Ayah 13:1قرآن کی حقانیت اور منزّل من اللہ ہونے کی دلیل
تشریح : اس سورت کا آغاز حروف مقطعات سے کیا گیا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ آیات مبارکہ اس کتاب کی ہیں جو بالکل سچ اور حق ہے اس میں رشدو ہدایت دنیا و آخرت اور حق و باطل کو ایسے بہترین انداز سے واضح کر کے سمجھا دیا گیا ہے کہ ایسا کلام پیش کرنا کسی بہترین عالم و فاضل اور لائق فائق انسان کے بس کی بات نہیں۔ اس کتاب میں زندگی کے حقائق اس خوبصورتی سے بیان کیے گئے ہیں کہ ایک عام عقل رکھنے والا انسان بھی اس کی حققیت کو سمجھ سکتا ہے اور اگر ایک عالم و فاضل، پڑھا لکھا سائنسدان، انجینئر، محقق اس کو گہری نظر سے سوچ سمجھ کر پڑھے تو وہ اس میں سے بیشمار راز جو کائنات میں چھپے ہوئے ہیں ڈھونڈ کر انسانیت کی مزید سہولیات کے لیے دنیا کے سامنے پیش کرسکتا ہے، مثلاً (1) توحید الٰہی (2) تصور آخرت، جزا و سزا (3) وحی الٰہی۔ ان تینوں اعتقادات کے مطابق انسان بہترین زندگی گزار کر آخرت میں انعام کا مستحق بن سکتا ہے اسی لیے یہ قرآن پاک بالکل سچی کتاب ہے۔ کہ اس میں ازل سے ابد تک کے تمام وہ راز بتا دیے گئے ہیں جو کسی بھی سائنس دان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوسکتے۔ کوئی نہیں ثابت کرسکتا کہ روح کیا ہے ؟ آخرت میں کیا ہوگا ؟ دنیا کب شروع ہوئی اور کب اس کا خاتمہ ہوجائے گا ؟ مگر قرآن پاک میں ان تمام رازوں کو بڑے اچھے انداز سے اشاروں کنایوں میں بتا دیا گیا ہے۔ پھر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہی تمام باتیں ان کفار کے لیے ناقابل یقین ہیں کیونکہ ان کے لیے اللہ کا واحد ہونا اس کا قادرمطلق ہونا، وحی کے ذریعے قرآن پاک کا نازل ہونا اور نبی اکرم ﷺ کا اللہ کا رسول ہونا، یہ سب ان کی عقل سے باہر ہے، اس لیے اکثر لوگ آپ پر ایمان نہیں لاتے۔ کیونکہ ان لوگوں کے مشاہدات، اعتقادات اور نظریات بالکل متفرق ہیں جبکہ دین اسلام ایک ایسی سچائی ہے کہ جو تحقیقات، تجربات اور علوم و فنون کی زیادتی سے اور بھی زیادہ نکھرتی چلی جا رہی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ ان تمام کاموں میں اللہ، رسول اور قرآن پر پکا یقین ہو۔ کیونکہ اس یقین کے بغیر ہر علم، ہر تحقیق اور ہر تجربہ اللہ اور اس کے دین کی نفی کرتا ہے۔ جاہل لوگ تو اس لیے انکار کرتے ہیں کہ انہوں نے آنکھ ہی ایسے ماحول میں کھولی کہ جہاں بت پرستی، جانور پرستی، ستارہ پرستی وغیرہ کی جاتی تھی۔ بجائے اس کے کہ وہ ان تمام چیزوں کو دیکھ کر اللہ کی موجودگی تک پہنچتے وہ اللہ کو ماننے سے ہی انکار کردیتے ہیں۔ مگر بیسویں صدی کی دوسری چوتھائی میں درجنوں مشہور مفکرین کے نام موجود ہیں جو اللہ کو مشاہدہ میں نہ ہونے کی وجہ سے اس سے انکار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دنیا کا نظام سائنسی کمالات سے خود بخود چل رہا ہے۔ وہ اتنا سمجھنے کی زحمت نہیں کرتے کہ آخر یہ سائنسی کمالات پیدا کس نے کیے ہیں ؟ مثلاً ہیوم، (Hume) مل (mill) رسل (Russel) اور جو لین ہکسلے اور پھر طبیعاتی دنیا کا ہیرو نیوٹن یہ سب نظام کائنات کو خود کار نظام بتاتے ہیں اور اللہ کے وجود سے انکار کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ وہ اپنی کم عقلی کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے۔ اگلی آیات میں اللہ کی حکمت، کاری گری اور بہترین، بےمثال اور لاجواب تخلیقات کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے۔
Ayahs 13:2–5اللہ کی تخلیقات اور آخرت کا انکار کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رب اور خالق ہونے کے دلائل بیان فرمائے ہیں اس دنیا کا اور تمام کائنات کا خالق اور قادر مطلق اللہ تعالیٰ ہے اس کی بنائی ہوئی تخلیقات انتہائی حیران کن ہیں اور انسان کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس کو چھت کے طور پر آسمانوں کا سایہ دیا، آسمان کی تخلیق اس قدر حیرت انگیز ہے کہ اس کی تعمیر کے لیے کسی ستون یا کھمبے کی ضرورت نہیں پڑی یہ بیان تو ایک عام، بےعلم انسان کے لیے ہے مگر علم و فضل رکھنے والے انسان کے لیے یہاں بہت بڑی سائنسی اصطلاح اور ایک بہت بڑا اصول بیان کردیا گیا ہے۔ کیونکہ جب آسمان، زمین، چاند اور سورج کے ہر وقت کے عمل پر غور کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ سب کچھ بغیر کسی سہارے کے لامحدود خلا میں گھوم رہے ہیں اور اللہ کے حکم سے اس کی قدرت سے کشش ثقل GravitationalPull) ان تمام اجرام فلکی کو خلا میں سنبھالے ہوئے ہے۔ اسی طرح سورج اور چاند کے بارے میں کہا گیا ہے کہ سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا ہر ایک ایک معین معیاد تک گردش کر رہا ہے۔ ایک عام انسان کے لیے اس کو سمجھنا یوں آسان ہے کہ ہاں سورج نکلتا ہے تو دن ہوجاتا ہے چاند نکلتا ہے تو رات ہوجاتی ہے۔ چاند سے انسان کو تھوڑی سوجھ بوجھ ہوئی تو اس نے چاند سے دن، مہینے، ہفتہ اور سال کا حساب لگانا شروع کردیا اور جوں جوں انسان کے علم میں اضافہ ہوتا گیا تو اس نے غور و فکر سے معلوم کرلیا کہ زمین سے سب سے قریب چاند ہے اور یہ زمین سے دو لاکھ چالیس ہزار میل دور رہ کر یوں گردش کر رہا ہے کہ ہر ساڑھے 29 دن میں زمین کے گرد اس کا ایک چکر پورا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ہماری زمین سورج سے ساڑھے نو کروڑ میل دور ہے وہ اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتی ہوئی سورج کے گرد انیس کروڑ میل کا دائرہ بناتی ہے جو ایک سال میں پورا ہوتا ہے۔ سورج بھی کھڑا ہوا نہیں بلکہ یہ بھی اپنے تمام سیاروں کے ساتھ چھ لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش کر رہا ہے۔ ماہرین فلکیات کے اندازے کے مطابق ہمارا سورج ہیبت ناک تیزی کے ساتھ چکر کھاتا ہوا گھومتا ہوا بارہ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے اپنی کہکشاں کے بیرونی حاشیے کی طرف بھاگ رہا ہے۔ اسی طرح تمام ستارے اپنی گردش کو قائم رکھتے ہوئے کسی نہ کسی مقررہ سمت کو بھاگ رہے ہیں ان کے بھاگنے کی رفتار مختلف ہے۔ کوئی آٹھ میل فی سیکنڈ، کوئی 33 میل اور کوئی 84 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے بھاگے چلے جا رہے ہیں۔ کسی کی رفتار اور کسی کی منزل میں نہ تو ذرہ برابر فرق پڑتا ہے اور نہ ہی وہ غلطی کھاتے ہیں۔ نہ ان کا آپس میں ٹکرائو ہوتا ہے۔ مدتیں گزر گئیں یہ نظام جوں کا توں چلا جا رہا ہے۔ آخر کون سی ایسی مستحکم اور زبردست طاقت ہے جو یہ تمام نظام سنبھالے ہوئے ہے ؟ وہ طاقت ہے رب العلمین، وحدہ، لا شریک سب سے بڑا، سب سے زبردست ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ جب ہم نے الہ العلمین پر یقین کرلیا تو پھر ہمیں آخرت پر بھی یقین کرنا ہوگا۔ ہمارا دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے حضور پیش ہونا ہماری اس زندگی کا مقصد ہے۔ ورنہ تو کوئی مقصد ہی نہیں دنیا میں آئے عیش کیا اور مرگئے۔ ہمارا اس دنیا میں پیدا ہونا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اسی طرح دوبارہ بھی پیدا کیے جائیں گے اور پھر وہ زندگی ہمیشہ کی زندگی ہوگی۔
اب زمین کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ یہ کرہ بھی عجیب و غریب اور حیرت انگیز حقیقتوں کا مجموعہ ہے۔ ایک عام انسان اس کو اپنی پناہ گاہ سمجھتا ہے۔ مگر ایک ماہر ارضیات، نباتات اور جمادات اس کی ساخت پر غور و فکر کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زمین پوری کائنات میں ایک ذرے کے برابر ہے مگر پھر بھی وہ ہماری معلومات کے مطابق ایک اہم ترین دنیا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے ایسا توازن رکھا ہے کہ اگر اس کی جسامت کم یا زیادہ ہوتی تو یہ زندہ مخلوق کے لیے بالکل نامناسب ہوتی۔ کیونکہ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اگر زمین کا قطر موجودہ قطر سے 1/4 ہوتا تو اس کی کشش ثقل 1/6 رہ جاتی اور یوں ہماری دنیا اپنے اوپر ہوا اور پانی کو روک نہ سکتی جب کہ زندہ مخلوق کی بنیادی ضرورت ہوا اور پانی ہے۔ اور پھر موسم اور ٹمپریچر بھی کنٹرول میں نہ رہتا۔ اور یوں ہماری زمین بھی چاند کی طرح ویران اور بےآب وگیاہ ہو کر رہ جاتی۔ زمین پر پہاڑوں کی موجودگی، دریائوں کا وجود، سمندروں اور ندی نالوں کا موجود ہونا کسی جاہل سے جاہل انسان کو بھی معلوم ہے کہ یہ سب چیزیں زندہ مخلوقات کے لیے کس قدر ضروری اور فائدہ مند ہیں۔ عام سی بات ہے پہاڑوں سے معدنیات، لکڑی اور جنگلی خوراک حاصل ہوتی ہے۔ دریا اور سمندر ہمارے سفر کا ذریعہ بنتے ہیں، آبی خوراک اور پانی جیسی قیمتی نعمت ہمیں ملتی ہے۔ پھر ایک اور نکتہ معلوم ہوا ہے کہ زمین 23 درجہ کا زاویہ بناتی ہوئی فضا میں جھکی ہوئی ہے اس وجہ سے موسم بنتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ آباد کاری ہوتی ہے اور یوں ہر قسم کی نباتات اور پیدوار حاصل ہوتی ہے۔ اگر یہ جھکائو نہ ہوتا تو قطبین پر ہمیشہ اندھیرا چھایا رہتا۔ سمندر کے بخارات شمال اور جنوب کی طرف چلے جاتے اور یوں زمین پر یا تو برف کے ڈھیر ہوتے یا پھر چٹیل صحرا ہوتے۔ اور یوں زمین پر زندگی محال ہوجاتی۔ جب کہ موجودہ زمینی ساخت ہمیں طرح طرح کے پھل پھول اور فصلیں مہیا کرتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک ہی زمین سے ایک ہی پانی کی مدد سے طرح طرح کے پھل ملتے ہیں اور ہر پھل تمام مخلوقات کی طرح جوڑے رکھتا ہے یعنی نر اور مادہ۔ نر پودے کا پولن ہوا اور حشرات الارض کے ذریعہ سے مادہ پودے پر پہنچ جاتا ہے اور یوں پھول اور پھر پھل بنتا ہے۔ کچھ پھل اور فصلیں ایک دوسرے سے بہتر ذائقہ، خوشبو اور رنگ رکھتے ہیں جب کہ یہ سب ایک ہی زمین سے اگتے ہیں۔ ان تمام چیزوں پر غور کرنے والوں کے لیے بیشمار نشانیاں ہیں۔ جب ہم زمین آسمان کی ساخت کل کائنات کا نظم و ضبط دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ پانی کے ایک معمولی قطرے سے لے کر فضاء بسیط میں پھیلے ہوئے تمام سیاروں اور ستاروں میں ایک زبردست نظام ہے جس کا چلانے والا زبردست طاقت اور قدرت کا مالک ہے۔ اس کی بنائی ہوئی چیزوں کی تعریف اور فوائد کو اگر ہم لکھنے لگیں تو واقعی تمام دنیا کے درخت قلم بن جائیں تمام سمندر سیاہی بن جائیں سات سمندر اور بھی اس میں شامل کردیں تو اللہ تعالیٰ اور اس کی بنائی ہوئی چیزوں کی تعریف اور فائدے لکھنے کے لیے یہ سب سیاہی اور قلم ناکافی ثابت ہوں۔ اتنا کچھ جان لینے کے بعد بھی کفار پر حیرت ہوتی ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور اس کی بتائی ہوئی خبر پر یقین نہیں کرتے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ ضرور زندہ کیے جائیں گے اور ضرور اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کا بدلہ پائیں گے۔ ان کو اس بات کا یقین نہیں آتا اور کہتے ہیں کہ ” جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو کیا پھر دوبارہ پیدا کیے جائیں گے ؟ اب تو سائنس نے بھی اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ انسان مرنے کے بعد دوسری زندگی ضرور پائے گا۔ اول تو قرآن کا کہہ دینا ہی بہت بڑا ثبوت ہے کہ دوبارہ ضرور زندہ کیے جائیں گے اتنے بڑے مالک، خالق اور رب العلمین کے لیے یہ کوئی مشکل بات نہیں۔ مگر ان کفار کی ہٹ دھرمی، جہالت اور ضد کا کیا کیا جائے کہ وہ اپنے رب کو واحد اور خالق ماننے سے برابر انکار کیے جاتے ہیں تو پھر ایسے لوگوں کے لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں :
” یہی لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اس میں جلتے رہیں گے۔ ( الرعد آیت 5)
واقعی ” حکمت خیر کثیر ہے۔ “ ( سورة البقرہ آیت 269)
