Ayahs 10:1–2رسول اللہ ﷺ کی شان اور قرآن کی حکمت
تشریح : الٓر، یہ حروف مقطعات کہلاتے ہیں، ان کی وضاحت نبی اکرم ﷺ نے نہیں کی۔ اس لیے اس کی بحث میں پڑنا ضروری نہیں۔ البتہ ان آیات کا سمجھنا ضروری ہے جو دانائی سے بھری ہوئی بہترین مکمل و محکم کتاب سے لی گئی ہیں جس کا خالق الہ العلمین ہے۔ ” الِٰہُ العٰلمین “ جس نے تخلیق کائنات کی، اور اس کے بارے میں جو انسان حیران و پریشان رہتا تھا، بتایا کہ یہ کائنات کیسے بنی ؟ انسان کی تخلیق کیسے ہوئی اور انجام کیا ہوگا۔ یعنی ازل، حاضر اور غائب، یہ بہت بڑے راز ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب قرآن مجید میں بڑی ہی آسان اور مکمل زبان میں بیان کیا ہے۔ اس کتاب کا خالق کیونکہ ارفع و اعلیٰ اللہ رب العزت خود ہے، لہٰذا غلطی اور تبدیلی کا تو امکان ہو ہی نہیں سکتا۔ اور نہ ہی اس جیسا کلام کوئی بنا سکتا ہے۔ یہ اصل میں ہدایت کی کتاب ہے۔ برائی اور اچھائی، نیکی اور بدی، شرک اور اسلام کو پوری طرح واضح کیا گیا ہے اور پھر ان دونوں راستوں کا اجر وثواب سمجھا دیا گیا ہے اور اس کو اللہ نے ڈر اور خوشخبری کا نام دیا ہے۔ پھر دوسرا مسئلہ یہ ہوا کہ یہ کتاب ہدایت انسانوں تک کیسے پہنچائی جائے تو اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک بڑے ہی نیک، صالح اور بلند کردار انسان کو چن لیا۔ ظاہر ہے کہ انسانوں کو پیغام پہنچانے کے لیے انسان ہی مناسب ہوسکتا ہے کوئی جن یا فرشتہ یہ کام اتنے اچھے طریقہ سے نہیں کرسکتا جتنا کہ ایک انسان کرسکتا ہے۔ اسی لیے انسانوں میں سے بہترین انسان حضرت محمد ﷺ کو اس کام پر مامور کیا گیا کہ اللہ کا کلام لوگوں تک پہنچائیں ان کو بتائیں کہ یہ زندگی ختم ہوجائے گی یہ دنیا صرف امتحان گاہ ہے یہاں سے ایک اور زندگی کی طرف بھیج دیا جائے گا جو ہمیشہ کی زندگی ہوگی اور اس میں اچھا یا برا درجہ ملے گا اپنے دنیا میں کیے گئے اعمال کے لحاظ سے۔ تو اللہ رب العزت ان لوگوں کو خبردار کرتے ہیں کہ اس کلام کے بیان کرنے والے کی کرامات کو دیکھ کر اس کو جادو گر کہنا ایسے ہی ہے جیسا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے جادو گر کہہ دیا تھا۔ کفار بجائے اس کے کہ ہدایت حاصل کریں اسلام اور ایمان کی برکتوں سے متاثر ہو کر نبی اکرم ﷺ پر ایمان لے آئیں اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کریں الٹا ان کو جادو گر کہہ کر دنیا و آخرت کی رسوائیاں حاصل کرتے ہیں۔ اصل میں اس دنیا میں نیک و بد، حق و باطل ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو نیکی اختیار کرتے ہیں اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو شیطان کی راہوں پر چلتے ہیں۔
Ayahs 10:3–6اللہ کی قدرتیں اور نیک و بد کا انجام
تشریح : سب سے پہلے کتاب، یعنی قرآن پاک کی تعریف کی گئی، پھر جس کے ذریعے بھیجی گئی رسول اللہ ﷺ کی تعریف کی گئی اور اب اس کتاب کے خالق الہ العلمین، قادر مطلق، عظیم الشان مالک کی تعریف، اس کی تخلیقات کی تعریف، ان کے فائدے، ان پر غور و فکر کرنے والے اچھے برے لوگوں کا اعتقاد، ایمان، اعمال اور بندگی کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
جب کبھی ہم کسی اچھی چیز کو دیکھتے ہیں یا کوئی اچھی کتاب پڑھتے ہیں تو ہم ضرور اس کی تعریف کرتے ہیں اور فوراً سوچتے ہیں کس نے لکھی ہے۔ لکھنے والے کی ضرور تعریف کرتے ہیں کیونکہ کتاب کے مضمون طرز تحریر سے مصنف کی قابلیت کا پتہ ضرور چل جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حیران کیوں ہوتے ہو یہ سب کائنات اور اس کا پورا انتظام، اس کا بنانا، چلانا اور حفاطت کرنا یہ سب کس کا کام ہے ؟ یہ سب تمہارے، رب الہ العلمین کا ہی تو کام ہے۔ اسی لیے وہ ارفع و اعلیٰ ہے کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا، کوئی اس کا نقص نہیں نکال سکتا، کوئی اس سے کسی قسم کی سفارش نہیں کرسکتا، کوئی اس کو آمنے سامنے دیکھنے کی ہمت یا جرأت نہیں کرسکتا، بس اس کو تو ہم اس کی تخلیقات کے ذریعہ سے ہی پہچان سکتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے میں نے چھ دن میں آسمان اور زمین بنائے اور خود عرش معلّٰی پر قرار پکڑا۔ قرآن کیونکہ عام علم رکھنے والے ان پڑھ اور علم و فضل رکھنے والے عالم و فاضل ہر طرح کے انسان کے لیے نازل کیا گیا ہے، لہٰذا اس کے مضامین بڑے عام فہم بھی ہیں اور سائنس اور حکمت کے موضوعات بھی ملتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ عام آدمی مطمئن ہوجاتا ہے کہ ٹھیک یہ زمین آسمان اور تمام چیزیں مجھے اللہ تعالیٰ نے دی ہیں۔ مگر علم و حکمت رکھنے والا شخص ان اشارات کی تخلیق میں چل پڑتا ہے۔ اس تحقیق سے منع نہیں کیا گیا بلکہ جگہ جگہ ترغیب دی گئی ہے کہ غور و فکر کرو۔ مگر سب سے زیادہ ضروری اور بنیادی بات یہ ہے کہ اس الہ العلمین کے آگے جھکو صرف اسی ہی کی عبادت کرو کسی کو اس کا شریک نہ بنائو۔ صرف اللہ ہی کو اپنا ارفع و اعلیٰ بہترین مددگار مالک حامی و ناصر اور معبودِ حق سمجھو۔ کیونکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا وہی پالتا ہے اور پھر وہی مارتا ہے۔ ذرا غور کرو تو میں تمہیں یہ راز بھی بتاتا ہوں کہ مرنے کے بعد تم کہاں جاؤ گے ؟ اللہ کے پاس ہی واپس چلے جاؤ گے۔
