11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 11:100–104

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ بستیوں کی کچھ کہانیاں ہیں جو ہم آپ کو سنا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو قائم ہیں اور کچھ مٹ مٹا گئیں۔

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا کیونکہ ان کے وہ الٰہ (معبود) جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے، جب آپ کے رب کا عذاب آیا تو ان کے کچھ بھی کام نہ آئے اور انہوں نے ان کی بربادی کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا۔

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور آپ کے رب کی پکڑ، جب کہ وہ بستیوں کو ان کے ظلم میں پکڑتا ہے، اسی طرح ہوتی ہے، بیشک اس کی پکڑ بڑی سخت اور دردناک ہے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈریں۔ وہ ایک دن ہے جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور وہ سب کے پیش ہونے کا دن ہے۔

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور اس میں جو ہم دیر کرتے ہیں تو وہ ایک وقت معین تک تاخیر کرتے ہیں۔

بستیوں کے حالات اور نصیحت تشریح : ان آیات میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ جو چند قوموں کے قصے تمہیں سنائے گئے ہیں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط، اہل مدین اور فرعون۔ یہ سب اپنے اپنے اعمال کے مطابق انجام کو پہنچے۔ کچھ کے کھنڈرات موجود ہیں اور کچھ کی کہانیاں موجود ہیں یہ ایک عقل مند انسان کے لیے نصیحت حاصل کرنے کے لیے کافی ہیں اور آخرت کا تو بیان آسمانی کتابوں میں بڑی وضاحت سے کردیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات قرآن میں بتائی گئی ہے اس لیے سو فیصد ٹھیک اور یقینی ہے۔ ایسا ضرور ہوگا کہ سب لوگ قیامت کے روز اللہ کے سامنے حاضر کیے جائیں گے اور دنیا میں کیے گئے اعمال کے مطابق سزا اور جزا ضرور پائیں گے۔ اور جو وقت اس دن کے لیے مقرر کردیا گیا ہے وہ عین اسی وقت آئے گی نہ گھڑی پہلے اور نہ گھڑی بعد۔ اس لیے اس دن کی سختی اور دوزخ کے عذاب کی سختی کو ہر وقت یاد رکھنا چاہیے تاکہ نیک راہ اختیار کی جاسکے۔ قرآن کی باتوں کو ثابت کرنے کے لیے سائنس کی ضرورت نہیں بلکہ سائنس کی باتوں کو ثابت کرنے کے لیے قرآنی آیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر سائنس دان رات دن تجربات، تحقیقات اور نئی نئی تشریحات میں لگے رہتے ہیں مثال کے طور پر ” مثبت اور منفی مادہ سے کائنات کی تخلیق اور انجام۔ “ اس موضوع پر سلطان بشیر محمود صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔ ” قرآن پاک اس قانون قدرت کا واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو جوڑوں میں پیدا کیا ہے اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ مثبت مادہ کے مقابلے میں منفی مادہ نہ ہو مشہور سائنس دان ڈارک نے مثبت اور منفی مادہ کا نظریہ 1933 ء میں پیش کیا اور اس کے تقریباً 60 سال بعد اب تجربہ گاہ میں ان کا وجود ثابت ہوچکا ہے۔ سائنس دان اب منفی اور مثبت دنیائوں کی بھی باتیں کرتے ہیں۔ “ جبکہ چودہ سو سال پہلے قرآن میں آچکا ہے۔ اور ہر چیز کو ہم نے جوڑوں میں پیدا کیا تاکہ تم لوگ سوچو۔ ( سورة الذاریات۔ آیت 49 ) اسی طرح کائنات اور اینٹی کائناٹ کا نظریہ بھی سائنسی حلقوں میں جانا پہچانا ہے۔ اگر ہماری کائنات کا منفی جوڑا موجود ہے تو پھر جیسے ہی یہ قریب ہوں گے اچانک ایک آواز آئے گی اور پھر کچھ باقی نہ رہے گا۔ دراصل یہ خاتمہ نہیں بلکہ اس سے ایک نئی کائنات کی ابتدا ہوگی جو موجودہ کائنات سے زیادہ بڑی ہوگی اور اس موجودہ زمان و مکان میں رہنے والے ہر جاندار کا گھر ہوگی۔ کائنات کا آغاز انتہا اور پھر ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی دنیا کا آغازیہ سب ایک خالق ومالک کی تخلیق ہیں۔ اور یہ سب ایک مقرر شدہ نظام کے تحت ہو رہا ہے جس کا ڈیزائن اور پروگرام اللہ نے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔ مقرر کردہ وقت پر یہ سب کچھ اللہ کی رضا سے ہوجائے گا۔ جس میں نہ ایک پل جلدی ہوگا اور نہ ہی ایک پل دیر سے ہوگا۔ جب ایک مسلمان کو یا کسی بھی شخص کو معلوم ہوجاتا ہے اور تمام حقیقت انسان کی زندگی، موت اور حیات بعد الموت اور یوم آخر سب کچھ قرآنی آیات سے اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے تو پھر کون ہے جو سیدھی راہ اختیار نہ کرے گا اور جنت کا وارث نہ ہونا چاہے گا۔ سائنس کے اصول تو تبدیل ہوتے رہتے ہیں جبکہ قرآن کی بتائی ہوئی ہر ہر بات پکی، سچی اور نہ بدلنے والی ہے۔ قرآن ہدایت بھی ہے شفا بھی ہے اور حکمت کا خزانہ بھی ہے۔ اور انسان کے لیے بہت بڑی رحمت اور برکت بھی ہے۔ اور اللہ رحیم و کریم ہے کہ اس نے آنے والی مصیبت سے انسان کو بہت پہلے آگاہ کردیا۔ اور یوں سخت دن کی (حساب و کتاب کا دن) پریشانی سے بچا لیا۔ اور پچھلی قوموں سے سبق سیکھنا چاہیے تاکہ دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ سکیں۔
Ayahs 11:105–109

