14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 14:1–4

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

الۗرٰ ۔ یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف اتاری تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائیں ان کے رب کے حکم سے غالب اور قابل تعریف اللہ کے راستے کی طرف۔

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

وہ اللہ کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کچھ اسی کا ہے اور کافروں کے لیے سخت عذاب کی وجہ سے خرابی ہے۔

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے اور اس میں خرابی چاہتے ہیں یہ لوگ پرلے درجہ کی گمراہی میں ہیں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا۔ تاکہ انہیں ( اللہ کے احکامات) کھول کھول کر سنا دے، پھر اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔

قرآن کا مقصد، کفر کی سزا اور ہدایت کا طریقہ تشریح : یہاں پہلی آیت میں اللہ کے دو صفاتی نام دیے گئے ہیں ” اَلْعَزِیْزُ الْحَمِیْدُ “ یعنی سب پر غالب، تعریف کے قابل۔ وہ اتنا زبردست ہے کہ اس نے یہ اتنی بڑی دنیا بنائی۔ کیونکہ آسمان و زمین اس نے بنائے ہیں اس لیے یہاں کی ہر چیز اس کے قبضے میں اور علم میں ہے انسانوں کو اس نے پیدا کیا تو ان میں کچھ برے ہیں کچھ اچھے ہیں تو بروں کو نیکی کی راہ دکھانے کے لیے انہی میں سے انہی کی زبان بولنے والا ایک ہدایت دینے والا مقرر کردیا پھر اس کو اپنے بہترین احکامات قرآن کی صورت میں دیئے۔ اور پھر نبی اکرم ﷺ کو بھی ان کی ڈیوٹی سمجھا دی کہ تمام بگڑے ہوئے انسانوں کو راہ راست دکھائو اور ان کو بتائو کہ یہ دنیا ختم ہونے والی ہے اس کے بعد تم دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے اور وہاں تمہارا حساب کتاب لیا جائے گا اور پھر اس کے مطابق انعام یا سزا دی جائے گی۔ یہ سب حقیقتیں لوگوں کو بتائو پھر اگر ان میں تھوڑا سا رجحان بھی نیکی کا پایا گیا تو اللہ اس کے لیے نیکی کی راہیں آسان کر دے گا لیکن جو اکڑ کر ہٹ دھرمی اور نافرمانی اختیار کرے گا تو اللہ اس کے لیے نیکی کی راہیں مشکل اور ناممکن کر دے گا۔ یہاں پھر اللہ کے دو صفاتی نام بتائے گئے ہیں۔ ” العزیز الحکیم “ یعنی سب پر غالب اور حکمت والا۔ اسی لیے اللہ نے اپنا پکا اصول بتا دیا ہے۔ کہ نیک کے لیے نیکی کے راستے اور برے کے لیے برائی کے راستے اللہ آسان کردیتا ہے اور اس میں کوئی زبردستی نہیں جدھر چاہو چلے جاؤ یہی تو امتحان ہے انسان کا۔ جس کا بدلہ آخرت میں ملے گا۔
Ayahs 14:5–23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ اور ان کو اللہ کے دن یاد دلائو اور اس میں ان لوگوں کے لیے جو صابر و شاکر ہیں ( اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ ” اللہ نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں ان کو یاد کرو جب کہ تم کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی، وہ لوگ تمہیں بڑی بڑی سزا دیتے تھے، تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی سخت آزمائش تھی

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور جب تمہارے رب نے تم کو آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو یاد رکھو کہ میرا عذاب بھی سخت ہے۔

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم اور جتنے اور لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ناشکری کرو تو اللہ بےنیاز اور قابل تعریف ہے۔

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

بھلا تم کو ان لوگوں کے حالات کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے، یعنی نوح کی قوم، عاد اور ثمود اور جو ان کے بعد تھے، جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ جب ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیے (کہ خاموش رہو) اور کہا ہم تو تمہاری رسالت کو مانتے نہیں اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے بڑے شک میں ہیں۔

