7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 7:29–43

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے رب نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا قبلہ کی طرف رخ کیا کرو۔ خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو پہلے پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے۔

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے بنی آدم ! ہرمسجد میں (نماز) کے وقت اپنے آپ کو سجایا کرو۔ کھائو اور پیو مگر بےجا نہ اڑائو کیونکہ اللہ فضول خرچ لوگوں کو دوست نہیں رکھتا۔

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

پو چھو کہ زینت اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں۔ اور قیامت کے دن خاص انہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح اللہ رب العزت اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے رب نے تو ظاہر و پوشیدہ بےحیائی کی باتوں، گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اس کو بھی کہ تم کسی کو اللہ کا شریک بنائو جس کے لیے اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی اور یہ بھی کہ اللہ کے بارے ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں۔

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر گروہ کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ آجاتا ہے تو ( اس گروہ کی گرفت کے لیے) نہ ایک گھڑی مؤخرہو سکتی ہے نہ جلدی۔

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے بنی آدم ! ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کرتے رہے ہیں کہ جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں تو ان پر ایمان لایا کرو کہ جو شخص ان پر ایمان لاکر اللہ سے ڈرتا رہے گا وہ اپنی حالت درست رکھے گا۔ تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہونگے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے اکڑ بیٹھے تو وہی دوزخ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

تو اس سے زیادہ ظالم کون ہے، جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا ہی رہے گا۔ یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے جان نکالنے آئیں گے۔ تو کہیں گے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے وہ اب کہاں ہیں ؟ وہ کہیں گے معلوم نہیں کہ وہ ہم سے کہاں غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بیشک وہ کافر تھے

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

تو اللہ فرمائے گا کہ جنوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں انہی کے ساتھ تم بھی جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ جب ایک جماعت وہاں جا داخل ہوگی تو اپنی ہم مذہب جماعت پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہوجائیں گے تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ ” اے اللہ ! انہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا۔ تو ان کو جہنم کی آگ کا دگنا عذاب دے۔ اللہ فرمائے گا کہ ’ تم سب کو دگنا عذاب دیا جائے گا مگر تم نہیں جانتے۔

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی برتری نہ ملی تو جو عمل تم کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں عذاب کے مزے چکھو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائے (یہ ناممکن ہے) اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے لیے نیچے بچھونا بھی جہنم کی آگ کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی اسی کا۔ اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور ہم ( اعمال کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ جنت کے وارث ہیں اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور جو کینے ان کے سینوں میں ہوں گے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں یہاں کا راستہ دکھایا اور اگر اللہ ہم کو راستہ نہ دکھاتا تو ہم راستہ نہ پاسکتے۔ بیشک ہمارے اللہ کے رسول حق بات لیکر آئے تھے اور اس روز منا دی کردی جائے گی کہ تم ان اعمال کے صلہ میں جو دنیا میں کرتے تھے اس بہشت کے مالک بنا دیے گئے ہو۔

