11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 11:1–3

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الٓرا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم ہیں اور اللہ حکیم وخبیر کی طرف سے باوضاحت بیان کردی گئی ہیں۔

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور میں اس کی طرف سے ڈرسنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، اس کے آگے توبہ کرو وہ تم کو ایک وقت مقرر تک اچھا فائدہ پہنچائے گا اور ہر بزرگی والے کو اس کا فضل عطا کرے گا۔ اور اگر روگردانی کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں (قیامت کے) بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔

قرآن کے نزول کا مقصد تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید اور اس کی آیات کو محکم اور مفصل قرار دیا ہے اور اللہ کی خالص عبادت اور رسول اکرم ﷺ کے دو وصف نذیر اور بشیر ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ اس کے بعد توبہ بخشش، نیک اعمال اور سزا و جزا کا بیان ہے۔ دیکھا جائے تو انسان کی زندگی کا مقصد ہی عبادت ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب پر اسلام کو اس لیے فوقیت اور برتری حاصل ہے کیونکہیہ دین فطرت کے عین مطابق ہے اور قابل عمل بھی۔ ہر انسان جانتا ہے کہ اس کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ بس تو پھر سوچنے کی کیا بات ہے ؟ جس نے پیدا کیا ہے اسی کی عبادت کرو۔ یعنی صرف اسی کے سامنے سر جھکائو اسی سے مدد مانگو اسی سے بخشش مانگو۔ جو بھی کام کرو دل میں یہ سوچ لو کہ اللہ کی خوشنودی، اس کا حکم بجا لانے، اور اس کے بندوں کی مدد اور خیر خواہی کے لیے کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر پڑھنے کے لیے سکول جاؤ یا نوکری کے لیے ہسپتال، فیکٹری یا کسی بھی دفتر، سکول، کالج، یونیورسٹی میں جاؤ تو دل میں یہ سوچ لو کہ یہ جو بھی میں کرنے جا رہا ہوں یہ امانت کی ادائیگی کرنے کے لیے جا رہا ہوں۔ یقین جانیے تمام دن ہمارا ہر سانس، ہر قدم اور ہر عمل نیکی میں لکھا جائے گا۔ کام میں تھکن ہرگز محسوس نہ ہوگی اور کام میں جو لطف آئے گا اس کا اندازہ تو آپ خود ہی لگا لیں گے۔ ہے نا دوہرے فائدے کا کام ؟ کس قدر منافع بخش عمل ہے۔ جو معاوضہ آپ کے کام کے بدلہ میں ملتا ہے اس کو ہرگز اپنے کام کا معاوضہ نہ سمجھیں بلکہ اس کو تو محض پوکٹ منی سمجھیں۔ یقینا اس طرز عمل سے آپ کو تمام عمر بڑا ہی سکون بڑا ہی مزہ اور بڑا ہی فائدہ حاصل ہوگا۔ یہ بات جو آپ کے دل، نیت، ضمیر اور عمل میں پیدا ہوگی تو اس کو صرف اللہ ہی جانتا ہے وہ اتنے اچھے بندے کو برکتیں، رحمتیں، خوشیاں اور کامیابیاں بھلا کیوں نہ دے گا۔ اس سکون اور بےفکری اور خوشی سے کہ آپ دہرا منافع کما رہے ہیں، یعنی دنیا و آخرت کی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں آپ کی صحت و تندرستی میں بھی اضافہ ہوگا۔ کتنا آسان ہے ہمارا دین، کتنا مہربان ہے ہمارا اللہ کہ جس نے ہمیں دنیا میں پیدا کیا عمل کی توفیق دی تمام مخلوق سے بہترین مخلوق بنایا نیکی بدی کی پہچان کے لیے مشفق و مہربان حضرت محمد ﷺ کی صورت میں ارفع و اعلیٰ نبی رسول اور پیغمبر دیا اور مصلحتوں، حکمتوں اور بھلائیوں سے بھری ہوئی سب سے بہترین کتاب قرآن پاک عطا کی۔ ہمارا فرض تو صرف اتنا ہے کہ اپنا رخ، اپنا سب کچھ اللہ کے لیے وقف کردیں۔ عبادت کریں تو اسی کی کریں، مدد مانگیں تو اسی سے مانگیں، توبہ کریں تو اسی سے کریں، فرمانبرداری کریں تو اسی کی کریں، بات مانیں تو اسی کی مانیں، رسول مانیں تو اسی کے بھیجے ہوئے رسولوں کو مانیں، زندگی گزاریں تو اللہ کے رسول اور قرآن کی بتائی ہوئی ہدایات کے مطابق گزاریں۔ اسی لیے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا، ان کے لیے نہ کوئی خوف ہے نہ کوئی رنج ہے۔ دنیا و آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے، اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں، یہی بڑی کامیابی ہے۔ “ (یونس آیات 64 - 63 - 62 ) یہ بہت بڑا اور سچا وعدہ ہے جو ہمارے نبی پاک ﷺ کے ذریعہ سے ہم سے کیا گیا ہے۔ اس طرح زندگی گزارنے سے ہمارے اعمال کا بینک بیلنس بڑی تیزی سے بڑھتا چلا جائے گا جو آخرت میں ہمارے کام آئے گا۔ اب یہ ہرگز نہیں سوچ لینا چاہیے کہ کیونکہ ہم اللہ کے دوست ہیں اس لیے زندگی میں غمی ہمیں کبھی نہیں مل سکتی۔ خوشی اور غمی زندگی کا حصہ ہیں جیسے دن رات ہمارے لیے لازمی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ مومن خوشی میں آپے سے باہر ہو کر اللہ سے غافل نہیں ہوجاتا بلکہ ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتا رہتا ہے اور دکھ، تکلیف یا مصیبت سے بہت زیادہ پریشان نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ضرور اس میں بھی کوئی مصلحت ہوگی، لہٰذا دکھ اور تکلیف میں وہ استغفار یا ” اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ “ پڑھتا ہے۔ اور یوں تکلیف کی سختی اطمینان اور سکون میں بدلنے لگتی ہے۔ اور یہ بہترین نسخہ بھی ہمیں اللہ نے ہی رسول اللہ ﷺ کے ذریعے سے سکھایا ہے۔ فرمان رب العالمین ہے : وہ (مؤمن) مصیبت آنے پر ” اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ “ کہتے ہیں۔ (البقرۃ : 156)
Ayahs 11:4–5

