7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 7:157–159

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

وہ نبی امی (محمد ﷺ کی پیروی کرتے ہیں، جن کے بارے میں وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق اتارتے ہیں اور جن لوگوں نے ان کی حمایت کی اور انہیں مدد دی اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی، وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! ) فرما دیں کہ لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا (اس کا رسول) ہوں جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ لہٰذا اللہ اور اس کے رسول امی پر ایمان لاؤجو اللہ اور اس کے کلام پر ایمان رکھتا ہے ان کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

تشریح : پچھلی آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ کہ اللہ رب العزت کی مخلوق میں اس کا طریقہ فضل و کرم پر ہی ہے غضب تو صرف اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان حد سے زیادہ خود سر اور نافرمان ہوجاتا ہے اور پھر نعمت و رحمت کے حق دار لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ جو ایمان وتقویٰ اختیار کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے۔ پھر فرمایا کہ آج سب سے بڑی نافرمانی یہ ہے کہ تم اس نبی امی ﷺ پر ایمان نہ لاؤ جن کے بارے میں تمہاری کتابوں تورات اور انجیل میں بڑا واضح طور پر بتایا گیا ہے اور بڑی بڑی نشانیاں ان کے بارے میں بیان کی گئی ہیں جو آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ میں وہ تمام نشانیاں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر صحیفہ استثناء باب 18 کی پندرہویں آیت ہے : ” خدا وند تیرا خدا تیرے لیے تیرے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔ تم اس کی طرف کان دھریو (توجہ دینا ) “ ( از مطالعہ القرآن) دوسری آیت بھی صحیفہ استثناء کے اٹھارہویں باب کی اٹھارہویں آیت ہے : ” اور خدا وند نے مجھ سے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کیا سو اچھا کیا۔ میں ان کے لیے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور ان کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا۔ “ تیسری جگہ پھر اسی صحیفہ کے باب 23 کی دوسری آیت ہے : ” خدا وند سینا سے آیا اور سعیر سے ان پر طلوع ہوا، فاران کے میدان میں وہ جلوہ گر ہوا، دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے ہاتھ میں ایک آتشیں شریعت ان کے لیے تھی “ سینا سے اشارہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ہے اور اشارہ سعیر سے اشارہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ہے۔ اسی طرح مکہ کی پہاڑی فاران سے اشارہ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف ہونا بالکل پکی بات ہے۔ آتشیں شریعت بھی انہیں رسول ﷺ کی تھی۔ دس ہزار پاک نفس صحابہ کے ساتھ فتح مکہ کے وقت شہر میں داخلہ بھی ہمارے ہی رسول ﷺ کا ہوا تھا۔ صحیفہ پیدائش کے باب 49 کی دسویں آیت کا ایک اور حوالہ : ” یہودا سے ریاست کا عصا جدانہ ہوگا اور نہ حاکم اس کے پاؤں کے درمیان سے جاتا رہے گا جب تک کہ سیلا اس کے پاس نہ آجائے اور قومیں اس کے پاس اکٹھی ہوں گی۔ “ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مختلف قومیں ہمارے ہی رسول ﷺ ہی کے علم کے نیچے جمع ہوئیں اور سیلا کے معنی میں بھیجا جانے والا۔ بھیجے جانے والے وہی نبی ﷺ تھے اور انہیں کے بعد یہود کا اقتدار نمایاں طور پر ختم ہوا۔ اسی طرح انجیل یوحنا کے باب 14 کی سولہویں آیت میں خود سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے نقل ہوا۔ ” میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ دوسرا مددگار بھیجے گا کہ جو ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا۔ “ تو یہ ابد تک رہنے والا سوائے خاتم النبیین کے اور کون ہوسکتا ہے ؟ یہ سارے انجیلی حوالے انہیں انجیلوں کے ہیں جو مسیحی کلیسا کو مسلم اور ان کے ہاں مستند ہیں۔ ( مطالعہ قرآن ) اب قرآن پاک میں جو بوجھ اتارنے اور گردن کو طوق سے آزاد کرنے کی بات ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ شریعت محمدی ﷺ تمام پچھلی شریعتوں کا بہترین نمونہ ہے کیونکہ یہ شریعت سب پر حاکم ہے۔ اس کے اصول قوانین انتہائی آسان ہیں۔ کیونکہ وہ انسانی فطرت کے مطابق ہیں، اس لیے ان پر عمل کرنا بےحد آسان اور فائدہ مند ہے۔ نبی کا یہ مشن ہوتا ہے کہ وہ توحید باری تعالیٰ سے دعوت کا آغاز کرتا ہے اور پھر لوگوں کو ظلم و زیادتی سے نجات دلاتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو پہلے دعوت توحید پیش کی اور پھر بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے آزاد کروانے میں ہر طرح کوشش کرتے رہے اور بالآخر ان کو آزاد کروا لیا۔ مگر ان کی قوم نے ان کی غیرموجودگی میں شرک شروع کردیا۔ جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح شرک کفر اور یہی غلامی کا رواج نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں حد سے زیادہ بڑھا ہوا تھا اور اس غلامی کو آپ ﷺ نے بڑی ہی تھوڑی مدت میں بالکل ختم کردیا اور پھر یہودیوں کے حرام حلال کے بےحد مشکل مسئلہ کو حل کردیا کیونکہ سزا کے طور پر بہت سی حلال چیزوں کو ان پر حرام کردیا گیا تھا جو کہ بیان ہوچکا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حلال کو حلال اور حرام، یعنی گندی ناپاک اور مضر صحت چیزوں کو حرام قرار دے دیا۔ اور یہ سب باتیں، احکامات اور ہدایات وہ خود اپنے پاس سے نہیں دیتے تھے، کیونکہ وہ تو نبی امی تھے، یعنی وہ پڑھے لکھے نہ تھے اور یہ پڑھے لکھے نہ ہونا ان کے لیے باعث اعزاز تھا کیونکہ ان کے نبی ہونے کا یہ ایک بہت بڑا ثبوت ہے کہ وہ جو بات کہتے وحی سے آنے والی بات کہتے تھے۔ ان کا امی ہونا ان کے رسول ہونے اور قرآن کے آسمانی کتاب ہونے کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ تو یہاں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے جواب میں فرمایا گیا کہ فلاح پانے والے لوگوں کے لیے ان چار باتوں پر عمل کرنا بےحد ضروری ہے۔ -1 یہ کہ وہ محمد ﷺ پر ایمان لائیں جن کا ذکر تورات میں موجود ہے کہ وہ نبی آخر الزماں ہوں گے۔ -2 ان کی تعظیم و تکریم کا پورا پورا خیال رکھیں۔ -3 آپ ﷺ کی ہر صورت مدد کریں کبھی ان کے خلاف کسی قسم کا کوئی کام نہ کریں نہ زبانی اور نہ ہی عملی طور پر۔ -4 قرآن پاک جو ایک نور کی طرح ہے کیونکہ اس میں زندگی گزارنے کے اتنے اچھے اصول بتائے گئے ہیں کہ جو نہ صرف افرادی فائدہ مند ہیں بلکہ تمام انسانیت کے لیے بہترین رہن سہن، معاملات، حکومت، تجارت اور دوسرے ممالک کے ساتھ معاملات غرض زندگی کے ہر پہلو کو بڑی اچھی طرح واضح کرتے ہیں۔ تاکہ دنیا میں امن وامان اور آخرت میں بخشش کا سامان ہو سکے۔ اس لیے تمام انسانوں کو لازم ہے کہ وہ ایمان لائیں اور نبی ﷺ کی عزت کریں اور اس کے دیئے ہوئے تمام اصول و قوانین پر پوری طرح عمل کریں۔ آخر میں فرمایا کہ ” سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے پیرو، یعنی بنی اسرائیل میں سب ہی لوگ برے اور نافرمان نہیں بلکہ بہت سے لوگ اچھے اور فرمانبردار بھی ہیں مثلاً عبداللہ بن سلام ؓ ۔ یہ یہود کے سب سے بڑے عالم تھے اور آپ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ اللہ رب العزت نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ اعلان کردیں کہ کہ آپ ﷺ تمام دنیا کے لیے رحمت اور پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ ﷺ کی شریعت قیامت تک محفوظ و مامون رہے گی۔ کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود رب العالمین نے لیا ہے۔ وہ رب العالمین کہ جو تمام مخلوقات، کائنات اور اس کی ہر ایک چیز کا مالک ہے۔ وہ اتنا عظیم، طاقتور اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے کہ اس کی عظمت و طاقت کا تو کوئی انسان بھی تصور نہیں کرسکتا، اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بھیجے ہوئے رسول اور قرآن پاک پر ایمان لائو۔ صرف ایمان ہی نہ لائو بلکہ احکامات پر پابندی سے عمل بھی کرو۔
Ayahs 7:160–166

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو (بنی اسرائیل کے) بارہ قبیلوں کو اور بارہ ہی جماعتیں بنا دیا اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان کے سروں پر بادل کا سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلویٰ اتارتے رہے۔ اور ان سے کہا کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھائو۔ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ جو نقصان کیا اپنا ہی کیا۔