یہ حکمت، دانائی اور علم اللہ نے مسلمانوں کو عطا کیا ہے۔ جیسا کہ ابراہیم عمادی ندوی اپنی کتاب ” مسلمان سائنس دان اور ان کی خدمات “ میں لکھتے ہیں۔ عرض ناشرکا کچھ حصہ پیش خدمت ہے ’ فلسفہ، سائنس اور طب کی بنیادی تحقیق اور بنیادی اصول مسلم ماہرین نے اپنی خداداد صلاحیتوں اور بےحساب محنت سے وضع کیے تھے زندگی اور علم کے تمام شعبوں میں تحقیقات و ایجادات، حقائق و شواہد کی دریافت سے ترقی کی نئی راہیں کھولیں۔ مگر افسوس کہ ہسپانیہ میں مسلمانوں کے زوال اور عیسائیوں کے غلبہ کے وقت مسلمانوں کا تمام علمی تحقیقاتی خزانہ یورپ کے قبضہ میں چلا گیا انہوں نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا اور ریاضی، کیمیا اور طبیعیات کے میدان میں خوب نام کمایا۔ اور پھر یہ بھی کیا کہ یورپ نے بنیادی اصول و ضوابط بنانے والے مسلمانوں کا نام ونشان ہی غائب کردیا اور تمام تر تحقیقات، ایجادات اور معلومات کا خود موجد بن بیٹھا۔ آج کے نوجوان اور مسلم اقوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ علم الافلاک کی بنیاد مسلمان سائنسدانوں نے رکھی مثلاً :
1 بنو امیہ کے مسلم شہزادے خالد بن یزید نے دوسری صدی ہجری میں بڑی کامیابی سے رکھی۔
2 انور اسحاق ابراہیم بن جندب نے دوسری صدی ہجری کے وسط میں دوربین ایجاد کی۔ پونے نو سال بعد گلیلو نے اسی کو ترقی دے کر ٹیلی سکوپ تیار کیا اور ابراہیم بن جندب کے بجائے خود اس کا موجد بن بیٹھا۔
3 جابر بن حیان۔ دوسری صدی ہجری کے اواخر کا ممتاز سائنس دان فن کیمیا کا ماہر۔ علم المثلث یا ٹرگنومیٹری کا موجد۔
4 احمد عبداللہ جحش بغدادی۔ تیسری صدی ہجری کے اوائل کا ماہر ریاضی دان۔
5 عبدالمالک اصمعی۔ بیالوجی کا پہلا ماہر مسلمان سائنسدان جس نے تیسری صدی ہجری کے اوائل میں علم حیوانات پر گہری تحقیق کے بعد انسان، جنگلی جانور، پرندوں، بھیڑ بکریوں، گھوڑوں اور اونٹوں پر پانچ مفصل کتابیں لکھیں۔
غرض مسلمان سائنس دانوں کے تحقیقی کارناموں اور ایجادات کی ایک طویل فہرست ہے۔ جس سے عام مسلمان بالکل بیخبر ہیں۔ یہ سب لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ حکمت، دانائی، ہدایت اور علم کا خزانہ اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو عطا کر رکھا ہے۔ شروع میں تو مسلمانوں نے قرآن سے خوب خوب استفادہ کیا مگر پھر آہستہ آہستہ جوں ہی اپنے مرکز، اصول، مذہب اور قرآن سے دور ہوتے گئے تو قانون قدرت کے مطابق مسلمان زوال کی طرف بڑھنے لگے۔ اب تو دنیا میں وہی کامیاب ہے جو ٹیکنالوجی میں کامیاب ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان اس قدر بہترین امت ہوتے ہوئے کسی بھی میدان میں دنیا کی اقوام سے پیچھے رہ جائیں۔ ہر ماں، باپ، ہر استاد اور ہر ماہر علوم کا فرض ہے کہ اپنے ہر ہر فرد کو ہر صورت سے اور ہر ممکن کوشش سے اپنے بہترین مذہب اس کے بہترین اصول اور انتہائی کامیاب جامع اور حکمتوں سے بھر پور قرآن پاک اور سیرت نبوی سے متعارف کرائے اور لوگوں کو اپنے دین کی طرف راغب کرے۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہم مسلمان اپنی گم شدہ ساکھ، عزت اور درجہ کو حاصل نہ کرسکیں۔ مذکورہ آیات میں ہر قسم کے علم کا ذکر کیا گیا ہے اور بار بار کہا گیا ہے ” غور کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ سمجھنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ “
انسان پر لازم ہے کہ حق کی طرف رجوع کرے اور اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بندہ بن جائے۔ حقیقی محبت، مروت، اخوت، مساوات، انصاف، خلوص، دیانت، توکل علی اللہ اور دین، ایمان، اللہ اور رسول کی محبت، یہ ہے کہ ایک سچے اور پکے مسلمان کی شان اور پہچان اور جب ہم دین میں پوری طرح داخل ہوجائیں گے تو پھر۔
بجلیاں غیرت کی تڑپیں گی فضائے قدس میں
حق عیاں ہوجائے گا، باطل نہاں ہوجائے گا
ڈاکٹر علامہ اقبال
مطلب یہ ہے کہ آج جہاں جہاں بھی مسلمان غیر مسلموں سے پٹ رہا ہے۔ جیسے ہی مسلمانوں کی غیرت اور جذبہ اسلام بیدار ہوگا ان کو ہر جگہ فتح و کامیابی نصیب ہوگی۔ انشاء اللہ۔
Ayah 13:6اللہ معاف کرنے والا اور سخت عذاب دینے والا ہے
تشریح : اس آیت میں کفار مکہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو آپ پر ایمان لانے میں بےیقینی کا شکار ہوچکے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا آپ بڑے ہی نیک سیرت انسان ہیں۔ اسی لیے آپ کو صادق (سچا) اور امین (امانتدار) کے ناموں سے پکارتے تھے۔ آپ کے پاس اپنی امانتیں رکھتے تھے۔ حجر اسود لگانے کا جھگڑا جب کھڑا ہوا تو آپ کے فیصلہ کو تمام اہل مکہ نے بخوشی قبول کیا۔ لیکن جب آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اہل مکہ حیران و پریشان ہوگئے کیونکہ آپ ﷺ کو جھٹلانا بھی ان کے لیے ممکن نہ تھا اور آپ پر ایمان لانا بھی ان کے لیے ممکن نہ تھا، لہٰذا وہ خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر دعائیں کرتے کہ ” یا اللہ ! اگر حضرت محمد ﷺ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے، ہم پر عذاب نازل کر دے۔ “ تو اس کے جواب میں رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمان لانے سے پہلے ہی عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جب عذاب نازل ہوگیا اور یہ نیست و نابود ہوگئے تو پھر کیا فائدہ ہوگا۔ یہ تو ختم ہوچکے ہوں گے۔ ان کو چاہیے کہ ان گزری ہوئی قوموں کو دیکھیں جنہوں نے انبیاء کو جھٹلایا اور نافرمانی کی تو ان پر عذاب نازل کیے گئے جیسا کہ عاد، ثمود، فرعون وغیرہ ان سے پہلے عذاب سے تباہ ہوچکے ہیں۔ پھر حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم نے توبہ کرلی تو وہ عذاب سے بچ گئی۔ اسی طرح ان کو بھی چاہیے کہ جو مہلت ان کو ملی ہے اس سے فائدہ اٹھائیں غور و فکر کریں اور ایمان لے آئیں۔ بیشک اللہ جل شانہٗ بڑا ہی مہربان ہے وہ ان کی تمام کوتاہیوں، گناہوں اور نافرمانیوں کو بالکل معاف کر دے گا۔ کیونکہ اللہ بڑا ہی مہربان ہے یہ اللہ کی صفت ہے اور اس کے رحمن و رحیم صفاتی نام ہیں وہ کبھی بھی عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ مگر جب کوئی قوم یا کوئی انسان حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر وہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے کیونکہ جہاں وہ رحمن و رحیم ہے وہاں وہ جبار وقہار بھی ہے۔
