14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 14:35–41

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ میرے رب ! اس شہر کو لوگوں کے لیے امن کی جگہ بنا دے مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھ۔

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

(اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ) اے میرے رب ! انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے، سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے، اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے میرے رب ! میں نے اپنی اولاد (میدان مکہ میں) جہاں کھیتی نہیں ہوتی تیرے عزت و ادب والے گھر کے پاس لا بسائی ہے، اے میرے رب ! تاکہ وہ نماز قائم کریں تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میووں سے روزی دے تاکہ تیرا شکر کریں۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے اللہ ! جو بات ہم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں تو سب جانتا ہے اور اللہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔ بیشک میرا رب دعاؤں کا سننے والا ہے۔

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے اللہ ! مجھے ایسی توفیق دے کہ نماز قائم کرتا رہوں اور میری اولاد کو بھی یہ توفیق بخش، اے رب العلمین ! میری دعا قبول فرما۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

اے اللہ ! حساب کتاب کے دن مجھے اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو بخش دینا۔

جد الانبیاء سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں تشریح : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) اور اپنی بیوی حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) کو اللہ کے حکم سے وادیٔ فاران کے ایک چٹیل میدان میں چھوڑ آئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر یہاں اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ پچھلی آیات میں شرک کی مذمت اور توحید کی تعریف کا بیان تھا تو یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حنیف کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ آپ کو حنیف کا لقب ملا۔ حنیف، یعنی یکسو ہو کر عبادت کرنے والا صرف اور صرف اللہ سے لو لگا کر اسی کی عبادت کرنے والا۔ کیونکہ آپ نے توحید کے سبق کو سب سے زیادہ محنت اور کامیابی سے پھیلایا، اس لیے دین ابراہیمی کو دین حنیف کہا گیا ہے۔ آپ کو نبیوں میں یہ ربتہ بڑی مشقت اور آزمائشوں سے گزرنے کے بعد ملا تھا۔ جیسا کہ آپ کے بارے میں پہلے بھی بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ آپ کی بہت بڑی آزمائشوں میں سے ایک بڑی آزمائش یہ ہے کہ آپ نے اپنے بچے اور بیوی کو بیابان میں چھوڑ دیا صرف اللہ کے سہارے۔ اور اللہ سے ان کی اور تمام مسلمانوں کی اور شہر مکہ کے لیے دعائیں کی۔ دعا تو سب انسان ہی مانگتے ہیں مگر پیغمبروں کے دعا کرنے کا انداز اور سلیقے میں فرق ہوتا ہے جیسا کہ آپ نے دعا کی۔ آپ کی دعا کے دو جز ہیں ایک یہ کہ مکہ کو مکمل امن و سکون کی جگہ بنا دے اور دوسرے یہ کہ میری تمام اولاد کو بت پرستی سے ہمیشہ کے لیے دور رکھنا۔ یہ دونوں ہی باتیں انسانی زندگی کی نجات کا ذریعہ ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کیونکہ جب تک دل و دماغ کو اور روح کو امن و سکون حاصل نہ ہو دنیاوی مال و دولت سکون کا باعث نہیں بن سکتے۔ انہوں نے اولاد کے لیے ایمان اور امن و سکون کی دعا کی۔ معلوم ہوا کہ باپ کے فرائض میں اولاد کی اصلاح بھی شامل ہے۔ پھر دعا کرتے ہیں کہ میں نے اپنی پوری آل اولاد کو بت پرستی سے دور رہنے کی سخت تاکید کردی ہے۔ تو اب جو میری راہ اختیار کریں گے، یعنی توحید پر قائم رہیں گے وہ تو میرے ہوں گے اور جو اس راہ سے ہٹ کر کفر و شرک اور بت پرستی اختیار کریں گے تو پھر وہ ہم میں سے نہ ہوں گے۔ تو ایسے لوگوں کے لیے آپ دعا کرتے ہیں کہ ” جو میرا کہلا کر میرے راستے سے ہٹ گیا وہ گمراہ ہوگیا، اس کا معاملہ تیرے ساتھ ہے تو ہی ان سب کا والی ہے تو رب ہے اور تیری صفت غفور رحیم ہے۔ تیسری دعا آپ یہ کرتے ہیں کہ اے الہ العلمین میں نے اپنی اولاد کو تیرے سہارے خانہ کعبہ کے پاس ویران صحرا میں اس لیے چھوڑ دیا ہے کہ وہاں نماز قائم کریں۔ اب آپ ہی لوگوں کی توجہ اس جگہ کی طرف کروائیں یعنی آبادی کے سامان کردیں اور ان کے کھانے پینے کے لیے بہترین اسباب پیدا کردیں۔ تاکہ یہ لوگ امن و سکون سے رہیں اور آپ کے شکر گزار بندے بن کر پاکیزہ زندگیاں گزاریں۔ اللہ کے ہر کام اور ہر حکم میں حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ آپ کی آزمائش کے علاوہ دوسری حکمت خانہ کعبہ کی تعمیرحضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کروانا مقصود تھی کیونکہ بیت اللہ طوفان نوح میں بےنشان ہوگیا تھا تو اس کی دوبارہ تعمیر آپ سے کروائی۔ امام قرطبی (رح) تعالیٰ نے سورة بقرہ کی تفسیر میں ثابت کیا ہے کہ سب سے پہلے بیت اللہ کی تعمیر حضرت آدم (علیہ السلام) نے کی تھی، جب ان کو زمین پر اتارا گیا۔ آپ اور آپ کی اولاد اس کا طواف کرتے تھے۔ طوفان نوح کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہی پرانی بنیادوں پر خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ پھر عرب کے جاہلیت کے زمانہ میں یہ گھر تقریباً ختم ہوگیا تھا جس کی تعمیر قریش نے دوبارہ کی۔ اس تعمیر میں ابوطالب اور حضرت محمد ﷺ نے نبوت سے پہلے حصہ لیا۔ اور اب وہ مسجد حرام مسلمانوں کا مرکز اور ارکان اسلام میں سے ایک بڑے رکن ” حج “ کا مقام بنا ہوا ہے۔ اور یہ انعام ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے شیر خوار بچے اور بیوی کو وہاں بیابان میں چھوڑ دیا تو پھر مڑ کر ان کی طرف نہ دیکھا۔ مگر دل تو فکر اور جدائی سے بےچین تھا تو پھر دعا فرمائی کہ یا اللہ ! آپ تو ہماری ظاہری اور اندرونی ہر قسم کی پریشانی سے خوب واقف ہیں کیونکہ آپ تو علیم وخبیر ہیں۔ (جاننے والے خبر رکھنے والے) آپ کا علم تو اس قدر وسیع اور مکمل ہے کہ آپ تو آسمان و زمین کی ہر ہر چیز کا ہر وقت ہر صورت میں علم رکھتے ہیں۔ پھر دعا مانگنے کا ایک بہترین ادب اس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سکھایا کہ پہلے اس کی دی گئی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے جیسا کہ آپ نے دعا سے پہلے اپنی اس نعمت کا شکریہ ادا کیا فرماتے ہیں ” شکر ہے اس ذات والا کا جس نے بڑھاپے میں مجھے نیک اولاد اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کی صورت میں عطا کی اور پھر دعا کی کہ ہم سب کی حفاظت کرنا کیونکہ آپ دعائوں کو سننے اور پورا کرنے والے ہیں۔ پھر دعائوں میں مشغول ہوگئے اور فرمایا ” اے اللہ ! مجھے اور میری آل اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا دینا “ اور پھر یہ دعا کہ ” اے ہمارے رب ! مجھے میری آل اولاد کو اور تمام مومنین کو قیامت کے دن بخش دینا۔ “ تمام آیات کو پڑھنے کے بعد سب سے بڑا سبق یہ ملتا ہے کہ بار بار عجزو انکساری سے دعا کی جائے نعمتوں اور برکتوں کا شکر ادا کیا جائے اور اللہ کی تعریف و تسبیح کی جائے تو دعا کی قبولیت یقینی ہوجاتی ہے۔ حدیث میں دعا کی اہمیت یوں بیان کی گئی ہے۔ ” دعا عبادت ہے۔ “ (سنن ترمذی) ایک اور حدیث میں آتا ہے۔ ” دعا مومن کا ہتھیار ہے، دین کا ستون اور آسمان و زمین کی روشنی ہے۔ “ مکہ مکرمہ کی تمام رونقیں، سعادتیں، خانہ کعبہ کی برکت، آب زمزم اور مقام حج، ارکان حج یہ سب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائوں اور آزمائشوں میں پورا اتر کر ایک بہترین مسلم ہونے کی یاد گار میں ہی کیا جا رہا ہے اور تاقیامت کیا جاتا رہے گا۔ توکل، بندگی اور فضل الٰہی طلب کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ” دعا “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں یہ عالمگیر دعائیں ہیں، اور تمام دنیا کے مسلمان اپنی نمازوں میں یہ دعائیں خاص طور سے مانگتے ہیں۔ ان دعائوں کی یہ بھی ایک بہت بڑی فضیلت ہے کہ تا قیامت یہ دعائیں پڑھی جاتی رہیں گی۔
Ayah 14:42