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے پیغمبروں نے کہا کیا تم کو اللہ کے بارے میں شک ہے، جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، وہ تمہیں اس لیے بلاتا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے اور فائدہ پہنچانے کے لیے ایک مقررہ مدت تک تمہیں مہلت دے، وہ بولے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تم یہ چاہتے ہو کہ جن چیزوں کو ہمارے بڑے پوجتے رہے ہیں ان کی پوجا سے ہم کو منع کر دو ، تو اچھا کوئی کھلی دلیل (معجزہ) لائو۔

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

پیغمبر نے ان سے کہا کہ ہاں ہم ! تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (نبوت دیتا ہے) احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر تم کو تمہاری فرمائش کے مطابق معجزہ دکھائیں اور اللہ پر ہی مومنوں کو بھروسا رکھنا چاہیے۔

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہم کیوں کر اللہ پر بھروسا نہ رکھیں جب کہ اس نے ہم کو ہمارے دین کے سیدھے راستے بتائے ہیں، اور جو تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو ہم اس پر صبر کریں گے اور بھروسا کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ یا تو ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا تم ہمارے مذہب میں داخل ہوجاؤ۔ تو اللہ رب العزت نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ان کے بعد تم کو اس زمین میں آباد کریں گے، یہ اس شخص کے لیے ہے جو قیامت کے دن میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے اور میرے عذاب سے خوف کھائے۔

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور پیغمبروں نے اللہ سے اپنی فتح چاہی تو ہر سرکش ضدی نامراد رہ گیا۔

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

اور وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پیے گا اور گلے سے نہیں اتار سکے گا، اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا۔ اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا۔

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال راکھ سی ہے کہ آندھی کے دن ان پر زور کی ہوا چلے اور اسے اڑا لے جائے، اسی طرح جو کام وہ کرتے ہیں اس میں کچھ بھی نہ پاسکیں گے یہی تو پرلے درجہ کی گمراہی ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے ؟ اگر وہ چاہے تو تم کو ختم کر دے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق پید اکر دے۔

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور قیامت کے دن سب لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے پھر کمزور اپنے سے بڑائی والوں سے کہیں گے ہم تو تمہارے تابع تھے کیا تم ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا سکتے ہو ؟ وہ کہیں گے کہ اگر اللہ ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے اب ہمارے لیے برابر ہے بےقراری کریں یا صبر کریں ہمارے لیے رہائی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

جب حساب کتاب کا کام ہوچکے گا تو شیطان کہے گا کہ جو وعدہ اللہ نے تم سے کیا تھا وہ سچا تھا اور جو وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا، اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہ تھا، ہاں میں نے تم کو گمراہی کی طرف بلایا تو تم نے جلدی سے میری بات مان لی، تو آج مجھے ملامت نہ کرو اپنے آپ ہی کو ملامت کرو، نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے، بیشک جو ظالم ہیں ان کے لیے درد دینے والا عذاب ہے۔

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ بہشتوں میں داخل کیے جائیں گے، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں ان کی ملاقات کا تحفہ سلام ہے

