9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمفہوم القرآن

Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو اللہ ان کا مددگار ہے۔ وہ وقت تم کو یاد ہوگا جب ان کو کفار نے گھر سے نکال دیا تھا اس وقت دو ہی لوگ تھے (سیدنا ابوبکر ؓ اور دوسرے خود رسول اللہ ﷺ دونوں غارِ (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہ آتے تھے کفار کی بات کو پست کردیا اور بات تو اصل میں اللہ ہی کی بلند ہے اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔

غار ثور میں سکینتِ الٰہی کا نزول تشریح : اس آیت سے اللہ کی قوت اور حکمت کا پتہ چلتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت مدینہ کی مثال دی جا رہی ہے۔ اہل مکہ نے آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا کہ تمام قبیلوں سے ایک ایک جوان لیکر آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کرلیا جائے کہ جونہی آپ ﷺ باہر نکلیں، آپ ﷺ کو نعوذ باللہ قتل کردیا جائے۔ آپ ﷺ کو ان کا منصوبہ معلوم ہوگیا آپ ﷺ نے سیدنا علی ؓ کو امانتیں واپس کرنے کے لیے اپنے بستر پر سلایا اور خود اللہ کی حفاظت میں محاصرہ کرنے والوں کے درمیان میں سے نکل گئے اور ان کو خبر تک نہ ہوئی۔ پھر آپ ﷺ سیدنا ابوبکر ؓ کو لیکر غار ثور میں چھپ گئے وہاں بھی کسی انسان کی مدد کے بغیر صرف اللہ کی مدد سے تین دن تک رہے۔ کفار ڈھونڈتے ہوئے غار کے منہ تک پہنچ گئے ان کی باتوں کی آواز نبی اکرم ﷺ اور سیدنا ابوبکر ؓ نے سنی جس پر سیدنا ابوبکر ؓ سخت پریشان ہوئے مگر رسول اللہ ﷺ کو اللہ نے اس قدر اطمینان اور سکون بخش دیا تھا کہ انہوں نے بڑے اعتماد اور سکون سے سیدنا ابوبکر ؓ کو کہا ” کہ بالکل پریشان نہ ہو کیونکہ ہم اکیلے نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے اس کی مدد اور حفاظت ان کفار سے کہیں بڑھ کر کامل ہے ان کی تدبیریں اللہ کے سامنے بالکل معمولی، جھوٹی، پست اور بےکار ہیں کفار کی ناکامی یقینی ہے۔ کفار کی رسائی آپ تک نہ ہوسکی اور وہ نامراد واپس چلے گئے۔ یہ واقعہ اللہ کی مدد، بڑائی اور حکمت کو واضح کرنے کے لیے بیان کیا گیا ہے تاکہ مسلمانوں کو سستی کاہلی سے خبردار کیا جائے کہ اللہ نے جو کام کرنا ہوتا ہے وہ خود کرلیتا ہے۔ یہ تو اس کی رحمت اور فضل و کرم ہے کہ وہ تمہیں ثواب کمانے اور آخرت میں نجات حاصل کرنے کا موقع دے رہا ہے۔ یہ آیت سن کر سمجھدار مسلمان سمجھ گئے کہ یہ تو صرف ہمیں نیکیاں کمانے کا موقع دیا جا رہا ہے، لہٰذا وہ ہمت و جرأت سے جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے کہ اللہ کی مدد شامل حال ہے اس لیے وہ ہماری پوری مدد کرے گا۔ اور اگر ہم اس پر تیار نہ ہوئے تو یقیناً ہم دنیا و آخرت میں بڑا نقصان اٹھائیں گے۔ اگلی آیات میں پھر حکم جہاد دیا جا رہا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
Ayah 9:41

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

تم ہلکے پھلکے ہو یا بوجھل جہاد کے لیے نکلو۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرو اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے۔ اگر تم جانتے ہو تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔

ہر حال میں جہاد کا حکم تشریح : یہ آیت سن کر اچھے اور سچے مسلمان اپنی جان اور مال سے جہاد کے لیے خوشی خوشی نکل کھڑے ہوئے مگر منافقین طرح طرح کے بہانے کرنے لگے جن کا ذکر اگلی آیات میں کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 9:42–46

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر دنیوی فائدہ قریب نظر آتا اور سفر بھی ہلکا ہوتا تو (وہ شوق سے) تمہارے ساتھ چل پڑتے مگر سفر ان کو لمبا دکھائی دیا تو بہانے کرنے لگے اور اللہ کی قسمیں کھانے لگے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو آپ کے ساتھ ضرور نکل پڑتے یہ ایسے بہانوں سے اپنے آپ کو وبال میں ڈال رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

اللہ آپ کو معاف کرے اس سے پہلے کہ جھوٹے اور سچے لوگ آپ پر ظاہر ہوجاتے آپ نے ان کو پیچھے رہنے کی اجازت کیوں دے دی ؟۔

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

جو لوگ اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو آپ سے اجازت نہیں مانگتے کہ پیچھے رہ جائیں بلکہ چاہتے ہیں کہ اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کریں اور اللہ پرہیزگاروں سے واقف ہے۔

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

اجازت وہی لوگ مانگتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور انکے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں۔

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے تو اسکے لیے کچھ تیاری بھی کرتے لیکن اللہ نے ان کا نکلنا ہی پسند نہیں کیا اس لیے انہیں سست بنا دیا اور انکو کہہ دیا گیا کہ بیٹھے رہنے والے معذوروں کے ساتھ تم بھی بیٹھے رہو۔

