9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمفہوم القرآن

Ayah 9:80

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

آپ ان کے لئے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں (اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا) اگر آپ ان کے لئے ستر مرتبہ بھی دعائے مغفرت کریں تو اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔ وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے اور ایسے فاسق لوگوں کو اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔

منافقین کی کوئی بخشش نہیں تشریح : غزوہ تبوک کے بعد عبداللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو رسول کریم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی سیدنا عمر ؓ نے منع کیا اور اس کی منافقانہ حرکتیں یاد دلائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ بخشش مانگو یا نہ مانگو بعد میں ان کی نماز جنازہ سے منع کردیا گیا۔ (صحیح بخاری، کتاب التفسیر) اس کے بعد اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اگر ستر مرتبہ بھی آپ ان لوگوں کے لیے بخشش مانگیں تو بھی میں ان کو معاف نہیں کروں گا۔ کیونکہ ان کا کفر، شرک، منافقت اور بدعہدی اتنی بری عادتیں ہیں کہ اللہ ایسے نافرمان لوگوں کو ہرگز معاف نہ کریگا اور نہ ہی نیکی کی ہدایت دے گا۔ نفاق ان کی طبیعتوں میں اس قدر رچ بس گیا ہے کہ اب اس کا ختم ہونا ممکن نہیں۔ غرض منافقت دل، کردار اور اخلاق کی بدترین بیماری ہے۔ اللہ ہمیں اس بدترین بیماری سے محفوظ رکھے اور ایسے بدترین انسان کی دوستی سے بھی محفوظ رکھے۔ آمین۔
Ayahs 9:81–83

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

جو لوگ (غزوئہ تبوک سے) پیچھے رہ گئے وہ اللہ کے رسول کی مرضی کے خلاف بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے اور اس کام کو پسند نہ کیا کہ اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کریں اور دوسروں کو بھی کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا، ان سے کہہ دو کہ دوزخ کی آگ ! اس سے کہیں زیادہ گرم ہوگی کاش ! یہ (اس بات کو) سمجھتے۔

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

انہیں چاہیے کہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اس کا بدلہ یہی ہے

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

پھر اگر اللہ آپ کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لے جائے اور وہ آپ سے نکلنے کی اجازت مانگیں تو کہہ دینا کہ تم ہرگز میرے ساتھ نہیں چلو گے اور نہ میرے مددگار بن کر دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ پیچھے بیٹھ رہنے میں خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔

منافق کی پہچان اور ان سے قطع تعلق تشریح : پچھلی آیات سے منافقین کا سلسلہ چل رہا ہے یہاں بھی انہی کا ذکر ہے اور اسلامی فوج کو یہ نکتہ سمجھایا جا رہا ہے کہ منافقین سے مدد لینا بڑی حماقت ہے کیونکہ یہ لوگ اوپر سے کچھ اندر سے کچھ ہوتے ہیں یہ بیرونی دشمن سے زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں اس لیے اپنی فوج کو ان سے ہوشیار رہنے کی اور آپس میں متحد رہنے کی پوری ٹریننگ دو کیونکہ یہ نہ تو مخلص ہیں اور نہ ہی جہاد کی تکلیف برداشت کرسکتے ہیں غزوئہ تبوک کا واقعہ ہوچکا ہے بلکہ یہ تو دوسروں کو بھی ترغیب دیتے رہے کہ بھئی اتنی گرمی ہے مت نکلو جہاد کے لئے۔ ان لوگوں کو کیا معلوم کہ اطاعت رسول ﷺ اور محبت الٰہی میں جان و مال خرچ کرنا کس قدر فائدہ مند ہے اور اس دنیائے فانی کا عیش و آرام کس قدر بےکار اور فضول ہے۔ یہ جہاد کی فضیلت کو کیا جانیں۔ یہ لوگ تو اگر کبھی جہاد میں شامل ہونا بھی چاہیں تو ہرگز ان کو شامل مت کرو بلکہ اپنی تنظیم کو اس قدر مضبوط بنا لو کہ کسی بھی طور یہ لوگ تمہارے ساتھ شامل نہ ہونے پائیں۔ ان کو صاف صاف بتا دو کہ ہمیں تم جیسوں کی نہ مدد چاہیے نہ مال چاہیے، ہنسو کھیلو کیونکہ آخرت میں تمہارے بد اعمال کا بدلہ تمہیں اتنا دردناک دیا جائے گا کہ ساری زندگی روتے رہو گے اور پھر وہ زندگی نہ ختم ہوگی نہ عذاب سے نجات ملے گی۔ مال اور جان سے جہاد کی فضیلت یہ کیا جانیں۔ اللہ فرماتا ہے : ” بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے میں خرید لیے ہیں، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں پس وہ مارتے ہیں اور مرتے (شہیدہوتے) ہیں۔ “ ( التوبہ، آیت : 111) شہادت کا درجہ اتنا بلند ہے کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہوتی ہے کہ اسے موت کی تکلیف نہیں ہوتی حدیث ہے سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” شہید کو قتل ہونے سے اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی یا مچھر کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔ “ (جامع ترمذی، ابواب فضائل الجہاد) شہید کی نشانی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ مت کہو، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں، مگر تم لوگ ان کی زندگی کا شعور نہیں رکھتے۔ “ (البقرہ، آیت : 154) پھر ایک جگہ اور فرمایا :” اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی رحمت اور بخشش تمہارے حصہ میں آئے گی یہ ان ساری چیزوں سے بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں۔ “ (اٰل عمران، آیت : 157) وہ لوگ جو منافق ہیں وہ اللہ کے ایسے مقبول ترین لوگوں کے درجات اور انعامات کا سوچ بھی نہیں سکتے ان لوگوں کی تو یہی تمنا ہوتی ہے کہ دنیا میں مال و دولت کیسے اکٹھا کیا جائے اور دنیا میں عیش و آرام کس طرح کیا جائے اور بس وہ کیا جانیں آخرت کو اور جہاد کو، جہاد کی فضیلتوں کو۔ بلکہ وہ تو ہر وقت اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کس طرح مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جائے ان کی سمجھ بس یہیں تک محدود ہے، اس لیے نبی اکرم ﷺ کے ذریعہ تمام مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے نصیحت کردی گئی کہ کبھی بھی منافقین اور شریر لوگوں پر اعتبار نہ کرو اور ان کی طرف سے ہمیشہ ہوشیار، خبردار رہو۔ کوشش کرو اور ان کو اپنے حساس محکموں سے بہت دور رکھو۔ یہ تمہارے دشمن ہیں اور اللہ کے ناپسندیدہ لوگ ہیں۔ جیسا کہ اگلی آیات میں ذکر کیا جا رہا ہے۔
Ayah 9:84

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ ! ) ان میں سے کوئی مرجائے تو اس کے جنازے پر نماز نہ پڑھنا اور اس کی قبر پر کھڑے نہ ہونا یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرتے رہے اور اسی حالت میں مرگئے۔