اب ایک بات اور بھی سمجھ میں آتی ہے کہ یہاں تو اللہ نے ہمیں بہت سی نعمتیں دے کر بھیج دیا، ہدایات کے لیے قرآن دیا، نصیحت کے لیے رسول اللہ ﷺ جیسا بہترین کامل اور صالح پیغمبر دیا، عقل اور اختیار دیا کہ جو راستہ چاہو اختیار کرلو لیکن یاد رکھو تم نے اپنے کیے ہوئے تمام اعمال کا حساب کتاب اللہ کے سامنے ضرور دینا ہے اور پھر اس کے مطابق انعام یا سزا بھی ضرور پانی ہے یہ بالکل پکی اور سچی بات ہے کیونکہ یہ قادر مطلق اللہ کی کہی ہوئی بات ہے جو قرآن میں بتائی گئی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پہنچائی ہے۔ ظاہر ہے کہ نیک لوگوں کو تو جنت کی خوش خبری ہے اور برے لوگوں کو انتہائی دردناک عذاب دیا جائے گا، اس لیے زندگی کا کوئی لمحہ بھی یوں نہ گزارا جائے کہ جو اللہ تعالیٰ کے تصور اور اس سے ملاقات سے غفلت میں گزرے۔ جب بھی دو لوگ بات کرتے ہیں تو تیسرا ان میں اللہ رب العزت موجود ہوتا ہے۔ وہ بڑی قدرت والا ہے اس نے پوری کائنات بڑے حساب کتاب اور بڑے ہی انداز سے بنائی ہے۔ عام آدمی جانتا ہے سورج کی روشنی ہر جاندار، نباتات اور خود زمین کے لیے کس قدر فائدہ مند ہے یہ سمندر سے بخارات بنا کر بادل اور پھر بارش کی سپلائی کا کام کرتا ہے۔ فصل اور پھل پکتے ہیں اور بیشمار فوائد اس کی تیز گرمی اور روشنی سے حاصل ہوتے ہیں جبکہ چاند کو منور کیا یعنی اس کی روشنی ہلکی اور میٹھی ہے اس سے مدوجزو پیدا ہوتا ہے پھلوں میں مٹھاس پیدا ہوتی ہے۔ اس کے گھٹنے بڑھنے سے لوگ سال مہینے ہفتے اور دنوں کا حساب لگا کر اپنے معمول کے کاموں کو ترتیب دے سکتے ہیں اور پھر سورج کے نکلنے، غروب ہونے اور چاند کے نکلنے اور غروب ہونے کا حساب کتاب اتنا بہترین اور مکمل ہے کہ کسی ساعت کا فرق اس میں نہیں پڑتا۔ زمانہ ہوگیا یہ نظام اسی طرح چل رہا ہے۔ دن نکلتا ہے رات آتی ہے۔ کوئی فنی خرابی کوئی بجلی کا فیل ہونا کبھی دکھائی نہیں دیا غرض کوئی خرابی اس نظام کائنات میں کبھی ظاہر نہیں ہوئی۔ کیوں ہو ؟ جبکہ اس کا بنانے والا ارفع واعلیٰ کامل و اکمل معبودِ حق ہے جب ہم یہ تمام کاریگری دیکھتے ہیں تو جاہل سے جاہل آدمی بھی ضرور سوچتا ہے یہ سب کس نے بنایا ہے ؟ اس کا جواب اس کا دل اور دماغ یہی دیتا ہے کہ یہ سب اللہ نے بنایا ہے جو مالک کل ہماری نظروں سے پوشیدہ عرش اعلیٰ پر رہتا ہے۔ اس کا تصور صرف اس کی چاروں طرف پھیلی ہوئی مصنوعات سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ تو پھر انسان کے لیے اور کون سی بات باقی رہ جاتی ہے کہ وہ اللہ کو نہ پہچان سکے اور اسی کی عبادت نہ کرے اور اس بات سے نہ ڈرے کہ بالآخر اس نے اللہ کے پاس جاکر اعمال کا بدلہ ضرور پانا ہے۔
یہ سب کچھ تو عام فہم رکھنے والے انسان کے لیے بالکل آسان اور واضح ہے مگر ایک سائنسدان، ریاضی دان، مفکر، منجم، طبیب اور ماہر ارضیات، نباتات اور حیوانات ان تمام اشارات سے اپنے علوم کی بنیاد، ترقی اور مہارت کے نکتے نکالتا ہے۔
اس نے سوچا کرسی اور عرش کیا ہے ؟ تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ یہ تو ہمارے بس سے باہر ہے کیونکہ اگر سورج کی روشنی ایک لاکھ ستاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے پندرہ ارب سالوں میں ایک سرے سے دوسرے تک نہیں پہنچ سکتی تو پھر اللہ تعالیٰ کی کرسی و عرش کے بارے میں معلوم کرنا انسان کے بس کی بات ہرگز نہیں اسی طرح آسمان و زمین کی پیدائش چھ دن میں ہوئی۔ اس کی تحقیق میں سائنس دان بڑے تجربات، مشاہدات اور تحقیقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں۔ جیسا کہ ” کائنات قرآن اور سائنس “ کے مصنف ڈاکٹر دلدار احمد قادری صاحب لکھتے ہیں :
” آج تقریباً تمام Cosmology اس بات پر متفق ہیں کہ اس کائنات کا ایک آغاز ہے دس سے بیس ارب سال قبل ایک خاص قسم کے دھماکے سے وجود میں آئی جسے Big Bang کہتے ہیں۔ Big bang کے بعد 0.0001 سیکنڈ (ایک سیکنڈ کا ہزارواں حصہ) سے قبل کائنات بلند توانائی کی روشنی پر مشتمل تھی۔ اس کا درجہ حرارت 1012 کیلون سے زیادہ اور کثافت (Density) 1013×5 گرام فی مکعب سینٹی میٹر تھی۔ یہ روشنی بہت چھوٹی طول موج (Wavelength) کی گا ما شعاعوں پر مبنی خیال کی جاتی ہے، جس کی توانائی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ ہم کائنات کی تاریخ صفر وقت سے یعنی قلیل ترین لمحہ وقت سے جب کائنات کا آغاز ہوا، شروع نہیں کرسکتے کیونکہ ہمارے سائنسی قوانین اس صورت حال کو جو اس وقت موجود تھی بیان نہیں کرسکتے۔ “
قرآن پاک نے اس کو ” کُنْ فَیَکُوْنُ “ کہہ کر مسئلہ حل کردیا ہے۔ پھر اس کے بعد بیشمار آیات میں کئی قسم کی وضاحتیں دی گئی ہیں کچھ تو سائنس دان ہیئت دانوں اور ماہر فلکیات کی سمجھ میں آئیں اور کچھ نہیں آئیں۔ بہرحال سورج کے بارے میں ڈاکٹر دلداراحمد قادری صاحب لکھتے ہیں :” سورج ایک اوسط درجہ کا ستارہ ہے جب گیس اور گرد کے بادل تکثیف (eonlensation) پاتے ہیں تو بالآخر ستارہ وجود میں آتا ہے۔ آج سے تقریباً 5 بلین سال پہلے ہمارا سورج نہیں تھا۔ مگر ہماری کہکشائیں موجود تھیں جو تقریباً دس بلین سال کی عمر کو پہنچ چکی تھیں، اس میں بڑی چھوٹی عمر کے اربوں ستارے موجود تھے۔ ستاروں کے درمیان میں ایک جگہ گیس اور گردوغبار کا ایک بادل جمع ہو رہا تھا اس سے ہمارا سورج اور اس کے سیارے وجود میں آئے۔ ہماری زمین تقریباً 4.6 ارب سال قبل وجود میں آئی۔ “ یہ تمام تحقیقات و نتائج اور تفصیلات ( ecomoligy) کی کسی بھی کتاب میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ بہرحال ہم انسان اپنے آپ کو اور اس کی بنائی ہوئی کائنات کو دیکھ کر اللہ کے وجود کو مانتے ہیں اسی کے سامنے سر جھکاتے ہیں اسی سے مدد مانگتے ہیں اسی سے فریاد کرتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد اسی کے سامنے حساب کتاب دیں گے اور اجرو ثواب کے حق دار بنیں گے۔
یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر قرآن پاک نازل نہ ہوتا تو انسانیت ہمیشہ گناہ، تاریکی اور عذاب میں مبتلا رہتی ماہر تاریخ مائیکل ہارٹ اپنی مشہور کتاب ” The 100“ میں لکھتے ہیں ” نبی اکرم ﷺ نے انسانی تاریخ پر تمام بنی نوع انسان میں سب سے زیادہ اثر مرتب کیا ہے۔ “
