12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 12:1–3

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ﷺ ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے آپ کی طرف بھیجا ہے آپ کو ایک نہایت اچھا بیان سناتے ہیں اور آپ یقیناً اس سے پہلے بیخبر تھے۔

احسن القصص تشریح : ان آیات میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصے کو احسن القصص، یعنی سب سے بہترین قصہ کہا گیا ہے۔ الٓر یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ فرمایا کہ یہ آیات یعنی نشانیاں ایک ایسی نایاب کتاب میں بیان کی گئی ہیں جو انتہائی جامع، مکمل اور سچی کتاب ہے۔ کیونکہ یہ جزیرۃ العرب میں نازل ہوئی اس لیے انہی کی زبانی یعنی عربی زبان میں نازل کی گئی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے لوگ اس کے مضامین، مفہوم اور احکامات کو اتنی اچھی طرح سمجھ سکیں کہ دوسرے غیر عربی لوگوں کو بغیر کسی شک و شبہ کے اصل مفہوم سمجھا سکیں اور کسی طرح کی غلطی کا امکان نہ رہے۔ اور پھر بڑی وضاحت سے اس قصہ میں اہل عرب کے مشرکین کے اس سوال کا جواب دیا گیا ہے جو انہوں نے قرآن کی آسمانی کتاب ہونے کے شک میں آپ سے کیا۔ سوال یہ کیا کہ بتائو بنی اسرائیل کے مصر پہنچنے کا کیا سبب تھا ؟ اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے کہ ہم وحی کے ذریعے سے ایک ایسا بہترین قصہ سناتے ہیں جس کی خبر آپ کو بالکل نہ تھی۔ بہترین قصہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے کہا ہے کیونکہ اس قصہ میں انسانی زندگی کے تمام پہلوئوں کو اور ان تمام مسائل کو جن کا انسانی زندگی کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے مثلاً توحید، خوابوں کی تعبیر، سیاسی مسائل، گھریلو مسائل، صبر و سکون، ہمت، جرأت اور اللہ پر بھروسہ، محنت اور شکر کو اتنی عمدگی اور دلیلوں کے ساتھ بڑے ہی موثر اور آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ ہر پڑھنے والا سبق سیکھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس قصہ کو جو کہ سورت یوسف میں بیان کیا جا رہا ہے بہترین قصہ قرار دیا ہے۔
Ayahs 12:4–6

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

جب یوسف نے اپنے والد سے کہا اے ابا جان ! میں نے خواب میں گیارہ ستاروں، سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ دیکھتا ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ (4)

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ بیٹا ! اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے حق میں کوئی بری چال چلیں گے (نقصان پہنچائیں گے) یقینا شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح اللہ تمہیں برگزیدہ اور ممتاز کرے گا، اور خوابوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا پر دادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا، بیشک تمہارا رب سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے

سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا خواب اور باپ کی نصیحت تشریح : یہاں خواب کا ذکر ہے سچا خواب دیکھنا یہ مقبول الٰہی ہونے کی نشانی ہے۔ جیسا کہ چھوٹی عمر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند ان کے آگے سجدہ کر رہے ہیں۔ یہ اشارہ تھا اس بات کی طرف کہ وہ ضرور کوئی بہت بڑا انعام، برکت یا سعادت پانے والے ہیں۔ یوں بھی اللہ کے پسندیدہ انسان شروع سے ہی نیک مزاج، نرم دل اور پاکیزہ خیالات رکھتے ہیں۔ ان کے والد فوراً سمجھ گئے کہ یوسف کو نبوت ملے گی، خواب کی تعبیر کا مطلب ہے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے فہم و فراست، معاملہ فہمی، دور اندیشی اور حکمت ملے گی۔ کیونکہ آپ والد کے بڑے ہی پسندیدہ بیٹے تھے اس لیے بن یمین کے سوا دس بڑے بھائی یوسف (علیہ السلام) سے بڑا حسد کرتے تھے ویسے تو آپ کے گیارہ بھائی تھے مگر دس بڑے بھائی دوسری مائوں سے تھے یوسف (علیہ السلام) اور بن یمین ایک ماں سے تھے۔ اسی لیے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف کو نصیحت کی کہ اپنے خواب کا ذکر بھائیوں سے نہ کرنا ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی شیطانی کام کر بیٹھیں یعنی تمہیں نقصان پہنچا دیں۔ کیونکہ شیطان تو ویسے ہی ہر بھلے انسان اور ہر بھلے کام کو بگاڑنے کی کوشش میں رہتا ہے نبوت تو ان کے خاندان میں چلی آرہی تھی یوسف (علیہ السلام) کے دادا اور پردادا بڑے جلیل القدر پیغمبرگزرے ہیں اور یوسف (علیہ السلام) میں پیغمبرانہ صلاحیتیں بچپن سے ہی موجود تھیں جن کو ان کے والد حضرت یعقوب (علیہ السلام) جان چکے تھے۔ اور انہوں نے فرمایا کہ جس طرح حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور ان کے خاندان کو دنیا میں عزت ملی اسی طرح تمہیں بھی اللہ کی خاص نعمتیں ضرور عطا ہوں گی۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ کیا ہوگا ؟ کیسے ہوگا ؟ یہ سب کچھ تو اللہ ہی جانتا ہے کہ یہ سب کچھ کس طرح تکمیل کو پہنچے گا۔
Ayahs 12:7–10

