11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 11:61–68

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا تو انہوں نے کہا کہ قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا، اور اس میں آباد کیا تو اس سے مغفرت مانگو اور اس سے توبہ کرو، بیشک میرا رب نزدیک بھی ہے اور دعا کا قبول کرنے والا بھی ہے۔

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

انہوں نے کہا صالح ! اس سے پہلے ہم تم سے کئی طرح کی امیدیں رکھتے تھے۔ ( اب وہ ختم ہوگئیں) کیا تم ہمیں ان چیزوں سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں ؟ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں پوری طرح شبہ ہے۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

صالح نے کہا قوم ! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت (نبوت) بخشی ہو اور اگر میں نافرمانی کروں تو اس کے سامنے میری کون مدد کرے گا ؟ تم میرے نقصان میں اضافہ کرتے ہو۔

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور یہ بھی کہا کہ اے قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی (معجزہ) ہے۔ تو اس کو چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں جہاں چاہے چرے اور اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

مگر انہوں نے اس کی کو نچیں کاٹ ڈالیں۔ تو صالح نے کہا کہ اپنے گھروں میں تین دن اور فائدے اٹھا لو۔ یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا۔

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے، ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے محفوظ رکھا، بیشک آپ کا رب طاقتور اور زبردست ہے۔

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

گویا کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے۔ سن لو کہ ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا، سنو ثمود پر پھٹکار ہے۔

سیدنا صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود پر عذاب تشریح : قوم نوح، قوم ھود اور اب قوم ثمود کا ذکر بھی اسی سلسلے میں کیا جا رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ امت مسلمہ کو عبرت دلائیں کہ نافرمان قوموں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ سورة الاعراف رکوع نمبر 10 میں ان کا ذکر ہوچکا ہے۔ یہاں دوبارہ بیان کیا جا رہا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) قوم ثمود کے ہی فرد تھے اسی لیے ان کو ان کا بھائی کہا گیا ہے ان کی تعلیمات باقی پیغمبروں کی طرح توحید کی ہی تھیں۔ وہ بڑے صالح اور بہترین انسان تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اونٹنی کا معجزہ عطا کیا جو پہاڑ سے نمودار ہوئی، قوم نے نافرمانی کرتے ہوئے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو ان پر اللہ کا عذاب چنگھاڑ یا دھماکے کی صورت میں نازل ہوا جیسا کہ تفصیلاً مذکورہ بالا آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ قوم ثمود حجاز اور شام کے درمیانی علاقہ میں رہتے تھے یہ عاد قبیلہ کی ایک شاخ سے ہیں جو کہ حضرت ھود (علیہ السلام) پر ایمان لانے کی وجہ سے عذاب سے بچ گئے تھے اور وہاں سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوگئے تھے یہاں انہوں نے خوب ترقی کی پھولے پھلے یہ لوگ فن تعمیر، زراعت اور باغبانی میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ جب مال و دولت کی فراوانی ہوگئی تو اللہ تعالیٰ سے دوری اختیار کرنے لگے اور ہر قسم کی برائیوں کے عادی ہوگئے تب حضرت صالح (علیہ السلام) کو ان کی ہدایت کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا مگر حسب معمول انہوں نے بھی پیغمبر کو جھٹلایا اور بالآخر عذاب کا شکار ہوگئے جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے سورة اعراف آیت 73 اور 78 میں تفصیلاً بیان ہوچکا ہے۔
Ayahs 11:69–76

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی جواب میں سلام کہا، ابھی کچھ دیر نہیں ہوئی تھی کہ (ابراہیم (علیہ السلام) ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں جاتے (وہ کھانا نہیں کھا رہے) تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف آیا۔ فرشتوں نے کہا خوف نہ کیجئے ہم قوم لوط کی طرف ان کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ان (ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی جو پاس کھڑی تھی ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

اس نے کہا اے خرابی ! کیا میں بچہ جنوں گی ! میں تو بڑھیا ہوں اور یہ میرے میاں بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

انہوں نے کہا کیا تم اللہ کی قدرت سے تعجب کرتی ہو ؟ اے گھر والو ! تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہیں بیشک اللہ باعث تعریف اور بڑائی والا ہے۔