اللہ تعالیٰ نے قرآن و کائنات پر غور و فکر کرنے کی بار بار تاکید کی ہے۔ کیونکہ قرآن پاک حکمت و عرفان کا خزانہ ہے۔ یہ قرآنی تعلیمات ہی کا نتیجہ ہے کہ ایک انتہائی بگڑی ہوئی کفرو شرک اور تمام اخلاقی غلاظتوں میں ڈوبی ہوئی قوم ایک ڈیڑھ صدی کے مختصر عرصہ میں علم و فن اور تہذیب و تمدن کا عالمی مرکز بن گئی۔ اور قرآن کی چودہ سو سال پرانی تعلیمات دنیا کے تمام تحقیقاتی، ادبی، فکری، معاشی اور معاشرتی علوم کی بنیاد بن گئیں۔
اتنا کچھ جاننے کے بعد بھی اگر انسان اللہ کے ڈر اور خوف سے دور رہے یا اس کی عبادت سے منکر ہو تو پھر کیا کہا جاسکتا ہے ؟ یہی کہ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔ ایمان کے نور سے دل منور کر دے اور ہمیں اپنا خاص سایہ اور مہربانی عطا کرے کہ دوزخ کے عذاب سے بچ سکیں۔ (آمین)
Ayahs 10:7–10اللہ کی آیات سے غافل اور ایمان والوں کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں قدرت الٰہی کو بڑے واضح انداز میں پوری طرح کھول کھول کر بیان کردیا گیا ہے۔ اب یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن میں ایمان کی روح پیدا نہیں ہوتی۔ کہنے کو تو مسلمان ہوتے ہیں مگر حقیقت میں روح اسلام سے دور ہوتے ہیں۔ دنیاوی زندگی کے عیش و آرام میں ایسے محو ہوجاتے ہیں کہ آخرت اور مرنے کو، اللہ کے سامنے جواب دینے کو بالکل بھول جاتے ہیں اور دنیا کی مصروفیات کو اپنے اوپر یوں طاری کرلیتے ہیں کہ دنیاوی مفاد یا مال کو نقصان سے بچانے کے لیے اگر کہیں جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، چوری کرنا، کسی کا حق مارنا، بددیانتی کرنا یا جھگڑا، فساد، قتل و غارت گری کرنی پڑے تو جو شخص موت اور آخرت کو بھولا ہوا ہے یہ سب کام بڑے آرام سکون اور خوب محنت مشقت اٹھا کر کرلیتا ہے اور یوں مسلمانوں کے دائرہ سے نکل جاتا ہے۔ صرف کلمہ پڑھ لیا ” اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ “
” میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ “
اور اس کلمہ کی روح کو نہ سمجھا نہ اس پر عمل کیا تو یہ ایمان کیسا ؟ یہ تو صرف دھوکہ ہے اپنے ساتھ اور لوگوں کے ساتھ۔ اور اللہ کے ساتھ مسلمان ان تمام برائیوں سے بہت دور ہوتا ہے جو اوپر بیان کی گئی ہیں ایسا شخص نہ تو حقوق العباد ادا کرسکتا ہے نہ حقوق اللہ اور نہ ہی اپنے حقوق ادا کرتا ہے۔ اپنے حقوق یہ ہیں کہ اس دنیا میں کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جو خود اس کے اعمال نامے کو خراب کر دے کیونکہ انسان نے ضرور مرنا ہے اللہ کے سامنے ضرور دوبارہ زندہ ہو کر پیش ہونا ہے اور اپنے دنیا میں کیے ہوئے اعمال کا بدلہ ضرور ملنا ہے۔ جب اس دنیا میں ایک شخص روح ایمان سے خالی ہو کر صرف اس دنیا کے مفادات کے لیے زندگی گزارے گا تو بھلا وہ آخرت میں دردناک عذاب، عذاب جہنم سے کیسے بچ سکے گا۔ بلکہ کلمہ گو بد اعمال کو تو زیادہ ہی سزا مل سکتی ہے۔ تو ایسے ہی غافل، لاپرواہ اور دنیا میں مست رہنے والے لوگوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ ہوشیار ہوجائیں ایسے لوگوں کو آخرت میں جہنم میں ڈالا جائے گا۔
اور پھر ساتھ ہی ان لوگوں کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے جو روح اسلام کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں جو اسلام کے اصولوں کو زندگی کے ہر موڑ پر یاد رکھتے ہیں اللہ اور رسول کے بتائے ہوئے احکامات پر سختی سے عمل کرتے ہیں جو یاد رکھتے ہیں کہ اپنا اعمال نامہ صاف ستھرا رکھنا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ مر کر اللہ کے سامنے پیش ہو کر سزا یا جزا ضرور ملے گی تو بھلا ایسا انسان کوئی برائی کیوں کرے گا۔ اس کو دنیاوی فائدہ گناہ پر مجبور کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کی روح، دل و دماغ، ہاتھ پائوں سب کچھ اللہ اور رسول ﷺ کے فرمانبردار ہیں۔ تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ بار بار بشارت دیتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی سے مرنے کے بعد ایسی جگہ منتقل کرے گا کہ جس کی تعریف اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں کرتا ہے۔ ” ان کو ان کا رب ایمان سے ہدایت کرے گا، نعمت بھری جنتوں میں جن کے نیچے نہریں بہیں گی اور وہاں ان کی صدا یہ ہوگی کہ ” پاک ہے تو اے اللہ “ ان کی دعا یہ ہوگی ” سلامتی ہو “ اور ان کی ہر بات کا خاتمہ اس پر ہوگا کہ ” سب تعریف اللہ رب العلمین ہی کے لیے ہے۔ “ کیونکہ وہ دنیا میں بھی اسی اصول پر قائم تھے کہ ہر کام کے شروع میں بسم اللہ سبحانک اللہم اور آخر میں الحمدللہ رب العلمین بولتے تھے تو جنت میں بھی اللہ کی حمد و ثنا اور شکر سے غافل نہ ہوں گے۔ قرطبی نے احکام القرآن میں فرمایا کہ ” کھانے پینے اور تمام کاموں میں سنت اہل جنت کے اس عمل کے مطابق یہ ہے کہ بسم اللہ سے شروع کرے اور الحمدللہ پر ختم کرے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ پسند ہے کہ بندہ جب کوئی چیز کھائے پیے تو بسم اللہ سے شروع کرے اور فارغ ہو کر الحمد للہ کہے۔ “ ( معارف القرآن مفتی محمد شفیع جلد چہارم 513 )
سوچنے کی بات ہے کہ پھر ایسی زندگی کیوں نہ گزاری جائے جو دنیا بھی جنت اور آخرت بھی جنت بنائے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق دے۔ آمین۔
Ayah 10:11عذاب مت مانگو
