9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 9:1–3

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

(اے اہل اسلام ! اب) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری اور (جنگ کی تیاری ہے) ۔

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

(تو مشرکو ! ) تم زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہ کرسکو گے اور یہ بھی کہ اللہ کفار کو رسوا کرنے والا ہے۔

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور حج اکبر کے دن اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اللہ مشرکوں سے بالکل الگ ہے اور اس کا رسول بھی۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اگر نہ مانو اور ( اللہ سے) مقابلہ چاہو تو جان لو کہ تم اللہ کو تھکا نہ سکو گے اور (اے پیغمبر ﷺ ! ) کفار کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔

سورة التوبۃ اس سورت کے دو نام ہیں ایک تو توبہ اور دوسرا براءت۔ وجہ یہ ہے کہ کچھ مخلص اہل ایمان کو معافی ملی اور براءت اس لیے کہ مشرکین کے تمام معاہدے منسوخ کردیے گئے۔ غرض یہ کہ مسلمانوں کی تمام مشکلات تقریباً فتوحات میں تبدیل ہونے لگیں اور مسلمان ایک مضبوط ناقابل تسخیر طاقت بن کر ابھرنے شروع ہوئے۔ اس سورت کی ایک انفرادیت یہ ہے کہ اس کے شروع میں بسم اللہ نہیں پڑھی جاتی۔ وجہ یہ ہے کہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے آغاز میں بسم اللہ نہ پڑھی ہے اور ہی نہ لکھوائی۔ ترتیب کے لحاظ سے یہ نویں سورت ہے۔ اس میں سولہ (16) رکوع اور ایک سو انتیس (129) آیات ہیں اور یہ مدنی سورت ہے کیونکہ یہ سورت 9 ھ میں نازل ہوئی۔ اس سے پہلے 6 ھ میں صلح حدیبیہ ہوچکی تھی۔ ہوا اس طرح کہ بنو خزاعہ نے مسلمانوں سے معاہدہ کرلیا اور بنو بکر نے قریش سے۔ دو سال بعد بنو بنکر نے بنو خزاعہ پر حملہ کردیا اور اس معاہدے کا خیال نہ کیا کہ مسلمان اور قریش کا معاہدہ ہوچکا ہے کہ دس سال تک وہ آپس میں لڑائی نہ کریں گے اور ایک دوسرے کے دشمن کی مدد نہ کریں گے۔ مگر قریش نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے بنو بکر کی مدد کی، اب معاہدے کے مطابق بنو خزاعہ کی مدد مسلمانوں کے لیے ضروری ہوگئی تھی، لہٰذا یہ معاہدہ ختم ہوگیا۔ تو آپ ﷺ نے رمضان 8 ھ میں مکہ پر حملہ کرکے بڑی آسانی سے اسے فتح کرلیا۔ 9 ھ میں سورت براءت نازل ہوئی۔ مکہ فتح ہوچکا تھا اور اب مسلمانوں کی ایک مستحکم ریاست کا بندوبست کرنا ضروری تھا۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ کے بعد بہترین تدبیریں اختیار کی گئیں جس کے نتیجہ میں دو سال کے اندر مسلمان اس قدر مضبوط ہوگئے کہ پورا عرب ان کے قبضہ میں آگیا اور ایک زبردست انقلاب برپا ہوگیا جس کے سامنے جاہلیت کی تمام رسمیں، عادات، عبادات اور خیالات سب کچھ بدل دیا گیا۔ یہ انقلاب نہ تو آسانی سے آیا اور نہ ہی بغیر منصوبہ بندی کے آیا۔ بلکہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں کہ وہ کس کس طرح صبر و استقامت سے اس مقام تک پہنچے۔ ان کی تئیس سال کی محنت رنگ لائی اور پورا عرب اسلام کے جھنڈے تلے آگیا۔ اب مسلمان ایک مضبوط قوم بن چکے تھے، لہٰذا مزید کامیابیوں اور ترقیوں کے لیے مسلمانوں کو اللہ کی طرف سے ہدایات دی جا رہی ہیں۔ 1: عرب سے شرک کو بالکل مٹا دیا جائے۔ 2: خانہ کعبہ کا انتظام اہل ایمان کے ہاتھ میں دیا جائے۔ 3: عربی تمدنی زندگی کی تمام رسومات کو ختم کردیا جائے۔ 4: اسلام کا مشن عرب سے باہر پھیلایا جائے۔ جس میں سب سے پہلے روم اور ایران کی بڑی سلطنتیں تھیں۔ حکم دیا گیا کہ ان تمام سے ٹکرا جائیں ان کو بزور شمشیر اپنے تابع کریں۔ مذہب کے لحاظ سے نہیں بلکہ صرف ان کو اپنا تابع بنا کر ان کو اسلامی اقتدار کا مطیع بنا لیں تاکہ گمراہیوں کا قلع قمع کیا جاسکے۔ 5: منافقین کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے تاکہ یہ اندرونی خطرہ ختم ہوجائے۔ 6: سچے مسلمان جو ابھی تک کمزور یا کم ہمت ثابت ہو رہے تھے ان کا علاج کیا جائے اور ان کو تیار کیا جائے کہ وہ اسلام کے لیے جان و مال، محنت اور ہمت سے جی نہ چرائیں بلکہ بےدریغ عمل کے میدان میں کود پڑیں اور بہترین، بہادر اور پکے مسلمانوں میں شامل ہو کر آنے والے تمام مراحل سے ٹکرا جائیں کیونکہ اب ایک عرب، یعنی مسلم سٹیٹ کو پوری غیرمسلم دنیا سے ٹکرانا تھا اور اس میں کسی کی سستی اور کمزوری ناقابل قبول تھی۔ اس سورت میں مذکورہ بالا مسائل پر بحث کی گئی ہے۔ حکومت، سیاست اور مذہب کے بہترین اصول بتائے گئے ہیں، ملاحظہ ہو۔ عہد ختم کرنے کا اعلان تشریح : جیسا کہ خلاصہ میں بتایا جا چکا ہے کہ پوری سورة التوبہ میں چند غزوات، جن میں اخلاقی، حربی اور دینی مسائل کا ذکر ہے اور پھر سوائے چند کے تمام قبائل سے معاہدات ختم کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے، پھر معاہدہ کی منسوخی کا اعلان ذی الحجہ 9 ھ میں کیا گیا۔ یہ سورة 9 ھ میں اس وقت مدینہ میں نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ سیدنا ابوبکر ؓ کو امیر حج بناکر مسلمانوں کے ساتھ حج کے لیے روانہ کرچکے تھے۔ تو سیدنا علی ؓ کو بڑا اہم اعلان کرنے کے لیے روانہ کیا گیا۔ اس اعلان میں بتایا گیا کہ -1 بیت اللہ کے گرد برہنہ ہوکرطواف کرنا منع ہے۔ -2 جس کافر کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کا کوئی معاہدہ ہے وہ مدت مقررہ تک بحال رہے گا۔ -3 جن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں اس کے لیے چار ماہ کی مدت ہے یا تو وہ اسلام قبول کرلیں اور وہ جنت میں داخل ہوں گے یا وہ یہاں (جزیرۃ العرب) سے چلے جائیں۔ -4 اس سال کے بعد کوئی مشرک اور مسلمان (حج میں) جمع نہ ہونگے۔ (جامع ترمذی) اس اعلان کے بعد مشرکین کے لیے یہ قانون نافذ ہوگیا کہ وہ عرب میں نہیں رہ سکتے۔ البتہ ان کو چار ماہ کی مہلت یوں دی گئی کہ یہ اعلان 10 ذی الحجہ 9 ہجری کو ہوا۔ اس وقت سے لے کر 10 ربیع الثانی 10 ہجری تک چار مہینے کی مہلت دی گئی تاکہ اچھی طرح غور و فکر کرلیں۔ لڑنا چاہیں تو تیار ہوجائیں۔ ملک چھوڑنا ہو تو جائے پناہ ڈھونڈ لیں۔ اسلام قبول کرنا چاہیں تو سوچ سمجھ کر اسلام قبول کرلیں۔ (از تفہیم القرآن) یعنی حج کے موقع پر عام اعلان کردیا گیا کہ اب کے بعد ہماری مشرکوں سے کوئی صلح نہیں مشرک اللہ کو ہرگز ہرا نہیں سکتے۔ اگر توبہ کرلیں اسلام میں داخل ہوجائیں تو بہتر ہے ورنہ عرب کو تو کفار و مشرکین سے ضرور خالی کروا لیا جائے گا۔ کیونکہ اب یہ بالکل مقدس سرزمین بن چکی ہے یہاں سوائے پاکیزہ لوگوں کے کوئی مشرک نہیں رہ سکتا۔ اور پھر اللہ رب العزت نے رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ اس دردناک عذاب کا پیغام بھی بھیج دیا جو کہ کفار و مشرکین کو موت کے بعد ہمیشہ کی زندگی میں ہمیشہ کے لیے دیا جائے گا۔ 22 سال کی مسلسل جدوجہد اور پریشانیوں کے بعد یہ دن مسلمانوں کو دیکھنا نصیب ہوا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے حسن اخلاق، حسن کردار اور اتحاد و یقین محکم کی برکات اور اللہ کے فضل و کرم سے کامیابیاں ہی کامیابیاں ملتی چلی گئیں۔ اگر مڑ کر تاریخ دیکھیں تو ہمیں صرف تنہا ایک مرد کامل دکھائی دے گا اور وہ ہیں پیارے رسول۔ رسول اللہ ﷺ جو توحید کی شمع لے کر اٹھے اور پوری دنیا کو روشن کردیا۔ صرف ایک بندہ اتنی بڑی کفر و شرک کی دنیا سے ٹکرا گیا اور ہر طرف فتح کے جھنڈے گارڈ دیے۔ فتح مکہ اللہ تعالیٰ اس کے رسول اور اسلام کی بہترین فتح اور آئندہ فتوحات کی بنیاد ثابت ہوئی۔ اس آیت میں حج اکبر کا ذکر ہے۔ یہ ذی الحجہ کی خاص تاریخیں مقرر ہیں۔ ، یعنی 10-9-8 ان ایام میں تمام حاجی عرفات اور پھر منیٰ کے میدان میں جمع ہوتے ہیں اور ارکانِ حج ادا کرتے ہیں اور یہ اعلان خاص حج اکبر میں کیا گیا تھا جو کہ فتح مکہ کے ایک سال بعد 9 ھ میں کیا گیا۔
Ayahs 9:4–6

