7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 7:65–72

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور اسی طرح قوم عاد کی طرف انکے بھائی ہود کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں کیا تم ڈرتے نہیں ؟۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

تو انکی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق لگتے ہو۔ اور ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے میری قوم ! مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ میں تو رب العالمین کے طرف سے بھیجا گیا پیغمبر ہوں۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

میں تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں اور میں امین (اور تمہارا) خیر خواہ ہوں۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک بندے کے ذریعے تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی، تاکہ وہ تمہیں ڈرائے۔ اور یاد کرو جب اس نے تم کو نوح کے بعد سردار بنایا اور تم کو پھیلادیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ نجات پاسکو۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم اکیلے اللہ کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے۔ ان کو چھوردیں ؟ اگر تم سچے ہو تو جس سے تم ہم کو ڈراتے ہو اسے لے آؤ۔

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

ہو دنے کہا کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب نازل ہونا ضروری ہوچکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے اپنی طرف سے رکھ لیے ہیں۔ جن کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے ان کو بچالیا اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان لانے والے نہ تھے

سیدنا ہود (علیہ السلام) اور قوم کی تباہی تشریح : ان آیات میں سیدنا ہود (علیہ السلام) اور قوم ہود کا مختصرقصہ بیان کیا ہے۔ ہود (علیہ السلام) ایک نبی کا نام ہے یہ نوح (علیہ السلام) کی پا نچویں نسل اور سام کی اولاد میں ہیں۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) عاد کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے، عاد ایک بڑی زبردست طاقتور قوم کا نام ہے۔ یہ سیدنا نوح (علیہ السلام) کے پوتے ارم کی اولاد تھے اور یمن میں احقاف کے علاقے میں رہتے تھے۔ عاد کے تیرہ خاندان تھے۔ عمان سے لیکر حضرموت تک کی بستیاں آباد تھیں۔ ان کی زمینیں بڑی زرحیز اور باغات تھے۔ بڑے بڑے شاندار محلات بناتے اور ان میں خوشگوار زندگیاں گزارتے تھے، مضبوط، صحت مند، خوبصورت اور قد آور لوگ تھے۔ اللہ رب العزت نے ان کو ہر طرح سے خوش حال اور فارغ البال بنا رکھا تھا۔ مگر یہی نعمتیں، برکتیں اور رحمتیں ہی ان کے لیے وبال جان بن گئیں کیونکہ وہ لوگ اپنی دولت، عزت اور تندرستی کے نشے میں اتنے بد مست ہوئے کہ کمزوروں پر ظلم کرنا اور اللہ کی ناشکری ان کا مذہب بن چکا تھا۔ بیشمار بت بنا رکھے تھے جن کی پوجا کرتے اور شرک میں بری طرح ڈوب چکے تھے۔ اللہ رب العزت نے ان پر رحم فرمایا کہ انہی میں سے سیدنا ہود (علیہ السلام) کو ان کی اصلاح اور بےراہ روی سے بچانے کے لیے رسول بنا کر بھیجا کہ وہ لوگ گناہ سے نکل کر نیکی کا راستہ اختیار کرلیں۔ توحید کو سمجھیں اور بت پرستی کو چھوڑ کر اللہ وحدہ لاشریک کو اپنا رب سمجھیں مگر وہ لوگ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے اتنے ظالم اور مغرور ہوچکے تھے کہ کسی صورت میں بھی شرک کو چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے سیدنا ہود (علیہ السلام) نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہر طرح سے ان کو سمجھایا مگر وہ الٹا ان پر ہی الزامات لگاتے رہے۔ جیسا کہ قوم کے ساتھ ان کی بات چیت بڑی تفصیل سے آیات مذکورہ میں بیان کی جاچکی ہے۔ بلکہ یہاں [ تک قوم نے ان سے کہہ دیا کہ جو عذاب اللہ ہم پر لانا چاہتا ہے لے آئے “۔ تب اللہ رب العزت نے سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم کی طرح ان پر عذاب بھیج دیا جس کا ذکر ” معارف القران “ میں مولانا مفتی محمد شفیع صاحب یوں بیان کرتے ہیں : ” پہلا عذاب تو یہ آیا کہ تین سال تک مسلسل بارش بند ہوگئی۔ زمینیں برباد اور باغات اجڑ گئے مگر اس پر بھی لوگ شرک و بت پرستی سے باز نہ آئے تو پھر آٹھ دن اور سات راتوں تک ان پر شدید قسم کی آندھی کا عذاب مسلط ہوا۔ جس نے ان کے رہے سہے باغات اور محلات کو زمین پر بچھا دیا ان کے آدمی اور جانور ہوا میں اڑتے اور پھر سر کے بل آکر گرتے تھے اس طرح یہ قوم عاد پوری کی پوری ہلاک کردی گئی جیسا کہ اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ ” ان کی جڑ کاٹ دی۔ “ صرف ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ و مامون رکھا جو سیدنا ہود (علیہ السلام) پر ایمان لا کر راہ ہدایت پر چلنے لگے تھے۔ اس قصہ میں ان تمام لوگوں اور قوموں کے لیے زبردست عبرت کا سبق دیا گیا ہے جو اللہ کی دی ہوئی نعمتوں برکتوں اور فضل وکرم کی قدر نہیں کرتے شکر ادا نہیں کرتے بلکہ اللہ سے بالکل غافل ہوجاتے ہیں اور شیطان کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگ یا قومیں اپنی طاقت، مال و دولت اور ہتھیاروں پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں تو پھر عذاب الٰہی سے اللہ رب العزت ان کو دنیا میں نیست و نابود کردیتا ہے اور آخرت میں عذاب ان کو ملنا ہی ہے۔ مگر جو لوگ نیکی کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ سورة البقرہ کی آیت 177 میں نیکی کے تصور میں چار باتوں کی تاکید کی گئی ہے۔ ا۔ ایمان، 2۔ عبادت 3۔ معاملات 4۔ صبر۔ جو لوگ نیکی کے اس تصور کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں تو اللہ ان سے راضی ہوجاتا ہے اور قدرتی آفات کی سختی سے ان کو بچالیتا ہے ورنہ یہی قدرتی آفات نافرمان لوگوں کے لیے شدید ترین عذاب کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ گویا زمین کو پاک صاف کرنے کے لیے قوم نوح (علیہ السلام) پر پانی کا عذاب آگیا اور نیک لوگ بچ گئے سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کے فرمانبردار لوگوں سے دنیا دوبارہ آباد ہونا شروع گئی اس طرح قوم ہود تمام کی تمام نیست و نابود ہوگئی۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) اور ان کے فرمانبردار لوگ اللہ کے فضل سے بچ گئے اور پھر نیک لوگوں سے آبادی بڑھنے لگی۔ یہی طریقہ ہے قدرت کے کارخانے کا۔ زمین کو گناہوں سے پاک کرنے کا پہلا طریقہ رسول بھیجنا ہے اور لوگ اس طریقہ سے فائدہ نہ اٹھائیں اور اپنی بےراہروی سے باز نہ آئیں تو پھر زمین کی صفائی کا دوسرا اور آخری طریقہ عذاب الٰہی ہی ہے۔ کچھ پریشانیاں تو خود انسان اپنے لیے پیدا کرلیتا ہے چھوٹی سی مثال ماں اور بچے کی دی جاسکتی ہے۔ جو ماں اپنے بچے کو جھوٹ بولنا سکھاتی ہے، بد عہدی بزرگوں کی بےادبی اور وعدہ خلافی غرض کوئی بھی اخلاقی برائی سکھاتی ہے تو بچہ اس بری عادت کو سب سے پہلے اپنے گھر اور اپنی ماں سے شروع کرتا ہے۔ اور یوں ماں اپنے لیے بےسکونی اور پریشانی کا دروازہ خودکھول لیتی ہے۔ پھر جب یہی بچہ بڑا ہو کر میدان عمل میں نکلتا ہے تو پھر دنیا کے لیے لوگوں کے لیے اپنے ملک اور اپنے ادارہ کے لیے ایسی ایسی پریشانیاں، تباہیاں اور مشکلات کھڑی کرتا ہے کہ شیطان بھی اس سے پناہ مانگتا ہے۔ ایسا شخص چوری، جھوٹ، غیبت، قتل، فریب کاری اور فساد سے بےسکونی کا سبب بنا رہتا ہے۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک ماں نے خود اپنے لیے بہت بڑی مصیبت کو جنم دے دیا یعنی اپنا کھودا ہوا گڑھا اپنے ہی کام آگیا۔ اور پھر یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک فرد کے گناہ نے پورے معاشرے اور پوری انسانیت کو خود اپنے ہاتھوں سے تباہیوں اور پریشانیوں کے حوالے کردیا۔ ایسے بد کردار انسان کی ماں کا حال اس دنیا میں تو جو ہوگا سو ہوگا آخرت میں بھی وہ دردناک عذاب کے سوا کچھ نہ پاسکے گی۔ قدرتی آفات سے بچنے کے لیے نیکی کی ڈھال ہر وقت تیارر کھنی چاہئے۔ مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) اور سیدنا ہود (علیہ السلام) کو ان کے فرمابردار بندوں کو اللہ نے بچالیا جبکہ نافرمان قوم صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ اسی طرح ایک قصہ ثمود کا بیان کیا جارہا ہے ملاحظہ ہو۔
Ayahs 7:73–79

