7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 7:1–3

الٓمّٓصٓۚ Open ayah 7:1 in the Quran reader

الۗمّۗصۗ

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! ) یہ کتاب جو آپ پر نازل ہوئی ہے۔ اس سے آپ کو تنگدل نہیں ہونا چاہئے۔ یہ نازل اس لیے ہوئی ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ڈر سنائو اور یہ ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے۔

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

لوگو ! یہ کتاب تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو۔ اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو۔ اور تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔

کتاب اللہ کی خصوصیت تشریح : یہ آیات سورة الاعراف کی ابتدائی آیات ہیں اور یہ مکہ میں نازل ہوئی تھیں۔ جب محمد رسول اللہ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا لوگوں کو نیکی کی طرف بلانا شروع کیا تو ظاہر ہے اہل مکہ اس دعوت ایمانی سے سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کے ماننے والوں کو اس قدر شدید اذیتیں پہنچائیں کہ آپ ﷺ پریشان ہوگئے۔ اللہ جل شانہٗ نے آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا۔ کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں سے ہرگز نہ گھبرائیں آپ ﷺ کو علم ہونا چاہئے کہ یہ رسالت کا جو کام آپ کے سپرد کیا گیا ہے تو اس کا مقصد ہی یہی ہے کہ بگڑے ہوئے لوگوں کو درست کرو۔ کتاب جو آپ ﷺ کو دی گئی ہے۔ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو اللہ کا پیغام دو ان کو گناہوں کے بدلے ملنے والے عذاب سے ڈرائو اور نیک راستہ پر چل کر جنت حاصل کرنے کا طریقہ بتائو اور ان کو سمجھائو کہ یہ جو تم نے شیطانی کام اپنا رکھے ہیں اور شیطانوں کو اپنا دوست بنا رکھا ہے۔ یہ سب کچھ چھوڑ دو کیونکہ اللہ رب العزت بہترین مددگار ہے۔ اسی کا راستہ اختیار کرو۔ کیونکہ اسی میں ہر طرح کی بھلائیاں موجود ہیں۔ اس وقت تو مکہ والوں کو ہی مخاطب کیا گیا تھا مگر اصل میں یہ تمام انسانوں کو پیغام دیا جا رہا ہے۔ نیکی اور بھلائی میں ہی نجات کا راستہ ہے۔
Ayahs 7:4–7

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ہم نے تباہ کر ڈالیں۔ جن پر ہمارا عذاب یا تو رات کو آتا تھا جبکہ وہ سو رہے ہوتے یا دن کو جب وہ دوپہر کو آرام کر رہے ہوتے۔

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ ہائے ہم اپنے اوپر ظلم کرتے رہے۔

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے پوچھ گچھ کریں گے اور پیغمبروں کو بھی پوچھیں گے۔

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر اپنے علم سے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے۔

گناہوں پر عذاب تشریح : یہاں اس عذاب کا ذکر کیا جا رہا ہے جو گزشتہ نافرمان قوموں پر آچکے ہیں۔ اللہ رب العزت بڑا مہربان ہے کہ اس نے بندوں کی ہدایت کے لیے رسول اور آسمانی کتابیں نازل فرمائیں مگر اس کے ساتھ ساتھ رب العالمین بڑا سخت حساب لینے والا اور بڑی سخت سزا دینے والا بھی ہے۔ قرآن مجید میں بڑی تفصیل سے ان قوموں کا ذکر کیا گیا ہے جن کو بڑی مہلت دی گئی اور بالآخر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر عذاب الٰہی نازل ہوا۔ اور یہ تو محض ہلاکت ہی تھی اعمال کا بدلہ تو قیامت کے بعد دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ کرے گا، حالانکہ وہ سب کے اعمال و کردار سے پوری طرح واقف ہے، پھر بھی وہ لوگوں سے نافرمانی کی وجہ ضرور پوچھے گا اور ان رسولوں سے بھی پوچھے گا کہ انہوں نے ان لوگوں کو ہدایت کی تلقین کی تھی یا نہیں ؟ پھر ان کو ان کے غلط اعمال اور نافرمانی کی وجہ سے سخت عذاب دیا جائے گا۔ جیسا کہ اگلی آیات میں ہے۔
Ayahs 7:8–10