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور ( یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں رہنا شروع کر دو (سکونت اختیار کرلو) اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا پینا اور حِطَّۃٌ (ہمیں بخش دے) کہنا اور سجدہ کرتے ہوئے (سر کو جھکاتے ہوئے) داخل ہونا۔ تو ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور بھی زیادہ دیں گے۔

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

مگر ان میں جو ظالم تھے انہوں نے اس بات کو بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی۔ تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ وہ ظلم کرتے تھے۔

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور ان سے اس گائوں کا حال تو پوچھو جو لب دریا واقع تھا۔ جب لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے بڑھنے لگے۔ اس وقت کہ ان کے ہفتہ کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اس طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈال رکھا تھا۔

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے۔ تو انہوں نے کہا، اس لیے کہ تمہارے رب کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں۔

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کیونکہ وہ نافرمانی کرتے جا رہے تھے۔

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

غرض جن برے اعمال سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ سرکشی کرتے ہوئے وہی کام کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندرہو جاؤ۔

بنی اسرائیل کا بقیہ بیان تشریح : ان آیات کی سورة البقرہ میں کافی وضاحت ہوچکی ہے۔ بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات ان کی نافرمانیاں اور پھر ان پر عذاب کیسے نازل ہوا۔ بنی اسرائیل بڑی مشہور قوم ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑی مہربانیاں کیں جن کا ذکر مذکورہ آیات میں ملتا ہے۔ اس قوم کا ذکر قرآن پاک میں بارہا کیا جا چکا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی اصلیت اپنی عظمت وقدرت، رحم و کرم یاد دلاتا ہے اور پھر یہ بھی سمجھاتا ہے کہ اس کا غضب، غصہ اور عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ ہر شخص کو اس بات کا خیال ہر وقت رکھنا چاہیے۔ پھر ان کا ذکر ان الفاظ میں ہوتا ہے۔
Ayahs 7:167–171

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور ( اس وقت کو یاد کرو) جب آپ کے رب نے یہود کو آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے لوگوں کو مسلط رکھے گا جو ان کو بڑی سخت تکلیفیں دیتے رہے گے۔ بیشک آپ کا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔ اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو گروہ گروہ بنا کر ( ملک میں) پھیلا دیا۔ بعض ان میں سے نیک ہیں اور بعض دوسری طرح کے (بدکار) اور ہم آسائشوں اور تکلیفوں سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ ہماری طرف رجوع کریں۔

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کے بعد برے لوگ ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے یہ لوگ اس ادنیٰ زندگی کا سامان لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں معاف کردیا جائے گا۔ اور اگر ان کے پاس ایسا ہی سامان پھر آئے تو وہ اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا تھا کہ اللہ پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے اور جو کچھ اس کتاب میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں۔

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں۔ اور نماز قائم کرتے ہیں ان کو ہم اجر دیں گے کہ ہم نیک لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور جب ہم نے ان کے سروں پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر ابھی گرنے والا ہے (تو ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو اور جو اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم بچ جاؤ۔