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا تو صالح نے کہا کہ اے میری قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تمہارے پاس رب کی طرف سے ایک دلیل آچکی ہے یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی ہے تو اسے آزاد چھوڑدو کہ اللہ کی زمین پر چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا، ورنہ دردناک عذاب تمہیں پکڑے گا۔

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد سردار بنایا اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین میں محل بناتے ہو۔ اور پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے مغرور سردار غریب لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلاتم یقین کرتے ہو کہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجے گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ! جو چیز وہ دے کر بھیجے گئے ہیں ہم اس پر بلا شبہ ایمان رکھتے ہیں۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

تو مغرور سردار کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کو نہیں مانتے۔

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

آخر انہوں نے اونٹنی کی کونچوں کو کاٹ ڈالا اور اپنے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور کہنے لگے کہ صالح جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تم اللہ کے پیغمبر ہو تو ہم پر لے آؤ۔

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

تو ان کو زلزلے نے آپکڑا اور پھر اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح ان سے نہ امید ہو کر پھرے اور بولے کہ اے میری قوم ! میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچادیا اور تمہاری خیر خواہی کی، مگر تم ایسے ہو کہ خیر خواہوں کو پسند ہی نہیں کرتے۔

قوم ثمود کی بربادی تشریح ؛۔ ان آیات میں قوم ثمود کا تعارف، ان کے طور طریقے اور پھر عذاب کا بیان ہے اور پھر ان کے رسول سیدنا صالح (علیہ السلام) کی تعلیمات اور ناقۃ اللہ کا ذکر ہے۔ قوم ثمود : یہ قوم عاد کے بعد بڑی مشہور قوم وجود میں آئی یہ الحجر میں رہتے تھے۔ الحجر حجاز اور یمن کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ قوم بھی عاد کی طرح بےحد مضبوط، صحت مند، خوشحال اور ہنر مند قوم تھی یہ پہاروں کو کاٹ کر بڑے بڑے محلات بناتے تھے۔ اور مذہب کے لحاظ سے یہ بھی اللہ کو تو ضرورمانتے تھے۔ مگر پچھلی قوم کی طرح ان کا بھی خیال تھا کہ اللہ سارے کام نہیں کرسکتا۔ لہٰذا انہوں نے بھی کئی قسم کے بت بنا رکھے تھے جن کی پوجا کرتے تھے۔ قوم عاد کی طرح یہ بھی انتہائی خودسر، مغرور، ظالم اور مشرک لوگ تھے۔ کمزوروں پر خوب ظلم کرتے اور اپنی طاقت میں مغرور کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ان کی بےراہ روی کی وجہ سے الہ العالمین نے انہی کی برادری میں سے ایک نیک اور پرہیزگار انسان کو جن کا نام صالح (علیہ السلام) تھا رسول بنا کر ہدایت دینے کے لیے مقرر کردیا۔ عاد اور ثمود ایک ہی دادا کی اولاد میں دو آدمیوں کا نام ہے ارض القران میں مولانا سیدسلیمان نے لکھا ہے کہ ” ان کی تعمیری یاد گاریں ابھی باقی ہیں اور ان پر ارمی اور ثمودی خط میں کتبے منقوش ہیں۔ دنیا کی ثروت اور دولت کا عموماً یہی نتیجہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ اللہ اور آخرت سے غافل ہو کر غلط راستوں پر پڑجاتے ہیں۔ قوم ثمود کا بھی یہی حال ہوا۔ “ قوم نوح اور قوم عاد کی تباہی ان کے سامنے موجود تھی کیونکہ ان کی تباہ شدہ وادیوں میں یہ لوگ آباد ہوئے مگر دولت کا نشہ اتنا نقصان دہ ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی سر کشی، نافرمانی اور شرک میں وہی راستے اختیار کرلیے جو انہوں نے اختیار کر رکھے تھے۔ ان میں فرق صرف اتنا تھا کہ قوم ثمود نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ ہمیں ایک خاص معجزہ دکھائیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے جبکہ پہلی دو قوموں نے اپنے نبی سے یہ فرمائش نہ کی تھی اصل میں ہدایت پانے والے لوگوں کو معجزے کی ضرورت نہیں ہوتی یہ تو ایک بہانہ ہوتا ہے اپنے رسول کو تنگ کرنے کا کیونکہ جنہوں نے ایمان نہیں لانا ہوتا وہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے۔ یہی کام قوم ثمود نے کیا۔ انہوں نے سیدنا صالح (علیہ السلام) سے کہا اگر واقعی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہو اس پہاڑ سے زندہ اونٹنی نکال دو اور وہ نکلتے ہی اپنے برابر کا بچہ بھی دے۔ اس پہاڑی کا نام تبّع ہے اللہ نے سیدنا صالح (علیہ السلام) کی دعا قبول کی اور بہت سے لوگوں نے یہ معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھابہت سے لوگ ایمان لے آئے مگر بڑے بڑے سردار اپنی اکڑ میں جوں کے توں مشرک ہی رہے۔ پھر اللہ نے حکم دیا کہ کوئی شخص اس اونٹنی کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچائے گا، بلکہ یہ آزاد پھرے گی اور اللہ کی زمین سے کھائے پیے گی۔ اس حکم کو کچھ عرصہ تو قوم ثمود نے مان لیا کیونکہ اس حکم کی نافرمانی پر ان کو بتایا گیا تھا کہ اللہ ان سے ناراض ہو کر پہلی قوموں کی طرح ان پر عذاب نازل کرے گا اور ان کو نیست و نابود کر دے گا۔ مگر کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ انہوں نے اونٹنی کی کو نچیں کاٹ دیں اور وہ ہلاک ہوگئی۔ تب اللہ نے ان پر بڑا سخت زلزلہ کا عذاب نازل کیا اتنا شدید زلزلہ تھا کہ سب کے سب ہلاک ہوگئے سیدنا صالح (علیہ السلام) اور ان کے پیرو بچ گئے۔ اور نافرمان مشرک لوگ پہلی نافرمان قوموں کی طرح عبرت کا سبق چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ سبق یہی ملتا ہے کہ عزت، دولت، شہرت، صحت و توانائی یہ سب اللہ رب العزت کی خاص نعمتیں، برکتیں اور فضل و کرم کی نشانیاں ہیں مگر ان کے ساتھ ساتھ انسان کی آزمائش بھی ہوتی ہے کہ اللہ سے غافل ہوکراخلاقی، مذہبی اور انسانیت کی حدود سے باہر ہو کر زندگی تو نہیں گزارنے لگے۔ اللہ رب العزت نے جو ہنر عاد وثمود کے لوگوں کو دیا تھا وہ فن تعمیر کی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ ایسی صنعت ہندوستان میں ایلورا، ایجنٹہ اور بعض دوسرے مقامات پر پائی جاتی ہے۔ مدائن صالح میں اب تک ان کی بنائی ہوئی عمارتوں کے کھنڈرات موجود ہیں جو اس قوم کی فن تعمیر کا حیرت انگیز کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں مقصدیہ کہ اللہ تو ہمیں اس قدر رحمتوں اور برکتوں سے نوازے اور ہم اس کے ناشکرے، نافرمان اور مشرک بن کر دنیا میں شر و فساد، گمراہی اور قتل و غارت گری کا سبب بن کر آلودہ زندگیاں گزاریں۔ گو کہ اس تمام نااہلی کا اللہ کی ذات کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کو اس بات سے فرق پڑتا تو وہ قادر مطلق ہے تمام لوگوں کو نیک بنا دیتا مگر یہ فرشتوں کی صفت ہے انسان کو اس نے اپنے اس پروگرام کے تحت پیدا کیا ہے کہ دیکھو یہ اپنے ارادہ سے کونسا راستہ اختیار کرتا ہے۔ گناہ یا نیکی ؟ علم دے دیا۔ ہدایت دے دی اور پھر اختیار دے دیا۔ قرآن پاک اور تمام آسمانی کتابیں رشد وہدایت کا ہی سبق دیتی ہیں اور بار بار یاد دلاتی ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے اس کے بعد اعمال کا حساب کتاب ضرور ہوگا اور پھر جنت یا دوزخ ضرور ملے گی اور وہ ہمیشہ کی زندگی ہوگی۔ آخری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب آنے کے بعد سیدنا صالح (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں کو لے کر یمن کے علاقے حضرموت چلے گئے۔ ان کو قوم کے رویہ، ان کے عذاب اور تباہی کا بڑا سخت صدمہ پہنچا تھا جو انہوں نے بڑے ہی افسوس سے یہ کہا کہ ” اے میری قوم ! میں نے تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی مگر افسوس کہ تم خیر خواہوں کو پسند ہی نہیں کرتے۔ “ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی کے سفر میں رسول ﷺ اور صحابہ کرام کا گزر اس مقام حجر پر ہوا، جہاں قوم ثمود پر عذاب آیا تھا تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو ہدایت فرمائی کہ اس عذاب زدہ بستی کی زمین میں کوئی نہ جائے اور نہ ہی اس کے کنویں کا پانی استعمال کرے (از معارف القرآن) اللہ سے دعا ہے وہ دنیا کی محبت اور دولت کے نشے سے محفوظ رکھے اور آزمائشوں میں پورا اترنے کی پوری پوری توفیق دے اور ہماری آنکھوں کا پردہ ان سب چیزوں کو نہ بنائے ہمیں نیکی کی راہ اور قرآن و سنت کا پابندبنائے۔
Ayahs 7:80–84