سزا اور جزا کی خبر تشریح : پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے اصول، قوانین اور طریقے بتائے گئے ہیں۔ ان آیات میں دوبارہ صالحین اور مشرکین کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی شک باقی نہ رہ جائے کیونکہ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بھئی مرنے کے بعد کس طرح ہم زندہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو باربار سمجھا رہے ہیں کہ کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔ تم کھائو، پیو اور مزے اڑالو مگر یاد رکھو موت کا وقت مقرر ہے ایک سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہ ہوگا۔ اس وقت تم اپنے برے اعمال پر پچھتائو گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت ختم ہوچکا ہوگا۔ جس طرح تمہارا پیدا ہونا، پرورش پانا حیرت انگیز ہے اسی طرح تمہارا دوبارہ پیدا کیا جانا حیرت انگیز ہے مگر اللہ کے لیے نہ مشکل ہے اور نہ ہی ناممکن۔ اس لیے خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ یہ سب باتیں الہ ‘ العالمین کی کہی ہوئی ہیں بالکل سچ اور یقینی ہیں۔ ان باتوں میں ہرگز کوئی کمی بیشی نہ ہوگی۔ تمہیں راہ دکھانے کے لیے نبی بھیجے گئے ہیں۔ ان کا حکم مانو۔ پھر آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ ان تمام لوگوں کو نیکی اور بدی اور ان کی سزا و جزا کی تفصیلات خوب اچھی طرح بتا دو ۔ تو اخروی کامیابی کے لیے یہ اصول اپنائے جائیں۔ 1 توحید پر پکا یقین دل سے اور زبان سے اقرار۔ -2 جب نماز کا وقت ہو تو اللہ کے حضور حاضر ہونے کے لیے صاف ستھرے کپڑے پہنو اور قبلہ کی طرف رخ کرکے پورے خشوع خضوع اور سنت رسول کے مطابق نماز پڑھو۔ -3 قیامت پر، یوم الحساب پر پکا یقین کرو۔ -4 اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے خوب عیش کرو مگر جائز طریقہ سے۔ -5 فضول خرچی ہرگز نہ کرو۔ فضول خرچی اللہ کو ہرگز پسند نہیں۔ -6 قرآن و حدیث کی پوری پوری پیروی کرو۔ سنو اور عمل کرو۔ -7 موت کو ہمیشہ یاد رکھو۔ موت یقینی ہے۔ -8 اللہ سے ہر وقت ڈرو اسی طرح تمہیں سکون ہوگا۔ اللہ کے سوا ہرگز کسی سے مت ڈرو۔ اس پر پورا بھروسہ کرو۔ -9 تمام حلال باتوں پر عمل کرو اور حلال چیزوں کو کھائو خود اپنے پاس سے کسی حلال چیز کو حرام اور حرام چیز کو حلال مت بنائو۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ ایسے اچھے اور سچے مسلمانوں کے لیے اللہ کے پاس بہت بڑا، زبردست انعام ہے۔ جو ان کو اس ہمیشہ رہنے والی زندگی کے لیے دیا جائے گا۔ وہ جنت، بہشت کہلاتا ہے۔ اس کی تعریف بہت دفعہ کی جا چکی ہے اور یہاں بتایا گیا ہے کہ جنت میں نیک لوگوں کے لیے محلات ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور اس میں داخل ہونے کے لیے نیک اعمال اور اللہ کا فضل ضروری ہے اور پھر مزید مہربانی اللہ کی طرف سے یہ ہوگی کہ اہل جنت کو اگر اپنے کسی ساتھی سے کوئی شکوہ، گلہ یا حسد بغض یا کدورت ہوگی تو اللہ رب العزت اپنے فضل و کرم اور قدرت سے ان کے دل حسد، بغض اور ناراضگی سے بالکل پاک صاف کرکے ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ یعنی وہ ہر طرح سے پرسکون اور خوش باش رہیں گے۔ اور اس عظیم نعمت کے لیے اہل جنت ہر وقت اللہ کا شکر ادا کریں گے کیونکہ بہشت میں داخلہ نہ زبردستی ہو سکے گا اور نہ ہی اپنی مرضی سے ہو سکے گا۔ اس داخلہ میں بھی رب العالمین کی ہی رحمت شامل ہوگی۔ اور پھر یہ وقت کس قدر خوشی اور باعث سکون ہوگا جب اللہ رب العزت یہ اعلان عام کریں گے کہ اے لوگو ! تم نے اپنے دنیا کے اچھے اعمال کی وجہ سے جنت حاصل کرلی ہے اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے مالک بنا دیے گئے ہو۔ اس کا اندازہ ہم یوں کرسکتے ہیں کہ جب ایک بچہ محنت سے فرسٹ پوزیشن حاصل کرتا ہے یا جب نیک والدین نیک اولاد کو دنیا و آخرت کی کامیابیاں حاصل کرتے دیکھتے ہیں یا پھر کوئی نیک بندہ اپنی محنت اور نیک کمائی سے ایک گھر بناتا ہے۔ یہ سب اسی خوشی سے کئی گنا کم ہوگا جو جنت میں ملکیت ملنے سے خوشی حاصل ہوگی۔ اس لیے ہر وقت یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ہمارا عمل جنت حاصل کرنے کے معیار پر پورا اترنا چاہیے۔ کیونکہ جنت کے ساتھ ہی جہنم کا ذکر بھی اللہ رب العزت نے باربار کیا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں بھی کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق مندرجہ ذیل سب کام غلط ہیں۔ -1 بےحیائی۔ -2 گناہ، جو باتیں اللہ نے حرام کی ہیں وہ سب گناہ ہیں۔ -3 کسی بھی انسان یا جانور سے زیادتی کرنا اس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد سب شامل ہیں۔ تفصیل انشاء اللہ آئندہ بتائی جائے گی۔ -4 اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا۔ شرک تو بہت بڑا ظلم کہلاتا ہے اور مشرک کبھی بھی معاف نہیں ہوگا جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ -5 اللہ پر بہتان۔ یعنی بغیر کسی دلیل یا ثبوت کے یہ کہہ دینا کہ یہ کام تو ہمیں اللہ نے کہا تھا، یعنی حرام کاموں کو اللہ کا حکم کہہ کر کرلینا اور دوسروں کو بھی ترغیب دینا۔ یہ اور اسی طرح کی بیشمار باتیں جو قرآن و سنت کے خلاف جاتی ہوں۔ جہنم میں لے جانے کا سبب بنیں گی۔ جہنم کی تعریف اللہ رب العزت نے بڑے ہی خوف ناک الفاظ میں کی ہے۔ یعنی بچھونا بھی آگ کا ہوگا اور اوڑھنا بھی آگ کا ہوگا۔ استغفر اللہ ذرا دھوپ میں یا جلتی ہوئی آگ کے قریب کھڑے ہوں تو کتنی زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ عذاب کے وقت لوگ اپنے سرداروں استادوں اور راہبروں کو مدد کے لیے پکاریں گے مگر ان کے تمام حمایتی اس وقت غائب ہوں گے کوئی مدد کو نہ آئے گا۔ ویسے بھی قیامت کے بعد حساب کتاب اور فیصلہ کا دن ایسا ہوگا کہ صرف اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ کوئی سفارش کوئی مال و دولت کوئی اثر ورسوخ اس دن نہ عذاب میں کمی کروا سکے گا اور نہ ہی عذاب سے بچا سکے گا۔ یہ اللہ کا فرمان ہے جو اس نے قرآن کے ذریعہ لوگوں تک پہنچا دیا ہے اور یہ اتنا ضروری اور حق ہے کہ اس کی مثال اللہ تعالیٰ نے یوں دی ہے کہ نافرمان لوگ جنت میں داخل نہ ہو سکیں گے جیسا کہ ایک اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہیں گزر سکتا۔ اسی طرح ان کے عذاب کا ٹل جانا اور جہنم کے بجائے جنت میں داخل ہوجانا ہرگز ہر صورت ناممکن ہے۔ پہلے یا پچھلے لوگ جنہوں نے نافرمانیاں کیں اور بد عقیدہ رہے سب جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ یہ سب آیات اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی ہیں جو بالکل سچ ہیں۔ ان میں نہ تو شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی ردوبدل کی گنجائش ہے۔ اللہ نے جو کچھ عذاب اور انعام کا بتایا ہے بالکل ہو کر رہے گا۔ اعمال ہی ہماری نجات کا ذریعہ ہوں گے اور اعمال ہی ہماری سزا کا سبب ہوں گے۔ علامہ اقبال نے کچھ یوں فرمایا ہے : عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
Ayahs 7:44–53

