8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsمفہوم القرآن

Ayah 8:1

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) مجاہد لوگ آپ سے انفال (مال زائد) کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ کیا حکم ہے ؟ ) کہہ دیں کہ مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ تو اللہ سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلو۔

مال غنیمت کی تقسیم تشریح : اس آیت کا اصل مضمون مال غنیمت کو تقسیم کرنے کے اصول بتانا ہے۔ یہ اصول جو یہاں بتائے جا رہے ہیں یہ صرف ان مسلمانوں کے لیے خاص نہیں جنہوں نے غزوئہ بدر میں حصہ لیا بلکہ یہ اصول و قوانین تمام امت مسلمہ کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ موقع کی مناسبت سے احکامات دیتے ہیں تاکہ یہ بات پوری طرح واضح ہوجائے۔ یہ سورت جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی اور اس کا شان نزول یہ کہ جنگ بدر کفر اور اسلام کے درمیان پہلی جنگ تھی اس میں فتح و کامیابی کے بعد مال غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ پیش آیا۔ اور مال غنیمت کے تقسیم پر مسلمانوں میں کچھ جھگڑا پیدا ہوگیا۔ تو اللہ رب العزت نے ان کو یاد دلایا کہ تم مومن ہو یعنی امن و سلامتی، بھائی چارے اور خوف الٰہی رکھنے والے لوگ ہو تمہیں اپنے ہر عمل اور ہر سوچ میں ان تمام باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ جہاد تو صرف رضائے الٰہی اور دین کی سربلندی کے لیے کیا جاتا ہے نہ کہ مال کی محبت میں۔ اس طرح تو گویا مومن کی پہچان ہی ختم ہوگئی اس جھگڑے اور عارضی پریشانی کو ختم کرنے کے لیے اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ ان مجاہدین بدر کو بتا دو کہ فتح و شکست اور مال و دولت یہ سب اللہ جل شانہ ‘ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے تم لوگ مال کے بارے میں صرف اتنا خیال رکھو کہ یہ صرف اللہ رب العزت کی ہی ملکیت ہے اور اس کو استعمال کرنے کی اجازت صرف اس کے رسول کو ہی ہے۔ وہ اللہ کے حکم اور اجازت سے مال غنیمت کو استعمال کریں گے۔ تم مجاہدین کو تو اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں اور بس۔ دوسرا تم لوگ جو بھی کام کرو صرف اللہ کی خوشی حاصل کرنے کے لیے کرو۔ اللہ کے غصہ سے ڈرتے رہو۔ تیسرا اپنے آپس کے تعلقات کو دنیاوی فائدوں کی وجہ سے مت خراب کرو اور یاد رکھو تم سب اسلام کے رشتہ سے بھائی بھائی ہو۔ چوتھا یہ کہ ہر قسم کے جھگڑے بجائے خود طے کرنے کے، اللہ اور رسول ﷺ پر چھوڑ دو ۔ کیونکہ مسلمان کی زندگی کے تمام اصول و قوانین اللہ بنانے والا اور رسول اللہ ﷺ بتانے والے ہیں، اس لیے جو فیصلہ وہ کریں اس کو تم لوگ بغیر حیل و حجت کے مان لو۔ یہ حکم تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ہے۔ پھر اگلی آیات میں مومن کی تعریف بیان کی گئی ہے ملاحظہ ہو۔
Ayahs 8:2–4

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

مومن تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ ( آیات) ان کا ایمان زیادہ کردیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

اور وہ نماز پڑھتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

یہی سچے مومن ہیں۔ اور ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے، بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

مؤمنین کی صفات تشریح : ان آیات میں بھی مومن کی خاص صفات بتائی گئی ہیں۔ سچے مومن کی پانچ علامات بتائی گئی ہیں۔ -1 اللہ کا نام سن کر اس کی عزت و احترام اور بڑائی کا خیال ان کے دلوں میں یوں پیدا ہوتا ہے کہ دل خوف سے لرز اٹھتے ہیں۔ -2 جیسا کہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی بڑی پر اثر بات کو غور سے سنتا ہے تو اس بات کے مطابق اس کے دل میں زیادہ اثر اور مضبوطی پیدا ہوتی ہے اسی طرح جب مومن غور سے قرآن کی آیات سنتا ہے تو اس کے ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے اس کے دل میں نور ایمان روشن ہوتا ہے۔ اس کی روح اور بھی پاکیزہ ہوجاتی ہے اور اس کا چہرہ نور ایمان سے دمکنے لگتا ہے۔ -3 وہ نماز قائم رکھتے ہیں۔ پورے ادب و احترام، خشوع و خضوع اور سنت کے مطابق نماز ادا کرتے ہیں۔ -4 اللہ نے جو مال و دولت ان کو عطا کر رکھا ہے وہ اس میں اسراف سے کام نہیں لیتے بلکہ بڑے طریقے سلیقے سے خرچ کرتے ہیں اپنے اوپر، اپنے بیوی بچوں کے اوپر، ماں باپ، عزیزوں اور دوستوں پر اور پھر غریب محتاج، رشتہ دار اور عام لوگوں پر بڑی خوشی سے خرچ کرتے ہیں۔ -5 صرف اور صرف اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اللہ کے سوا نہ کسی کی عبادت کرتے ہیں نہ کسی سے مدد مانگتے ہیں، یعنی شرک، رشوت اور سفارش سے وہ اپنے آپ کو بالکل بچا کر رکھتے ہیں۔ جب ہم ان تمام صفات کو دیکھتے ہیں تو ہمارے سامنے ایک انتہائی کامیاب، مطمئن، خوبصورت، پرہیزگار اور کامل انسان کا نقشہ آجاتا ہے جو خود اپنے لیے اپنے گھر، محلہ، شہر اور ملک کے لیے باعث رحمت و باعث سکون ہوتا ہے اور ایسا شخص صرف دنیا میں ہی کامیاب و کامران نہیں ہوتا بلکہ رب العالمین نے ایسے سچے اور پکے مومنین کے لیے آخرت میں بہترین درجات، انعامات اور سہولتوں کا اعلان کیا ہے۔ الہ العالمین ایسے لوگوں کے چھوٹے موٹے گناہ ویسے ہی معاف کر دے گا اور ان کو آخرت میں بڑی ہی شاندار رہائش گا ہیں دی جائیں گی جن میں وہ بڑے ٹھاٹ باٹ سے زندگیاں گزاریں گے۔ کتنی مزے کی باتیں اور راز کی باتیں قرآن پاک ہمیں بتا رہا ہے۔ اس دنیا کو تو ہم جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اچھا کام کرکے جو خوشی اور سکون ملتا ہے وہ برے کام کے کرنے میں نہیں ملتا مگر اس کا اجر جو مرنے کے بعد ملے گا وہ ہماری نظر سے اوجھل ہے تو اس کے بارے میں ہمیں قرآن بتا رہا ہے۔ جو کہ بالکل سچ ہے اور اس میں شک و شبہ کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں۔ ہمیں زندگی کا ہر لمحہ اللہ سے مدد مانگتے ہوئے اس سے ڈرتے ہوئے گزارنا چاہیے اور جن و انس کی شرارت اور خباثت سے اللہ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ یہی تو انسانی کامیابی کے زینے ہیں۔” انسان کے دل میں ایمان یہ ہے کہ وہ اللہ سے محبت رکھے۔ “ (کتاب فردوس)
Ayahs 8:5–6