بنی اسرائیل پر غیروں کا تسلط اور حکومت تشریح : ان آیات میں بنی اسرائیل کی نافرمانی، سرکشی اور بدمعاشی کی وجہ سے جو ان پر ذلت و خواری ہمیشہ کے لیے ڈال دی گئی اس کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ مصیبت قیامت تک ان پر مسلط رہے گی۔ پھر اللہ اپنی رحمت کا اعلان اس طرح کرتا ہے کہ جو نیکی کا راستہ اختیار کرلے اور پکی توبہ کرلے اسے وہ معاف بھی کردیتا ہے۔ تاریخ میں اس بات کا ثبوت یوں ملتا ہے کہ پہلے یونانی، کلدانی اور بخت نصر نے ان کو تباہ و برباد کیا، پھر جرمنی ہنگری نے ان کو ملک بدر کیا اگر کوئی چھوٹا موٹا ٹھکانا ان کو ملا بھی ہے تو دوسروں کے رحم و کرم پر ملا ہوا ہے۔ یہ سب کچھ مسلمانوں کو عبرت دلانے کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔ کہ کسی خوش فہمی میں نہ رہیں فتح و کامیابی کے لیے شرط ہے قرآن و سنت پر سختی سے عمل کرنا۔ اگر تم نافرمان بن گئے کہ تمہاری سزا بھی یہی ہے۔ دوسری سزا کا ذکر یوں کیا گیا کہ یہودیوں کو تمام دنیا میں منتشر کردیا گیا ہے اور یوں وہ قوم اتحاد ملی سے محروم کردی گئی مسلمانوں کو جان لینا چاہیے کہ آپس میں اتحاد اور اتفاق قوم و ملک کی سلامتی اور کامیابی کا پہلا اصول ہے۔ پھر یہ بتایا گیا کہ یہود میں کچھ لوگ نیک بھی ہیں اور کچھ بد بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ان کو نعمتیں اور سختیاں دیکر اچھی طرح آزما لیا ہے۔ مگر انہوں نے دونوں صورتوں سے بجائے فائدہ اٹھانے کے نقصان ہی اٹھایا۔ تو سمجھنا چاہیے کہ جب مصیبت آئے تو گھبرائے بغیر صبر سے مصیبت کو برداشت کرنا چاہیے اور جب آسائش و آرام ملے تو بھی مغرور اور اللہ کے نافرمان نہیں ہونا چاہیے۔ اس کو ہر دم یاد رکھنا اور اس کا فرمانبردار رہنا چاہیے۔ پھر ایک اور نکتہ بیان کیا جا رہا ہے یہ بھی تفصیلات سے گزر چکا ہے۔ بہرحال دوبارہ بیان کیا جا رہا ہے کہ عبرت حاصل کریں۔ اللہ فرماتا ہے کہ پہلے تو پھر بھی کچھ اچھے لوگ تھے مگر بعد والے لوگوں نے تو اپنی کتاب کی آیات اور معنی کو ذاتی فائدے کے لیے بالکل تبدیل کردیا۔ اور پھر کہتے ہیں کہ ہم تو بڑی لاڈلی قوم ہیں ہمیں اللہ بالکل معاف کر دے گا۔ یہ خیال ہی ان کو بار بار آیات کی تکذیب اور تحریف پر آمادہ کر رہا ہے۔ حالانکہ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ تورات میں ان سے یہ وعدہ لیا جا چکا ہے کہ وہ تورات کے بارے میں سچ کے سوا کوئی بات نہ کہیں گے مگر یہ لوگ تو آخرت کے بیشمار انعامات کو بالکل بھلا کر غلط کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ اور اتنا بھی نہیں سوچتے کہ آخرت کی بیشمار دولت پرہیزگاروں کے لیے ہے۔ پھر ان لوگوں کو خوشخبری دی جا رہی ہے جو نیک اور صالح ہیں، یعنی جو کتاب اللہ پر پوری طرح عمل کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کے لیے اللہ کی طرف سے آخرت میں بہترین اجر وثواب کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔ یہ وعدہ مسلمانوں کے لیے بھی کئی دفعہ قرآن میں آچکا ہے۔ اور وہ ہے کتاب اللہ اور سنت رسول پر عمل اور نماز کی پابندی۔ اس سے صاف معلوم ہوگیا کہ نماز دین کی پختگی اور ایمان کی مضبوطی اور پرہیزگاری کا ایک خاص رکن ہے۔ پھر پہاڑ کو ان پر کھڑا کرنے کا بیان اس بات کا اظہار ہے کہ کبھی کبھی اللہ رب العزت انسانوں کو راہ پر لانے کے لیے عذاب ان کے سامنے دکھا دیتے ہیں۔ جیسا کہ اس آیت میں ذکر ہے۔ جب انہوں نے احکام الٰہی ماننے سے صاف انکار کردیا تو پھر پہاڑ ان پر اس طرح جھکا دیا گیا کہ ان کو پیس ڈالے گا۔ تب ان کو حکم دیا گیا کہ ” کتاب کو مضبوطی سے پکڑو، یعنی اس پر پورا پورا عمل کرو تاکہ عذاب سے بچ سکو۔ “ اس پر وہ عاجزی سے جھک گئے۔ مگر پھر بھولنا شروع ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی آفات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ تو انسان کو ہوشیار کرنے کے لیے آتی ہیں۔ مصیبت کے وقت اللہ جل شانہ ‘ کے سامنے جھک کر معافی مانگنی چاہیے۔ اور اپنے اعمال پر غور کرنا چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے کہ ہم سب اللہ سے عہد کرچکے ہیں۔ جس کا ذکر اگلی آیات میں آرہا ہے۔
Ayahs 7:172–174

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور جب آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے انکی اولاد نکالی تو ان سے خوداپنے اوپر گواہ بناکر اقرار لیا (اور پوچھا) کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں ( کہ تو ہمارا رب ہے) یہ اقرار اس لیے لیا تھا کہ قیامت کے دن کبھی ایسے نہ کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یہ نہ کہو کہ شرک تو پہلے بڑوں نے کیا تھا اور ہم تو ان کی اولاد تھے تو کیا جو کام مشرک کرتے رہے اسکے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے۔