یہاں انسان کی اصلاح کے لیے بہترین اصول بیان کردیے گئے ہیں۔ تاکہ انسان اللہ کی رحمت کا امید وار ضرور رہے اور ساتھ ہی یہ بھی جان لے کہ اس کی رحمت حاصل کر کے اس قدر لاپرواہ اور بےخوف ہو کر برائی نہ کرنے لگے، وہ یاد رکھے کہ کفر و شرک اور نافرمانی پر اس دنیا میں اور دوسری دنیا میں موت کے بعد اس کو بیشک بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔
خوف، رحمت اور عذاب انسان کو ہر وقت ہر عمل میں یاد رکھنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے، حالانکہ جو کچھ تم کرتے ہو اسے سب کا علم ہے۔ وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول کرتا ہے اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ دیتا ہے۔ رہے انکار کرنے والے تو ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ “ ( سورة شور ٰی آیات 26 - 25 )
Ayah 13:7معجزے کا مطالبہ
تشریح : اس آیت میں بھی کفار مکہ کا جواب ہے۔ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو اپنے رب سے کہیں ہماری فرمائش کے مطابق فرشتوں کو لا سامنے کھڑا کریں یا آسمان کا ٹکڑا گرا دے وغیرہ وغیرہ۔ تو اس پر اللہ جواب دیتا ہے کہ ان کو اچھی طرح سمجھا دو کہ میں تو صرف و عظ و نصیحت اور ہدایت دینے کے لیے بھیجا گیا ہوں جیسا کہ جب سے دنیا شروع ہوئی ہے ہر زمانہ اور ہر قوم و ملک کے لیے اللہ تعالیٰ پیغمبر اور رسول بھیجتے رہے تاکہ لوگوں کو راہ ہدایت بتائیں۔ میں کوئی جادوگر نہیں کہ تمہاری فرمائشیں پوری کروں۔ معجزہ تو اللہ کی مرضی سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور پھر جن لوگوں نے ایمان لانا ہوتا ہے وہ بغیر معجزہ دیکھے ہی ایمان لے آتے ہیں اور جنہوں نے ایمان نہ لانا ہو وہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے جیسا کہ فرعون نے کیا تھا۔ تو پیغمبر کا آنا کوئی نئی بات نہیں یہ تو ہمیشہ ہی آتے رہے ہیں اسی طرح آپ بھی پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ ان کفار کو بتا دیجیے کہ یہ قرآن پاک بھی تو ایک معجزہ سے کم نہیں کہ میں تمہیں ایسا فصیح وبلیغ کلام سنا رہا ہوں جب کہ میں بالکل ان پڑھ ہوں۔ اس کلام پاک میں ایسی ایسی ہدایت کی باتیں بتائی گئی ہیں کہ جو دنیا و آخرت کو سنوارنے والی ہیں۔ اگلی آیات میں اللہ کی قدرت بیان کی گئی ہے۔
Ayahs 13:8–11اللہ علیم وخبیر ہے
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ذکر بڑے موثر انداز میں کیا گیا ہے۔ جب انسان ایک قطرہ پانی کی صورت میں ماں کے رحم میں تین پردوں کے اندر نشوونما پانا شروع کرتا ہے جب سے وہ اللہ علیم وخبیر کی حفاظت، نگہبانی اور علم میں ہوتا ہے۔ اس قطرہ آب کی تمام حرکات و سکنات اللہ کی تدبیر کے ریکارڈ میں موجود ہوتی ہیں۔ کوئی نہیں جانتا مگر اللہ جانتا ہے۔ اس کی جنس، رنگ، اخلاق و کردار، عمر اور موت اور زندگی گزارنے کے رنگ ڈھنگ، رہنے، عمر گزارنے اور مرنے کے مقامات غرض ایک معمولی پانی کے اس قطرے کے بارے میں اللہ کو اتنا کچھ معلوم ہوتا ہے پہلے سے ہی یہ سب اللہ کے بلندو عظیم، برتر اور غالب ہونے کے ثبوت ہیں۔ پھر بھلا وہ انسان جو اللہ کی اس قدر سخت نگہبانی میں وجود پاتا ہے تو بھلا اس کے منہ سے نکلا ہوا جملہ آہستہ ہو یا بلند، اس کے کیے ہوئے اعمال دن کی روشنی میں ہوں یا رات کے اندھیرے میں کس طرح اللہ کے علم سے باہر ہوسکتے ہیں ؟ اب سائنسی ترقی نے اس کو بڑے معمولی درجہ پر ثابت بھی کردیا ہے کہ واقعی ہماری فلم آواز کے ساتھ بلکہ نیت کے حوالے سے بھی پوری کی پوری اللہ کی حکمت سے باقاعدہ تیار ہو رہی ہے جو قیامت میں حساب کے دن ہمیں ہماری گزری ہوئی زندگی کی فلم دکھائی جائے گی۔ اس کے ثبوت میں مولانا وحید الدین خان صاحب اپنی کتاب ” مذہب اور جدید چیلنج “ میں یوں لکھتے ہیں۔
” چناچہ ایسے کیمرے ایجاد کیے گئے ہیں۔ جن میں انفراریڈ شعاعوں سے کام لیا جاتا ہے، اس لیے وہ اندھیرے اور اجالے میں یکساں دیکھ سکتے ہیں۔ چند سال پہلے کی بات ہے، ایک رات نیویارک کے اوپر سے ایک پراسرار ہوائی جہاز چکر لگا کر چلا گیا، اس کے فوراً بعد مذکورہ بالا کیمرے کے ذریعے فضا سے اس کی حرارتی تصویر لی گئی، اس کے مطالعہ سے معلوم ہوگیا کہ اڑنے والا جہاز کس ساخت کا تھا۔ (ریڈر ڈائجسٹ، نومبر 1960 ئ)
اس کیمرے کو مصور حرارت (Euaporagraph) کہتے ہیں، اس کا ذکر کرتے ہوئے ہندوستان ٹائمز نے لکھا تھا کہ ” اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ ہم تاریخ کو پردہ عالم پر دیکھ سکیں گے اور ہوسکتا ہے کہ پچھلے ادوار کے بارے میں ایسے ایسے انکشافات ہوں جو ہمارے موجودہ تاریخی نظریات کو بالکل بدل ڈالیں۔ “
یہ تو بڑی ابتدائی کوشش ہے ہوسکتا ہے آنے والے وقت میں اللہ تعالیٰ انسان کو اس قدر قدرت، سمجھ اور کامیابی عطا کر دے کہ وہ اپنے تصور کو عمل میں لے آئے۔ اگر اللہ کا بنایا ہوا انسان یہ کام کرسکتا ہے تو اللہ جو سب سے بڑا اور سب پر غالب ہے تو بھلا اس کا مواصلاتی اور فلم بندی کا نظام اس کے کہنے کے مطابق مضبوط معقول اور پکا کیوں نہیں ہوسکتا۔ ضرور ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بار بار بتایا ہے کہ پوری کائنات میں ایک ذرہ بھی اللہ کے علم سے باہر نہیں۔ اللہ کے چوکیدار کیمرے کی صورت میں ہوں یا فرشتوں کی صورت میں ہوں ہم اللہ کی نگہبانی سے ہرگز باہر نہیں نکل سکتے جب ہم اس بات کو دل و دماغ سے سچ سمجھ لیتے ہیں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ کوئی فرد غلط راہ اختیار کرے اور یوں دنیا گناہوں سے پاک ہو کر امن و سکون کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ کیونکہ ایک فرد سے افراد، پھر سوسائٹی، پھر سوسائٹیاں، پھر قوم، پھر قومیں اور پھر دنیا کا وجود بنتا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے حضرت حوا (علیہا السلام) اور پھر ان کی اولاد جس نے دنیا بھر دی۔ سوسائٹی کا بگاڑ ایک اکیلا انسان بھی ختم کرسکتا ہے۔ جیسا کہ سلطان بشیر محمود صاحب لکھتے ہیں :