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

اور مومنو ! مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں اللہ ان سے بیخبر ہے، وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ دہشت کے سبب آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

ظالموں کو مہلت دی گئی ہے تشریح : سورة ابراہیم (علیہ السلام) کا آخری رکوع ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اللہ سے غافل کفر و شرک کی غلاظت میں پھنسے ہوئے ہیں ان کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ اس عمل سے وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ بس یہی زندگی ہے ان کو یہ معلوم نہیں کہ یہ زندگی تو صرف ایک مہلت کا زمانہ ہے جو اللہ نے ان کو دے رکھا ہے ان کو یہ احساس ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو پوری طرح دیکھ رہا ہے اور جب وہ دن، یعنی قیامت کا دن آئے گا تو اس وقت دہشت اور حیرانگی سے ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ اور وہ کچھ نہ کرسکیں گے کیونکہ مہلت کا وقت ختم ہوچکا ہوگا۔ اگلی آیات میں قیامت کا نقشہ بڑے ہولناک انداز میں کھینچا گیا ہے۔ تاکہ لوگ ہوشیار ہوجائیں اور نیکی کی راہ اختیار کریں۔
Ayah 14:43

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

اور لوگ سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور ان کے دل مارے خوف کے ہوا ہو رہے ہوں گے

قیامت کے دن لوگوں کا حال تشریح : اس آیت میں قیامت کے دن کی سختی بیان کی گئی ہے۔ مسلمان اور نیکوکار لوگ بھی دہشت زدہ ہوں گے مگر اس قدر نہیں کہ جس قدر منکرین دین خوف زدہ ہوں گے کیونکہ ان کے لیے یہ سب حالات بالکل اچانک ہوں گے۔ ان کا حال اللہ نے قرآن پاک میں اس طرح بیان کیا ہے کہ وہ کفار لوگ بےتحاشہ بھاگتے چلے جائیں گے صرف آگے دیکھیں گے پیچھے نہ دیکھیں گے دہشت اور خوف سے ان کے دل دہل رہے ہوں گے اور ان کو کچھ بھی سوجھ نہ رہا ہوگا کہ وہ دائیں بائیں دیکھیں، بس ٹکٹکی لگائے دوڑے چلے جائیں گے۔ انہی لوگوں کے بارے میں اگلی آیات میں اور بھی وضاحت کی جا رہی ہے۔
Ayahs 14:44–52

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کر دو جب ان پر عذاب آجائے گا۔ تب ظالم لوگ کہیں گے ” اے ہمارے رب ! ہمیں تھوڑی مدت مہلت کی عطا کر دے، تاکہ تیری دعوت ( توحید) قبول کرلیں، اور (تیرے) پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تم کو (اس حال سے جس میں تم) ہو زوال (اور قیامت کو اعمال کا حساب) نہیں ہوگا۔

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے، تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے، اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح کا معاملہ کیا تھا، اور تمہارے (سمجھانے کے) لیے مثالیں بیان کردی تھیں۔

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

اور انہوں نے بڑی بڑی تدبیریں کیں اور ان کی سب تدبیریں اللہ کے ہاں لکھی ہوئی ہیں، گو وہ تدبیریں ایسی غضب کی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

تو ایسا خیال نہ کرنا کہ اللہ نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا۔ بیشک اللہ زبردست بدلہ لینے والا ہے۔

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی بدل دیے جائیں گے اور لوگ زبردست اکیلے اللہ کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

اور اس دن آپ گنہگاروں کو دیکھیں گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader

ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور ان کے مونہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی۔

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ اللہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader

یہ قرآن لوگوں کے نام اللہ کا پیغام ہے تاکہ ان کو اللہ سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے، اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں۔