تشریح : یہاں انسانی فطرت کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس طرح وہ دعا قبول ہونے میں جلدی مچاتا ہے اسی طرح وہ بددعا کی قبولیت میں بھی جلدی مچاتا ہے۔ مگر اللہ رب العزت رحمن و رحیم اور حکیم وخبیر بھی ہے وہ بندے کے اچھے برے کو خوب جانتا ہے دعا قبول کرنے میں اور بددعا قبول کرنے میں اس کی حکمت ہوتی ہے۔ اگر وہ ان لوگوں کی دعا قبول کرلیتا جو پیغمبر سے کہتے ہیں ” کہ اگر سچے ہو تو وہ عذاب لے آئو جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ “ اگر ان کا یہ مطالبہ فوراً پورا کردیا جاتا تو پھر وہ کب کے ہلاک ہوچکے ہوتے مگر اللہ ان کو مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اپنے حالات اور اعمال پر غور وفکر کر کے کچھ بدل جائیں اور عذاب دنیا و عذاب آخرت سے بچ سکیں۔ دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ جس طرح انسان اپنے لیے خیرو برکت کی دعائیں مانگتا ہے اسی طرح بعض اوقات اپنے مال و اولاد کے لیے غصہ یا ناراضگی میں بددعا کردیتا ہے تو یہ بھی اللہ اپنی رحمت کی وجہ سے فوراً قبول نہیں کرتا، اس لیے کہ شاید انسان کو احساس ہوجائے اور وہ اپنی کی گئی بددعا پر نادم ہو، لہٰذا انسان کو کبھی بھی کسی بھی صورت میں بددعا یا، برا کلمہ ہرگز نہیں نکالنا چاہیے کیونکہ کبھی قبولیت کی گھڑی بھی ہوسکتی ہے اور بددعا قبول ہوسکتی ہے۔ رحمت و برکت کی دعا قبول ہونے میں اگر دیر ہوجائے تو سمجھنا چاہئے کہ اس میں بھی ضرور کوئی حکمت ہوگی لہٰذا ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
Ayah 10:12تکلیف رفع ہونے پر انسان کی فطرت
تشریح : یہ بھی انسان کی فطرت کا ذکر کیا گیا ہے کہ مصیبت اور پریشانی میں تو اللہ خوب یاد آتا ہے مگر جب آسائش و آرام مل جاتا ہے تو پھر اللہ کو بالکل ہی بھلا دیتے ہیں۔ اتنا بھی نہیں کرتے کہ اللہ کا شکر ہی ادا کردیں۔ ان کے لیے ان کے یہ اعمال خوشنما بنا دیے جاتے ہیں یعنی یہ لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں اسی لیے ان کے بد اعمال کو ان کے لیے اچھا کردیا گیا ہے۔ یعنی وہ لوگ شکر الٰہی، غفلت اور خواہشات کی پیروی میں ہی خوش رہتے ہیں۔ شکر و دعا صرف اتنی دیر ہی ان کو یاد رہتی ہے جتنی دیر مصیبت میں پھنسے ہوئے ہوں۔ مصیبت ٹلی اور یہ پھر شتر بےمہار بن جاتے ہیں۔ اور اسی میں یہ خوش رہتے ہیں۔
Ayahs 10:13–17ظالموں کی تباہی، قرآن کی عظمت اور کھلا ثبوت
تشریح : ان آیات کا پچھلی آیات سے ربط ہے۔ ان میں بھی مکہ کے لوگوں کو ہی مخاطب کر کے قرآن پاک میں اللہ کے بتائے ہوئے فوائد، قانون اور اصول بتائے جا رہے ہیں۔ یہاں وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ قانون قدرت ہے کہ جب ایک قوم اپنی اچھائیوں سے دور اور اللہ کی رحمتوں سے غلط فائدے اٹھا کر برائی، بدکاری، عیش و آرام اور فسق و فجور کے راستوں پر چلنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی جگہ کسی دوسری قوم کو لے آتے ہیں جو اس بگاڑ کو سنوار میں بدل سکے تاکہ انسانیت امن و سکون سے پنپ سکے جب ہم تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس میں بیشمار مثالیں مل سکتی ہیں ماضی قریب میں ہندوستان، سپین ایران اور روس کی مثالیں موجود ہیں۔ مسلمانوں نے عیش و عشرت اور مذہب سے دوری اختیار کی تو انگریزوں کو ان پر مسلط کردیا گیا اسی طرح دوسرے ممالک بھی انقلاب سے دوچار ہوتے رہے تو اب مکہ کے لوگوں نے آنحضرت ﷺ پر اعتراض کرنے شروع کیے تو اللہ رب العزت ان کو بتا رہا ہے کہ ان کو تمام سوالوں کے جواب اس طرح دو ۔ یہ جوابات صرف ان مکہ کے مشرکین کے لیے ہی نہیں بلکہ ہر دور کے غلط عقیدہ رکھنے والوں کے لیے ہیں۔ آج بھی ہر جگہ اور ہر ملک میں اس طرح کے شریر لوگ موجود ہیں۔ کچھ کفار و مشرکین ہیں اور کچھ غافل مسلمان بھی ہیں تو ان تمام لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اصول بیان کیے جا رہے ہیں۔
پہلے تو یہ کہ نااہل بدکردار قوموں کو ہٹا کر یا تباہ کر کے دوسری بہتر قوم لائی جاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ جب بھی کوئی امیر، سردار، لیڈر، استاد، ماہر طبیعات، ماہر قانون، ماہر اقتصادیات غرض کوئی بھی شعبہ ہو اس کے انچارج کو مقرر کرو تو اس بات کا پورا پورا خیال رکھو اور اس کی پچھلی تمام گزاری ہوئی زندگی کو خوب اچھی طرح جانچ کر مناسب ترین انسان کو اختیارات دیے جائیں۔ یہ بالکل غلط ہے کہ کسی بدمعاش یا کسی بد کردار کو امیر، سربراہ یا انچارج بنا دیا جائے۔ بلکہ جس کو یہ کام سونپا جائے اس میں اس کو بہترین طریقہ سے کرنے کی تمام صلاحیتیں موجود ہونی چاہئیں۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے چنا۔
تیسرا اصول یہ ہے کہ قرآن پاک اللہ کا کلام ہے۔ نبی اکرم ﷺ تو امی (پڑھے لکھے نہ تھے) وہ بھلا یہ تمام حکمت کی باتیں اور عالم ازل سے ابد تک انسان کی کہانی (1) انسان کی حقیقت زمان و مکان میں اس کی تقریر۔ (2) روح، نفس زندگی اور جسم کی حقیقت۔ (3) موت اور موت کے بعد کے واقعات۔ (4) عالم غیب کے حالات۔ (5) عالم برزخ، محشر، روز جزا، جنت، اعراف اور دوزخ کے حقائق۔ یہ سب کچھ ایک امی کیسے جان سکتا ہے۔ یہ تو وہی ذات پاک جان سکتی ہے جس نے یہ کائنات بنائی اور پھر اس کی تشکیل کے مقاصد بتائے انسان کو اس کائنات میں رہنا اور اس کی ہر چیز کو بہترین طریقہ سے استعمال کرنا سکھایا اور اس علم دینے کا ذریعہ اس کتاب کو بنایا جو آنحضرت ﷺ پر وحی کے ذریعہ نازل کی گئی، یعنی قرآن مجید۔
چوتھا اصول یہ بتایا گیا کہ اس قرآن کی کوئی آیت تبدیل ہرگز نہیں کی جاسکتی۔ یہ بڑازبردست گناہ اور اللہ پر بہتان لگانے کے برابر ہے۔ ویسے تو قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود اپنے ذمہ لے رکھا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ پچھلی تمام آسمانی کتابوں میں لوگوں نے خود اپنی مرضی سے آیات کو تبدیل کردیا جبکہ قرآن پاک چودہ سو سال سے بالکل اپنی اصل عبارت، اصل آیات اور اصل کیفیت کے ساتھ دنیا میں موجود ہے اور قیامت تک رہے گا یہ اللہ کا وعدہ ہے۔