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور اسی طرح جب ہم نے لوط کو پیغمبر بنا کر بھیجا تو اس وقت اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے پہلے اہل دنیا میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا۔

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

تم نفسانی خواہش پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو۔

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

تو ان سے اس کا کوئی جواب نہ بن پڑا اور یوں بولے کہ ان ( لوگوں یعنی لوط اور ان کے گھر والوں) کو اپنے گاؤں سے نکال دو کہ یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو اور ان کے گھروالوں کو بچالیا مگر ان کی بیوی نہ بچی کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں تھی۔

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا سو دیکھ لو کہ گناہگاروں کا کیسا انجام ہوا ؟

قوم لوط کا گناہ اور عذاب تشریح : انبیاء اور ان کی قوموں کے قصوں کا جو سلسلہ چل رہا ہے ان میں سے یہ چوتھی قوم لوط ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں یوں کیا گیا ہے۔ لوط (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں یہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بت پرست والد اور تمام خاندان کو چھوڑ کر عراق سے شام کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ جب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کی تو ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ اور بھتیجا سیدنا لوط (علیہ السلام) تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین میں اور سیدنا لوط (علیہ السلام) اردن چلے گئے وہاں ان کو حکم ہوا کہ سدوم شہر کے مضافات میں چلے جاؤ اور وہاں کے لوگ بد راہ ہوچکے ہیں انکو راہ ہدایت دکھاؤ۔ سدوم والوں میں کسی قسم کی کمی نہ تھی بڑے سر سبز و شاداب زمین و باغات کے وہ مالک تھے اور ہر طرح سے فارغ البال تھے تو وہ بجائے شکر کے الٹا گناہوں کی دلدل میں پھنس گئے۔ خاص طور سے انہوں نے ایک سخت اور نقصان دہ گناہ کا عادی اپنے آپ کو بنا لیا تھا کیونکہ ان سے پہلے کسی قوم نے یہ سخت گناہ نہ کیا تھا۔ گناہ یہ تھا کہ اپنی فطری اور نفسانی خواہش کو پورا کرنے کے لیے بجائے اپنی عورتوں کے جوان لڑکوں سے اپنی خواہش کو پورا کرتے تھے۔ اور اس انتہائی گندے گناہ کی وجہ سے خاندان تباہ ہونا شروع ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت اور مرد کو ایک دوسرے کے لیے بنایا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے نفسانی خواہش کو جائز طریقہ سے پورا کریں اور پھر دوسری طرف اس کے پورا ہونے سے اولاد جیسی نعمت بھی حاصل ہوتی ہے اللہ نے ہر چیز کا جوڑا بنایا ہے تو یہ ویسے ہی بےمقصد کام نہیں بلکہ انسان کے جوڑے سے گھر آباد ہوتے ہیں اور محلے، شہر، ملک اور دنیا کی آبادی بڑھتی ہے۔ مگر قوم لوط نے اس فطرت کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیویوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے لذت حاصل کرنا شروع کردی۔ جب سیدنا لوط (علیہ السلام) نے انہیں اس بےہودہ اور نقصان دہ کام سے منع کیا تو الٹا ان کو ہی وہاں سے چلے جانے کو کہہ دیا۔ اور بالکل ٹس سے مس نہ ہوئے اپنے برے کام کو ٹھیک سمجھ کر کرتے رہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے سیدنا لوط کو حکم دیا کہ اپنے اہل و عیال کو لے کر یہاں سے نکل جاؤ کیونکہ اس قوم کی تباہی کا وقت آگیا ہے۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) کی بیوی ایمان نہ لائی تھی اور اپنی گناہگار قوم کی طرفدار تھی لہٰذا وہ بھی عذاب کا نشانہ بن گئی۔ عذاب ان پر آیا کہ اللہ کی قدرت سے ان پر پتھروں کی شدید بارش ہوئی۔ یعنی آسمان سے پتھر برسنے لگے اور یوں پوری قوم تباہ برباد ہوگئی۔ معارف القرآن میں اس جگہ کی نشاندہی اس طرح کی گئی ہے لکھتے ہیں ” اور یہ منظر آج بھی موجود ہے بیت المقدس اور نہر اردن کے درمیان آج بھی یہ قطعہ زمین بحر لوط یا بحر میت کے نام سے موسوم ہے اس کی زمین سطح سمندر سے بہت گہرائی میں ہے اور اس کے ایک خاص حصہ پر ایک دریا کی صورت میں پانی موجود ہے جس میں کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا اسی لیے اس کو بحر میت کہتے ہیں یہی مقام سدوم کہلاتا ہے۔ تو ایک عبرت ناک قصہ تھا جو گزر چکا افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں جدید مغربی تہذیب میں اس گندے اخلاقی جرم کے حق میں زبردست پروپیگنڈا کیا ہے۔ یہاں تک کہ بعض ملکوں کی مجالس قانون ساز نے اسے باقاعدہ جائز ٹھہرا دیا ہے، حالانکہ طبی، اخلاقی اور انسانی فطرت کے لحاظ سے صاف طور پر یہ غیر فطری کام انتہائی گندا، نقصان دہ اور جرم کی حد تک ناجائز ہے۔ یہ گناہ بےشمارواضح نقصانات کا پیش خیمہ ہے۔ تو رب العالمین نے اس گناہ کی روک تھام کے لیے ایک خوفناک بیماری ایڈز پیدا کردی ہے کہ اس مہلک بیماری کے ڈر سے یہ تہذیب و تمدن کے علمبردار لوگ اس خبیث گناہ سے بچنا شروع کردیں اور دنیا اس کی تباہ کاریوں سے بچ سکے اللہ تمام مخلوق کو اپنی امان میں رکھے۔ آمین
Ayahs 7:85–87