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیے تھا) جس طرح آپ کے رب نے آپ کو تدبیر کے ساتھ آپ کے گھر سے نکالا اور اس وقت مومنوں کی ایک جماعت ناخوش تھی۔

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہونے بعد آپ سے جھگڑ پڑے گویا موت کی طرف دھکیلے جا رہے ہوں اور موت کو دیکھ رہے ہوں۔

جنگ کے ابتدائی اسباب تشریح : ان آیات کے حوالے سے جنگ کے ابتدائی مراحل کا ذکر اسباب کے ساتھ کردینا ضروری ہے۔ ہوا اس طرح کہ جب سے نبی اکرم ﷺ ہجرت کرکے مدینہ آئے تھے کفار کو ان کی یکجہتی اور مضبوطی بری طرح کھٹک رہی تھی۔ اسی بات کے پیش نظر کہ مسلمان کہیں ایک مضبوط طاقت نہ بن جائیں اہل مکہ اکثر ان کو تنگ کرتے رہتے اسی کوشش میں کرزبن جابر کی سر کردگی میں مدینہ کے قریب چرنے والے مویشیوں کو لوٹا گیا۔ غرض ہر وقت اسی کوشش میں رہتے کہ کسی طرح مسلمانوں کو تہس نہس کردیا جائے۔ نبی اکرم ﷺ نے بھی کچھ نہ کچھ تدابیر کر رکھی تھیں کیونکہ یہ فیصلہ کن مرحلہ تھا اور کفر و اسلام کی بقاء و ترقی کا پہلا ایسا معرکہ تھا کہ جو بھی جیت گیا وہ چھا جائے گا۔ انہی حالات میں یہ واقعہ پیش آیا۔ سن 2 ہجری کی بات ہے کہ ابو سفیان ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ لیکر شام سے مکہ واپس آرہا تھا۔ اس تجارتی قافلے کے محافظ چالیس پچاس آدمی تھے، ایک ہزار بار بردار اونٹوں پر مشتمل تھا اور تقریباً پچاس ہزار دینار کا مال لے کر مکہ جارہا تھا۔ ابوسفیان کو خطرہ محسوس ہوا کہیں مسلمان ان پر حملہ نہ کردیں اور ان کے محافظ بھی کم تھے، لہٰذا اس نے جیسے ہی قافلہ حدود حجاز میں داخل ہوا ایک ہوشیار آدمی ضمضم بن عمرو کو مکہ روانہ کردیا یہ پیغام دے کر کہ حفاظت کے لیے آجاؤ ہمیں مسلمانوں سے خطرہ ہے۔ اس پر مکہ کے ایک ہزار جوان پوری طرح مسلح ہو کر مدینہ کی طرف چل پڑے، ان میں 600 زرہ پوش اور سو گھڑ سوار تھے۔ اب ایک طرف تجارتی قافلہ تھا اور دوسری طرف بڑا جنگی لشکر۔ ان کا مقابلہ اگر اس وقت مسلمان نہ کرتے تو پھر پورے عرب میں ان کو کہیں پناہ نہ ملتی، لہٰذا نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں سے رائے لی تو اس پر مہاجرین میں سے مقداد بن اسود ؓ نے کہا کہ ” ہم بنی اسرائیل کی طرح آپ کو اکیلا لڑنے کے لیے ہرگز نہ کہیں گے۔ “ پھر انصار میں سے سعدبن عبادہ ؓ نے عرض کی کہ ” اللہ کی قسم ہم میں سے کوئی بھی یہ گوارا نہ کرے گا کہ آپ اکیلے جا کر لڑیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہم سے وہ سب کچھ دکھا دے گا جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی۔ “ اس کے بعد کفار سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے انتہائی خوشی سے فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ ان دونوں جماعتوں میں سے ایک جماعت پر ہمارا غلبہ ہوگا۔ دونوں جماعتوں سے مراد، ایک ابوسفیان کا تجارتی قافلہ اور دوسرا مکہ سے آنے والا لشکر ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی قسم میں گویا اپنی آنکھوں سے مشرکین کی قتل گاہ کو دیکھ رہا ہوں۔ “ (تفسیر ابن کثیر، مظہری) آیت کے آخر میں کچھ ناراضگی کا اظہار ان الفاظ میں کیا گیا کہ گویا ان لوگوں کو زبردستی موت کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ یہ اس لیے کہا گیا۔ کیونکہ بظاہر مسلمان انتہائی کم تعداد میں تھے اور پھر لڑائی کے سامان سے بھی محروم تھے کیونکہ مسلمان تعداد میں صرف 313 تھے، دو گھوڑے، ستر اونٹ اور 60 زرہیں تھیں۔ صحابہ کا اس بےسروسامانی کی حالت میں نکلنا انکی طبعیتوں کے لیے ایسے ناگوار تھا جیسے وہ موت کی طرف دھکیلے جارہے ہوں، مگر کیونکہ نبی ﷺ کا حکم اور حق کے لیے لڑائی تھی اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ۔ اس لیے تمام صحابہ کرام بخوشی بلکہ بلند ترین جذبات کے ساتھ دشمن کے مقابلہ میں نکل کھڑے ہوئے۔ آگے دیکھیے اللہ کی قدرتیں۔
Ayahs 8:7–17

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور جب اللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا (ابو سفیان اور ابوجہل) کے دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارے لیے (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بےشان و شوکت، یعنی بےہتھیار ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ چاہتا تھا کہ اپنے حکم سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر رکھ دے۔

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کر دے گومجرموں کو ناگوار ہی ہو۔

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی اور فرمایا کہ میں ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کروں گا۔

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور اس مدد کو اللہ نے صرف بشارت بنایا تھا تاکہ تمہارے دل مطمئن ہوجائیں اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

جب اس نے تمہارا خوف دور کرنے کے لیے اپنی طرف سے تم پر غنودگی طاری کردی اور تم پر آسمان سے پانی برسا دیا تاکہ تم کو (اس سے نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کر دے اور اس لیے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس طرح تمہارے پائوں جمائے رکھے۔

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

جب تمہارا رب فرشتوں کو حکم دے رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں، میں ابھی کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔ تم ان کی گردنیں اڑا دو اور ان کی پورپور کاٹ دو ۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ سزا اس لیے دی گئی کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ کا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ مزہ تو یہاں چکھو اور جان لو کہ کافروں کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب بھی تیار ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب میدان جنگ میں کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جو شخص جنگ کے روز حکمت عملی سے دشمن کو مارے یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے وہ ٹھیک ہے لیکن جو ان سے پیٹھ پھیرے گا تو سمجھو کہ وہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہوگیا اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا ہے۔ اور ( اے نبی ﷺ ! ) جس وقت آپ نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ آپ نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اچھی طرح آزما لے، بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔

اللہ کی حکمتیں، کفار کی سزا اور مسلمانوں کی مدد تشریح : غزوئہ بدر مسلمانوں اور کفار کے درمیان میدان جنگ میں لڑنے کا پہلا معرکہ تھا۔ گو کہ مسلمان کم اور کفار زیادہ تھے۔ اسی لیے صحابہ کرام کا خیال تھا کہ اگر ابوسفیان کے قافلے سے مقابلہ ہوجائے تو زیادہ اچھا ہے کیونکہ ایک تو وہ جنگی تیاری سے نہیں نکلے اور دوسرے مال و دولت خوب ہاتھ لگے گا۔ مگر اللہ کا فیصلہ اس کے برعکس تھا۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ زورآور اور حکمت والا ہے وہ اسلام کی طاقت اور کفر کی بےبسی کا فیصلہ دشمنوں کو صاف طور پر دکھانا چاہتا تھا کہ دیکھو مسلمانوں کی روحانی طاقت اور توکل علی اللہ کس قدر مضبوط ہے کہ ایک چھوٹی سی اور بےسروسامان طاقت نے ایک اتنی بڑی اور جنگی سامان سے مسلح جماعت کو کیسے شکست دے دی اور یوں حق و باطل کا فرق تمام دنیا کو بتا دیا اور اس طرح کفار ہمیشہ کے لیے دہشت زدہ اور مسلمان بلند حوصلہ ہوگئے، پھر مسلمانوں کو مخاطب کیا کہ یہ فتح اللہ کی خاص برکت، رحمت اور مدد کی وجہ سے ہوئی ہے۔ کہیں تکبر اور غرور سے نافرمانی نہ کربیٹھنا۔ تمہیں خوب اچھی طرح بلکہ تمام مسلمانوں کو ہر وقت، ہر صورت، ہر کامیابی میں اللہ رب العزت کا شکر ہی ادا کرنا چاہیے کیونکہ جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ کی تدبیر اور اس کی مصلحت اور مرضی سے ہی ہوتا ہے۔ انسان کی کیا مجال ہے کہ اس کی تدبیر میں دخل اندازی کرسکے انسان کا کام یہ ہے کہ اپنی پوری قوت اور پورے خلوص سے کام کرے مگر انجام اللہ پر چھوڑ دے۔ جیسا کہ غزوہ بدر میں کم تعداد اور اسلحہ کی کمی اور پھر جس جگہ لشکر نے پڑائو ڈالا ہر لحاظ سے نامناسب اور تکلیف دہ تھا۔ کیونکہ مسلمانوں کو پڑاؤڈالنے کے لیے جو زمین میسر آئی وہ ریتلی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے بڑے سکون اور اللہ پر توکل کرتے ہوئے اسلامی لشکر کو ترتیب دے دیا پھر اللہ تعالیٰ سے مدد اور فتح کی دعا کرنے لگے تب اللہ رب العزت نے ان کو خوشخبری دی کہ فکر مت کرو۔ ایک ہزار فرشتے تمہاری مدد کو آئیں گے۔ فکر مت کرو تم نے اللہ سے مدد مانگی ہے اور وہ سب پر غالب اور بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ یہاں تین طرح سے رب العالمین نے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ ایک فرشتوں کی مدد سے لوگوں کے دلوں کو سکون، بےفکری اور اطمینان دے دیا۔ دوسری مدد یہ تھی کہ پورے لشکر کو ایک ایسی میٹھی نیند دے دی کہ چند ساعتوں کی اس پرسکون نیند سے لوگ ہشاش بشاش ہوگئے، نیند بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے جو تمام جسم کو پرسکون تر و تازہ اور چاک و چوبند کردیتی ہے اور تیسری لشکر پر بارش برسا دی جس کی وجہ سے لوگ اور بھی تروتازہ ہوگئے پانی کی کمی دور ہوگئی اور ریت بیٹھ گئی جو چلنے پھرنے میں مددگار ثابت ہوئی۔ یہاں اس توکل کا ثبوت ملتا ہے جو مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، یعنی جب مسلمان کہتا ہے کہ ” میں ایمان لایا اللہ پر اس کے فرشتوں پر اور اس کے رسولوں پر “ تو یہ قول مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط اور پرسکون کردیتا ہے اور اسی لیے کفار کے لشکر پر اللہ نے مسلمانوں کا رعب اور دبدبا طاری کردیا، کیونکہ ان کے دل اللہ (جو سب سے بڑا ہے) کے نور سے خالی تھے اور کفر کی ظلمتوں میں ڈوبے ہوئے تھے بھلا وہ مسلمانوں کے رعب میں کیوں نہ آجاتے۔ مسلمان کا ایک نعرہ ” اَللہُ اَکْبَرُ “ ہی کفار کو دہلا دینے کے لیے کافی ہوتا ہے، کیونکہ مسلمان اپنے سے کئی گنا زیادہ طاقت اور تعداد پر بھاری ہوتا ہے۔ اللہ نے ان کی مدد فرشتوں سے نیند سے اور بارش سے کی اور فرشتوں کو حکم دیا کہ تم ان کی کھوپڑی، کنپٹی، ناک، کان، ٹھوڑی، جبڑا اور بدن کے تمام جوڑ انگلیوں کلائی اور گھٹنے وغیرہ پر خوب زور کی چوٹیں لگائو اس سے انسان فوراً ہلاک ہوجاتا ہے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ کفار کو تو یہ سزا اس لیے دی جا رہی ہے کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔ دنیا میں ناکامی اور بربادی کی سزا تو ان کو اس بدترین شکست کی صورت میں دی جا رہی ہے آخرت میں بھی ان کے لیے دوزخ کا شدید ترین عذاب تیار کیا گیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو جنگ کے کچھ اصول بتاتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ جنگ میں جاؤ تم پورے یقین، خود اعتمادی اور مرد کامل بن کر مضبوط ارادے کے ساتھ جاؤ۔ کبھی بھی میدان جنگ سے بھاگ کر واپس نہ آئو۔ یہ مسلمان کی شان کے خلاف ہے۔ مسلمان کی شان یہ ہے کہ مرجاؤ تو شہید، جنگ جیت کر واپس آئو تو غازی۔ بھاگنے کا دستور صرف کفار کا ہے مسلمان کا نہیں۔ ہاں ! اگر کسی جنگی چال کی وجہ سے پیچھے ہٹنا پڑے یا کمانڈر کے حکم سے بڑی جماعت میں شامل ہونے کے لیے جگہ سے ہٹنا پڑے تو یہ جائز ہے ورنہ یہ مسلمان کی نافرمانی کا عمل ہوگا اور اللہ کو یہ نافرمانی بےحد ناپسند ہے اللہ فرماتا ہے کہ ایسے شخص کو جہنم کا عذاب دیا جائے گا اور یہ عذاب بڑا ہی سخت عذاب اور بہت برا ٹھکانا ہے۔ جب لڑائی بڑے زور شور سے ہو رہی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے ایک مٹھی ریت کی کفار کی طرف پھینکی اور ساتھ ہی ان کے لیے فرمایا : ” ان کے چہرے بگڑ گئے۔ “ یہ مٹھی بھر ریت اللہ کی طرف سے میدان جنگ میں چوتھی قسم کی مددتھی جو لشکر کے لیے ناقابل برداشت ہوگئی کیونکہ یہ اللہ سبحانہ ‘ تعالیٰ کی مدد تھی۔ اس جنگ میں فتح صرف اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رضا کی وجہ سے ہوئی۔ اللہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ہم نے مسلمانوں پر خاص طور سے احسان کیا ان کی مدد کی اور کفار پر ان کو سبقت دلائی اب یہ بھی مسلمانوں کے لیے ایک آزمائش ہے کہ وہ اس فتح پر اللہ کا کس حدتک شکر ادا کرتے ہیں اور کس حدتک اپنا کمال سمجھتے ہیں۔ غرور کے بجائے عاجزی و انکساری سے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں۔ اچھے مسلمان کو تو خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ ہی سب سے بڑا مددگار ہے، سننے والا اور جاننے والا ہے۔ یہی مسلمان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ جو اس کو دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران اور پرسکون کرتا ہے۔ سورة البقرۃ آیت 165 میں اللہ فرماتا ہے۔ ” ساری کی ساری قوت اللہ کی ہے۔ “
Ayahs 8:18–19