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور انہوں نے اسے پورا کرنے میں کوئی کمی نہ کی ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو مقررہ مدت تک ان سے عہد پورا کرو کہ اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

جب عزت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پائو قتل کر دو اور پکڑ لو اور گھیر لو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کرلیں نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ د۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچا دو ، اس لیے کہ یہ علم نہیں رکھتے

مشرکوں سے سختی اور رعایت تشریح : جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ 10 رمضان 8 ہجری کو نبی کریم ﷺ مدینہ سے مکہ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے اور مکہ بغیر خون بہائے اور جنگ کے فتح کرلیا گیا۔ ذی الحجہ 9 ھ کو اعلان عام کردیا گیا کہ قبائل عرب سے تمام معاہدات ختم کیے جاتے ہیں کیونکہ عہد شکنی کی ابتدا قریش مکہ کی طرف سے ہوئی تھی۔ یہاں بھی مسلمانوں کی اخلاقی سر بلندی کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ اس طرح کہ حکم الٰہی یوں دیا جا رہا ہے کہ مکہ کے اطراف میں رہنے والے غیرمسلموں کو جان و امال کی امان دی گئی۔ ان غیرمسلموں کی چار قسمیں تھیں۔ ایک تو وہ جنہوں نے حدیبیہ کا معاہدہ توڑا۔ دوسرے وہ جن سے خاص مدت تک کے لیے معاہدہ کیا گیا تھا اور وہ اس پر قائم تھے۔ تیسرے جن سے بغیر مدت معین کے معاہدہ کیا گیا تھا۔ چوتھے وہ تھے جن سے کسی قسم کا معاہدہ نہ کیا گیا تھا۔ اسلام کے اصول رحم و کرم اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں اسی لیے چاروں قسم کے گروہوں کو علیحدہ علیحدہ سہولتیں دی گئیں۔ جن مشرکوں نے عہد کی پابندی کی اور کسی طرح سے مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچایا ان سے عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیا۔ عہد پورا کرنا پرہیزگار اور سچے مسلمان کی نشانی ہے ایسے ہی لوگ اللہ کے مقبول ترین لوگ ہوتے ہیں۔ پھر یہ حکم الٰہی ہے کہ جب بھی کسی وجہ سے عہد منسوخ کرنا ہو تو باقاعدہ اعلان کرکے عہد منسوخ کرو۔ پھر مزید سہولت مشرکین کو یہ دی گئی کہ یکدم ان کو مکہ سے نکل جانے کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ یہ اعلان کیا گیا کہ چار مہینے تم کو دیے جاتے ہیں اپنا مناسب بندوبست کرلو کیونکہ بہرحال مکہ کو مشرکوں سے پاک کرنا ہے۔ ان تمام رعایتوں اور سہولتوں کے بعد پھر سخت اقدامات کا حکم ہے، یعنی جہاں بھی تم ان کو پائو قتل کر دو ۔ اگر گھیرائو میں آجائیں تو ان کو قید کرلو۔ اچھی طرح ان کو گھیر کر قابو کرلو اور ہر صورت ان کو اچھی طرح ڈھونڈو۔ اس حکم سے بتانا یہ مقصود ہے کہ رحم و کرم اور اخلاق و اصول اپنی جگہ ہیں لیکن جب کسی قوم سے جنگ چھڑ جائے تو پھر پوری قوت سے ان کا صفایا کرنا چاہیے ایسے وقت میں رحم دلی بزدلی کہلاتی ہے۔ دوسری بات جو اللہ کے قانون کا کفر کرے وہ زمین میں عزت کی زندگی بسر نہیں کرسکتا، پھر حکم ہوا کہ اگر کوئی شخص تم سے امان چاہے تو اسے قرآن و حدیث اور اللہ کے بارے میں بتائو، سمجھائو اور اگر وہ نہ مانے تو اس کو باحفاظت اس کی جگہ پر پہنچا دو ۔ اور اگر ایمان لے آئے تو پھر پرکھ لو کیونکہ اس کا ایمان لانا تین چیزوں پر ہے۔ پہلا تو یہ سچی توبہ، دوسرا اقامت نماز اور تیسرا ادائے زکوٰۃ۔ یہ تینوں عمل اگر وہ مشرک کرنے لگے تو اس کا راستہ چھوڑ دو کیونکہ اب وہ مسلمانوں میں شامل ہوگیا۔ اور جو ایمان لائے تو ٹھیک ہے اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ان کے گناہوں کو اللہ رب العزت معاف کر دے گا۔ کیونکہ بیخبر ی اور لاعلمی میں جو کچھ ہوگیا وہ قابل معافی ہے اور پھر توبہ تو ہر صورت قبولیت کا درجہ رکھتی ہے۔ پھر آخر میں یہ مسئلہ سامنے آتا ہے کہ دارالاسلام میں بغیر کسی خاص معاہدہ یا ضرورت کے ٹھہرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اگر وہ اللہ کا راستہ چاہے تو اس کی مدد کی جائے کلام اللہ سنایا جائے اگر کسی دوسرے مقصد کے لیے آئے تو مقصد پورا ہونے کے بعد پوری حفاظت سے اس کو اس کے ٹھکانے تک پہنچا دیا جائے۔ اس کو ہم ویزا کہہ سکتے ہیں۔
Ayahs 9:7–11

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

بھلا مشرکوں کے لیے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے عہد کس طرح قائم رہ سکتا ہے۔ ہاں ! جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد حرام کے پاس عہد کیا ہے اگر وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہو، بیشک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

بھلا ان سے عہد کیونکر پورا کیا جائے جب ان کا یہ حال ہے کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا یہ منہ سے تو تمہیں خوش کردیتے ہیں لیکن ان کے دل ان باتوں کو قبول نہیں کرتے اور ان میں اکثر نافرمان ہیں۔

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت کے بدلے بیچ دیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ جو کام بھی کرتے ہیں برے ہیں۔

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا لحاظ رکھتے ہیں اور نہ عہد کا اور یہ لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

اگر یہ توبہ کرلیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور سمجھنے والے لوگوں کے لیے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔

