7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 7:189–203

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی بنائی تاکہ اس کے ہاں سکون حاصل کرے۔ پھر جب کسی مرد نے اپنی بیوی سے صحبت کی تو اسے ہلکا سا حمل ہوگیا جس کے ساتھ وہ چلتی پھرتی رہی، پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں اپنے پروردگار سے دعا کرنے لگے کہ : اگر تو ہمیں تندرست بچہ عطا کرے تو ہم یقینا شکر کرنے والوں سے ہوں گے۔

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

جب اس نے ان کو صحیح سالم بچہ دے دیا ہے تو وہ اس میں اس کے لیے شریک بنانے لگے مگر اللہ ان کے شریک بنانے سے بلندو برتر ہے۔

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کیے جاتے ہیں۔

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں۔

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اور اگر تم ان کو سیدھے راستے کی طرف بلائو تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے تم ان کو بلائو یا خاموش رہو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

(مشرکو ! ) جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں اچھا تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہیے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں۔

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

بھلا ان کے پائوں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں ؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلا لو اور میرا کچھ بگاڑ لو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو ۔

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

میرا مددگار تو اللہ ہی ہے جس نے سچی کتاب نازل کی اور نیک لوگوں کا وہی مددگار ہے۔

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر تم ان کو سیدھے رستہ کی طرف بلائو تو سن نہ سکیں اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ بظاہر آنکھیں کھولے تمہاری طرف دیکھتے ہیں مگر وہ دیکھتے کچھ نہیں۔

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) درگزر کرو اور معروف کام کرنے کا حکم دو ۔ اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرو۔

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 7:200 in the Quran reader

اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی قسم کا وسوسہ پیدا ہو تو اللہ سے پناہ مانگو بیشک وہ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ Open ayah 7:201 in the Quran reader

جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور صحیح صورت حال دیکھنے لگتے ہیں۔

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ Open ayah 7:202 in the Quran reader

اور ان (شیطانوں) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچتے جاتے ہیں پھر اس میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے۔

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:203 in the Quran reader

اور جب تم ان کے پاس کچھ دنوں کے لیے کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے اپنی طرف سے منتخب کیوں نہ کرلی۔ کہہ دو کہ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ (قرآن) تمہارے رب کی طرف سے دانش اور بصیرت اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

انسان کی حقیقت اور مشرکوں کے طریقے تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایت اور رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔ مگر ان آیات میں خاص طور سے پھر انسان کو اپنی پیدائش کا طریقہ بتایا گیا ہے اور پھر گھریلو زندگی اور پرسکون خاندان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور ماں کے اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے سیدہ سیدنا حوا (علیہا السلام) ان سے پیدا ہوئیں مگر بغیر ماں کے، سیدنا عیسیٰ بغیر باپ کے اور پھر اس کے بعد نسل انسانی ماں اور باپ دونوں کے میاں بیوی بن کر آپس کے ملاپ سے مگر اللہ کی قدرت سے بڑھنی شروع ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ جب میاں اور بیوی میں شادی کا رشتہ بن جاتا ہے تو پھر دونوں ایک دوسرے کے سکون کا باعث بن جاتے ہیں۔ ان کا ایک خاندان بننا شروع ہوجاتا ہے مگر یہ سب اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ جب میاں بیوی فکر مند ہوتے ہوئے بچہ کے صحت مند، نیک، لائق، شریف اور مبارک ہونے کی دعائیں کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی انسان کو ان تمام باتوں پر قدرت حاصل نہیں، یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہوتا ہے۔ بچے کی پیدائش سے قبل اللہ سے دعائیں مانگ رہے تھے کہ اگر صحیح سالم بیٹا عطا ہوا تو ہم شکر گزار بنیں گے مگر جونہی بچہ پیدا ہوا تو پھر اللہ کی اس قدرت اور مہربانی کو اپنے جھوٹے خدائوں کی طرف منسوب کرنے لگتے ہیں۔ اب ان لوگوں کے خدائوں کا حال سنیں کہ وہ خود کس قدر بےبس، لاچار اور محتاج ہیں۔ اور پھر بعض انسانوں کو اپنا پالنہار سمجھنے لگتے ہیں۔ مشرکوں کی اور شرک کی کئی قسمیں ہیں۔ مگر ہر قسم اتنی فضول اور بےمعنی ہے کہ کوئی بھی عقل مند انسان اس کو سمجھ سکتا ہے۔ کیونکہ دنیا کی ہر چیز نہ تو خود سے پیدا ہوئی اور نہ ہی کسی دوسری چیز کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتی ہے تو ایسی محتاج و بےبس مخلوق سے دعائیں کرنا مدد مانگنا اور اس کے آگے سرجھکانا کہاں کی عقلمندی ہے مگر مشرکوں کے پاس عقل ہوتی ہی کہاں ہے۔ اسی لیے تو یہ خود بھی اندھے، گونگے اور بہرے ہوجاتے ہیں یعنی ان کو نیکی کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ایسے شرک میں ڈوبے ہوئے لوگوں کی باتوں اور حجت بازی کو آپ بالکل کسی گنتی میں نہ لائیں بلکہ قرآن کی تعلیمات اور ہدایات لوگوں تک پوری محنت اور کوشش سے پہنچاتے رہیں۔ آپ کا مددگار تو رب عظیم ہے۔ ان کو کہہ دیں کہ اپنے سارے معبودوں کو بلا لیں دیکھیں کون آپ کا کچھ بگاڑ سکتا ہے۔ قرآن کی فضیلت میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک مکمل ہدایت نامہ ہے۔ آپ ﷺ کو تمام انبیاء و رسل پر فضیلت دی گئی ہے۔ قرآن کی جامعیت ہی کی وجہ سے اس کو آخری کتاب اور آپ ﷺ کو آخری نبی کا بہترین درجہ دیا گیا ہے۔ پھر ہدایت کی گئی کہ قرآن کو پڑھنے کے آداب یاد رکھو۔ -1 غور سے سنو۔ -2 پوری کوشش سے اس پر عمل کرو۔ -3 قرآن کی رہنمائی میں زندگی کا ہر مسئلہ حل کرو۔ کیونکہ یہ مومنین کے لیے بڑی رحمت اور بہترین ہدایت کی کتاب ہے۔ اسی لیے قرآن کو ذریعہ رحمت کہا گیا ہے۔
Ayahs 7:204–206