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

بات یہ ہے کچھ شک نہیں کہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

کافرو ! اگر تم فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی، دیکھو ! اگر تم اپنے کاموں سے باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اگر پھر پہلے سے کام کرو گے تو ہم بھی ایسا ہی کریں گے اور تمہاری جماعت چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو تمہارے کام نہ آسکے گی۔ اور اللہ تو یقینامومنوں کے ساتھ ہے۔

کافروں کے لیے غزوہ بدر سے عبرت تشریح : جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ اس جنگ کے بہت سے مقاصد تھے اور سب سے بڑا مقصد اللہ وحدہ ‘ لاشریک کی عظمت، طاقت، حکمت اور رحمت کا ثبوت دینا تھا۔ مسلمانوں کی مدد خود اللہ نے انعام کے طور پر کی اور پھر سمجھا دیا کہ یہ سب کچھ فرمانبرداری کے صلہ میں ہوا اور سب سے بڑا سبق بھی یہی دیا گیا کہ اسباب پیدا کرنے والا اور حق کو اپنانے والے مسلمانوں کی حمایت کرنے والا اور مسلمانوں کو فتح و کامیابی دینے والا رب العالمین ہی ہے کوئی بندہ اس غرور میں مبتلا نہ ہوجائے کہ یہ سب خود اس کا اپنا کمال ہے۔ صحابہ کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے رشتہ داروں، گھر بارحتی کہ ساری دنیا کو چھوڑ کر صرف اللہ واحد کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور یوں اپنے آپ کو شیطان کی شرارت سے بچا کر اللہ کی حفاظت میں دے دیا اور پھر اللہ و رسول کی محبت میں اپنا سب کچھ بھلا دیا تو بھلا ایسے بندوں کی مدد اللہ تعالیٰ خود کیوں نہ کرے گا۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ ارادہ فرماتا ہے جو بندہ میری طرف ایک بالشت چل کر آئے میں اس کی طرف ایک ہاھ چل کر آتا ہوں، جو چل کر آتا ہے میں اس کے پاس بھاگ کرجاتا ہوں۔ (صحیح بخاری ) غرض غزوئہ بدر میں اللہ نے مسلمانوں کی جان نثاری کے بدلے میں بہترین فتح عطا کی تو پھر مسلمانوں کو یہ بھی بتا دیا کہ کہیں غرور میں نہ آجانا اور کفار کو بھی یہ بتا دیا کہ اب تو سمجھ جاؤ کہ دین اسلام ہی حق ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ جب ابوجہل مسلمانوں کے مقابلے کے لیے نکلنے لگا تو اس نے بیت اللہ کا پردہ پکڑ کر یہ دعا مانگی : ” یا اللہ ! دونوں لشکروں میں سے جو اعلیٰ و افضل ہے اور دونوں جماعتوں میں سے جو زیادہ ہدایت پر ہے اور دونوں پارٹیوں میں سے جو زیادہ کریم و شریف ہے اور دونوں میں سے جو دین افضل ہے اس کو فتح دے دیجئے۔ “ (مظہری بحوالہ معارف القرآن صفحہ 203) جنگ ختم ہونے پر اللہ رب العزت نے ان پر واضح کردیا کہ اگر تم اللہ کا انصاف چاہتے ہو تو پھر وہ سامنے آچکا ہے، اس لیے اب تمہیں سمجھ جانا چاہیے اور اپنے عقیدے کو درست کرلینا چاہیے ورنہ پھر اسی طرح شکست کھائو گے کیونکہ یہ جنگ تو تمہاری، حق یعنی اللہ کے ماننے والوں کے ساتھ ہوگی چاہے کتنا بھی بڑا زبرست انتظام کرلو فتح پھر بھی مسلمانوں کی ہی ہوگی کیونکہ ان کی مدد قادر مطلق الہ العالمین کی طرف سے ہوگی۔ اس کا مقابلہ تم مشرک اور باطل کے حمایتی کیا کرسکتے ہو ؟ کتنی بڑی حقیقت ہے جو بدر کے واقعہ میں بیان کردی گئی ہے۔ کہ بیشک کفار بتوں کو پوجتے تھے لیکن اللہ کو ضرور مانتے تھے۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ رب العزت نے تمام انسانوں کی فطرت میں اپنا تصور ضرور رکھ دیا ہے جیسا کہ عہد ربوبیت (جس کا ذکر ہوچکا) عالم ارواح میں ہر بندے سے لیا جا چکا ہے۔ مگر انسان اپنے پیدا کرنے والے کو بھول جاتا ہے اور غلط اعتقادات میں پڑجاتا ہے۔ اسی لیے اس کی ہدایت کے لیے ہمیشہ انبیاء اور رسول بھیجے جاتے رہے ہیں جو طرح طرح سے لوگوں کو توحید کی تعلیم دیتے رہے ہیں مگر خوش نصیب ہیں وہ جنہوں نے توحید کی تعلیم کو سمجھا اور مانا اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اپنی ہٹ دھرمی اور بےعقلی کی وجہ سے شرک اور کفر کی راہوں کو چھوڑ نہ سکے اور اللہ کی رحمت سے محروم رہے۔ اللہ کی رحمت، مدد اور فضل و کرم ہر وقت ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اس کے طلب گار ہیں۔ ایسے لوگوں کا ہر کام، ہر سوچ اور ہر ارادہ اللہ کے فرمان کے مطابق ہوتا ہے۔ اسی لیے مومن کے ہاتھ کو اللہ کا ہاتھ کہا گیا ہے۔ اس کی وضاحت علامہ اقبال نے شعر میں یوں بیان کی ہے۔ ولایت، پادشاہی، علم اشیاء کی جہانگیری یہ سب کیا ہیں فقط اک نکتہ ایماں کی تفسیریں مطلب یہ ہے کہ سلطنتوں اور حکومتوں کا قیام، علوم و فنون میں ترقی، یہ سب ایمان کامل کی وجہ سے ہی ہوسکتا ہے۔ جو اللہ پر پختہ ایمان رکھتے ہیں اس پر پورا بھروسہ کرتے ہیں۔ اسی کی رضا کو ہر وقت نظر کے سامنے رکھتے ہیں تو ایسے ہی لوگوں کی اللہ بھی مدد کرتا ہے۔ لیکن کبھی احسان کرکے اور کبھی تکلیف دے کر ان کو آزماتا ضرور رہتا ہے۔ اگلی آیات میں مرد کامل، سچے مسلمان کی تعریف اللہ کن الفاظ میں کرتا ہے ؟
Ayahs 8:20–24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے مت پھرو۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے ( اللہ کا حکم) سن لیا مگر حقیقت میں سنتے نہیں۔