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اس روز اعمال کا تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے اعمال کے وزن بھاری ہوں گے وہ تو نجات پانے والے ہیں۔

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنا نقصان کیا اس لیے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے۔

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اور ہم نے ہی زمین میں تمہارا ٹھکانا بنایا اور اس میں تمہارے لیے رہن سہن کے تمام بندوبست کئے مگر تم کم ہی شکر کرتے ہو۔

اعمال کا وزن ہو گا تشریح :۔ حساب کا دن ضرور آئے گا۔ یہ اللہ ذوالجلال کا فرمان ہے اور اس میں وہ کچھ ہوگا جو اوپر آیات میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 7:11–18

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور ہم نے ہی تم کو شروع میں مٹی سے پیدا کیا پھر تمہاری شکل و صورت بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو۔ تو سب نے سجدہ کیا لیکن۔ ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب میں نے تجھے حکم دیا تو کس بات نے تمہیں سجدہ کرنے سے باز رکھا ؟ اس نے کہا کہ ” میں اس سے بہتر ہوں مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے بنایا ہے۔

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

فرمایا تو بہشت سے نکل جا۔ تو اس لائق نہیں کہ یہاں تکبر کرے پس نکل جا تو ذلیل ہے۔

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔ (14) ۔

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

فرمایا اچھا تم کو مہلت دی جاتی ہے

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

پھر شیطان نے کہا کہ مجھے تو تو نے دھتکارہی دیا ہے۔ میں بھی تیرے سیدھے رستے پر ان کو گمراہ کرنے کے لیے بیٹھوں گا۔

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر ان کے آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے ( غرض ہر طرف سے آئوں گا اور ان کی راہ ماروں گا) اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا نکل جا یہاں سے پاجی مردود جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر جہنم کو بھر دوں گا

تخلیق آدم پر ابلیس کا مکالمہ تشریح : ان آیات کا ذکر پہلے بھی گزر چکا ہے اور ان کی عبارت بڑی عام فہم اور آسان ہے، لہٰذا صرف وہ نکات بیان کئے جائیں گے جو خاص خاص ہیں۔ -1 انسان کے رہنے، کھانے اور پینے کا بندوبست جو اللہ رب العزت نے کیا ہے لاجواب ہے۔ مگر انسان ناشکرا ہے۔ -2 انسان کی پیدائش کا معجزہ جو تمام موجودہ تحقیقات کو غلط ثابت کرتا ہے خاص طور سے ڈارون کی تھیوری کہ انسان بندر سے موجودہ شکل میں آیا ہے۔ اللہ کی قدرت کاملہ اور بےمثال طاقت کا مظاہرہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش ہے۔ -3 انسان کا بلند درجہ کہ جس کی وجہ سے وہ زمین میں اللہ کا خلیفہ اور تمام مخلوقات سے افضل مخلوق بنائی گئی۔ فرشتوں سے بلند مرتبہ انسان کا بنایا گیا ہے۔ -4 غرور، تکبر اور نافرمانی کسی صورت بھی اللہ کو پسند نہیں چاہے کرنے والا کتنا ہی بڑا مقبولِ الٰہی ہستی کیوں نہ ہو۔ اس کی مثال ابلیس کے قصہ سے ظاہر کردی گئی ہے۔ کسی شخص کو زندگی کے کسی موڑ پر کسی صورت میں بھی تکبر کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ اس کی سزا بڑی سخت ہے۔ -5 شیطان کا دعویٰ کہ وہ ہر انسان کو نیکی سے بدراہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ قیامت تک وہ ہر شخص کے ساتھ کوشش کرتا رہے گا۔ مگر مضبوط اور پکے مسلمان اس کی گرفت میں ہرگز نہیں آسکتے۔ جیسا کہ سیدنا ایوب ؓ کی زندگی کے حالات سے پتہ چلتا ہے۔ اللہ نے ان کو ہر قسم کی دنیاوی نعمتیں دے رکھی تھیں پھر سب کچھ چھین لیا سوائے اللہ کے کوئی بھی سہارا نہ رہاوہ پھر بھی اللہ کا شکر ہی ادا کرتے رہے۔ جس کے بدلے میں اللہ نے اپنی قدرت سے ان کی تمام مشکلات دور کردیں اور مال، اولاد، مویشی، صحت، عزت اور سکون پہلے سے بھی زیادہ دیا۔ توکل علی اللہ کی یہ خوبصورت مثال ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں سب کو ایسے ہی ایمان کامل کی توفیق دے۔ -6 آخری بات جو سمجھائی گئی وہ یہی ہے کہ صبح اٹھنے سے رات سونے تک ہر ہر لمحہ اور ہر ہر قدم پر انسان کے لیے برائیوں اور گناہوں کے بیشمار مواقع موجود ہیں۔ مثلاً ریا، غرور، غصہ، بدگمانی، حسد، منافقت، جھوٹ، جھوٹی قسم، غیبت، افواہیں پھیلانا، طعنہ زنی، لالچ، خیانت، چوری، سودخوری، رشوت، ذخیرہ اندوزی، بخل، ظلم، قتل، شراب خوری، خودکشی اور بےصبری وغیرہ ان تمام رذائلِ اخلاق (اخلاقی برائیاں) کو بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔ اگر ان کو غور سے دیکھیں تو ان کا تعلق زندگی کے ہر شعبہ سے اور انسان کی ہر عمر سے ہے۔ اور یہ اس قدر اہم تعلق ہے کہ کردار کی مضبوطی اور کردار کی پاکیزگی ہی قوموں اور ملکوں کی ترقی اور سلامتی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ انسان اگر شیطان کے قبضہ میں آکر اخلاقی برائیوں میں مبتلا ہوجائے تو وہ نہ صرف خود ہی عذاب میں پڑتا ہے بلکہ اپنے ساتھ ملک و قوم کو بھی لے ڈوبتا ہے۔ اسی لیے رب العالمین نے صاف اعلان کردیا کہ شیطان اور اس کے کہنا ماننے والوں کو ضرور جہنم میں ڈالا جائے گا۔ اور ویسے بھی ایک شیطان فطرت انسان دنیا میں پرسکون اور پروقار نہیں ہوسکتا۔ آخرت میں سزا الگ ہے۔
Ayahs 7:19–28