منافقوں کی پہچان اور بہانے تشریح : ان آیات میں منافقین کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر سفر تھوڑا اور مال غنیمت کی امید ہوتی تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ چل پڑتے۔ مگر غزوئہ تبوک مسافت، موسم کی گرمی اور ہرقل جیسی بڑی طاقت کا مقابلہ تھا جو کہ مسلمانوں کے لیے بڑی آزمائش کا وقت تھا۔ ویسے بھی جہاد منافقین کی پہچان کا بہت بڑا ذریعہ ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ یہاں یہ لوگ آپ سے اجازت لینے کے لیے بڑے بہانے کریں گے اور اس طرح یہ صرف اپنا ہی نقصان کریں گے۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ پھر اللہ فرماتا ہے کہ آپ نے ان کو ابھی رخصت کی اجازت نہیں دینی تھی تاکہ ان کا جھوٹ سچ اچھی طرح سب پر ظاہر ہوجاتا۔ کیونکہ رخصت تو صرف وہی لوگ مانگتے ہیں جن کا ایمان مضبوط نہیں ہوتا ورنہ مضبوط ایمان والے جہاد پر جانے کی اجازت نہیں مانگتے بلکہ حکم جہاد ہوتے ہی بسر و چشم جہاد پر جانے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کے لیے جان و مال اولاد سب کچھ حکم الٰہی کے سامنے ہیچ نظر آتا ہے اور وہ بلاخوف و خطر فوراً خوشی خوشی جہاد پر جانے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ اللہ رب العزت سچے، پرہیزگار اور ڈرنے والے مسلمانوں کو خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کی نیتیں ہی خراب ہیں اسی لیے ان کو جہاد کی سعادت حاصل کرنے کی توفیق ہی نہیں ہوسکتی بس ان کو بھی معذور اور مجبور لوگوں کے ساتھ بیٹھنے دو ۔ یہ بیٹھے رہیں اور ذلیل و خوار ہوتے رہیں۔
Ayahs 9:47–59

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر وہ تم میں شامل ہو کر نکل بھی کھڑے ہوتے تو تمہارے حق میں شرارت کرتے اور تم میں پھوٹ ڈلوانے کے لیے دوڑے دوڑے پھرتے اور تم میں ان کے جاسوس بھی ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

یہ پہلے بھی فساد کرتے رہے ہیں اور بہت سی باتوں میں آپ لیے الٹ پھیر کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ حق آپہنچا اور اللہ کا حکم غالب ہوا اور وہ برا مانتے ہی رہ گئے۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے تو اجازت ہی دیں اور آفت میں نہ ڈالیں۔ دیکھو یہ آفت میں پڑگئے ہیں اور دوزخ سب کفار کو گھیرے ہوئے ہے۔

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) اگر تمہیں آسائش ملتی ہے تو ان کو برا لگتا ہے اور اگر کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنا کام پہلے ہی درست کرلیا تھا اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں۔

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

فرما دیں کہ ہمیں کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہو۔ وہی ہمارا کارساز ہے اور مومنوں کو اللہ پر ہی بھروسہ رکھنا چاہیے۔

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

فرما دیں کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ یا تو خود تمہارے اوپر عذاب نازل کرے یا ہمارے ہاتھوں عذاب دلوائے تو تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں۔

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

فرما دیں کہ تم مال خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ تم نافرمان لوگ ہو۔

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور ان سے ان کے نفقات قبول نہ کرنے کی وجہ صرف یہ کہ وہ اللہ اور اسکے رسول کے نافرمان لوگ ہیں۔ اگر وہ نماز کے لیے آتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر آتے ہیں اگر خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے کرتے ہیں۔

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

آپ کو ان کے مال اور اولاد تعجب میں نہ ڈالیں اللہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے اور جب ان کی جان نکلے تو اس وقت بھی وہ کافر ہی ہوں۔

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم ہی میں سے ہیں، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں اصل میں یہ ڈرپوک لوگ ہیں۔

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر ان کو کوئی بچائو کی جگہ (قلعہ) غار یا زمین کے اندر گھسنے کی جگہ مل جائے تو یہ رسیاں تڑاتے ہوئے بھاگ جائیں۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں کہ زکوٰۃ تقسیم کرنے کی وجہ سے تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں اگر انکو اس میں سے خاطر خواہ مل جائے تو خوش رہیں اور اگر اس قدر نہ ملے تو فوراً خفا ہوجائیں۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو اللہ اور اسکے رسول نے ان کو دیا تھا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے اللہ اپنے فضل سے اور اسکے پیغمبر اپنی مہربانی سے ہمیں پھر دے دینگے اور ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھتے ہیں ( تو ان کے حق میں بہتر ہوتا) ۔