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

دیکھو ! یہ اپنے سینوں کو دہرا کرتے ہیں تاکہ اللہ سے چھپائیں سن رکھو ! جس وقت یہ کپڑوں میں لپٹ کر پڑتے ہیں تب بھی وہ ان کی کھلی اور چھپی باتوں کو جانتا ہے۔ وہ تو دلوں تک کی باتوں کو جانتا ہے۔

اللہ دلوں کے بھید جانتا ہے تشریح : پچھلی آیت کے آخر میں نبی اکرم ﷺ نے آخرت کا ذکر کیا کہ میں حساب کتاب کے دن سے بہت ڈرتا ہوں کیونکہ اس دن بروں کو دوزخ کی سزا ضرور ملے گی اور اچھوں کو جنت ملے گی تو ان آیات میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت اور علم کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ چھپ کر گناہ یا بد کرداری کریں گے مگر اللہ کو معلوم نہ ہو سکے گا۔ یہ بڑی غلط اور فضول سوچ ہے کیونکہ اس کے علم میں تو دنیا کا ذرہ ذرہ ہے اور اسی طرح وہ تو دل کے اندر چھپے ہوئے بھید، نیت اور ارادہ سب کچھ سے واقف ہے۔ جب یہ پکا یقین ہوجائے جو کہ ہونا چاہیے تو پھر انسان بہت سی برائیوں سے بچ سکتا ہے۔ یہ یقین ایمان کا حصہ ہے۔ محمد بن عبید بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ یہ آیت کس باب میں اتری ہے ؟ تو انہوں نے کہا : کچھ لوگ رفع حاجت کے وقت یا اپنی بیویوں سے صحبت کے وقت آسمان (پروردگار) کی طرف ستر کھولنے سے شرماتے اور شرم کے مارے جھکے جاتے تھے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (صحیح بخاری، کتاب التفسیر )
Ayahs 11:6–8

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق اللہ کے ذمے ہے۔ وہ اس کے ٹھہرنے کی جگہ کو بھی جانتا ہے اور اس کے لوٹنے (دفن ہونے) کی جگہ کو بھی، یہ سب کچھ کتاب روشن میں لکھا ہوا ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا، اور اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا۔ تمہارے پیدا کرنے سے مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ موت کے بعد زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے یہ تو کھلا جادو ہے۔

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ایک معین مدت تک ہم ان سے عذاب مؤخر کردیں تو کہیں گے کون سی چیز عذاب کو روکے ہوئے ہے ؟ دیکھو جس دن وہ آئے گا پھر ٹلے گا نہیں۔ اور جس چیز کا یہ مذاق اڑایا کرتے ہیں وہ ان کو گھیرلے گی