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ رجوع کریں۔

اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کا عہد تشریح : یہ آیات اس بات کی دلیل ہیں کہ ہم بڑے عظیم رب کی مخلوق ہیں۔ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور زمین پر اللہ کا خلیفہ یا نائب بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ کیونکہ یہ عہد ہر شخص سے لیا گیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ جواب میں ہر رو ح نے کہا کہ کیوں نہیں ہم گواہ ہیں کہ تو ہمارا رب ہے۔ یہ ایک راز ہے جو ہر شخص کے ساتھ وابستہ ہے مگر اس کو صاف طور پر یاد نہیں بلکہ اس کی عقل، سمجھ روح اور لاشعور میں یہ بات پکی طرح موجود ہے۔ اسی لاشعور کی بات اللہ تعالیٰ قرآن کے ذریعہ واضح کرتا ہے۔ عام زندگی میں اس کا ثبوت یوں ملتا ہے کہ انتہائی جاہل، کافر، مشرک اور بیوقوف انسان کو اگر آپ پوچھیں تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ بیساختہ فورًا بولے گا کہ ” اللہ نے پیدا کیا ہے۔ “ دوسری بات یہ ہے کہ دنیا میں جب بھی کسی شخص کو کسی بڑے عہدے پر مقرر کیا جاتا ہے تو باقاعدہ عہد لیا جاتا ہے کہ وہ قوم و ملک کے ساتھ غداری نہ کرے گا۔ تو جب اللہ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور پھر ان سے مخلوق خدا پیدا ہونا شروع ہوگئی تو قرآن پاک سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہم سب سے پہلے عالم ارواح میں زندگی گزارتے ہیں، پھر دوسری زندگی، دنیا میں والدین کے وسیلہ سے آتے ہیں۔ تو عالم ارواح کا تصور بلکہ یقین قرآن پاک میں اسی آیت سے دلایا جا رہا ہے کہ تمام ارواح سے رب العزت نے مجموعی طور پر یہ عہد لیا۔ انسان کو اللہ نے اپنا نائب کہا ہے تو جب اس نے انسان کو اپنا نائب بنایا تو اس سے عہد بھی لیا۔ یہ بات ویسے بھی صاف نظر آتی ہے کہ وہی پیدا کرنے والا ہے وہی پالنے والا ہے اسی نے ہر چیز بنائی ہے اسی کے حکم سے یہ تمام کائنات بغیر کسی فنی خرابی کے چلتی چلی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص نے مرنا ہے اور مر کر اسی کے پاس جانا ہے۔ تو پھر اس کو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یعنی ” اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں “ ماننے میں ہم کیوں دیر کریں ؟ قیامت کے دن اپنے کفر و شرک کے لیے یہ بہانہ نہیں پیش کرسکیں گے کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں چلا یا ہم تو پیدا ہی کافر کے گھر ہوئے یا ہمیں بتانے والا کوئی نہ تھا۔ ہر شخص کو اللہ نے عقل اور شعور دیا ہے اور ہر زمانے میں ہر قوم کے پاس سمجھانے والا پیغمبر اور آسمانی کتاب بھیجی گئی ہے، اس لیے ہر شخص کو اپنے دل، ضمیر اور دماغ سے سوچ کر فیصلہ کرلینا چاہیے کہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی بات ٹھیک ہے یا کہ شیطان کی بات ٹھیک ہے۔ ہر زمانے میں ہر نبی اللہ کی وحدانیت کا ہی سبق دیتا رہا ہے جس نے اس پر غور کیا، سنا اور پڑھا اس کو معلوم ہوگیا کہ مجھے اللہ نے پیدا کیا ہے اور میں عالم ارواح میں اس سے اس کو الہ (معبود) ماننے کا عہد کرچکا ہوں۔ اگر میں نے عہد کی خلاف ورزی کی تو یقیناً مجھے خود اس کی سزا ضرور ملے گی۔ یہی تو ایک جنگ ہے نیکی اور بدی کے درمیان جو انسان کے لیے سب سے بڑی آزمائش اور آخرت میں جہنم یا جنت کا ذریعہ بنے گی اور اسی جنگ کو جیتنے کے لیے قرآن پاک اور باقی تمام آسمانی کتابیں تمام رسول اور پیغمبر انسان کی پوری طرح رہنمائی کرتے ہیں۔ کہ شرک سے بچو تمام برائیوں کی جڑ شرک ہے۔ اللہ ہماری مدد فرمائے۔ آمین ! آخر میں اس بحث کو سمیٹتے ہوئے یہ کہنا ضروری ہے کہ جب ہماری پیدائش اور موت ضروری ہے، یعنی نسل انسانی کے لیے پکا پکا دستور ہے کہ جو پیدا ہوا مرے گا ضرور۔ اسی طرح ہماری روحوں کا وجود ہماری دنیا میں آمد سے پہلے ہوچکا تھا، پھر اسی طرح جب ہم مرجاتے ہیں تو عالم برزخ میں اس وقت تک قیام کرنا ضروری ہوگا جب تک قیامت نہ آجائے اور پھر حساب کتاب کا دن نہ آجائے۔ ہم اپنی آنکھوں سے صرف اپنی موجودہ زندگی کو دیکھتے ہیں۔ اس سے پہلے اور اس زندگی کے بعد یہ سب بہت بڑے مگر یقینی راز ہیں جو اللہ نے ہمیں قرآن مجید اور نبی کریم ﷺ کی احادیث کے ذریعے بتائے ہیں یہ بالکل سچ ہیں۔ ایسا ہوچکا ہے اور ایسا ہو کر رہے گا۔ جب ایک عقل شعور رکھنے والی مخلوق کو اللہ نے اپنا نائب بنا کر زمین پر بھیجا تو بھلا اس سے اپنی فرمانبرداری کا عہد کیوں نہ لیتا۔ ہر ذی شعور اس بات کو آنکھیں بند کرکے مان سکتا ہے۔ اب ہم انسانوں کو اپنے اتنے بڑے رتبہ کا خیال کرتے ہوئے اپنے عہد کو نبھانا چاہیے تاکہ جب اس کے سامنے پیش ہوں تو شرمندہ نہ ہوں۔ بلکہ بالکل مطمئن، بےخوف اور خوشی خوشی رب سے ملنے کا انتظار کریں۔ اللہ فرماتا ہے : ” جو تقویٰ اختیار کرے اور اپنی حالت درست کرے ایسے لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ غم۔ “ (الاعراف آیت : 35)
Ayahs 7:175–179