منافقوں کے فتنوں سے بچنے کی تدابیر تشریح : ان آیات میں پہلے تو ان منافقین کا غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونا باعث رحمت بتایا گیا ہے کیونکہ یہ لوگ اگر ساتھ چلے جاتے تو ان کا مقصد نہ تو جہاد کرنا ہوتا اور نہ ہی یہ مخلص ہوتے، اس لیے اگر یہ چلے جاتے تو صرف غلط سلط افواہوں سے مجاہدین میں بددلی، نااتفاقی اور کمزوری ہی پیدا کرنے کا کام انہوں نے کرنا تھا اور اس طرح فوج کو کمزور کرنے کا مقصد حاصل کرتے کیونکہ اگرچہ مسلمان ہوتے تو انسان ہی ہیں بعض ان کی باتوں میں آکر گھبرا بھی سکتے تھے اور ان کو اپنے خفیہ راز لاعلمی میں بتا دیتے اس لیے اچھا ہوا یہ جہاد میں ساتھ نہ گئے۔ یہ لوگ پہلے بھی اس قسم کا فساد پھیلا چکے ہیں۔ جیسا کہ غزوہ احد میں تین سو آدمی عبداللہ بن ابی کی معیت میں میدان جنگ سے واپس آگئے تھے۔ یہ کام، یعنی فساد پھیلانا اور مجاہدین کو پریشان کرنا شیطانی حرکات کھلبلی مچانا یہ سب ان کی پرانی عادات ہیں۔ انہوں نے تو ہمیشہ اپنی پوری کوشش کی کہ تم مسلمانوں کو تکلیف پہنچائیں مگر اللہ کے حکم، تدبیر اور ارادہ کے آگے ان کی ایک نہ چلی اور وہ بےبس ہوگئے اور پھر مجبوراً مسلمان تو ہوگئے مگر صرف نام کے مسلمان، دل ان کے مسلمانوں کی ترقی، کامیابی اور فتح پر کڑھتے رہتے اور ہر وقت شرارت اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کرتے۔ یہ تھی منافقوں کی فطرت یہ بھلا اس دور دراز کے سفر میں کیسے شامل ہوسکتے تھے۔ ہر کوئی نہ جانے کا بہانہ بنا رہا تھا اسی طرح جد بن قیس نے یہ بہانہ بنایا کہ ” مجھے خطرہ ہے کہ میں کہیں خوبصورت عورتوں کے فتنہ میں نہ پڑجاؤں کیونکہ سنا ہے رومی عورتیں بہت خوبصورت ہوتی ہیں ہاں ! اگر آپ چاہیں تو مالی امداد میں کردیتا ہوں۔ “ یہ اس لیے کہ نفاق ظاہر نہ ہوجائے۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے اس کے مال کی امداد سے بھی انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اور اس کے ساتھی پہلے ہی کافی آفتوں میں پھنس چکے ہیں ان کی فطرت ہی بد ہے اسی لیے یہ سب دوزخ کی بڑھکتی ہوئی آگ میں ضرور ڈالے جائیں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ مسلمانوں کی فتح پر کڑھتے ہیں اور شکست پر اندر ہی اندر خوشیاں مناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ان منافقین کو صاف صاف بتا دیں کہ جو تکلیف ہمارے نصیب میں لکھی گئی ہے وہ ضرور آئے گی ہم اس سے ہرگز گھبراتے نہیں اور نہ ہی پریشان ہوتے ہیں کیونکہ ہمیں اللہ کی رفاقت، رحم و کرم اور مدد پر اس قدر بھروسہ ہے کہ ہم اس کو اللہ کی طرف سے بھیجی گئی رحمت ہی سمجھتے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ اللہ جو بھی ہمارے لیے مقرر کرتا ہے اس میں ضرور کوئی نہ کوئی بہتری ہوتی ہے اس صبر اور شکر سے ہم ہر تکلیف، پریشانی اور مصیبت کا مقابلہ بڑی بہادری سے کرتے ہیں اور یوں وہ پریشانی ہمارے سکون اور راحت کا سبب بن جاتی ہے۔ “ اسی طرح حکم ہوا کہ ان کو بتا دو کہ تم لوگ تو ہمارے لیے فتح یا شکست کا سوچتے ہو جبکہ ہمارے لیے فتح و شکست برابر ہے وہ اس طرح کہ اگر جنگ میں مارے گئے تو شہید کا بہترین رتبہ مل جائے گا اگر جنگ سے زندہ واپس آگئے تو غازی ہونے کا بہترین اعزاز دنیا میں اور آخرت میں بھی انعام ملے گا دنیا میں عزت و احترام کے ساتھ مال غنیمت بھی ملے گا۔ مگر تم اپنی منافقت سے دھوکہ دینا چاہتے ہو تمہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ تم اس منافقت کی وجہ سے ضرور سخت مصیبت اور عذاب میں گرفتار ہو گے یا اللہ کی طرف سے عذاب نازل ہوگا اور یا پھر ہمارے ذریعہ سے تمہیں ذلت و رسوائی اور پریشانی اٹھانی پڑے گی۔ تم بھی عذاب کا انتظار کرو اور ہم بھی دیکھتے ہیں۔ اس طرح کے بیشمار واقعات دنیا دیکھ چکی ہے۔ حق و باطل کی لڑائی کئی دفعہ ہوچکی حق جیتا اور باطل کو شکست ہوئی۔ کیونکہ حق کی مدد حق (اللہ تعالیٰ ) کرتا ہے اور باطل کی مدد شیطان کرتا ہے۔ شیطان کو کہاں اتنی توفیق کہ حق کے سامنے ٹھہر سکے۔ مسلمانوں کو چاہیے اپنے ایمان کو مضبوط رکھیں اور اللہ پر ہر وقت بھروسہ کریں کیونکہ وہی قادر مطلق ہے بادشاہوں کا بادشاہ اور وحدہٗ لاشریک صرف اسی کی ذات ہے اور اپنے بندوں پر ہر وقت مہربان ہے رحیم و کریم ہے۔ غفور ورحیم ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ جو کام کرے اللہ کی رضا کے لیے کرے پورے خلوص محنت اور کوشش سے کرے پھر انجام اللہ پر چھوڑ دے۔ یہی مسلمان کی شان ہے۔ جب وہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو پھر اسے نہ کوئی غم ہوتا ہے نہ فکر اور نہ ہی وہ کسی بات پر پریشان ہوتا ہے۔ ہر حال میں خوش و خرم اور پرسکون رہتا ہے۔ پھر اللہ منافقوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم لوگ صرف اپنی منافقت کو چھپانے کے لیے مجبوراً مال دیتے ہو مگر اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہاری منافقت ظاہر ہوچکی ہے کیونکہ جب تم نماز کے لیے آتے ہو تو مقصد صرف دکھاوا ہوتا ہے مال دیتے ہو تو وہ بھی منافقت کو چھپانے کے لیے تم لوگ اللہ اور رسول کے نافرمان ہو تم سے صدقات و خیرات ہرگز قبول نہ کیے جائیں گے کیونکہ بنیادی طور پر تم دھوکہ باز اور خبیث لوگ ہو۔ بھلا تمہارا صدقہ خیرات اللہ تعالیٰ کس طرح قبول کرسکتا ہے۔ اللہ کو تمہارے مال کی ہرگز ضرورت نہیں۔ اسی نے تو تمہیں یہ مال و متاع دیا ہے۔ اس کو تو خلوص دل کی عبادت چاہیے کیونکہ انسان کی کامیابی نیک نیتی اور خلوص پر ہے۔ پھر فرمایا کہ منافقین کو جو مال کی فراوانی اور اولاد کی زیادتی دی گئی ہے تو یہ بھی ان کے عذاب کا ایک ذریعہ ہے۔ کیونکہ مال اور اولاد فتنہ ہیں۔ انہی دو فتنوں میں پھنس کر انسان غافل ہوجاتا ہے یہ دونوں انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش ہیں۔ کیونکہ جو ان دونوں کے چکر میں پھنس جاتا ہے نہ اس کو دنیا میں سکون ملتا ہے نہ آخرت میں نجات ملتی ہے۔ مال کی محبت میں یہ لوگ اتنے ڈوبے ہوئے ہیں کہ نہ ان کو حلال کی تمیز ہے نہ حرام کی، نہ جائز کی پرواہ ہے نہ ناجائز کی پرواہ ہے اور پھر حرام کے مال سے پلی ہوئی اولاد بذات خود ان کے لیے بہت بڑا عذاب ثابت ہوتی ہے۔ مثل مشہور ہے کہ حرام کا مال پورا پورا اولاد کے دکھ دیکھنے میں نکلتا ہے۔ دنیا میں سب سے بڑا عذاب اولاد کا دکھ ہوتا ہے۔ اللہ اس سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ مگر جس کو اللہ رب العزت اس مصیبت میں ڈال دیتا ہے وہ ساری زندگی اس سے نجات نہیں پاتا اور ایسے ہی دکھ و تکلیف میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ پھر ایک صفت ان منافق لوگوں کی اللہ تعالیٰ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ کیونکہ ان کو تمہارے سوا کوئی ٹھکانا دکھائی نہیں دیتا اس لیے یہ لوگ اللہ کی قسمیں کھا کر اپنے مسلمان ہونے کا یقین دلاتے رہتے ہیں ورنہ اگر ان کو کوئی ذرا سا سہارا بھی مل جائے تو یہ فورا تمہاری دوستی اور ایمان کا ساتھ چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ یہ لوگ صرف ٹھکانے کی مجبوری میں مسلمان بنے ہوئے ہیں۔ پھر ان کا کام صرف یہ ہے کہ مسلمانوں پر تنقید کریں جیسا کہ صدقات و خیرات پر اعتراضات کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ جب ان کو کچھ دے دیں تو خوش ورنہ بہت ناراض ہوتے ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ جو بھی ان کو مل جاتا اس پر خوش ہوجاتے مگر یہ تو ان کی فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ یہ مسلمان کی ہی صفت ہے کہ وہ راضی برضا الٰہی ہوتا ہے۔ جو رسول اللہ ﷺ نے ان کو دے دیاوہ کم ہو یا زیادہ اس پر خوش رہتے ہیں۔ مسلمانوں کو ہر وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ نماز پڑھیں تو خوش دلی، شوق اور پورے دھیان سے۔ زکوٰۃ دیں تو پورے خلوص اور محبت سے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کریں تو خوش دلی سے۔ ان تمام کاموں میں سستی کاہلی اور مجبوری کا ہونا منافقت کی نشانی ہے۔ جو بھی کرو اللہ اور رسول کی محبت میں ڈوب کر شوق سے کرو یہی سچے مومن کی نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ مومن کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” مومن صرف وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر (اس ایمان پر) انہیں کوئی شک نہ رہا اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کیا صرف وہی صادق لوگ ہیں۔ “ (الحجرات آیت : 15) یہ سب کچھ جب ہم پڑھ چکے تو ہمیں معلوم ہوگیا کہ مومن کی زندگی اور منافق کی زندگی میں کتنا واضح فرق ہے اہل عرب کا ذکر تو محض سمجھانے کے لیے ہوتا ہے اصل میں تو یہ رہنما اصول تمام دنیا کے ہر دور کے مسلمانوں کے لیے ہوتے ہیں۔ امیر اور صاحب اولاد تو مومنین میں بھی بڑے ہوتے ہیں مگر مومنین کے لیے مال اولاد فضل و کرم ثابت ہوتے ہیں جبکہ منافق کے لیے مال و اولاد زحمت اور آزمائش ہوتے ہیں وہ اس طرح کہ مومن اپنے مال اور وقت کو اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق خرچ کرتا ہے، یعنی اپنے اوپر ماں باپ، بیوی بچے، بہن بھائی، رشتہ دار، دوست احباب، رفاہی کام، غریب محتاج اور ضرورت مند سب کے لیے درجہ بدرجہ خرچ کرتا ہے جیسا کہ سیدنا عثمان ؓ کی مثال ہمارے سامنے ہے بڑے امیر آدمی تھے مگر غزوئہ تبوک میں کھانے کی اشیاء سے لدے ہوئے تین سو اونٹ ایک ہزار سونے کے دینار اسلامی لشکر کے اخراجات کے لیے پیش کردیے۔ جبکہ منافقین صرف اپنے لیے مال کماتا ہے پھر اس میں اضافہ کے لیے سرتوڑ کوشش کرتا ہے پھر اس جمع شدہ مال کی حفاظت میں سرگرداں اور پریشان رہتا ہے ہر وقت چوری اور ڈکیتی کا خطرہ اس کو بےسکون کیے رہتا ہے۔ تو یوں اس کا مال اس کے لیے وبال بن جاتا ہے۔ اسی طرح نیک آدمی کی اولاد نیک لائق اور شریف ہوگی کیونکہ اس کی پرورش اسلام کے بہترین اصولوں پر کی جاتی ہے وہ معاشرے کے لیے ایک بہترین شہری بن جاتا ہے جبکہ منافق کی اولاد کی تربیت اسلام سے دور خباثت، شرارت، حسد، بغض اور منافقت کے ماحول میں کی جاتی ہے اور وہ والدین اور پورے معاشرے کے لیے ایک بدکردار منافق ہی ثابت ہوتا ہے اور یوں وہ وبال جان بن کر والدین کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے۔ قرآن پاک ہمیں راہ نما اصول دیتا ہے، یہ قصہ اور کہانیوں کی کتاب نہیں، اس کو پڑھنا، غور کرنا، عمل کرنا اور دوسروں کو بتانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق دے۔ آمین۔
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