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ اللہ کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتروہ بہرے، گونگے لوگ ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے۔

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر اللہ ان میں نیکی کا مادہ دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق دیتا اور (اگر بغیر صلاحیت کے) ان کو سنا دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

مومنو ! اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو جب کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو (ہمیشگی کی) زندگی بخشتا ہے اور جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے سامنے جمع کیے جاؤ گے۔

اطاعت الٰہی ہی اصل زندگی ہے تشریح : جیسا کہ بدر کے واقعہ سے بیشمار سبق دیئے گئے ہیں اسی طرح پھر یہاں دہرایا جا رہا ہے کہ مشرکین کی شکست کی وجہ صرف اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی تھی، لہٰذا مسلمانوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ اپنی اس فتح کو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سمجھیں جو انہیں ایمان اور فرمانبرداری کے بدلے میں دی گئی ہے۔ ، اس لیے ایمان پر قائم رہیں۔ دوسرا یہ کہ کبھی اس راستے سے ہٹیں نہیں، پھر تاکیداً کہا جا رہا ہے تمام امت مسلمہ کو کہ سننے کے بھی چار درجات ہیں۔ -1 صرف سن لیا عمل نہ کیا۔ -2 کانوں سے سنا اور سمجھا مگر اعتقاد نہ کیا۔ -3 سنا، سمجھا ایمان بھی لائے مگر عمل نہ کیا۔ -4 سنا، سمجھا، ایمان لائے اور عمل بھی کیا۔ یہ آخری درجہ مومن کی صفت میں آتا ہے، پھر اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کی طرح ہرگز نہ ہوجانا جو نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں اور نہ عمل ہی کرتے ہیں تو ایسے لوگ مشرک، منافق اور کفا رکے درجے میں آتے ہیں۔ ان کے پاس کان ہوتے ہیں مگر نیکی کی بات سننا پسند نہیں کرتے، یعنی یہ لوگ بالکل جانوروں کے برابر ہوتے ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہوجاتے ہیں کیونکہ جانوروں کو تو عقل سلیم سے اللہ نے محروم رکھا ہے جبکہ انسان کو احسن تقویم کہا گیا ہے اور پھر انسان کو علم و حکمت عطا کرکے فرشتوں سے بھی بلند درجہ دیا گیا ہے مگر اس میں بھی شرط یہی ہے کہ جو انسان اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ﷺ اختیار کرتا ہے قرآن کو غور سے سنتا ہے سمجھتا ہے عمل کرتا ہے اور دوسروں کو عمل کی ترغیب دیتا ہے۔ اور جو انسان ان تمام صفات سے خالی ہوتا ہے تو وہ پھر سب سے بدترین درجہ میں چلا جاتا ہے۔ حیوانوں سے بھی بدترین درجہ اس کا ہوجاتا ہے فرمایا : ” ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سَافِلِیْنَ “ پھر ہم اسے ذلیل ترین مخلوق بنا دیا۔ ( التین آیت : 5) ایسے ہی لوگ اللہ کی رحمتوں، برکتوں، فضل و کرم اور مہربانیوں سے دور ہوجاتے ہیں۔ بظاہر دنیاوی نعمتوں سے مالا مال ہو بھی جائیں تو دلی سکون ان کو ہرگز نہیں ملتا۔ دنیا میں بےسکونی کی زندگی گزارتے ہیں اور آخرت میں تو انہیں بہت ہی برا ٹھکانا ملے گا۔ ایسے لوگ ایمان کے نور سے دور ہوتے ہیں۔ ان کو زبردستی ایمان کی طرف بلائو، پھر بھی وہ اپنی ضد پر ہی قائم رہتے ہیں تو پھر اللہ بھی گمراہی کے راستے ہی ان کے لیے آسان کردیتا ہے پھر دوبارہ مومنین کو مخاطب کیا جا رہا ہے کہ اپنے ایمان کے نور کی حفاظت کرو۔ اس کو اطاعت الٰہی و اطاعت رسول سے مضبوط کرو اور دنیا و آخرت میں بھلائیاں حاصل کرو۔ نیک کام جو بھی تمہارے سامنے آئے فورا کر ڈالو۔ نیکی کے کام میں کبھی دیر نہ کرو۔ کیونکہ اللہ قادر مطلق ہے انسان کا ہر لمحہ اس کی نگرانی میں ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : ” یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ “ ” اے دلوں کے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت اور قائم رکھنا۔ “ (معارف القرآن) ایمان ایک مظبوط رسی ہے جس نے انسان کو اللہ کے ساتھ جوڑ رکھا ہے جو اس رسی کو تقویٰ اور اطاعت رسول ﷺ سے مضبوط کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے وہ اللہ کے فضل و کرم سے بھرپور اور کامیاب زندگی گزارتا ہے ہر وقت موت، قیامت اور قیامت کے بعد زندگی بھرکے حساب کتاب کو یاد رکھو۔ دن رات ہمارے سامنے لوگ مرتے ہیں اور قرآن پاک میں بیشمار دفعہ اس دن کا ذکر کیا گیا ہے جو ہمارے لیے راز ہے ہماری آنکھوں سے بظاہر پوشیدہ ہے مگر بصیرت علم و عرفان کی آنکھوں سے اور قرآن کی ہدایات سے اس دن کو جو حساب کتاب کا دن ہے بڑی صفائی سے دیکھ رہے ہیں اللہ فرماتا ہے : ” مگر جب اللہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو ! تمہاری اس سرکشی کا وبال تم ہی کو بھگتنا ہوگا۔ دنیا کے چند روزہ مزے ہیں، پھر ہماری ہی طرف پلٹ کر تم کو آنا ہے۔ اس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے جو کچھ تم کرتے رہتے تھے۔ “ ( یونس آیت : 23 ) سورة ہود کی آیت 34 میں اللہ فرماتا ہے۔ ” وہ تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے۔ “ پیغمبر سچی خبر دینے والا ہے۔ قرآن سچی کتاب ہے اور پیغمبر کا دل روحانی بلندیوں کا حامل ہوتا ہے۔ وہ حق دیکھتا ہے، حق کہتا ہے اور سچ باتوں کی خبر پیغمبر کے ذریعے دی گئی ہے وہ اٹل اور یقینی ہے، پھر سورة البقرہ کی آیت نمبر 2 میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔ یہ کتاب قرآن مجید اس میں کچھ شک نہیں کہ کلام الٰہی ہے اور ( اللہ سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے “۔ اللہ رب العالمین ہمیں سب کو شک و شبہ سے بچا کر ایمان کامل کی توفیق دے کر سرخرو کرے۔ آمین۔
Ayahs 8:25–29