بد عہد قوم کے اوصاف تشریح : اب ان آیات میں تقریباً پچھلی آیات کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اور مسلمانوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ مومن اور کافر کی فطرت میں بہت فرق ہے مومن عہد کا پاس سختی سے کرتا ہے جبکہ کافر و مشرک فطرتاً بدعہد، منافق اور بدخصلت ہوتا ہے اس سے مخلص ہونے کی توقع ہرگز نہیں کرنی چاہیے، وہ تو موقع پاتے ہی مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے اور نقصان پہنچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں اور ہرگز کوئی لحاظ نہیں کرتے نہ تو اپنے رشتہ دار ہونے کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی عہد و پیماں کا ہی خیال کرتے ہیں، اس لیے ان لوگوں پر اعتبار کرتے ہوئے بڑے ہوشیار اور محتاط رہو۔ جب معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان ہوا تو ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جنہوں نے صلح حدیبیہ میں عہد کیا تھا اس وقت ان کے عہد کی مدت 9 ماہ باقی تھی تو ان کے بارے میں یہ حکم دیا گیا کہ اگر اس مدت کے دوران وہ خود عہد شکنی نہ کریں تو تم بھی عہد کا وقت پورا کرو۔ کیونکہ یہ پرہیزگاروں کی صفت ہے اور اللہ تعالیٰ اس صفت والے لوگوں کو بہت پسند کرتا ہے۔ مگر کفار سے ہوشیار رہو یہ لوگ زبانی کلامی تم کو خوش کردیتے ہیں لیکن اندر سے یہ مسلمانوں کے سخت خلاف ہیں۔ ان کے دل بغض، حسد اور کینے سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کو برے بھلے کی کوئی تمیز نہیں، اسی لیے یہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایات کی نہ پروا کرتے ہیں نہ فائدہ اٹھاتے ہیں، بلکہ دنیا کے عارضی اور معمولی فائدوں پر جان فدا کرتے ہیں اور اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کو گمراہ کریں۔ اور یہ سب کام ہر لحاظ سے برے ہیں۔ ظاہر ہے برے کاموں کا نتیجہ بھی برا ہی ہوگا۔ یہ لوگ تو برائی میں حد سے زیادہ بڑھ جانے والے ہیں، اس لیے ان لوگوں سے مسلمانوں کا بھائی چارہ ہرگز نہیں ہوسکتا، ہاں ! البتہ اگر یہ لوگ یا کوئی ان میں سے سچی توبہ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے تو پھر یہ تمہارے دینی بھائی ہوسکتے ہیں۔ یہ تمام احکامات ہم ان لوگوں کے لیے بڑی تفصیل سے بیان کر رہے ہیں جو قرآن کو غور سے پڑھتے اور عمل کرتے ہیں۔
Ayahs 9:12–15

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر وہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں عیب نکالنے لگیں تو ان کفر کے سرداروں سے لڑو اور ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں، عجب نہیں کہ یہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں۔

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور اللہ کے رسول کو جلاوطن کرنے کا پکا ارادہ کرلیا اور انہوں نے عہد شکنی کی ابتدا کی۔ کیا تم ایسے لوگوں سے ڈرتے ہو ؟ حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

ان سے خوب لڑو اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومنین کے دلوں کو ٹھنڈا کرے گا۔

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور ان کے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رجوع (توبہ کی توفیق عطا) کرے گا۔ اور اللہ سب کچھ جانتا ہے حکمت والا ہے۔

کفر کے سرداروں کا علاج تشریح : یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو قسمیں کھا کر عہد کر چلے مگر پھر مسلمانوں اور دین کے خلاف کام کرنے لگے اور اپنے عہد کا کوئی پاس نہ کیا۔ تو یقیناً یہ تمہارے خلاف اسلام کے خلاف منظم ہونے کی کوشش میں معلوم ہوتے ہیں تو ایسے کفر کے سرداروں یا لیڈروں کو کچل دو تاکہ فتنہ کھڑا ہونے سے پہلے ہی دبا دیا جائے۔ یہ لوگ تو ہمیشہ سے بےایمان لوگ ہیں۔ انہوں نے پہلے بھی عہد شکنی کی تھی جب آنحضرت ﷺ غزوئہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے تو یہود، منافقین اور کفار مدینہ نے مل کر عہد شکنی کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ سے نکال دینے کی سازش کی تھی۔ بھلا یہ ہمیشہ کے عہد شکن لوگ اعتبار کے قابل کیسے ہوسکتے ہیں۔ مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اس قسم کے لوگوں سے ڈرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے۔ ڈرنا ہے تو صرف اللہ سے ڈرو۔ اللہ کا نام لو اور ایسے تمام عہد شکن تخریب کار اور منافق و مرتد لوگوں کے خلاف خوب ڈٹ کر جہاد کرو اور ان کو اسلام کی حمایت اور اللہ کی خوشنودی کے لیے قتل کرو۔ اور پھر اللہ ایسے لوگوں کو انکے گناہوں کی سزا تمہارے ذریعے ہی دینا چاہتا ہے۔ ان کی شکست، ذلت اور رسوائی تمہارے ہاتھوں ہی ہونی چاہیے۔ ان سے بےخوف ہو کر لڑو۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے فتح تمہیں ضرور ہوگی اور اسی طرح ان مظلوم مسلمانوں کے دلوں کو ٹھنڈک ملے گی جن کو کفار کے ظلم و ستم سہتے ہوئے عرصہ دراز ہوگیا تھا یہاں اس زمانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جب 610 ء میں غار حرا میں آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔ پھر آپ ﷺ نے اعلان رسالت کیا اور توحید کا پیغام دیا۔ اس اعلان پر اہل قریش آپ کی جان کے دشمن بن گئے۔ یہ زمانہ انتہائی مصیبتوں کا زمانہ تھا۔ مسلمان آہستہ آہستہ بڑھ رہے تھے مگر صبر کی تلقین کی گئی پھر ہجرت کی اجازت دی گئی اور پھر آہستہ آہستہ مدینہ میں اسلامی ریاست مضبوط ہوتی چلی گئی تب جنگ کی اجازت ملی۔ غزوئہ بدر، احد، احزاب، خیبر، صلح حدیبیہ اور پھر فتح مکہ۔ مکہ فتح ہونے پر عرب قبائل اسلام قبول کرتے چلے گئے اور بہت جلد عرب کے بدو ایک مضبوط قوم بن گئے اور یہ اس نئے دین کا معجزہ تھا۔ شروع کا دور مسلمانوں پر سختیوں، مصیبتوں اور آزمائشوں کا دور تھا۔ اب وقت آگیا تھا کہ مسلمان اپنے ظلم و ستم کا بدلہ لے سکتے تھے مگر یہاں بھی شرط یہ تھی کہ عہد شکنی، شرارت، خباثت اور دین سے پھرجانے پر ان کو قتل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ سراسر دین محمدی ﷺ کی خاطر تھا اپنے ذاتی بغض وعناد کا بدلہ لینے کے لیے نہیں تھا۔ پھر فرمایا کہ اسلام کی فتح و کامیابی اور کفر کی ذلت و شکست کو دیکھ کر مسلمانوں کو بےانتہا خوشی ہوگی اور تمہارے دلوں سے غصہ وغیرہ دور ہوجائے گا۔ پھر فرمایا کہ ان کفار و مشرکین میں سے جن کو اللہ ہدایت کی راہ دکھائے گا تو وہ ضرور سچے مسلمان بن جائیں گے۔ ایسے لوگوں کی خطائیں اللہ معاف کر دے گا۔ ان پر رحمتوں اور برکتوں کی بارش کر دے گا۔ اللہ رب العزت علیم بھی ہے اور حکیم بھی وہ ہر ایک کے متعلق پوری طرح جانتا ہے اور اپنی حکمت و دانائی سے تمام معاملات کو چلا رہا ہے۔ جیسا کہ اعلان معافی سے یہ ہوا کہ مکہ کے اردگرد سے بیشمار قبائل، امراء اور سردار جوق درجوق رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام اور اطاعت کا عہد کرنے لگے اور آپ نے ان کو ان کی موجودہ پوزیشن پر بحال رہنے دیا اور یوں بغیر خون خرابہ کے پورا جزیرئہ عرب اسلام کے جھنڈے تلے آگیا۔
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیے جاؤ گے، حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے جہاد کیا اور نہ ہی اللہ اور اسکے رسول اور مومنین کے سوا کسی کو دوست بنایا ہے جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔

نومسلموں کے لیے ہدایات تشریح : اسلام کی ترقیوں، کامیابیوں، فتوحات اور اللہ کی خاص مدد کو دیکھ کر اہل عرب اور آس پاس کے لوگ بہت زیادہ مرعوب ہوئے اور فوج در فوج مسلمان ہونے لگے یا ان کی اطاعت قبول کرنے لگے جیسا کہ پچھلی آیات میں تفصیلاً بتایا جا چکا ہے۔ اب اس آیت میں رب العالمین ان نو مسلموں کو خطاب کر رہے ہیں کہ تم یہ نہ سمجھو کہ کلمہ پڑھا، نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی تو مسلمان ہوگئے۔ بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کی اصلیت اور تمہارے دل کی کیفیات کو خوب اچھی طرح جانتا ہے مگر تمہارے ایمان کی پختگی کا امتحان جہاد سے لیا جائے گا تاکہ تمہارے سچے اور جھوٹے ہونے کا ثبوت تمام لوگوں کو مل جائے۔ جہاد ایک ایسی کسوٹی اور آزمائش ہے کہ جس سے ایک سچے اور پکے مسلمان کی پہچان ہوجاتی ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ وہی کرسکتا ہے جو اسلام کی سربلندی اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنا تن، من، دھن، یعنی دنیا کی ہر عزیز ترین چیز اللہ کی راہ میں خوشی سے قربان کر دے اور پھر اپنے مشرک رازداروں اور دوستوں سے دوستی ختم کردیں۔ جو لوگ جہاد میں شامل ہونے سے کترائیں یا سستی دکھائیں وہ سچے مسلمان نہیں ہوسکتے۔ یوں تو مسلمان کی زندگی مسلسل جدوجہد کا نام ہے مگر جہاد ایک علیحدہ حیثیت رکھتا ہے۔ جہاد کی فضیلت میں اللہ فرماتا ہے : اور جو لوگ ہماری خاطر جہاد کرتے ہیں ہم انہیں راستے دکھاتے (چلے) جاتے ہیں۔ ) سورة العنکبوت آیت (69 جہاد زندگی کے ہر لمحہ میں کیا جاتا ہے اس کی تین اقسام ہیں۔ 1: کھلے میدان میں دشمن کا مقابلہ، 2: شیطان اور اس کے بھائی بندوں کا مقابلہ، 3: اپنے دل کی ناجائزخواہشات کا مقابلہ، یعنی نفس امارہ کو شکست دینا۔ لیکن جہاد فی سبیل اللہ کو ہم پانچ قسموں میں بیان کرسکتے ہیں۔ -1 جہاد بالنفس، -2 جہاد باللسان، -3 جہاد بالعلم، - -4 جہاد بالمال، 5 جہاد بالسیف۔ جہاد بالسیف سب سے مشکل کام ہے لیکن سچے مومن کے لیے یہ سب سے آسان اور مسرت و شادمانی کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ یہ فتنہ کی جڑ ختم کرنے کا ذریعہ ہے جیسا کہ رب کریم فرماتے ہیں۔” اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورے کا پورا اللہ کے لیے ہوجائے “ ) سورة الانفال آیت (39 سورة توبہ آیت : 16 میں اسی بات کی تاکید کی گئی ہے کہ زندگی سستی اور کاہلی کا نام نہیں بلکہ انسان کو ترقی، کامیابی اور اللہ کی مدد اسی وقت ملتی ہے جب بندہ خود اس کے لیے محنت، کوشش کرے۔ پھر فرمایا کہ جہاد فی سبیل اللہ سچے مسلمان کی پہچان ہے۔ جس کے دل میں ذرا بھی کھوٹ ہوگا وہ جہاد سے ضرور منہ موڑے گا اور پھر مسلمانوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ کبھی بھی کسی مشرک کو رازدار نہ بنائو کیونکہ یہ لوگ اعتماد کرنے کے قابل ہرگز نہیں ہوتے۔ مسلمان کی شان یہ ہے کہ محنت اور کوشش کرے پورے صبر اور یقین کے ساتھ اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے وہ بہترین کارساز ہے۔
Ayahs 9:17–19

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکوں کا کام نہیں کہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں۔ جب کہ وہ اپنے اوپر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بیکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

اللہ کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے امید ہے یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں۔

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس شخص کے کام کے برابر سمجھا ہے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے ؟ یہ لوگ اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہوسکتے۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

مساجد کو آباد کرنیوالے کون ہیں ؟ تشریح : ان آیات میں صاف طور پر حکم دے دیا گیا ہے کہ اب مسجد حرام کو ان کفار و مشرکین سے بالکل خالی کروا لیا جائے جو اس کے متولی بنے بیٹھے ہیں کیونکہ وہ بت پرستی اور کفر و شرک کے راستے کو اپنائے ہوئے ہیں۔ بھلا یہ اللہ کا گھر بت پرستوں کی حفاظت میں کس طرح رہ سکتا ہے ؟ اللہ کا گھر اللہ والوں کے لیے ہی مخصوص ہوسکتا ہے اور اللہ والے وہ ہیں جو اللہ کو خالق ومالک مانتے ہیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی دوسری طاقت کو نہ مانتے ہیں نہ ڈرتے ہیں کیونکہ وہ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔ ایسے ہی مومنین ہدایت پانے والے ہیں۔ جبکہ کفار و مشرکین تو اپنے اعمال کی وجہ سے انتہائی ناپسندیدہ لوگ ہیں اسی لیے موت کے بعد کی ہمیشہ کی زندگی یہ دوزخ میں گزاریں گے۔ دوزخ یہ ہیبت ناک آگ کا گڑھا ہے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ اللہ کے نافرمان لوگ اس میں ڈالے جائیں گے۔ قرآن مجید میں بار بار اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ پھر آخر میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو مسجد حرام کی ظاہری زیب وزینت اور حاجیوں کی خدمت گزاری کو بہت بڑی عبادت اور نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تو اللہ نے ان کی اس خوش فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ اصل خدمت اور ایمان تو یہ ہے کہ نماز قائم کرو، آخرت پر ایمان رکھو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ کہاں یہ صفات اور کہاں حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد کی آرائش کرنا ؟ ظالموں کو اس بات کی سمجھ نہیں اور پھر وہ ہٹ دھرم اور ضدی اتنے ہیں کہ ان کو ہدایت دکھائی ہی نہیں دے سکتی، اسی لیے رب العالمین فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔ اصل میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ صرف اللہ کے گھر کی دیکھ بھال ہی کرتے رہنا اور اللہ پر ایمان نہ لانا یہ اللہ کے احکامات کو پورا کرنے کے برابر کیسے ہوسکتے ہیں۔
Ayahs 9:20–23

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہے اللہ کے ہاں ان کے بڑے درجے ہیں اور وہی مراد پانے والے ہیں۔

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا رب ان کو اپنی رحمت اور رضا مندی کی خوشخبری دیتا ہے اور ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کی نعمتیں ہمیشہ کی ہیں۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

اور وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کچھ شک نہیں کہ اللہ کے ہاں بڑا ثواب ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تمہارے باپ اور بھائی ایمان کے بجائے کفر پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھو۔ اور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں۔

ایمان، ہجرت اور جہاد کی فضیلت، ایمان کی تکمیل کب ؟ تشریح : مطلب یہ ہے کہ بہترین عمل ارکان اسلام کی پابندی، بہترین ذکر، اللہ کا ذکر اور بہترین دوست اللہ ہے جیسا کہ فرمایا : ” خبردار ! اللہ کے دوستوں کو غم لاحق ہوگا اور نہ کوئی پریشانی۔ “ ( یونس آیت : 62) پھر جنت کا ذکر اور تعریف اللہ یوں فرماتا ہے : ” نیک لوگوں کا صلہ انکے رب کے پاس ہمیشہ رہنے کی جنتیں ہیں۔ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی۔ وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ “ (البینہ آیت : 8) جب اس جنت کا تصور کرتے ہیں تو بےاختیار یہ دعا منہ سے نکلتی ہے : ” رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَاب النَّارِ “ ” اے رب ہمارے ! ہمیں دنیا میں نیکی اور آخرت میں بھی نیکی دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ “ (البقرہ آیت : 201) غرض اسلامی نظام زندگی کے بنیادی اصول یہ ہیں ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ۔ ان پر قائم رہنا ہی مومن کی شان اور جنت کا انعام ہے۔
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

کہہ دو اگر تمہارے باپ، بیٹے، بھائی، بیویاں، خاندان کے لوگ اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (عذاب) بھیجے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