صدقات زکوٰۃ (اور خیرات) تو مفلسوں، محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہو، غلاموں کے آزاد کرانے، قرض داروں کے قرض ادا کرنے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کی مدد میں بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیے یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

زکوٰۃ کے مصارف تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ منافقین صدقہ و خیرات اور زکوٰۃ میں سے زیادہ سے زیادہ کی خواہش کرتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیا ہے اور صاف صاف اصول بتا دیے ہیں کہ صدقات و زکوٰۃ کس طرح تقسیم کی جانی چاہیے ؟ رب العالمین انسانوں کی تمام مشکلات، پریشانیوں، دقتوں اور مجبوریوں کو خوب اچھی طرح جانتا ہے اس کی حکمت و دانائی بےمثال ہے اسی لیے اپنے بندوں کی سہولت اور آسانی کا خیال کرتے ہوئے بہترین اصول نازل فرمائے ہیں تاکہ ان کی مدد ہوجائے۔ زکوٰۃ ایک مالی عبادت ہے جو امیروں کو مشکلات اور بےراہروی سے بچانے کے لیے عائد کی گئی ہے اور غریبوں کی مدد کے لیے ان کو دیا جاتا ہے۔ اس طرح معاشرے میں باہمی ہمدردی اور رواداری کا راستہ نکل آتا ہے لالچ اور بیروزگاری کا قلع قمع ہوجاتا ہے۔ اور پھر اس کو تقسیم کرنے اور خرچ کرنے کے مصارف بھی بیان فرما دیے تاکہ یہ مال معاشرے کی صحیح تشکیل کے لیے خرچ کیا جائے اور ضائع نہ ہوجائے۔ یہاں ان لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو زکوٰۃ کے حقدار ہیں اس میں آٹھ قسم کے لوگ آتے ہیں۔ -1 فقیر، جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ -2 مسکین، ، یعنی اس کی حاجات پوری نہیں ہوسکتیں۔ -3 عامل، ، یعنی وہ ملازمین جو زکوٰۃ اکٹھی کرنے، حساب کتاب رکھنے اور تقسیم کرنے پر معمور ہوں۔ -4 مئولفہ القلوب، لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کرنے کے لیے کسی بھی صورت سے ان کی ضروریات پوری کرنے پر۔ -5 غلاموں کے آزاد کرانے کے لیے، یعنی غلامی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے رقم خرچ کی جائے۔ -6 ایسے سفید پوش لوگ جو کسی اچانک آفت کا شکار ہوگئے ہوں اورا ن کی امداد ضروری ہو یا ان پر قرض اتنا ہے جو اپنے روز مرہ خرچ سے ادا نہیں کرسکتے۔ -7 اللہ کے کاموں میں مصروف لوگ مثلاً جہاد، رفاع عام وغیرہ۔ -8 مسافر جو کسی وجہ سے مجبور ہوجائے اور اس کو رقم کی ضرورت پڑجائے۔ ان کی تفصیلات وقتاً فوقتاً کی جاتی رہیں گی۔ فی الحال اتنا سمجھ لینا ضروری ہے کہ زکوٰۃ موجودہ نظام معیشت کا ایک خاص اور بنیادی قانون ہے، یعنی Circulation of Wealth جس کو ہم پیسہ کی گردش کہہ سکتے ہیں۔ زکوٰۃ اسی اصول کو بحال کرنے میں سے ایک اصول ہے اور ارکان اسلام کا ایک خاص رکن ہے جو باقی تمام ارکان کی طرح انسان، معاشرہ، ملک اور دنیا کی بہتری اور خوشحالی کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ زکوٰۃ کی تاکید قرآن پاک میں جگہ جگہ کی گئی ہے۔ جیسا کہ فرمایا : ” نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو ۔ “ ( سورة البقرہ آیت : 83)
Ayahs 9:61–63