ہر جاندار کا رازق اللہ، مذاق کرنیوالوں کا انجام تشریح : آیت نمبر چھ میں اللہ کے رازق اور علیم وخبیر ہونے کی دلیل ہے۔ وہ دنیا کی تمام مخلوقات کو ایسے طریقوں سے رزق پہنچاتا ہے کہ جو انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوسکتا، مثلاً ایک واقعہ سنیں ایک شخص روزی رزق کے سلسلہ میں گھر سے نکلا۔ راستہ میں بارش ہوگئی تو وہ بچنے کے لیے ایک غار میں گھس گیا وہاں اس نے ایک اندھا عقاب دیکھا تو وہ سوچنے لگا کہ یہ اندھا عقاب کہاں سے کھاتا ہوگا۔ اچانک ایک کبوتر بارش سے بچنے کے لیے غار میں گھس آیا اور عقاب کے اوپر بیٹھ گیا، عقاب نے اسے دبوچ لیا اور کھالیا۔ وہ شخص اللہ کی قدرت، طاقت اور رازق ہونے کا قائل ہوگیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ پتھر کے اندر سمندر کی تہہ میں جہاں بھی کہیں اس کی مخلوق موجود ہے وہ اس کو رزق پہنچاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب کام چھوڑ چھاڑ کر بیٹھ جاؤ۔ اللہ نے محنت مشقت کا حکم دیا ہے بس طلب رزق میں اتنا مصروف نہیں ہونا چاہیے کہ نہ صحت کا خیال رہے اور اللہ سے غافل بھی ہوجاؤ۔ توکل علی اللہ بہت ضروری ہے مگر محنت اور کوشش کے ساتھ۔ اس دنیا کا نظام یونہی نہیں چل رہا بلکہ تمام مخلوق کا نباتات، جمادات، حیوانات غرض ایک ایک ذرے کا پروگرام اللہ نے اپنے پاس لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔ اللہ کے حکم، منصوبہ یا پروگرام کے بغیر دنیا میں کچھ نہیں ہوسکتا۔ پھر اللہ کی قدرت اور کمال کا ذکر یوں کیا جا رہا ہے کہ اس نے چھ دن میں آسمانوں اور زمین کو بنایا۔ یہ بات قرآن پاک میں سات دفعہ مختلف آیات میں بتائی گئی ہے۔ (1) سورة الاعراف آیت : 54 ۔ (2) سورة یونس آیت : 3 ۔ (3) سورة ھود آیت : 7 ۔ (4) سورة الفرقان آیت : 59 ۔ (5) سورة السجدہ آیت : 4 ۔ (6) سورة ق آیت : 38 ۔ (7) سورة الحدید آیت : 4 ۔ چھ دن کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔ تفسیر کبیر میں لکھا ہے۔ ” دن ان لفظوں میں جن سے زمانہ تعبیر کیا جاتا ہے سب سے زیادہ مشہور ہے۔ ورنہ آسمانوں کے پیدا ہونے سے پہلے نہ رات تھی نہ دن تھا۔ اور یہ ایسی بات ہے جیسے دوسرے سے کہیں کہ جس دن میں پیدا ہوا ہوں مبارک دن تھا حالانکہ ممکن ہے رات کو پیدا ہوا ہو مگر ایسا ہونا اس کے مطلب سے خارج نہیں ہے کیونکہ اس کی مراد دن کہنے سے وہ زمانہ ہے جس میں وہ پیدا ہوا۔ “ (تفسیر کبیر سورة سجدہ) مطلب یہ ہے کہ دن سے مراد تخلیق کے مختلف مدارج ہیں، یعنی آسمان اور زمین کی تخلیق درجہ بدرجہ، یعنی (Evolutionary Process) سے ہوئی۔ سمجھ یہ آتا ہے کہ کائنات کا ایک آغاز ہے اور یہ ارتقائی منازل سے گزر کر موجودہ شکل میں آئی۔ اسی طرح عرش معلیٰ کا تصور انسان کی عقل و نظر سے باہر ہے۔ قرآن مجید میں جہاں بھی اس تو ٰی علی کا لفظ آیا ہے تو اس کا معنی قرار پکڑنا ہے، بعض لوگ یا گمراہ فرقے اس تو ٰی علی العرش کا مفہوم بیان کرتے ہیں، عرش پر متمکن ہوگیا یا کائنات کے نظام پر غالب آگیا یا زمام اختیار و اقتدار سنبھالی اور اس تو ٰی کا معنی استولیٰ سے کرتے ہیں۔ عرش پر مستوی ہونا یہ اللہ کی صفت ہے۔ اللہ کا عرش کیسا ہے یا اس نے عرش پر کیسے قرار پکڑا ہے، یہ جاننے کے ہم مکلف نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ : ” اللہ کی مثال بیان نہ کرو “ (16: 74) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی کی تخلیق آسمان و زمین سے پہلے ہوچکی تھی یہ پانی کہاں تھا یا اس پانی کی کیفیت کیا تھی یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ البتہ یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے پہلے تو اللہ کا عرش پانی پر تھا اور تخلیق کے بعد یہ عرش سات آسمانوں اور کرسی سے بھی اوپر ہے۔ سائنسدان اس مسئلہ کے حل میں لگے ہوئے ہیں۔ بس ہم تو یونہی سمجھ سکتے ہیں کہ عرش و کرسی۔ طاقت، برتری اور اختیار کی نشانی ہے۔ جیسے ہم اپنے بادشاہ کو تخت پر بٹھا دیتے ہیں اور اس کی فرمانبرداری میں با ادب کھڑے ہوجاتے ہیں۔ تو یہ عرش حقیقت میں اللہ کے اختیار، بڑائی، قدرت اور مالک کل ہونے کا ایک تصور ہے۔ یہ عالم ازل کی بات ہے انسان اس کو کیسے سمجھ سکتا ہے۔ انسان کا کام تو صرف یہ ہے کہ اس کے سامنے جھک جائے اسی کا فرمانبردار بن کر رہے اور اسی کے احکامات کی پابندی کرے۔ کیونکہ انسان نے ایک دن ضرور اس دنیا سے رخصت ہوجانا ہے اور اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اعمال کا بدلہ پانا ہے۔ کافر لوگ اس بات کو مذاق سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ان کی عقل اتنی چھوٹی ہے کہ وہ اللہ کے اس بنائے ہوئے پروگرام کو انسان کے پیدا کیے جانے کے مقصد کو اور اللہ کی قدرت کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ اسی لیے تو مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” بھئی جس عذاب کا ذکر آپ کرتے ہیں تو وہ کیسے اور کب آئے گا، یعنی آکیوں نہیں جاتا ؟ “ ان بیوقوفوں کو کیا معلوم کہ اللہ کے حساب کتاب کے مطابق دنیا کا نظام چل رہا ہے جو وقت جس عذاب کے لیے مقرر کردیا گیا ہے وہ عین اس وقت آجائے گا۔ نہ ایک گھڑی آگے ہوگا نہ ایک گھڑی پیچھے ہوگا۔ اور یہ سب اس کی لپیٹ میں آجائیں گے۔ ان آیات کی روشنی میں آج کے بڑے بڑے سائنسدانوں اور کفار و مشرکین کو اچھی طرح سمجھایا جاسکتا ہے۔ کہ کائنات ہمیشہ سے نہیں ہے اور نہ ہمیشہ رہے گی۔ اللہ نے اس کو بنایا ہے اور کائنات کا ذرہ ذرہ ہر چیز خاص ڈیزائن کے مطابق اللہ کے حکم سے بنائی گئی ہے۔ ایک ایک ذرہ تمام مخلوقات، نباتات، جمادات ارض و سموات غرض ہر چیز خاص مقصد، حساب، نمونہ اور پروگرام کے مطابق بنائی گئی ہے اور خاص نظام کے تحت چل رہی ہے اور خاص وقت پر ختم کردی جائے گی۔ اس کے پیدا کرنے، چلانے، ختم کرنے اور پھر دوبارہ پیدا کرنے میں کوئی دخل نہیں دے سکتا کیونکہ اس کا خالق، مالک اور حاکم اللہ وحدہٗ لا شریک ہے۔ ملحدسائنس دانوں کا یہ کہنا ہے دنیا ہمیشہ سے ہے یا کسی حادثہ سے وجود میں آگئی بالکل غلط ہے۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا ” ہم نے زمین اور آسمان اور جو کچھ اس کے اندر ہے، بےمقصد پیدا نہیں کیا بلکہ یہ حق کے ساتھ ہے۔ یہ سب کچھ ایک خاص اندازے سے ایک خاص وقت تک ہے۔ (سورۃ الاحقاف آیت 3 )
Ayahs 11:9–11