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوشخبری بھی مل گئی تو وہ قوم لوط کے بارے میں ہم سے بحث کرنے لگے۔

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم بڑے تحمل والے، نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے۔

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم ! اس بات کو جانے دو ۔ تمہارے رب کا حکم آپہنچا ہے اور ان لوگوں پر عذاب آنے والا ہے۔ جو کبھی نہیں ٹلنے والا۔

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری تشریح : اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) سے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) تک کے تمام انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے۔ اصل میں ان انبیاء اور ان کی قوموں کے سلوک و کردار اور پھر ان کی تباہی کا ذکر قرآن پاک میں اس لیے بار بار کیا جا رہا ہے تاکہ آخری رسول کو تسلی ہو اور لوگوں کو ڈرایا جائے، عبرت حاصل ہو کہ گناہ و نافرمانی کا انجام سوائے تباہی و بربادی کے اور کچھ نہیں۔ اس موجودہ رکوع میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے حالات اور عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ شروع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اصل میں جو فرشتے قوم لوط پر عذاب کے لیے بھیجے گئے تھے ان کو حکم ہوا کہ پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی پیدائش اور پوتے کی پیدائش کی خوشخبری بھی دیتے جائیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شان بہت بلند ہے یہ پیغمبر فطرت ہیں۔ کائنات کی ہر چیز پر غور و فکر کرنے کے بعد اللہ کی ذات کو ڈھونڈا۔ آپ مصر میں آذر بڑھئی کے گھر پیدا ہوئے آپ کی پیدائش ایک غار میں ہوئی اور کافی عرصہ اسی غار میں آپ رہتے رہے۔ آپ کا باپ بت بناتا اور فروخت کرتا تھا۔ آپ کو یہ کام بالکل پسند نہ تھا۔ اسی لیے اس وقت کے بادشاہ مصر نمرود نے آپ کو جلتی ہوئی آگ میں ڈلوا دیا تھا جو کہ اللہ کے حکم سے آپ کے لیے ٹھنڈی کردی گئی۔ یہ بہت بڑا معجزہ تھا۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ فلسطین و شام کی طرف ہجرت کی۔ آپ کی بیوی کا نام سارہ تھا وہ بھی بڑی صالحہ عورت تھیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب بیٹے کی بشارت دی گئی تب آپ کی عمر سو سال اور بیوی کی عمر 90 سال تھی۔ اسی لیے ان کو بڑی حیرت ہوئی کہ اس عمر میں بیٹے کی پیدائش کیسے ہوسکتی ہے اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے جو چاہے کرے۔ بہرحال جب ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے سلام دعا کی تو ان کو معلوم نہ تھا کہ وہ فرشتے ہیں کیونکہ وہ انسانوں کی شکل میں آئے تھے۔ آپ نے ان کی مہمانداری کر کے ثابت کردیا کہ مہمان نوازی سنت ابراہیمی ہے اور سلام دعا مسلمان کی شان و عادت ہے۔ آپ بڑے ہی پیارے رسول تھے آپ نے بڑی آزمائشیں دیکھیں اور پورے اترے اسی لیے حج کے بہت سے ارکان انہی کی یاد تازہ کرنے کے لیے نافذ کیے گئے ہیں۔ آپ نے کعبہ تعمیر کیا اور آپ حضرت محمد ﷺ کے جد امجد ہیں۔ اللہ کے بڑے ہی مقبول پیغمبر ہیں۔ اسی لیے جب فرشتوں نے لوط کی قوم پر عذاب کا ذکر آپ سے کیا تو آپ جھگڑ پڑے اور یہ جھگڑا اللہ کے ساتھ بےتکلفی کا ثبوت ہے ورنہ اللہ کے کاموں میں کون دخل دے سکتا ہے یا کون اعتراض کرسکتا ہے۔ بہرحال ان کو سمجھا دیا گیا کہ اس قوم نے اتنی بد راہیں اختیار کر رکھی ہیں کہ عذاب ان کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے جو کسی صورت ٹل نہیں سکتا، لہٰذا فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس چلے گئے اگلی آیات میں ان کا ذکر ہے۔
Ayahs 11:77–83