جہاد کی بجائے دنیاوی مال و متاع کو ترجیح دینے کی سزا تشریح : دراصل یہ آیت ان لوگوں کے لیے نازل ہوئی جنہوں نے ہجرت کا حکم ہوجانے کے بعد بھی ہجرت صرف اس لیے نہ کی کہ ہجرت کرنے سے وہ ماں باپ، بہن بھائی، اولاد بیوی مال و جائیداد اور کاروبار سے محروم ہوجائیں گے تو ایسے لوگوں کے لیے اس آیت میں پیغام دیا گیا ہے۔ کیونکہ ایمان کے مضبوط اور کامل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ ان تمام دنیاوی تعلقات پر اللہ اور اس کے رسول کو فوقیت دی جائے۔ صاحب روح البیان نے فرمایا کہ ” یہ مقام خلت اسی کو حاصل ہوتا ہے جو خلیل اللہ کی طرح اپنے مال، اولاد اور جان کو اللہ کی محبت میں قربان کرنے کے لیے تیار ہو۔ “ اس آیت میں ہجرت کو جہاد کا نام دیا گیا ہے۔ کیونکہ اس وقت مکہ سے ہجرت کرنا جہاد کے ہی برابر تھا۔ جب بعد میں جہاد کی ضرورت پیش آئی تو پھر جہاد فرض کیا گیا۔ اللہ کی حکمت یہی تھی کہ پہلے مسلمان تکلیفوں کو صبر و استقامت سے برداشت کرتے رہے چپکے چپکے اسلام کی تبلیغ کرتے رہے تو اس وقت یہی جہاد کے برابر تھا دنیاوی مال و دولت اور آرام و سکون انہیں اللہ کے دین کی تبلیغ سے روک نہ سکا۔ اس وقت اہل مکہ کے طاقتور لوگ مسلمانوں پر اتنے سخت ظلم و ستم کرتے تھے کہ سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں مگر وہ ایمان کے نور سے یوں منور ہوچکے تھے کہ دنیا کی کوئی طاقت اور کوئی سختی ان کو نور ِ ایمان سے دور نہ کرسکی۔ ایمان کی لذت اور اللہ کی محبت میں وہ اس قدر گم ہوچکے تھے کہ اپنا مال اور جان اللہ کے راستے میں قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار تھے۔ دنیا کی ہر چیز ان کے سامنے حقیر اور بےمعنی تھی کیونکہ ان کے لیے تو صرف اللہ اور رسول ﷺ کی محبت ہی سب کچھ تھی یہی تو سچے مومن کی نشانی ہے کہ اسے اللہ و رسول کی محبت اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ وہ بڑی خوشی اور جرأت سے اپنی جان حب ِ الٰہی اور حب ِ رسول ﷺ میں قربان کردیتا ہے۔ موت تو آکر ہی رہے گی تو کیوں نہ اپنی جان کو اس مقصد کے حصول کے لیے قربان کردیا جائے کہ جس کے بدلے اللہ کی رضا اور آخرت کی ہمیشہ کی شادمانیاں حاصل ہوجائیں۔ جو لوگ اس قدر کھلی ہوئی صاف باتوں کو سمجھ نہیں سکتے ان کو ہدایت کس طرح دی جاسکتی ہے اور ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا گیا ہے کہ ان پر اللہ عذاب بھیجے گا۔ یہاں جہاد میں شامل نہ ہونے والوں کا ذکر اور انجام بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے۔ ” اللہ پاک نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان اور مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑھا رکھا ہے اگرچہ ہر ایک کے ساتھ اللہ نے بھلائی کا وعدہ کر رکھا ہے مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے۔ “
Ayahs 9:25–27

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

اللہ نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے اور جنگ ِ حنین کے دن جب تم اپنی جماعت کی کثرت پر خوش ہوئے تو وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین باوجود اپنی فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے اپنے پیغمبر پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور تمہاری مدد کے لیے فرشتوں کے لشکر جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے آسمان سے اتارے اور کفار کو عذاب دیا اور کفر کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اس کے بعد اللہ جس کو چاہے تو بہ نصیب کرے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

غزوہ حنین میں اللہ کی مدد تشریح : ان آیات میں اللہ اپنے ان احسانات کا ذکر کرتا ہے جو اکثر مسلمانوں پر خصوصی طور سے وقتاً فوقتاً کرتا رہا تو ان میں سے ایک غزوئہ حنین کا ذکر فرماتا ہے۔ پہلے حنین کا جغرافیہ جان لینا چاہیے۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان مکہ سے دس میل کے فاصلے پر واقعہ ہے۔ رمضان 8 ھ میں جب مکہ فتح ہوا تو قبیلہ ہوازن اور طائف کے رہنے والے بنو ثقیف نے مالک ابن عوف کی قیادت میں چار ہزار کے لشکر کے ساتھ بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ مکہ پر حملہ کرنے کے لیے کوچ کیا (چونکہ اس وقت مسلمان مکہ میں جمع تھے) آنحضرت ﷺ کو پتہ چلا تو آپ بھی چودہ ہزار کے لشکر کے ساتھ جہاد کے لیے نکل آئے۔ مقام حنین پر مسلمانوں نے پڑائو ڈالا۔ مسلمانوں نے بدر اور احد میں بہت کم تعداد اور بےسروسامانی کی حالت میں جنگ لڑی تھی اور اللہ کی مدد سے بہت بڑے لشکر پر فتح پائی تھی۔ مگر اس دفعہ ان کی تعداد بھی زیادہ تھی اور سازو سامان بھی پورا تھا۔ یہ دیکھ کر مسلمانوں کو اپنی فتح کا یقین ہوگیا اور یہ بات اللہ رب العزت کو پسند نہ آئی۔ اللہ بڑا مہربان ہے مگر اس کی پکڑ بھی بڑی سخت ہے۔ یہی وجہ ہوئی کہ مالک بن عوف نے بڑے سلیقہ سے فوج کے تیر اندازوں کو ترتیب دیا اور یک بارگی حملہ کردیا جس سے مسلمان بکھر گئے اور چند صحابہ ؓ آپ ﷺ کے پاس باقی رہ گئے جن میں سیدنا عباس ؓ اور سیدنا ابو سفیان ؓ بھی شامل تھے انہوں نے بآواز بلند مجاہدین کو واپس آنے کے لیے پکارا۔ اللہ نے فرشتوں کے لشکر سے ان کے دل مضبوط کردیے اور وہ دوبارہ اکٹھے ہو کر بہادری سے لڑے اور یوں اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔ جب دشمن نے آپ کو گھیر لیا تو آپ خچر سے اترے اور زمین سے ایک مٹھی خاک اٹھائی اور کفار کی طرف پھینکی پھر آپ ﷺ نے فرمایا دشمن کے چہرے بگڑ جائیں پھر کفار میں سے کوئی ایسا نہ بچا جس کی آنکھوں میں اس مٹھی کی وجہ سے مٹی نہ پڑگئی ہو۔ (صحیح مسلم کتاب الجہادو السیر) مسلمان اپنی تعداد اور سازوسامان پر بھروسہ کربیٹھے اور ذرا غرور میں آگئے جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں سبق سکھایا کہ قبیلہ ہوازن کے تیر اندازوں کے تیروں کی تاب نہ لاکر مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہی اللہ کی حکمت تھی پھر اپنے فضل و کرم سے مہربانی فرمائی اور شکست کو فتح میں بدل دیا۔ مسلمانوں کو شروع میں تھوڑی سی سزا دی گئی مگر بعد میں کفار کو مغلوب کرکے ان کو شکست کے عذاب میں مبتلا کیا۔ پھر آخر میں اللہ کی مغفرت کا ذکر ہے۔ وہ اس طرح کہ حنین کی فتح کے بعد ہوازن اور ثقیف کے سردار آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ایمان لے آئے۔ انہوں نے کفر سے توبہ کرلی۔ اللہ رحمتوں اور برکتوں والا ہے، غفور ورحیم ہے اس نے ان کے گناہ معاف کردیے اور ان کو اسلام کی روشنی اور ایمان کی دولت سے مالا مال کردیا۔
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

مومنو ! مشرک تو ناپاک ہیں تو اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ جانے پائیں اور اگر تمہیں مفلسی کا خوف ہو تو اللہ چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکمت والا ہے۔

