبران پر مشتمل ہوتا ہے۔ ملکہ۔ کارکن۔ نکھٹو۔
-1 ملکہ : یہ کالونی کی ماں ہوتی ہے۔ یہ بہار کے موسم میں ایک ہزار تک انڈے دیتی ہے۔ اس کے جسم سے مواد نکلتا ہے جس کو مکھیاں چاٹتی رہتی ہیں۔ جب پیدائش کے بعد ملکہ مکھی ہوا میں اڑتی ہے تو ایک خاص مادہ اس کے جسم سے نکلتا ہے جس کی وجہ سے نکھٹو اس کا پیچھا کرتے ہیں۔
-2 کارکن مکھیاں : یہ مامتا سے بھر پور ہوتی ہیں ان کے جسم سے دودھ کی طرح مادہ نکلتا ہے جو تین دن تک بچوں اور رانی کو دیا جاتا ہے۔ یہ انڈے نہیں دیتیں۔ بلکہ فوراً کام شروع کردیتی ہیں پہلے رائل جیلی نکالتی ہیں، پھر خانے بناتی ہیں، پھر ان میں شہد جمع کر کے اس کو سکھاتی ہیں۔ بیس دن تک چھتے کے اندرکام کرتی ہیں بیس دن چھتے سے باہر کام کرتی ہیں۔ پیدائش کے چودہ دن بعد یہ پیٹ کے پچھلے حصہ سے موم اگلتی ہیں۔ چھتے کی حفاظت اور پھر سروے کا کام کرتی ہیں کہ خوراک کہاں سے ملتی ہے۔
-3 نکھٹو : یہ ذرا بڑا ہوتا ہے مگر اپنی خوراک خود حاصل نہیں کرسکتا 3 سے 6 مکھیاں ایک نکھٹو کے لیے خوراک مہیا کرتی ہیں۔
مکھیوں کی منظم زندگی کچھ یوں ہے کچھ مکھیاں انجینئرنگ کا کام کچھ نرسنگ کا کچھ خوراک جمع کرنے کا کام کرتی ہیں۔ جب کہ انڈے دینا صرف ملکہ مکھی کا کام ہے۔
مکھیوں کی جسمانی ساخت قدرت کا بہترین شاہکار ہے۔ اس کی تین آنکھیں دور بینی کے لیے۔ جسم پر کنگھی نما دندانے ہوتے ہیں جو پولن اکٹھا کرنے اور پھیلانے کا کام کرتے ہیں۔ اور اس کے اندر موم بنانے کا قدرتی درجہ حرارت یعنی 90 - 95o موجود ہوتا ہے۔ مکھی تین قسم کے ڈانس کرتی ہے جو مختلف کاموں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تمام کیڑوں کی طرح یہ بھی چار حالتوں سے گزرتی ہے (1) انڈے۔ (2) لاروا۔ (3) پیوپا۔ (4) جوان۔
مکھیوں کی خوراک۔ پھل دار درخت، فصلیں، تیل کے بیج والی فصلیں، سبزیاں، پودے، بیلیں، جھاڑیاں، جنگلی درخت، اور بیشمار قسم کے پودے پھول جنگلی اور زیبائشی۔ مکھی بہترین خوراک کے لیے اللہ کی طرف سے الہام حاصل کرتی ہے اور شہد تیار کرنے کا ایک بہترین کارخانہ چلاتی ہے۔ اس کا پورے کا پورا کام انتہائی باریکیوں اور بیشمار سائنسی نکات پر منحصر ہے۔ یہ سب کچھ نہ تو وہ کسی سکول، کالج یا یونیورسٹی سے سیکھتی ہے نہ کسی استاد سے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تمام حیران کن کام اس معمولی مکھی کو میں خود براہ راست سکھاتا ہوں۔ یہی وضاحت ہے الہام کی۔ اور اسی الہام اور تائید الٰہی کی بدولت شہد کی مکھی اپنی ضرورت سے کئی گنا زیادہ شہد انسانوں کے لیے بناتی ہے۔ اور ان کی نقل و حرکت اور پیداواری صلاحیتیں کسی بڑے انجینئر سائنسدان سے کچھ زیادہ ہی ہیں۔ اس کے چھتے کی بناوٹ اور پھر آپس میں رابطہ بالا صوتی (Ultrasonic) لہروں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور پھر اس کی صنعتی صلاحیتیں بھی قابل تحسین ہیں۔ سب سے پہلے تو ہم اس کے چھتے کی بناوٹ پر غور کرتے ہیں۔ مکھی کا گھر شش پہلو (چھ پہلو) مخروطی صورتوں میں ہوتا ہے۔ یہ جیومیٹری جیسی شکل والی ساخت تعمیراتی جگہ کے ممکنہ بہترین استعمال کو ظاہر کرتی ہے، یعنی زیادہ چیز کم جگہ میں سما جاتی ہے۔ پھر اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والی گو ندیا رال ایسی ہوتی ہے جو انسانی صحت کے لیے موزوں ترین ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ شہد کی مکھی اپنی مخصوص اور طرح طرح کی آوازوں سے اپنے جسم کی تکمیل کرتی ہے اور چھتے تک واپس پہنچنے کے لیے اپنی راہ بھی ڈھونڈھ سکتی ہے۔ اور دوسری مکھیوں کو خوراک کی جگہ کی ہدایات بھی دے سکتی ہے۔ اب ذرا شہد کی خاصیتیں اور اجزا کے بارے میں سنیے۔ شہد میں رائبوز ایک خاص قسم کی شکر ہوتی ہے جو جسم میں نئے خلیوں کی تعمیر میں استعمال ہوتی ہے۔ کیونکہ پیدائش کا عمل صرف ملکہ مکھی کرتی ہے، اس لیے رائبوز صرف ملکہ مکھی کھاتی ہے کارکن مکھیوں کو اسے کھانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
شہد میں B14 , B13 اور BT موجود ہوتے ہیں جو کسی اور خوراک میں نہیں ہوتے اسی طرح شہد میں کئی اور اہم مرکبات ہوتے ہیں۔ جیسے فاسفورس، کیلشیم فاسفیٹ، ایم (حیاتین) اس کے علاوہ شہد کی مکھی مختلف کھیتوں اور پودوں سے طبی نکتہ نظر سے بےحد مفید جواہر اکٹھا کرتی ہے پھر ان کو شہد میں شامل کردیتی ہے اسی لیے مخصوص علاقوں کے شہد مخصوص بیماروں کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔ مثلاً اعصابی بیماری، دل معدہ اور گلے کی بیماریاں۔ اس کے علاوہ اللہ نے فرمایا :
” اس کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے۔ (آیت 69)
شہد میں موجود مختلف قسم کی کیمیاوی خواص کی طرف اشارہ ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نورباقی صاحب اپنی کتاب ” قرآنی آیات اور سائنسی حقائق “ میں وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
” شہد کے خواص میں بالیدگی دینے والے ہارمون (شاہی جیلی) سفید رنگ کی ہوتی ہے رائبوز ہلکے پیلے رنگ کی ہوتی ہے کچھ لاکھیں (نامیاتی مرکبات) اور صحت بخش کیمیائی اجزاء نارنجی رنگ کے ہوتے ہیں۔ فاسفورس کے کچھ مرکبات اور کچھ قسم کے خمیر گاڑھے بھورے مائع کی صورت میں ہوتے ہیں۔ مکھی ان تمام اجزا کو اکٹھا کر کے ایک خاص طریق عمل کے ذریعے شہد میں تبدیل کرتی ہے۔ شہد زخموں کے لیے اور تمام پرانی بیماریوں کے لیے مفید اثر رکھتا ہے۔ مثلاً گٹھیا، جسمانی ضعف وزن میں کمی کی شکایت، معدہ، معدے کی آنتوں کے زخم یا ناسور، پرانی جلدی بیماری اور بخار کے بعد بےحد مفید ثابت ہوتا ہے۔ شہد کی یہ تاثیر رائبوز۔ فاسفورس، فالک ایسڈ، تمام حل ہوجانے والے حیاتین (وٹامنز) کیمیائی خمیر کی وجہ سے ہے جو شہد کا جز ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی دریافت ہوچکی ہے کہ دل کا مخصوص اعصابی نظام شہد سے اور بطور خاص اس میں موجود حیاتین بی کے گروپ اور فاسفورس سے غیر معمولی طور پر فائدہ حاصل کرتا ہے۔ اور دماغ کے لیے بھی شہد میں موجود رائبوز۔ حیاتین بی اور فاسفورس بےحد مفید پائے گئے ہیں۔