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دیں جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں، پس وہ ان کو چھوڑ نکلا، پھر اس کے پیچھے شیطان لگ گیا اور وہ گمراہوں میں ہوگیا۔

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے ( ان کے درجے) بلند کردیتے، مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا۔ تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر سختی کرو تو زبان نکالے رہے اور جب چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ تو ان سے یہ قصہ بیان کرو تاکہ وہ فکر کریں۔

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان کیا تو اپنا ہی کیا۔

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس کو اللہ ہدایت دے وہی راہ پانے والا ہے اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل ہیں مگر سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے کان ہیں مگر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل جانوروں کی طرح ہیں۔ بلکہ ان سے بھی بڑھے ہوئے یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

شیطان کی پیروی کا انجام تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ ہم سے اللہ عہد لے چکا ہے تو اس لحاظ سے ہمیں اپنے اعمال کا اور اپنی سزا و جزا کا خود ذمہ دار بنا دیا گیا ہے۔ پھر رب العالمین رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیں اور ان کو اس شخص کی مثال بھی دیکر سمجھائو کہ وہ شخص (اس کی نشاندہی اللہ نے نہیں کی، لہٰذا اس سے مراد صرف انسان ہے) بڑا ہی دیندار، متقی اور مقبول الٰہی اتنا کہ جو دعا کرتا ضرور قبول ہوجاتی کہ یکایک اس پر دنیا کا لالچ سوار ہوگیا اور وہ روپے پیسے کے لالچ میں آکر دین کی باتوں کو توڑمڑور کر لوگوں کی مرضی کے مطابق بتانے لگا۔ لوگ کیونکہ اس کو بڑا اچھا اور اللہ والا انسان سمجھتے تھے، اس لیے اس کی باتوں کا نہ صرف یقین ہی کرتے بلکہ غلط باتوں کو اوروں تک بھی پہنچاتے۔ کرتے کرتے اس شخص کا ضمیر اور روح اس قدر مردہ ہوگئی، یعنی شیطان نے پوری طرح اس کو اپنے قبضہ میں کرلیا کہ وہ انسانیت کے درجہ سے گر کر جانوروں سے بھی بدتر ہوگیا۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ اس کتے جیسی دیتے ہیں کہ اس پر بوجھ لادو تو زبان نکالے رکھتا ہے نہ بوجھ ڈالو تو بھی زبان نکالے رکھتا ہے۔ ہانپتا اور کانپتا رہتا ہے، یعنی بےعمل عالم جانوروں سے بھی بدتر ہے اور جب وہ اپنے آپ کو دنیاوی فائدوں میں پوری طرح جکڑ کر دین، آخرت اور اللہ سے بالکل لاپروا ہوجاتا ہے تو پھر اس کا درجہ بہترین مخلوقات سے گر کر بدترین مخلوقات تک پہنچ جاتا ہے ایسے ہی لوگوں کی مثال رب العزت لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ جب ایک دفعہ انسان ضمیر کے پہرے سے نکل کر شیطان کے قبضہ میں آجاتا ہے تو پھر اس پر تمام نیکی کے دروازے تقریباً بند ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ ایسے شخص کا دل سخت ہوجاتا ہے اور جب دل سخت ہوجاتا ہے تو نہ وہ نیکی کی بات کا اثر لیتا ہے نہ اچھائی کا راستہ دیکھنا پسند کرتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ ان کو اندھا، بہرہ اور گونگا کہا جاسکتا ہے تو اس طرح کے لوگ اور اسی طرح جن بیشمار دنیا میں بھرے پڑے ہیں اور ایسے ہی لوگوں اور جنوں سے دوزخ بھر دیا جائیگا۔ مطلب سمجھانے کا یہ ہے کہ کبھی بھی علم و حکمت پر فخر کرکے اللہ سے دور اور عمل سے بےپروا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ دنیا حسد، بغض، لالچ اور ہر طرح کے گناہوں سے بھری پڑی ہے۔ کسی بھی وقت بڑائی تکبر یا لالچ میں آکر انسان شیطان کی پیروی کرسکتا ہے۔ ایک دفعہ ضمیر مرجائے تو پھر کوئی برائی برائی نہیں لگتی کوئی گناہ گناہ نہیں لگتا اور پھر انسان دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار ہو کر رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰکہتے ہیں کہ اگر انسان گناہوں کی طرف چل پڑے تو گندے راستے خودبخود اس کے لیے آسان ہوتے چلے جاتے ہیں اور اگر نیکی، عبادت اور اللہ کی رحمت کی طرف انسان چلنا چاہے تو نیکی کے راستے خودبخود اس کے لیے آسان ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یعنی انسان کا ارادہ اور ضمیر ہی اس کا رہبر ہوتا ہے اللہ نے تو دونوں راستے ہر ایک کے لیے کھول رکھے ہیں بندے کی اپنی مرضی ہے جو راستہ چاہے اختیار کرلے۔ اگلی آیات میں غفلت کا علاج بتایا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