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور اہل جنت اہل دوزخ کو پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پا لیا۔ بھلا تم نے بھی اس وعدے کو سچا پایا جو تم سے کیا گیا تھا ؟ وہ کہیں گے ہاں ! تو اس وقت ان میں سے ایک پکارے گا کہ اللہ کی لعنت ان ظالموں پر۔

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے اور آخرت سے انکار کرتے تھے۔

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

ان دونوں (جنت اور دوزخ) کے درمیان اعراف نام ایک دیوار ہوگی اور اعراف (بلندی) پر کچھ آدمی ہوں گے جو سب کو ان کی صورتوں سے پہچان لیں گے، وہ اہل جنت کو پکار کر کہیں گے تم پر سلامتی ہو۔ یہ لوگ (اعراف والے) ابھی بہشت میں داخل تو نہیں ہوئے ہوں گے مگر امیدوار ہوں گے۔

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان کی نگاہیں پلٹ کر دوزخیوں کی طرف جائیں گی تو عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب ! ہم کو ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کرنا۔

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور اہل اعراف کافر لوگوں کو جنہیں وہ ان کی شکلوں سے پہچانتے ہوں گے پکار کر کہیں گے کہ آج نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبر ہی فائدہ مند ہوا۔

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

) پھر مؤمنوں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے کہ) کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اللہ اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہ کرے گا ؟ تو مومنو ! تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔ تمہیں کچھ خوف نہیں اور نہ تم کو کچھ رنج اور نہ فکر ہوگا۔

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور وہ دوزخی جنتیوں سے گڑگڑا کر کہیں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بہا دو یا وہ رزق جو اللہ نے تمہیں دیا ہے ہمیں بھی اس میں سے دے دو ۔ وہ جواب دیں گے کہ ” اللہ نے جنت کا رزق اور پانی کافروں پر حرام کردیا ہے۔

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے، اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے۔

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم و دانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کردیا گیا ہے اور وہ مومنین کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اس کے واقع ہوجانے کے منتظر ہیں ؟ جس دن وہ واقع ہوجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھیں گے کہ بیشک ہمارے رب کے رسول حق لیکر آئے تھے بھلا آج کوئی ہمارے سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں ؟ یا ہم دنیا میں پھر بھیج دیے جائیں کہ جو برے عمل ہم پہلے کرتے تھے وہ نہ کریں بلکہ ان کے سوا اور نیک عمل کریں۔ بیشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افترا کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا۔