پانچواں حکم یہ ہے کہ کلام پاک کی آیات کو تبدیل کرنے کا جو سوچے تو وہ جان لے کہ اس سے بڑا گناہ اور کوئی ہو نہیں سکتا کیونکہ یہ اس عظیم، علیم قادر مطلق کا کلام ہے جو بےمثال ہے وحدہٗ لا شریک لہ ہے۔ تو ایسی سوچ کے بندے پر اللہ کا بڑا عذاب نازل ہوسکتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
چھٹا نکتہ جو یہاں بیان کیا گیا ہے کہ دنیا میں انسان کو خلیفہ بنا کر بھیجا گیا ہے۔ انسان کو عزت، دولت، شہرت، زندگی اور اختیار و ارادہ اس لیے دیا گیا ہے کہ اللہ اسکی آزمائش کرے جو شخص ان تمام نعمتوں سے ناجائز فائدہ اٹھائے گا تو وہ ضرور ذلیل و خوار ہوگا۔
Ayah 10:18مشرکین کا عقیدہ سفارش اور اس کا رد
تشریح : اس آیت میں ان لوگوں کی عقل بتائی جا رہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کو قرآن پاک میں ردو بدل کرنے کا کہہ رہے تھے۔ یعنی ان لوگوں میں اتنی بھی سوجھ بوجھ نہ تھی کہ ہم جو یہ بےجان بتوں کو پوج رہے ہیں ان سے منتیں مرادیں مانگتے ہیں تو یہ بےحس و حرکت ہمیں کیا سکھ چین دے سکتے ہیں۔ ایسے لوگ آج بھی اس دنیا میں موجود ہیں جو کوئی آگ، سانپ، ہاتھی، چاند، سورج، ستارے، پانی، بتوں، مزاروں اور قبروں کی پوجا کرتے ہیں۔ اور جب ان سے پوچھا جائے کہ بھئی یہ تم کیا بیوقوفی کر رہے ہو تو جواب دیتے ہیں کہ ویسے تو ہم اللہ کو مانتے ہیں ان کو تو صرف سفارش کے لیے پوجتے ہیں کہ ہماری مرادیں اللہ سے منوا دیں۔ یعنی جب اللہ نے ان چیزوں کو جن کو وہ پوجتے ہیں اس لیے نہیں بنایا کہ سفارش کریں تو پھر گویا یہ مشرک لوگ اللہ کو بتا رہے ہیں کہ یہ بھی سفارش کرسکتے ہیں۔ کس قدر بیوقوف اور نااہل ہیں یہ لوگ ان کو اتنا بھی علم نہیں کہ اللہ مالک الملک قادر مطلق، عظیم و برتر ان کے اس شرک سے بالکل پاک ہے۔ اسے کسی سفارش کی کسی مددگار اور کسی دوست کی ہرگز ضرورت نہیں تمام جہانوں کا خالق وہ اکیلا ہے اسی کی عبادت کر کے اسی سے منتیں مرادیں مانگنی چاہییں۔
Ayahs 10:19–20فوری سزا نہ دینے کی حکمت
تشریح : ان آیات میں انسانی فطرت کا ایک اور پہلو ظاہر کیا گیا ہے ، یعنی شروع میں انسان ایک ہی ملت ، ایک ہی مذہب اور ایک ہی والدین کی اولاد تھے۔ پھر انکی تعداد بڑھنا شروع ہوگئی اور وہ اپنی ایک علیحدہ پہچان کے لیے گھر، خاندان، قبیلہ، محلہ، شہر اور پھر ملک میں تقسیم ہوتے چلے گئے۔ اور آہستہ آہستہ توحید کا وہ سبق جو ان کو ان کے والدین حضرت آدم و حضرت حوا (علیہما السلام) کی طرف سے دیا گیا تھا اور اللہ کی طرف سے دل و دماغ میں ڈال دیا گیا تھا۔ ماحول، تربیت اور سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے تبدیل ہونا شروع ہوگیا۔ جیسا کہ ارسطو نے انسان کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :
” انسان پیدائشی طور پر ایک سیاسی حیوان ہے۔ “ (ارسطو کی سیاسیات 1253 ۔ الف)
جب وہ کسی ایسے والدین کے گھر پیدا ہوتا ہے جو کہ توحید کے سبق کو بھلا چکے ہوتے ہیں تو وہ بھی ان کے زیر اثر اس سبق کو بھلا دیتا ہے جو اللہ نے اس کی فطرت میں ڈال رکھا تھا۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں۔ ” کوئی بچہ نہیں جو فطرت اسلام پر پیدا نہ کیا گیا ہو، لیکن اکثر ہوتا یہ ہے کہ اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ (صحیح بخاری)
یعنی فطرت انسانی کی جڑ اور بنیاد اسلام اور توحید پر ہی ہے۔ اس لیے اگر اس پر باہر کا ماحول اثر انداز نہ ہوتا تو وہ بڑا ہو کر یقینا مسلمان ہی ہوتا۔ مگر یہ ماحول کا اثر قبول کرنا انسان کی مجبوری ہے۔ اسی مجبوری کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے وقتاً فوقتاً رسول اور پیغمبر بھیجے کہ انسان اپنے بھلائے ہوئے سبق کو پہچان سکے۔ جو بھی فطرتاً نیک ہوتا ہے وہ اس آواز حق کی طرف بےاختیار بھاگ پڑتا ہے۔ جیسا کہ مکہ کے وحشی بدو بھی اسی کفر کی روش کو بدلنے پر مجبور ہوگئے، یعنی انسان فطرتاً توحید پسند ہے اور یہی سبق بار بار قرآن پاک میں بھی دیا گیا ہے اور حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک یہی سبق یاد دلایا گیا ہے۔ کفار نے آپ کو بےحد پریشان کیا اگر اللہ چاہتا تو ان کو فوراً ہی نیست و نابود کردیتا لیکن یہ اللہ کی مرضی اور حکمت کے خلاف ہے وہ ان کفار کو مہلت دیتا ہے کہ ایمان کی روشنی سے منور ہوتے رہیں جیسا کہ حضرت عمر ؓ کو اللہ نے ایمان کی دولت سے مالا مال کردیا۔ اہل قریش کے بڑے بڑے سردار اور بیشمار قبیلے مسلمان ہوگئے اور آج کل بھی اکثر و بیشتر دیکھنے میں آتا ہے کہ کئی لوگ مسلمان ہو رہے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ اس عذاب کو نازل نہیں فرماتا جس کے لیے کفار بار بار نبی اکرم ﷺ کو کہتے ہیں کہ اگر آپ سچ کہہ رہے ہیں تو پھر وہ عذاب کب آئے گا جس کا ذکر آپ کرتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کہ یہ سب معاملات اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھے ہیں۔ وقت مقررہ پر عذاب ضرور آجائے گا۔ عذاب کا آنا یا نہ آنا یہ سب اللہ کی حکمتوں اور مرضی پر منحصر ہے۔ اگر تم حد سے گزر گئے اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو پھر دیکھ لینا عذاب بھی ضرور آجائے گا۔ جو وقت اللہ نے اس کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ اس کو تو کوئی ٹال نہیں سکتا تم اگر اللہ کے راستے کو اختیار کرلو تو تمہارا اپنا ہی فائدہ ہے۔ جو مہلت ملی ہے اس سے فائدہ اٹھا لو۔ ورنہ تم بھی انتظار کرو اپنی شامت اعمال کا۔ اور میں بھی تمہارا انجام دیکھنے کا انتظار کرتا ہوں۔
Ayahs 10:21–24کفار کا مصیبت میں خالص اللہ کو پکارنا