قادر مطلق نے اس معمولی مکھی کو حکمت و ایجادات کا ماہر بنا دیا جس کا ذہن ایک پن کے سرے سے بھی چھوٹا ہوتا ہے۔ وہ اللہ کی مرضی اور مدد سے اس قدر بڑی اور مفید صنعت کی مالک بن گئی کہ سوچنے والے حیران ہوجاتے ہیں اور یہ اللہ کی بڑائی، قدرت اور صناعی کا بہترین شاہکار ہے۔ جو انسان کے لیے اللہ کی معرفت میں مددگار ہوتا ہے اسی طرح کی بیشمار نشانیاں ہیں جو اللہ کے وجود اور وحدانیت کا ثبوت پیش کر رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” یقینا اس میں ایک نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں۔ (النحل آیت 69)
Ayah 16:70خود انسان اللہ کی قدرت کا ثبوت ہے
تشریح : پہلے دودھ کی نعمت، پھر پھلوں کی نعمتوں اور پھر شہد کی بہترین نعمت کا ذکر کیا گیا اور فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ کی قدرت، عظمت اور رحمت یاد دلانے کے لیے کافی نہیں ؟ اب انسان کو خود اس کی اپنی خلقت (پیدائش) کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے کہ کس طرح اللہ نے تمہیں لاغر اور ناتواں حالت میں ایک بچہ کی حیثیت سے پیدا کیا، پھر بتدریج تمہاری جسمانی حالت کو مضبوط سے مضبوط تر کرتا چلا گیا اور اس طرح تم بچپن سے لڑکپن، پھر جوانی سے بڑھاپے کی طرف چلتے چلے جاتے ہو۔ کچھ لوگ تو اس کے دوران میں ہی فوت ہوجاتے ہیں اور کچھ بڑھاپے کی اس عمر کو پہنچ جاتے ہیں جب وہ دوبارہ ایک بچہ کی طرح لاغر اور بےبس ہوجاتے ہیں مگر اللہ کی رضا سے وہ زندہ رہتے ہیں۔ کیونکہ موت وحیات اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہی اس پر قدرت رکھتا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کس حال میں اور کتنی دیر زندہ رکھنا ہے۔ جب کہ نکمی عمر سے آنحضرت ﷺ نے بھی پناہ مانگی ہے کیونکہ یہ خود انسان کے لیے اور تمام گھر والوں کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ بہرحال یہ سب کچھ بھی رب العزت کی قدرت، عظمت اور علیم وخبیر ہونے کی بہت بڑی نشانی ہے۔
Ayah 16:71روزی، رزق کی تقسیم
تشریح : پچھلی کئی آیات سے رب رحیم و کریم کی نعمتوں کا ذکر چلا آرہا ہے۔ اسی لحاظ سے ایک اور بہت بڑی نعمت کا ذکر یہاں ہو رہا ہے کہ مال و دولت اور رزق اللہ تعالیٰ سب انسانوں کو دیتے ہیں مگر اس کی تقسیم میں اللہ نے اپنا خاص نظام بنا رکھا ہے۔ وہ یہ کہ کسی کو زیادہ دیتا ہے کسی کو کم اور کسی کو درمیانے درجے کا۔ یہ نظام بھی بذات خود انسان کے لیے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ کیونکہ اس دنیا کے کاروبار حیات کو چلانے کے لیے یہ تناسب، یعنی امیر، غریب اور متوسط طبقات کا ہونا انتہائی فائدہ مند ہے۔ کیونکہ اگر تمام لوگ ایک ہی معیار کے ہوجائیں تو یہ اونچے نیچے کام کیسے چلیں کیونکہ کسی کو اللہ نے معلم کی صلاحیت دے رکھی ہے کسی کو معمار، کسی کو طبیب، کسی کو سائنسدان، کسی کو بڑھئی، کسی کو نانبائی، کسی کو سنار، کسی کو لوہار، موچی، کسان، غرض زندگی کے مختلف شعبہ جات ہیں جن کے لیے مختلف لوگوں کو اللہ نے اپنے اپنے متعلقہ کاموں کی صلاحیتیں دے رکھی ہیں اور پھر اسی معیار سے ان کو روزی اور رزق ملتا ہے۔ یہ ایک نظام ہے ملک کا جو اللہ نے مسلمان کو سمجھا دیا ہے اسی میں بہتری ہے۔ کیونکہ اس نظام سے سرمایہ داری نظام اور اشتراکیت کا مکمل خاتمہ کردیا گیا ہے۔ کیونکہ ان نظاموں میں انسانی صلاحیتوں، آزادی اور مذہب سے دوری ضروری ہوجاتی ہے۔ مگر اللہ کے نظام میں غریبوں کو دینا لازمی قرار دیا ہے۔ مرنے والے کی وراثت تقسیم کرنا لازمی ہے تاکہ دولت ایک جگہ جمع نہ رہے۔ قدرتی نعمتیں، یعنی چشمے، سمندر، پہاڑ، دریا، خود روپیداوار اور جنگل وغیرہ یہ سب تمام مخلوق کا سرمایہ بنا دیا۔ ورنہ سرمایہ داری نظام میں یہ سب سرمایہ دار کو ہی دے دیا جاتا ہے۔ پھر اشتراکی مفکرین نے انسان کی انفرادیت، صلاحیت اور خاص طور سے خاندانی نظام کو تقریباً ختم کردیا ہے۔ کیونکہ یہ نظام لوٹ گھسوٹ، حسد، بغض اور نفرت پیدا کرتا ہے۔ خاندانی نظام کو ختم کر کے سب سے زیادہ بچوں پر عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں۔ اشتراکی نظام میں دو بڑے گروہ پیدا ہوئے سرمایہ دار اور مزدور۔ ان کی ہر وقت آپس میں لڑائی رہنے لگی جس کو ختم کرنے کے لیے سوشلزم اور کمیونزم کو اختیار کیا گیا۔ جو کہ بری طرح فیل ہوگیا۔ یہ تمام نظام انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں۔ جن میں سب سے اوپر کارل مارکس، اینگلس اور لینن وغیرہ کے نام آتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے پیدا کیے ہوئے اس کے بنائے ہوئے نظام حیات یا نظام مملکت کا بھلا کس طرح مقابلہ کرسکتے ہیں۔ اللہ کا نظام انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اور یہ نظام انسانی زندگی کے تمام پہلوئوں کو سامنے رکھ کر بیان کیا گیا ہے۔ تاکہ انسانوں کو دقت یا پریشانی نہ ہو۔ آخر میں رب العلمین فرماتے ہیں کہ کفار کو اتنی بھی سمجھ نہیں آتی کہ جب اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے وہ اپنے غلاموں یا نوکروں کو ضرور کچھ نہ کچھ دیتے رہتے ہیں مگر اس قدر نہیں کہ وہ ان کی حیثیت کے برابر ہوجائیں۔ تو پھر وہ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ جس رب نے ان کو اور تمام کائنات کو پیدا کیا ہے وہ اکیلا عبادت کے لائق ہے تو پھر وہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو ہی عبادت کے لائق بنا کر اللہ کے شریک بنا دیتے ہیں۔ سورة انعام میں فرمایا :” رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “ (آیت 151 )
قصہ کچھ یوں ہے کہ بعثت رسول سے پہلے کفار تمام عبادتیں کرتے تھے حتیٰ کہ فتح مکہ یعنی 9 ہجری تک ہر سال حج بھی کرتے رہے مگر اپنے طریقہ سے مسجد حرام میں انہوں نے بت رکھے ہوئے تھے۔ انہی کی عبادت بھی کرتے تھے ان کا اور موجودہ کفار کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ بڑا اللہ تو ایک ہی ہے مگر چھوٹے خدا کئی ہیں۔ جن کے درمیان بڑے اللہ نے اپنے کچھ اختیارات بانٹ رکھے ہیں۔ بزرگان دین کو احتراماً اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں سے پکارنا شرک ہے اور اس میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ فتح مکہ کے بعد حرم کعبہ کو بتوں سے پاک کیا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے جو خطبہ دیا وہ بالکل کفار کے عقیدہ کی تردید میں تھا۔ آپ نے فرمایا : ” اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ “
شرک کا مطلب صرف یہ ہی نہیں کہ اس کے سوا کسی کی عبادت کی جائے بلکہ اللہ کی ذات، صفات، اختیارات اور حقوق میں بھی کسی دوسرے کو پکارنا شرک ہی ہوتا ہے۔ چاہے کسی بھی صورت میں ہو، اس لیے اللہ کے مقابلے میں کسی کی بات ماننا بھی شرک ہے اور شرک یہ بہت بڑا ظلم ہے جو انسان خود اپنے اوپر کرتا ہے۔ اس سے اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ ثابت یہ ہوا کہ معاش میں درجات کا اختلاف اور اللہ کی وحدانیت پر یقین، یہ دونوں رب رحیم کی بہت بڑی نعمتیں ہیں انسان کے لیے۔ ان دونوں کو سچے دل سے مان لینا ہی انسان کے مفاد میں ہے۔ دعا ہے ” اے اللہ ! تیرے ہی نام پر مجھے مرنا ہے اور تیرے ہی نام پر مجھے جینا ہے۔ “
Ayahs 16:72–76اللہ کی طرف سے مزید نعمتیں اور اللہ کی دی گئی مثالیں
تشریح : ان آیات میں اللہ نے مزید نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح تمہارے جوڑے بنائے، یعنی میاں بیوی تاکہ دنیا کی خوشیاں اور سکون حاصل کرسکو اور پھر اولاد در اولاد کی خوشیاں دیکھو اور دنیا کی تمام چیزیں تمہارے لیے مسخر کردیں پھر بھی بیوقوف لوگ بےجان لاچارا ور بےبس مخلوقات کی عبادت کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھو تو کہتے ہیں کہ بھئی جس طرح بادشاہ تک پہنچنے کے لیے درباریوں وزیروں کا سہارا لینا پڑتا ہے تو اسی طرح اللہ سے مانگنے کے لیے ان چیزوں کو وسیلہ بنانا پڑتا ہے کیونکہ اللہ تو بہت ہی بلند وبالا ہے۔ براہ راست اس تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے ہماری ان کے آگے اور ان کی اللہ کے آگے۔ اللہ تعالیٰ انکی اس بےبنیاد بات کو بالکل مسترد کرتے ہوئے فرماتا ہے اور مثالیں دیتا ہے۔ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بصیر وعلیم قادرمطلق ایک پتھر کی مورتی یا بےجان اشیاء کے برابر کیسے ہوسکتا ہے ؟ اسی طرح اپاہج جاہل اس رب ذوالجلال کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں۔ کفار و مشرکین کی کم عقلی اور نااہلی کو ثابت کیا گیا ہے جبکہ الہ العلمین کی قدرت کاملہ اور وحدانیت کو مثالوں سے ثابت کیا گیا ہے مگر یہ لوگ خود عقل و بصیرت سے خالی ہیں۔
Ayah 16:77قیامت آنکھ جھپکنے کی طرح قائم ہوگی
تشریح : اس آیت میں بڑی گہری بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ ہے غیب السموات والارض یعنی کائنات کا مادہ غیب (Hidden Matter) اس آیت میں مادہ غیب اور قیامت کا اکٹھا ذکر کرنے کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ دونوں کا آپس میں تعلق ہے۔ پھر ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ یعنی اس کو معلوم کرلینا انسان کے لیے کوئی معمولی بات نہیں۔ اس مادہ غیب کی توضیح (وضاحت) مشہور سائنسدان سلطان بشیر محمود صاحب یوں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں :” حیرانی کی بات یہ ہے کہ بلا چارج انتہائی چھوٹے ایٹمی ذرات نیوٹرینوز (Neutrinos) جن کا سائنسی تعلق ہم نے غیب السموات والارض کے طور پر کیا ہے۔ ایسی ہی ایک نوع ہے جس کا ادراک اور ان کو پکڑنا ابھی تک سائنس کے بس سے باہر ہے۔ انسان کا حساب تو بتاتا ہے کہ وہ موجود ہیں لیکن ابھی تک سائنسی آلات ان کو قابو کرنے سے قاصر ہیں۔ “