مشرک ناپاک ہیں تشریح : اس آیت میں پاکیزگی اور صفائی کا ذکر کیا گیا ہے وہ اس طرح کہ مسلمان تو ظاہری اور باطنی دونوں طرح سے پاک صاف ہوتا ہے جبکہ کافر و مشرک ظاہر و باطن ہر طرح سے ” نجس “ ، یعنی گندگی کے نام سے پکارا گیا ہے۔ ظاہری صفائی کا مطلب ہے۔ 1 ناپاکی کی حالت میں نہ ہونا۔ 2 جسم اور لباس کا صاف ستھرا ہونا۔ 3 حالت وضو میں ہونا۔ باطنی صفائی کا مطلب ہے اعتقاد، اعمال اور اخلاق کا قرآن و سنت کے مطابق ہونا۔ جس کا دل ایمان اور صحیح عقیدہ سے منور ہوگا اور جس کے اعمال نیک اور پاکیزہ ہوں گے جس کے اخلاق بلند اور بےداغ ہوں گے وہ اللہ کا مقبول ترین بندہ ہوگا۔ اللہ پاک ہے پاکیزگی کو پسند کرتا ہے تو ایسا شخص مطہر پاکیزہ انسان کہلاتا ہے۔ مگر جو انسان ان تمام صفات سے دور ہوگا۔ گندا، یعنی نجس کہلائے گا۔ عرب میں پانی کی کمی تھی۔ روزی کمانے کے لیے عربوں کو مشقت کرنا پڑتی تھی پھر گرم خطہ تھا اس لیے عام طور پر صفائی کا کوئی خاص خیال نہ رکھتے تھے اور باطنی صفائی کا تو نام و نشان ہی نہ تھا۔ اعتقاد، اخلاق اور کردار مسلمانوں کے بالکل خلاف تھا، یعنی اس لحاظ سے بھی وہ لوگ انتہائی غلیظ انسان تھے۔ جنگ و جدل، قتل و غارت گری، جواء، شراب، بدفعلی اور تمام گناہوں میں انتہا کو پہنچے ہوئے تھے، لہٰذا حکم ہوا کہ ان کو خانہ کعبہ کے قریب بھی آنے کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ یہ اللہ کا گھر ہے پاکیزہ جگہ ہے، پاکیزہ لوگوں کے لیے ہے، پھر فرمایا کہ ان لوگوں کے حج پر نہ آنے سے جو تجارت کو نقصان ہوگا، اس کی تو تم بالکل فکر ہی نہ کرو۔ کیونکہ مسبب الاسباب اور روزی دینے والا تو الہ العالمین ہے رب العالمین ہے وہ خوب جانتا ہے انتظام کیسے کرنا ہے کیونکہ اس کی حکمت و دانائی لاجواب اور بےمثال ہے وہ چاہے گا تو تمہیں مال و دولت میں امیر ترین بنا دے گا اور ان کفارو مشرکین کی تجارت سے تمہیں بےنیاز کر دے گا۔
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

جو اہل کتاب اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں۔ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔

یہود و نصارٰی سے قتال یا جزیہ ؟ تشریح : پچھلی آیات میں کفار ومشرکین کو چار ماہ کی مہلت کے بعد قتل کرنے، قید کرنے اور خاص صورتوں میں مختصر قیام کی اجازت دی گئی تھی اس آیت میں خاص طور سے اہل کتاب کا نام لیا گیا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے مسلمان ان کو اہل کتاب ہونے کی رعایت دے دیں ان کو رعایت اس لیے نہیں دی گئی کیونکہ وہ اپنی اصلی تعلیمات سے بڑی حدتک پھر چکے تھے اسی لیے وضاحت کردی گئی کہ جو ان چار اسباب کے دائرہ میں آئے اسے قتل کرو۔ وہ چار اسباب یوں بیان کی گئی ہیں۔ 1 جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے۔ 2 جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ 3 جو حرام چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے۔ 4 جو سچے دین کو قبول نہیں کرتے۔ ان تمام باتوں کا حکم اہل کتاب، یعنی یہودو نصارٰی کو دیا گیا تھا مگر جیسا کہ اگلی آیات میں وضاحت کی گئی ہے کہ وہ لوگ اپنے اصل دین سے کافی حدتک ہٹ چکے تھے، اس لیے ان کو قتل بھی کیا جائے ان سے باقاعدہ جنگ کی جائے یہاں تک کہ وہ ذلیل و خوار ہو کر آپ کی اطاعت قبول کرلیں اور پھر اسلامی قانون کے مطابق جزیہ دینا قبول کرلیں۔ کیونکہ اسلامی ریاست بن چکی تھی اور اس کے قوانین بھی بن چکے تھے اس لیے جزیہ بھی مقرر ہوچکا تھا۔ جزیہ اس رقم کو کہتے ہیں جو ذمیوں سے لی جاتی ہے۔ اگر وہ مسلمان ہوجائیں تو پھر وہ مسلم شہری ہونے کی حیثیت سے زکوٰۃ دیتے ہیں، جزیہ معاف ہوجاتا ہے۔ یہ ایک طرح سے جان و مال کی حفاظت کا ٹیکس لیا جاتا ہے، جبکہ زکوٰۃ اسلام کا رکن ہے۔ جزیہ کی مقدار یوں بیان کی گئی ہے۔ دولت مندوں سے 48 درہم سالانہ، متوسط طبقہ سے 24 درہم سالانہ اور ادنیٰ طبقہ سے 12 درہم سالانہ۔ پھر اس میں عورتوں، بچوں اور محتاجوں کو جزیہ نہ دینے کی رعایت دی جاتی تھی۔ اور پھر جزیہ ادا نہ کرنے پر بڑی سخت سزا سے منع کیا گیا تھا بلکہ ہلکی سزا دینے کا حکم تھا۔ آنحضرت ﷺ ، سیدنا ابوبکر ؓ اور سیدنا عمر ؓ کے آخری الفاظ یوں تھے : ” ذمیوں سے بھلائی کرنا، ان سے رواداری برتنا، انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہونے دینا۔ “ ) از کتاب الخراج۔ الجامع الاحکام القرآن قرطبی، الاحکام السطانیہ صفحہ (137 ان تمام معاملات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام زبردستی نہیں پھیلایا گیا بلکہ اسلامی مملکت میں غیرمسلم لوگوں کو رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس شرط پر کہ وہ جزیہ دینا قبول کرلیں۔ یہ اصول صرف اہل کتاب کے لیے ہے مشرکین عرب کے لیے نہیں۔ اگلی آیات یہود و نصارٰی کے بارے میں ہیں۔
Ayahs 9:30–35

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں۔ پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کیا کرتے تھے یہ بھی انہی کی ریس کرنے لگے ہیں۔ اللہ ان کو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

انہوں نے اپنے مشائخ اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا رب بنا لیا ہے، حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اللہ واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ ان لوگوں کے شریک بنانے سے پاک ہے۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے پھونک مار کر بھجادیں۔ اور اللہ اپنی روشنی (نور) پورا کیے بغیر نہ رہے گا۔ اگرچہ کفار کو برا ہی لگے۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس دین کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ کفار ناخوش ہوں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

مومنو ! اہل کتاب کے بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو اس دن کے دردناک عذاب کی خبر سنا دو ۔

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں خوب گرم کیا جائے گا اور پھر اس سے (ان بخیلوں) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی اور کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو۔