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں، پھر اس سے اس کو چھین لیں تو ناامید، نا شکرا ہوجاتا ہے۔

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش پہنچائیں تو خوش ہو کر کہتا ہے آہا مجھ سے سب مصیبتیں دور ہوگئیں بیشک وہ خوش ہونے والا اور فخر کرنے والا ہے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

ہاں ! جنہوں نے صبر کیا اور نیک عمل کیے انہی کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

دنیا دار، ناشکرے شخص کی نشانیاں اور صابر لوگوں کا اجر تشریح : ان آیات میں انسان کی نفسیات بیان کی گئی ہیں کہ ایک کمزور ایمان والا شخص ذرا سی تکلیف پہنچنے پر سخت پریشان ہوجاتا ہے جو کہ توکل کی کمزوری ہوتی ہے بلکہ اللہ سے گلے شکوے شروع کردیتا ہے۔ جب خوشیاں اور فارغ البالی ملتی ہے تو بجائے شکر ادا کرنے کے اللہ کو بالکل ہی بھول جاتا ہے، حالانکہ مضبوط ایمان والے کی یہ نشانی ہے کہ وہ پریشانی میں صبر، استغفار اور دعا سے کام لیتا ہے جب خوش ہوتا ہے تو اللہ کو تب بھی یاد کرتا ہے اور اس کا شکر بجا لاتا ہے۔ ایسے لوگ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں ان کے لیے بخشش اور بہت زیادہ ثواب کی خوشخبری ہے۔ کیونکہ وہ ہر صورت اللہ کو یاد رکھتے ہیں اور درمیانہ راستہ اختیار کرتے ہیں خوشی میں اور غمی میں اعتدال، صبر، شکر اور ذکر اللہ میں مصروف رہتے ہیں اور یہی انسان کی پاکیزگی کا نشان ہے۔
Ayahs 11:12–16

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

شاید آپ کچھ چیز وحی میں سے جو آپ کے پاس آتی ہے چھوڑ دیں اور اس خیال سے آپ کا دل تنگ ہو کہ کافر یہ کہنے لگیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں نازل ہوا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا ؟ ( اے نبی ﷺ ! ) آپ تو صرف نصیحت کرنے والے ہیں، اور اللہ تو ہر چیز کا نگہبان ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

یہ کیا کہتے ہیں کہ اس نے قرآن خود ہی بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لائو اور اللہ کے سوا جس کو بلا سکتے ہو بلا لو۔

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو کیا تم تسلیم کرتے ہو۔

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں جہنم کی آگ کے سوا اور کچھ نہیں اور جو عمل انہوں نے دنیا میں کیے برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں سب ضائع ہوا۔

مشرکین کو دس سورتوں کی مثل بنانے کا چیلنج تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے۔ کیونکہ آپ بظاہر بالکل کمزور تھے مالی اور وسائل کے لحاظ سے آپ تنہا بےآسرا تھے۔ آپ کے پاس صرف صادق و امین ہونے کی سند تھی۔ کیونکہ بچپن سے آپ اس قدر شریف النفس، ایماندار اور نیک انسان تھے کہ سب آپ کی عزت کرتے تھے۔ لیکن جب آپ نے نبوت کا دعو ٰی کیا توحید کا پیغام دیا بتوں کی اصلیت بتائی تو تمام اہل مکہ آپ کے دشمن ہوگئے۔ کوئی آپ کا مذاق اڑاتا، کوئی دھمکیاں دیتا، کوئی آوازے کستا، کوئی تکلیفیں پہنچاتا، غرض ہر طرف آپکے دشمن ہی دشمن تھے تو ایسے میں اللہ تعالیٰ آپ کو تسلی دیتے ہیں کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ان لوگوں کی ہرگز پرواہ مت کرو۔ جو میرا پیغام ہے پورا پورا ان تک باقاعدہ پہنچاتے رہو۔ اور ان لوگوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ دنیا میں بھی ان کے لیے خواری ہے اور آخرت میں بھی جہنم کی آگ میں ان کو ڈالا جائے گا۔ ان کو نیکی کا پیغام دلیل کے ساتھ دیا جا رہا ہے اور یہ ماننے کو تیار نہیں اس لیے جو کچھ یہ کرچکے یا کر رہے ہیں اور جو آئندہ کریں گے سب ضائع ہوجائے گا۔ البتہ جو ایمان لے آئیں گے ان کے پچھلے گناہ معاف ہوسکتے ہیں اور وہ جہنم کی آگ سے بچ سکتے ہیں ایک بہت بڑا سبق جو مسلمانوں کو ملتا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن پڑھو، پڑھائو اور عمل کرو۔ نیک کام کرو، کرنے کی ترغیب دو اور برائی سے منع کرو۔ اس کام میں نہ کسی کی پرواہ کرو نہ کسی سے ڈرو کیونکہ اللہ ہمیشہ حق کا ساتھ دیتا ہے اور باطل ہمیشہ ہار جاتا ہے۔ دین کی تبلیغ ہر مرد، عورت، بچے، بوڑھے اور جو ان کا فرض ہے۔ اس میں کبھی سستی نہیں کرنی چاہیے۔
Ayahs 11:17–22