قیامت کا منظر اور مجرموں کا انجام تشریح : یہ ایک سچی اور پکی حقیقت ہے اور بہت بڑا راز ہے جو قرآن پاک کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بتایا ہے اور قرآن پاک حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔ کوئی شخص یہ کہہ کر بری نہ کیا جائے گا کہ مجھے تو پتہ ہی نہ چلا کہ توحید کیا ہے آخرت کیا ہے ؟ کیونکہ توحید کی تعلیم اور آخرت کی خبر ہر زمانے میں شروع دنیا سے ہی رسولوں کے ذریعہ دی جاتی رہی ہے۔ ہر زمانے کی عقل و فہم کے مطابق لوگوں کو تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ آخری زمانہ میں جب کہ لوگوں کی عقل و فہم نسبتاً مضبوط اور معقول ہوچکی تھی تو نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کو ہادی اور رہبر انسانیت بنا کر بھیجا گیا جس میں ” دنیا و آخرت کا ذکر ایک سو پندرہ دفعہ کیا گیا ہے۔ زندگی اور موت کا ذکر ایک سو پینتالیس دفعہ آیا ہے۔ “ یہ دریافت ڈاکٹر طارق السوا دن Dr. Tariq Al Swaidon کی ہے۔ پھر بار بار پچھلی قوموں کے حالات اور انجام کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ ان سے عبرت حاصل کریں اور اللہ پر ایمان لے آئیں۔ گزری ہوئی قوموں کے تباہ شدہ گھروں اور وادیوں میں خود یہ لوگ رہ رہے ہیں پھر بھی ان کو سمجھ نہیں آتی کہ نیکی اختیار کریں اور دنیا و آخرت کے عذاب سے بچیں۔ افسوس ہے ان لوگوں پر جو عقل سمجھ رکھتے ہوئے بھی اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر نیکی اختیار نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو ایسے ہی لوگوں کو ظالم کہا گیا ہے۔ مگر ان کا ظلم خود ان کے لیے اپنے اوپر ہو رہا ہے اور قیامت کے دن بھی بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جس کا تھوڑا سا نقشہ اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں کھینچ رہے ہیں : ” اور اس دن آپ گنہگاروں کو دیکھیں گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ “ ( سورة ابراہیم آیت : 49 ) آیت 50 میں فرمایا : ” ان کے کرتے گندھک جس کی خاصیت ہے کہ فوراً آگ پکڑتی ہے کے ہوں گے اور ان کے مونہوں کو آگ لپیٹ رہی ہوگی۔ “ یہ فرمان اور یہ خبر قرآن پاک میں اللہ بزرگ و برتر کی دی ہوئی ہے جو ضرور ہوگی اور جو بالکل اٹل اور ضروری ہے۔ جب چاہے گا اپنے مقرر کیے ہوئے پروگرام کے مطابق قیامت کا حکم دے گا اور قیامت آجائے گی اور تب ” یہ زمین اور آسمان دوسری زمین اور دوسرے آسمان سے بدل دی جائے گی اور لوگ زبردست اللہ کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔ “ ( سورة ابراہیم آیت 48 ) ویسے تو قرآن کا بتا دینا ہمارے لیے کافی ہے مگر اب تو سائنس نے بھی اس حقیقت کو ثابت کردیا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ دوبارہ زندہ ضرور کیے جائیں گے، اس لیے وقت ہے کہ دنیا سنوار لیں اور آخرت کما لیں۔ اس موضوع پر ڈاکٹر دلدار احمد قادری صاحب (جو کہ نہ صرف مستند سائنس دان ہیں بلکہ قرآن و حدیث سے بھی پوری طرح واقفیت رکھتے ہیں) اپنی کتاب ” کائنات قرآن اور سائنس “ میں بڑے خوبصورت انداز میں لکھتے ہیں۔ ” یہاں ہمارا موضوع بحث یہ نہیں کہ انجام کائنات کے متعلق سائنس کیا کہتی ہے بلکہ ہمارا موضوع یہ ہے کہ اس بارے میں قرآن کیا کہتا ہے۔ “ موصوف لکھتے ہیں ” قرآن میں کائنات کے متعلق آیات کثرت سے پوری کتاب میں بکھری ہوئی ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کائنات کے اختتام کے متعلق آیات خاص طور سے قرآن کے آخری پاروں میں موجود ہیں، گویا قرآن کا آخر کائنات کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتا ہے۔ ، ، مزید لکھتے ہیں کہ ” جدید Cqsmodlogy کی دریافتیں ان تمام قرآنی آیات کے ساتھ مکمل طور پر مطابقت رکھتی ہیں جو جدید تصور کائنات کی پیدائش سے بہت پہلے چودہ سو سال قبل پیش کیے گئے تھے۔ “ پھر لکھتے ہیں کہ ” سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگر کائنات میں کافی مقدار مادہ یا کمیت (Mass) ہوئی تو کشش ثقل کے باعث ایک مقام پر پہنچ کر کہکشائوں کے ایک دوسرے سے دور بھاگنے کا عمل رک جائے گا اور کائنات سکڑنا شروع ہوجائے گی اور بالآخر کائنات ایک نقطے پر ڈھیر ہوجائے گی۔ اس انجام کو بگ کرنچ (Big Crunch) کہا جاتا ہے۔ خیال ہے کہ بگ کرنچ کے بعد ایک نیا بگ بینگ واقع ہوگا (جیسا کہ دنیا کے ابتدائی وجود پر بگ بینگ ہوا تھا) اور پھر ایک نئی کائنات وجود میں آئے گی جو کہ موجودہ کائنات سے بالکل مختلف بھی ہوسکتی ہے۔ “ یہ سب تو سائنس کے تجربات ہیں جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں مگر قرآن پاک میں بتائے گئے اشارات جو کائنات کے بارے میں کیے گئے ہیں ہرگز بدل نہیں سکتے، بلکہ وہ تو اٹل ہیں۔ جیسا کہ سائنس دان نئی دنیا کی تخلیق کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کرسکے۔ مگر قرآن پاک میں سورة ابراہیم کی آیت 48 میں بڑے ہی واضح الفاظ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی بدل دیے جائیں گے اور لوگ زبردست اللہ کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔ “ اس سے بڑا اور کون سا ثبوت چاہیے ؟ جب انسان ان تمام حقیقتوں اور ہونے والے واقعات کو اس قدر سچائی کے ساتھ سن اور پڑھ لیتا ہے تو پھر اور کون سی ایسی بات رہ جاتی ہے کہ جو اس کو گناہوں سے دور کرسکے۔ موت کا یقین اور موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے اپنے اعمال کا حساب کتاب دے کر سزا یا جزا پالینا اور پھر وہ سزا یا جزا اس دنیا کی طرح ختم ہونے والی نہ ہوگی کیونکہ وہ زندگی ہمیشہ کی زندگی ہوگی۔ ہم ہر وقت اس حقیقت کو دیکھتے رہتے ہیں کہ لوگ مرجاتے ہیں اور ان کا تمام سامان، کپڑے، زیور، روپیہ پیسہ، جائیداد بیوی اور بچے تمام عزیز و اقارب سب کچھ یہاں اس دنیا میں رہ جاتا ہے۔ صرف ایک کفن میں لپیٹ کر میت کو زمین کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ مگر اس کی روح اور اس کا اعمال نامہ (جو ہمیں دکھائی نہیں دیتا) اس میت کے ساتھ عالم برزخ میں چلا جاتا ہے۔ بس وہی اس کا مال و متاع ہوتا ہے جو اس کو آخرت کی زندگی میں عیش دلوا سکتا ہے یا عذاب دلوا سکتا ہے۔ تو ثابت ہوا کہ ہمیں اپنی زندگی قرآن و سنت کی روشنی میں گزارنی چاہیے۔ تاکہ مرنے کے بعد جنت میں عیش و آرام کی زندگیاں گزار سکیں۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق دے آمین۔ الحمدللہ سورة ابراہیم اختتام کو پہنچی۔ امید ہے اس سورت کے تمام مقاصد پڑھنے والوں پر اچھی طرح واضح ہوگئے ہوں گے۔ بتایا گیا ہے کہ دنیا اور اس کی ہر چیز انسان کے لیے بنائی گئی ہے۔ رسول پیغمبر اس کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے تاکہ انسان گمراہ ہو کر حد سے نہ بڑھ جائے اور اپنی یہ زندگی اور آخرت کی زندگی خراب نہ کر بیٹھے۔ تو یہ سب کچھ عقلمند لوگوں کے لیے ہے۔