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جس دن وہ آجائے گا تو کوئی جاندار اللہ کے حکم کے بغیر بول بھی نہ سکے گا۔ پھر ان میں سے کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

تو جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں ڈال دیے جائیں گے اس میں ان کا چلانا اور دھاڑنا ہوگا۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

اور جب تک آسمان اور زمین ہیں اسی میں رہیں گے مگر جتنا تمہارا رب چاہے بیشک تمہارا رب جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور جو نیک بخت ہوں گے وہ بہشت میں داخل کردیے جائیں گے اور جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے مگر جتنا تمہارا رب چاہے۔

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

یہ اللہ کی بخشش ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔ تو یہ لوگ جو غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں اس سے تم شک میں نہ پڑنا یہ اسی طرح پوجا کرتے ہیں جس طرح ان کے باپ دادا پرستش کرتے آئے ہیں اور ہم ان کو ان کا پورا پورا حصہ بلا کم وکاست دینے والے ہیں۔

قیامت، نیک و بد اور جزا و سزا تشریح : قیامت کے دن اللہ کا رعب دبدبہ اور جلال اس قدر زبردست ہوگا کہ کوئی شخض بات کرنے کی جرأت بھی نہ کرسکے گا سب لوگ مبہوت و پریشان دم بخود کھڑے ہوں گے صرف وہ شخص ہی بولنے کی جرأت کرے گا جس کو رب اعلیٰ بولنے کی اجازت دے گا یا حکم دے گا۔ اور اس میدان حشر میں بندوں کے صرف دو گروہ ہوں گے ایک نیک بخت اور دوسرا بدبخت اور پھر ان کو اپنے مقام پر پہنچا دیا جائے گا۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رکھے جائیں گے اور یہاں آیت میں جو ہمیشہ کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ جب تک زمین و آسمان رہیں گے تو اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ عربی زبان میں محاورتاً بولا جاتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اس دنیا کے بعد دوسری دنیا کے بھی زمین و آسمان ہوں گے مگر وہ دائمی (ہمیشہ) رہنے والے ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے : ” اس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل جائے گی اور آسمان بھی۔ “ ( سورة ابراہیم آیت : 48) یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جنتی تو جنت میں ہمیشہ رہیں گے مگر دوزخیوں کے لیے ہوسکتا ہے اگر اللہ چاہے تو ان کو ان کے گناہوں کے مطابق کچھ عرصہ دوزخ میں رکھنے کے بعد جنت میں داخل کردیا جائے۔ یہ سب تو اس مالک و مختار کے ہاتھ میں ہے۔ جس کو جتنی سزا دے اور جس کو جتنے انعام دے۔ پھر کفار و مشرکین کے بارے میں وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ لوگ اپنے آباؤ اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بت پرستی اور شرک کی راہ اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ عقل سے کام لے کر کچھ نہیں کر رہے بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں۔ ان کو ان کی نیتوں اور اعمال کا پورا پورا بدلہ ضرور دیا جائے گا نہ زیادتی کی جائے گی اور نہ ظلم بلکہ پورے انصاف کے ساتھ ان کا حساب کتاب کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے۔ “ (النباء آیت : 27 )
Ayahs 11:110–115

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا، اور وہ تو اس سے بڑے شبہہ میں پڑے ہوئے ہیں۔

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور آپ کا رب ان سب کو قیامت کے دن ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بیشک جو عمل یہ کرتے ہیں وہ اس سے واقف ہے۔

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

سو (اے پیغمبر ! ﷺ جیسا تم کو حکم ہوتا ہے اس پر تم اور جو لوگ تمہارے ساتھ تائب ہوئے ہیں قائم رہو اور حد سے نہ بڑھنا، وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے۔

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور جو لوگ ظالم ہیں ان کی طرف مائل نہ ہونا ورنہ دوزخ کی آگ تمہیں آلپیٹے گی اور اللہ کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں، اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہوگئے تو پھر تم کو کہیں سے مدد نہ مل سکے گی۔

