15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsمفہوم القرآن

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

الۗرٰ ۔ یہ اللہ کی کتاب اور روشن قرآن کی آیتیں ہیں۔

Ayahs 15:2–5

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

کسی وقت کفار یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! ) ان کو ان کے حال پر رہنے دیں کہ کھالیں اور فائدے اٹھالیں اور امیدیں انہیں غافل کیے رکھیں سو آئندہ معلوم کرلیں گے۔

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر اس کا وقت معین تھا۔

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی جماعت اپنی وفات کے وقت سے نہ آگے نکل سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔

کفار کی حسرت اور امتوں کی اجل تشریح : آیات کو پڑھنے سے مطلب واضح ہو رہا ہے۔ مزید وضاحت کے لیے حدیث سنیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” چار چیزیں بدبختی اور بدنصیبی کی علامت ہیں، آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہونا (اپنے گناہوں پر ندامت سے نہ رونا) اور سخت دلی، طول امل (لمبی امید) اور دنیا کی حرص۔ “ (قرطبی عن مسند البزار عن انس ؓ رسول کریم ﷺ نے فرمایا : کہ اس امت کے پہلے طبقے کی نجات ایمان کامل اور دنیا سے اغراض کی وجہ سے ہوگی اور آخری امت کے لوگ بخل اور طول امل (لمبی مدت) کی وجہ سے ہلاک ہوں گے۔ (حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب معارف القرآن) ہر فرد کی موت کا وقت اور جگہ اللہ کے پاس لکھی ہوئی موجود ہے جو نہ ایک منٹ آگے ہوسکتی ہے نہ ایک منٹ پیچھے اس موت سے غافل ہونا سب سے بڑی حماقت اور گناہوں کی بنیاد ہے اور یہ بات قرآن پاک میں بیشمار دفعہ بیان کی جا چکی ہے مگر کفار تو نبی ﷺ کو مجنون کہتے ہیں اگلی آیات میں ملاحظہ کریں۔
Ayahs 15:6–9

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور کفار کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر نصیحت کی کتاب نازل ہوئی ہے تو تو دیوانہ ہے۔

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

اگر تو سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتا۔

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

فرمادیں ہم فرشتوں کو نازل نہیں کیا کرتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملتی۔