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو تکلیف دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص وہ کانوں کا کچا ہے۔ ان سے کہہ دو کہ وہ کانوں کا کچا ہونا ہی ہے تو تمہاری بھلائی کے لیے ہے وہ اللہ کا اور مومنوں کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے اور جو لوگ رسول اللہ کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے بہت بڑا عذاب تیار ہے۔

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

مومنو ! یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کردیں، حالانکہ اگر یہ دل سے مومن ہوتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو راضی کرنا بہت ضروری ہے۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا یہ بڑی رسوائی ہے۔

منافقین کا توہین رسالت کا مرتکب ہونا اور ان کا جواب تشریح : ان آیات میں منافقوں کی بدخصلت، بدنیتی اور بداخلاقی کا ذکر کیا گیا ہے اور آنحضرت ﷺ ( آپ پر میری جان بھی قربان) کی صفات، بلند کرداری، حسن سیرت اور عفو و درگزر کا ذکر کیا گیا ہے۔ کہاں منافقین اور کہاں رسول اللہ ﷺ ؟ اس لیے منافقین کے انجام کا ذکر عَذَابٌ اَلِیْمٌ اور جہنم کی بڑھکتی ہوئی آگ سے کیا گیا ہے۔ اپنے برے اعمال کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ٹھکانا ملے گا۔ اگلی آیات بھی انہی کے بارے میں ہیں۔
Ayahs 9:64–70

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (مسلمانوں) پر کہیں کوئی ایسی سورت نہ اتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو مسلمانوں پر ظاہر کر دے کہہ دو کہ ہنسی کیے جاؤ۔ جس بات سے تم ڈرتے ہو اللہ اس کو ضرور ظاہر کر دے گا۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے اس بارے میں دریافت کرو تو ضرور کہیں گے کہ ہم تو یونہی بات چیت اور ہنسی مذاق کرتے تھے کہو کہ کیا تم اللہ اس کے رسول اور اللہ کی آیتوں سے ہنسی مذاق کرتے تھے۔

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

بہانے مت بنائو تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے کیونکہ وہ گناہ کرتے ہیں۔

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کی طرح ہیں کہ برے کام کرنے کو کہتے نیک کاموں سے منع کرتے اور خرچ کرنے سے ہاتھ بند کیے رکھتے ہیں۔ انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے ان کو بھلا دیا بیشک منافق نافرمان ہیں۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے جہنم کی آگ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ جلتے رہیں گے وہی ان کے لائق ہے اور اللہ نے ان پر لعنت کردی ہے اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب تیار ہے۔

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

تم (منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو، جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ وہ تم سے بہت طاقتور اور مال و اولاد میں کہیں زیادہ تھے تو وہ اپنے حصے کا مزہ لوٹ چکے سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصہ سے فائدہ اٹھا چکے ہیں اسی طرح تم نے اپنے حصہ سے فائدہ اٹھا لیا اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت میں ضائع ہوگئے اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو ان لوگوں کے حالات کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے، یعنی قوم نوح، عاد اور ثمود کی قوم اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے لے کر آئے اور اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

منافقوں کی دل لگی اور بہانے تشریح : یہ منافقین جانتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ اللہ کے مقبول ترین پیغمبر ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ہر قسم کے حالات اور واقعات سے باخبر کردیتا ہے۔ پھر بھی اپنی منافقت، بدعہدی اور جھوٹ سے باز نہ آتے تھے۔ اور ہر وقت کسی نہ کسی طرح سازشوں میں لگے رہتے تھے۔ اللہ واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ تم باز آجاؤ تم کچھ بھی چھپا نہیں سکتے سب کچھ تمہارا کیا ہوا تمہارے سامنے آجائے گا۔ پھر نوید سنائی گئی کہ تم میں سے کچھ ایسے کم گناہ گار ہیں ان کو تو شاید اللہ معاف فرما دے مگر جو حد سے گزر چکے ہیں وہ ہرگز سزا سے بچ نہ پائیں گے۔ پھر ان تمام منافقین کے بارے میں ارشاد ہے کہ عورتیں اور مرد سب بدترین انسان ہیں یہ اللہ کو بھلا چکے ہیں اس لیے یہ سب اللہ کی رحمت سے دور کردیے گئے ہیں اور ان کے لیے جہنم کا دردناک عذاب تیار کیا گیا ہے یہ اس عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔ منافقین کو پھر ان لوگوں کی مثال دی گئی ہے جو ان سے پہلے تھے کہ کس طرح ان کو ان کے اعمال بد کی سزا میں نیست و نابود کردیا گیا۔ ان کی ہدایت کے لیے نبی بھیجے گئے مگر انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا کیونکہ انہوں نے ہدایت کی راہ اختیار نہ کی تو پھر ان کو سزا تو ملنی ہی تھی اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا وہ تو مہربان ہے اور رسول اللہ ﷺ تو مجسمہ رحمت تھے ان کی عظمت کس سے پوشیدہ ہے وہ تو اللہ کے محبوب اور مقبول ترین رسول ہیں۔ ” سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کی گئی کہ یارسول اللہ ﷺ ! مشرکین کے لیے بددعا کیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا مجھے تو صرف رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ “ (صحیح مسلم) آپ ﷺ ہمیشہ اس کوشش میں رہے کہ لوگوں کو جہنم کی آگ سے بچائیں جیسا کہ حدیث میں آتا ہے : ” سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ میری اور لوگوں کی مثال اس شخص کی ہے جس نے آگ سلگائی، پھر جب اس آگ نے اس کے ماحول کو روشن کردیا تو پتنگے اور آگ میں گرنے والے کیڑے اس آگ میں گرنے لگے، وہ شخص انہیں کھینچ کر باہر نکالنے لگا مگر وہ اس پر غالب آنے لگے اور اس آگ میں گرتے رہے۔ پس میں تمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر تمہیں آگ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں مگر تم ہو کہ اس میں گرے پڑ رہے ہو۔ “ (صحیح بخاری) یہی حال ان منافقین کا اور آج کے منافقین کا ہے۔ کہ سب کچھ جان کر بھی آگ کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ جو اللہ کے پرہیزگار اور فرمانبردار بندے ہیں وہ دنیا میں بھی خوش اور آخرت میں بھی خوش۔
Ayahs 9:71–72