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان کے آنے سے غم ناک اور تنگدل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑا مشکل دن ہے۔

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشہ دوڑتے ہوئے آئے اور یہ لوگ پہلے سے ہی برا کام کر رہے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے میری قوم ! میری بیٹیاں تمہارے لیے (جائز اور پاک) ہیں، پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے پاس مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی نیک چلن نہیں ؟

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری بیٹیوں کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں اور ہماری غرض کو تم خوب جانتے ہو۔

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

لوط نے کہا، اے کاش ! مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط قلعہ میں جا بیٹھتا۔

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا کہ اے لوط ! ہم تمہارے رب کے فرشتے ہیں یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے، تو کچھ رات سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل نکلو اور تم میں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے مگر آپ کی بیوی کو وہ آفت پہنچ کر رہے گی جو ان کو پہنچنے والی ہے ان کے عذاب کے وعدے کا وقت صبح ہے اور کیا صبح کچھ دور ہے ؟

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس بستی کو الٹ کر اوپر نیچے کردیا اور ان پر پتھر کی تہہ بہ تہہ کنکریاں برسائیں۔

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جن پر تمہارے رب کی طرف سے نشان کیے ہوئے تھے اور وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور نہیں۔

قوم لوط کا عمل بد اور ان پر عذاب تشریح : حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا قصہ سورة اعراف کے رکوع 11 میں گزر چکا ہے۔ ان آیات میں بھی کافی تفصیل سے بتایا گیا ہے یہ بھی عبرت ناک واقعہ ہے جو قرآن پاک میں مسلمانوں کو سمجھانے کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا زاد بھائی تھے آپ مصر سے ہجرت کر کے دریائے اردن کی ترائی میں آباد ہوئے یہاں سدوم، عموراہ زبویم کی بستیاں آباد تھیں اور اب ان کی جگہ بحیرہ مردار ہے جو مدینہ سے شام کے راستے میں آتا ہے۔ جیسا کہ مذکورہ آیات میں بتایا گیا ہے قوم لوط غیر فطری، خبیث اور بےحیائی کے کام کی عادی ہوگئی تھی۔ اور جب یہ عادت سر عام ہونے لگی اور وہ لوگ اخلاق و کردار کی تمام حدیں توڑ کر گناہ کی غلاظت میں ڈوب گئے تو پھر ان پر اللہ کی طرف سے انتہائی شدید زلزلہ آتش فشانی اور پتھروں کی بارش کی گئی اور ان بستیوں کا نام و نشان ہی مٹا دیا گیا مگر ان کی تباہی کے آثار ابھی بھی بحر لوط کے جنوب اور مشرق کے علاقے میں موجود ہیں۔ تاکہ لوگ ان کو دیکھ کر یہ جان لیں کہ گناہ، بےحیائی اور غیر فطری کام اللہ کو ہرگز پسند نہیں وہ لوگوں کو مہلت ضرور دیتا ہے کہ سوچ بچار کر کے مغفرت کی راہ اپنائیں مگر پھر معاشرے اور دنیا کی صفائی کرنے کا طریقہ اللہ تعالیٰ کے پاس یہی ہے کہ ہدایت کے لیے پیغمبر بھیجے جو ہدایت کی راہ اختیار نہ کرے اور حد سے بڑھ جائے اس کو پھر عذاب ہی دیا جاتا ہے جیسا کہ ان قوموں کو دیا گیا۔
Ayahs 11:84–95

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا تو انہوں نے کہا کہ اے قوم ! اللہ کی ہی عبادت کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ ماپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تو دیکھتا ہوں تم خوش حال ہو۔ اور اگر تم ایمان نہ لائو گے تو مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تمہیں گھیر کر رہے گا

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے قوم ! ماپ تول انصاف سے کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں فساد نہ مچائو۔