منافقوں کی نماز جنازہ کی ممانعت تشریح : یہاں فاسقوں سے نفرت کا اظہار اللہ رب العزت یوں کرتے ہیں کہ اپنے پیارے نبی ﷺ کو منع فرما دیا کہ نہ ان کی نماز جنازہ پڑھائو نہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو۔ اصل میں عبداللہ بن ابی فوت ہوگیا تو اس کا بیٹا جو مخلص صحابی تھا اور اس کا نام بھی عبداللہ ؓ تھا جو کہ نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سفارش کی کہ باپ کی مغفرت کے لیے اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔ آپ ﷺ نے مروت میں نماز پڑھا دی تو اللہ رب العزت نے سختی سے منع کردیا۔ اس لیے آئندہ کے لیے حکم ہوگیا کہ فاسق کے مرنے پر اس کے رشتہ دار عزیز نماز پڑھا سکتے ہیں مگر آپ ﷺ کو منع کردیا گیا۔
Ayahs 9:85–87

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

انکے مال اور اولاد آپکو تعجب میں نہ ڈال دیں (ان چیزوں سے) اللہ یہ چاہتا ہے کہ ان کو دنیا میں عذاب کرے اور جب ان کی جان نکلے تو اس وقت بھی یہ کافر ہی ہوں۔

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ اللہ پر ایمان لائو اور اسکے رسول کے ساتھ ملکر لڑائی کرو تو ان کے دولت مند لوگ آپ سے پیچھے رہ جانے کی اجازت طلب کرتے ہیں کہ جو بیٹھنے والے ہیں ہم بھی انکے ساتھ رہیں گے۔

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

یہ اس بات سے خوش ہیں کہ یہ پیچھے رہنے والی عورتوں کیساتھ رہ جائیں انکے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے تو یہ سمجھتے ہی نہیں۔

بہانے تراشنے والے منافق تشریح : اللہ کے حضور میں منافق و فاسق انتہائی ناپسندیدہ لوگ ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ جانتے بوجھتے ہوئے اللہ کی راہ کو چھوڑ کر شیطان کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ کفر و شرک اور منافقت کی اتنی گہری تہہ انکے دلوں پر جم گئی ہے کہ اب وہ گہری ہی ہوتی چلی جائے گی کم نہ ہوگی۔ اسی لیے اللہ نے کہا ہے کہ انکے دلوں پر مہر لگ گئی ہے اب وہ نیکی اور ایمان قبول ہی نہیں کرسکتے۔
Ayahs 9:88–92

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن پیغمبر اور جو لوگ ان کے ساتھ اسلام لائے سب اپنے مالوں اور جانوں سے لڑے انہی لوگوں کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد پانے والے ہیں۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور صحرائی لوگوں میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے کہ انہیں بھی اجازت دی جائے اور جنہوں نے اللہ اور اسکے رسول کے ساتھ جھوٹ بولا وہ گھر میں بیٹھ رہے تو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے ہیں ان کو دردناک عذاب ملے گا۔

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے نہ بیماروں پر اور نہ ان پر کہ جن کے پاس جہاد میں شریک ہونے کے لیے رقم موجود نہیں جبکہ دل سے وہ اللہ اور اسکے رسول کے ساتھ مخلص ہوں۔ نیکوکاروں پر کوئی الزام نہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور نہ ان (بےسرو سامان لوگوں) پر الزام ہے کہ جو آپ کے پاس سواری لینے کے لیے آئے اور آپ نے کہا کہ میرے پاس تمہارے لیے سواری کا بندوبست نہیں۔ تو وہ لوٹ گئے اور اس دکھ سے کہ انکے پاس خرچ موجود نہ تھا۔ انکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

مجاہد مومن اور عذر سے پیچھے رہنے والے تشریح : ان آیات میں تشریح کردی گئی ہے کہ جہاد میں شامل نہ ہونے کے لیے کون کونسی صورتیں ہیں اور جو لوگ ایمان لائے مال و جان سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں جہاد کیا ایسے ہی لوگ اللہ کے پسندیدہ ہیں ایسے ہی لوگوں کو دنیا و آخرت میں بھلائیوں کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اللہ رب العزت اعلان کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں بہترین باغات اور پرسکون پر آسائش ٹھکانے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ جہاد سے چھوٹ صرف عورتوں، بچوں، بیماروں اور ان لوگوں کو ہے جن کی جسمانی حالت ٹھیک نہ ہو۔ لیکن جھوٹ بول کر اپنے آپ کو جہاد کے قابل ظاہر نہ کرنا انتہائی گناہ اور شرم کی بات ہے ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب کی خبر دی گئی ہے۔ پھر کچھ ان دیہاتی لوگوں کا ذکر ہے کہ جو جہاد میں شرکت کے لیے آئے مگر ان میں کچھ تو نابینا، بیمار اور معذور تھے مگر شوق شہادت میں آگئے ان کو تو منع کردیا گیا اور کچھ ایسے تھے کہ جو مالی لحاظ سے کمزور تھے سواری کا بندوبست نہ کرسکتے تھے تو ان کو بھی شرکت کا موقع نہ مل سکا، لہٰذا وہ روتے ہوئے مجبور ہو کر واپس چلے گئے۔ ان کی نیتیں صاف اور یہ پکے مومن تھے مگر مجبوری کی بنا پر جہاد میں شامل نہ ہو سکے تو ایسے لوگوں پر کوئی گناہ نہیں اور ان کو اللہ معاف کر دے گا۔ بلکہ ان کی خلوص نیت کا اجر تو ان کو اللہ کی خوشنودی کی صورت میں ضرور مل جائے گا، البتہ وہ لوگ اللہ کے عتاب سے ہرگز نہ بچ سکیں گے جو جان بوجھ کر جہاد میں شامل نہ ہوں۔
Ayah 9:93

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو دولت مند ہیں اور پھر آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں (اس بات سے) خوش ہیں (کہ پیچھے رہ جانیوالی عورتوں) کے ساتھ گھروں میں بیٹھ رہیں اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے، پس وہ سمجھتے ہی نہیں

سزا کے قابل لوگ تشریح : یہاں واضح کردیا گیا ہے کہ وبال تو صرف ان لوگوں پر ہے جو جان بوجھ کر جہاد میں شامل نہ ہوئے اور عورتوں کے ساتھ گھروں میں بیٹھ گئے۔
Ayahs 9:94–96

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔ تم کہنا کہ عذر مت کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے اللہ نے ہم کو تمہارے سب حالات بتا دیے ہیں، ابھی اللہ اور اس کا رسول ﷺ تمہارے عملوں کو اور دیکھیں گے، پھر تم غائب و حاضر کے جاننے والے اللہ وحدہٗ لاشریک کی طرف لوٹائے جاؤگے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا۔

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ تو تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو سو تم ان سے التفات نہ کرنا یہ ناپاک ہیں اور ان کے اعمال کے بدلے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہوجاؤ لیکن اگر تم ان سے خوش ہوجاؤ گے تو اللہ نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا

منافقین کے بہانے اور مسلمانوں کو ہدایات تشریح : پچھلی آیات میں غزوئہ تبوک کے لیے نکلنے سے پہلے منافقین کے جہاد پر نہ جانے کے حیلے بہانوں کا ذکر ہے۔ یہ آیات غزوئہ تبوک سے واپس آنے سے پہلے نازل ہوچکی تھیں کہ اب جب آپ واپس پہنچیں گے تو پھر منافقین کا عمل وہی ہوگا، یعنی قسمیں کھائیں گے، جھوٹے بہانے بنائیں گے، چاپلوسی کریں گے۔ نبی اکرم ﷺ کو اللہ نے پہلے سیہدایات دے دیں کہ انکو بتا دینا اللہ سب کچھ جانتا ہے اس نے تمہارے دل کے کھوٹ، جھوٹے حیلے بہانے اور منافقت سب کچھ مجھے بتا دیا ہے اور اب تمہیں مہلت دی جاتی ہے کہ اپنی منافقت سے توبہ کرلو تو تمہیں معاف کردیا جائے گا۔ پھر فرمایا کہ آپ ان لوگوں پر اپنا وقت ضائع نہ کریں اور نہ ہی ان کے ساتھ خوشدلی سے پیش آئیں۔ کیونکہ یہ ناپاک لوگ ہیں اگر آپ ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ان سے ہرگز راضی نہ ہوگا۔ یہ آپ کو دھوکہ دے سکتے ہیں مگر اللہ کو ہرگز دھوکہ نہیں دے سکتے کیونکہ ان کو موت کے بعد اللہ کے حضور تو ہر صورت میں پیش ہونا ہے اس وقت یہ اپنے اعمال کو خود یکھ لیں گے اور پھر ان کے بدلے میں ملنے والی سزا کو بھی خوب اچھی طرح دیکھ لیں گے اور وہ درد ناک عذاب ہے۔ یہ جھوٹی قسمیں کھائیں اپنے دل کی غلاظت کو چھپائیں اللہ ان سے نہ راضی ہوسکتا ہے۔ اور نہ ہی ان کو معاف کرسکتا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ اپنے کفر و منافقت پر قائم ہیں۔
Ayahs 9:97–99

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

دیہاتی لوگ کفر اور منافقت میں بہت سخت ہیں اور اس قابل نہیں کہ وہ ان حدود کو جان سکیں جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کی ہیں اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ انہی پر بری مصیبت واقع ہو اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو اللہ کی قربت اور پیغمبر کی دعائوں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ سنو ! بیشک یہ ان کے لیے نزدیکی کا ذریعہ ہے اللہ ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

دیہاتی منافقوں اور دیہاتی مؤمنوں کا کردار تشریح : ان آیات میں مدینہ کے گردونواح میں رہنے والے دیہاتیوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔ مدینہ میں رہنے والے مشرک، منافق اور کفار مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے اسی طرح یہ دیہاتی لوگ اپنی کم علمی اور اکھڑ پنے کی وجہ سے اسلام کو سمجھنے کی صلاحیت کم رکھتے تھے۔ جبکہ شہری لوگ ان کی نسبت زیادہ عقل سمجھ اور تہذیب و تمدن کو اپنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہ ایک عام سی بات ہے آج کل بھی ہر جگہ یہ فرق شہری اور دیہاتی میں پایا جاتا ہے۔ عرب کے دیہاتی لوگوں نے اسلام کو پھلتے پھولتے دیکھا تو مجبورًا اور مصلحتاً اسلام قبول کرلیا تو اسلام کے قوانین کو سوچے سمجھے بغیر عمل میں لانا پڑا۔ مثلاً بےدلی سے نماز پڑھتے اور انتہائی مشکل سمجھتے ہوئے زکوٰۃ دیتے اور اکثر یہ کہتے کہ یہ مسلمانوں والی مصیبت کہاں سے ہمارے سر آپڑی اللہ کرے ان کا خاتمہ ہوجائے اور ہماری یہ پابندیاں ختم ہوجائیں تو اللہ رب العزت فرماتا ہے مسلمان تو مخلص اور اللہ والے لوگ ہیں۔ اللہ تو ان کی ہر صورت مدد کرے گا، البتہ منافقوں کی خیر نہیں وہ اپنے اعمالِ بد کی سزا ضرور پائیں گے اللہ تو ہر بات کو جاننے والا اور تمام معاملات کو حکمت و دانائی سے نمٹانے والا ہے۔ وہ ہر معاملہ دیکھ رہا ہے سن رہا اور خوب اچھی طرح جانتا بھی ہے۔ کچھ دیہاتی نیک فطرت اور سمجھدار بھی ہیں جو نیکی کی تلاش میں رہتے ہیں تو ایسے لوگ اسی ماحول میں رہتے ہوئے بھی نیک راستہ تلاش کرلیتے ہیں۔ ایسے نیک فطرت دیہاتی اللہ پر ایمان رکھتے ہیں خلوص نیت سے آخرت پر بھی ان کا پکا یقین ہے، اسی لیے وہ جو زکوٰۃ دیتے ہیں تو تاوان سمجھ کر نہیں دیتے بلکہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اسلام کا فرض ادا کرنے کے لیے خوش دلی سے زکوٰۃ دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ رسول ﷺ ان سے خوش ہو کر ان کے لیے دعائیں کریں گے اور اللہ تو ہے ہی رحمن و رحیم۔ وہ ان کے تمام گناہ معاف کر دے گا اور آئندہ ان کو اپنی رحمت اور فضل و کرم سے مالامال کر دے گا۔ معاف کرنا اور رحم کرنا اللہ کی صفت ہے۔ یا اللہ تو ہمارے گناہ بھی معاف کر دے ہمارے اوپر رحمتوں اور فضل و کرم کی بارش کر دے۔ آمین !
Ayahs 9:100–103

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

مہاجرین اور انصار میں سے جن لوگوں نے ایمان لانے میں سبقت کی اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی اللہ ان سے خوش ہے اور وہ اللہ سے خوش ہیں۔ اور اللہ نے ان کے لیے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور تمہارے گردونواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینہ کے لوگ نفاق پر اڑ رہے ہیں۔ آپ ان کو نہیں جانتے ہمیں ان کا علم ہے۔ عنقریب ہم ان کو دہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

کچھ اور لوگ ہیں جو اپنے گناہوں کا صاف اقرار کرتے ہیں انہوں نے اچھے برے عملوں کو ملاجلا دیا تھا۔ امید ہے کہ اللہ ان کو معاف کر دے کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

ان کے مال میں سے زکوٰۃ قبول کرلو کہ اس صدقہ سے آپ ان کے ظاہر و باطن کو پاک کرتے ہیں اور ان (کے نفسوں) کا تزکیہ کرتے ہیں اور ان کے حق میں دعائے خیریں کرتے ہیں کیونکہ آپ کی دعا ان کے لیے تسکین کا باعث ہے۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