مزید لکھتے ہیں کہ ” یہی مادہ غیب اگر خاص مقدار سے زیادہ ہوا تو یقیناً کائنات رک کر سکڑنے لگے گی۔ ان کے علاوہ بیشمار طرح کی اور بھی شعائیں ہیں جو مادہ غیب کا حصہ ہیں۔ “ (از قیامت اور حیات بعد الموت)
آخر میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کا عظیم واقعہ اتنی جلدی اور اچانک ہوگا کہ جتنی دیر آنکھ جھپکنے میں لگتی ہے یا اس سے بھی زیادہ جلدی۔ کس قدر حیرت کی بات ہے انسان کے لیے مگر اللہ تعالیٰ اس قدر قدرت اور طاقت رکھتا ہے کہ وہ ایسا ہی کرے گا۔ سائنس دان اس اچانک حادثہ جس کو ہم قیامت کہتے ہیں کا ثبوت پیش کرنے کی کافی کوشش کر رہے ہیں اور تحقیق کے بعد مان گئے ہیں کہ یہ حادثہ ہو کر رہے گا۔ کیونکہ فضائی، کائناتی اور زمینی تبدیلیاں ان کا ثبوت دے رہی ہیں۔ یہ نہیں معلوم کہ کب ہو۔ مگر قرآن پاک کی بعض آیات سے صاف طور پر اشارہ ملتا ہے کہ اب قیامت کا آنا زیادہ دور نہیں۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے۔
” اور وہ دیکھتے ہیں اس واقعہ (قیامت) کو دور۔ اور ہم دیکھتے ہیں اس کو نزدیک۔ “ (سورۃ المعارج آیات 7 - 6 )
Ayahs 16:78–79انسان کی پیدائش، اڑتے پرندے اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں
تشریح : اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور نعمتوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ اسی سلسلے میں یہاں انسان کا ذکر ہو رہا ہے کہ غور کریں تو پتہ چلتا ہے اللہ رحمن و رحیم نے انسان کی پیدائش کا ذریعہ اس کی ماں کو خاص طور سے بنایا ہے۔ کیونکہ وہی اپنے پیٹ کے اندر مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ایک بچے کی پرورش کرتی ہے اور پھر نو ماہ کی مشکل ترین محنت کے بعد اللہ کے حکم سے بچے کو جنم دیتی ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو بظاہر وہ بالکل بےتعلق نظر آتا ہے مگر اس کے تمام اعضاء بالکل ورکنگ کنڈیشن میں ہوتے ہیں۔ لیکن تمام توانائیاں بڑی کمزور حالت میں ہوتی ہیں جو کہ آہستہ آہستہ وقت اور عمر کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتی چلی جاتی ہیں۔ لیکن بچے کا رابطہ اس وقت اللہ کے ساتھ بہت زیادہ ہوتا ہے اور پھر تمام جسمانی توانائیاں دل کے کام سے ہی مکمل ہو رہی ہوتی ہیں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جسمانی اعضاء میں کان اور آنکھیں سب سے پہلے کام شروع کرتے ہیں۔ دل کے بعد۔
یہاں خاص طور سے کان، آنکھیں اور دل کا ذکر پہلے آتا ہے اور پھر باقی تمام جسمانی اعضاء کا ذکر آتا ہے۔ تو یہاں معلوم ہوا کہ تینوں اعضاء کے بارے میں اللہ نے خاص پیغامات دیے ہیں۔
(1) دل کے ساتھ دو بنیادی حسی اعضاء، یعنی آنکھ اور کان کے تعلق کو خاص طور سے بیان کیا گیا ہے۔
(2) دل ہی انسانی عقل اور شعور کا مرکز ہے۔ اور اسی سے سچائی تک پہنچا جاتا ہے۔
(3) آنکھ، کان اور دل یہی تین سردار اعضاء ہیں جو انسان کو اللہ کی پہچان دلا کر ایک عظیم الشان انسان بنا دیتے ہیں۔
(4) دل کا وجدان روحانی بلندی ہی انسان کو بہترین انسان بناتی ہے۔
(5) آنکھ اور کان صرف حسی ضروریات ہی پوری نہیں کرتے بلکہ دل کی رہبری میں یہ اچھا شعور رکھتے ہوئے بہترین فیصلہ بھی کرتے ہیں۔