تشریح : ان آیات میں ایک بہت بڑی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ جب انسان پر کوئی ایسا مشکل وقت آن پڑتا ہے جب تمام اسباب اور سہارے منقطع ہوتے نظر آنے لگتے ہیں تو اس وقت اس کی نظر اسباب سے اٹھ کر ایک اللہ پر آلگتی ہے اور وہ خالصتاً اللہ کو پکارنے لگتا ہے پھر جب وہ مصیبت اور سختی کا وقت گزر جاتا ہے اور اسکی نظر پھر اسباب کی طرف جمنے لگ جاتی ہے وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں اللہ تعالیٰ پھر ویسی تکلیف اور سختی کا ایک اور سبب نہ کھڑا کر دے۔ مشرکین مکہ کی ایسی ہی عادت تھی جس کا اس آیت میں ذکر آیا ہے، فتح مکہ کے موقع پر عکرمہ بن ابوجہل اس ڈر سے مکہ سے بھاگ کھڑا ہوا کہ کہیں اسے قید نہ کرلیا جائے، بحری سفر اختیار کیا تو طوفانی ہواؤں نے کشتی کو گھیر لیا، ملاح نے کہا اب صرف ایک اللہ کو پکارو یہاں تمہارے دوسرے معبود کچھ کام نہیں دیں گے۔ عکرمہ یہ سن کر سوچنے لگا کہ یہی بات تو محمد ﷺ کہتے ہیں اگر سمندر میں اس کے بغیر نجات نہیں مل سکتی تو خشکی میں بھی وہی کام آسکتا ہے پھر اللہ سے عہد کیا کہ اگر تو نے اس مصیبت سے نجات دے دی تو فوراً واپس آکر اسلام قبول کرلوں گا، چناچہ انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرلیا۔ (سنن نسائی)
آیت نمبر 24 میں دنیا کی بےثباتی کی مثال دی گئی ہے جس طرح نباتات پر جوبن آتا ہے، پھلوں اور پھولوں کے مختلف رنگ ہوتے ہیں جو زمین کے اس قطع کو خوب زینت بخشتے ہیں اس طرح انسانوں پر بھی جوانی آتی ہے جب اسے دنیا کی ہر چیز حسین نظر آنے لگتی ہے اور وہ دنیا کی رونقوں میں خوب دل لگا لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اب کچھ دن مزے اور عیش و آرام سے گزریں گے اور زندگی کا لطف اٹھائیں گے اتنے میں اسے اللہ کا حکم یعنی موت اچانک آلیتی ہے اور جس طرح کھیتی پر کوئی اچانک آفت آنے یا اس کے کٹ جانے کے چند دنوں تک اس کا وجود ہی ختم ہوجاتا ہے اسی طرح مرجانے والا انسان بھی تھوڑی مدت کے بعد لوگوں کے دلوں سے محو ہوجاتا ہے۔
قانون قدرت اور انسانی فطرت کو یہاں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اصل میں عذاب، مشکلات اور پریشانیاں انسان کی نیت اور اعمال سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔ جب تکلیف پہنچتی ہے تو انسان دل سے اللہ کو پکارتا ہے یہ عادت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ انسان کا اصل رابطہ اللہ سے ہی ہے مگر دنیا میں پھیلی ہوئی بدیاں، خباثتیں اس کو بدراہ کر کے اللہ سے غافل کردیتی ہیں۔ مصیبت ٹل جانے پر پھر وہی بدی اور شرارت والا راستہ اپنا لینابرے انسان کی فطرت ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ اس کی ان شرارتوں کا انجام اس کو پھر ضرور دوبارہ بھگتنا پڑے گا۔ اصل میں مصائب، عذاب اور تکلیفوں کی دو وجوہات ہوتی ہیں روحانی وجوہات اور طبیعی وجوہات۔ یہ اصول ہر فرد، قوم، ملک بلکہ پوری دنیا پر لگتا ہے۔ ایک اکیلا شخص جو روحانی پاکیزگی رکھتا ہے وہ پوری سوسائٹی کو اپنے تابع کرسکتا ہے۔ جیسا کہ ہمارے سامنے پیارے رسول اللہ ﷺ کی مثال موجود ہے کس طرح انہوں نے اپنی روحانی پاکیزگی بلند کرداری اور قلبی طاقت سے ہر قسم کے تمام حالات کو اپنے قابو میں کرلیا اور دنیا پر ثابت کردیا کہ روحانیت کا مقام مالک کا اور طبیعات کا مقام غلام کا ہے۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے نزدیک اخلاقی پستی بھی انتہائی عروج کو پہنچ جائے گی اور ابتلائوں یا رنج و الم کا بھی یہی حال ہوگا۔ تو ثابت ہوا کہ اخلاقی پستی اور رنج و الم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جو لوگ دنیا کی نعمتوں کو بہترین طریقہ سے استعمال کرتے ہیں وہ فائدے میں ہیں جو اس زندگی کی نعمتوں کو بےراہ روی میں خرچ کرتے ہیں تو ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کو اس کا بدلہ دنیا میں بھی ملتا رہتا ہے اور آخرت میں تو خوب ہی بدلہ ملے گا اور ضرور ہی ملے گا کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اس دنیاوی عیش و آرام کی مثال اللہ تعالیٰ نے پر آسائش آرام دہ ٹھکانے سے دی ہے جیسا کہ آج کل دنیا میں سائنسی ترقی، صنعتی ترقی نے انسان کو اس خیال میں ڈال دیا ہے کہ گویا اس نے پوری کائنات کو اپنے قبضہ میں کرلیا ہے مگر اس کو یہ خیال نہیں کہ یہی ترقی اس کی تباہی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ مثلاً ایٹمی ری ایکٹر۔ ایٹم بم۔ وغیرہ۔ پچھلی چند صدیوں میں انسان نے بڑی زبردست ترقی کی ہے مگر صرف مادی ترقی کی ہے جس کی بنیاد طبیعیات پر ہے روحانیات میں نہیں۔ بلکہ روحانی لحاظ سے تو انسان کافی نیچے گر چکا ہے اور یہی انسان کی تباہی و بربادی کا موجب ہوگا۔ جو لوگ سمجھنے والے عقل مند اور دور اندیش ہیں ان کے لیے یہ تمام بیانات کافی نصیحت آموز ہیں۔ اور ایسے ہی لوگ اللہ کے دوست ہوتے ہیں جبکہ کفار اس نعمت سے محروم ہوتے ہیں۔ اللہ رب العزت ہمیں روحانی بلندی اور ایمان کی مضبوطی دے اور دنیا و آخرت کے عذابوں سے محفوظ و مامون رکھے۔ آمین۔
Ayahs 10:25–27اچھے اعمال کا انعام اور برے اعمال کا بدلہ