مہاجرین اور انصار صحابہ کے لیے خوشخبری اور منافقوں کے لیے عذاب تشریح : پچھلی آیات میں دیہاتی مومنین کا ذکر تھا اب یہاں تمام مخلص مومنین کا ذکر ہے اور پھر ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو نبی اکرم ﷺ کی آواز پر فوراً مسلمان ہوگئے (جن میں مہاجرین وانصار شامل ہیں) اور کچھ نیک نیتی سے آہستہ آہستہ ان کے بعد مسلمان ہوتے گئے اور ان سب نے پورے خلوص کے ساتھ اسلام کے قوانین کی پابندی کی۔ پہلے گروہ کو صحابہ اور دوسرے کو تابعین کہیں گے اور بعض نے قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کو ان میں شامل کیا ہے۔ دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ غزوئہ تبوک کے لیے کچھ انصار و مہاجرین فوراً جہاد کے لیے تیار ہوگئے جبکہ کچھ مسلمان صرف سستی کی وجہ سے کچھ دیر کے بعد جہاد کے لیے تیار ہوئے اور کچھ مسلمان صرف کاہلی کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ گئے مگر پھر ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور انہوں نے پوری عاجزی اور انکساری سے معافی مانگ لی اور آئندہ ہر قسم کی کوتاہی اور نافرمانی سے سچی توبہ کرلی۔ اور پھر ایک طبقہ منافقین کا بھی تھا جو کہ بظاہر توبہ کر رہا تھا مگر وہ توبہ میں مخلص نہ تھے اور نہ ہی ان کے دل صاف تھے ان تمام باتوں کی وضاحت کے لیے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ نبی کریم ﷺ کو خبر دی اور یہ رہبری یا اصول تمام امت مسلمہ کے لیے تاقیامت جاری رکھنے کی ہدایت ہے۔ ہدایت یہ ہے کہ تمام مسلمان جو قرآن و حدیث کے پابند ہیں اللہ کا خوف رکھتے ہیں پکے مسلمان ہیں ان کے لیے جنت کی خوشخبری ہے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔ دوسرے درجہ پر وہ منافقین آتے ہیں جو اپنے نفاق کو اس خوبصورتی سے چھپاتے ہیں کہ بشر ہونے کے ناطے نبی اکرم ﷺ بھی دھوکہ کھاجاتے تھے تو ان کی نشاندہی اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ کرتا رہا اور پھر فرمایا کہ ایسے لوگ دہرے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ ایک تو نفاق کو چھپانے کی فکر اور دوسرے نفاق کے ظاہر ہوجانے کا خوف اس طرح ان کا سکون غارت ہوجاتا اور بےسکونی زندگی کو عذاب میں ڈال دیتی ہے۔ آخر میں فرمایا کہ مرنے کے بعد ان کے نفاق اور نافرمانی کی و جہ سے ان کو دردناک اور بہت بڑا عذاب دیا جائے گا جو کہ ہمیشہ ہمیشہ رہنے والا ہوگا۔ تیسرے درجہ پر ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو نیک اور بد، ملے جلے اعمال کرنے والے مسلمان ہیں۔ نیک اعمال تو یہ ہیں کہ ایمان لے آئے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ جیسے فرائض کی پابندی کرتے رہے، پہلے غزوات میں بھی شامل رہے، مگر انسان ہونے کے ناطے ان سے کچھ کوتاہی ہوگئی جیسا کہ غزوئہ تبوک میں سستی کاہلی کی وجہ سے شامل نہ ہو سکے۔ لیکن بعد میں بڑے شرمندہ ہوئے اور استغفار کی۔ رسول اللہ ﷺ سے سچے دل معافی مانگی۔ تو ان کے لیے اللہ غفور ورحیم فرماتا ہے کہ اللہ معاف کرنے والا ہے ان کی سچی توبہ قبول کرلی جائے اور ایسے لوگوں کے لیے بھی جنت کی خوشخبری ہے۔ یہ آیت اگرچہ خاص لوگوں کے لیے خاص موقع پر نازل ہوئی ہے مگر یہ بھولنے والے، غلطی سے غلط کام کرنے والے اور سچی معافی مانگنے والے تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ خبردار کرتے ہیں کہ یہاں کوئی دھوکہ اور چالاکی کام نہیں دے سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید اور ہر شخص کی نیت کو خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ معافی ان کو ملتی ہے جو معافی کی تمام شرائط پوری کرکے معافی مانگتے ہیں تو اللہ اپنی رحمت سے ان کی معافی ضرور قبول کرتا ہے۔ حدیث میں ہے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :” بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک اسے غرغرہ (عالم نزع کا طاری ہونا) شروع نہ ہو۔ “ (جامع ترمذی ابواب الدعوات ) ندامت سے رونا اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ پسند ہے جو شخص اس قدر نادم ہو کہ رو روکر معافی مانگے وہ سچا ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ملے جلے اعمال کے مالک، یعنی غزوئہ تبوک میں شامل نہ ہونے والے مخلص مسلمان اگر اب توبہ کرتے ہیں اور توبہ کی قبولیت کے لیے نیک کام کرتے ہیں، یعنی صدقہ و خیرات اور مال دیتے ہیں تو آپ ان کے صدقات و مال قبول کرلیں اور ان کے لیے دعا کریں اس طرح ان کے دلوں کو سکون ملے گا اور وہ مزید نیکی کی راہ اختیار کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر بات کو سنتا ہے اور ہر عمل کو جانتا ہے۔ صدقہ و خیرات کی بڑی فضیلت ہے۔ صدقہ مال کو پاک صاف کرتا ہے اور رحمتوں اور برکتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ انسان کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور مشکلات آسان ہوتی ہیں اور انسان کے دل کو سکون ملتا ہے۔ معاشرے سے بہت سی برائیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ انسانی ہمدردی، فراخدلی اور نیکی کے جذبات بڑھتے ہیں۔ لالچ اور خود غرضی ختم ہوتی ہے۔ سب سے بڑی بات کہ اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے جو ہماری آخرت کی زندگی کو بہترین بنانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ یہ آیت امت محمدیہ کے لیے ہے کیونکہ یہ صرف اس وقت کے مسلمانوں کے لیے خاص نہیں بلکہ قیامت تک تمام مسلمان اس سے فائدہ حاصل کریں اور جو بھی حاکم وقت ہو اس کا فرض ہے کہ صدقات و زکوٰۃ وصول کرنے اور ان کو بہترین جگہ پر خرچ کرنے کا پکا بندوبست کرے۔ اس میں کوئی کوتاہی قابل معافی نہ ہوگی۔ زکوٰۃ، اسلامی نظام مالیات کا بہترین قانون ہے کہ جس کی وجہ سے بیروزگاری ختم ہوئی، اپنے پائوں پر کھڑے ہو کر خودکفیل مضبوط اور ناقابل تسخیر مملکت وجود میں آئی اور اسلامی پرچم دنیا کے بڑے حصے پر لہراتا نظر آیا۔ اصل میں صدقہ و زکوٰۃ اسلام کا رکن ہے اور اسلامی مملکت کے محکمہ مالیات کا ایک بہت بڑا ستون ہے۔ لہٰذا خطاکار کو معاف کرنے اور اسی کی طرف سے صدقہ و زکوٰۃ قبول کرنے سے انسان میں بہتری پیدا ہوتی ہے اور وہ برائیوں سے ہٹ کر نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے اور اللہ تو بہت مہربان، بخشنے والا، دیکھنے اور جاننے والا ہے۔ اس کو تو کوئی بھی دھوکہ نہیں دے سکتا، اس لیے جو معافی مانگے اور سچے دل سے معافی مانگے تو اس کے لیے اچھا ہے۔ اگلی آیات اسی سلسلے میں ہیں۔
Ayahs 9:104–105