یہود و نصارٰی کی گمراہی کی وجہ اور زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سزا تشریح : ان آیات میں یہود و نصارٰی کے بارے میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہود اہل کتاب ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے پیرو ہیں۔ لیکن یہ قوم بڑی ضدی، نااہل اور نافرن ثابت ہوئی یہاں تک کہ اپنے نبیوں کو بھی قتل کردیا کرتے تھے تو ایسے لوگ اپنی آسمانی کتاب پر کیا عمل کرسکتے تھے بلکہ انہوں نے اس کو بالکل تبدیل کردیا۔ ان کے راہب اور علماء بڑے بڑے امیر لوگوں سے کچھ رقم لیکر ان کی مرضی کے مطابق کتاب سے غلط فتوے بنا دیا کرتے تھے۔ پھر لوگوں سے بڑی بڑی رقمیں لیکر لوگوں کو گمراہ کرنے پر لگے رہتے اور پھر کفر میں اس قدر بڑھ گئے کہ کیتھولک فرقہ کا پوپ جنت کے ٹکٹ لوگوں میں فروخت کرنے لگا اور اس کے نائب بخشش گناہ کے سر ٹیفکیٹ قیمتاً بیچتے تھے غرض کونسی ایسی غلط حرکت ہے جو وہ نہ کرتے تھے۔ ان پر اللہ کا عذاب بخت نصر کی صورت میں نازل ہوا۔ اس نے یہود کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ تورات بھی اسی ہلچل میں تقریباً ضائع ہوگئی تو اس وقت سیدنا عزیر (علیہ السلام) نے جن کو تورات زبانی یاد تھی تحریر کروا دی تو اس وجہ سے یہودی ان کی اس قدر عزت اور احترام کرنے لگے کہ ان کو اللہ کا بیٹا کہنے لگے حالانکہ نہ تو ان کی کتاب میں یہ لکھا تھا اور نہ ہی سیدنا عزیر نے یہ تعلیم دی تھی۔ بلکہ کتاب میں تو یہی لکھا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں مگر یہود و نصارٰی نے ایک ہی کام کیا یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بنا دیا اور نصارٰی نے عیسیٰ ابن مریم کو اللہ کا بیٹا بنا دیا اور تین خدائوں کا فتنہ بھی کھڑا کردیا۔ اصل میں یہود و نصارٰی اردگرد کے یونانی، رومی اور مصری نظریات سے متاثر ہوگئے اور انہوں نے توحید کا نظریہ ہی بدل دیا جو کہ ان کی کتابوں میں دیا گیا تھا۔ پھر بےسروپا باتیں کرتے۔ کہیں ان لوگوں نے اپنے پادریوں اور راہبوں کو اللہ بنا رکھا تھا اس لحاظ سے کہ جو غلط سلط وہ مسئلہ بتاتے اس کو اللہ کا حکم سمجھ کر قبول کرلیتے اور اس پر عمل بھی کرتے۔ اسی لیے اللہ رب العزت نے ان کے لیے فرمایا کہ اللہ ان کو غارت کرے۔ بڑے ہی گمراہ لوگ تھے۔ ہر وقت اسی کوشش میں لگے رہتے کہ گمراہی کو پھیلائیں، یعنی نیکی کا نور اللہ رب العزت کا نام پھونکوں سے اڑا دیں اور ایمان کی روشنی بجھا دیں۔ حالانکہ دین ِحق جس کا پیغام رسول اللہ ﷺ نے دیا۔ وہ اتنا کامل اور بہترین اصول و قوانین کا حامل دین ہے کہ اس جیسا کوئی دین اس سے پہلے نہ آیا تھا۔ کیونکہ پہلے پیغمبر کسی خاص قوم یا ملک کے لیے بھیجے گئے مگر دین محمدی تمام دنیا کی اقوام اور تمام دنیا کے ملکوں کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اس کا مقابلہ کرنا یا اس کو مٹانا اتنا آسان کام نہیں جتنا کہ یہود و نصارٰی سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ تو ہمیشہ سے غلط راہوں پر چلتے رہے اور اب بھی ٹھیک راہ پر چلنے والے، یعنی مسلمانوں سے سخت دشمنی رکھتے ہیں۔ مسلمان ایک مضبوط قوم ہے۔ لیکن ان کے لیے بھی ضروری ہے کہ احکامِ الٰہی کو سچے دل سے مانیں اور عمل کریں۔ جب بھی وہ پکے اور سچے مسلمان بنے اللہ نے ان کو ہر طرح عزت، دولت اور شہرت عطا کی جیسا کہ تاریخ شاہد ہے کہ کس طرح مسلمانوں کی چھوٹی سی طاقت نے دنیا کو اپنے زیر کرلیا۔ لیکن جب اپنے اصولوں سے ہٹے یا عقائد میں کمزوری آئی تو پھر ان کو بھی ذلت و خواری اور تنزل کا سامنا کرنا پڑا۔ ، لہٰذا مسلمانوں کو بھی غفلت، حرص، ناانصافی، نافرمانی اور لالچ سے بچ کر زندگیاں گزارنی چاہئیں۔ اور پھر مال جمع کرنے کی بڑی سخت ممانعت کی گئی ہے اور فرمایا کہ اکثر پادری اور راہب ناجائز طریقوں سے مال کماتے ہیں (جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے) تو ایسے لوگوں کو بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ عذاب کی شکل یہ ہوگی کہ ان کا جمع کیا گیا سونے چاندی کا ذخیرہ تختیوں کی شکل میں بنایا جائے گا پھر ان تختیوں کو آگ میں تپا کر ان سے ان کی پیشانیاں پہلو اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ جب وہ تختیاں ٹھنڈی ہوجائیں گی تو پھر ان کو تپایا جائے گا اور پھر داغا جائے گا۔ یہ عذاب مستقل ان کو دیا جائے گا اور یہ ناجائز مال جمع کرنے کی سزا ہے، یعنی مال جمع کرنا اور اس کو صدقہ خیرات اور زکوٰۃ میں خرچ نہ کرنا بڑے عذاب کی بات ہے۔ البتہ کچھ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مال جمع کرنا جائز طریقہ سے اور اس پر زکوٰۃ دینا اس مال کو پاک کردیتا ہے۔ مگر جو انداز زندگی ہمیں قرآن دیتا ہے وہ بڑا ہی فائدہ مند آسان اور پرسکون ہے۔ مال کا خرچ اور آمد اتنا مناسب ہے کہ نہ اس میں لالچ بڑھتا ہے اور نہ ہی فضول خرچی کی راہ نکلتی ہے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے :” اور فضول خرچی نہ کرو بیشک فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ “ (بنی اسرائیل، آیات : 27-26) جس قدر اخلاقی برائیاں ہیں وہ سب شیطانی کاموں میں شمار ہوتی ہیں۔ اسی لیے مذہب اسلام میں ان سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے اور مذہب اسلام پوری دنیا کے لیے آیا ہے۔ مکمل اور آخری دین ہے اس کے بعد کسی شریعت کی ضرورت نہیں۔ یہود و نصارٰی اور مشرکین دین اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں اسی لیے ہر وقت شرارت میں مصروف رہتے ہیں۔ اللہ رب العزت ہم مسلمانوں کو ان کی شرارتوں، حسد اور بغض سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک مہینے گنتی میں بارہ ہیں اس روز سے کہ اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ اللہ کی کتاب میں ایک سال کے بارہ مہینے لکھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے چار مہینے حرمت کے ہیں یہی دین کا سیدھا راستہ ہے۔ تو ان مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔ اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو۔ جیسے وہ تم سے مل کر لڑتے ہیں۔ اور جان لو کہ اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔

مہینوں کی تعداد اور زمانے کی تقسیم تشریح : اس آیت میں وقت اور زمانہ کا تعین کرنے کا ذریعہ بتایا گیا ہے قرآن پاک عرب کے باشندوں کی طرف نازل ہوا۔ اس وقت نہ تو گھڑیاں تھیں اور نہ ہی کیلنڈر وغیرہ، یعنی اس وقت لوگ چاند کے گھٹنے بڑھنے اور چھپ جانے سے ہی وقت، تاریخ، مہینہ اور سال کا حساب لگاتے تھے، ، لہٰذا انہی کی سمجھ اور عقل کے مطابق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب سے کائنات وجود میں آئی، زمین اور آسمان، چاند اور سورج ستارے بنائے گئے اس وقت سے وقت اور جگہ بھی وجود میں آگئی تو اس کو تقسیم کرنے کے لیے اللہ رب العزت نے ایک سال کی مدت پھر اسی میں بارہ مہینے مقرر کردیے پھر کیونکہ لوگ بدامنی، لڑائی جھگڑے میں پھنسے رہتے تو اللہ نے چار مہینے ایسے مقرر کردیے کہ جن میں لوگ امن و سکون سے رہیں ان مہینوں میں لڑائی جھگڑا فساد منع کردیا گیا۔ عبادات تہوار مقرر کردیے گئے اب جو نیک اور پکے مسلمان ہیں وہ تو ان حدود کا احترام کرتے ہیں۔ وہ چار مہینے محرم، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور رجب کے مہینے بتائے گئے ہیں۔ آیت کے پہلے حصے میں فرمایا کہ ان مہینوں میں لڑائی جھگڑا اور جنگ نہ کی جائے۔ آخر میں اس بات کی اجازت دی جا رہی ہے کہ تم حرمت کا خیال ضرور رکھو لیکن اگر دشمن تم پر لڑائی مسلط کر دے، یعنی لڑائی میں پہل کرے تو پھر تم بھی ان سے خوب اچھی طرح مقابلہ کرو۔ مہینہ کی حرمت کا خیال نہ کرنے کا عذاب حملہ میں پہل کرنے والے پر ہوگا۔ تم پر گناہ لازم نہ ہوگا۔ کیونکہ تم نے اللہ کی حکم عدولی ہرگز نہیں کی یاد رکھو اللہ جل شانہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے کیونکہ وہ ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں اور اس کی نافرمانی ہرگز نہیں کرتے۔ مگر کفار نے ان مہینوں کی تعداد میں اپنی مرضی سے گڑبڑ کردی جیسا کہ اگلی آیت میں بیان کیا جا رہا ہے ملاحظہ ہو۔
Ayah 9:37

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

(امن کے) کسی مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کردینا کفر میں اضافہ کرتا ہے، اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اس کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام، تاکہ اللہ کے حرام کردہ مہینوں کی گنتی پوری کرلیں اور جو اللہ نے منع کیا ہے اس کو جائز کرلیں۔ ان کے برے اعمال ان کو اچھے دکھائی دیتے ہیں اور اللہ کفار کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