اہل جنت اور اہل جہنم کا مکالمہ اور اصحاب اعراف کا تذکرہ تشریح : آیات 44 تا 53 میں جو کچھ بتایا گیا ہے انتہائی عبرت دلانے والا اور خوش کرنے والا ہے۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے اہل جنت اور اہل جہنم کی آپس میں گفتگو نیز اصحاب اعراف کا ایسا نقشہ کھینچا ہے لگتا ہے سب کچھ سامنے ہو رہا ہے۔ یہ سب راز کی باتیں ہیں انسان کی نظر سے پوشیدہ اور تصور سے باہر۔ مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ کیونکہ اپنے بندوں پر حد سے زیادہ مہربان ہے اور رحیم و کریم ہے اس لیے لوگوں کو دنیا کی مصیبتوں اور آخرت کے عذاب سے بچانے کے لیے رسول بھیجے، پھر آخری رسول محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرما کر لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے بھیجا۔ مگر کفار و مشرکین نے بالکل توجہ نہ دی اور اپنا بہت زیادہ نقصان کرلیا۔ ان آیات میں خاص طور سے اعراف کا ذکر کیا گیا ہے۔ اعراف کا مطلب ہے بلند جگہ جنت اور دوزخ کے درمیان یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں وہ لوگ کھڑے ہوں گے جن کے گناہ و نیکی برابر برابر ہوں گی۔ وہ لوگ جنت میں جانے والے لوگوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے اور اسی طرح دوزخ میں جانے والے لوگوں کو بھی دیکھ رہے ہوں گے اور جیسا کہ آیات میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ ان دونوں قسم کے گروہوں سے بات چیت کریں گے۔ پھر دوزخیوں کا واویلا اور حسرت بھری باتیں بیان کی گئی ہیں۔ یہ سب کچھ قرآن مجید میں بار بار بڑی وضاحت سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ جو سمجھ گئے ایمان لے آئے کامیاب ہوگئے اور جو نہ سمجھے انہوں نے سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں کیا۔ اور آخرت میں ہمیشہ کا سخت عذاب اپنے لیے چن لیا۔ معلوم یہ ہوا ایک بہت بڑے راز کی اطلاع ہمیں قرآن مجید کے ذریعہ دی جا رہی ہے کہ حشر کے میدان میں (جو ضرور ہوگا) تین قسم کے گروہ ہوں گے۔ -1 مومنین، -2 مشرکین۔ 3 ۔ اعراف والے۔ مومنین جنت میں جائیں گے۔ مشرکین دوزخ میں جائیں گے اور اعراف پر ٹھہرنے والے سب سے بعد میں اللہ کے فضل و کرم اور مہربانی سے جنت میں جائیں گے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان کے گناہوں کی سزا اس انتظار میں پوری ہوجائے گی جو وہ فیصلے سننے میں کریں گے اور دوزخ اور جنت حاصل کرنے والوں کا دکھ اور خوشی دیکھتے رہیں گے۔ کیونکہ انتظار بذات خود ایک بہت بڑی تکلیف دہ حالت ہے۔ بہرحال یہ سب کچھ تو ہو کر رہے گا۔ میدان حشر، جنت، دوزخ، سزا، جزا اور اعراف یہ سب راز کی باتیں ہیں، غیب کا علم ہے جو مسلمانوں کو بلکہ تمام مخلوق کو قرآن مجید کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بڑی تاکید اور وضاحت سے بتا دیا ہے اور کتاب ہمارے درمیان موجود ہے، ہمارا فرض ہے اس کو باربار پڑھیں خود سمجھیں دوسروں کو سمجھائیں، یہی عمل کرنے کا طریقہ ہے خود نمونہ بن جائیں، لوگوں کو دین کی طرف بلانے کا بہترین طریقہ یہی ہے۔ ہر چیز فنا ہونے والی ہے تیرے عزت و احترام والے رب کا چہرہ ہی باقی رہے گا اس کے ساتھ ایمان رکھنے سے ہی آخرت میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔ کیونکہ انسان قرآن حکیم کا حامل ہے جس طرح یہ پیغام، یہ کتاب لافانی ہے اسی طرح مسلمان مر کر بھی جنت الفردوس میں ہمیشہ کی زندگی گزارے گا۔ نہ تو کائنات بےمقصد پیدا کی گئی ہے اور نہ ہی انسان بےمقصد پیدا کیا گیا ہے۔ بلکہ کائنات اور مخلوقات سب کی پیدائش ایک انتہائی حکیم وعلیم کی پہلے سے بنائے ہوئے پروگرام کے تحت ہوئی۔ اس میں ہرگز کسی شک و شبہ کا امکان نہیں۔ جگہ جگہ قرآن مجید میں بتایا گیا ہے کہ اس کائنات اور تمام مخلوقات کا وجود ذرات سے ہوا ہے اور ایک چھوٹے سے چھوٹے ذرے سے لیکر بڑی سے بڑی کائنات کا نظم و نسق حرکات و سکنات سب ایک منظم قانون کے تحت چل رہا ہے۔ یہ سب کسی خاص مضبوط پروگرام کے تابع ہیں۔ جیسا کہ سورة الانعام کی آیت 67 میں کہا گیا ہے۔ ” ہر خبر کے ظاہر ہونے کا وقت مقرر ہے اور یہ سب کچھ جلد ہی تم جان لو گے۔ “ جب قرآن نازل ہوا تو انسان سائنسی حقائق اور تحقیق کے علوم سے بالکل بیخبر تھا۔ لیکن جب تقریبا ہزار سال بعد علمی ترقیوں اور جستجو کا دور شروع ہوا تو سب کو معلوم ہوگیا کہ قدرت کے تمام قانون بڑے مضبوط اور بہترین ہیں اور ہرگز بدلنے والے نہیں۔ 1906 ء میں ایک غیرمسلم سائنس دان آئن سٹائن کے تمام تحقیقاتی علوم کی بنیاد ہی اس بات پر تھی کہ ” قوانین قدرت زمان و مکان کے پابند نہیں بلکہ زمان و مکان قدرت کے پابند ہیں اور انہوں نے تمام کائنات کو جکڑا ہوا ہے اور ان کی بنیاد پر ہم ہر چیز کے ماضی، حال اور مستقبل کو سمجھ سکتے ہیں اور کائنات کا ذرہ ذرہ خدائی قانون کا پابند ہے۔ “ (ازحیات بعد الموت مصنف سلطان بشیر محمود) ثابت ہوچکا ہے اور ہر مسلمان کا پکا ایمان ہے کہ جو بھی پیدا ہوا ہے اپنا مقررہ وقت اور کام پورا کرکے ضرور ختم ہوجائے گا۔ اسی طرح تمام کائنات بھی مقررہ وقت پر ضرور ختم ہوجائے گی، پھر مقررہ وقت پر میدان حشر میں ضرور سب لوگ جمع ہوں گے پھر حساب کتاب کا سلسلہ شروع ہوگا۔ جنت و دوزخ اور اعراف کا واقعہ ہر انسان کے سامنے موجود ہوگا۔ اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہر ایک کو سزا یا جزا ضرور ملے گی۔ یہ دنیا کی زندگی بہت کم مگر بہت اہم ہے کیونکہ یہاں کئے ہوئے اعمال کا بدلہ ہی آخرت میں ہمیشہ کی زندگی میں ملے گا۔ اس لیے نہ اللہ کو بھولو نہ شیطان کے پیچھے لگو اور نہ ہی دوزخ کو بھولو۔ کیونکہ قیامت دور نہیں ہے۔
Ayahs 7:54–56

