11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 11:25–44

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا (تو) انہوں نے (ان سے) کہا کہ میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے ( اور یہ پیغام پہنچانے) آیا ہوں۔

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، مجھے تمہاری نسبت دردناک عذاب کا ڈر ہے۔

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک انسان دیکھتے ہیں اور تمہارے ماننے والے وہی لوگ ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں بلا تامل اور ہم تم میں اپنے اوپر کوئی فضلیت نہیں دیکھتے بلکہ ہمارا خیال ہے کہ تم سب جھوٹے ہو۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت بخشی ہو جس کی حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ تو کیا ہم اس کے لیے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہو رہے ہو۔

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے قوم ! میں اس نصیحت کے بدلے تم سے مال و زر نہیں مانگ رہا میرا صلہ تو اللہ کے ذمہ ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں ان کو نکالنے والا بھی نہیں ہوں، وہ تو اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو۔

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور اے قوم ! میں ان کو نکال دوں تو اللہ کے عذاب سے مجھے کون چھڑاسکے گا، بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ہی ان لوگوں کے لیے جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ اللہ ان کو بھلائی نہ دے گا۔ جو ان کے دلوں میں ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ نوح تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت جھگڑا کیا، لیکن اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ لا نازل کرو۔

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا اور تم اس کو کسی طرح ہرا نہیں سکتے۔

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور اگر میں یہ چاہوں کہ تمہاری خیر خواہی کروں اور اللہ یہ چاہے کہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیرخواہی تمہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتی، وہی تمہارا رب ہے اور تمہیں اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس پیغمبر نے قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے فرما دیں کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو میرے گناہ کے وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو میں اس سے بری الذمہ ہوں۔

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان لا چکے ان کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ تو جو کام یہ کر رہے ہیں ان کی وجہ سے غم نہ کھائو۔

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے سامنے بنائو، اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے بارے میں ہمیں کچھ نہ کہنا، کیونکہ وہ ضرور غرق کردیے جائیں گے۔

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

تو نوح نے کشتی بنانی شروع کردی تو جب ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان کا مذاق اڑاتے۔ وہ کہتے کہ ” اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو جس طرح تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ہم بھی اسی طرح کسی وقت تمہارا مذاق اڑائیں گے۔

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

اور تمہیں جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے ؟

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا تو تنور جوش مارنے لگا۔ تو ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم کے جانداروں میں سے جو ڑاجوڑا ( ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کے لیے حکم ہوچکا ہے کہ ہلاک ہوجائے گا اس کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو اور جو ایمان لایاہو، اس کو کشتی میں سوار کرلو اور ان کے ساتھ ایمان بہت تھوڑے لوگ لائے تھے۔

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ اللہ کا نام لے کر اسی کے ہاتھ میں اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے اس میں سوار ہوجاؤ بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ ان کو لے کر طوفان کی لہروں میں چلنے لگی۔ لہریں کیا تھیں گویا پہاڑ تھے۔ اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو جو کشتی سے الگ تھا پکارا کہ بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ اور کافروں میں شامل نہ ہو۔

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

اس نے کہا کہ میں ابھی پہاڑ سے جالگوں گا وہ مجھے پانی سے بچا لے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں اور نہ کوئی بچ سکتا ہے مگر جس پر اللہ رحم کرے، اتنے میں دونوں کے درمیان لہر حائل ہوگئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا۔

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم دیا گیا کہ اے زمین ! اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان ! تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا۔ اور کشتی کوہ جودی پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا کہ ظالم لوگ اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔

نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے کا واقعہ تشریح : کفار و مشرکین ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے مثلاً یہ کہ پیغمبر کو کہنا کہ تم ایک معمولی انسان ہو رسول کیسے بن گئے۔ پھر کتاب پر یقین نہ کرنا پھر پیغمبر کا مذاق اڑانا، تکلیف پہنچانا اور پھر یہ کہنا کہ خواہ مخواہ عذاب سے ڈراتے رہتے ہو۔ لائو عذاب وغیرہ وغیرہ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکالمہ اپنی قوم کے ساتھ اور پھر ان کی بددعا اور پھر عذاب کا آنا اور صرف ان لوگوں کا بچ جانا جو رہنمائوں کو سنتے، دیکھتے اور مانتے تھے اور جو نہ سننا چاہتے نہ دیکھنا چاہتے اور نہ ماننا چاہتے تو ایسے لوگ دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوجاتے ہیں اور پھر آخرت میں بھی ان کے لیے دردناک عذاب کی اطلاع ہے۔ طوفان نوح بہت مشہور عذاب ہے قرآن پاک کے علاوہ تاریخ میں بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ دجلہ و فرات کی سرزمین میں آثار قدیمہ اور طبقات الارض سے ملتا ہے۔ اس طوفان کی روایات قدیم زمانے سے مشہور ہیں حتیٰ کہ آسٹریلیا، امریکہ اور نیوگنی جیسے دور دراز کے علاقوں کی پرانی روایات میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ پھر جودی پہاڑ پر اس کشتی کا ٹھہر جانا۔ جودی پہاڑ کردستان کے علاقہ میں جزیرہ ابن عمر کے شمال مشرقی جانب میں واقع ہے۔ یہ ایک عالمگیر طوفان تھا قرآنی اشارات سے یہی واضح ہوتا ہے کہ طوفان نوح کے بعد بچ جانے والے لوگوں سے حیوانات سے دوبارہ دنیا آباد ہونے لگی اور اسی لیے ان کو آدم ثانی کہا جاتا ہے۔ بہرحال یہ دنیا کے لیے عبرت حاصل کرنے کی بہت بڑی مثال ہے۔ اگلی آیات میں بقیہ حصہ طوفان نوح کا بیان کیا جائے گا۔
Ayahs 11:45–47

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا کہ اے پروردگار ! میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں سے ہے تو اس کو بھی نجات دے تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے۔

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ اے نوح ! وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے اس کے اعمال اچھے نہیں تو مجھ سے مت سوال کر جس کا تمہیں علم نہیں اور میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ نہ ہوجانا نادانوں میں سے

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

نوح نے کہا : باری تعالیٰ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی بات کا تجھ سے سوال کروں جس کی حقیقت مجھے معلوم نہیں اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں خسارہ پانیوالوں میں سے ہوجاؤں گا۔

حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا اور اللہ کی تنبیہ تشریح : ان آیات میں کچھ نکات بیان کیے گئے ہیں۔ مثلاً : 1 پیغمبر بھی انسان ہی ہوتے ہیں شفقت پدری میں کہہ بیٹھے کہ میرا بیٹا کنعان ڈوب رہا ہے اسے بچا لے۔ 2 جواب میں اللہ نے فرمایا کہ بیٹا ہونا کوئی مغفرت کی وجہ نہیں ہوسکتی وہ بداعمال تھا اس لیے ڈوب گیا، لہٰذا یہ طے ہے کہ بخشش کے لیے اعمال کی ضرورت ہے نہ کہ قرابت داری کی۔ اور پھر سید ہونا یا نام کا مسلمان ہونا بخشش کے لیے ناکافی ہے۔ حسب و نسب پر فخر کرنا، برے اعمال کرنا دوزخ سے نہ بچا سکے گا۔ 3 غیر مسلم یا بدکردار انسان کے لیے مغفرت کی دعا نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ اس کا معاملہ اللہ نے طے کر رکھا ہے اسے سزا ضرور ملے گی۔ اس کے لیے دعا مانگنا گویا اللہ کے کاموں میں دخل دینا ہے۔ 4 اللہ کی رضا پر ہمیشہ راضی رہنا چاہیے۔ وہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔ 5 اگر کبھی کوئی غلطی ارادتاً یا بغیر ارادے کے ہوجائے تو احساس ہونے پر فوراً اللہ سے معافی مانگ لینی چاہیے۔ 6 دین کے مقابلے میں ہر قسم کے جذبات، فائدے اور رشتہ داریوں کو بھول کر صرف اور صرف اللہ کی رضا، اور فرمانبرداری کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ اس طرح انسان دنیا و آخرت میں سرخرو ہوسکتا ہے۔ آئندہ صفحات پر کچھ نقشہ جات قارئین کے افادہ کے لیے دیے جارہے ہیں جو ہم نے تفسیر تفہیم القرآن سے اخذ کیے ہیں یہاں پر تین نمبر تصویر لگے گی یہاں پر 2 نمبر تصویر لگے گی
Ayahs 11:48–49