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور اہل مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا تو انہوں نے کہا اے میری قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تمہارے رب کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ماپ اور تول پورا کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم ایمان والے ہو تو سمجھ لو یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے۔

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور ہر راستہ پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص ایمان لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور اللہ کی راہ سے روکتے ہو۔ اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو اور اس وقت کو یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو اللہ نے تم کو بڑی جماعت بنا دیا اور دیکھ لو خرابی کرنے والوں کا کیا انجام ہوا ؟

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی تو صبر کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردے، اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

مدین کا انجام اور سبق آموز بیان تشریح : مدین کا اصل علاقہ حجاز کے شمال مغرب میں ہے اس کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے واقع تھا۔ یہ بہت بڑی تجارت پیشہ قوم تھی۔ قدیم زمانہ میں تجارتی شاہراہ جو یمن، مکہ اور ہنبوع سے ہوتی ہوئی شام تک جاتی تھی۔ دوسری شاہراہ جو عراق سے مصر کو جاتی تھی۔ اسکے عین چورا ہے پر ان کی بستیاں آباد تھیں اسی لیے مدین کافی مشہور جگہ تھی۔ اور پھر بعد میں عربوں کے تجارتی قافلے مصر و شام جاتے ہوئے مدین کے کھنڈرات کے بیچ میں سے گزرتے تھے اہل مدین سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے مدیان کی طرف منسوب ہیں اس قوم کو دین حق کی آواز سیدنا شعیب (علیہ السلام) کے ذریعے ہی پہنچی۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) یہ اللہ کے رسول ہیں مدین کی ہی اولاد میں سے ہیں۔ اسی لیے ان کو بھائی کہا گیا ہے۔ اصحاب الایکہ جو ان کی ہمسایہ قوم تھی اس کی ہدایت کے لیے سیدنا شعیب (علیہ السلام) ہی مقرر کئے گئے تھے سیدنا شعیب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے فصاحت و بلاغت اور خوش بیانی کی صفات عطا کر رکھی تھیں اسی لیے ان کو خطیب الانبیاء کہا جاتا تھا۔
Ayahs 7:88–102

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

ترجمہ ـ: تو ان کی قوم کے سردار اور بڑے لوگ کہنے لگے کہ اے شعیب ! یا تو ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اپنے شہر سے نکال دیں گے یا تم ہمارا مذہب قبول کرلو۔ انہوں نے کہا کہ خواہ ہم تمہارے دین سے بیزار ہوں تب بھی۔

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

اگر اس کے بعد کہ اللہ ہمیں نجات دے چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو گویا ہم نے اللہ پر جھوٹا بہتان باندھا اور ہمیں قطعاً لائق نہیں کہ ہم دوبارہ کفر کی طرف لوٹ جائیں ہاں ! اللہ جو ہمارا رب ہے اگر وہ چاہے ( تو پھر ہم مجبور ہیں) ہمارے رب کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے ہمارا بھروسہ اللہ ہی پر ہے۔ اے رب ! ہماری قوم اور ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کر دے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے کہ بھائیو ! اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو گویا خسارے میں پڑگئے۔