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج، چاند اور ستاروں کو پیدا کیا۔ سب اس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے، اور حکم بھی اسی کا ہے۔ اللہ رب العالمین بڑی برکت والا ہے۔

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

لوگو ! اپنے رب سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا، اور اللہ سے ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے دعائیں مانگتے رہنا۔ بیشک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔

خالق ارض و سما، مدبر الامور اور رب العالمین سے مانگو تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، عظمت اور صناعی کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے چھ دن میں آسمان اور زمین بنائے۔ چھ دن کا مطلب ہے کہ زمین و آسمان کی ابتدا تو یکدم ہوئی جیسا کہ اس کا طریقہ، مرضی اور قدرت کاملہ ہے جب وہ بھی کچھ بنانا چاہتا ہے تو اس کو سوائے ” کن “ کہنے کے اور کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ یہاں بھی انسان کی ناقص عقل ادھر تک ہی پہنچتی ہے کہ زمین کی ابتدا تو فوراً ہوئی مگر زمین و آسمان کی نشوونما اور انتہائِ تکمیل آہستہ آہستہ ہوئی اسی لیے چھ دن کہا۔ اب دن کا مسئلہ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہاں ایک دن کتنے عرصہ، یعنی کتنی مدت اور کتنا لمبا ہوگا۔ کیونکہ ہمارے زمینی دن رات کا سسٹم فرق ہے۔ زمین کے وجود میں آنے سے پہلے اور اس کے مٹ جانے کے بعد دن کی لمبائی کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں مختلف آیات میں ان دنوں کی مدت مختلف بتائی گئی ہے۔ کہیں ہمارے پچاس ہزار سالوں کے برابر کہا گیا ہے اور کہیں ہزار سالوں کے برابر کہا گیا ہے، جیسا کہ سورة الحج کی آیت 47 میں اللہ فرماتا ہے۔” اور تم سے عذاب کے لیے جلدی کر رہے ہیں اور اللہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔ اور بیشک تمہارے رب کے نزدیک ایک دن تمہارے حساب کی رو سے ہزار برس کے برابر ہے “ ہماری زمین، آسمان، چاند، سورج ستارے ایک نظام کے مطابق چل رہے ہیں جن سے رات، دن، صبح، دوپہر شام، ہفتے مہینے اور سال کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ لیکن آسمان و زمین کی تخلیق سے پہلے نظام کیا تھا اور زمین و آسمان کی تباہی کے بعد یعنی قیامت کے بعد کیا نظام ہوگا ؟ یہ سب انسانی عقل اور انسانی علم سے بالکل باہر ہے۔ ابھی تک کوئی سائنس دان اللہ کے ان پوشیدہ رازوں سے آگاہ نہیں ہوسکا جبکہ سائنس دان ان رازوں کو جاننے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے جو کچھ اللہ نے قرآن مجید میں بتایا ہے اور جو کچھ کرنے کو کہا ہے پوری سعادت مندی سے ان کو سمجھ کر ان پر عمل کرتے ہوئے زمین پر امن و سکون سے زندگی بسر کرنی چاہیے۔ یہ نہیں کہ ہر بات میں نافرمانی کرتے ہوئے گھر، محلہ، ملک اور دنیا میں شر اور فساد پھیلاتے پھریں۔ یہاں یہ نصیحتیں غور کرنے کے قابل ہیں۔ -1 ہر وقت یاد رکھو کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے ہر قسم کی برکتیں اور ہر قسم کا حکم صرف اور صرف اللہ ہی دے سکتا ہے اور کوئی اس پر ہرگز کسی قسم کی قدرت نہیں رکھتا۔ -2 صرف اسی سے مانگو اسی کو یاد کرو، وہی رازدار ہے، اس کو چپکے سے پکارو تو بھی وہ سنتا ہے۔ -3 کسی بھی معاملہ میں اللہ کی بتائی ہوئی حدود سے باہر مت نکلو۔ ہر بات میں اعتدال کا خیال رکھو۔ کیونکہ حد سے بڑھنے والے لوگوں کو خود بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور اللہ کو بھی یہ بات ناپسند ہے۔ -4 امن و سلامتی کو قائم رکھو۔ شرو فساد ہرگز نہ پھیلائو۔ -5 اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور فضل و کرم متقی لوگوں کو خصوصاً حاصل ہوتی ہیں۔ -6 اللہ پر پورا بھروسہ رکھو اور پوری امید اور توکل سے اس سے دعا مانگو۔ اگر کبھی دعا قبول ہونے میں دیر ہوجائے تو اس کی رحمت سے ناامید ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ ہماری بہتریوں کو ہم سے زیادہ جانتا ہے۔ ہوسکتا ہے جو ہم اس سے مانگ رہے ہیں وہ بظاہر تو اچھا ہو مگر حقیقت میں وہ ہمارے لیے نقصان دہ ہو۔ اس لیے اگر دعا قبول نہ ہو تو اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے کیونکہ جو دعا یہاں پوری نہ ہوئی وہ ہمیں کسی اور صورت میں یا آخرت میں بہت بڑے انعام کی شکل میں ضرور مل جائے گی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کیسی عظیم دعا سکھائی ہے : ” اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں حسنہ (ہر قسم کی بھلائی) اور آخرت میں حسنہ (ہر قسم کی خیر) عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے۔ (سورۃ البقرۃ : 202) رسول اللہ ﷺ کثرت کے ساتھ یہ دعا کیا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری)
Ayahs 7:57–58