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات و خیرات لیتا ہے اور بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور ان سے کہہ دو کہ عمل کیے جاؤ اللہ اس کا رسول ﷺ اور مومن سب تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے اور تم غائب و حاضر کے جاننے والے اللہ واحد کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تم کو بتا دے گا۔

اللہ توبہ قبول کرنیوالا، غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے تشریح : ان آیات میں سچے اور مخلص مومن اور منافق کا فرق بتایا گیا ہے۔ اللہ رب العزت رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ ان کا رابطہ سیدھا اللہ سے ہے وہی ان کے صدقات و خیرات قبول کرتا ہے اور وہی توبہ بھی قبول کرتا ہے۔ خیرات کا اصل مقصد اور توبہ کی سچائی، سب اللہ کو معلوم ہے۔ مگر یہاں فرمایا کہ تم عمل کرتے جاؤ اللہ، رسول اور مومنین سب تمہیں پہچان جائیں گے کہ تم سچے ہو یا کہ جھوٹے ؟ سچے کی تو توبہ قبول ہوجائے گی اور جھوٹے کی نہ توبہ قبول ہوگی نہ اس پر رحمت و برکت نازل ہوگی اور بتایا جا رہا ہے کہ مخلص اور غیرمخلص کو لوگ کیسے پہچانیں تو اس کے لیے تین نشانیاں بتائی گئی ہیں۔ مخلص مومن کا رویہ یہ ہوگا۔ 1 وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرلے گا اور ادھر ادھر کی باتیں یا ثبوت پیش نہیں کرے گا۔ 2 اس کی سابقہ زندگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ اگر اس سے پہلے کبھی وہ غیرمخلص نہ رہا ہو اور ہمیشہ بڑھ چڑھ کر رفاعی اور دفاعی کاموں میں حصہ لیتا رہا ہو اور اب جو غلطی ہوگئی تو وہ صرف انسانی کمزوری کے تحت ہوگئی ہو۔ 3 اس کے آئندہ اعمال و کردار پر کڑی نظر رکھی جائے کہ کیا واقعی وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہے اور اس کی تلافی وہ پوری کوشش سے کرتا رہتا ہے۔ گناہ کی تلافی کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات خلوص دل اور پوری خوشی سے کیے جائیں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ خبردار کر رہا ہے کہ تمہارے معاملات تو اللہ کے ساتھ ہیں اور وہ اس قدرجاننے والا ہے کہ تمہارے ظاہر عمل اور دل کی نیت سب کو اچھی طرح جانتا ہے، اس لیے انسان اپنے عمل سے لوگوں کو تو دھوکہ دے سکتا ہے مگر اللہ کو ہرگز دھوکہ نہیں دے سکتا اس کے بعد یہ بات بھی دھیان میں رکھیں کہ ہر شخص نے مرجانا ہے اور پھر اس کا ٹھکانا موت کے بعد اللہ کے پاس ہی ہوگا۔ یہ بات ایسے ہی سچی ہے جس طرح تم دنیا میں آئے اور مرگئے۔ یہاں تم نے جو کچھ کیا ہے اس کا بدلہ ٹھیک ٹھیک تمہیں ضرور دیا جائے گا۔ اس میں ہرگز شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اب تو سائنس دان بھی اس بات کے ثبوت دے رہے ہیں۔ جیسا کہ سلطان بشیر محمود صاحب اپنی کتاب ” قیامت اور حیات بعد الموت “ میں لکھتے ہیں : ” 1994 ء میں یہ ثابت ہوا کہ ایک منبع سے نکلنے والی روشنی کے دو فوٹون اگرچہ ایک دوسرے سے کروڑوں میل کی مسافت تک بھی جدا ہوجائیں ان کا کسی نامعلوم نظام کے تحت آپس میں تعلق قائم رہتا ہے۔ ہمارے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر روشنی کے ایک منبع سے جدا ہونے والے فوٹون ایک دوسرے کو نہیں بھولتے تو انسانی جسم کے ایٹمی ذرات کیسے ایک دوسرے کو بھول سکتے ہیں۔ چناچہ انہیں جب بھی مناسب ماحول ملے گا وہ دوبارہ اکٹھے ہوسکتے ہیں۔ ایک دوسرے کو باہم بلا سکتے ہیں اور اپنے پرانے ڈیزائن کے مطابق ترتیب پا کر دوبارہ باہم زندگی کا نیا سفر شروع کرسکتے ہیں، یعنی حیات بعد الموت کوئی اچنبھا نہیں بلکہ قدرت کے ڈیزائن کا ایک ضروری حصہ ہے اور یہ ہو کر رہے گا۔ “ اس حقیقت کو قرآن پاک میں بہت دفعہ بیان کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ فرماتا ہے : ” اور اسی کے پاس ہے علم قیامت کا اور تم سب اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے۔ “ سورة زخرف آیت : (85) صرف یہی نہیں کہ ہم دوبارہ زندہ ہی کیے جائیں گے بلکہ ہمارے اعمال بھی ہمارے سامنے موجود ہوں گے۔ قرآن پاک میں بار بار یہ بھی کہا گیا ہے کہ غور و فکر کرو اور زمین و آسمان کی حقیقت کو سمجھو۔ حساب کتاب کی وضاحت میں سلطان بشیر محمود صاحب جو کہ بڑے سائنس دان اور عالم دین ہیں سائنس کی روشنی میں ثابت کرتے ہیں اور وہ لکھتے ہیں : ” ریکارڈ اور یادداشت کے سلسلے میں ایک اور سائنسی اصول سبب اور اثر (Cause and Effect) کا ہے۔ ہر اثر اپنے اندر اپنے سبب کی یادداشت محفوظ رکھتا ہے۔ اسی لیے اثرات کے تجزیہ سے اس کے اسباب تک پہنچا جاسکتا ہے بلکہ آئے دن سائنسی دنیا یہی کچھ کر رہی ہے۔ مثلاً فضا میں جو ایٹمی ذرات اور شعائیں ہیں ان سے پندرہ بیس ارب سال پہلے ہونے والے کائنات کی تخلیق کے واقعات کا پتہ چل رہا ہے۔ پولیس مجرموں کے اپنے چھوڑے ہوئے نشانات کی مدد سے ان کے جرم تک پہنچ جاتی ہے۔ ان مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہم بھی جو عمل کرتے ہیں، خواہ سا نس لینے کی عام بات ہی کیوں نہ ہو ماحول پر اپنے مستقل اثرات چھوڑ رہے ہیں اور حساس آلات کی مدد سے ہزاروں سال بعد بھی ان اثرات کے تجزیہ سے ان کی تہہ تک پہنچا جاسکتا ہے۔ “ پھر لکھتے ہیں کہ زمین جس پر ہم چلتے ہیں، ہوا جس میں ہم سانس لیتے ہیں، پانی جس سے ہم پیاس بجھاتے ہیں، لباس جو ہم پہنتے ہیں، غرض ہمارے اردگرد ماحول کا ذرہ ذرہ ہماری حرکات و سکنات کو ریکارڈ کر رہا ہے۔ ہماری آوازوں کو محفوظ کر رہا ہے۔ ہمارے اعمال کی تصویر کھینچ رہا ہے اور وقت آنے پر سب کچھ کھول کر رکھ دے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اس دن ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور باتیں کریں گے ہاتھ ان کے اور گواہی دیں گے پائوں ان کے اس پر کہ جو وہ کماتے تھے۔ “ ) سورة یٰسین آیت : (65 عالم غائب کی یہ تمام باتیں جو 14 سو سال پہلے قرآن نے ہمیں بتائی ہیں اور آج کا ترقی پذیر سائنس دان اس کی وضاحت اور یقین کر رہا ہے تو کیا یہ سب ایک عقل سمجھ رکھنے والے انسان کے لیے کافی نہیں ؟ جب ایک بندہ ان تمام باتوں سے یعنی مرنے کے بعد حساب کتاب کے لیے اللہ کے سامنے پیشی سے اچھی طرح واقف ہوجاتا ہے تو پھر وہ کس طرح رب سے منکر ہوسکتا ہے اور کس طرح برے اعمال کرسکتا ہے۔ یہ تو ہم مسلمانوں کی خوش نصیبی ہے کہ ہمیں اس امتحان کی تیاری کے لیے بہت پہلے سے بتا دیا گیا ہے بلکہ باربار یاد کروایا جاتا ہے کہ تمہارا امتحان ضرور ہوگا اور وہ امتحان کمرئہ ِ امتحان میں نہیں بلکہ اس دنیا میں کیے گئے اعمال کا نتیجہ سنایا جائے گا۔ امتحان گاہ تو یہ دنیا اور یہاں گزارا ہوا وقت ہے۔ معمولی سی بات ہے جب کسی شخص کو کسی امتحان کی تیاری کرنی ہوتی ہے تو وہ زیادہ محنت اس لیے کرتا ہے کہ اس کا نتیجہ امتحان پر ہوگا۔ اگر یہ معلوم ہوجائے کہ پر موشن یا سند بغیر امتحان کے مل جائے گی تو انسانی فطرت ہے کہ پھر وہ تیاری زیادہ توجہ سے نہیں کرے گا۔ مگر ہمیں تو یہ بتا دیا گیا ہے کہ تمہیں دنیا میں بےمقصد نہیں بھیجا گیا تمہارا قیام یہاں عارضی ہے تم ضرور مرجاؤ گے پھر ضرور قیامت آئے گی تم اللہ کے سامنے ضرور پیش ہو گے تمہارا حساب کتاب ضرور ہوگا اور اس کے مطابق تمہیں سزا یا جزا ضرور ملے گی۔ اللہ فرماتے ہیں : ” ہم ان لوگوں سے ضرور باز پرس کریں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے اور ہم پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے۔ پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ان کے سامنے سب کچھ بیان کردیں گے، آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے۔ اور (اعمال کا) وزن اس روز عین حق ہوگا، پھر جس کسی کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی لوگ پورے کامیاب ہوں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو وہ وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے خود اپنا نقصان کرلیا، کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتائو کرتے تھے۔ “ ( سورة الاعراف آیات 9-6)
Ayahs 9:106–110