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں ہوسکتا کیونکہ جب تک ہدایت کا راستہ بتانے والاقوم کی زندگی، رہن، سہن عادات، زبان اور زندگی کے تمام مسائل سے واقف نہ ہو وہ ان کی مکمل طور پر رہنمائی نہیں کرسکتا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے تو عرب کو منتخب کیا، پھر ان کی زبان کو اور پھر ان ہی میں سے بہترین متقی صالح اور خوش اخلاق و خوش کردار انسان حضرت محمد ﷺ کو پیغمبر منتخب کیا۔ اللہ تو مدبر ہے اس کی تدبیروں کا ہم احاطہ نہیں کرسکتے مگر پھر بھی سمجھ یہ آتا ہے کہ عربی زبان تمام زبانوں سے زیادہ جامع، پر اثر اور شیریں زبان ہے۔ چند جملوں میں بڑے بڑے مسائل ادا ہوجاتے ہیں۔ دوسرا، عرب، ایشیا اور افریقہ کے وسط میں واقعہ ہے۔ یورپ کا جنوبی حصہ جو اس وقت زیادہ آباد حصہ تھا وہ عرب کے انتہائی قریب ہے۔ اگرچہ عربوں میں دنیا کی تمام اخلاقی برائیاں، مذہبی بےراہروی اور جہالت و خونخواری کے تمام برے اوصاف موجود تھے مگر کچھ خصلتیں ان کی قابل تعریف بھی تھیں، مثلاً بہادر، نڈر، مہمان نواز، عہد کے پکے، جفا کش، محنتی، سادگی پسند اور فن تقریر میں ان کا کوئی مقابلہ نہ کرسکتا تھا۔ عربی زبان اس وقت بھی دنیا کی مکمل ترین زبان تھی اور آج بھی ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد ان میں مذہبی لحاظ سے بالکل غلط رجحان پیدا ہوچکا تھا۔ اسی لیے ان لوگوں کی بنیادی صفات کو زنگ، گردو غبار اور کفر و شرک کی غلاظت سے پاک صاف کر کے ایمان کی روشنی اور چمک دینے کے لیے انہی میں سے حضرت محمد ﷺ کو چن لیا گیا کہ وہ ان لوگوں کو گناہ کے اندھیروں سے نکال کر ایمان و توحید کی روشنی کی طرف لے آئیں۔ آپ ﷺ نے اس کام میں جو جو مشقتیں، تکلیفیں اور پریشانیاں اٹھائیں وہ آپ سب کو معلوم ہوچکی ہیں اور یہ مشقتیں ہر پیغمبر کو اٹھانی پڑی تھیں۔ مگر کیونکہ وہ اللہ کے مقبول ترین اور بہترین تعلیمات دینے والے تھے۔ اللہ نے ہر وقت ہر صورت اور لحاظ سے ان کی مدد کی اور ان کو کامیاب و کامران کیا۔ جن لوگوں نے ان کو تنگ کیا اور توحید کی تعلیمات کو چھوڑ کر شرک و کفر کی راہیں اختیار کیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بچا لیا مگر ان لوگوں کو تباہ و برباد کر کے زمین کو پاک صاف کردیا اور پھر وہاں نئی مخلوقات کو آباد کردیا یہاں مشہور قوموں کی مثال دی گئی ہے۔ یعنی قوم نوح، عاد، ثمود اور دوسری اقوام۔ اسلام کے بنیادی اصول یہ ہیں کہ اللہ ایک ہے محمد ﷺ آخری نبی ہیں قرآن اللہ کی کتاب ہے جس میں آخرت کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے۔ حقوق العباد، حقوق اللہ اور تمام اوصاف حمیدہ کو اپنانے سے عرب جیسی وحشی قوم دنیا کی سردار قوم بن گئی۔ آخرت کا تصور اور اس پر یقین انسان کو سدھارنے کے لیے بہترین ذریعہ ہے۔ جب ایک شخص کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کا امتحان ہوگا اور اللہ کی نگہبانی اتنی سخت ہے کہ دھوکہ دہی چیٹنگ کا کوئی امکان ہی نہیں تو پھر کون ایسا بیوقوف ہے کہ جو اعمال و کردار اور اعتقادات میں کمی بیشی کرے گا۔ پھر امتحان کے بعد رزلٹ بھی یقینی اور بالکل انصاف کے ساتھ دیا جائے گا۔ مسلمان کو معلوم ہے کہ پکے اور سچے مسلمان کو جنت الفرودس میں جگہ ملے گی مرنے کے بعد زندگی اس کے اعمال کے مطابق ملے گی۔ کفر و شرک کرنے والے کو دوزخ میں جگہ ملے گی جہاں پینے کو پیپ، کھانے کو تھوہر (براکھانا) اور رہنے کو آگ کا بدترین ٹھکانا ملے گا۔ یہ سب انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوگا۔ اچھے اعمال اپنے ہی کام آتے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بندے کے اعمال کا اللہ کو نہ کوئی نقصان ہوتا ہے اور نہ فائدہ۔ اللہ کے قوانین پر عمل کر کے مسلمان بہترین قوم بن گئی۔ مگر پھر آہستہ آہستہ مسلمانوں نے دین میں سستی شروع کردی اور پھر جب اٹھارھویں صدی کے وسط میں بنگال میں انگریز حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے بھی مسلمانوں کے کردار کی تعریف میں یوں کہا کہ مسلمان چوری نہیں کرتا، جھوٹ نہیں بولتا اور جھوٹی گواہی نہیں دیتا۔ یعنی مر مٹنے کے بعد بھی کچھ اخلاقی اچھائیاں مسلمان میں موجود رہیں، جن کو انگریزوں نے ختم کرنے کے لیے ہر طریقہ استعمال کیا۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ اور آخرت پر اعتقاد ہمارے قانون، معاشی نظام، تہذیب و تمدن اسلامی تعلیمات کو ہر صورت ختم کرنے کی کوشش کی گئی اور یوں مسلمان شیطان کی حکومت میں آکر اپنی تمام خوبیوں کو بدیوں میں بدل بیٹھا اور اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ قیامت کے دن کوئی بھی سفارش اور کوئی بھی لیڈر کام نہ آئے گا۔ صرف اپنا اعمال نامہ اپنا عقیدہ اور اپنا ایمان ہی کام آئے گا۔ جبکہ کفر و شرک اور برے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے راکھ سے تشبیہ دی ہے کہ ہوا کے جھونکے سے اڑ جاتی ہے اور اس کا مالک بالکل خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ قرآن پاک میں اکثر بات کی وضاحت مثال دے کر کی جاتی ہے تاکہ انسان کو سمجھنے میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ یہ تو تمام دنیا کے لیے اور دنیا کے ختم ہونے تک کے لیے راہ ہدایت کا سرچشمہ قرآن پاک انسان کو دیا گیا ہے۔ اگلی آیات میں قرآنی تعلیمات کو مزید مثال دے کر سمجھایا گیا ہے۔
Ayahs 14:24–30

