7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 7:103–156

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا سو دیکھ لو خرابی کرنے والوں کا انجام کیا ہوا۔

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون ! میں یقینا رب العالمین کا پیغمبر ہوں۔

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

) میرے شایان شان یہی ہے کہ میں جو کہوں سچ کہوں۔ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی دلیل (معجزات) لیکر آیا ہوں سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دیجیے۔

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر نشانی لیکر آئے ہو، اگر سچے ہو تولاؤ دکھاؤ۔

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی لاٹھی زمین پر ڈالی تو وہ سچ مچ کا اژدھا بن گیا

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے لیے چمکدار دکھائی دینے لگا۔

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

تو قوم فرعون کے سردار کہنے لگے کہ یہ بہت بڑا جادوگر ہے۔

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ بھلا تمہارا کیا خیال ہے ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

پھر انہوں نے فرعون سے کہا کہ فی الحال اسے اور اس کے بھائی کے معاملے کو موقوف رکھیے اور شہروں میں نقیب بھیج دیجیے۔

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں۔

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

چناچہ ایسا ہی کیا گیا اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں انعام دیا جائے۔

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں ! ضرور اور تم مقربوں میں شامل کرلیے جاؤ گے۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

جب دونوں فریق مقررہ دن پر جمع ہوئے تو جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ ! یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں۔

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو جب انہوں نے جادو کی چیزیں ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (اور لا ٹھیوں اور رسیوں سے سانپ بنا بنا کر) انہیں ڈرادیا اور بڑا جادو دکھایا۔

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور ( اس وقت) ہم نے موسیٰ پر وحی بھیجی کہ تم اپنی لاٹھی ڈال دو ۔ تو وہ (فوراً سانپ بن کر) جادوگروں کے بنائے ہوئے جھوٹے شعبدے کو ایک ایک کرکے نگلنے لگا۔

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

پھر سچ ثابت ہوگیا اور جو کچھ فرعونی کرتے تھے جھوٹ ثابت ہوگیا۔

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

فرعون اور اس کے ساتھی مغلوب ہوئے اور ذلیل ہو کر لوٹ گئے۔

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

جادو گر یہ کیفیت دیکھ کر سجدے میں گر پڑے۔ (120)

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے۔

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

) (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آؤ بیشک یہ فریب ہے جو تم سب نے مل کر شہر میں کیا ہے۔ تاکہ شہر والوں کو یہاں سے نکال دو ۔ سو عنقریب تمہیں اس کا انجام پتہ چل جائیگا۔

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

پہلے میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاوں کاٹ دوں گا پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا۔

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور اس کے سوا تجھے ہماری کونسی بات بری لگی ہے جب ہمارے پاس ہمارے رب کی نشانیاں آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے ہمارے رب ہم پر صبر اور استقامت کے دروازے کھول دے ہم مریں تو مسلمان ہی مریں۔

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

فرعونی سردار کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیں گے تاکہ وہ ملک میں خرابی کریں، آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دستبردار ہوجائیں وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے بیشک ہم ان پر غالب ہیں۔

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ زمین تو اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا تا ہے اور آخر تو بھلا ڈرنے والوں کا ہی ہے۔

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہمیں تکلیفیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر ڈالے اور اس کی جگہ تمہیں خلیفہ بنادے اور پھر دیکھے کہ تم کیا عمل کرتے ہو۔

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور ہم نے فرعونیوں کو قحط اور پھلوں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں۔

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں اور جب سختی پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے رفیقوں کو بد شگونی بتاتے۔ دیکھو ! ان کی بد شگونی اللہ کے ہاں لکھ دی گئی مگر ان میں اکثر نہیں جانتے۔

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس خواہ کوئی بھی نشانی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو، مگر ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

تو ہم نے ان پر طوفان، ٹڈیاں، جوئیں اور مینڈک و خون (یعنی) کتنی ہی کھلی نشانیاں بھیجیں مگر وہ تکبر ہی کرتے رہے اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو۔ جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم تم پر بھی ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ روانہ کردیں گے۔

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر ہم ایک مدت تک ان سے عذاب کو دور کردیتے تو پھر عہد کو توڑڈالتے۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے بدلہ لیکر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے۔

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور جو لوگ کمزورس مجھے جاتے تو ان کو زمین شام کے مشرق و مغرب کا وارث کردیا جس میں ہم نے برکت دی تھی اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے اللہ کا کیا ہوا مبارک وعدہ پورا ہوا۔ فرعون اور قوم فرعون جو محل بناتے اور انگور کے باغ جو چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا۔