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور دن کے دونوں سروں یعنی صبح اور شام کے اوقات میں اور رات کی چند پہلی گھڑیوں میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کردیتی ہیں، یہ ان کے لیے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں۔

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کیے رہو کہ اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

نبی اکرم ﷺ کو تسلی اور چند ہدایات تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کچھ قرآن کو مانتے اور کچھ انکار کرتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مثال دے کر تسلی دی کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) جتنے بھی دنیا میں آچکے ہیں سب کے ساتھ ایسے ہی ہوتا رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بھی ایسے ہی کرتی رہی مگر ان کو فوراً عذاب نہ دیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو عذاب دینے کا وقت تو اللہ نے پہلے ہی مقرر کر رکھا ہے۔ اس بات کا یعنی آخرت کا کیونکہ ان کو یقین نہ تھا اس لیے وہ غفلت میں پڑے رہے۔ حالانکہ اللہ رب العزت تو ان کے تمام اعمال سے پوری طرح واقف ہے اور وہ انصاف سے ان کو بدلہ ضرور دے گا۔ پھر اللہ جل شانہٗ نے چند احکامات نبی ﷺ اور تمام مسلمانوں کو دیے ہیں۔ پہلا یہ کہ اسلام کے قوانین اور اصولوں پر پوری طرح کاربند رہو۔ دوسرا اعتدال سے کام لو۔ تیسرا دشمن کے ساتھ بےتکلفی اور دوستی ہرگز نہ کرو کیونکہ برے دوست کی بری صحبت سے بچو، اللہ ہی سب سے بڑا دوست اور مددگار ہے۔ چوتھا، نماز پڑھو کیونکہ ہر نیکی گناہوں سے بچاتی ہے پانچواں، صبر سے کام لو کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہر صورت موجود ہوتا ہے۔ صبر و استقامت مسلمان کا بہت بڑا ہتھیار ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
Ayahs 11:116–123

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

تو جو امتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں ان میں سے ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے، ہاں ایسے تھوڑے سے تھے جن کو ہم نے ان میں سے نجات بخشی اور جو ظالم تھے وہ انہی باتوں کے پیچھے لگ رہے جن میں عیش و آرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور آپ کا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو جبکہ وہاں کے لوگ نیکو کار ہوں ظلم سے تباہ کر دے۔

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر تمہارا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا مگر وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے۔

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر جن پر آپ کا رب رحم کرے اور اسی لیے اس نے ان کو پیدا کیا ہے اور آپ کے رب کا قول پورا ہوگیا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) اور پیغمبروں کے وہ سب حالات جو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں، ان سے ہم آپ کے دل کو تسلی دیتے ہیں اور ان قصوں میں آپ کے پاس حق پہنچ گیا اور یہ مومنوں کے لیے نصیحت اور عبرت ہے۔

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ Open ayah 11:121 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان نہیں لائے ان سے کہہ دو کہ تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ ہم (اپنی جگہ) عمل کیے جاتے ہیں

وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 11:122 in the Quran reader

اور اعمال کے نتیجہ کا آپ بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 11:123 in the Quran reader

آسمان اور زمین کی چھپی چیزوں کا علم اللہ ہی کو ہے اور سب کاموں کا انجام اسی کی طرف ہے، تو اسی کی عبادت کرو، اسی پر بھروسہ رکھو اور جو کچھ تم کر رہے ہو آپ کا رب اس سے بیخبر نہیں۔

نیک لوگ اور اللہ کی قدرت و حکمت تشریح : ان آیات کی تشریح تو خود ان کے آسان مضامین میں موجود ہے۔ بہرحال یہ نقشہ بڑا ہی ہولناک ہے جب میدان حشر میں ہر امیر، غریب، بچہ، بوڑھا، جوان، ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی غرض ہر مذہب کا ہر فرد رب العلمین کی عدالت میں اپنا فیصلہ سننے کے لیے منتظر ہوگا۔ کوئی کسی کی ہرگز مدد نہیں کرسکے گا۔ صرف اپنا اعمال نامہ ہی کام آئے گا۔ اسی لیے موت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے سچ ہے زندہ رہنے کے لیے نام اور مرنے کے لیے مقام پیدا کرنا چاہیے۔ حدیث میں آتا ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جاننا چاہتے ہو کہ بھلائی کیا ہے ؟ تو اپنے دل سے پوچھو۔ بھلائی وہ ہے جو روح کے لیے باعث اطمینان ہے اور دل کے لیے باعث مسرت ہے۔ گناہ وہ ہے جو دل کو پشیمان کرتا ہے اور دل کو پریشان۔ “ (احمد، دارمی) اللہ ہمیں اپنی رحمت کے سائے تلے رکھے زندگی کی ہر آزمائش میں پورا اترنے اور آخرت میں جنت الفردوس عطا فرمائے۔ آمین۔