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے پاک کلمے کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے وہ ایسی ہے جیسے پاکیزہ درخت، جس کی جڑ مضبوط (زمین کو پکڑے ہوئے ہو) اور شاخیں آسمان میں ہوں۔

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا اور میوے دیتا ہو۔ اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور ناپاک کلمے کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مضبوط اور نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور وہ ہرگز مضبوط نہیں ہوتا۔

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

اللہ مومنوں کے دلوں کو ٹھیک اور پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے، اور آخرت میں بھی رکھے گا۔ اللہ بےانصافوں کو گمراہ کردیتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کے احسان کو ناشکری میں بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر اتارا۔

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

وہ گھر دوزخ ہے، سب ناشکرے اس میں داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک مقرر کیے کہ لوگوں کو اس کے راستے سے گمراہ کریں کہہ دو کہ چند روز فائدے اٹھا لو، آخر کار تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

اچھے کلمے اور برے کلمے کی مثال تشریح : جیسا اللہ کا کلام خوبصورت، فائدہ مند اور مکمل ہے اسی طرح اس کی دی ہوئی مثالیں بھی مقصد کو سمجھانے کے لیے انتہائی بہترین ہیں۔ اچھی بات صرف کہنے والے کے لیے ہی فائدہ مند نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات بھی بڑے گہرے اور نہ ختم ہونے والے اور ہر سننے والے کے لیے اتنے فائدہ مند ہوتے ہیں کہ جیسے ایک صحت مند مضبوط درخت کا سایہ اور پھل فائدہ مند ہوتا ہے۔ بیشمار لوگوں کو اس سے بیشمار اور دیر پا فائدے ملتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ رشد و ہدایت کی باتیں ہیں اور کفر و شرک کی باتوں کو اللہ نے سوکھے سڑے بدنما اور بھدے درخت سے تشبیہ دی ہے۔ جس کی نہ جڑ مضبوط نہ پھل نہ سایہ۔ قوموں کی تباہیاں ایک فرد کی وجہ سے بھی ہوجاتی ہیں جب کہ وہ ناشکری کرتا ہے۔ تباہی صرف دنیا میں ہی نہیں آخرت میں بھی ان کو آگ کا گھر ملتا ہے جو کہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ یہاں یہود و نصاریٰ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جنہوں نے ہمیشہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور علم سے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی بجائے نقصان پہنچایا۔ اس طرح کے بےشما رلوگ اس زمانہ میں بھی موجود ہیں اور آئندہ بھی موجود رہیں گے۔ نیکی و بدی تو ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو دنیا کی نعمتوں سے جائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ انہیں اللہ دنیا میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں بھی ثابت قدم رکھے گا۔ آخرت کی زندگی کا پہلا حصہ اور دور قبر ہے۔ یعنی قبر میں جب میت سے فرشتے سوال کرتے ہیں تو مومن وہاں بھی ثابت قدم رہے گا۔ ہر مسلمان کو چاہیے جب بھی بتی جلائے تو یہ کلمات پڑھے (السلام علیکم یا منکر نکیر اللھم ربی محمد نبی والاسلام دینا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ) منکر نکیرسوال جواب کے لیے قبر میں آئیں گے ان کی آنکھیں دئیے کی طرح روشن ہونگی مسلمان مردہ ان کو دیکھ کر خود ہی یہ کلمات کاملہ بول دے گا اور اس کی نجات ممکن ہوجائے گی۔ مگر جو لوگ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں گم ہو کر اللہ کا شکر ادا کرنا اور نیکی پر چلنا بھول جاتے ہیں اور دنیا میں اتنا زیادہ کھو جاتے ہیں کہ حرام، حلال، اچھائی برائی، خلوص محبت حتیٰ کہ اپنے پیدا کرنے والے کو بھی بھول جاتے ہیں تو ایسے نافرمان ناشکرے اور غافل لوگ اچھی طرح سمجھ لیں کہ مرنے کے بعد جب دوبارہ اللہ کے حضور پیش ہوں گے تو سوائے عذاب کے اور کچھ نہ ملے گا جو کہ بہت ہی برا انجام ہے۔ نعمتوں کا شکر اور گناہوں سے معافی، یعنی استغفار اللہ کو بہت پسند ہے۔
Ayahs 14:31–34

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ! ) میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ نماز پڑھا کریں اور اس دن کے آنے سے پیشتر جس میں نہ اعمال کا سودا ہوگا اور نہ دوستی کام آئے گی ہمارے دیے ہوئے مال میں سے درپردہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور آسمان سے مینہ برسایا، پھر اس سے تمہارے کھانے کے لیے پھل پیدا کیے، کشتیوں اور جہازوں کو تمہارے زیر فرمان کیا، تاکہ دریا اور سمندر میں اس کے حکم سے چلیں اور نہروں کو بھی تمہارے زیر فرمان کیا۔

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

سورج اور چاند کو تمہارے کام میں لگا دیا کہ دونوں دن رات ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ رات اور دن کو بھی تمہاری خدمت میں لگا دیا۔

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا اور اگر اللہ کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ( مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) یقینا انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے