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

بھلا جو شخص اپنے رب کی طرف سے دلیل روشن رکھتا ہو اور اس کے ساتھ ایک گواہ بھی اس کی طرف سے ہو جو وہی پڑھ کر سنائے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہو جو پیشوا اور رحمت ہے، ( تو کیا وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے ؟ ) یہی لوگ تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی اور فرقوں میں سے اس سے منکر ہو تو اس کا ٹھکانا آگ ہے، تو تم اس قرآن سے شک میں نہ ہونا۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے ؟ ایسے لوگ اللہ کے سامنے پیش کیے جائیں گے، اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھوٹ بولا تھا۔ سن لو کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو اللہ کے راستے سے روکتے اور اس میں کجروی (ٹیڑھ) چاہتے ہیں اور وہ آخرت سے بھی انکار کرتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ لوگ زمین میں کہیں بھاگ کر اللہ کو ہرا نہیں سکتے، اور نہ ہی اللہ کے سوا ان کا کوئی حمایتی ہے۔ (اے پیغمبر ﷺ ! ) ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ (حق بات) نہیں سن سکتے تھے اور نہ دیکھ سکتے تھے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا، اور جو کچھ وہ افترا کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہا۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

بلا شبہ یہ لوگ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان پانے والے ہیں۔

منکرین اور ان کا انجام تشریح : یہی مضمون سورة بقرہ، آیت 62 اور سورة نساء آیات 152, 150 میں بھی گزر چکا ہے۔ اس کے لیے حدیث میں آیا ہے :” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت کے جس یہودی، یا عیسائی نے بھی میری نبوت کے بارے میں سنا اور پھر مجھ پر ایمان نہ لایا، وہ جہنم میں جائے گا۔ “ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا محمد ﷺ الیٰ جمیع الناس) اور پھر اللہ نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا۔” آپ کی خواہش کے مطابق اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ “ ( سورة یوسف آیت 103) آیت نمبر 18 کے بارے میں حدیث ملاحظہ ہو۔ ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک مومن سے اس کے گناہوں کا اعتراف کروائیں گے کہ تمہیں معلوم ہے تم نے فلاں گناہ بھی کیا تھا، فلاں بھی کیا تھا، وہ مومن کہے گا کہ ہاں ٹھیک ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے ان گناہوں پر دنیا میں بھی پردہ ڈالے رکھا تھا، جا آج بھی انہیں معاف کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری) لیکن دوسرے لوگ یا کافروں کا معاملہ ایسا ہوگا کہ انہیں گواہوں کے سامنے پکارا جائے گا اور گواہ یہ گواہی دیں گے کہ ” یہی وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا۔ “ تو پھر اللہ نے فرمایا کہ ایسے ظالم لوگوں پر لعنت ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر ہے جو سب کچھ جانتے بوجھتے اللہ کا انکار کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی ہدایت کی راہ سے روکتے ہیں تو ان لوگوں کو دگنا عذاب دیا جائے گا۔ اور ان کا سب کیا دھرا ان کے لیے وبال بن جائے گا اور ایسے ہی لوگ آخرت میں بہت نقصان اٹھائیں گے اور سخت عذاب سے دوچار ہوں گے۔ پھر نیک لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 11:23–24

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، اور اپنے رب کے آگے عاجزی کی، یہی جنت کے مالک ہیں، ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دیکھنے والا ہو اور دوسرا سننے والا، دونوں فریقوں کا حال برابر کیسے ہوسکتا ہے ؟ پھر تم غور کیوں نہیں کرتے

مومن کا انعام، کافر اور مومن کا فرق تشریح : جیسا کہ آیات سے ظاہر ہے یہاں آکر عالم آخرت کا بیان ختم ہو رہا ہے۔ اب آگے حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ جس میں بیشمار حکمت اور دانائی کی باتیں سکھائی گئی ہیں۔