Ayahs 9:120–121سچائی کی قدر اور اس کا اجر
تشریح : ان آیات میں مومنین کو خواہ وہ عرب کے شہری ہوں یا دیہاتی ہوں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ملکر کفر و شرک کو مٹانا چاہیے یہ خود ان کے لیے اجر وثواب کا باعث ہوگا۔ کیونکہ اللہ کی راہ میں اٹھا ہوا ہر قدم، ہر سانس اور ہر عمل چاہے وہ معمولی ہو یا بڑا ہو نیکی میں شمار ہوتا ہے اور اس کا بدلہ ہر صورت ضرور ہی دیا جاتا ہے یہی اللہ کا دستور ہے اور یہی اس کا وعدہ ہے۔ اور اس کا وعدہ سچا ہے اور پکا ہے۔
Ayah 9:122دینی علم سیکھنے کا حکم
تشریح : اس آیت میں یقینا علم کی برکات کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ اسی سورت کی آیت میں دیہاتی لوگوں کی کم علمی کا ذکر کیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ روح اسلام سے ناواقف تھے بس ظاہری مضبوطی اور پھیلائو جو انہوں نے اسلام کا دیکھا تو نام کے مسلمان ہوگئے اس تعلیمی کمی کو پورا کرنا بہت ضروری تھا۔ اسی لیے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ دیہاتوں کے مختلف قبیلوں کے کچھ لوگ شہر میں آئیں علم و ادب سیکھیں اور پھر واپس جاکر اپنے لوگوں کو علم و ادب سکھائیں بجائے اس کے کہ سب لوگ ہی شہر میں آجائیں۔ جیسا کہ قرآن پاک کا سب سے پہلا مقصد اور طریقہ یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کچھ مخصوص اور فائدہ مند ضروری اصول و قوانین بتا دیتا ہے اسی طرح علم و ادب کو پھیلانے کا بہترین طریقہ بتا دیا، یعنی ایک شخص علم میں استاد ہوجائے اور پھر وہ اپنے متعلقہ بہت سے لوگوں کو وہی علم سکھائے تو یوں بیشمار لوگ کم مشقت سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ معلوم یہی ہوتا ہے کہ اس طرح قرآن پاک نے درس و تدریس کے لیے مدرسہ سسٹم کا حکم دیا ہے۔ اس طرح علم کی روشنی جو کہ قرآن پاک سے ہی پھوٹتی ہے۔ جگہ جگہ پھیل جائے۔ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ ایک ایسا عمدہ تحفہ دیا ہے کہ جو تمام علوم سے بھرا پڑا ہے پیدائش سے لیکر مرنے تک اور پھر مرنے کے بعد تک آسمان و زمین کی ہر چیز کی حقیقت فائدہ اور استعمال اللہ نے اس میں بیان کردیا ہے اور سب سے بڑی بات کہ ہمیں اس ذات باری تعالیٰ سے معتارف کروا دیا کہ جس نے ہمیں پیدا کیا، پرورش کیا، ہمارے لیے اتنی بڑی کائنات بنا دی کائنات کا ہر ذرہ ہمارے لیے مسخر کردیا، پھر مر کر اسی کے پاس چلے جائیں گے اور وہاں جانے کی تیاری کا طریقہ بھی سکھا دیا۔ مسلمانوں کے طریقے اتنے ارفع و اعلیٰ ہیں کہ صحرائے عرب سے ایک امی اٹھا جو کتاب و حکمت کا معلم تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور پھر یہ چھوٹی سی جماعت قرآن کی روشنی اور اللہ کے فضل سے مغرب میں سپین ہو کہ سسلی، مشرق میں ایران ہو کہ توران، چین ہو کہ جاپان شمال و جنوب غرض ہر طرف پھیلتی چلی گئی اور دنیا کو ہر قسم کے علوم و فنون سے متعارف کروا دیا۔ جہالت کا پردہ چاک کردیا اور ہر طرف نور ایمان کی روشنی میں راست بازی، رحمدلی، رواداری، عبادت، طہارت، آزادی، سماجی انصاف، ہمدردی، امن و سکون اور عام خوشحالی کا دور دورہ ہوگیا اور پھر بڑے بڑے علماء پیدا ہوئے جیسے امام مالک، امام احمد بن حنبل، امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام بخاری، امام مسلم، امام ابو داؤد، امام ترمذی، امام نسائی، امام ابن ماجہ، وغیرہ رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمین۔ جنہوں نے حدیث اور فقہ کے موضوع پر کتابیں لکھیں کہ لوگ عین دین اسلام کے مطابق زندگی بسر کرسکیں۔