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور بری بات سے منع کرتے ہیں۔ نماز کو قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلتے ہیں۔ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔ بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

اللہ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغات کا وعدہ دیا ہے کہ ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ ان میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اور بہترین باغات میں نفیس مکانات کا وعدہ کیا ہے اور اللہ کی رضامندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے۔

مؤمنوں کی تعریف اور ان کا انعام تشریح : ان آیات میں مومن مرد اور مومن عورت کی صفات بتائی گئی ہیں جو کہ ویسے تو بیشمار ہیں مگر یہاں ان کو جمع کرکے پانچ صفات میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلی یہ کہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں ان میں باہمی محبت اور خلوص ہوتا ہے۔ دوسری یہ کہ وہ نیک فطرت ہوتے ہیں نیک کام کرتے ہیں نیک کاموں کا حکم دیتے ہیں، برے کام سے بچتے ہیں اور برا کام کرنے سے منع بھی کرتے ہیں۔ تیسری نماز قائم کرتے ہیں چوتھی زکوٰۃ دیتے ہیں۔ پانچویں اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلتے ہیں۔ ان پانچ خوبیوں میں مومن کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ مومن اپنے ایمان کی وجہ سے کس قدر مضبوط اور پاکیزہ انسان بن جاتا ہے۔ اس وجہ سے صحرائوں میں رہنے والے عربوں نے ایمان لانے کے بعد نہ صرف یہ کہ دنیا کے ایک بڑے حصے کو فتح کیا بلکہ نئی طرز کی سلطنت قائم کرکے دکھائی۔ دنیا کے پورے نظام کو سنوار دیا حکومت کے بہترین قوانین اور اصول بنائے۔ اصلاحات کیں اور پھر ایک مثالی نظام حکومت خلافت راشدہ کی شکل میں پیش کیا۔ ایسے ہی بہترین انسانوں کو اللہ نے مومن مرد اور مومن عورت قرار دیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ لوگ ہوتے ہیں ان لوگوں پر اللہ نے رحم و کرم اور فضل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یہی اللہ کی حکمت ہے کہ کیسے اس نے دنیا بنائی، انسان بنائے، ہدایت کے لیے رسول اور پیغمبر بھیجے۔ اللہ تعالیٰ نے بار بار اعلان فرمایا ہے کہ مومن مرد اور مومن عورتوں کو دنیا میں جو بھلائی ملے گی وہ تو علیحدہ ہے آخرت میں ہمیشہ کی زندگی میں ان کو بہترین محلات، بہترین باغات، غرض ہر قسم کی آسائش اور آرام سے بھری ہوئی زندگیاں ملیں گی اور پھر ان کی خاص بات یہ ہوگی کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ملیں گی جبکہ دنیا کا عیش و آرام اور زندگی بالکل عارضی ہے ضرور ہی ختم ہونے والی ہے۔ اور پھر آخر میں فرمایا کہ اللہ کی رضا حاصل کرلینا تو سب سے بڑی نعمت ہے اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں۔ اللہ کی رضا اور خوشنودی سے کیا مراد ہے ؟ اللہ تعالیٰ جب اہل جنت کو جنت میں داخل کردے گا تو پھر اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کیا تم اب خوش ہو ؟ وہ جواب دیں گے۔ پروردگار ! کیا اب بھی ہم خوش نہ ہوں جبکہ تو نے ہمیں یہاں پر ہر طرح کی نعمتیں عطا کر رکھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں تمہیں ان سب نعمتوں سے بڑھ کر نعمت نہ عطا کروں ؟ جنتی تعجب سے پوچھیں گے اے ہمارے رب ! ان نعمتوں سے افضل اور کیا چیز ہوسکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب میں تم پر اپنی رضا اور خوشنودی اتار رہا ہوں اور آج کے بعد کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔ (صحیح بخاری، کتاب التوحید) کیونکہ اللہ فرماتا ہے :” اے مطمئن روح ! تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے خوش۔ پس میرے خاص بندوں میں شامل ہوجا۔ اور میری جنت میں چلی جا۔ “ ( الفجر آیات : 30-27) یہ آیات تمام دنیا کے مومن مرد اور تمام دنیا کی مومن عورتوں کے لیے ہیں۔ سب کو چاہیے غور سے پڑھیں، سمجھیں خود عمل کریں اور دوسروں کو عمل کرنے کی تلقین کریں۔ اسی میں بھلائی اور نجات ہے اور یہی مومن کی شان ہے۔
Ayahs 9:73–74