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر کی گئی ہیں اتر آئو۔ کچھ اور جماعتیں ہوں گی جن کو ہم دنیا کے فوائد سے محظوظ کریں گے، پھر ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

(اے نبی ! ) یہ حالات غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں اور اس سے پہلے نہ آپ ان کو جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم ہی ان سے واقف تھی تو صبر کیجیے کہ انجام پرہیزگاروں کا ہی بھلا ہے۔

طوفان کا خاتمہ اور نوح (علیہ السلام) کو تسلی تشریح : آیت 48 میں تو اللہ تعالیٰ حضرت نوح (علیہ السلام) کو مخاطب فرماتے ہوئے کہتا ہے کہ اب طوفان ختم ہوگیا ہے۔ زمین گنہگاروں، فسادیوں اور مشرکین سے پاک صاف ہوگئی ہے۔ اب جو رحمتیں اور برکتیں تم سب پر کی گئی ہیں ان سے فائدہ اٹھائو اور امن و سکون سے پاکیزہ اور پر امن زندگی گزارو۔ ہاں کچھ عرصہ بعد کچھ قومیں دوبارہ بےرہروی کریں گی۔ اللہ سے دوری اختیار کریں گی تو پھر ان کا بندوبست اللہ ضرور کر دے گا۔ اللہ کا یہی دستور ہے وہ اپنے بندوں کو تمام نعمتیں، برکتیں عطا کرتا ہے جو اس کا شکر ادا کرتے ہوئے نیکی، عاجزی اور بندگی اختیار کرتے ہیں وہ بچ جاتے ہیں جو غلط راہ اختیار کرتے ہیں وہ نیست و نابود کردیے جاتے ہیں اور آخرت میں بھی ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ اب آیت 49 میں اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ تمام قصہ جو ہم نے آپ کو وحی کے ذریعہ بتایا ہے یہ آپ کے رسول اللہ ہونے کا ثبوت ہے کیونکہ یہ قصہ اس قدر پرانا ہے کہ آپ کو اس کا علم کسی بھی دوسرے ذریعہ سے ہونا ممکن نہیں تھا یہ آپ کے رسول برحق ہونے کی دلیل ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اسکے ذریعے سے اللہ آپ کو تسلی دیتا ہے کہ قوم کی طرف سے مخالفت اور ایذا رسانی سے بالکل نہ گھبرائو نہ پریشان ہو کیونکہ بالآخر فتح حق کی ہی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ آپ کو بھی ایسی ہی کامیابیوں کے ساتھ نوازے گا۔ اللہ نیکو کاروں کی مدد دنیا میں بھی کرتا ہے اور آخرت میں بھی تمام بھلائیاں انہی کو ملتی ہیں۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے ” یقینا ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب ( آخرت میں) گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے۔ “ ( سورة المومن ! آیت : 51 )
Ayahs 11:50–60

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا انہوں نے کہا کہ میری قوم ! اللہ کی ہی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں تم (شرک کر کے) اللہ پر صرف بہتان باندھتے ہو۔

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

میری قوم ! میں ( اس وعظ و نصیحت کا) تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا، میرا صلہ تو اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ بھلا تم سمجھتے کیوں نہیں۔

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے قوم ! اپنے رب سے بخشش مانگو پھر اس کے آگے توبہ کرو، وہ آسمان سے تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا اور تمہاری طاقت پر طاقت بڑھائے گا اور دیکھو گنہگاربن کر روگردانی نہ کرو۔

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

وہ بولے اے ھود ! تم ہمارے پاس کوئی ظاہر دلیل نہیں لائے اور ہم صرف تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تم پر ایمان لانے والے ہیں۔

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تم پر آسیب ڈال کر دیوانہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم اللہ کا شریک بناتے ہو، میں اس سے بیزار ہوں، (جن کی) اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

تو تم سب مل کر میرے بارے میں جو تدبیر کرنی چاہو کرلو اور مجھے مہلت نہ دو ۔

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں اللہ پر جو میرا اور تم سب کا رب ہے بھروسہ رکھتا ہوں، زمین پر جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کی چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے بیشک میرا رب سیدھے رستے پر ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