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں کہ ان کا معاملہ اللہ کے حکم آنے تک رکا ہوا ہے خواہ وہ ان کو عذاب دے یا ان کو معاف کر دے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور ان میں سے ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنائی ہے کہ ضرر پہنچائیں، کفر کریں اور مؤمنوں میں تفرقہ ڈالیں اور جو لوگ اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لیے گھات کی جگہ بنائیں اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصد تو صرف بھلائی تھا مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

تم اس مسجد میں جاکر کبھی کھڑے بھی نہ ہونا، البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے (اس قابل ہے کہ اس میں جایا کرو اور نماز پڑھایا کرو۔ ) اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے۔

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی ہو وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی ہو کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں بےچینی کا سبب بنی رہے گی اور ان کو پریشان رکھے گی۔ مگر یہ کہ ان کے دل پاش پاش ہوجائیں اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

منافقین کا منصوبہ اور ان کی سزا تشریح : آیت 106 کا سلسلہ پچھلی آیات سے چل رہا ہے۔ غزوئہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین طرح کے لوگ تھے۔ ایک منافقین جن کی تعداد اسی (80) سے کچھ زائد تھی۔ دوسرے ابو لبابہ اور آپ کے چھ ساتھی، جنہوں نے آپ ﷺ سے سوال و جواب سے پہلے ہی اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا تھا۔ تیسرے کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھی۔ جیسا کہ پچھلی آیات سے منافقین کا ذکر چلا آرہا ہے تو یہاں بھی انہی کی سازش کا ذکر ہو رہا ہے اس کا تعلق ابوعامر نصرانی سے ہے اس نے مسجد قباء کے قریب ہی ایک مسجد بنائی اس مقصد کے لیے کہ وہاں بیٹھ کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بنائے جائیں۔ مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کیا جائے تاکہ مسجد قباء کے نمازی دو حصوں میں بٹ جائیں اور تیسرا مقصد یہ تھا کہ دشمنان اسلام کو یہاں پناہ دی جائے۔ کیونکہ یہ مسجد بنائی ہی غلط کاموں کے لیے گئی تھی اس لیے اس کا نام ہی مسجد ضرار لیا گیا ہے۔ ابو عامر نے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ آپ برکت کے لیے وہاں نماز پڑھا دیں۔ آپ ﷺ اس وقت غزوئہ تبوک کی تیاری میں مصروف تھے تو آپ ﷺ نے واپسی پر نماز پڑھانے کا وعدہ کرلیا۔ غزوئہ تبوک سے واپسی کا ارادہ کیا تو وحی کے ذریعہ اللہ نے مسجد ضرار کی شرارت اور منافقین کی بدنیت کا بتا دیا، لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کو گرا دیا جائے اور منافقوں کی قسموں کا بالکل خیال نہ کیا جائے۔ بلکہ اللہ رب العزت نے اس مسجد میں نماز پڑھنے کی تلقین کی جو نیک مقصد کے لیے نیک اور پاک لوگوں نے بنائی تھی۔ جس مسجد میں متقی، علماء اور صلحا نماز پڑھیں اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی جبکہ مسجد ضرار کو ناپائیدار کہا گیا ہے اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے دریا کے کٹائو کے اوپر کھوکھلی جگہ پر تعمیر کی گئی ہو جو تھوڑی ہی دیر میں گر جائے اور اس کی مذمت میں کہا گیا ہے کہ وہ گر گئی اور جہنم رسید ہوئی۔ اور یوں اللہ رب العزت نے منافقین کے سارے منصوبے خاک میں ملا دیے اور ناکام ہونے پر ان کی دشمنی، حسد اور بغض کچھ اور زیادہ ہوگیا اور پھر یہ بڑھتا ہی چلا گیا یہاں تک کہ حسد بغض سے ان کے دل پھٹ پڑے اور مرنے پر ہی حسد کا خاتمہ ہوا۔ یہ جو کچھ بھی واقعات ہوئے اللہ کے علم میں تھے کیونکہ وہ علیم و حکیم ہے۔ جاننے والا ہے اور حکمت والا ہے۔ ہر چیز اس کے علم میں ہے اور ہر کام اس کی حکمت سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے :” زمین میں چلنے والا کوئی جاندار اور ہوا میں اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں جو تمہاری ہی طرح ایک امت نہ ہو اور ہم نے اپنی کتاب میں کسی کے اندراج سے کوتاہی نہیں کی۔ پھر وہ سب اپنے رب کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے۔ “ (سورۃ الانعام آیت 38)
Ayahs 9:111–112