Ayahs 7:180–186

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور اللہ کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو۔ اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں۔ ان کو چھوڑ دو ، وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے۔

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ گروہ ہے جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو آہستہ آہستہ اس طریقہ سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم بھی نہ ہوگا۔

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا انہوں نے غور نہیں کیا ؟ کہ ان کے ساتھی (محمد ﷺ کو کسی طرح کا بھی جنون نہیں ہے وہ تو کھلم کھلا ڈرانے والے ہیں۔

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا انہوں نے آسمان و زمین کی بادشاہت میں اور جو چیزیں اللہ نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی اور اس بات پر خیال نہیں کیا ؟ کہ عجب نہیں ان کی موت کا وقت قریب پہنچ گیا ہو۔ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے۔

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس شخص کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ ان گمراہوں کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں۔

اللہ تعالیٰ کا طریق کار تشریح : اب یہ طریقہ دہرایا جا رہا ہے کہ ہدایت کیسے حاصل کی جائے ؟ سب سے پہلے تو وحدانیت پر یقین کرنا اور اللہ رب العزت کے 99 صفاتی نام ہیں۔ انہیں ناموں سے اس کو سچے دل سے پکار کر اپنی مشکلات اور نیکی کی توفیق کے لیے دعا کرنا۔ دوسرا کبھی بھی شرک نہ کرنا، یعنی اللہ کو کسی بھی ایسے نام سے پکارنا کہ جو کفار نے اپنے خود بنائے ہوئے معبودوں کے لیے رکھے ہوئے ہوں۔ نبی کریم ﷺ کو اللہ تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ مشرک لوگوں کی بالکل پروا نہ کریں۔ ان سے اللہ خود اچھی طرح نمٹ لے گا۔ پھر امت محمدی ﷺ کی تعریف فرمائی اور بتایا کہ گناہوں سے مہلت ملتے جانا بھی اللہ رب العالمین کی طرف سے سزا ہے۔ وہ بدکار لوگوں کو کافی ڈھیل دیتا ہے اور آزماتا ہے، پھر جب ان کو سزا ملتی ہے تو ان کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ نبی کریم ﷺ کو کفار مجنون کہتے تھے۔ جبکہ آپ تو صرف ہدایت کرنے اور گناہوں کی سزا سے ڈرانے کے لیے آئے ہیں، حالانکہ یہ لوگ تو خود اندھے ہیں کہ ان کو اللہ کی قدرتوں، عظمتوں اور فضل و کرم کی چاروں طرف پھیلی ہوئی نشانیوں سے بھی عقل نہیں آتی کہ اللہ کا نازل کردہ دین ہی اس لائق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، کیونکہ جیسے ہی موت آئے گی عمل کرنے کا وقت ختم ہوجائے گا اور سزا و جزا کا وقت شروع ہوجائے گا۔ اصل میں انسان چاروں طرف سے خواہشات اور مسائل سے گھرا ہوا ہے اور یہی دھندا اس کے لیے موجودہ زندگی اور آنے والی زندگی میں دکھوں کا باعث ہے اور ان تمام مسائل و خواہشات سے نجات کا بہترین طریقہ ایمان، صبر، تقویٰ اور اللہ پر مکمل بھروسہ ہے۔ جو اس طریقہ سے ادھر ادھر ہٹ جاتا ہے دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔” اللہ رحیم ہے رحم کو پسند کرتا ہے۔ اپنی رحمت ہر رحیم پر رکھتا ہے “۔ (طبرانی) ایک اور حدیث میں ہے سیدنا معاذ بن جبل ؓ کو آپ ﷺ نے نصیحت کی ” جہاں بھی ہو وہاں اللہ سے ڈرو، برائی کے پیچھے نیکی کو لگاؤکہ نیکی برائی کو مٹا دیتی ہے اور لوگوں سے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرو۔ (سنن ترمذی)
Ayahs 7:187–188