مسلمانوں میں سائنس دانوں کی ایک عظیم جماعت تیار ہوئی مثلاً البیرونی طبیعات کے ماہر تھے۔ جابر خراسانی ریاضی کے ماہر تھے۔ کیمیا میں عمر خیام، ریاضی میں ابن سینا نے اسی طرح حیاتیات اور طب میں ایسی ایسی معلومات اور ایجادات کیں کہ جدید سائنس کی تمام ایجادات انہی کی مرہون منت ہیں۔ غرض اسلام عقلی، فطری اور مکمل مذہب ہے اس کی تعلیمات انسانی عقل و فہم کو بلند ترین منزلوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنیں۔ جب یہ سب کچھ اس قدر مفید ہے اور آسان بھی تو پھر کیوں نہ اس کی تعلیمات کو ہر گائوں، بستی، قصبہ، شہر، ملک اور دنیا میں پھیلایا جائے اور پھیلانے کا طریقہ مدرسہ سسٹم ہی بہترین ہے۔ وہاں سے ہر سمجھ، عقل اور رجحان رکھنے والا اپنا اپنا راستہ متعین کرکے جدوجہد کرسکتا ہے یہ نہیں کہ سب ہی عالم دین بن جائیں، مجاہد بن جائیں، تاجر بن جائیں، سائنس دان بن جائیں، ڈاکٹر بن جائیں بلکہ ہر شعبہ اپنے خاص مزاج کے مطابق اختیار کرکے اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلتے ہوئے اللہ کی رضا حاصل کریں اور اپنی زندگی کو اپنے لیے اور بندگان خدا کے لیے فائدہ مند اور کامیاب بنائیں۔ اللہ کا خوف اپنے دلوں میں پیدا کریں اور لوگوں کو بھی اس سے متعارف کرائیں کیونکہ انسان کی زندگی کا ہر لمحہ ہر قدم اور ہر منزل خوفِ الٰہی سے ہی آسان اور کامیاب ہوسکتی ہے۔ وہی منزلیں آسان کرتا ہے اور وہی بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ ہر شخص ہر وقت جہاد کرتا ہے کیونکہ جو بھی ذمہ داری اس کے سپرد کی گئی ہے وہ اس کو اللہ کی رضا سمجھ کر پوری ایمانداری، محنت اور لگن سے کرے اس کا ہر قدم جہاد میں شامل ہوگا۔ ہاں اگر ملک پر کوئی ایسی مشکل پڑجائے کہ ہر فرد کو میدان جنگ میں آنا پڑے جیسا کہ غروئہ تبوک میں ہوا تو پھر سب اس محاذ پر جمع ہوجائیں ورنہ اپنے اپنے محاذ پر ڈٹے رہیں۔ استاد علم پر، ڈاکٹر طب پر، سائنس دان تحقیقات پر، عالم دین مذہب پر، غرض جو جس کام پر لگا ہوا ہے اس کو اچھی طرح سنبھالے۔ اس شعبہ کے متعلق پوری طرح علم حاصل کرے اور ایک مکمل انسان کی حیثیت سے اپنا کام سنبھالے۔ حدیث ہے۔ حضرت ابوسعید الخدری ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” جس طرح مجھے میری امت پر فضیلت حاصل ہے اسی طرح عالم کو عابد (جو عالم نہ ہو) پر فضیلت حاصل ہے۔ “
اس لیے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ اصل علم دین کا علم ہے اگر وہ کسی کو معلوم نہیں حتٰی کہ اگر کسی کو اسلام کے بنیادی قواعد بھی نہیں آتے تو وہ جاہل ہے دنیاوی علوم میں جتنا بھی ماہر ہو، دین کا علم ہی اصل فضیلت رکھتا ہے جس کی اس آیت میں حاصل کرنے اور اس کی تبلیغ کی تلقین کی گئی ہے۔ دنیاوی علوم ہنر کی حیثیت رکھتے ہیں اور انہیں دینی علوم کے معاون کہہ سکتے ہیں اس لیے پہلے دین کا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔
” اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں نیکی اور آخرت میں بھی نیکی دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ “ ) سورة بقرہ آیت (201
Ayah 9:123کفار سے لڑنے کے لیے جنگی اصول