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اگر تمہیں میرے کہنے کا یقین ہو تو اللہ کا دیا ہوا منافع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم ان کو چھوڑ دیں ؟ یا جو کچھ ہم اپنے مال میں کرنا چاہتے ہیں کرنا چھوڑ دیں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل روشن پر ہوں اور اس نے اپنے پاس سے مجھے نیک روزی دی ہو تو کیا میں ان کے خلاف کروں گا ؟ اور میں نہیں چاہتا کہ جس بات سے میں تمہیں منع کروں خود وہی کرنے لگوں۔ میں تو جہاں تک ہو سکے تمہارے معاملات کی اصلاح چاہتا ہوں اور اس بارے میں مجھے توفیق ملنا اللہ کے فضل سے ہی ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے قوم ! اور میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کروا دے کہ جیسی مصیبت نوح کی قوم ھود اور صالح کی قوم پر واقع ہوئی تھی ویسی مصیبت تم پر واقع ہو اور لوط کی قوم کا زمانہ تو تم سے کچھ دور نہیں۔

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اپنے رب سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو، بیشک میرا رب رحم والا اور محبت والا ہے۔

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ شعیب ! تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں تم ہم میں کمزور بھی ہو، اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے تو ہم تمہیں سنگسار کردیتے اور تم ہم پر کسی طرح بھی غالب نہیں ہو۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ قوم ! کیا میرے بھائی بندوں کا دبائو تم پر اللہ سے زیادہ ہے ؟ اور اس کو تم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے۔ میرا رب تو تمہارے سب اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ میں اپنی جگہ کام کیے جاتا ہوں تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والا عذاب کس پر آتا ہے اور جھوٹا کون ہے ؟ تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی رحمت سے بچا لیا اور جو ظالم تھے ان کو ایک چنگھاڑ نے آدبوچا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

گویا ان میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سن لو کہ مدین پر ایسی ہی پھٹکار ہے جیسی ثمود پر پھٹکار تھی۔

سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی گمراہی اور عذاب تشریح : یہاں قوم مدین کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ قوم مدین اور اس کے نواحی علاقوں میں آباد تھی۔ بحر احمر کا وہ مقام جہاں جزیرہ نمائے عرب کی دو تجارتی شاہراہیں آکر ملتی تھیں یمن و شام اور عراق و مصر کے قافلے یہیں سے گزرتے تھے، یعنی مدین بہت بڑی تجارتی منڈی تھی اسی لیے وہاں کے لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ مگر ان میں بت پرستی، عیش پرستی اور ناپ تول میں بددیانتی کی عادت حد سے بڑھ چکی تھی اور اس حرام خوری کی وجہ سے ان میں تمام اخلاقی برائیاں، اللہ سے دوری اور حرص و لالچ پیدا ہوچکا تھا دیکھا جائے تو مال کی حرص بہت سی اخلاقی برائیوں کی جڑ ہے یہی حال ان کا ہوچکا تھا۔ سورة اعراف آیت 85 میں ان کے بارے میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً بیان کیا جاتا ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اہل مدین کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے۔ اہل مدین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے اللہ کو مانتے تھے مگر دو گمراہیوں میں پھنس گئے تھے۔ ایک یہ کہ اللہ کے سوا دوسروں کو بھی معبود مانتے تھے یعنی مشرک ہوگئے تھے دوسرے یہ کہ اللہ کی ربوبیت، یعنی نماز اور ایمان کو انسانی زندگی کے دنیوی معاملات سے بالکل علیحدہ سمجھتے تھے، یعنی نماز بس مسجد تک محدود رہنی چاہیے، اس کے ساتھ جو اخلاقی، معاشرتی، تمدنی اور سیاسی قوانین و اصول سکھائے جاتے ہیں وہ عام زندگی پر اثر انداز نہیں ہونے چاہئیں بلکہ وہ خود مختار زندگی گزارنے کے قائل تھے۔ جیسا کہ اوپر بیان کی گئی آیات میں انکا مکالمہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھ بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) بڑے فصیح البیان، راست باز اور اللہ کے بھیجے گئے پیغمبر تھے انہوں نے قوم مدین کو بدمعاملگی سے روکنے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کی بڑی کوشش کی کیونکہ انسان کے اندر برائی اللہ سے دوری سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ بت پرستی اور ناپ تول میں کمی بیشی کو نہ چھوڑنے پر ان کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا۔ مگر وہ لوگ بحث ہی کرتے رہے اور گمراہی کو چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے جس کے نتیجہ میں ان پر بھی چنگھاڑ، زلزلہ اور سائبان کے بادلوں کا عذاب نازل ہوا اور وہ سب کے سب مرگئے۔ اے اللہ ہمیں اپنی نافرمانی اور گمراہی سے بچا کر دنیا و آخرت میں سرخرو کرنا۔ آمین۔ انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیمات کی بنیاد ہمیشہ دو اصولوں پر ہوتی ہے ایک حقوق اللہ اور دوسرا حقوق العباد۔ حقوق اللہ میں عبادات آتی ہیں اور حقوق العباد میں انسانی زندگی کے ہر معاملہ کا ہر رخ شامل ہے جن میں سے ایک بڑا اہم کام ناپ تول ہے۔ ناپ تول میں کمی بیشی اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی خرابیوں اور نقصانات کے متعلق پوری ایک سورت قرآن پاک میں آئی ہے اور پھر ایسی قوم کو اس قدر ناپسند کیا گیا ہے اور انسانیت کے لیے اس قدر نقصان دہ بتایا گیا ہے کہ اس گناہ کو ختم کرنے کے لیے اس قوم کو ہی تباہ کردیا گیا جو اس کی عادی ہوچکی تھی۔ یہ انسانیت کے لیے ایک ناسور ہے جس کو جڑ سے اکھاڑ دینا ہی ضروری ہے، لہٰذا حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا اور باقی سب تباہ و برباد کردیے گئے اور آئندہ نسلوں کے یے ان کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔
Ayahs 11:96–99