مشرکین کا مہینوں کی ترتیب بدلنا تشریح : بات جو یہاں بتائی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ کفار اپنی مرضی سے مہینوں کی ترتیب کو بدل دیتے تھے، یعنی محرم کو صفر اور صفر کو محرم بنا دیا، یعنی جب لڑنے کی ضرورت پیش آئی اور مہینہ محرم کا ہوا تو اس میں لڑنا منع ہے تو اپنے سرداروں کی مدد سے کہہ دیا یا کہلوا دیا کہ یہ مہینہ صفر کا ہے، لہٰذا لڑنا جائز ہے۔ تو اس ترتیب کو بدلنے سے مسلمانوں کے قرآنی احکامات میں بڑی گڑبڑ ہوجاتی تھی۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے مہینوں، دنوں اور سالوں کا حساب قمری لحاظ سے طے کردیا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ ” جب سے زمین و آسمان بنے سال میں بارہ مہینے اور چاند کے حساب سے ان کے نام مقرر کردیے گئے اور ان میں سے چار مہینے حرمت کے ہیں۔ “ پھر خاص عبادات مثلاً روزے، حج اور زکوٰۃ کے لیے خاص مہینے مقرر کردیے تاکہ یہ عبادات مختلف موسموں میں آتی رہیں اور لوگ ہر موسم کا مقابلہ کرتے ہوئے سخت سردی، سخت گرمی، بہار اور خزاں میں باقاعدہ روزے رکھیں، حج کریں۔ قمری حساب ہر سال 10 دن کا فرق ان عبادات کو مختلف موسم میں منتقل کرتا چلا جاتا ہے۔ 10 ھ میں جب رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے لیے تشریف لے گئے تو قدرتی طور پر ہی ایسا ہوگیا کہ مہینہ ذی الحجہ ہی کا تھا اس لیے نبی کریم ﷺ نے اپنے منیٰ کے خطبہ میں ارشاد فرمایا ” یعنی زمانہ پھر پھرا کر پھر اپنی اسی ہیئت پر آگیا جس پر اس کو اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی پیدائش کے وقت رکھا تھا، یعنی جو مہینہ اصلی ذی الحجہ کا تھا جاہلیت والوں کے نزدیک بھی اس سال وہی مہینہ ذی الحجہ کا قرار پایا۔ “ (از معارف القرآن جلد چہارم صفحہ 371) اسی خطبہ میں آنحضرت ﷺ نے ان مہینوں کی وضاحت اس طرح فرمائی تین مہینے مسلسل ہیں۔ محرم، ذی القعدہ، ذی الحجہ اور چوتھا مہینہ رجب کا ہے۔ ان تمام مہینوں کی ترتیب کا خیال رکھنا، یعنی ترتیب نہ بدلنا ہی دین قیم کی نشانی ہے۔ جبکہ کفار اس ترتیب کو اپنی مرضی سے آگے پیچھے کردیتے تھے تو سمجھتے تھے کہ اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کو تو نیکی بدی کی تمیز ہی نہ تھی جو مرضی ہوئی کرلیا جو اچھا لگا اپنا لیا جو برا لگا چھوڑ دیا۔ اللہ کے مقرر کیے ہوئے احکامات سے تو ویسے ہی دور تھے۔ نہ وہ نیکی کی راہ اپنانا چاہتے تھے اور نہ اللہ انکو نیک راہ پر لگا تا تھا۔ کیونکہ جو نیک ہو اللہ اس کے لیے نیک راستے آسان کردیتا ہے جو بد ہو اس کے لیے بدی کے راستے آسان ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہی اصول فطرت ہے۔ حساب تو سورج سے بھی لگایا جاتا ہے مگر وہ ذرا مشکل ہے۔ چاند ستاروں سے سمت معلوم کرنا اور وقت معلوم کرنا عربوں کا بڑا پرانا کام ہے۔ یہ لوگ اتنے ماہر تھے کہ جہازوں میں سمندر کا راستہ ستاروں سے ہی معلوم کرلیتے تھے اس وقت قطب نما یا کسی اور مشینی چیز کا تو نام و نشان بھی نہ تھا۔ چاند کی شکل سے وقت کا تعین کرلیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ماہ و سال قمری حساب سے مقرر کیے ہیں اس لیے ہم مسلمانوں کو اس حکم کی تعمیل ضرور کرنی چاہیے بلکہ فرض ہے کہ کفار تو ویسے ہی گمراہ اور نافرمان ہیں وہ اس ترتیب کو الٹ پلٹ کر اپنی گمراہی اور نافرمانی میں کچھ اور اضافہ کرلیتے ہیں تو یہ ان کی اپنی مرضی ہے۔ کرتے رہیں مگر مسلمان اللہ کے بنائے ہوئے اس اصول اور ترتیب ماہ و سال کو ہرگز بدلنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ پھر اتحاد اور سکون بھی اسی میں ہے کہ ایک بنے بنائے اصول پر چلتے چلے جاؤ۔
Ayahs 9:38–39

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

مومنو ! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو تم زمین پر گرے جاتے ہو۔ ، یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے کیا تم آخرت کی نعمتوں کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔ دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابلہ میں بہت ہی کم ہیں۔

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم نہ نکلو گے تو اللہ تم کو بڑا دردناک عذاب دے گا۔ اور تمہاری جگہ دوسرے لوگ پیدا کر دے گا اور تم اس کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکو گے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

جہاد کے وقت سستی اور کراہت پر عذاب کی وعید تشریح : ان آیات میں جہاد کی ترغیب دی گئی ہے اس کی فضیلت اور جہاد میں شامل نہ ہونے والوں کے لیے غضب کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ غزوئہ تبوک کا واقعہ ہے۔ غزوئہ تبوک نبی اکرم ﷺ کا آخری غزوہ ہے شام اس وقت رومی عیسائیوں کا صوبہ تھا۔ تبوک مدینہ کے شمال میں سرحد شام پر واقع ہے۔ ہوا اس طرح کہ جب رسول اللہ ﷺ 8 ھ میں غزوئہ حنین اور فتح مکہ سے فارغ ہو کر مدینہ پہنچے تو آپ ﷺ کو اطلاع ملی کہ شاہ روم ہرقل نے مدینہ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کرلی ہے۔ اور اپنی فوجیں شام کی سرحد پر جمع کردی ہیں اور عرب کے بعض قبیلوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے ارادہ کرلیا کہ اپنی فوجوں کو تبوک میں جمع کرکے خود حملہ کردیا جائے۔ اس وقت سخت گرمی کا موسم تھا اور فصلیں بالکل تیار تھیں اور آٹھ سال مسلسل جنگیں لڑ کر مسلمان کچھ تھکے ہوئے تھے۔ جس کی وجہ سے کچھ مسلمانوں نے جہاد میں شامل ہونے سے ذرا سستی دکھائی تو ان لوگوں کو اللہ رب العزت نے یاد دلایا ہے کہ جہاد جیسی نعمت تو خوش قسمت لوگوں کو ہی ملتی ہے اور اس کا بدلہ تو صرف مجاہد کو ہی ملتا ہے کیونکہ وہ دنیا کی عارضی زندگی اور عیش و آرام کو اللہ، اسکے رسول ﷺ کی محبت میں بےدریغ قربان کرنے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ دنیا کی زندگی اور اس کی ہر چیز بالکل عارضی ہے جب کہ اس کے مقابلے میں آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے اور اس کے انعامات بیشمار بےمثال اور ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ پھر رب العالمین ان کو بتاتے ہیں کہ جہاد سے سستی کرنے والوں کو دنیا و آخرت میں بہت عذاب دیا جائے گا دنیا میں پچھتاوے کا عذاب ان کو ملے گا کیونکہ جہاد کی نعمت کسی اور کو دے دی جائے گی۔ یہ تو اللہ کا دستور ہے کہ نااہل اور نافرمان لوگوں کی جگہ اللہ تعالیٰ دوسرے فرمانبردارلوگوں کو لے آتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ کیسے نافرمان تباہ و برباد ہوئے اور دوسرے لوگ آگئے اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ آخرت سے غفلت اور دنیا سے محبت ہر قسم کی برائی اور جرم کی بنیاد ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ دنیا کی زندگی ختم ہوجانے والی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو آخرت پر یقین گناہوں کو ختم کرنے کا ایک بہت بڑا ہتھیار ہے، اس لیے فرمایا کہ اٹھو اور جہاد کے لیے خوشی خوشی تیار ہوجاؤ۔ اس میں خود تمہارا اپنا ہی فائدہ ہے اللہ کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں وہ تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے اس کو یا اس کے رسول ﷺ کو تمہاری مدد کی کوئی ضرورت نہیں جیسا کہ پہلے بھی ہوچکا ہے اگلی آیات میں اس کا ثبوت بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