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

بیشک یہ نصیحت کی کتاب ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔

کفار کا نبی ﷺ کو مجنون کہنا اور فرشتوں کے نزول کا مطالبہ تشریح : اسی مضمون کی آیات پچھلے اسباق میں بھی گزر چکی ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ کفار مکہ اور آج کل کے کفار میں کوئی خاص فرق نہیں۔ صرف اتنا فرق ہے کہ وہ ان پڑھ جاہل اور انتہائی وحشی لوگ تھے۔ ان کو سیدھے راستے پر لانا نبی اکرم ﷺ کا ہی حوصلہ تھا۔ آجکل کے پڑھے لکھے سمجھدار لوگ بھی صرف اپنی ضد کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے، حالانکہ قرآن حکیم اتنا زبردست معجزہ ان کے سامنے ہے اسی سے سائنس اور حکمت کے بنیادی اصول لے کر بڑی بڑی سائنسی ایجادات کر رہے ہیں۔ مگر مانتے نہیں۔ قرآن میں جو کچھ حقائق بتائے گئے ہیں وہ اتنے محکم، پکے اور لازوال ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی بڑے سے بڑا مفکر، سائنسدان، حکیم اور عالم و فاضل بھی نہیں کرسکتا۔ سب جانتے ہیں کہ یہ قرآن چودہ سو سال پہلے نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوا۔ اس میں ایک نکتہ سے لے کر پورے قرآن تک کوئی شخص تبدیلی نہیں کرسکا اور نہ ہی کرسکے گا۔ کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود رب العلمین، علیم و کبیر اور حفیظ و نصیر نے لے رکھا ہے۔ مذکورہ آیات میں تین دفعہ ” ہم “ کا لفظ استعمال کر کے اس بات کو اور بھی مضبوط اور پکا کردیا ہے کہ یہ کسی معمولی ہستی کی طرف سے نہیں بھیجی گئی کہ یہ غیر معیاری ہو یا کوئی بھی اس میں تبدیلی کرنے کی جرأت کرسکے۔ جس قدر آسمانی کتابیں نازل ہو چکیں ان سب کو تبدیل کردیا گیا مگر قرآن پاک کیونکہ اللہ کی حفاظت میں ہے اس لیے یہ کبھی تبدیل نہ ہو سکے گا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ جو عظیم ہے واحد ہے، مالک کون و مکاں ہے، قادر مطلق ہے۔ اور پھر قرآن پاک کی ہدایت کے مطابق، آپ ﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے لیے نمونہ ہے۔ کیونکہ آپ کی سیرت و کردار قرآن کی تفسیر ہے۔ آپ کی زندگی کا ہر عمل اور آپ کے فرمان کا ہر لفظ مسلمانوں کے لیے محترم، مقدس، قابل احترام اور باعث نجات ہے کیونکہ آپ کا ہر قول اور ہر فعل قرآن کے قوانین، فرامین اور ہدایات کے عین مطابق ہے۔ احادیث کا درجہ اسی لیے بےحد بلند ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ مستند اور قوی احادیث ہوں۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ صاحب انوار القرآن میں لکھتے ہیں کہ : ” انسانی تاریخ میں جتنی تحقیق حدیث کے فن پر کی گئی ہے، آج تک کسی اور فن پر اتنی محنت نہیں کی گئی ہے۔ یعنی دس لاکھ محدثین ہمارے سامنے موجود ہیں۔ جنہوں نے انتہائی محنت، احتیاط اور بڑی ہی چھان بین کے بعد ہمیں بہترین، صحیح اور محکم احادیث کے مجموعے عطا کیے۔ “ پھر قرآن خود کہتا ہے :”(اے نبی ا ! ) ہم نے آپ کی طرف ذکر نازل کیا تاکہ آپ لوگوں پر واضح طور پر بیان کردیں جو ان پر نازل کیا گیا ہے۔ “ (سورۃ النحل آیت : 44) معلوم یہ ہوا کہ جو نازل کیا گیا ہے اس کے علاوہ بھی ایک ذکر، اللہ نے حضور اکرم ﷺ پر نازل کیا ہے اور یہی وہ ” الحکمت “ ہے جو قرآن پاک کی عملی تفسیر ہے، اور یہی سیرت و سنت ہے۔ خود قرآن سے ثابت ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک تو وہ وحی جو قرآن کی شکل میں موجود ہے اور دوسرے وہ حکمت جو حضور اکرم ﷺ کے دل پر القاء (الہام) کی گئی ہے، دونوں کو ” ذکر “ کے لقب سے ملقب (کیا گیا) فرمایا ہے۔ اس لیے کہ وہ الفاظ کی بجائے حضور اکرم ﷺ کی عملی زندگی کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن مجید کے الفاظ کی بھی حفاظت کی گئی ہے جو مصحف (کتاب) کی صورت میں ہمارے ہاتھوں میں ہے اور اس کے معنی (تفسیر، سیرت النبی ﷺ کی بھی حفاظت کی گئی ہے جو حضور اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ اور احادیث کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ “ (انوار القرآن) ثابت ہوگیا کہ قرآن و سنت مسلمانوں کے لیے مقدس اور ضروری ہیں دونوں کا اتباع (عمل کرنا اور پیروی کرنا) ہر مسلمان پر فرض اور ضروری ہے۔ دعا ہے اللہ ہماری مدد فرمائے اور ہمیں قرآن و سنت پر مکمل طور پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Ayahs 15:10–15

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے لوگوں میں بھی پیغمبر بھیجے تھے۔

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

اور ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا، مگر وہ اس کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

اسی طرح ہم اس کو گنہگاروں کے دل میں بٹھا دیتے ہیں۔

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کا بھی یہی طریقہ رہا ہے۔

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور اگر ہم آسمان پر کوئی دروازہ ان پر کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے بھی لگیں۔

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تو بھی یہی کہیں کہ ہماری نظر بندی کی گئی ہے، بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔

مشرکین کی حجتیں اور معجزات پر تعصب تشریح : ان آیات میں اللہ جل شانہٗ پیارے نبی ﷺ کو تسلی دے رہے ہیں کہ آپ بالکل پریشان نہ ہوں کیونکہ بد فطرت، نافرمان اور گمراہ لوگ ہمیشہ ایک ہی ذہنیت کے ہوتے ہیں یہ ہمیشہ پیغمبروں کو تنگ کرتے رہے ہیں یہ ان کی پرانی خصلت ہے کیونکہ یہ ہدایت کی راہ اختیار کرنا ہی نہیں چاہتے اسی لیے ہم نے بھی ان کے دلوں کو گمراہی پر ہی مضبوط کردیا ہے۔ اللہ کا بھی یہ دستور ہے کہ وہ نیک فطرت کے لیے نیکی کی راہیں اور بد فطرت کے بدی کی راہیں آسان کردیتا ہے۔ نیک پر خوش ہو کر رحمت کرتا ہے اور بد سے ناراض ہو کر لعنت کرتا ہے، اس لیے کوئی بدکردار انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ نے تو خود کہا ہے کہ ” ہم گنہگاروں کے دل میں کفر بٹھا دیتے ہیں۔ “ جس طرح ایک ماں اپنے نافرمان بچے کو نصیحت کرتے کرتے تھک جاتی ہے اور جب دیکھتی ہے کہ یہ راہ پر آنے والا نہیں تو پھر کہتی ہے ” جا جہنم میں مجھے تو پہلے ہی معلوم تھا کہ تو سدھرنے والا نہیں، اللہ نے تیرے لیے یہی لکھ دیا ہے۔ “ بالکل یہی حال یہاں بھی دکھائی دیتا ہے۔ رب العلمین فرماتے ہیں کہ معجزے نیک بندوں کے لیے نہیں ہوتے وہ تو بغیر معجزے کے ہی ایمان لے آتے ہیں۔ ان ہٹ دھرم کفار کو تو آسمان میں سے دروازہ بنا کر اوپر چڑھنے کو کہیں یہ تب بھی نہ مانیں گے اور حجت بازی کریں گے یہی ان کے نصیب میں لکھا گیا ہے۔ اس لیے اے نبی ﷺ آپ اپنا کام تسلی سے کیے جائیں پچھلی قوموں کو دیکھیں وہ تو اپنے پیغمبروں کو قتل ہی کردیتے تھے۔ یہ سب تفصیل سے پچھلے پاروں میں گزر چکا ہے۔ اگلی آیات میں رب العلمین کی عظمت، قدرت اور توحید کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔
Ayahs 15:16–18

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور ہم نے ہی آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے ان کو سجا دیا۔

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہر شیطان راندہ درگاہ سے اسے محفوظ کردیا۔

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

ہاں ! اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارا اس کے پیچھے لپکتا ہے۔