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں اور اس کے بدلے میں ان کے لیے بہشت تیار کی ہے۔ یہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں۔ یہ تورات، انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ وعدے کا پورا کرنے والا کون ہے ؟ تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک کاموں کا حکم دینے والے، بری باتوں سے منع کرنے والے اور اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے یہی مومن لوگ ہیں اور (اے پیغمبر ! ﷺ مؤمنوں کو بہشت کی خوشخبری سنا دو

مؤمنوں کے اوصاف اور ان کو خوشخبری تشریح : جب ہم ان آیات کو پڑھتے ہیں تو ہمارے سامنے ایک ایسے مسلمان کی تصویر آجاتی ہے جو ناقابل تسخیر ہے کیونکہ اس نے اپنا سب کچھ رب العالمین کے سپرد کر رکھا ہے۔ اس کی زندگی، موت، اٹھنا، بیٹھنا، سونا جاگنا، کھانا پینا، چلنا پھرنا سب کچھ اللہ کی رضا کے لیے وقف ہوچکا ہے۔ اس لیے وہ قرآن کو اپنی زندگی بنا لیتا ہے۔ دنیا کی تمام آسائشیں اس کو ایک پل کے لیے بھی اللہ، رسول اور قرآن سے دور نہیں کرسکتیں وہ دنیا و دین دونوں کو ساتھ ساتھ لیکرچلتا ہے اسی لیے اس کو مرنے کے بعد جنت کی خوشخبری دی گئی ہے اور دنیا میں وہ ہر قسم کے غم و فکر اور الجھن سے دور رہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے اللہ جو کر رہا ہے اچھا ہی کر رہا ہے۔ اس کو اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ سے محبت ہوتی ہے جب وہ اس کا کلام پڑھتا ہے تو اس کا دل پگھل جاتا ہے ایک سرور اور مستی اس پر چھا جاتی ہے۔ جیسا کہ ” مطالعہ قرآن “ میں ہے کہ حضرت عمر ؓ فجر کی نماز پڑھا رہے تھے جب سورة یوسف کی آیت 86 پر پہنچے جس کا ترجمہ یہ ہے : ” اس نے کہا میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا۔ “ تو حضرت عمر ؓ ہچکیوں سے رونے لگے۔ قرآن پاک کی تمام آیات ہی حکمت الٰہی کی نشانیاں ہیں اسی لیے تو حکم دیا گیا ہے کہ قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو اس پر غور کرو اور عمل کرو دوسروں کو سکھائو کیونکہ یہ زندگی سے اندھیرے ختم کرکے زندگی کو روشن، آسان اور پرسکون بناتا ہے۔ اور آخرت میں انسان اس کی برکت سے جنت حاصل کرتا ہے۔ بندئہ مومن کی تعریف ڈاکٹر علامہ اقبال نے یوں کی ہے۔ ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان اسی طرح ” گلستان قناعت “ میں محمد موسیٰ روحانی (رح) تعالیٰ لکھتے ہیں۔ ” اہل اللہ کی زندگی بڑی عجیب و غریب ہوتی ہے ذکر اللہ اور حب آخرت کی وجہ سے وہ دنیاوی تکالیف و مشقتوں کے باوجود مطمئن رہتے ہوئے ان کے دل بہار بےخزاں سے ہم آغوش ہوتے ہیں۔ وہ ظاہری طور پر دنیا میں ہوتے ہیں مگر ان کی روح اللہ کی صفات جلالیہ و جمالیہ کی سیر میں لگی رہتی ہے۔ “ ایسے ہی سچے اور پکے مومنین کے لیے رب العالمین نے جنت کی خوشخبری دی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی دنیا بھی جنت اور ان کی آخرت بھی جنت ہوتی ہے۔ یا اللہ ہمیں بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل کرنا۔ “ آمین۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ سے یہی دعا مانگی : ” اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر کیا کروں جو تو نے مجھے اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی ہیں اور یہ کہ مجھے نیک کاموں کی توفیق دے جو تجھے پسند ہوں اور مجھے اپنی خاص مہربانی سے اپنے (اعلیٰ درجہ کے) بندوں میں شامل کرلیجئے۔ “ ) سورة نمل آیت : (19
Ayahs 9:113–114

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

نبی اور مسلمانوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا مانگیں جبکہ ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔ بیشک ایسے لوگ ان کے قرابتدار ہی کیوں نہ ہوں۔

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کی وجہ سے تھا جو وہ اس سے کرچکے تھے لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل مزاج تھے۔

مشرکوں کے لیے دعا کی ممانعت تشریح : جیسا کہ اس سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع کیا گیا تھا اسی طرح یہاں مسلمانوں کو اور نبی اکرم ﷺ کو کفار و مشرکین اور منافقین کے لیے بخشش کی دعا کرنے سے منع کردیا گیا ہے اس آیت کا شان نزول صحیح بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ آپ ﷺ کے چچا ابوطالب آپ ﷺ کے مشفق، مہربان اور انتہائی عزیز چچا تھے مگر اسلام قبول نہ کیا جب وہ مرنے کے قریب ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے انکو کلمہ پڑھنے کے لیے بہت کہا تاکہ بخشش ہوجائے مگر ابوجہل وغیرہ نے بڑی مخالفت کی، لہٰذا وہ کلمہ پڑھے بغیر ہی فوت ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا بہت دکھ ہوا تو انہوں نے کہا کہ اچھا جب تک مجھے اللہ کا حکم نہ آگیا میں آپ (چچا) کے لیے مغفرت کی دعا ضرور کرتا رہوں گا۔ لیکن کیونکہ یہ اللہ کی مرضی کے خلاف تھا کہ مشرک کے لیے مغفرت کی دعا کی جائے، اس لیے اللہ رب العزت نے صاف صاف حکم نازل فرما دیا کہ جہنمی شخص کے لیے ہرگز کوئی بھی مغفرت کی دعا نہ کرے۔ اس کی زندگی میں اللہ سے دعا کی جاسکتی ہے کہ اللہ اس پر فضل کرے اور اس کے دل کو ایمان کی طرف پھیر دے لیکن جب وہ نہ مانے اور کفر و شرک کی غلاظت کے ساتھ ہی مرجائے تو پھر اس کا ٹھکانا جہنم ہے جو کہ اللہ کی طرف سے مقرر کیا جا چکا ہے اور اس سزا کے لیے کسی کی سفارش کام نہیں آسکتی لہٰذا اس کی مغفرت کی دعا سے نبی ﷺ اور مسلمان سب بری ہیں یعنی منع ہے کیونکہ یہ اللہ کے قانون کے خلاف ہے۔ اس پر کچھ مسلمانوں کو خیال ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی تو اپنے باپ کی مغفرت کے لیے دعا کی تھی تو اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔ جس میں اس بات کی وضاحت کردی گئی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب والد کو بہت سمجھایا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ اچھا میں اللہ سے دعا کرتا ہوں وہ آپ کو ہدایت دے لیکن جب ان کے والد کفر کی غلاظت سے نہ نکل سکے اور فوت ہوگئے تو پھر ان کے باپ کا دوزخی ہونا یقینی ہوگیا تب انہوں نے دعائے مغفرت باپ کے لیے بند کردی تھی۔ حالانکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بےحد نرم دل اور متحمل مزاج تھے مگر کیونکہ کفار اور مشرکین ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے اس لیے اس کی مغفرت کی دعا اللہ کے کام میں دخل اندازی ہوجاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ سے وعدہ بھی کیا تھا کہ میں آپ کے لیے دعا کروں گا۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ باپ کفر کی حالت میں ہی مرگیا ہے تو پھر وہ اس سے بیزار ہوگئے اور ان کے معاملہ کو اللہ کے سپرد کرکے خود ان کے معاملہ سے بری ہوگئے، یعنی مغفرت کی دعا نہ کی۔ اس لیے اللہ رب العزت نے مشرک، منافق، کافر اور فاسق کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا سے منع کردیا، کیونکہ ان لوگوں کے لیے جہنم کا عذاب ضروری کردیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے : ” اس روز تم مجرموں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں ہاتھ پائوں جکڑے ہوئے ہوں گے تارکول کے لباس پہنے ہوئے ہوں گے۔ اور آگ کے شعلے ان کے چہروں پر چھائے ہوئے ہوں گے یہ اس لیے ہوگا کہ اللہ ہر جہنمی شخص کو اس کے کرتوت کا بدلہ دے گا بیشک اللہ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ “ ( سورة ابراہیم آیات : 51-50-49)
Ayahs 9:115–116