اگر تم روگردانی کرو گے تو جو پیغام مجھے دے کر تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، وہ میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے، اور میرا رب تمہاری جگہ اور لوگوں کو لا بسائے گا، اور تم اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتے، میرا رب تو ہر چیز پر نگہبان ہے۔

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارے عذاب کا حکم آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے، ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا اور انہیں شدید عذاب سے بچا لیا۔

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

یہ وہی عاد ہیں جنہوں نے اپنے رب کی نشانیوں سے انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی اور ہر سرکش اور مغرور کا کہا مانا۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

تو اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہی اور قیامت کے دن بھی لگی رہے گی، (دیکھو) قوم عاد نے اپنے رب سے کفر کیا اور سن لو ھود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے

سیدنا ھود (علیہ السلام) کی قوم عاد پر عذاب تشریح : حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے بعد دوبارہ بنی نوع انسان بڑھنے شروع ہوئے اسی طرح حضرموت اور نجران کے درمیان احقاف کے مقام پر ایک قوم ابھری جو عاد کی اولاد میں سے تھے۔ عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کا پوتا ہے۔ قوم عاد میں سے ہی ایک شخص ھود کو پیغمبر بنا کر قوم عاد کی طرف ہدایت دینے کے لیے بھیجا گیا۔ کیونکہ یہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیمات کو بالکل بھلا کر گمراہی میں پڑچکے تھے۔ جیسا کہ اللہ کا دستور ہے کہ قوموں کو سب کچھ عطا کرتا ہے لیکن جب وہ سرکش ہونے لگتے ہیں تو ان میں نبی بھیجتا ہے اگر تو وہ ہدایت قبول کر کے توبہ کرلیں تو اللہ ان کو نعمتوں اور برکتوں سے نوازتا ہے اور عذاب کو ٹال دیتا ہے ورنہ اس قوم کو نیست و نابود کر کے دوسرے لوگوں کو لے آتا ہے۔ یہاں اس قصہ کو بیان کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ پچھلی قوموں سے عبرت حاصل کرو۔ یہ قوم عاد بڑے مضبوط، ہنرمند اور خوشحال لوگ تھے۔ مگر ان کی بدقسمتی بھی یہی ہوئی کہ قوم نوح کی طرح سیدھی راہ نہ اپنا سکی اور عذاب کا شکار ہوئی۔ یہ لوگ بت پرست تھے۔ بڑے بڑے محلات زمین دوز بناتے تھے مگر عذاب سے نہ بچ سکے، حضرت ہود اور ان کے ساتھیوں کو اللہ نے بچا لیا اور باقی تمام نافرمان لوگوں پر لگا تار سات راتیں اور آٹھ دن ٹھنڈی ہوا چلائی اور وہ اپنے گھروں کے اندر ہی ہلاک ہوگئے اور یوں ایک نافرمان قوم دنیا میں آنے والی دوسری قوموں کے لیے عبرت کا نشان بن گئی اور اللہ کے عذاب کا نشانہ بنی۔ جتنے رسول اور پیغمبراس دنیا میں آئے سب نے توحید، یعنی اللہ کے واحد ہونے کا ہی سبق دیا، نیکی کی ہدایت کی اور برائی سے منع کیا۔ پھر اللہ کے انصاف کا بھی پتہ چلتا ہے کہ جو معافی مانگ لیں ان کو معاف بھی کردیتا ہے جیسے حضرت یونس (علیہ السلام) اور ان کی قوم۔ اور جو نہ مانیں ان کو مٹا دینا اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں جیسا کہ اب تک مختلف قوموں کا ذکر ہوچکا ہے۔ ان مثالوں کو بار بار بیان کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ لوگ اللہ کی عظمت، قدرت، رحم اور غضب کا اندازہ لگا کر سیدھی راہ اختیار کریں۔ کوئی قوم اور فرد گناہ کر کے اللہ کے غضب سے بچ نہیں سکتا الا کہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے اور ہر قوم اور ہر فرد جو اللہ کا فرمانبردار بن کر زندگی گزارتا ہے وہ اللہ کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم نہیں رہ سکتا نہ اس جہان میں نہ آخرت میں۔ اسی سلسلہ میں اب آگے حضرت صالح اور قوم ثمود کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