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے نبی ! کفار اور منافقین کا پوری طرح مقابلہ کرو اور ان سے سختی سے پیش آئو، آخرکار انکا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کی قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی، حالانکہ انہوں نے ضرور وہ کافرانہ بات کی ہے۔ وہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے اور انہوں نے وہ کچھ کرنے کا ارادہ کیا جو وہ کر نہ سکے اور یہ سب اس چیز کا بدلہ تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کردیا۔ اب اگر یہ اپنی اس روش سے باز آجائیں تو یہ ان کے لیے بہتر ہے اور اگر یہ باز نہ آئے تو اللہ ان کو بڑا دردناک عذاب دے گا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور زمین میں کوئی نہیں جو ان کا حمایتی یا مددگار ہو۔

منافقوں پر سختی اور جبر تشریح : ان آیات میں بڑی اہم ہدایات دی جا رہی ہیں وہ یہ ہیں پورے نو سال منافقین کو اپنا رویہ تبدیل کرنے کی مہلت دی گئی جس کی وجہ بیرونی دشمنوں سے نمٹنا بھی تھا۔ لیکن جب مسلمان مضبوط ہوگئے تو پھر حکم ہوا کہ اب مسلم آبادی کو مشرکین و منافقین کی ملاوٹ سے پاک کیا جائے تاکہ اندرونی دشمن کی سازشوں اور شرارتوں سے ریاست کو محفوظ کیا جائے یہ بیرونی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، اس لیے ان سے باقاعدہ اور ہر طرح سے نمٹا جائے ان کو خوب اچھی طرح ہر مسلم شہری یہ احساس دلا دے کہ وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں ان کو ہر طرح ذلیل و خوار اور بےکار مخلوق ثابت کرکے ان کا اچھی طرح قلع قمع کیا جائے کیونکہ ملکی سلامتی کے لیے یہ بےحد ضروری ہے۔ کیونکہ اس طرح معاشرہ پاک صاف اور پرامن ہوسکتا ہے۔ ملکی سلامتی اور ترقی کے لیے یہ بےحد ضروری ہے۔ پھر یہ بتایا گیا کہ کفار و منافقین کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ بےحد برا ٹھکانا ہے۔ پھر یہ توہین رسالت کے مرتکب ہیں اکثر و بیشتر مسلمانوں کو برا بھلا کہتے، نبی اکرم ﷺ کو برا بھلا کہتے، ہنسی مذاق کرتے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی تدبیریں بناتے اور جب ان کو پتہ چلتا کہ نبی اکرم ﷺ کو ان کے منافق ہونے کا یا مرتد ہونے کا علم ہوگیا ہے یا اس منصوبے کا پتہ چل گیا ہے جو وہ اکثر بناتے رہتے جیسا کہ غزوئہ تبوک سے واپسی پر ان لوگوں نے آپ ﷺ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جس کی خبر وحی کے ذریعہ سے کردی گئی اور یہ لوگ ناکام ہوگئے تو جب ان کی شرارتیں ظاہر ہوجائیں تو سچا بننے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے اور قسمیں کھا کھا کر اپنی بےگناہی کا یقین دلاتے۔ ان لوگوں کو اس بات پر ذرا بھی شرم نہ آتی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے ان کی مالی حالت کتنی اچھی ہوگئی ہے۔ اسلام کی وجہ سے مدینہ میں ہر طرح خوشحالی اور فارغ البالی آگئی تھی یہ لوگ بھی امیر ہوگئے تھے۔ ایک معمولی قصبہ تمام عرب کا دارالخلافہ بن چکا تھا۔ تو اللہ رب العزت ان مشرک لوگوں کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر تو یہ سچے دل سے شرارتوں سے باز آجائیں تو یہ خود ان کے لیے اچھا ہے ورنہ یہ بےیارومددگار دنیا میں بھی خوار ہوں گے اور آخرت میں بھی اللہ نے ان کو دردناک عذاب کی وعید سنائی ہے، جو ان کو مل کر رہے گا۔
Ayahs 9:75–79

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنی مہربانی سے مال عطا کرے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیکوکاروں میں سے ہوجائیں گے۔

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو مال دیا تو اس میں بخل کرنے لگے اور اپنے عہد سے پھرگئے۔

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

تو اللہ نے اس کی سزا یہ دی کہ ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس دن تک کے لیے کہ جب وہ اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے یہ اس لیے کہ جو وعدہ انہوں نے اللہ سے کیا تھا اس سے پھرگئے اور اس وجہ سے بھی کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا ان کو معلوم نہیں کہ اللہ ان کے بھیدوں اور مشوروں سے واقف ہے اور یہ بھی کہ وہ غیب کی باتیں جاننے والا ہے۔

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

جو مال دار مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور جو غریب صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے ہیں اور تھوڑی سی کمائی میں سے خیرات بھی کرتے ہیں خرچ بھی کرتے ہیں ان پر منافق لوگ ہنسی مذاق کرتے ہیں جبکہ اللہ ان پر ہنستا ہے اور ان کے لیے تکلیف دہ عذاب تیار ہے۔

منافقوں کا زکوٰۃ کو تاوان سمجھنا تشریح : ان آیات میں بھی منافقین مشرکین اور کفا رکی بدعہدی شرارتوں خباثتوں اور نالائقیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر ان کی مغفرت نہ ہونے اور ان کے دلوں کی ہمیشہ کے لیے منافقت میں ڈوبے رہنے اور بالآخر روز قیامت ان کی سزا اور بدترین عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سب اسی لیے کہ وہ ہر دفعہ ہر موقع پر بدعہدی کرتے اور مسلمانوں کے ساتھ مذاق کرتے اور اللہ و رسول ﷺ سے کفر کرتے تھے۔