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گی ؟ فرما دیں کہ اس کا علم تو میرے رب کو ہی ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کر دے گا اور وہ آسمان و زمین پر ایک بھاری حادثہ ہوگا۔ اور اچانک تم پر آجائے گی۔ یہ آپ سے اسطرح پوچھتے ہیں کہ آپ اس سے بخوبی واقف ہیں۔ کہو کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

فرما دیں کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے۔ اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا۔ اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی میں تو مومنوں کو ڈر انے اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔

قیامت کا ظہور کب ہوگا ؟ تشریح : ان آیات میں کفار کی بدفطرت کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ نبی پاک ﷺ کو ایک نجومی سمجھتے ہوئے اپنے دنیاوی فائدوں کے لیے آئندہ کی باتیں پوچھنے آجاتے کہ بتائیں آئندہ کیا ہونے والا ہے ؟ تاکہ اپنے تجارتی معاملات کو اور دوسرے مختلف معاملات کو اس کے مطابق طے کرلیں اور دنیوی نقصانات سے بچ جائیں تو اس پر اللہ کے حکم کے مطابق آپ ﷺ نے لوگوں کو بتایا کہ بھائی میں تو صرف دوزخ سے ڈرانے والا اور جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر تمہارے پاس بھیجا گیا ہوں۔ نیکی اختیار کرو گے تو دنیا و آخرت میں بھلائیاں ہی بھلائیاں پائوگے برائی کرو گے تو دنیا وآخرت میں سوائے ذلت و خواری کے اور کچھ نہ ہوگا۔ پھر وہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ اچھا بتائیں۔ قیامت کب آئے گی۔ تو اللہ فرماتا ہے کہ ان کو اچھی طرح سمجھا دو کہ یہ دنیا اور اس کے رہنے والے اور اس کی ہر چیز عارضی ہے۔ ہر قسم کا فیصلہ اللہ نے اپنے پاس کرکے رکھا ہوا ہے۔ یہ سب حساب کتاب انسان کے علم سے باہر ہیں خود انسان کی موت کا علم اس کو نہیں دیا گیا۔ قیامت تو بہت بڑی آفت ہوگی، اچانک آئے گی اور وہ دن اس قدر خوفناک اور تباہ کن ہوگا کہ زمین و آسمان اور ہر چیز تہس نہس کردی جائے گی اس کا نقشہ رسول پاک ﷺ ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا : ” اس دن اللہ تعالیٰ زمین اور آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟۔ (صحیح بخاری کتاب التفسیر) تو رسول اللہ ﷺ تو صرف ایک انسان ہیں۔ ان کو اللہ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے چن لیا ہے اور ان کے ذمے یہ لگا دیا ہے کہ انسانوں کو اللہ کی عبادت کے طریقے سکھائیں اور بتائیں کہ تمہارا انجام کیا ہونے والا ہے ؟ دنیا کی خواہشوں اور لذتوں میں گم ہو کر اللہ اور حساب کتاب کے دن کو بھول مت جاؤ کہ اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔ کیونکہ اس دنیا کی ہر چیز اور زندگی بس آزمائش ہی آزمائش۔