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور بچو اس فتنہ سے جس کی مصیبت صرف ظالموں تک محدود نہ رہے گی اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

یاد کرو وہ وقت کہ جب تم تعداد میں بہت کم تھے۔ اور زمین میں تمہیں کمزور سمجھا جاتا تھا، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک کر نہ لے جائیں، پھر اللہ نے تمہیں پناہ کی جگہ دے دی اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے، تمہیں اچھا رزق پہنچایا، تاکہ تم شکر گزار بنو۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جانتے بوجھتے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت نہ کرو۔

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور جان رکھو ! کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں تمہارے لیے آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ (حق و باطل میں فرق کرنیوالی) قوت امتیازعطا کر دے گا۔ اور تمہاری برائیوں کو تم سے دور کر دے گا اور تمہارے قصور معاف کر دے گا۔ اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔

ماضی کی یاد سے مستقبل سنوارنا اور تقو ٰ ی کے فوائد تشریح : جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ قرآن مجید ہدایت کی آخری کتاب اور انسان کے لیے قانون زندگی ہے ان آیات میں بھی چند ایسے اچھے اصول بتائے گئے ہیں جو کردار کو مضبوط کرتے ہیں اور نجات کا ذریعہ بنتے ہیں اس زندگی میں رحمت، برکت، آسائش و آرام کا ذریعہ بنتے ہیں۔ -1 فتنہ سے بچو اس میں ہر قسم کی برائی شامل ہے۔ خود بچو اگر غلطی ہوجائے تو چپکے سے اللہ سے معافی مانگ لو، گناہ کی تشہیر نہ کرو۔ -2 پھر نیکی کرو، برائی سے منع کرو، کیونکہ برائی جب پھیلنا شروع ہوتی ہے تو پھر اس کے برے اثرات ہر جگہ پھیلتے ہیں پھر جب اس برائی کی وجہ سے اللہ کا عذاب آتا ہے تو سب اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں اور یوں معاشرہ کا ہر برا اور اچھا آدمی اس کا شکار ہوجاتا ہے۔ مثلاً : چھوٹی سی برائی ہے ” جگہ جگہ تھوکنا “ مگر اس سے جو گندگی، بیماری اور وحشت پورے محلہ، شہر یا ملک میں پھیلتی ہے تو اس سے سب لوگ ہی عذاب کا نشانہ بن جاتے ہیں، اس لیے اگر کوئی شخص تمہارے سامنے چھوٹی سے چھوٹی یا بڑی برائی کرے تو انسان کا فرض ہے اس کو پیار محبت سے، ڈرا دھمکا کر غرض جیسے بھی ممکن ہو منع کرے۔ -3 خیانت سے منع کیا گیا ہے۔ خیانت صرف مال و دولت میں ہی نہیں۔ اس کے بہت سے طریقے ہیں۔ مثلاً : کسی کے راز کو ظاہر کردینا یا اس کی تشہیر کرنا یاناجائز طریقہ سے مال و دولت کو ہڑپ کرنا، غرض ہر طرح کی خیانت ہوسکتی ہے جس میں حقوق العباد اور حقوق اللہ دونوں شامل ہیں۔ اس کی تفصیل کافی وضاحت سے بیان ہوچکی ہے۔ -4 مال و اولاد کی محبت میں اللہ سے دور نہ ہوجاؤ دنیاوی کشش کے یہ دونوں بڑے زبردست فتنے اور فضل و کرم ہیں۔ فتنے اس لیے کہ اگر ان کی محبت میں انسان اللہ کی بتائی ہوئی حدود کو توڑ دے تو ان سے بڑا فتنہ اور کوئی نہیں۔ فضل و کرم اس طرح کہ یہ انسانی زندگی کے سکون اور آسائش کا بہت بڑا ذریعہ ہیں، اگر ان کو طریقہ و سلیقہ سے رکھا جائے مال کو اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں سے استعمال کیا جائے اور اولاد کو بہترین تربیت دے کر انسان کامل اور اللہ اور اس کے رسول کا فرمانبردار، بہترین شہری بنا کر میدان عمل میں چھوڑا جائے تو یقینا اولاد انسان کے لیے صدقہ جاریہ کا مقام رکھتی ہے، یعنی اولاد کی ہر نیکی کا ثواب والدین کو ہمیشہ پہنچتا رہتا ہے۔ یہی تو تمام اچھائیاں ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو پھیلانے اور مضبوط کرنے میں مسلمانوں کی بےحد مدد کی، سب سے پہلے تو مکہ کی زندگی کا ذکر کیا گیا ہے کہ کس مصیبت، خوف و ہراس، پریشانی اور بےسرو سامانی کے حالات میں چھوٹی سی ایک جماعت زندگی گزار رہی تھی (مسلمانوں کا مکی دور) تو اللہ نے ان کی سہولت، مدد اور کامیابی و سکون کے لیے مدینہ کے لوگوں کو ان پر مہربان کردیا اور یوں آنحضرت ﷺ چھوٹی سی جماعت کے ساتھ وہاں ہجرت کرگئے اور پھر ان کے حالات اس طرح کردیئے کہ وہ مضبوط سے مضبوط ہوتے چلے گئے اور مسلمان دنیا کے دور دراز خطوں تک پہنچ گئے۔ یہ سب کچھ اللہ کی مہربانی اور اس کے فیصلہ کے مطابق ہوا۔ اسی لیے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو۔ اللہ سے ڈرتے رہو، یعنی انتہائی پاکیزہ اور نیک زندگی گزارنے کی پوری پوری کوشش کرو اس نیک اور صالح زندگی کا تمہیں بہت بڑا انعام ملے گا۔ دنیا میں خوشی اور سکون کی صورت میں اور آخرت میں جنت کی صورت میں۔ پھر فرمایا کہ نیک لوگوں کے لیے نیکی کے راستے آسان کردیئے جاتے ہیں اور ان کو برائیوں سے محفوظ و مامون کردیا جاتا ہے۔ اگر غلطی سے وہ کوئی گناہ کر بیٹھیں تو اللہ اللہ رب العزت ان کی خطائوں کو اپنے رحم و کرم سے معاف فرما دیتا ہے کیونکہ وہ تو ہے ہی مہربان اور فضل و کرم کرنے والا۔ ” اللہ “۔ اس کی تعریف کرنا کسی انسان کے بس میں نہیں کیونکہ اگر دنیا کے تمام درختوں کی قلمیں بن جائیں اور تمام سمندروں کی سیاہی بنا دی جائے تو یہ سب کچھ اللہ کی تعریف مکمل کرنے میں ناکافی ہوجائیں گے ؟ اس لیے اس کی تعریف کو مکمل کرنا ممکن نہیں بس اس کے سامنے عاجزی سے سر جھکانا اور اس کی تسبیح و تقدیس کرتے رہنا ہی انسان کا فرض ہے تو پھر اتنے بڑے، قادر مطلق کی نافرمانی کرنا، کس قدر نادانی کی بات اور گھاٹے کا سودا ہے۔ لہٰذا ہر وقت اس سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے کہ شیطان کی شرارت سے محفوظ و مامون رکھے۔ آمین۔
Ayah 8:30