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں پوچھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جب انہوں نے آپس میں تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں، حالانکہ ہم قوت والے ہیں (زیادہ ہیں) کچھ شک نہیں کہ باپ صریح غلطی پر ہیں۔

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

تو یوسف کو یا تو جان سے مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آئو۔ پھر باپ کی توجہ صرف تمہاری طرف رہے گی۔ اور پھر تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے۔

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو، کسی گہرے کنوئیں میں ڈال دو کہ کوئی راہگیر نکال کر اور ملک میں لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے تو یوں کرو۔

سیدنا یوسف کو نقصان پہنچانے کے لیے بھائیوں کی سازش تشریح : جیسا کہ آیات میں بیان ہوچکا تو سب بھائیوں نے حسد کے مارے یوسف (علیہ السلام) کو ٹھکانے لگانے کے لیے تین تجویزیں رکھیں اور پھر آخری فیصلہ یہ ہوا کہ ان کو کنوئیں میں پھینک دیا جائے، لہٰذا اس فیصلہ پر عمل کرنے کی تیاری شروع ہوگئی۔
Ayahs 12:11–21

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

(یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب (علیہ السلام) کو) کہنے لگے کہ ابا جان ! کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے ؟ حالانکہ ہم اس کے خیر خواہ ہیں۔

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے ہم اس کے نگہبان ہیں۔

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ خیال مجھے پریشان کردیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (وہ مجھ سے جدا ہوجائے۔ ) اور مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تم کھیل میں اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے۔

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک مضبوط جماعت ہیں اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑگئے۔

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنوئیں میں ڈال دیں تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم ان کے سلوک سے ان کو آگاہ کرو گے اور ان کو اس کی کچھ خبر نہ ہوگی۔

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

(یہ حرکت کر کے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ ابا جان ! ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور اگرچہ ہم سچ ہی کہتے ہیں آپ ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے۔

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور ان کی قمیض پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ اصل میں ایسا نہیں ہے، ) بلکہ تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر ہی اچھا ہے اور جو تم بیان کرتے ہو، اس کے بارے میں اللہ کی ہی مدد درکار ہے۔

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

(اب اللہ کی شان دیکھو کہ) اس کنویں کے قریب ایک قافلہ آپہنچا اور انہوں نے پانی کے لیے اپنا سقہ بھیجا، اس نے کنویں میں اپنا ڈول ڈالا ( تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا کہ زہے نصیب یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے تھے اللہ کو سب معلوم تھا۔

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور اس کو تھوڑی سی قیمت (یعنی تھوڑے سے درہم) کے بدلے بیچ دیا اور انہیں اس کے بارے میں کچھ لالچ بھی نہ تھا۔

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی ( زلیخا) سے کہا کہ اس کو عزت و اکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو خوابوں کی تعبیر سکھائیں اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