صالح اعمال اور اللہ کے احسانات تشریح : یہ آیات مومن بندوں کو اس کی حیثیت، فرائض، اللہ کی وحدانیت، اس کے احسانات جو انسان پر کیے گئے اور تمام کائنات کا نقشہ بڑے ہی بہترین، جامع اور مختصر انداز میں بیان کر رہی ہیں۔ مخاطب پیارے رسول ﷺ کو کیا گیا ہے کہ ایمان لانے والے بندوں کو بتا دو کہ وہ اشرف المخلوقات ہیں اور زمین میں ان کو اللہ کا نائب بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اللہ جو مالک کائنات اور مالک روز جزا، منصف (انصاف کرنے والا) رحیم و جبار، سمیع وبصیر، غفور الرحیم اور ناظم اعلیٰ بادشاہوں کا بادشاہ ہے، ایسے عظیم الشان رب العلمین کا نائب یا خلیفہ ہونا کوئی معمولی بات نہیں، اس لیے انسان کو اپنے مالک کو پہچان کر اپنی پہچان بھی کر لینی چاہیے، سب سے پہلے تو ان فرائض کو خوش دلی سے پورا کرے جو اس کو اللہ کی طرف سے بتائے گئے ہیں مثلاً نماز قائم کرنا، صدقہ و خیرات کرنا۔ (ان کے بارے میں بڑے تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے) پھر اس کی توجہ ان تمام احسانات کی طرف کروائی گئی ہے جو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس پر کیے ہیں۔ وہ اتنے بیشمار اور بےمثال ہیں کہ اگر ان کو گنا جائے تو انسان گن نہ سکے۔ تو پھر انسان کو کیا مشکل ہے کہ اس قدر مہربان اور عظیم الشان رب العلمین کے دیے ہوئے احکامات کو پورا کرتے ہوئے اس کا شکر ادا نہ کرے اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کو بجا طور پر استعمال نہ کرے اور ان سے پورا پورا فائدہ نہ اٹھائے۔ انسان کا فرض ہے کہ اپنی نیابت الٰہی (اللہ کا نائب ہونا) کو سامنے رکھتے ہوئے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پوری تن دہی سے پورا کرے تاکہ آخرت میں بلند درجات حاصل کرسکے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بن جائے اللہ کا نائب اور زندگی گزارے شیطان کی فرمانبرداری میں۔ اگر ایسا کرے گا تو خود اپنا ہی نقصان کرے گا اس سے نہ تو اللہ کو کوئی نقصان ہوگا اور نہ ہی کائنات کو کوئی فرق پڑے گا۔ کیونکہ انسان کو کائنات اور اس کی ہر چیز کی ضرورت ہے۔ کائنات کو قائم رہنے کے لیے انسان کی ضرورت نہیں بلکہ کائنات کا نظام تو انتہائی منظم اور بہترین طریقہ سے اللہ تعالیٰ نے ترتیب دے رکھا ہے کہ انسان کو صدیاں گزر گئیں اس کو سمجھنے میں اور ابھی تک صرف الف۔ ب۔ ہی سمجھ سکا ہے۔ اور جو سیکھ سمجھ سکا ہے وہ بھی اتنا بیشمار ہے کہ گنتی میں لانا مشکل ہے۔ کل کائنات اور اللہ کے تمام احسانات کا تو کوئی حساب ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ناانصاف اور ناشکرا کہا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ انصاف سے کام نہیں لیتا کیونکہ اکثر لوگ مصیبت اور پریشانی میں اللہ کی دی ہوئی باقی تمام نعمتوں کو بھول کر موجودہ پریشانی یا مصیبت پر واویلا کرنے لگتے ہیں بجائے یہ سوچنے کے کہ اگر وقتی طور پر کوئی پریشانی آگئی ہے تو کوئی بات نہیں اللہ کی طرف سے آئی ہے ضرور اس میں بھی کوئی مصلحت ہوگی بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو آزمانے کے لیے بھی مشکلات میں ڈال دیتا ہے۔ تاکہ اس کے خلوص کو آزمائے اور باقی تمام ملی ہوئی نعمتوں کو یاد کر کے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا شکر ادا کرے وہ اللہ سے گلے شکوے کرنے لگتے ہیں۔ جب کہ مخلص مومن کی صفت ہے صَبَّارٌ اور شُکُوْرٌ یعنی صبر کرنے والا اور شکر کرنے والا کیونکہ پکا مسلمان مصیبت پر صبر اور راحت پر شکر ادا کرتا ہے مگر اکثر لوگ ایسا نہیں کرتے۔ جہاں بہترین زندگی گزارنے کے اور بہت سے اصول مسلمان کو قرآن پاک میں سکھائے گئے ہیں وہاں یہ بھی ایک بہت بڑا اصول بتایا گیا ہے کہ صبر اور شکر ہماری زندگیوں کو آسان اور پر سکون بناتے ہیں۔ ” مصیبت پر صبر کرنا عبادت ہے۔ “ (نسائی) ایک اور جگہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ” جو پریشان ہو اس نے گویا صبر نہیں کیا۔ “ (مسلمان کو چاہیے کہ دنیاوی امور میں ہراساں نہ ہو اور اللہ پر توکل رکھے) ۔ (ابن عساکر)