تشریح : ان آیات میں سلامتی کے گھر، یعنی جنت کا ذکر ہے پھر جنت حاصل کرنے والے اور دوزخ میں جانے والوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ انسان کو پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے اس کو زندگی اور زندگی گزارنے کے لیے تمام سہولتیں، آسائشیں عطا فرمائیں۔ تو اس طرح بندے اور اللہ کا تعلق آقا اور غلام کا ہوگیا۔ اب غلام کی زندگی کا مقصد کامیاب زندگی گزارنے کے لیے تین اصولوں پر قائم رہنا ہے۔ یعنی آقا کی وفاداری، آقا کی اطاعت گزاری، آقا کا ادب اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا۔ ان تین باتوں کا جب ایک مسلمان زندگی کے ہر لمحہ میں خیال رکھتا ہے وہ گویا دنیا کا ہر کام عبادت سمجھ کر کرتا ہے۔ ہمارے آقا یعنی رب العلمین نے ہمیں زندگی گزارنے کے تمام بہترین اصول بتا دیے ہیں جو شخص ان صولوں کے مطابق سوتا ہے جاگتا ہے، کھاتا پیتا ہے، روزی کماتا ہے، بیوی بچوں کو پالتا ہے، غرض دنیا کا ہر کام اللہ کی حدود میں رہ کر، اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے وہ کامیاب انسان ہے ایسے نیک پاک سچے اور پکے مسلمان کے چہرے پر اللہ کا نور، سکون اور اطمینان ہر وقت دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ اس کو گناہ، فریب دھوکہ چوری اور جھوٹ کے ظاہر ہوجانے کی بےسکونی اور پریشانی نہیں ہوتی ایسے ہی لوگوں کو اللہ مرنے کے بعد بہترین درجات عطا فرمائے گا اور اپنے دیدار جیسی نعمت کی زیادتی عطا کرے گا۔ اس کے برعکس جو آدمی یا انسان ان تمام باتوں سے ناواقف ہو کر صرف اور صرف دنیا کی لذتوں، عیش و آرام میں کھو کر اللہ سے اور یوم آخرت سے غافل ہو کر نافرمانی کی زندگی گزارتا ہے وہ حقیقت میں بےسکون زندگی گزارتا ہے اور جب موت آتی ہے تو اس کا رنگ فق ہوجاتا ہے اور جب اللہ کے نبی اکرم ﷺ حاضر ہوگا پھر تو اس کا حال بہت ہی برا ہوگا۔ اللہ کے عذاب سے اسے کوئی بھی بچانے والا نہ ہوگا وہ لوگ حسرت، خوف اور پریشانی میں ایسے دکھائی دیں گے جیسے کالی رات نے ان پر اندھیرا مسلط کردیا ہو۔ ظاہر ہے ایسے ہی لوگ جہنم کی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ پھر یہ بھی اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا ہے کہ یہاں زندگی ختم ہونے والی ہے مگر مرنے کے بعد والی زندگی ہمیشہ کی ہے۔ وہ جنت کی صورت میں ہو یا جہنم کی، اس سے نجات نہ ہوگی۔ مندرجہ ذیل باتیں ایسی ہیں جو انسان کو جنت کا وارث بنا سکتی ہیں۔
(1) اللہ کے سوا کسی سے مدد طلب نہ کرے۔
(2) دین کا علم حاصل کرو۔
(3) گناہ سے بچو اگر گناہ ہوجائے تو فوراً سچی توبہ کرو۔
(4) حق کا مارنا، زبان و ہاتھ سے تکلیف دینا منع ہے۔
(5) مال کی محبت میں آخرت کو نہ بھولے اور فضول خرچی نہ کرے۔
(6) کسی سے جھگڑا نہ کرے۔
(7) حدود کا خیال رکھے۔
(8) عبادت میں سستی نہ کرے۔
(9) عاجزی اور انکساری سے رہے۔
(10) بےدین اور برے لوگوں سے دور رہے۔
(11) دوسروں کے عیب نہ ڈھونڈے۔
(12) نماز خشوع و خضوع اور سنت کے مطابق ادا کرے۔
(13) اللہ کی یاد سے کبھی غافل نہ ہو۔
(14) بات نرمی سے کرے۔
(15) خوشی اور رنج و غم میں اللہ کو ہمیشہ یاد کرے۔
(16) ہر وقت دوسروں کو فائدہ پہنچانے کا خیال رکھے۔
(17) کھانے پینے بلکہ ہر کام میں اعتدال کا خیال رکھے۔
(18) اللہ سے ملاقات کا شوق ہمیشہ دل میں رکھے۔
(19) ہر صورت اللہ کا شکر ادا کرتا رہے۔
(20) دوسروں کے عیب چھپائے۔
(21) نیک صحبت اختیار کرے۔
(22) نیکی کرنے پر شکر اور گناہ کرنے پر فوراً استغفار کرے۔
(23) جھوٹ نہ بولے۔
(24) شرم و حیا کے دائرہ میں رہے۔
(25) فضول محفلوں سے دور رہے۔
(26) بددیانتی، تکبر، کفر و شرک سے بچے۔
(27) ہر وقت نیک راہ پر چلنے کی اللہ سے توفیق مانگے۔
غرض ہر وہ کام اور ہر وہ بات جو کرنے سے اسے رنج ہو شرمندگی ہو وہ گناہ ہے اور ہر وہ کام جو کرنے سے خوشی اور سکون ملے یہ نیکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ نیکی کا بدلہ کئی گنا زیادہ دیتا ہے جبکہ برائی اور گناہ کا بدلہ وہ صرف اتنا ہی دیتا ہے جتنا گناہ ہو۔ یہ اس کے رحیم ہونے کی نشانی ہے۔
Ayahs 10:28–30حساب کتاب کا دن
تشریح : ان آیات میں حشر نشر، یعنی میدان حشر کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ہر قسم کے گنہگار کو اس کے گناہ کے مطابق سزا ملے گی یہاں مشرکین کے بارے میں ذکر کیا جا رہا ہے کہ مشرکین اپنے معبودوں کو کہیں گے ہمیں بچائو، جبکہ وہ چھوٹے خدا خواہ چاند، سورج ستارے، آگ، ہوا، پانی، بت، قبر یا مزار ہوں وہ بھلا اتنی اہلیت کہاں رکھ سکتے ہیں کہ وہ ان کو بچا سکیں یا یہ جان سکیں کہ ہاں یہ لوگ ہماری عبادت کرتے تھے لہٰذا وہ صاف انکار کردیں گے۔ کیونکہ عبادت کے لائق تو صرف اللہ کی ذات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کو وقت پر خبردار کردیا جائے کہ انہوں نے مرنے کے بعد اللہ کے حضور ضرور حاضر ہونا ہے وہاں بڑا سخت حساب کتاب اور سزا ملے گی اگر عقل ہے تو اپنے اعتقادات کو ٹھیک رخ پر موڑ کر ایسے معبود برحق کی طرف رجوع کریں جو ان کو قیامت کے دن بخش کر جنت میں داخل کرے دوزخ سے بچائے اور وہ ذات ہے اللہ وحدہٗ لا شریک کی ذات۔ اگلی آیات ثبوت پیش کرتی ہیں۔
Ayahs 10:31–36اللہ ہی معبود برحق ہے
تشریح : ان آیات میں ان مشرکین و کفار کے بارے میں ذکر ہے کہ یہ لوگ اصل میں اللہ ہی کو اپنا خالق ومالک مانتے ہیں کیونکہ یہ عالم ارواح میں اللہ سے وعدہ کرچکے ہیں یعنی، (عہد الست) جس کا مطلب اللہ کو رب ماننے کا وعدہ اور یہ کہ مالک و خالق رب العالمین صرف اللہ وحدہٗ لا شریک ہی ہے۔ پھر بھی یہ لوگ کفر و شرک کی ظلمتوں میں مارے مارے پھر رہے ہیں ان کو ہٹ دھرمی اور ناسمجھی نے اس قدر گھیر رکھا ہے کہ یہ سیدھا راستہ اختیار کرنا ہی نہیں چاہتے کیونکہ اگر تھوڑی سی عقل بھی یہ استعمال کریں تو کوئی مشکل بات نہیں یہ فوراً سمجھ سکتے ہیں کہ اصل خالق ومالک تو صرف وہی اللہ ہی ہے جس نے انہیں پیدا کیا، پرورش کیا، پھر یہ اپنی عمر پوری کرنے کے بعد اللہ کے حکم سے مر کر دوسری دنیا میں چلے جائیں گے جہاں ان کا حساب کتاب ہوگا نیک لوگ جنت میں اور برے لوگ سزا بھگتنے کے لیے دوزخ میں جائیں گے۔