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا۔

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو وہ فرعون ہی کے حکم پر چلے اور فرعون کا حکم درست نہ تھا

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

وہ قیامت والے دن اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا اور ان کو دوزخ میں جا اتارے گا اور جس مقام پر وہ اتارے جائیں گے وہ برا ہے۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور اس جہان میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی ہے اور قیامت کے دن بھی لگی رہے گی جو انعام ان کو ملے گا برا ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پیغام فرعون کی نافرمانی اور برا انجام تشریح : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے یہ بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لیے بھیجے گئے تھے یہاں ان کا ذکر اس لیے کیا جا رہا ہے۔ کہ ان آیات سے پہلے کئی ایسی نافرمان قوموں کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ لوگ ان کے برے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا ذکر اور انجام، مذکورہ آیات میں بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح برے لیڈر کی پیروی دنیا میں ہلاکت کا باعث بنی اسی طرح آخرت میں بھی سوائے جہنم کے اور کچھ نہ ملے گا اور جہنم بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حق و باطل کی تمیز انسان کو خود اپنی عقل سے کرنی چاہیے یہ نہیں کہ آنکھیں بند کر کے کسی کے پیچھے لگ جائیں۔ کیونکہ اپنے اعمال، نیتیں اور اعتقادات ہی اپنے کام آتے ہیں اور آخرت میں بھی کام آئیں گے۔ عقل کو کام میں لا کر زندگی گزارنی چاہیے ان آیات سے یہی سبق ملتا ہے کہ ہدایت، حکمت اور نیکی جہاں سے بھی ملے پلے باندھ لینی چاہیے ورنہ پھر فرعون اور اس کے درباری اور اس کے پیروکاروں جیسا ہی حال ہوگا۔ فرعون نے اپنی کرسی بچانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات سے انکار کیا کہ کہیں لوگ میرے دبدبے سے نکل کر موسیٰ (علیہ السلام) کے پیچھے نہ جا لگیں اور درباریوں نے محض چمچہ گیری اور چاپلوسی اور اپنے عہدے بچانے کے لیے اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی سچی دعوت کو ٹھکرا دیا اور باقی قوم بھی ان کے دیکھا دیکھی فرعون کی غلط پیروی کرتی رہی یہ نہ سوچا کہ انجام کیا ہوگا اور اس برے انجام سے فرعون ان کو بچا نہ سکے گا۔ بلکہ دنیا میں بھی فرعون کے ساتھ ہی غرق ہوئے ذلت و رسوائی پائی اور آخرت میں بھی فرعون کی قیادت (سرداری) میں جہنم میں پہنچ جائیں گے جہاں سوائے عذاب ذلت و خواری کے اور کچھ نہ ہوگا۔ اور یہ بڑا ہی برا انجام ہے جو ان کا ہوگا۔