” اگر کسی خاص قوم کی قلبی طاقت باقی دنیا کے لوگوں کی قلبی طاقت سے مقابلتاً بہتر اور طاقت ورہے تو یہ قوم دنیا کی تاریخ کے دھارے کو اپنے حق میں کرسکتی ہے۔ ایک اکیلا انسان بھی جس کی قلبی طاقت اپنے اردگرد کے معاشرے یا سوسائٹی کی مجموعی قلبی طاقت سے زیادہ مضبوط ہو تو وہ بھی اس گروہ پر چھا جائے گا اور سب کو اپنے پیچھے لگا لے گا۔ تمام طبیعاتی ضابطے اور دستور اس کے غلام ہوجائیں گے۔ “ (قیامت اور حیات بعد الموت صفحہ 101)
اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان میں یہی بات سمجھا دی ہے کہ دلوں کی اصلاح سب سے پہلے ہونی چاہیے کیونکہ دل ذہن کو کنٹرول کرتا ہے ذہن جسم کو اور جسم تمام مادی ذرائع کو کنٹرول کرتا ہے۔ اور اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہوتا ہے۔ جب کوئی قوم تنزل کی طرف جاتی ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے افراد بدنیت اور بدچلن ہوگئے ہیں۔ اگر تو مجموعی طور پر اس بےراہروی کو کنٹرول کرلیا جائے تو اللہ بھی ان کی مدد کرتا ہے اور ان کو تباہی و بربادی سے بچا لیتا ہے لیکن اگر وہ حد سے گزر جائیں تو پھر اللہ کا عذاب یقینی ہوجاتا ہے اور کوئی بھی اس عذاب سے ان کو بچا نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی کمی ہی ہوسکتی ہے۔
شاعر نے اس کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا
Ayahs 13:12–14بجلی کی کڑک باعث رحمت بھی ہے اور عذاب بھی
تشریح : ان آیات میں اللہ کی قدرت اور اس کی وہ عنایت بتائی گئی ہے جو بجلی کی کڑک سے بادل کی چمک اور بارش کی فراہمی سے انسانوں پر کی جاتی ہے۔ جب ہوائیں بھاری بھاری پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو چلاتی ہیں تو بادل کے آپس میں رگڑ کھانے سے بڑی خوف ناک گرج پیدا ہوتی ہے اور انتہائی تیز چمک بھی ان دونوں چیزوں سے اللہ اپنے وجود کا اظہار کرتا ہے۔ انسان اس گرج دار آواز سے خوف بھی کھاتا ہے اور خوش بھی ہوتا ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں اس کے لیے انتہائی فائدہ مند اور مفت ہوتی ہیں۔ بارش کا پانی کھیتوں کو سیراب کرتا ہے اور موسم کو معتدل، خوشگوار اور فضاء کو ہر قسم کے گرد و غبار سے صاف کر کے تمام درختوں پودوں کو غسل دے دیتا ہے ہر طرف خوشحالی کا سماں دکھائی دینے لگتا ہے اور انسان کی جھولی خوشیوں سے بھر جاتی ہے۔ اگر کبھی بارش وقت پر نہ ہو تو انسان نماز استسقاء پڑھتا ہے پوری عاجزی سے بارش مانگتا ہے غرض بارش انسانی ضروریات کا ایک بہت بڑا جز ہے۔ چمک جہاں خوف پیدا کرتی ہے وہاں مٹی کو نائٹروجن ملتا ہے جیسا کہ مولانا وحید الدین خان صاحب لکھتے ہیں۔
” دوسرا ذریعہ جس سے مٹی کو نائٹروجن ملتا ہے، وہ بجلی کا کڑکا ہے، ہر بار جب بجلی کی رو فضا میں گزرتی ہے تو وہ تھوڑے سے آکسیجن کو نائٹروجن کے ساتھ مرکب کردیتی ہے جو کہ بارش کے ذریعہ ہمارے کھیتوں میں پہنچ جاتا ہے اس طرح سے جو نائٹریٹ نائٹروجن آسانی سے مل جاتا ہے اس کا اندازہ ایک ایکڑ زمین میں پانچ پونڈ ہے جو کہ تیس پونڈ سوڈیم نائٹریٹ کے برابر ہے۔ “ مصنف موصوف نے حوالہ میں یہ نام دیا ہے۔
Lyon Bockman and Brady - The nature and Properties of Soil (مذہب اور جدید چیلنج صفحہ 74 )
یہ تو ہوا ایک انعام جو اللہ انسان پر کرتا ہے۔ جو زور دار گرج چمک ہوتی ہے تو بےاختیار زبان سے اللہ کا نام اور تعریف نکلتی ہے اور تسبیح صرف انسان ہی نہیں کرتا بلکہ فرشتے اور خاص فرشتہ کڑک بھی کرتے ہیں۔ ” ضیاء القرآن “ میں پیر کرم شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ ” رعد اس فرشتے کا نام ہے جو بارش بادل کی تدبیر و انتظام کا ذمہ دار ہے۔ پھر یہ بجلی اس پر بھی گرتی ہے اور جلا کر راکھ کردیتی ہے جس پر اللہ اسے گرانا چاہتا ہے۔ حضرت سیدنا علی ؓ نے ” شَدِیْدُ الْمِحَالِ “ کا معنی کیا ہے ” بڑی سخت گرفت کرنے والا۔ “
اس آیت کی شان نزول میں علمائے کرام نے متعدد اقوال لکھے ہیں میں حضرت صدرالأفاضل (رح) تعالیٰ کے حاشیہ خزائن العرفان سے اس کا شان نزول نقل کر رہی ہوں۔
” حسن ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عرب کے ایک نہایت سرکش کافر کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے اپنے اصحاب کی ایک جماعت بھیجی۔ انہوں نے اس کو دعوت دی، کہنے لگا محمد ﷺ کا رب کون ہے جس کی تم مجھے دعوت دیتے ہو، کیا وہ سونے کا ہے، چاندی کا، لوہے کا، تانبے کا ہے۔ مسلمانوں کو یہ بات بہت گراں گزری انہوں نے واپس جا کر رسول کریم ﷺ سے عرض کی کہ ایسا اکفر (بڑا کافر) سیاہ دل سرکش دیکھنے میں نہیں آیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کو دوبارہ بھیجا اس نے پھر وہی گفتگو کی اور کہا کہ میں ایسے اللہ کو مان لوں جسے میں نے نہ دیکھا نہ پہچانا۔ وہ اصحاب واپس آگئے۔ آپ ﷺ نے ان کو پھر واپس بھیجا۔ مگر وہ کافر پھر وہی بےہودہ بات چیت کرنے لگا۔ اچانک ایک ابر آیا بجلی کڑکی اور اس کافر پر گری اور اس کو جلا کر خاک کردیا۔ “ (خزائن العرفان)