ستاروں اور سیاروں کا مقصد تشریح : ان آیات میں کائناتی ردوبدل کی طرف اشارہ ملتا ہے سب سے پہلے تو ہم برج کی وضاحت کریں گے۔ اس کی جمع بروج ہے۔ لفظی مطلب ہے عمارت کی وہ سب سے اونچی جگہ جو نمایاں دکھائی دے یہاں مراد ستاروں کے گچھے ہیں جو آسمان میں چمکتے ہوئے انتہائی خوبصورت نظر آتے ہیں اور یا پھر فضاء بسیط میں وہ خطے ہیں جن میں سے ہر خطے کو مضبوط سرحدوں نے دوسرے خطے سے محفوظ اور جدا کر رکھا ہے۔ جیسا کہ ہماری زمین کو کئی تہوں میں چاروں طرف سے محفوظ کردیا گیا ہے۔ مختلف قسم کی گیسوں کے غلاف زمین کو باہر کی آفات سے محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ بیشمار شہاب ثاقب زمین کی طرف آتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جو کہ تعداد میں تقریباً 10 کروڑ روزانہ زمین کی طرف آتے ہیں جو زمین پر گرنے سے پہلے ہی مل یا میٹ ہوجاتے ہیں۔ زمین کی بیرونی فضا اور خلاء کا نظام ان کو ختم کردیتا ہے۔ ورنہ تو زمین کا باقی رہنا محال ہوجاتا۔ یہ بہترین نظام سوائے اللہ مصور عظیم کے اور کون کرسکتا ہے۔ شہاب مبین کا مطلب ہے روشن شعلہ۔ دوسرا مقصد جو ان آیات میں ملتا ہے بحوالہ تفہیم القرآن وہ یہ ہے کہ ” جس طرح زمین کی دوسری مخلوقات زمین کے خطے میں مقید ہے اسی طرح شیاطین بھی اسی خطے میں مقید ہیں۔ عالم بالا تک ان کی رسائی (پہنچ) نہیں۔ شیاطین کی پرواز بھی محدود ہے یہ نہیں کہ وہ جہاں تک چاہیں پرواز کرسکیں۔ “ جیسا کہ قرآن پاک میں اسی سورت کی آیات نمبر 17 اور 18 میں صاف صاف بتایا گیا ہے۔ ” اور ہم نے اس کو ہر شیطان مردود سے محفوظ کیا۔ ہاں ! اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو اس کے پیچھے چمکتا ہوا انگارا لپکتا ہے۔ “ مولانا محمد شفیع صاحب نے اس کا خلاصہ بڑے ہی خوبصورت الفاظ میں یوں بیان کیا ہے۔ موصوف لکھتے ہیں کہ : ” خلاصہ کلام یہ ہے کہ شہاب ثاقب کے متعلق جو کچھ فلاسفہ نے کہا ہے، وہ بھی قرآن کے منافی (خلاف) نہیں، اور یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ یہ شعلے براہ راست (سیدھے) بعض ستاروں سے ٹوٹ کر گرائے جاتے ہوں، مقصد قرآن دونوں صورتوں میں ثابت اور واضح ہے۔ “ (ازمعارف القرآن) پیر محمد کرم شاہ صاحب شہاب ثاقب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ : ” شہاب ثاقب کے ٹکڑے مختلف عجائب خانوں میں موجود ہیں۔ سب سے بڑے ٹکڑے کا وزن تقریباً چالیس ٹن ہے یہ ٹکڑا جنوب مغربی افریقہ میں ہے اس سے کم وزن کا ایک ٹکڑا جو گرین لینڈ میں گرا تھا اس کا وزن 36/1/2 ٹن ہے اسے کمانڈر پیری وہاں سے اٹھوا کر نیویارک لے آئے۔ (انسائیکلوپیڈیا گرولیر) مگر سائنسدانوں نے ان کو شہاب ثاقب ماننے سے انکار کردیا، اس لیے اٹھارہ سو تین میں پیرس کے قریب ہی تین ہزار شہاب ثاقب کا مینہ برسا اور اس قدرت نے ان سائنسدانوں کا غرور توڑا۔ کیونکہ اٹھارہویں صدی میں پیرس کی سائنس اکیڈیمی نے شہاب ثاقب کا انکار کردیا تھا۔ (انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا، جلد 15 صفحہ 341 از ضیاء القرآن جلد دوم) یوں شہاب ثاقب کا زمین پر گرنا۔ انسان کو ہوشیار کرنے کے لیے اللہ کی قدرت کا ایک ذریعہ بنا۔ کیونکہ وہ مالک و خالق ہے جو چاہے کر دکھائے اس کے لیے کوئی بات نہ مشکل ہے نہ ناممکن ہے۔ جیسا کہ مولانا ابو الا علیٰ مودودی صاحب لکھتے ہیں کہ : ” بارہا ایسا بھی ہوا ہے کہ برہنہ آنکھوں نے بھی ٹوٹنے والے تاروں کی غیر معمولی بارش دیکھی۔ مثلاً یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ 13 نومبر 1833 ء کو شمالی امریکہ کے مشرقی علاقے میں صرف ایک مقام پر نصف شب (آدھی رات) سے لے کر صبح تک 2 لاکھ شہاب ثاقب دیکھے گئے۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا۔ 1946 ء جلد 15 ۔ صفحات 337 تا 339 از تفہیم القرآن جلد دوم صفحہ 501 )
Ayahs 15:19–22

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلایا، اور اس میں پہاڑ بنا کر رکھ دیے اور اس میں ہر چیز اندازے سے اگائی گئی۔

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور ہم ہی نے تمہارے لیے، اور ان مخلوقات کے لیے جن کو تم روزی نہیں دیتے، اس میں معاش کے سامان پیدا کردیے۔

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو مناسب مقدار میں اتارتے رہتے ہیں۔