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور ( اے نبی ﷺ ! اس وقت کو یاد کرو) جب کافر تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کردیں، جان سے مار دیں یا وطن سے نکال دیں۔ ادھر تو وہ چال چل رہے تھے اور ادھر اللہ چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے خلاف تمام منصوبے ناکام تشریح : اللہ رب العزت کے مدبر ہونے کی ایک عظیم مثال یہاں دی گئی ہے کہ جب مدینہ کے لوگ اسلام قبول کرنا شروع ہوگئے تو اہل مکہ کو بڑی فکر ہوئی کہ اگر مکہ سے باہر محمد ﷺ کے عقیدے کی شہرت ہونے لگی تو یہ بڑا مسئلہ ہوجائے گا تو تمام سرداروں نے دارالندوہ میں ملکر مشورہ کیا کہ آپ کو قید کردیں، جان سے مار دیں یا وطن سے نکال دیں۔ آخر یہ طے پایا کہ تمام قبیلوں کا ایک ایک نوجوان ایک جماعت کی صورت میں ان کے گھر کا محاصرہ کریں اور جب وہ باہر آئیں تو ان پر حملہ کردیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کو سیدنا جبرئیل (علیہ السلام) نے اللہ کا پیغام دیا کہ یہاں سے ہجرت کر جائیں سو آپ ﷺ نے سیدنا علی (علیہ السلام) کو اپنے بستر پر سلایا اور خود باہر نکل کر ایک مٹھی ریت پھینک دی جو محاصرہ کرنے والوں کے سر پر پڑگئی اور آپ اللہ کی مدد اور فضل و کرم سے بحفاظت ان لوگوں کے درمیان میں سے نکل کر چلے گئے اور کسی کو معلوم بھی نہ ہوا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان تھا اور اس کی تدبیر بھی۔ اللہ تو ہے ہی بہترین تدبیر کرنے والا، اس لیے صرف اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے اور صرف اسی سے ڈرنا چاہیے۔ کسی اور سے ڈرنے کی نہ ضرورت ہے اور نہ اجازت۔ جب اتنا بڑا سہارا مل جائے تو پھر مسلمان کی خود اعتمادی کا کون مقابلہ کرسکتا ہے۔
Ayahs 8:31–34

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ کلام ہم نے سن لیا ہے۔ اگر ہم چاہئیں تو ایسا ہی کلام ہم بھی کہہ دیں اور یہ ہے ہی کیا صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور جب انہوں نے کہا کہ اے اللہ ! اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی تکلیف دہ عذاب بھیج دے۔

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور اللہ ایسا نہ تھا کہ جب تک آپ ان میں تھے انہیں عذاب دیتا اور نہ ایسا تھا کہ وہ بخشش مانگیں اور انہیں عذاب دے۔

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور اب ان کے لیے کونسی وجہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے جبکہ وہ مسجد حرام میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں۔ اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں ہیں۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

عذاب کا مطالبہ اور عذاب نہ آنے کی وجہ تشریح : یہ آیات اس زمانہ کے حالات بتا رہی ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ کی عمر چالیس سال کی ہوئی تھی 610 عیسوی میں غار حرا میں پہلی وحی آپ ﷺ پر نازل ہوئی۔ توحید کی تعلیم اہل مکہ کے لیے بڑی عجیب و غریب تھی۔ اس لیے اکثریت میں لوگ آپ ﷺ کے جانی دشمن ہوگئے تب 622 ء میں آپ نے مدینہ ہجرت کی۔ 1 ہجری 14 نبوت تھی۔ ہجرت سے پہلے کے حالات یہ تھے کہ جب آپ ﷺ لوگوں کو قرآنی آیات پڑھ کر سناتے تو کفار مکہ لاپروائی سے کہتے کہ یہ کوئی بڑے کمال کی آیات نہیں ہیں ہم تو اس سے اچھا کلام سنا سکتے ہیں اور پھر دوسرا اعتراض یہ کرتے کہ کیا رکھا ہوا ہے اس کلام میں صرف پچھلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہی تو بتائی گئی ہیں۔ ان دونوں باتوں کا جواب ” سورة البقرۃ “ میں تفصیل سے دیا جا چکا ہے۔ اور پھر عذاب کا مطالبہ کرنے لگے کہ آسمان سے ہم پر پتھر برسا دو اگر قرآن سچا ہے۔ تو اس کا جواب رب العالمین نے یہ دیا کہ تم پر عذاب فی الحال نہیں آسکتا کیونکہ یہ اللہ کے ارادے، پروگرام اور مصلحت کے خلاف ہے۔ جب تک کوئی نبی قوم میں موجود ہو عذاب نہیں آسکتا کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ ابھی مکہ میں موجود ہیں۔ جب وہ ہجرت کر گئے تو پھر ان لوگوں کی وجہ سے عذاب ٹلا رہا جو الہ العالمین کی عبادت کرتے رہتے اور اس کا فضل و کرم اور بخشش مانگتے رہتے لیکن جب مدینہ میں ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست قائم ہوگئی اور تمام مسلمان مکہ سے چلے گئے تو اب کوئی وجہ نہ تھی کہ ان پر عذاب نہ آئے۔ کفر و شرک کے علاوہ اہل مکہ نے یہ کام بھی کیا کہ جب سنہ 6 ہجری یا 19 نبوت کا زمانہ تھا تو آپ ﷺ خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے آئے تو قریش اہل مکہ نے آپ ﷺ کو روک دیا اور اگلے سال حج کی اجازت کے لیے ان کے ساتھ معاہدہ کرلیا۔ معائدہ یہ تھا۔ -1 دس برس تک صلح رہے، آپس میں آنا جانا، لین دین جاری رہے۔ جو قبیلہ چاہے مسلمانوں سے مل جائے جو چاہے قریش سے ملا رہے۔ -2 مسلمان اگلے سال آکر خانہ کعبہ میں نماز پڑھ سکیں گے۔ -3 اگر قریش کا کوئی شخص مسلمان ہو کر آپ ﷺ کے پاس جا پہنچے تو اسے واپس بھیج دیا جائے اگر کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر مکہ واپس آجائے تو اسے واپس نہیں بھیجا جائے گا۔ اس پر مسلمان گھبرا اٹھے مگر رسول اللہ ﷺ نے اسے منظور فرما لیا۔ کیونکہ اس میں بڑی مصلحتیں تھیں۔ سب سے بڑھ کر یہ بات کہ آپ ﷺ نے فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں، میں اس کی مخالفت نہیں کرسکتا۔ یہ سب اس لیے بیان کیا گیا کہ اہل مکہ مسجد حرام میں عبادت کرنے سے منع کرتے تھے اور یہ بہت ہی بری بات تھی۔ کیونکہ وہ لوگ اصل میں خانہ کعبہ کے متولی تو نہ تھے۔ خانہ کعبہ تو اصل میں پرہیزگاروں کی عبادت گاہ ہے۔ اور یہ عبادت گاہ سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل (علیہما السلام) نے ملکر عرب کے شہر مکہ میں بنائی تھی یہ عبادت کے لیے سب سے پہلا گھر یا مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ جب یہ تعمیر کی گئی تو یہاں کوئی آبادی نہ تھی۔ سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) نے یہاں رہائش اختیار کرلی اور پھر شہر مکہ آباد ہونا شروع ہوگیا۔ ان دونوں پیغمبروں کے بعد لوگ آہستہ آہستہ ان کی تعلیمات کو بھلا کر کفر و شرک میں مبتلا ہوگئے۔ خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت رکھ دیے اور طواف کرنے کا طریقہ انتہائی شرمناک اختیار کرلیا۔ جس کا ذکر اگلی آیات میں کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 8:35–40