اللہ بڑی قوت والا، عظمت والا اور بےنیاز ہے۔ اس لیے دعا اور مدد صرف اسی اللہ سے مانگنی چاہیے جو قادرمطلق ہے وہی دعائیں پوری کرتا ہے اور بہترین کار ساز ہے جو لوگ اس کے سوا دوسرے لوگوں سے، بتوں سے یا اپنے بنائے ہوئے دیوتائوں سے دعائیں مانگتے ہیں تو ان کی مثال دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کی مثال تو یوں ہے کہ ایک شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلائے اور سوچے یا امید کرے کہ اب پانی کو اس کی ضرورت کا علم ہوگیا ہے، لہٰذا پانی خود ہی اس کے منہ میں پہنچ جائے گا۔ جس طرح پانی بےبس ہے اسی طرح ان کے بنائے ہوئے معبود بھی بےبس ہیں کہ ان کی حاجات کو پورا کریں۔ یہاں شرک صرف یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سوا کسی بھی انسان سے دعا کرنے اور اسے پکارنے سے بھی منع کیا ہے۔ اس میں خود نبی اکرم ﷺ کی ذات بھی شامل ہے۔ وہ ہمارے پیشوا، ہمارے رہنما، ہمارے پیارے پیغمبر، نبی آخر الزماں ﷺ قابل صد احترام ہیں مگر ہم دعا کریں گے تو صرف اللہ سے دعا کریں گے۔ مسلمان کو اللہ کے سوا کسی سے مدد مانگنے کی اور عاجزی کرنے کی اجازت نہیں۔ جیسا کہ سورة فاتحہ میں بھی ہم دن میں چالیس مرتبہ بولتے ہیں ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ “
اس لیے کبھی بھی ” یا رسول اللہ مدد “ یا ” یا علی مدد “ نہ کہیں کہ یہ پکار اور دعا شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شرک سے دور رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Ayahs 13:15–16مخلوقات کا اللہ کو سجدہ کرنا، نفع و نقصان کا مالک کون
تشریح : ان آیات میں زندگی کے بارے میں بہت بڑا راز اور ایک کلیہ بتایا گیا ہے۔ جو راہنمائی زندگی کے بارے میں قرآن پاک ہمیں دیتا ہے اس کے مطابق زندگی کی پہلی شرط یہ ہے کہ اللہ کو پہچان کر اس کی فرمانبرداری میں جھک جانا اور ہر لمحہ اس کی تعریف کرنا۔ اس کا مطب یہ ہوا کہ ایٹم زندگی کی بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے جو کہ زندہ ہے۔ ہر چیز کی زندگی کا معیار مختلف ہے۔ مگر یہ طے ہے کہ ہر چیز جو بھی اس جہاں میں موجود ہے وہ زندہ ہے اپنے خالق کو پہچانتی ہے اور اللہ کی دی ہوئی آزادی، فہم اور عقل کے مطابق اللہ کی عطا کی ہوئی ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہے۔ کیونکہ وہ اللہ کی مرضی اور حکم کو خوب اچھی طرح سمجھتی ہے۔ انسان کو اللہ نے اشرالمخلوقات بنایا عقل اور آزادی دی کہ اللہ کو پہچان کر اس کی فرمانبرداری کرے۔ مگر کئی ایسے ناعاقبت اندیش لوگ ہوتے ہیں کہ نہ عقل سے کام لیتے ہیں اور نہ ہی اللہ کے سامنے جھکتے ہیں بلکہ اس کی بنائی ہوئی چیزوں کے سامنے جھکتے ہیں۔ ان کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ وہ مکمل طور پر اللہ کے اختیار میں ہیں۔ اللہ نے چاہا تو ان کو پیدا کردیا اور جب وہ چاہے گا ان کو موت آجائے گی پھر جب وہ چاہے گا دوبارہ زندہ کر دے گا۔ اس لحاظ سے وہ لوگ چاہیں یا نہ چاہیں مگر ہیں تو وہ اللہ کے اختیار میں ہی۔ اس کی مرضی کے بغیر وہ کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ اور دنیا کی ہر چیز اللہ کی حمد و ثنا کرتی ہے جیسا کہ صبح و شام سائے جھکتے ہیں اور وہ اللہ کے حضور سجدہ کرتے ہیں جب وہ اللہ کو سجدہ کرتے ہیں تو اے انسان ! تو غیر اللہ کے سامنے اپنی پیشانی کو کیوں جھکاتا ہے ؟
تو ثابت ہوا کہ ایک ذرے سے لے کر بلند ترین پہاڑوں تک غرض ہر چیز کیونکہ اللہ کو پہچانتی ہے اس کے حکم کے مطابق عمل کرتی ہے اس لیے وہ زندہ ہے۔ دنیا کی تمام نعمتیں اور برکتیں سب کے سامنے ہیں۔ اس لیے ہر شخص خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ پیدا کرنے والا اللہ ہے مگر کفار اپنی ضد کی وجہ سے اللہ کے سوا کی عبادت کرتے ہیں۔ رب العلمین نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ آپ ان کفار سے پوچھیں کہ بتائو آسمانوں اور زمین کا خالق کون ہے ؟ وہ ہرگز اللہ کا نام نہ لیں گے تو آپ خود ہی ان کو بتائیں کہ صرف اللہ ہی خالق ومالک ہے اور وہی وحدہ لاشریک لہ ہے۔ وہی پیدا کرنے والا پالنے والا اور مارنے والا زندہ کرنے والا ہے جب صرف وہی قادر مطلق ہے تو پھر تمہاری عقل کیوں ماری گئی ہے۔ کیوں اللہ سے انکار کرتے ہو اور کیوں ایسی بیکار اور بےاختیار چیزوں کے سامنے جھکتے ہو، دعائیں کرتے ہو ؟ جو خود اپنے نفع اور نقصان پر قدرت نہیں رکھتیں چاہے وہ انسان ہو حیوان ہو نباتات ہو حیوانات ہو یا جمادات ہو سب اللہ کے اختیار میں ہیں۔ ان لوگوں کو پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور کیا اندھیرا ور اجالا برابر ہوسکتے ہیں ؟ اندھے سے مراد یہاں وہ لوگ ہیں جو اللہ کی قدرتوں، نعمتوں اور اتنی بڑی کائنات کو دیکھ کر بھی اللہ کو نہیں پہچان سکتے اور آنکھوں والے سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھ کر اللہ کی موجودگی، عظمت اور قدرت کو سمجھ لیتے ہیں اور اس کی فرمانبرداری میں جھک جاتے ہیں اس کی وحدانیت کو مان لیتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کفر کو اندھیرے سے اور ایمان باللہ کو اجالے سے تشبیہ دیتا ہے اور وضاحت کرتا ہے کہ کیا ان کے بنائے ہوئے جھوٹے معبود کوئی چیز ایسی بنا سکتے ہیں ؟ جیسی کہ الہ العلمین نے بنائی ہیں ؟ اللہ اپنے پیارے رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دو ، اعلان کر دو کہ اللہ کے سوا کوئی پیدا کرنے والا نہیں۔ وہی ہر طرح کی قدرت اور طاقت رکھتا ہے وہ اکیلا ہے اور زبردست ہے ؎
ہے عارفوں کو حیرت اور منکروں کو سکتہ
ہر دل پہ چھا رہا ہے رعب و جلال تیرا
(الطاف حسین حالی)
شعر کا مطلب یہ ہے کہ یا الہ العلمین تجھے ماننے والے لوگ ہوں یا تیرا انکار کرنے والے ہوں دونوں پر تو نے اپنا رعب اور جلال یوں ڈال رکھا ہے کہ دونوں ہی قسم کے لوگ تحیر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اور کوئی بھی تیری قدرت اور اختیار سے باہر نہیں۔
Ayahs 13:17–20حق اور باطل کی مثال