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور اللہ ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک ان کو وہ چیز نہ بتا دے جس سے وہ پرہیز کریں۔ بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔ وہی زندگی بخشتا ہے، وہی موت دیتا ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مددگار اور دوست نہیں ہے۔

جان بوجھ کر کفر کرنا گمراہی ہے تشریح : ان آیات کا تعلق کچھ حدتک پچھلی آیات سے ہے اور کچھ آنے والے سبق سے ہے۔ کفار کے لیے مغفرت کی دعا کرنے سے منع کیا گیا تو اس پر کچھ صحابہ کو فکر ہوئی کہ ہم تو اپنے مشرک رشتہ داروں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے رہے ہیں۔ اس پر اللہ رب العزت نے بتایا کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے وہ کسی کو اس بات پر سزا نہیں دیتا جس کے لیے اس نے منع نہ کیا ہو۔ اللہ پکڑ اس بات پر کرتا ہے جو اس نے بتا دی ہو اور انسان اس کے خلاف عمل کرے یا اس کو جان بوجھ کر نہ مانے تو پھر اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔
Ayahs 9:117–119

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

بیشک اللہ نے مہربانی کی پیغمبر پر مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھرجانے کو تھے۔ مشکل گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے پھر اللہ نے ان پر مہربانی کی بیشک وہ ان پر نہایت مہربان اور شفقت کرنے والا ہے۔

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا یہاں تک کہ جب زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں (ناک میں دم آگیا) اور انہوں نے یقین کرلیا کہ ان کے لیے کوئی پناہ نہیں پھر اللہ نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اللہ سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ رہو۔

سیدنا کعب بن مالک اور ان کے ساتھیوں کا واقعہ تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھ غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنے والے صحابہ کرام پر رجوع کا تذکرہ ہے اور اس کے بعد ان صحابہ کا جو غزوہ تبوک میں شامل نہ ہوئے تھے جو کہ سچے مسلمان تھے جنہوں نے صاف صاف بتا دیا نبی کریم ﷺ کو جب وہ ﷺ جنگ سے واپس آئے جبکہ منافقین نے طرح طرح کے بہانے پیش کیے، سوائے ان تین حضرات کے ان کے نام یہ ہیں۔ 1 کعب بن مالک ؓ 2 ہلال بن امیہ ؓ 3 مرارہ بن ربیع ؓ ان کو آپ ﷺ نے کہا کہ تمہاری معافی بعد میں ہوگی۔ اور اعلان کردیا کہ ان تینوں سے سب لوگ سوشل بائیکاٹ کردیں۔ یہ بائیکاٹ 50 دن جاری رہا اس میں وہ تینوں سخت پریشان ہوئے مگر اپنی غلطی پر پشیمان ہوتے رہے اور توبہ و استغفار کرتے رہے، بالآخر ان کی معافی کا حکم آگیا اور انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس تمام واقعہ سے بہت سی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے تو ان کی ثابت قدمی اور ندامت پر پریشانی پھر مسلمانوں کے حکم ماننے کی مثال ملتی ہے۔ اخلاقی سربلندی، ایک طرف، اللہ کی رحمت ایک طرف سزا۔ سزا ملنے پر عاجزی، انکساری اور ندامت اور پھر ہر صورت میں سزا کو بھگتنے کا پکا ارادہ، جب بادشاہوں کا بادشاہ مالک کون و مکان، قادر مطلق زندگی اور موت کا مالک اس طرح کے اپنے فرمانبردار مخلص، متقی اور پرہیزگار بندوں کو آزماتا ہے تو آخر میں وہی تو ہے جو ان پر اپنی رحمت کرسکتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کے لیے کس قدر پیارے اور شفقت بھرے الفاظ استعمال کئے۔ فرماتا ہے ” ہم ان کی طرف پلٹے تاکہ وہ ہماری طرف پلٹ آئیں۔ “ اللہ تعالیٰ بےحد رحیم و کریم ہے مگر وہ پکڑتا بھی ہے اور اس کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ جو غلطی پر عاجزی سے معافی مانگتے ہیں ان کو معاف فرماتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کو معاف کردیا جب انہوں نے خود ہی منافقین کو جہاد پر نہ جانے کی اجازت دے دی اور پھر مہاجرین و انصار جنہوں نے ہر مشکل میں آپ کا ساتھ دیا مگر جب ان سے کوتاہی ہوئی جہاد میں شامل ہونے پر تو ان کو معاف فرما دیا اور پھر ان تینوں صحابہ کو بھی معاف فرما دیا۔ معاف کرنا، رحم کرنا، بخش دینا، فضل و کرم اور مہربانی کرنا یہ سب اس کی صفات ہیں جو مالک ِکل جہاں ہے، جو واحد ہے، ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا۔ اس لیے تمام مسلمانوں کو کہا جاتا ہے کہ اللہ کا ڈر اور خوف ہمیشہ اپنے دلوں میں پیدا کرو ہمیشہ نیکی کی راہیں اختیار کرو۔ نیکی کا سبق دو کبھی غلطی ہوجائے تو فوراً معافی مانگ لو۔ وہی تو ہے جو زندگی دیتا ہے موت دیتا ہے تمام فضل و کرم اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ بڑا مہربان بخشنے والا ہے۔ ان آیات میں اللہ کی شفقت اور مسلمانوں کی ثابت قدمی ایمان کی مضبوطی ان کا اتحاد اور فرمانبرداری کی بہترین تصویر ملتی ہے۔ اور پھر ایسی صالحہ قوم کی مثال دی جا رہی ہے جس کو قرآن پاک اور اللہ تعالیٰ پوری دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے۔