(6) دل تمام جسم میں سب سے دور خلیے کو بھی ایک ایک مالیکیول کر کے زندگی پہنچاتا ہے اور اس کام میں وہ ایک ذرہ برابر بھی غلطی نہیں کرتا۔ انسان کے حالات و واقعات اور کام کی نوعیت سے جسم میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں مگر دل ایک انتہائی ماہر حساب دان کی طرح ان تبدیلیوں کا حساب کتاب لگا کر تمام اسباب زندگی کو جاری رکھتا ہے۔ مثلاً محنت مشقت میں جسم کو اسی لحاظ سے خون مہیا کرتا ہے اپنے عمل کو زیادہ تیز کردیتا ہے جو کہ دل کی تیز دھڑکن سے محسوس کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح ہر طرح کے جذبات خوشی، غمی، حیرت یا پریشانی ہو اس کا اثر دل ہی زیادہ قبول کرتا ہے اور اسی لحاظ سے جسم کو خون کی سپلائی کرتا ہے۔ یہاں اس صورت میں دماغ یا نروس سسٹم کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اسی طرح کسی بات یا واقعہ سے الہامی طور پر آگاہ ہونا دماغ کی بجائے دل پر ہی ظاہر ہوتا ہے۔ تو ظاہر ہوا کہ دل ایک عام قسم کا صرف پمپ ہی نہیں بلکہ یہ جسمانی اعضاء کا ایک حیران کن جز ہے جو اللہ کی بہترین کاریگری کو ظاہر کرتا ہے۔
ویسے تو انسان کے جسم کا کون سا حصہ ہے جو بلا ضروت ہو ؟ کوئی نہیں ناخن سے لے کر بال تک ہر چیز اللہ کی قدرت کا بہترین نمونہ ہے۔ جو ان اعضاء کی قدرو قیمت جان کر اپنے خالق ومالک کا شکر ادا کرتا ہے اور ان اعضاء سے نیکی و راستبازی کی راہوں پر چلتا ہے وہی بہترین انسان ہے۔ ایمان لانے کے لیے اللہ کو وحدہٗ لاشریک ماننے کے لیے خود انسان کی ذات بہت بڑی نشانی ہے۔ اسی طرح جب ہم پرندوں کو دیکھتے ہیں کہ اللہ کی قدرت سے یہ کس طرح اتنی بلندیوں میں بغیر کسی انسانی مشین کے سہارے کے کہاں سے کہاں اڑ کر سفر کرتے ہیں۔ تو اللہ کی قدرت نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر قیوم پاشا زبیری صاحب لکھتے ہیں۔
” جدید ترین تحقیقات پر سائنس دان نے دریافت کیا ہے کہ تمام جانداروں (حیوانات و نباتات) کے ہر خلیہ میں ایک کیمیاوی مرکب ” ڈی۔ این۔ اے “ ہوتا ہے۔ یہ بہت معمولی قسم کا کیمیاوی مرکب ہے اس کی شکل ایک گول زینہ کی طرح ہوتی ہے اور یہ خوردبینی کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے۔ جس میں احکام کے یاد کرائے ہوئے حافظہ کی لاتعداد نقلیں ہوتی ہیں جن کو کوڈ (رمز) کہتے ہیں۔ جب یہ خلیہ دو میں تقسیم ہوتا ہے تو ہر حصہ کو اپنے اپنے کام کے لحاظ سے یہ نقلیں بھی مل جاتی ہیں۔ احکام کا یہ ٹیپ ریکارڈ ہر خلیہ میں صحیح وقت اور موقع پر احکام جاری کرتا رہتا ہے کہ خلیہ کو اب کیا کام کرنا ہے۔ یہ کوڈ اسی حساب سے احکام جاری کرتے رہیں گے جو اس کو خلیہ کی تقسیم کے وقت اس نقل میں ملے تھے ان احکام کی تلاش میں۔ ڈی۔ این۔ اے اور یہ کوڈ (رمز) دریافت ہوئے ان رموز کو کون واضح کرتا ہے اور کیوں ؟ ابھی تک سائنس اس کو سمجھنے سے بھی قاصر ہے۔ بنانا تو درکنار، موصوفہ ڈی۔ این۔ اے کو شعر میں یوں بیان کرتی ہیں
ڈی۔ این۔ اے کو یہ کوڈ خلیات میں تحریر
ہے ایک نوشتہ جو ہے احکام کی تعمیر
ڈی کوڈ یہ جب ہوتی ہے لکھی ہوئی تقدیر
آتی ہے نظر فعل کی صورت میں یہ تفسیر
یہ دیکھ کے سمجھو کہ ضرورت ہے خدا کی
(ماخوذ از بصیرت مصنفہ ڈاکٹر قیوم پاشا زبیری)