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جاپہنچے جو اپنے بتوں کی عبادت کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ بنی اسرائیل کہنے لگے کہ موسیٰ جیسے ان کے لوگوں کے معبود ہیں ہمارے لیے بھی ایسا ہی ایک معبود بنادو۔ موسیٰ نے کہا بلاشبہ تم بڑے جاہل لوگ ہو۔

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

بیشک جس کام میں یہ لوگ پھنسے ہوئے ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں بےہودہ ہے۔

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

اور (یہ بھی کہا کہ) بھلا میں اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ؟ حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے۔

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور (ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں کے ہاتھ سے نجات بخشی، وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے، تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے سخت آزمائش تھی۔

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا وعدہ مقرر کیا، پھر اسے دس مزید راتوں سے مکمل کیا تو اس کے رب کی چالیس راتوں کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے ( کوہ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔ ان کی اصلاح کرتے رہنا اور شریروں کے رستے نہ چلنا

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر ( کوہ طور پر) پہنچے اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے رب العزت ! مجھے جلوہ دکھا میں تیرا دیدار بھی کروں۔ اللہ نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں ! پہاڑ کی طرف دیکھو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے جب اللہ رب العزت نے پہاڑ پر تجلی کی تو وہ ریزہ ریزہ ہوگیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور میں توبہ کرتا ہوں۔ اور ایمان لانے والوں میں سب سے اول ہوں۔

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

(اللہ نے) فرمایا : موسیٰ ! میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں میں ممتاز کیا ہے تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور میرا شکر بجالاؤ۔

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور ہم نے تورات کی تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز کی تفصیل لکھ دی، تو (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو ان میں درج ہیں اور بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا۔

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں انکو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اسے اپنا راستہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے اپنا راستہ بنا لیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جن لوگوں ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور یہ جیسے عمل کرتے رہے ان کو ویسا ہی بدلہ ملے گا۔

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور اس کی قوم نے موسیٰ کے طور پر جانے کے بعد اپنے زیورات کا ایک بچھڑا بنا لیا وہ ایک جسم تھا کہ جس میں سے گائے کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات کرسکتا ہے۔ نہ ان کو رستہ دکھا سکتا ہے، اس کر انہوں نے معبود بنالیا اور اپنے حق میں ظلم کیا۔

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور موسیٰ جب اپنی قوم میں نہایت غصے میں اور افسوس کی حالت میں واپس آئے تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بڑی بری نیابت کی۔ کیا تم نے اپنے رب کا حکم ، (یعنی میرا اپنے پاس آنا جلد چاہا) اور (غصہ میں) تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی کو بالوں سے پکڑکر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی ! لوگ مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل ہی کر ڈالیں تو آپ ایسا کام نہ کریں کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملائیں۔

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے رب ! مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا تھا ان پر اللہ کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت نصیب ہوگی اور ہم افتراپردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جنہوں نے برے کام کیے، پھر توبہ کرلی اور اس کے بعد ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ آپ کا رب بخشنے والا مہر بان ہے۔

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ کا غصہ اتر گیا تو اس نے تختیاں اٹھا لیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کیلئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ہدایت اور رحمت تھی۔