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور ہم ہی ہوائیں چلاتے ہیں جو بادلوں کے پانی سے بھری ہوئی ہوتی ہیں، اور ہم ہی آسمان سے مینہ برساتے ہیں اور ہم ہی تم کو اس کا پانی پلاتے ہیں، اور تم اس کا خزانہ نہیں رکھتے۔

خزانوں کا مالک صرف اللہ ہے تشریح : یہ آیات اللہ کی شان اس کی حکمت، کاریگری، طاقت، عظمت اور اس کے رازق و خالق اعظم ہونے کی بہت زبردست دلیلیں پیش کرتی ہیں۔ سبحان اللہ۔ اللہ اکبر۔ اس خالق (پیدا کرنے والا) اور المُتّکبرّ (بڑائی اور بزرگی والا) رحمن و رحیم کی جس قدر بندگی کریں کم ہے۔ کیونکہ اسی نے ہمیں پیدا کیا۔ رہنے کے لیے انتہائی پر آسائش زمین، کھانے کے لیے بہترین نباتات، حیوانات، پینے کے لیے بہترین پانی کے ذرائع، سانس لینے کے لیے صاف ستھری ٹھنڈی میٹھی ہوائیں، غرض کیا کچھ بیان کریں کہ اس نے اپنے بندوں کو کیسے کیسے خزانے، برکتیں اور نعمتیں عطا کر رکھی ہیں۔ کتنا شکر ادا کریں تو اس کا حق ادا نہیں کرسکتے۔ یہ سب کچھ تو ظاہری باتیں ہیں۔ یہاں انسان کے لیے ایسے ایسے سائنسی حقائق بیان کیے گئے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ جو راز آج کل انتہائی کوششوں کے بعد معلوم کیے جا رہے ہیں وہ اللہ نے ہمیں اپنی کتاب کے ذریعے ان مختصر آیات میں کس حکمت سے بتا دیے ہیں۔ مثلاً فرمایا ” ہم نے زمین کو پھیلایا ایک ڈھنگ سے اور پھر اس میں پہاڑ بنا کر رکھ دیے۔ اور اس میں ہر چیز اندازے سے اگائی گئی۔ ، ، زمین کا پھیلانا بڑا معنی خیز ہے۔ زمین کی بناوٹ کے بارے میں پچھلے اسباق میں بڑی تفصیل سے بتایا جا چکا ہے، یعنی زمین کی ساخت، گھومنا اور جھکائو یہ سب موسم، ہوائوں، بادلوں، نباتات، حیوانات اور ہر مخلوق و انسان کے لیے بےحد ضروری ہے۔ یہاں یہی بات واضح کی گئی ہے کہ زمین اور زمین میں پیدا کی گئی ہر چیز میں ایک زبردست توازن ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب لکھتے ہیں کہ ” آج تک جو تحقیقات ہوچکی ہیں ان کے تحت پودوں، حیوانوں اور بکٹیریا (جراثیم) کے درمیان ایک متوازن عمل اور رد عمل کا سلسلہ قائم ہے۔ بکٹیریا کے ذمے یہ کام ہے کہ وہ حیوانوں سے نائٹروجن حاصل کر کے پودوں تک پہنچاتا ہے، پودے آکسیجن بناتے ہیں جو حیوانوں اور دیگر جسموں کی ضرورت ہے اور جانور کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بکٹیریا کے توسط سے نائٹروجن کو پودوں تک پہنچاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہوا میں آکسیجن کا بیس فیصدی کی حد تک قائم رہنا ضروری ہے۔ “ مزید لکھتے ہیں ” اس طرح ایک عظیم خدائی کمپیوٹر ہی چاہیے جو پودوں کی اس تعداد کا حساب رکھے، جو چمنیوں سے نکلتے ہوئے دھوئیں اور انسانوں کے آکسیجن کے خرچ کا بھی حساب رکھے، اور پھر ہوا کے لیے بھی مناسب مقدار میں آکسیجن کی فراہمی کا انتظام کرے۔ (از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق) یہ سب لکھنے کا مطلب یہ ہے کہ نباتات اگنے کا حساب کتاب بارش، پانی اور ہوا زمینی ساخت کا اتنا بہترین انتظام کیا گیا ہے ” تاکہ اس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اگائیں۔ “ یہ حساب کتاب وقت، زمانے اور ماحول کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ تبدیل کرتے رہتے ہیں، مثلاً آج اسے کروڑوں سال قبل نباتات اور حیوانات کا سلسلہ کچھ مختلف تھا اس وقت کی ضرورت کے مطابق، مثلاً اس وقت آکسیجن کے توازن کو بڑھانے کے لیے زمین نباتات سے ڈھکی ہوئی تھی۔ اور اس کے بعد جیسے جیسے انسانوں کی تعداد اور ضروریات بڑھتی گئیں اسی تناسب سے جنگلات کو بچانے کے لیے رب العزت نے انسان کو کوئلہ، گیس اور تیل کے وہ خزانے عطا کردیے کہ جو قدرتی نظام کے ذریعہ کروڑوں سالوں میں قدرت نے تیار کر رکھے تھے اور اب انسان کے حوالے کردیے کہ اپنی ضروریات کو آسانی سے پورا کرسکے۔ اسی طرح دھاتوں کے بیشمار خزانے زمین میں دفن ہیں جن کو انسان نکال کر اپنی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اس آیت میں پہاڑوں کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے گویا یہ زمین کی مضبوطی کے لیے میخیں گاڑ دی گئی ہیں۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب بڑے پر اثر انداز سے لکھتے ہیں : ” ہمارے عظیم خالق نے زمین کی سطح کو پائیداری دینے کے لیے اس پر ایک طرح سے بڑے بڑے وزن مہیا کردیے ہیں، یہ پہاڑوں کے سلسلوں کی صورت میں ہیں، جن کی ساخت میں پوٹاشیم، سلیکون اور بہت سی دوسری دھاتیں مرکوز کردی گئی ہیں۔ پہاڑی سلسلوں کو زمین کی سطح پر اور سمندر کی تہوں میں ایک بےحد نازک، پیچیدہ اور صحیح اندازوں کے ساتھ بنا دیا گیا ہے بالکل ایک مادی گریو یور (Gravuere) کی طرح، چناچہ اس طریقہ سے زمین کے مرکز میں اندر کی سیمابی آگ کو قابو میں رکھا گیا ہے۔ “ (از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق) ہوائوں کا ذکر یہاں بادلوں کے تعلق سے کیا گیا ہے، ورنہ تو ہوائوں کے فوائد بیشمار ہیں۔ ہوائوں کا وجود بھی زمینی ساخت سے بڑا گہرا تعلق رکھتا ہے۔ سادہ سا علم تو یہ ہے کہ ہر طرف سے آنے والی ہوائیں زمین کے ہر حصہ تک پہنچتی ہیں ان کا اور کاموں کے علاوہ ایک بہت خاص ضروری اور اہم کام یہ ہے کہ وہ سمندر سے اٹھنے والے صاف شفاف بخارات کو بادلوں کی شکل دے کر دنیا کے دور دراز ضرورت مند علاقوں تک پہنچا دیتی ہیں اور پھر پانی کے قطروں کو اور برف کے گرنے کو اس قدر خوبصورت شکل میں ڈھال دیتی ہیں کہ ہر قطرہ بغیر کسی نقصان پہنچائے مقررہ نظام کے تحت زمین پر یوں پرسکون اور آرام دہ طریقہ سے گرتا ہے، جیسے پیراشوٹ کے ذریعے سے اوپر سے نیچے اترتا ہو۔ پھر وہ پانی لوگوں کے پینے، جانوروں کے پینے اور زمین کی سیرابی کے لیے بڑے بڑے ذخائر کی صورت میں سٹور ہوجاتا ہے۔ کچھ سمندر میں، دریائوں، نہروں، تالابوں، جوہڑوں اور بڑی بڑی جھیلوں میں کچھ زمین کے اندر ذخیرہ ہوجاتا ہے جو بعد میں لوگ کنویں کھود کر استعمال کرتے رہتے ہیں۔ یہ تمام طریقے پانی حاصل کرنے کے صرف اللہ کے مقرر کیے گئے حساب کتاب سے ہی انسان کو ملتا ہے یہ کوئی بڑے سے بڑا سائنسدان، عالم فاضل لوگوں کی ٹیم مل کر بھی پانی کا اتنا محکم، بہترین اور شاندار بندوبست کسی صورت نہیں کرسکتے۔ انسان کا حال تو یہ ہے کہ جب بھی کسی وجہ سے جس میں سب سے بڑی وجہ اللہ کی رضا ہے، بارش وقت پر نہ ہو یا برف باری میں تاخیر ہوجائے یا نہ ہو، تو انسان پریشان لا چار ہو کر اللہ کے آگے عاجزی سے سر جھکاتا ہے، گناہوں کی معافی مانگتا ہے بارش کے لیے نماز استسقاء پڑھتا ہے غرض اس لحاظ سے انسان کے ہاتھ بالکل خالی ہیں ہر قسم کے تمام خزانے صرف اور صرف پروردگار کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی تمام انتظامات کرنے والا ہے اور ہر جن و بشر، کیڑے مکوڑے زمین کے اوپر رہنے والے ہوں، فضا میں اڑنے والے ہوں یا سمندروں کی تہوں میں رہنے والے ہوں غرض ہر مخلوق کی خوراک کا بندوبست اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے سب کا رزق بڑے اندازے کے مطابق اپنے حساب کتاب سے لکھ رکھا ہے۔ غرض دنیا و آسمان بلکہ کل کائنات کی تمام موجودات اللہ کے خاص طور پر مقرر کیے ہوئے اندازے کے مطابق چل رہے ہیں اگر اس میں ذرا سا فرق بھی آجائے تو کائنات کا نظام درہم برہم ہوجائے۔ یہ تمام طاقت، قدرت اور کمال خالق دوجہان رب العلمین کے سوا کوئی کرسکتا ہے ؟ ناممکن ہے۔ کس قدر شرک کرتے ہیں وہ لوگ جو اللہ کے مقابلے میں کسی اور کو داتا اور گنج بخش کہتے ہیں حالانکہ داتا اور گنج بخش اللہ کے علاوہ کوئی نہیں ہے، تو پھر کیوں نہ اسی مالک الملک خالق کون و مکاں کے سامنے دست بستہ حاضر ہو کر سر تسلیم خم کیا جائے وہی تو ہے جو مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے۔ اس کی قدرتیں اگلی آیات میں اور بھی تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔
Ayahs 15:23–25