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت یعنی مینہ سے پہلے ہوائوں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری ہوائوں کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم ان کو ایک مری ہوئی (خشک) بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں پھر بادل سے بارش کردیتے ہیں، پھر بارش سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو زمین سے زندہ کرکے باہر نکالیں گے، یہ آیات اس لیے بیان کی جاتی ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

جو زمین پاکیزہ ہے اس میں سے سبزہ بھی اللہ کے حکم سے نفیس ہی نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں جو کچھ نکلتا ہے ناقص ہوتا ہے، ایسے ہم آیتوں کو شکرگزار لوگوں کے لیے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔

شکر گزاری کے لیے اللہ کی نعمتوں کا ذکر تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت نے ہوائوں، بادلوں، زمین اور زمین سے پیدا ہونے والے ان تمام پھلوں، سبزیوں اور اناج کا ذکر کیا ہے جو اچھی زرخیز زمین میں سے نکلتے ہیں۔ انسانوں کو فائدہ دیتے ہیں اور انسان اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے مستفید ہوتے ہیں۔ مگر اصل مقصد ان آیات کا یہاں بیان کرنے سے یہ ہے کہ اللہ رب العزت بادل کو اپنے فرامین سے تشبیہ دیتے ہیں کہ میرے ہدایت کے فرمان رسولوں کے ذریعے تمام لوگوں تک پہنچتے ہیں جس طرح بارش ہر قسم کی زمین پر برستی ہے مگر اچھا پھل اچھا اناج اسی اچھی زمین سے اگتا ہے جو زرخیز ہوتی ہے۔ جو زمین پتھریلی، شورزدہ یا اور کسی نقص والی ہو تو وہاں پھل پھول اور فصل بھی ویسی ہی خراب، بیکار اور فضول ہوتی ہے۔ یعنی زمین کو مخلوق سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ جس طرح ہر زمین بارش سے فائدہ نہیں اٹھاتی اسی طرح ہر انسان بھی اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایات، رسولوں اور آسمانی کتابوں سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔ صرف وہی لوگ آیات ربانی سے فائدہ اٹھاتے ہیں جو نیک فطرت، درویش طبع اور صالح مزاج رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ صرف دنیا میں ہی کامیاب ہوتے ہیں بلکہ آخرت کی زندگی بھی بھرپور اور شاندار گذاریں گے اور پھر اپنے ساتھ ہر شخص کو ہدایت کے فائدوں سے مطلع بھی کرتے ہیں۔ یعنی ایسے نیک لوگ خود بھی خوش و خرم شاداب زمین کی طرح ہوتے ہیں اور اپنے بہترین پھل پھول سے دوسروں کو بھی فائدے پہنچاتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی رحمتوں برکتوں کی ہر وقت ہر صورت قدر کرتے ہیں اور اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے رہتے ہیں۔ پھر اس تمام سلسلے سے ایک حکمت کی بات اللہ تعالیٰ اور بھی سمجھاتے ہیں کہ جو لوگ مرنے کے بعدانسان کے دوبارہ زندہ ہوجانے پر شک وشبہ رکھتے ہیں تو ان کو یہ مثال مطمٔن کرنے کے لیے کافی ہے کہ جب زمین خشک ہوجاتی ہے تو صرف بارش کے پانی یا دریا یا نہر سے اس کو دوبارہ زندگی مل جاتی ہے۔ خشک زمین میں اول تو کچھ اگتا ہی نہیں اور اگر اگ آئے تو تھوڑے ہی عرصہ میں سوکھ کر ختم ہوجاتا ہے تو ایسی ہی خشک زمین کو ہم سیراب کرتے ہیں تو وہ دوبارہ زندہ ہو کر پھل پھول دینے کے قابل ہوجاتی ہے اگر یہ ممکن ہے تو مردہ انسان جو کہ زمین میں دفن ہوچکا ہے اللہ کے حکم سے دوبارہ زندہ کیوں نہیں ہوسکتا ؟ بالکل ہوسکتا ہے۔ اب تو سائنس دان اس فار مولے پر تحقیق کرنے کے بعد یقین کر رہے ہیں کہ مردہ انسان دوبارہ زندہ ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ سلطان بشیر محمود صاحب نے اپنی کتاب ” قیامت اور حیات بعد الموت “ میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔ میں اس میں سے کچھ حصہ پیش کرتی ہوں، لکھتے ہیں۔ ” اگر زندگی، شعور، یادداشت اور حرکت کا نام ہے تو پھر آدمی کا ذرہ ذرہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ نہ صرف یہ کہ ان کی اپنے متعلق یادداشت ہے بلکہ وہ جسم میں دیگر ایٹموں (ذرات) سے بھی اپنے تعلق کو یاد رکھتے ہیں۔ اب یہ نظریہ ایک سائنسی حقیقت کے طور پر بھی ثابت ہوچکا ہے کہ اگر دو ذرات کبھی اکٹھے ہوں اور انہیں علیحدہ کردیا جائے تو اس کے بعد بھی وہ ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہتے ہیں تو انسانی جسم کے ایٹمی ذرات کیسے ایک دوسرے کو بھول سکتے ہیں۔ لہٰذا ان کو جب بھی مناسب ماحول نصیب ہوگا وہ دوبارہ اکٹھے ہو کر باہم مل کر اپنے پرانے ڈیزائن کے مطابق ترتیب پاکر دوبارہ باہم زندگی کا نیا سفر شروع کرسکتے ہیں۔ یعنی حیات بعد الموت کوئی اچنبا نہیں بلکہ قدرت کے ڈیزائن کا ایک ضروری حصہ ہے اور یہ ہو کر رہے گا۔ “ سبحان اللہ۔ کتاب مذکور کے صفحہ 390 پر یہ بہترین ثبوت ملا ہے۔
Ayahs 7:59–64

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے سردار کہنے لگے ہم تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

تو انہوں نے کہا اے میری قوم ! مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے کیونکہ میں رب العالمین کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

میں تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے ایسی باتیں معلوم ہیں جن سے تم بیخبر ہو۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک بندے کے ذریعے تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی، وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

پس ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا تو ہم نے نوح کو ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہونے والوں کو تو بچالیا مگر جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو غرق کردیا۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ اندھے تھے۔

سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم پر عذاب تشریح :ــــ قرآن پاک میں جگہ جگہ کہا گیا ہے کہ قرانی آیات اور کائنات پر غور و فکر کرو۔ کیونکہ جیسے جیسے علم و عرفان اور سائنسی ترقی ہو رہی ہے رب اور اس کی صفات، قدرت، وحدانیت اور توکل کے دروازے زیادہ روشن اور زیادہ واضح ہوتے چلے جا رہے ہیں اور کفر و شرک کے دروازے آہستہ آہستہ بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہاں تک توحید، رسالت اور آخرت کا بیان بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے اب سورة الاعراف میں آٹھویں رکوع سے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کا ذکر ہے اور آئندہ چودہ رکوع اسی مضمون پر مشتمل ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بیشمار رحمتیں اور برکتیں نازل کی ہیں۔ رحمتیں دو طرح کی ہیں۔ جسمانی اور روحانی، جسمانی نشوونما کے لیے کائنات کی ہر چیز مددگار ہے جیسا کہ یہاں بارش کی مثال دی گئی ہے کہ بارش کا پانی مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے جبکہ نبی، رسول اور پیغمبر اور ان کی شریعت مردہ نفس انسانی، یعنی روح کو شاداب کرتی ہے اور پھر آخرت اور یوم حشر کا نقشہ بڑے ہی خوفناک انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ پھر بھی کچھ مردہ دل، اندھے اور بہرے لوگ نیکی کی طرف نہ رجوع کرتے ہے اور نہ ہی دوسرے کو ہی اس طرف بلاتے ہیں تو ایسے ہی لوگوں کے لیے عبرت دلانے کے لیے گزری ہوئی قوموں کے حالات بیان کئے جارہے ہیں۔ تاکہ ان کو دیکھ کر لوگ عبرت حاصل کریں اور نیکی اختیار کر کے دنیا و آخرت میں نجات پاسکیں۔ تو سب سے پہلے یہاں سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر مختصر انداز میں کیا گیا کیونکہ تفصیلاً انشاء اللہ سورة نوح اور ھود میں کیا جائے گا۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) سیدنا آدم (علیہ السلام) کی آٹھویں پشت میں سے ہیں۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) اور سیدنانوح (علیہ السلام) کے درمیان تقریباً ایک ہزار سال کا و قفہ ہے۔ ان کو 40 سال کی عمر میں نبوت ملی طوفان کے بعد ساٹھ سال زندہ رہے۔ سیدنا نوح کی قوم عراق میں آباد تھی۔ کیونکہ ان کے آثار آرمینیہ کی سرحد پر کوہ نوح میں پائے جاتے ہیں۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے اور قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا نوح (علیہ السلام) پہلے مرسل رسول ہیں جن کو توحید کا پیغام دے کر بھیجا گیا۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کی تعلیمات کے مطابق لوگ اللہ رب العزت کے وجود کو اس کی طاقت مانتے تھے مگر آہستہ آہستہ وہ اللہ کی وحدانیت سے پھرنا شروع ہوگئے اور اللہ کے ساتھ کئی شریک بنانے لگے۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کی تعلیمات یہی تھیں کہ اپنے رب کو پہچانو، صرف اسی کی ہی عبادت کرو کیونکہ وہی رزق دیتا ہے اور کوئی بھی اس کا شریک نہیں ہوسکتا وہ اکیلا ہے طاقت وقدرت اور بادشاہی اسی کی ہے اس لیے شرک سے باز آجاؤ۔ مگر ان کی قوم نے حیل اور حجت سے کام لیا اور سیدھی راہ اختیار نہ کی۔ جس کی وجہ سے بڑھتی ہوئی گمراہی کا علاج اللہ رب العزت نے یہ کیا کہ ان پر پانی کا عذاب نازل کردیا زمین سے پانی ابلنے لگا اور آسمان سے بھی زورداربرسنے لگا۔ پوری قوم اس میں غرق ہوگئی سوائے ان گنتی کے لوگوں کے جو سیدنا نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی کشتی میں سوار ہوئے تھے۔ اس سورت سے سبق ملتا ہے کہ رسولوں کی تعلیمات پر عمل کرنا بےحد ضروری ہے دوسرا یہ کہ اللہ اپنے بندوں کی حمایت ضرور کرتا ہے تیسرا انبیاء کو جھٹلانا عذاب دنیا اور عذاب آخرت کا نشان ہے۔ ہماری قوم بلکہ ساری دنیا کے لیے نبی اکرم ﷺ نبی بنا کر بھیجے گئے۔ ان کی تعلیمات ان کی شریعت انسانوں کے لیے اللہ کی رحمت ہے۔ کیونکہ دنیا میں بھلائیاں حاصل کرنے اور آخرت میں نجات حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ ہم سب کو ہر وقت اسی کوشش میں اور اسی دعا میں مگن رہنا چاہییے کہ اللہ اپنے فضل و کرم سے ہمیں ان راہوں پر چلائے جو جنت کو جاتی ہوں جہنم کو نہ جاتی ہو۔ آمین۔ ڈاکٹر اقبال فرماتے ہیں : عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے نگاہ مسلمان کو تلوار کر دے مطلب یہ ہے طارق نے بھی اس وقت دعا کی جب انہوں نے اپنی کشتیاں تک جلا دیں تو اللہ سے اپنے مجاہدین کے بلندو پاکیزہ ارادوں میں کا میابی کی التجا کی۔ لیکن حقیقت میں مسلمانوں کا حسن سلوک اور بلند کر داری کی وجہ سے کئی ملک بغیر لڑائی کے ہی فتح کرلیے گئے، مثلاً انڈونیشیا، ملائیشیا اور مالدیپ وغیرہ کہ یہاں کبھی بھی کوئی مسلمان فوجی داخل نہیں ہوا تھا۔ سوائے مسلمان تاجروں کے۔ تو وہاں لوگ صرف نگاہ مسلمان سے ہی فتح کئے جاتے رہے اور لوگ حسن کردار سے متاثر ہو کر خود بخود اسلام قبول کرتے چلے گئے یا ایسی ہی نگاہ ہمیں پھر سے عطاکردے کہ بےتیغ ہی دنیا میں فتح و کامیابی حاصل کرتے چلے جائیں اور اگر تلوار سے بھی لڑنا پڑے تو گریز نہ کریں کیونکہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