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

تو ان کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

یہ لوگ جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا تھا ایسے برباد ہوئے گویا وہ ان میں کبھی آباد نہ ہوئے تھے غرض جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے۔

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا بھائیو ! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچادئیے ہیں اور تمہاری خیر خواہی کی تھی، تو میں کافروں پر عذاب نازل ہونے سے رنج و غم کیوں کروں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور ہم نے کسی شہر میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے لوگوں کو ( جو ایمان نہ لائے) دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں۔

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ مال و اولاد میں زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اسی طرح کا دکھ اور رنج ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے۔ تو ہم نے ان کو اچانک پکڑلیا، جبکہ وہ اپنے حال میں بیخبر تھے۔

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکات کے دروازے کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا سو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑلیا۔

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

کیا بستی (مکہ) والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ بیخبر سو رہے ہوں۔

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

اور شہر والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آنازل ہو اور وہ کھیل رہے ہوں۔

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اللہ کی تدبیر کا ڈر نہیں رکھتے۔ سن لو کہ اللہ کی تدبیر سے وہی لوگ بےخوف ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہوں۔

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

جو لوگ ان بستیوں کے ہلاک ہونے کے بعد زمین کے وارث ہوئے کیا انہیں یہ رہنمائی نہیں ملی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے بدلے ان پر (بھی) مصیبت ڈال سکتے ہیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر (بھی) کرسکتے ہیں کہ وہ سن ہی نہ سکیں۔

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ بستیاں ہیں جن کے حالات ہم آپ کو سناتے ہیں اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لیکر آئے مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ جس چیز کو پہلے جھٹلا چکے ہوں اسے مان لیں۔ اسی طرح اللہ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں سے بہتوں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا اور ان میں بہتوں کو دیکھا تو بد کار ہی دیکھا۔

سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب الٰہی تشریح : مدین کی قوم پچھلی قوموں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، اور قوم لوط کی طرح اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے بالکل بگڑ چکی تھی۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھائی، یہ واقعہ یہاں صرف اس لیے بیان کیا گیا کہچو ن کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اور اس وقت اہل مکہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا تو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے ان کو ان تمام قوموں کے حالات اور انجام بتایا گیا کہ عرب لوگ سبق سیکھیں اور راہ ہدایت اختیار کریں۔ اہل مدین اس وقت شرک، بد دیانتی، جھوٹ فریب، ظلم، قتل و فساد غیر اخلاقی وکردار کی انتہائی پستیوں میں پڑے ہوئے تھے سب سے بڑی خرابی جو ہر خرابی کی بنیاد ہے، یعنی شرک اور بددیانتی (ناپ تول میں دھوکہ۔ ) ان کا خیال تھا کہ تجارت اور سیاست بدمعاشی کے بغیر نہیں چلتی، اس لیے وہ دنیاوی فائدوں کے لیے اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق سے باکل عاری تھے۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے ان کو بتایا کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اس کے آگے جھکو اور نیکی کی طرف آؤ۔ تاکہ اس زندگی کو بھی بہتر طریقے سے گزار سکو اور آخرت میں بھی جنت حاصل کرسکو۔ جب سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی نصیحت سے کچھ لوگ ان کی طرف آناشروع ہوئے تو شیطانی گروہ جگہ جگہ راستوں میں ان کو روک کر بد راہ کرنے کی کوشش کرتا۔ جیسا کہ ہمیشہ سچ اور جھوٹ کی جنگ ہوتی رہتی ہے۔ پیغمبر نے ان کو سمجھانے کی بڑی کوشش کی لیکن ان میں سے اکثر نے انکار کیا اور ان سے کہا آپ اپنے ماننے والوں کو ہماری بستی میں سے لیکر چلے جائیں تب پیغمبر نے ان کو بتایا کہ تمہارے اوپر اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔ تو اس پر وہ بالکل ڈھیٹ ہو کر بولے کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں دکھ اور تنگی اور خوشحالی تو دنیا کا دستور ہے ایسے ہی ہمارے باپ دادا کے ساتھ بھی ہوا۔ یہ عذاب وغیرہ کچھ نہیں ہوتا۔ اصل میں ان کے دل اس قدر سیاہ ہوچکے تھے کہ ان میں نور الہٰی کی کوئی گنجائش ہی نہ رہی تھی ایسے ہی لوگوں کے لیے رب العزت فرماتے ہیں کہ ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے دراصل مہر لگنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا ضمیر اور روح اس قدر گناہوں میں ڈوب چکی ہے کہ ان کو گناہ برا نہیں لگتا وہ برائی کو ہی اچھائی سمجھتے ہیں ان کی آنکھیں گناہوں کے اندھیروں کی اتنی عادی ہوچکی ہوتی ہیں کہ وہ نیکی کا نور دیکھ ہی نہیں سکتیں جیسا کہ ایک اندھا آدمی روشنی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اسی طرح ان کے کان برائی سننے کے عادی ہوچکے ہیں کہ کسی بھی قسم کی اچھی بات وہ سنیں تو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ اسی لیے ایسے لوگوں کے لیے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ان کے دلوں پر ہم نے مہر لگا دی ہے وہ نہ نیک بات سن سکتے ہیں نہ نیکی کی راہ دیکھ سکتے ہیں تو ایسے ہی لوگوں کو اللہ دنیا میں عذاب دیتا ہے۔ ان کو اپنی قدرتی آفات میں سے کسی کا شکار بنا دیتا ہے اور ان کا نام و نشان ہی مٹ جاتا ہے۔ جن قوموں کی تباہی کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے وہ صرف عبرت دلانے کے لیے کیا گیا ہے ورنہ اس دنیا میں بےشمارقومیں، شہر اور ملک اللہ کی نافرمانی کے سبب نیست و نابود کردیے گئے۔ اللہ رب العزت پہلے پیغمبر بھیجتے ہیں، پھر تھوڑی تنگی ترشی، پھر خوشحالی یہ سب انسان کی آزمائش کے لیے ہوتا ہے۔ تنگی میں صبر اور دعا کرنی چاہیے۔ خوشحالی میں شکر ادا کرنا چاہیے، لیکن جو لوگ ان تمام باتوں سے لاپروا ہیں ان کو دنیا میں عذاب اور آخرت میں بھی درد ناک عذاب ملناضروری ہے قرآن میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔ ” لوگوں سے کہہ دو کہ زمین کی سیر کریں اور دیکھیں کہ کافروں کا کیا انجام ہوا۔ “ ( الانعام آیت : 11) یہ عبارت اللہ کی اس کتاب کی ہے جو نہ ماضی میں جھٹلائی گئی نہ آئندہ جھٹلائی جاسکے گی۔ ( حم سجدہ آیت : 24 ) ” اسلام میں سائنس اور تہذیب “ میں سید حسین نصر لکھتے ہیں۔ احادیث زمانہ ماضی میں نیکو کاروں کا جہاں ذکر آیا ہے وہاں سیدنا عیسیٰ بن مریم کا یہ قول نقل کیا گیا ہے :” یہ دنیا سرائے فانی اور محض دیکھ لینے کی چیز ہے۔ تم اس میں مسافرانہ زندگی بسر کرو اور سابقہ نسلوں کے آثار دیکھ کر عبرت پکڑو۔ “ قرآن میں جگہ جگہ موت، آخرت، قیامت اور حساب کتاب کا ذکر آیا ہے۔ اہل مدین کو یہی سمجھاتے سمجھاتے سیدنا شعیب بےبس ہوگئے تو انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ ان کے اور میرے درمیان تو ہی فیصلہ کرنے والا ہے۔ یہ لوگ زبردستی پر اتر آئے ہیں تب اللہ تعالیٰ نے ان کو سبق سکھانے کے لیے اس قدر زور کا زلزلہ وارد کیا کہ سب کے سب نیست و نابود ہوگئے۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) وہاں سے نکل چکے تھے۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مطلب یہ سمجھانا ہے کہ اللہ کی قدرت اور عظمت کو جان کر اس پر ایمان لے آنا کوئی مشکل بات نہیں۔ اور پھر رسول کی بات مان کر نیک اعمال اختیار کر کے اس دنیا سے رخصت ہو کر آخرت میں ہمیشہ کی زندگی گزارنے کے لیے نیک اعمال کا خزانہ لے جانا بہتر ہے یا کہ شیطانی زندگی گزار کر آخرت میں جہنم میں جانا اچھا ہے۔ چاہے کوئی عذاب سے مرے یا قدرتی آفات سے، اس دنیا سے ہر صورت رخصت ہونا ہے۔ نبی کی ہر بات کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہی باعث نجات ہے ہمارا بھی وہ ہی حشر ہوسکتا ہے جو ان گزری ہوئی نافرمان قوموں کا ہوا ہے اور آخرت میں تو ان کا حشر اور بھی برا ہوگا۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ جو لوگ اللہ پر افترا کرتے ہیں وہ ہر گزفلاح نہیں پاسکتے۔ دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے کرلیں، پھر ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہے، پھر ہم انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ اس کفر کے بدلے میں جو یہ کرتے تھے۔ (یونس آیات : 69ــ تا 70)