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور ہم نے آدم سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو۔ جہاں سے چاہو جو چاہو کھائو پیو، مگر اس درخت کے پاس نہ جانا۔ ورنہ گناہگار ہوجاؤ گے۔

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا۔ تاکہ ان کے پردے والی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے رب نے اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو۔

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور ان سے قسم کھا کر کہا کہ میں تو تمہارا خیرخواہ ہوں۔

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

غرض شیطان مردود نے ان کو دھوکہ دے کر گناہ کی طرف کھینچ ہی لیا۔ جب انہوں نے اس درخت کے پھل کو کھالیا تو ان کی پردہ کی چیزیں کھل گئیں۔ اور وہ بہشت کے درختوں کے پتوں سے اپنے پوشیدہ جسم کو چھپانے لگے۔ تب ان کے رب نے پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت کے پاس جانے سے منع نہیں کیا تھا اور بتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے ؟

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

دونوں عرض کرنے لگے کہ اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا۔ اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

(اللہ نے) فرمایا تم سب بہشت سے اتر جاؤ۔ اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ اور تمہارے لیے ایک خاص وقت تک زمین پر ٹھکانا اور زندگی کا سامان کردیا گیا ہے۔

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

(اللہ نے) فرمایا : اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے قیامت کے دن زندہ کرکے نکالے جاؤ گے۔

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے بنی آدم ! ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور تمہارے بدن کو زینت دے اور جو پرہیزگاری کا لباس ہے وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں۔

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے بنی آدم ! دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو بہکا کر بہشت سے نکلوا دیا تھا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیے تھے تاکہ ان کا پوشیدہ جسم ان کو کھول کر دکھا دے۔ وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہتے ہیں۔ جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطانوں کو انہی لوگوں کا رفیق بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور جب کوئی بےحیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور اللہ نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو کہ اللہ بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم اللہ کے لیے ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔

سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ تشریح : سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ بیان ہوچکا ہے۔ اس کی چند مثالیں ان آیات میں بیان کی گئی ہیں۔ انسان کی آزمائش، ضمیر، روح اور جسم سے ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا ور اس میں اپنی روح پھونک دی۔ یعنی جسم ان تمام ذرات کا مجموعہ ہے جو مٹی میں پائے جاتے ہیں۔ جدید سائنس کی تحقیق کے مطابق انسان 126 عناصر کا مرکب ہے اور یہ سب مٹی میں موجود ہیں۔ انسان مٹی سے بنا مٹی کے اوپر پرورش پاتا ہے اور پھر مٹی میں ہی چلا جاتا ہے۔ مگر اس میں نفس اور روح کی جنگ جاری رہتی ہے۔ موت کے وقت انسان کا نفس اپنی روح کے ساتھ عالم برزخ کا سفر شروع کرتا ہے جبکہ جسم مٹی میں مل جاتا ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر جنت والوں سے تو آرام دہ زندگی اور جہنم والوں سے ہے تو انتہائی مشکل زندگی میں مبتلا رہنا ہے اس کیفیت کو احادیث میں بہت وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات کو اگر غور سے پڑھیں تو ان میں اللہ تعالیٰ نے وہ تمام راز کی باتیں کھول کر بیان کردی ہیں جن پر انسانی زندگی کا دارومدار ہے اور جن باتوں کی حقیقت جاننے کے لیے دنیا کے بڑے بڑے حکماء اور سائنس دان ہر وقت کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اللہ نے چند آیات میں ان کو تفصیل سے بیان کردیا ہے۔ یعنی انسان کا جسم مٹی سے بنایا اور اس میں اپنی روح پھونک دی۔ روح کا تعلق انسان کے دل سے ہوتا ہے جبکہ نفس کا تعلق جسم سے ہوتا ہے۔ نفس اور روح کا کام علیحدہ علیحدہ ہوتا ہے۔ روح تو انتہائی پاکیزہ اور بلند درجہ رکھتی ہے مگر نفس کے تین درجے ہیں۔ جن کو ہم نفس امارہ، نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ کا نام دیتے ہیں۔ نفس امارہ یہ وہ نفس ہے کہ جو شیطان کے قبضہ میں آجاتا ہے اور پھر وہ انسان سے اللہ کی ہر نافرمانی کروا لیتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا آدم کو اس نے بہکا دیا اور انہوں نے اللہ کے حکم کو توڑتے ہوئے ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا۔ اس کو آپ انسان کی آزمائش بھی کہہ سکتے ہیں۔ گناہ اور ثواب انسان کے سامنے ہر وقت موجود رہتے ہیں جس نے نفس امارہ کو شکست دے دی اس نے روح کی بلندی اور اللہ کی قربت حاصل کرلی اور اپنے لیے بہشت میں جگہ بنا لی۔ اسی لیے تو شاعر نے کہا ہے۔ ” بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارا “ اور پھر یہ مصلحت بھی معلوم ہوگئی کہ اللہ کی منع کی ہوئی باتوں میں انسان کے لیے ضرور کوئی نہ کوئی بھلائی موجود ہوتی ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو درخت کا پھل جو کھانے سے منع کیا گیا تھا۔ تو اس لیے منع کیا گیا تھا کہ اس کے کھانے سے ان کا لباس اتر گیا، یعنی وہ ننگے ہوگئے۔ ہم خود سوچ سکتے ہیں کہ اللہ نے ہمارے اندر شرم و حیا کی صفت ڈال رکھی ہے۔ جیسے ہی سیدنا آدم (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی ان کو فوراً سزا مل گئی۔ اب یہاں یہ بھی واضح ہوگیا کہ اللہ ہر وقت سمیع وبصیر ہے یعنی سنتا اور دیکھتا بھی ہے اور پھر یہ معلوم ہوگیا کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے۔ پھر یہ معلوم ہوگیا کہ اللہ نے گناہ کے لیے معافی کا دروازہ بھی کھول رکھا ہے سیدنا آدم (علیہ السلام) نے اللہ سے معافی مانگی اور کیونکہ اللہ رحیم و کریم ہے اس نے ان کو معاف کردیا۔ مگر چھوٹی سی سزا دے دی اور اچھی طرح سمجھا دیا کہ غلط کام کی سزا ضرور ملے گی۔ اور پھر یہ بھی سمجھا دیا کہ انسان کو ہدایت ضرور ملتی ہے۔ اور ساتھ میں ارادہ بھی اس کو دیا گیا ہے۔ جو راستہ چاہے اختیار کرلے۔ تو سیدنا آدم (علیہ السلام) کو سزا یہ ملی کہ جنت کے مزے ختم ہوگئے اور ان کو زمین میں اتر جانے کا حکم دیدیا گیا اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ یاد رکھو شیطان تمہارا دشمن ہے۔ زمین میں تمہارے لیے ہر آسائش کی چیز موجود ہے۔ خیال رکھنا کہ نفس امارہ کے غلام ہوگئے تو سزا ضرور پائو گے۔ یہاں موت کا ذکر بھی کردیا گیا کہ تم یہ نہ سمجھ لینا یہ زندگی ہمیشہ کی زندگی ہے۔ بلکہ کچھ عرصہ یہاں رہو گے پھر مر کر مٹی میں مل جاؤ گے اور پھر قیامت کا ذکر کردیا کہ دوبارہ ضرور زندہ کئے جاؤ گے تاکہ زندگی کے اعمال کا بدلہ دے کر دوبارہ تمہیں ہمیشہ کی زندگی دی جائے۔ پھر صاف صاف بتا دیا گیا کہ اب نافرمانی پر جنت سے نکالے گئے ہو مگر پھر نافرمانی کی تو دوزخ میں ڈالے جاؤ گے۔ تو سمجھ میں آگیا کہ جو لوگ نفس امارہ سے شکست کھا کر برائیوں کی طرف چل پڑتے ہیں دوزخ کے مکین ہوں گے۔ جبکہ نفس کی دوسری قسم نفس لوامہ ہے۔ اس کا کام ہے شیطان کا مقابلہ کرنا۔ ایسے آدمی کا ضمیر زندہ ہوتا ہے۔ ضمیر کیا ہے ؟ یہ ایک پہریدار ہے جو انسان کو کسی بھی وقت برائی کی طرف جانے پر خبردار کرتا ہے۔ نفس لوامہ بیشک خواہشات رکھتا ہے مگر یہ نفس انسان کو بہت حدتک برائی سے روکتا ہے اور گناہ ہوجانے پر توبہ کی طرف لے جاتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) نے گناہ کو فوراً محسوس کرلیا اور اللہ سے توبہ کرلی۔ تو اللہ نے ان کو صرف بہشت سے نکالا اور زمین میں نعمتیں عطا کرکے مہلت دی کہ نیکی اختیار کرکے دوبارہ جنت حاصل کرلو۔ اور واضح کردیا کہ یہ دنیا کی زندگی ہی جنت یا جہنم دلائے گی۔ جب مرگئے تو عمل کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے اور پھر انعام یا سزا کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ نفس لوامہ کسی حدتک جنت دلانے کا سبب بن سکتا ہے۔ پھر تیسرے درجے کا نفس آجاتا ہے۔ جس کا نام ہے نفس مطمئنہ۔ سب سے بہترین نفس کی حالت ہے کیونکہ یہ روح کی بات مانتا ہے اور پوری کوشش کرتا ہے کہ اللہ رب العزت کی اطاعت اور فرمانبرداری اختیار کرکے اللہ تعالیٰ کے قریب رہے اور شیطان سے دور رہے۔ ایسے ہی نفس کا مالک اللہ کا پسندیدہ انسان کہلاتا ہے جو بلاشبہ جنت کا حقدار ہوتا ہے۔ چھوٹی سی مثال دیتی ہوں۔ آپ کے سامنے مال و دولت موجود ہے۔ آپ کا دل کرتا ہے آنکھ بچا کر کچھ اٹھا لوں۔ نفس امارہ آپ کو مجبور کرتا ہے آپ اس کی بات مان کر چوری کرلیتے ہیں یہ کام آپ کو بہت اچھا لگتا ہے اور آپ چوری کے عمل کو اپنا لیتے ہیں۔ تو آپ نفس امارہ یعنی شیطان کے غلام ہوگئے اگر چوری کرکے آپ کو برا لگا اور آپ نے فوراً توبہ کرلی سچی توبہ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ نفس لوامہ آپ پر غالب آگیا اور آپ آئندہ شیطان کے غلام نہ بنیں گے اور آخری درجہ یہ آتا ہے کہ آپ مال اٹھانے کی خواہش ہی نہیں کرتے بلکہ اللہ کی دی ہوئی جائز دولت پر پوری طرح مطمئن اور راضی رہتے ہیں تو یہ ہوا نفس مطمئنہ۔ یعنی آپ اپنے رب سے راضی ہوئے اور آپ کا رب آپ سے راضی ہوا۔ یہ روح کی پاکیزگی اور تقویٰ کا درجہ دلانے والا نفس ہے۔ ایسے ہی لوگ حساب کے دن خوش و خرم اور مطمئن ہوں گے اور اللہ کے وعدے کے مطابق جنت میں ہمیشہ کی زندگی پائیں گے۔ آخر میں اللہ رب العزت انسان کو خبردار کرتے ہیں کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کے واقعے میں بہت بڑا سبق اور نصیحت ہے، یعنی کس طرح شیطان نے ان کو ذلیل کروا دیا۔ ثابت ہوتا ہے کہ برہنگی تمام گناہوں کی ابتدا ہے۔ اسلام میں ستر پوشی، یعنی مرد و عورت کے لیے مناسب لباس بےحد ضروری ہے۔ کیونکہ بےپردگی بیشمار برائیوں کو جنم دیتی ہے۔ پردہ اور شرم و حیا انسان کا زیور ہے اور عزت و احترام کا نشان ہے۔ شیطان نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کو ذلیل و خوار کروانے کے لیے سب سے پہلے ان کے کپڑے اتروا دیے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر انسان کو اپنے جسم کے ننگا ہوجانے پر غیرت اور شرمندگی محسوس نہ ہو تو پھر اس کو روح کے بھٹک جانے کی کیا پروا ہوسکتی ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کا برہنگی پر شرمندہ ہونا اور توبہ کرلینا پوری انسانی برادری کے لیے نمونہ بن گیا۔ ورنہ تو انسان ہے ہی غلطی کا پتلا۔ اللہ نے اپنے رحیم و کریم ہونے کا ثبوت دیا کہ توبہ کا راستہ ہمارے لیے کھلا رکھ دیا۔ جسمانی پوشاک زینت اور عزت کے لیے ہے جبکہ پرہیزگاری کی پوشاک روح کی زینت کے لیے ہے۔ آخر میں اہل عرب کی اس فضول رسم کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ لوگ زمانہ جاہلیت میں ننگے ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے۔ جب ان کو اس گندی حرکت سے منع کیا گیا تو کہنے لگے کہ یہ تو ہمارے باپ دادا کے وقت سے چلا آرہا ہے ہم نہیں چھوڑ سکتے۔ پھر کہنے لگے کہ یہ حکم ہمیں اللہ رب العزت نے دیا ہے۔ اس پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان سے صاف صاف کہہ دیجیے کہ اس قدر ناقابل فہم حکم دینا اللہ کی شان کریمی کے خلاف ہے۔ اور یہ لوگ بغیر کسی خاص دلیل کے خواہ مخواہ ہی اس بات کا بہتان اللہ رب العزت پر باندھ رہے ہیں۔ جبکہ رب العزت حیا اور پاکدامنی کو پسند کرتا ہے اور حیا کا حکم دیتا ہے۔ کسی بھی مسلمان کے لیے ایمان کے بعد حیا سب سے بڑا حسن ہے۔ کیونکہ حیا ہی انسان کو گناہوں اور نافرض شناسی سے روکتی ہے۔ حدیث میں ہے سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” ایمان (کے درخت) کی ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ “ (صحیح بخاری) بہرحال سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بیان سے اللہ رب العزت نے انسان کو بہترین زندگی گزارنے کا معقول نقشہ بتا دیا ہے۔ اللہ عمل کرنے کی توفیق بھی دے۔