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ نے اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب کرکے کوہ طور پر حاضر کیے۔ جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا کہ اے رب العزت ! اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھے پہلے ہی ہلاک کردیتا۔ کیا تو اس کام کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کر دے گا یہ تو تیری آزمائش ہے اس سے تو جسے چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے ہدایت بخش دے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی ہم تیری طرف رجوع کرچکے۔ فرمایا کہ یہ میرا عذاب ہے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے، زکوٰۃ دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے سامنے آجاتی ہیں۔ اور ان تمام بیانات کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہی ہے۔ یہ ہر زمانے کے ہر انسان اور ہر مذہب کے پیرو کے لیے سبق کا ذریعہ بن سکتا ہے زبردستوں کو انکی شکست اور کمزوروں کو ان کی فتح کا نقشہ اچھی طرح سمجھایا گیا ہے۔ اللہ کی عظمت، قدرت اور نظام کا جیتا جاگتا ثبوت اس بیان میں جگہ جگہ پیش کیا گیا ہے۔ مختصراً بتانا چاہوں گی کہ فرعون کون تھا ؟ بنی اسرائیل اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کون تھے ؟ باقی تفصیلات آیات میں بیان ہوچکی ہیں۔ فرعون کا مطلب ہے سورج دیوتا کی اولاد، اسی لیے ہر شاہی خاندان جو مصر میں بر سر اقتدار آتا ہے اور جو جانشین ہوتا خود کو فرعون کہلاتا یہ یقین دلانے کے لیے کہ سب لوگوں کا رب میں ہوں۔ (نعوذباللہ ) فرعون کا علاقہ شام سے لیبیا تک اور بحر روم کے سواحل سے حبش تک پھیلا ہوا تھا۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) وہ ہستی ہیں کہ انسانیت کی تمام صفات آپ میں موجود تھیں آپ بہترین انسان کہلانے کے قابل تھے پیغمبر انہ خصوصیات آپ میں پوری طرح موجود تھیں۔ حسن تدبر میں آپ کو کمال حاصل تھا۔ آپ کی والدہ نے حالات سے مجبور ہو کر آپ کو پیدائش کے بعد صندوق میں بند کر کے دریا میں بہادیا تھا اور آپ نے فرعون کے گھر میں ہی پرورش پائی۔ کوہ طور پر اللہ نے ان سے کلام کیا اور کلیم اللہ کہلائے آپ بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے۔ سیدنا ہارون (علیہ السلام) سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے تین سال بڑے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی نبی بنایا اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا مددگار بنایا۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزات بھی دئیے گئے۔ اوپر دئیے گئے مضمون کا ذکر تفصیل سے سورة البقرہ میں اور پھر سورة الاعراف کی کثیر آیات میں بیان ہوچکا ہے۔ یہاں مختصر اً تمام واقعات کو دہرایا گیا ہے۔ فرعون تو غرق ہوگیا۔ اور یہ مقام بحر احمر ہے غالباً موجودہ سویز اور اسماعیلیہ کے درمیان کوئی مقام تھا۔ مصر سے نکلنے کے بعد آپ اپنی قوم کے ساتھ بنی صالح اور کوہ سینا کے درمیان وادی الشیخ میں وارد ہوئے۔ یہاں اللہ نے آپ کو کوہ سینا پر طلب کیا اور بنی اسرائیل کے لیے شریعت عطا کی۔ اور اسی وادی میں قوم نے گئو سالہ ( گائے) پر ستی شروع کی اور پھر معافی مانگنے کے لیے ستر آدمی کوہ طور سینا پر گئے اللہ سے دیدار کا مطالبہ کیا جو گستاخی میں شمار ہوا اور اللہ نے ان پر زلزلہ کا عذاب ڈالا ان پر بجلی گری اور وہ فوت ہوگئے اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست پر ان کو دو بارہ زندہ کردیا گیا اور معافی بھی مل گئی۔ آخر میں اللہ جل شانہ کی رحمت اور فضل وکرم کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے کہ وہ اصل میں رحیم و کریم ذات ہے اور اسی کے رحم وکرم پر پوری کائنات کا نظام چل رہا ہے اس کا غضب صرف اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب بندے حد سے نکل جاتے ہیں جیسا کہ اوپر بیان کیے گئے بیان میں اور پہلے بیان کیے گئے تمام بیانات میں کھول کر بیان کردیا گیا ہے۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کی زندگی صرف اپنے لیے نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ خلیفۃ اللہ ہوتے ہوئے ہمیشہ کمزورکامددگار اور ظالموں کا دشمن رہا ہے توکل علی اللہ مسلمانوں کا ہتھیار ہے اور ایمان اس کی طاقت ہے۔ جب بھی وہ نعرہ تکبیر لگا کر میدان میں اترتا ہے تو کوئی بھی اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔ جیسا کہ فرعون جیسا جابر ظالم اور طاقتور مغرور دریا میں ڈوب مرا اور کچھ نہ کرسکا۔ پھر یہی قوم بنی اسرائیل ذلیل و خوار ہوگئی جب اس نے اللہ کے احکام سے منہ موڑلیا اور چالیس سال تک صحرا میں بھٹکتی رہی۔ قرآن پاک کا انسانوں کو سمجھانے کا یہ طریقہ بڑا منفرد اور بڑا موثر ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے : میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے میں اس کو ان لوگوں کے لیے دوں گا جو پرہیزگاری کرتے زکوٰۃ دیتے اور ہماری آیت پر ایمان رکھتے ہیں۔ “ ( الاعراف، آیت : 156)