بھائیوں کی زیادتی اور سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصر پہنچنا تشریح : اس تمام قصہ کو پڑھنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اکثر حسد کی وجہ سے بعض شرارت اور خباثت میں ایسے برے کام کرجاتا ہے کہ جو خود اس کے اپنے لیے دنیا و آخرت میں رسوائی کا باعث بن جاتے ہیں۔ دغا، فریب، جھوٹ اور ظلم یہ بہت بڑے گناہ ہیں جو انسان صرف اپنی دنیوی کامیابی کے لیے کرجاتا ہے۔ اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب کرنے سے کسی کا حقیقت میں نقصان کم ہی ہوتا ہے اصل میں اپنی عاقبت خراب کرلیتا ہے اور دنیا میں بھی کوئی عزت اور کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ اللہ تو ہر اس کام سے واقف ہے جو انسان دوسروں سے چھپا کر کرتا ہے۔ اور پھر اللہ سے بڑا انصاف کرنے والا کون ہوگا۔ اور پھر یہ بھی بہت بڑا نکتہ ہمیں ملتا ہے کہ ہر صورت، ہر پریشانی اور مصیبت کا علاج یہ نہیں کہ واویلا مچایا جائے بلکہ بڑے ہی صبر شکر اور توکل علیٰ اللہ کر کے اللہ سے بہتری کی امید اور مدد کی درخواست کرنی چاہیے۔ یاد رکھیں کہ ہر رات کے بعد چمکتا ہوا دن ضرور آتا ہے۔ اور اللہ کی حکمتوں کو کون جانے۔ اس نے کس حکمت سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو موت، خوف اور رنج سے بچا کر ایک ایسی جگہ پہنچا دیا جہاں ان کے لیے راحت ہی راحت تھی عزیز مصر اور اس کی بیوی زلیخا نے ان کو سگے والدین کی طرح پیار محبت اور خلوص سے پالا۔ ادھر باپ نے اصل حقیقت جانتے ہوئے بھی اس حادثہ کو شکر اور صبر سے برداشت کرلیا کہ اس میں ہی اللہ کی رضا ہے اور اپنے ظالم بیٹوں کو بھی ایک طرح سے معاف ہی کردیا۔ گو کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے لیے بیٹے یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کا صدمہ بڑا ہی شدید تھا۔ اللہ کی حکمت اور آزمائشوں کو صبر و سکون سے اور اس پر بھروسہ کرتے ہوئے قبول کرلینا ہی اصل بندگی ہے اور سکون وچین کا ذریعہ بھی یہی ہے اس قصہ کا بیان کرنا ایک تو مسلمانوں کو بہت سے مسائل سے آگاہ کرنا تھا اور دوسرے حضرت محمد ﷺ کو بھی تسلی دینا مقصود تھی۔ کیونکہ ان کے لیے بھی ان کے اہل مکہ نے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور پھر اللہ نے اپنی خاص حفاظت میں پہلے غار میں اور اس کے بعد مدینہ میں پہنچا دیا جہاں ان کو بڑی اچھی چھوٹی سی اسلامی ریاست بنانے کا بہترین موقعہ ملا۔ اور پھر انہوں نے دنیا کے بہت بڑے حصہ پر فتح حاصل کی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بھائیوں نے ظلم کرتے ہوئے کنوئیں میں ڈال دیا، پانی نکالنے کے لیے آدمی نے ڈول ڈالا تو حضرت یوسف ڈول میں بیٹھ کر باہر نکل آئے، یہ واقع ایک بچہ کے لیے کس قدر تکلیف دہ ہوسکتا ہے ؟ ہر انسان اندازہ کرسکتا ہے۔ پھر بھائی دوبارہ کنوئیں کے پاس گئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کو مل گئے تو انہوں نے اس آدمی سے بڑی معمولی رقم لے کر ان کو اس کے پاس رہنے دیا کیونکہ وہ تو چاہتے ہی یہی تھے کہ کوئی ان کو ان سے دور کسی ملک میں لے جائے۔ پھر جب مصر کے بازار میں ان کو غلام کے طور پر بیچ دیا گیا تو اس وقت ان پر کیا گزری ہوگی۔ لیکن جس اللہ نے ان پر مصیبت کے پہاڑ توڑے تھے اسی نے ان کو صبر و استقامت بھی عطا کیا اور پھر اس کا انعام بھی دیا کہ ان کو مصر کے ایک معتبر انسان نے خرید لیا اور عزت و اکرام سے اس کو بیٹا بنا کر پالنے لگا اور یہ انعام تھا حضرت یوسف کے صبر کا۔ اور اس میں حکمت بھی نظر آتی ہے کہ اس طرح وہ مصر کی ہائی سوسائٹی میں شامل ہوگئے تاکہ وہاں کے طور طریقے سیکھیں اور ان کی سوجھ بوجھ میں اضافہ ہو۔ تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ مشکلات میں تدبیر سوچنے لگے اور بہترین منتظم بن گئے اس کے علاوہ خواب کی تعبیر کا ملکہ بھی اللہ نے آپ کو عطا کیا اور یوں آپ ایک مدبر اور معقول انسان بن کر لوگوں میں پہچانے جانے لگے۔