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیت میں درس و تدریس کے قاعدے قانون سمجھائے گئے ہیں تو اب اس آیت میں حرب و ضرب (جنگ) کا بہترین اصول مؤمنوں کو بتایا جا رہا ہے۔ اپنی آزادی، اسلام کی سربلندی، اہل و عیال، شہر اور ملک کی حفاظت ہر مومن کا فرض ہے۔ یہاں اس جنگ کا اصول بتایا جا رہا ہے کہ اپنی قوت اپنے اردگرد کے ماحول کو زیر کرکے آہستہ آہستہ بڑھائو۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے سب سے پہلے مدینہ کے اردگرد کے قبائل بنو قریظہ، بنو نضیر وغیرہ کا بندوبست کیا جب ریاست کچھ مضبوط ہوئی تو پھر مکہ، طائف، یمن، یمامہ، ہجر، خیبر، حضرموت وغیرہ کو مغلوب کرلیا۔ پھر عرب کے تمام قبائل جوق در جوق اسلام میں شامل ہونے شروع ہوگئے یوں مسلمان مضبوط سے مضبوط تر ہوتے گئے جنگی تدابیر میں سب سے پہلی اور ضروری یہی تدبیر ہے۔ اس کے بعد 9 ھ میں رومیوں سے جنگ کرنے کے لیے تبوک تشریف لے گئے۔ علیٰ ھذا القیاس اس تدبیر کے تحت خلفائے راشدین نے روم کے عیسائیوں اور ایران کے مجوسیوں سے جنگ کی۔ دوسری تدبیر جو جنگ میں اختیار کرنی چاہیے وہ ہے ثابت قدمی، یقین محکم، توکل علی اللہ، بہادری اور جوش و جذبہ۔
جنگ کے وقت اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرو۔ اللہ پر بھروسہ، مقصد میں سچائی جس قدر زیادہ ہوگی اسی قدر اللہ کی مدد اور جنگ میں کامیابی زیادہ ہوگی اتنے زور و شور سے جنگ کرو کہ تمہاری بہادری اور جرأت کا رعب دشمنوں کے دلوں پر بیٹھ جائے۔ سخت گیر ہو کر بےدریغ لڑو۔ یہی مسلمان کی صفت ہے۔ کیونکہ وہ اپنے ہر کام میں اللہ کی مرضی اور خوشنودی کا طلب گار ہوتا ہے اور یہی تقویٰ ہے۔ ایمان اس کی منزل مقرر کرتا ہے اور تقویٰ اس کے دل میں اللہ کا خوف پیدا کرتا ہے۔ یہ دونوں صفات اس کے اندر اقامت دین کے لیے جدوجہد، بےخوفی، بہادری اور محنت و مشقت کی طاقت پیدا کرتی ہیں۔ اسی کا نام جہاد ہے اور جہاد میں مومن فولاد ہوتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے :
” اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ “ ( سورة حج آیت 78)
مجاہد کا مقصد ” ایمان کی سربلندی “ ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ مجاہد کے دو ہی رتبے ہوتے ہیں ” شہید یا غازی “ اور یہ دونوں ہی بہترین درجہ کے رتبے ہیں۔
Ayahs 9:124–127وحی کے نزول پر منافقوں کے تبصرے
تشریح : ان آیات میں منافقین کی سوچ کے بارے میں بتایا گیا ہے یہ موجودہ سوسائٹی میں بھی واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ عہد رسالت میں جب وحی نازل ہوتی تو منافق لوگ بجائے اس کو سمجھنے اور سبق حاصل کرنے کے الٹا مذاق اڑاتے کیونکہ ان کی عقل سمجھ اتنی نہ تھی کہ وہ وحی الٰہی اور اس کے بہترین اثرات کو سمجھ سکتے جو مومنین کے دلوں پر ہوتے۔ مومنین جیسے جیسے کلام الٰہی سنتے ہیں۔ ان کے دل نور ایمان سے اور بھی روشن ہوجاتے ہیں اور ان کا رابطہ اللہ کے ساتھ اور بھی مضبوط ہوجاتا ہے اور اپنے ایمان و یقین کے انعامات ان پر اور بھی واضح ہوجاتے ہیں اور وہ زیادہ سکون اور یقین کے ساتھ اللہ کی فرمانبرداری میں لگ جاتے ہیں۔ جبکہ منافقین کے دل کا مرض، گناہ و نافرمانی، کفر و شرک کی غلاظت کچھ اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایسے لوگ نہ تو روشنی دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی دل کو صاف کرتے ہیں، اس لیے ان کے دلوں پر کفر و شرک کی غلاظت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہوشیار کرنے کے لیے سال میں ایک یا دو بار مصیبت میں مبتلا ضرور کرتے ہیں کہ شاید یہ منافق لوگ توبہ کرلیں اور نیکی اختیار کرلیں۔ مگر یہ لوگ بالکل بگڑ چکے ہیں اور ہرگز نصیحت حاصل کرنا نہیں چاہتے۔ ان کا حال تو یہ ہے کہ جب بھی وحی نازل ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اعلان کرتے تاکہ سب کو اکٹھا کرکے اللہ کا کلام سنا دیں۔ تو یہ لوگ اپنی منافقت چھپانے کے لیے جاتے ضرور مگر نہ دھیان سے سنتے اور نہ وہاں زیادہ دیر ٹھہرتے بلکہ فوراً ہی نظر بچا کر وہاں سے کھسک جاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے خبیث فطرت لوگ کبھی بھی کسی اچھی اور پاک محفل میں بیٹھ ہی نہیں سکتے کیونکہ ان کو نہ تو نیکی سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی ان کا دل ہی مانتا ہے۔ اس لیے کہ وہ عقل کے اندھے ہوتے ہیں اور اسی اندھیرے میں وہ خوش ہوتے ہیں تو اللہ بھی ناراض ہو کر ان کے کفر اور اندھیرے میں اضافہ کردیتا ہے۔
Ayahs 9:128–129رسول اللہ ﷺ کے اوصاف اور اللہ کے کافی ہونے کی دلیل
تشریح : سورة توبہ میں جہاد کے احکامات، مشرکین اور اہل کتاب کے متعلق بیشمار احکامات دیے گئے ہیں مگر آخر میں شان رسول ﷺ بیان کی گئی ہے۔ سب سے پہلے تو منافقین کا شک دور کیا گیا ہے جو وہ اکثر اعتراض کے طور پر کہتے کہ یہ تو ہماری طرح انسان ہیں یہ پیغمبر کیسے ہوسکتے ہیں ؟ اگر یہ ہمارے درمیان سے نہ چنے جاتے تو یہ انسانوں کو تربیت کیسے دے سکتے تھے مگر وہ اخلاق کردار کی صورت میں عام انسانوں سے بہت بلند تھے ان کی چار صفات کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔
(i) اللہ نے آپ ﷺ کو بہترین انسان بنایا تاکہ لوگوں کے لیے نمونہ اور مثال بن سکیں۔
(ii) انسانی ہمدردی ان میں بہت زیادہ تھی۔ کسی کی تکلیف پر پریشان ہوجاتے تھے۔
(iii) ہمدردی اس حدتک کرتے کہ ہر شخص کو دکھ تکلیف اور پریشانی سے بچانے کے لیے ہر وقت ہر طرح کوشش کرتے تھے۔
(iv) ایمان والوں کے ساتھ بھی ان کا یہی رویہ تھا کہ ان پر اور بھی زیادہ شفقت اور مہربانی کی جائے کیونکہ وہ فرمانبردار ہوتے ہیں۔
پھر اللہ رب العزت کی ان کے ساتھ مہربانی اور شفقت کا یہ عالم ہے کہ اپنے صفاتی نام رئوف ورحیم سے آپ کو متصف فرمایا، پھر اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ ان سرکش اور نافرمان لوگوں سے ہرگز پریشان نہ ہوں۔ آپ صاف صاف ان کو بتا دیں کہ آپ کا حامی و مددگار اللہ تعالیٰ ہے وہ اللہ تعالیٰ جو مالک الملک ہے شان والا ہے۔ معبود برحق ہے۔ کیونکہ وہ اکیلا ہے کوئی اس کا ساتھی نہیں وہ اکیلا عرش بریں کا مالک ہے اور بہترین کارساز ہے۔
حضرت ابوالدردا ؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص صبح و شام ” حَسْبِیَ اللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ “ سات مرتبہ پڑھ لیا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو تمام پریشانیوں سے نجات دے گا۔ “
اللہ تعالیٰ کی رحمت، برکت فضل و کرم اور خاص مدد سے سورة التوبہ مکمل ہوئی۔ رب العالمین سے دعا ہے کہ فہم و فراست اور صحت و سلامتی اور ایمان میں میری خاص مدد فرمائے اور ایمان کی سلامتی عطا فرمائے۔ آمین۔