اصل میں بات یہ ہے کہ کافر اور مشرک جب اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو دیکھتا ہے تو ان کے حسن، چمک دمک اور فوائد میں ہی گم ہو کر رہ جاتا ہے اور انہی کو اپنا معبود و مسجود بنا لیتا ہے، حالانکہ چاہیے تو یہ کہ ان کی صرف تعریف کرے اور غورو فکر کرکے ان تمام چیزوں کے بنانے والے کو ڈھونڈے۔ تھوڑی سی جستجو سے اس کو اللہ ضرور مل جائے گا۔ جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے آبائو اجداد کی بت پرستی کے باوجود خالق حقیقی اللہ جل شانہ، اپنی پوری حقیقت کے ساتھ مل گیا اور پھر جب رب تعالیٰ ان کو مل گیا تو اللہ نے ان کی مزید مدد کی اور ان کو توحید کا راستہ دکھا دیا بلکہ ان کو عظمت عطا کی اور پیغمبری عطا کی، تو جن لوگوں نے عقل سے تھوڑا سا بھی کام لیا اور اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کے ذریعہ سے اللہ کو دیکھ لیا تو اللہ نے ان کی نظر کو اور بھی تیز کردیا اور یوں وہ مخلوقات کے حسن کو دیکھ کر خالق تک پہنچ گئے یہ کفار لوگ قابل رحم ہیں ان کی تو بالکل ہی مت ماری گئی ہے۔ جو بات ایک معمولی عقل رکھنے والا انسان سمجھ سکتا ہے یہ اتنے بڑے بڑے لوگ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور یوں اپنے آپ کو دنیا و آخرت میں اللہ کی رحمتوں سے محروم کیے ہوئے ہیں۔ اللہ تو بڑا ہی رحیم و کریم ہے اسی لیے تو بار بار اعلان کر رہا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے یہاں تو صرف تم لوگوں کو عمل کرنے کی مہلت دی گئی ہے اصل زندگی تو مرنے کے بعد کی ہوگی جو ہمیشہ رہنے والی ہوگی اس زندگی کے لیے تیاری کرو۔ اللہ کو حقیقی رب مانو اسی کی عبادت کرو رسول اللہ ﷺ کو اس کا آخری رسول مانو اور قرآن پاک کو آخری کتاب مانو، اس کو پڑھو، دوسروں کو سکھائو اور پوری طرح اس پر عمل کرو۔ یہی انسان کے لیے ضروری ہے اور دنیا و آخرت میں اسی سے نجات ہوگی۔ کفار و مشرکین پر افسوس ہوتا ہے کہ برابر پیغمبر، یعنی راستہ دکھانے والے آتے رہے مگر انہوں نے ان کی طرف نہ توجہ کی اور نہ ہی ان کی تعلیمات سے فائدہ ہی اٹھایا بلکہ الٹا ان کی مخالفت کی اور انہیں تکلیفیں پہنچائیں۔ ہر وقت اللہ سے یہی دعا کرنی چاہیے کہ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلا۔ آمین۔
Ayahs 10:37–40اعجاز قرآن کے مختلف پہلو اور کفار کا انکار
تشریح : ان آیات میں قرآن پاک کی فضیلت اور مضامین کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ یہ کتاب کہ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں یہ کتاب آخری اس لیے ہے کہ اس میں گذشتہ بھیجی گئی تمام کتابوں کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے جب ان کے بارے میں نہ تو کوئی تاریخی کتاب موجود تھی اور نہ ہی وہ قومیں موجود تھیں اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کو گزرے ہوئے حالات کا علم تھا بلکہ آپ ﷺ تو ان پڑھ تھے۔ تو پھر ان گذری ہوئی قوموں، آسمانی کتابوں کا ذکر قرآن پاک میں اس قدر تفصیل سے کیسے بیان کیا گیا ہے ؟ قرآن کے آسمانی کتاب ہونے کی یہ بھی ایک دلیل ہے، پھر اس کا انداز بیان، مضامین، قوانین اور عقائد اس قدر ارفع و اعلی، جامع، مکمل اور بہترین ہیں کہ جو انسانی زندگی کے ہر پہلو میں مددگار اور راہ نما ثابت ہوتے ہیں۔ یہی تو ایک کتاب ہے جو انسان کو سیدھی راہ پر چلا کر دنیا و آخرت میں کامیاب اور پرسکون بناتی ہے۔ پھر اس میں کائنات کی بیشمار چھپی ہوئی حقیقتوں کو ظاہر کیا گیا ہے۔ تخلیق کائنات کے بارے میں وقتاً فوقتاً قرآنی آیات میں بیشمار اشارے ملتے ہیں۔ مثلاً خلائی سفر کے ضمن میں یہ آیات توجہ طلب ہیں :” قسم ہے چاند کی جب وہ پورا ہوا۔ تم ضرور طبق در طبق چڑھو گے۔ “
اس آیت کی تشریح ڈاکٹر دلدار احمد قادری صاحب اپنی کتاب ” کائنات، قرآن اور سائنس “ میں اس طرح کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو :
” یہاں معنی خیز طور پر چاند کی قسم کھا کر اس بات کا اعلان کیا جا رہا ہے کہ انسان تسخیر کائنات یا علم و آگہی یا ارتقائے شعور کے سفر میں منزل بہ منزل آگے یا اوپر جائے گا۔ چاند کی قسم کھانا اس لحاظ سے اور بھی معنی خیز لگتا ہے کہ جب ہم غور کرتے ہیں کہ انسان کے لمبے خلائی سفر کی ابتدا جس پر وہ بتدریج آگے بڑھ رہا ہے اس کے چاند پر قدم رکھنے سے ہوئی (نوٹ کریں کہ لَتَرْکَبُنّ رکب مرکوب سے ہے۔ اور اس کے معنی ہیں کسی سواری پر سوار ہونا اوپر چڑھنا۔ ) سبحان اللہ اسی طرح کی بیشمار آیات قرآن میں جگہ جگہ ملتی ہیں۔ فرق صرف غور کرنے میں ہے۔
غرض چودہ سو سال قبل خلائی سفر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ قرآن پاک کیونکہ رب العلمین سمیع وبصیر، علیم و حکیم، رحمن و رحیم کی کتاب ہے، اس لیے مکمل، غلطیوں سے پاک اور ایسی جامع کتاب ہے کہ جو ہر طبقہ کے انسان کی ذہنی سطح کے مطابق ہے، اس کے مسائل حل کرتی ہے اور ہر طرح سے انسان کی راہ نمائی کرتی ہے۔ مگر کفار مکہ اور اس زمانے کے کفار بلکہ بڑے بڑے مفکر، سائنس دان، ماہر طبیعیات، یعنی بکسلے، فرائڈ اور نیوٹن جیسے ماہرین بھی یہی بات کہتے ہیں۔ کہ اللہ کا کوئی وجود نہیں، لہٰذا رسول اور قرآن سب (نعوذ باللہ) جھوٹ ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کے ذریعے ایسے لوگوں کے لیے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ تو قرآن کو جانتے تک نہیں نہ انہوں نے قرآن پڑھا نہ جانا۔ بغیر پڑھے اور بغیر جانے یہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں ان کو کہو کہ اپنی پوری کوشش کر کے دیکھ لیں ان میں سے کوئی بھی اتنی قابلیت نہیں رکھتا کہ کتاب تو کیا ایک سورت بھی قرآن کی سورتوں کے مقابلہ کی جامع بامعنی اور مفید یہ نہیں لکھ سکتے۔ پھر اللہ رب العزت ان لوگوں کے بارے میں بتاتے ہیں کہ یہ لوگ اور ان سے پہلے بھی ایسے لوگ گزر چکے ہیں جو کچھ تو ایمان لے آئے اور کچھ ایمان ہی نہیں لائے۔ سب اپنے انجام کو پہنچ چکے۔ اللہ سے کسی کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں وہ تو سب کچھ جانتا ہے اور سب کو اس کے مطابق ہی اجر بھی ضرور مل جائے گا۔