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:204 in the Quran reader

اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو۔ اور خاموش رہا کرو۔ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 7:205 in the Quran reader

اور اپنے رب کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح و شام یاد کرتے رہو اور دیکھنا غافل نہ ہونا۔

اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩ Open ayah 7:206 in the Quran reader

جو لوگ تمہارے رب کے پاس ہیں۔ وہ اس کی عبادت سے اکڑتے نہیں اور اس پاک ذات کو یاد کرتے ہیں اور اس کے آگے سجدے کرتے رہتے ہیں۔

تلاوت قرآن مجید کے آداب تشریح : یہ آیات پورے قرآن کا خلاصہ بیان کر رہی ہیں۔ کیونکہ مومن وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور قرآن پر ایمان لائے۔ اور پھر پکا سچا اور بہترین مومن وہ ہے جو پورے کا پورا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی غلامی میں زندگی بسر کرے۔ تو وہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ اپنے خالق اپنے مالک رب العالمین کو ہر وقت دل کی گہرائیوں سے یاد کرتے رہو اس سے مغفرت اور مدد کی دعائیں کرتے رہو۔ قرآن پاک کو صبح شام یعنی دنیا کے دھندے شروع ہونے سے پہلے اور ختم ہونے کے بعد آرام سے پہلے ضروری ہی سوچ سمجھ کر اور غور و فکر کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر یعنی سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔ آخر میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ کے پاس ہیں فرشتے یہ سب تکبر اور غرور سے پاک ہیں ہر وقت عاجزی و انکساری سے اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔ اور اس کے آگے سجدے کرتے ہیں۔ یہ آیت سجدہ کی فضیلت یوں بیان کرتی ہے کہ تمام ارکان نماز میں سجدہ کو خاص فضیلت حاصل ہے۔ پھر آداب قرآن میں یہ بھی شامل ہے کہ اس آیت کو پڑھنے کے بعد یا کسی سے سننے کے بعد سجدہ کرنا چاہیے۔ سجدے کی فضیلت میں حدیث پاک ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ اس وقت قریب ہوتا ہے جب کہ بندہ سجدے میں ہو اس لیے تم سجدے کی حالت میں خوب دعا کیا کرو کہ اس کے قبول ہونے کی بڑی امید ہے۔ “ (صحیح مسلم، کتاب الصلوۃ)