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور ہم ہی حیات بخشتے اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور ہم سب کے وارث ہیں۔

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے پہلے گزر چکے ہیں ہم کو معلوم ہیں اور جو پیچھے آنے والے ہیں وہ بھی ہم کو معلوم ہیں۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان سب کو جمع کرے گا وہ بڑا دانا اور خبردار ہے۔

موت وحیات کا مالک اور مرنے کے بعد زندہ کرنیوالا تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی بہترین تخلیقات، انتظامات اور قادرمطلق ہونے کا بیان مثالوں سے واضح کیا گیا ہے اسی طرح ان آیات میں اللہ کے حکیم (حکمت و دانائی والا) اور علیم (جاننے والا) ہونے کا اعلان کیا گیا ہے یہ بہت بڑے راز ہیں جن پر انسان نہ تو قابو پاسکتا ہے اور نہ ہی ان کا کوئی علاج ان کے پاس موجود ہے۔ جیسا کہ موت وحیات انسان کے بس میں نہیں۔ انسان نے انسانی جسم کی بناوٹ کے تمام اجزا معلوم کرلیے ہیں، جوڑ کر بنانے کا دعویٰ بھی کرلیا ہے مگر روح کیونکہ اللہ کا حکم ہے اس لیے انسان اپنے بنائے ہوئے انسان میں جان نہیں ڈال سکتا۔ انسان کتنی بھی کوشش کرلے کتنی ہی محنت کرلے روح نہیں ڈال سکتا کیونکہ زندگی دینا اللہ کے اختیار میں ہے۔ رہا موت کا سلسلہ تو موت بھی رب الاعلیٰ نے اپنے ہی اختیار میں رکھی ہوئی ہے۔ کوئی شخص کتنا ہی پریشان ہو بیماری کی وجہ سے دکھی اور تکلیف کی وجہ سے غمزدہ مگر وہ اپنی مرضی سے مر نہیں سکتا۔ مرنے کا وقت، جگہ اور وجہ اللہ کے پاس لکھی ہوئی موجود ہے موت نہ وقت سے پہلے آئے گی نہ وقت سے بعد۔ جو لوگ اللہ کے اس حکم سے ٹکراتے ہیں، یعنی خود کشی کرتے ہیں تو ان کو اس کا عذاب ضرور دیا جائے گا کیونکہ یہ حرام موت میں شامل ہے اور وہ موت جو بظاہر وہ خود گلے لگاتا ہے دراصل وہ بھی رب العلمین کے پاس لکھی جا چکی ہوتی ہے۔ خود کشی کرنے والا خواہ مخواہ عذاب اور گناہ اپنے اعمال میں درج کر والیتا ہے۔ یہ بڑا سخت گناہ ہے حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا کر خود کشی کی وہ جہنم کی آگ میں ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گرتا رہے گا، اور جس نے زہر پی کر خود کشی کی تو اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ جہنم کی آگ میں اسے ہمیشہ ہمیشہ پیتا رہے گا، اور جس نے اپنے آپ کو کسی اوزار سے قتل کیا، تو اس کا وہ اوزار اس کے ہاتھ میں ہوگا، اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ اسے اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا۔ (صحیح بخاری) زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے اور امانت، بھی اس لیے جو شخص بزدلی یا کم عقلی کا ثبوت دیتے ہوئے اللہ کی دی ہوئی نعمت کو اپنے ہی ہاتھ سے ضائع کرے گا اور اللہ کی دی ہوئی امانت (زندگی) کو خیانت کر کے ختم کر دے گا تو وہ پکا مسلمان کیسے ہوسکتا ہے ؟ اسی لیے اس کو جہنم کا عذاب اور دوسرا عذاب جو اس نے زندگی ختم کرنے کے لیے اپنے اوپر کیا وہ اس کو بار بار برداشت کرنا پڑے گا۔ خود کشی ہر طرح سے گھاٹے کا سودا ہے، اس لیے ہمت سے کام لے کر اللہ کی طرف سے آئی ہوئی بیماری، مصیبت اور پریشانی کو برداشت کرنا چاہیے کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے۔ جو اس میں پورا اترے، صبر سے کام لے اور اللہ کی رضا سمجھ کر شکر ادا کرتا رہے وہی مقبول الٰہی ہوتا ہے اور اس طرح اس کے کیے گئے گناہوں کو بھی اللہ معاف کردیتا ہے۔ کیونکہ یہ سب اللہ کی حکمت کے تحت ہی ہو رہا ہوتا ہے۔ وہ تو اس قدر دانا اور علم رکھنے والا ہے کہ جس قدر لوگ دنیا سے جا چکے ہیں اور جس قدر جانے والے ہیں ان سب کو قیامت کے دن اپنے پاس اکٹھا کرے گا کیونکہ اللہ ہی تمام مخلوقات کا وارث اور مالک ہے اور پھر وہ اس قدر علم رکھتا ہے کہ ہر شخص کی نیت ارادہ اور اعمال کو وہ خوب اچھی طرح جانتا ہے جیسا کہ پچھلے اسباق میں بتایا جا چکا ہے کہ اس کام کے لیے اللہ نے اس قدر مضبوط بندوبست کر رکھا ہے۔ وہ علیم بذات الصدور ہے ہر ایک بات کو سنتا اور جانتا ہے۔ فضائی لہروں کی صورت میں، قدرتی کیمروں کے ساتھ اور فرشتوں کے ذریعے کہ سب کام خود بخود فلمایا جا رہا ہے، ٹیپ کیا جا رہا ہے۔ ہر چیز کو محفوظ اور ریکارڈ کروا کے گواہی کے لیے تیار کی جارہی ہے، جبکہ اللہ کا یہ بندوبست اور اس کا علم تو کسی بندے بشر کے احاطہ میں نہیں آسکتا۔ وہ ہمارے تصور، ہماری عقل اور ہمارے ادراک سے بہت بہت اور بہت ہی بلند وبالا ہے۔ باوجود اس کے کہ وہ عرش پر مستوی ہے، آسمانوں پر بلند ہے لیکن پوری کائنات کو وہاں سے وہ کنٹرول کر رہا ہے۔