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی نماز خانہ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ خرچ کرنا ان کے لیے افسوس کا باعث ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے۔

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ اللہ پاک سے ناپاک کو علیحدہ کر دے اور ناپاک کو ایک دوسرے پر رکھ کر ڈھیر بنا دے، پھر اس ڈھیر کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ! ) کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے کاموں سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ معاف کردیا جائے گا اور اگر پھر وہی کام کرنے لگیں گے تو پہلے لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہوچکا ہے ان کے ساتھ بھی کیا جائے گا۔

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور ان لوگوں سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ کفر کا فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو اللہ ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر نہ مانیں تو جان لو کہ اللہ تمہارا حمایتی ہے وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے۔

مشرکین مکہ کے بڑے بڑے گناہ تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو کفار کے غلط طریقے اور غلط خیال کا ذکر کیا گیا ہے وہ اس طرح کہ انہوں نے نیک اور عبادت گزار لوگوں کو خانہ کعبہ میں عبادت کرنے سے منع کیا، یعنی وہ سمجھتے تھے کہ وہی خانہ کعبہ کے متولی ہیں اور ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہاں تو صرف پاکباز لوگ ہی عبادت کرسکتے ہیں۔ ان کی عبادت کا طریقہ تو سو فیصد غلط اور بےہودہ تھا وہ اس طرح کہ خانہ کعبہ کے اندر بت رکھے ہوئے تھے اور خانہ کعبہ کا طواف یوں کرتے کہ سیٹیاں بجاتے تالیاں پیٹتے اور برہنہ ہو کر طواف کرتے۔ دوسری بہت بڑی غلطی جو انہوں نے کی وہ مال خرچ کرنے کا غلط طریقہ اختیار کیا۔ وہ اس طرح کہ اپنا مال لوگوں کو گمراہی کے راستے پر چلانے کے لیے خرچ کرتے جیسا کہ غزوئہ بدر میں مال بھی خرچ کیا جانیں بھی ضائع کیں اور پھر شکست کی ذلت بھی اٹھائی۔ دوبارہ اپنا مال پھر غزوئہ احد میں ضائع کیا اور ذلت اٹھائی۔ غزوہ بدر 17 رمضان اور غزوہ احد 6 شوال 3 ھ؁ بمطابق 624 ء ؁ کو ہوا، غزوئہ بدر کے بعد احد کے نقصان اور ذلت کا ذکر اس آیت میں کردیا گیا تھا۔ اللہ رب العزت نے صاف صاف بتا دیا کہ ان کا مال، جان بالکل بےکار جائیں گے کیونکہ یہ حق کے خلاف باطل کے لیے خرچ کر رہے ہیں۔ ان کو سوائے افسوس پچھتاوے اور عذاب کے اور کچھ حاصل نہ ہوگا اس دنیا میں تو انہوں نے اپنا مالی اور جانی نقصان اور شکست کی ذلت ہی دیکھی ہے اگلے جہان میں تو ان کو ایسا عذاب ملے گا کہ جس کا وہ خیال بھی نہیں کرسکتے۔ وہ بڑا سخت عذاب ہوگا۔ ان سب لوگوں کو اوپر تلے اکٹھا کرکے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ نبی پاک ﷺ کو مخاطب کرکے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ان کفار لوگوں کو بتائو کہ اب بھی اگر یہ توبہ کرلیں تو ان کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے لیکن اگر توبہ کرنے کے بعد انہوں نے پھر کفر و شرک کو اپنا لیا تو پھر ان پر ویسا ہی عذاب بھیجا جائے گا جیسا کہ ان سے پہلی قوموں پر بھیجا گیا جن میں زیادہ مشہور نام قوم عاد، ثمود، قوم نوح اور فرعون وغیرہ کے ہیں۔ پھر اللہ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کو ہرگز معاف نہ کرو ان کے ساتھ اس وقت تک لڑتے رہو جب تک کہ کفر و شرک ختم نہ ہوجائے۔ اور پھر فرمایا کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ اللہ ہے اس کو کس بات کی پریشانی ہے۔ یہ بات صرف اس وقت کے مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ یہ ہر دور کے ہر مسلمان کے لیے ہدایت ہے کہ ہر صورت اور ہر وقت بےدھڑک ہو کر برائی کے خلاف جدوجہد کرو۔ کیونکہ اللہ حق ہے، حق کو پسند کرتا ہے اور حق کی حمایت ہر صورت کرتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ نیت صاف اور مقصد نیک ہو۔ نیک و بد کی پہچان اور فرق رب العالمین کو خوب اچھی طرح معلوم ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کس کی حمایت کرنی ہے اور کس کو عذاب دینا ہے۔ یہی اس کا دستور ہے اس لیے ہم بھی اقرار کرتے ہوئے اس سے اس کی حمایت اور مدد کے طلب گار ہیں۔ بیشک وہ ہی ” نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ “ ہے، یعنی وہ بہترین حمایتی اور بہترین مددگار ہے۔ جب ہم نبی اکرم ﷺ کی زندگی کو بعثت سے لیکر وصال تک غور سے دیکھتے ہیں تو ہر واقعہ اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ واقعی اللہ حق گو کا بہترین حمایتی ہے۔ الحمدللہ نواں پارہ مکمل ہوا اور دسویں پارے کی ابتدا کرتے ہیں۔