تشریح : ان آیات میں حق و باطل، نیکی و بدی، کفر و اسلام کا موازنہ بڑے ہی اچھے انداز میں کیا گیا ہے اچھے، سچے نیک اور صالح لوگوں کو صاف پانی اور صاف سونے سے تشبیہ دی گئی ہے اور برے، بدکردار اور کفار کو گندے پانی اور گرم دھات کے اوپر آنے والی گندگی جو کہ جھاگ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ نیک اور مسلمان انسان نہ صرف خود ہی سکون اور دنیا و آخرت میں بھلائیاں حاصل کرتا ہے بلکہ خلق خدا اور کائنات کے لیے بھی باعث رحمت، برکت اور مبارک ثابت ہوتا ہے۔ جبکہ کفار اور بدطینت بدخصلت انسان نہ صرف یہ کہ خود ہی پریشانیوں، مصیبتوں اور عذابوں میں گھرا رہتا ہے بلکہ دنیا کو اور مخلوق خدا کو بھی مشکل اور پریشانیوں میں ڈالے رکھتا ہے اور پھر آخرت میں بھی اس کے لیے سزا ہی سزا ہے۔
جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام نے حق و صداقت، علم وعرفان، سکون اور انسان دوستی کا جو سبق دیا اور کائنات میں پھیلے ہوئے حقائق کی طرف توجہ دلائی تحقیق، تجسس اور مشاہدے کی جو ترغیب دی تو اسی وجہ سے اس وقت کے مسلمانوں نے روم، یونان، ایران اور ہندوستان کے رائج الوقت علوم و فنون پر خوب اچھی طرح نظر ڈالی اور قرآن و سنت کی مدد اور روشنی سے بیشمار نئے نئے تجربات، نکات اور مشاہدات دنیا کے سامنے پیش کیے اور ہر لحاظ سے دنیا کی اقوام پر فوقیت اور برتری حاصل کی۔
جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ مدینہ کی چھوٹی سی اسلامی ریاست کے معمولی تعداد رکھنے والے مسلمانوں نے بہت تھوڑی مدت میں دنیا کے بیشتر حصوں پر اسلام کا جھنڈا لہرایا۔ یہ سب قرآن و سنت اور ایمان و یقین کی ہی برکت سے ہوا۔ 13 ویں صدی عیسوی تک مسلمانوں کے ہاتھ میں تمام علوم تھے۔ مگر اس کے ساتھ ہی تاریخ ہمیں مسلمانوں کے زوال کا بھی پتہ دیتی ہے۔ جیسے ہی مسلمان اپنے علم و عقائد اور دین حق سے دور ہوتے گئے ان کی عزت، ترقی، علم اور کامیابی میں تنزل آتا چلا گیا اور یوں اقوام عالم میں مسلمان پیچھے ہی پیچھے جانا شروع ہوگیا اور آج اگر مسلمانوں نے اپنی کھوئی ہوئی طاقت ایمان ویقین کی طاقت کو بحال نہ کیا تو پھر ان کا انجام بھی پانی پر آنے والے جھاگ جیسا ہوجائے گا۔ بقول اقبال (خدا نحواستہ)
خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر
اللہ ہماری مدد کرے کہ ہم ” عہدالست، ، کو کبھی نہ توڑیں اور اللہ کے اچھے، سچے اور پاکباز بندے بن کر زندگیاں گزریں دنیا کو جنت بنائیں اور آخرت میں جنت کمائیں۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 13:21–24نیک لوگ اور ان کا انعام
تشریح : ان آیات مبارکہ میں چند اصول زندگی بتائے گئے ہیں۔ قرآن پاک ہدایت اور حکمت کی کتاب ہے اس میں انسان کے لیے کامیاب زندگی گزارنے کے ایسے سنہری اصول بتائے گئے ہیں کہ اگر ان پر پوری طرح عمل کیا جائے تو ہماری زندگیاں خوشیوں، کامیابیوں اور سکون سے بھر سکتی ہیں۔ مثلاً رشتوں کو جوڑے رکھنے کا حکم، بظاہر چھوٹی سی بات ہے مگر جب ہم اس کے معنوں پر غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس سے بڑا کوئی طریقہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جس سے انسانی زندگی سر بلندو کامیاب ہو سکے۔ ایک فرد جو امن پسند ہے وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی امن و سکون سے رہنا پسند کرتا ہے بلکہ وہ ہر جگہ فتنہ و فساد کو ختم کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔
یہاں میں اپنے تجربہ کی بات کرتی ہوں جس گھر کی ماں، بیوی، بہن، بھاوج، دیورانی، جیٹھانی اور ساس امن پسند اور رشتوں کے تقدس کا احترام کرکے ان کو جوڑے رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہوں وہ گھر واقعی جنت کا نمونہ ہوتا ہے اور جو عورتیں تعصب، کینہ، حسد، بغض، نفرت، احساس کمتری اور شیطان فطرت ہوتی ہیں وہ نہ صرف اپنا ہی نقصان کرتی ہیں بلکہ ان تمام نسلوں کی تباہی و بربادی کا باعث بھی بنتی ہیں جو ان کے زیر سایہ یا قربت میں پرورش پاتی ہیں۔ اسی لیے قرآن نے خاص طور پر اس نکتہ کو واضح کر کے بیان کیا ہے۔ حقوق العباد میں ایک دائرہ بنتا ہے جو فرد گھر، گلی، محلہ، شہر، ملک اور پھر دنیا کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اسی لیے مومنین کی تعریف میں قرآن کا ارشاد ہے۔ ” وہ مومنوں کے لیے بڑے نرم خو ہوں گے۔ “ (المائدہ آیت 54 )
صلہ رحمی کا حکم مرد و عورت دونوں کے لیے ہے۔ پھر خوف الٰہی کا ذکر ہے خوف و خشیت میں فرق ہے۔ خشیت کا مطلب ہے اللہ کی عظمت و احترام کا خیال کرتے ہوئے اس کی ناراضگی سے ڈرتے رہنا۔ یہ مومن کی دوسری صفت بیان کی گئی ہے کہ مومن ہر قدم پر اللہ اور رسول کی مقرر کی ہوئی حدود کا احترام کرتا ہے۔
تیسری صفت مومن کی یہ ہے کہ ایسے اعمال بجا لاتے ہیں کہ ان کا حساب برا نہ ہو، یعنی مناقشہ نہ ہو کہ اللہ یہ پوچھ لے کہ تو نے ایسے کیوں کیا ؟ بلکہ آسان حساب ہو، مومن ایسے اعمال سے بچتے ہیں کہ ان کا حساب برا ہو، جبکہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے کہ اعمال کی زبردست چھان بین کے بغیر اللہ اپنی رحمت اور فضل و کرم سے ہلکا حساب لے کر اس کی مغفرت کر دے۔
چوتھی صفت یہ ہے کہ ہر مصیبت ہر پریشانی پر واویلا کرنے کی بجائے اللہ کی رضا سمجھ کر فوراً صبر کا دامن پکڑتے ہیں۔ اس طرح ایک تو اللہ رب العزت خوش ہو کر اس کے ثواب میں اضافہ اور گناہوں میں کمی کردیتا ہے اور دوسرے اس کی تکلیف میں بھی نمایاں فرق پڑجاتا ہے۔ اس میں بالکل شک نہیں بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
پانچویں صفت یہ ہے کہ نماز قائم کرتے ہیں۔ نماز اخلاقی برائیوں کو ختم کرتی ہے اور حقوق اللہ کا رکن خاص ہے۔ نماز سے تنظیم، نفس پر قابو، یعنی شیطان کا دفع، وقت کی پابندی، روحانی اور جسمانی پاکیزگی، خشوع و خضوع کا ذریعہ، اللہ سے ملاقات کا ذریعہ اور پھر اس سے مانگنے کا بہت بڑا ذریعہ نماز ہی ہے۔ جب مومن نماز قائم کرتا ہے تو اس میں بیشمار روحانی و جسمانی قوتیں پیدا ہوجاتی ہیں جو اس کی زندگی کو چمکا کر آخرت کا راستہ آسان بنا دیتی ہے یہ یاد رہے کہ نماز پورے اخلاص اور سنت رسول کے مطابق ادا کی جائے
حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ ” انسان اور کفر و شرک کے درمیان نماز کا ترک کرنا (ہی فرق) ہے۔ “ (صحیح مسلم) یعنی مسلمان نماز پڑھتا ہے اور کافر نماز نہیں پڑھتا۔
چھٹی صفت یہ ہے کہ مومن اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے زکوٰۃ و صدقات خوشی سے دیتا ہے۔ اس میں چھپا کر خرچ کرنا اور ظاہراً خرچ کرنا دونوں طریقے جائز ہیں۔ دوسروں کو ترغیب دینے کے لیے خیرات کا اعلان و اظہار جائز ہے۔ مگر جہاں لینے والے کی تذلیل ہو یا دینے والے کی نیت نمائش کی ہو تو پھر ہرگز چھپا کر ہی دینا فرض ہے ورنہ نہ وہ زکوٰۃ قبول ہوگی اور نہ ہی صدقہ و خیرات کا کوئی فائدہ ہوگا۔ حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے زکوٰۃ کی فضیلت میں فرمایا کہ ” تم میں سے کون شخص ایسا ہے جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال محبوب ہو ؟ صحابہ نے عرض کی کہ ہم میں سے تو ہر ایک کو اپنا مال ہی محبوب ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اس کا مال تو وہی ہے جو اس نے (راہ خدا میں) آگے بھیج دیا اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جسے وہ پیچھے چھوڑ جائے گا۔ “ (صحیح بخاری)
ساتویں صفت یہ ہے کہ برائی کو بھلائی سے، دشمنی کو دوستی سے اور ظلم کو عفو درگزر سے رفع دفع کردیتے ہیں۔ ایک تو اس کا مطلب یہ ہے کہ برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے فراخ دلی، حسن سلوک اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب کبھی گناہ ہوجائے تو اس قدر استغفار اور عبادت کرتے ہیں کہ گناہ مٹ جاتا ہے اور معافی مل جاتی ہے۔
یہ تمام بہترین اصول کلام پاک کی ہی برکت کا نتیجہ ہیں۔ جو لوگ بھی اللہ پر بھروسا کرتے ہیں، یقین رکھتے ہیں۔ اسی کو اپنا مالک و خالق اور نجات دینے والامعبود برحق دل سے مانتے ہیں۔ قرآن و سنت پر دل و جان سے عقیدہ رکھتے ہوئے پوری کوشش سے عمل کرتے ہیں تو ان کے لیے اللہ اعلان کرتا ہے کہ ایسے متقی لوگوں کو آخرت میں ایسے اچھے بہترین ٹھکانے ملیں گے کہ جن کا بیان بیشمار مرتبہ قرآن میں آچکا ہے۔ اور پھر ان لوگوں سے اللہ کا ایک وعدہ یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کے آباو اجداد اہل کنبہ عزیز و اقارب کو بھی ان کے اپنے اعمال سے بڑھ کر بلند درجات دیے جائیں گے شرط یہ ہے کہ وہ سچے مسلمان ہوں۔ تیسرا اعلان اور وعدہ اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں سے یہ کرتا ہے کہ جنت میں ہر دروازے سے فرشتے ان کو سلام کریں گے اور کہیں گے کہ یہ تمہارے صبرو استقامت اور نیکیوں کی وجہ سے درجات ملے ہیں۔ اور یہ سب انعامات کیسے لا جواب اور بہترین ہیں جن کا وعدہ اللہ نے اپنے مقبول ترین بندوں کے ساتھ کیا ہے۔
Ayahs 13:25–27برے لوگ اور ان کا مطالبہ
تشریح : یہاں دوسرے گروہ، یعنی کفار کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے قطع رحمی ہو اور فساد پھیلے یہ لوگ وہی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو توڑ دیا، یعنی یہ لوگ مسلمان کے بالکل الٹ کام کرتے ہیں اسی لیے ان کے لیے برے گھر اور لعنت کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کفار کو جو کچھ عیش و آرام دنیا میں دیا گیا ہے تو وہ صرف اللہ کی مرضی اور اس کی تقسیم رزق کا اپنا طریقہ ہے۔ رزق وہ کفار مشرکین اور مسلمانوں سب کو دیتا ہے مگر یہ صرف اس دنیا کی زندگی کا ہی حصہ ہے جب کہ اصل نعمتیں، عیش و آرام تو آخرت میں ملیں گی۔ کیونکہ کافر سب کچھ اسی دنیا کو سمجھتا ہے۔ نہ اللہ پر ایمان لاتا ہے نہ اللہ کی کتاب پر ایمان رکھتا ہے نہ اس پر عمل کرتا ہے اور نہ ہی آخرت کے انعام و سزا پر یقین رکھتا ہے۔ اس کو تو یقین ہی نہیں کہ یہ زندگی عارضی اور ختم ہونے والی ہے اصل زندگی اور ہمیشہ رہنے والی زندگی تو آخرت کی زندگی ہی ہے۔ کفارنے آپ ﷺ سے معجزہ کی فرمائش کی تو اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ تمہارا یہ کہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تم ہدایت کی راہ پانے کا کوئی ارادہ ہی نہیں رکھتے ورنہ جو ہدایت کو پسند کرتے ہیں وہ تو ویسے ہی ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزوں کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے جان لو کہ تمہارے بدی کی طرف رجوع رکھنے کی وجہ سے تم کبھی بھی ہدایت نہیں پاسکتے جب کہ اللہ کا قانون ہے کہ جو ہدایت کی تھوڑی سی بھی خواہش کرتا ہے اللہ اس کے لیے ہدایت کے راستے پوری طرح کھول دیتا ہے۔ اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کی یہ نشانیاں ہیں اس کی تفصیل اگلی آیات میں دی گئی ہیں۔
Ayahs 13:28–30اللہ کے ذکر کی فضیلت اور اس کی بڑائی
تشریح : تمام دنیا کی نعمتیں ایک طرف اور اللہ کی یاد اس کا کلام ایک طرف۔ قرآن پاک کی جہاں اور بہت سی فضیلتیں اور برکتیں ہیں وہاں ایک بہت بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ جہاں دنیا کی کوئی چیز دل کو سکون نہ دے سکے وہاں ذکر الٰہی سکون دیتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ پوری توجہ اور خشوع و خضوع سے اس کو پکارا جائے اللہ کا ذکر کیا جائے۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے۔ ” دل اللہ کی یاد ہی سے چین پاتے ہیں۔ “ ( سورة رعد آیت 28:)
پھر رسول اللہ ﷺ کا درجہ ان کو بتاتے ہوئے رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ آخری رسول ہیں۔ اچھے برے لوگ ہمیشہ موجود رہتے ہیں آپ ان سے بےنیاز ہو کر بس اللہ کی تعلیمات اور توحید کا سبق دیتے چلے جائیں۔ اللہ آپ کا حامی و مددگار ہے۔