12. Surah Yusuf
يوسفJoseph · 111 ayahsمفہوم القرآن
الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader
الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں۔
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader
ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader
(اے پیغمبر ! ﷺ ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے آپ کی طرف بھیجا ہے آپ کو ایک نہایت اچھا بیان سناتے ہیں اور آپ یقیناً اس سے پہلے بیخبر تھے۔
اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader
جب یوسف نے اپنے والد سے کہا اے ابا جان ! میں نے خواب میں گیارہ ستاروں، سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ دیکھتا ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ (4)
قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader
انہوں نے کہا کہ بیٹا ! اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے حق میں کوئی بری چال چلیں گے (نقصان پہنچائیں گے) یقینا شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader
اور اسی طرح اللہ تمہیں برگزیدہ اور ممتاز کرے گا، اور خوابوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا پر دادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا، بیشک تمہارا رب سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے
لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader
یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں پوچھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔
اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader
جب انہوں نے آپس میں تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں، حالانکہ ہم قوت والے ہیں (زیادہ ہیں) کچھ شک نہیں کہ باپ صریح غلطی پر ہیں۔
اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader
تو یوسف کو یا تو جان سے مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آئو۔ پھر باپ کی توجہ صرف تمہاری طرف رہے گی۔ اور پھر تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے۔
قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader
ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو، کسی گہرے کنوئیں میں ڈال دو کہ کوئی راہگیر نکال کر اور ملک میں لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے تو یوں کرو۔
قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader
(یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب (علیہ السلام) کو) کہنے لگے کہ ابا جان ! کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے ؟ حالانکہ ہم اس کے خیر خواہ ہیں۔
اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader
کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے ہم اس کے نگہبان ہیں۔
قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader
انہوں نے کہا کہ یہ خیال مجھے پریشان کردیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (وہ مجھ سے جدا ہوجائے۔ ) اور مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تم کھیل میں اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے۔
قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader
وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک مضبوط جماعت ہیں اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑگئے۔
فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader
غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنوئیں میں ڈال دیں تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم ان کے سلوک سے ان کو آگاہ کرو گے اور ان کو اس کی کچھ خبر نہ ہوگی۔
وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader
(یہ حرکت کر کے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔
قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader
اور کہنے لگے کہ ابا جان ! ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور اگرچہ ہم سچ ہی کہتے ہیں آپ ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے۔
وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader
اور ان کی قمیض پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ اصل میں ایسا نہیں ہے، ) بلکہ تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر ہی اچھا ہے اور جو تم بیان کرتے ہو، اس کے بارے میں اللہ کی ہی مدد درکار ہے۔
وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader
(اب اللہ کی شان دیکھو کہ) اس کنویں کے قریب ایک قافلہ آپہنچا اور انہوں نے پانی کے لیے اپنا سقہ بھیجا، اس نے کنویں میں اپنا ڈول ڈالا ( تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا کہ زہے نصیب یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے تھے اللہ کو سب معلوم تھا۔
وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader
اور اس کو تھوڑی سی قیمت (یعنی تھوڑے سے درہم) کے بدلے بیچ دیا اور انہیں اس کے بارے میں کچھ لالچ بھی نہ تھا۔
وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader
اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی ( زلیخا) سے کہا کہ اس کو عزت و اکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو خوابوں کی تعبیر سکھائیں اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