6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمفہوم القرآن

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے زمین اور آسمان بنائے، اندھیرا اور اجالا بنایا، پھر بھی کفار دوسروں کو اپنے رب کے برابر ٹھہرا رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی مخلوقات تشریح : سورة الانعام توحید کے اصول و قوانین اور توحید کی اصلیت پر مبنی ہے اس سورت کو الحمدلِلّہِ سے شروع کیا گیا ہے جو یہ اعلان ہے کہ ہر قسم کی تعریف صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے کیوں کہ وہ مالک کائنات ہے۔ کائنات کیا ہے ؟ اس کی تعریف کرنا بڑا مشکل کام ہے کیونکہ وہ بڑی ہی وسیع و عریض ہے۔ اس آیت میں آسمان و زمین، اندھیرے اور اجالے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ انسان کے لیے معمول کی چیزیں ہیں۔ آسمان، زمین، اندھیرا، اجالا سب کچھ اس کے لیے عام بات ہے کیونکہ وہ روز ہی دیکھتا ہے اس لیے اس میں عام انسان کے لیے کوئی خاص بات نہیں لیکن جو لوگ کائنات کی چیزوں پر غور کرتے ہیں، سوچ بچار کرتے ہیں وہ اس بات کو سمجھ جاتے ہیں کہ ان تمام چیزوں کو بنانے والا چلانے والا اور کنٹرول کرنے والا ضرور کوئی ہے اور وہی دکھائی نہ دینے والی ہستی اللہ کی ذات ہے۔ اسی طرح اللہ کی وحدانیت کا تصور انسان کے دل میں پیدا ہوتا ہے کسی بھی ملحد اور کافر کو اگر آپ پوچھیں کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ دنیا کس نے بنائی ہے تو وہ فوراً جواب دے گا۔ ” اللہ نے۔ “ مگر اس کے باوجود بہت سی قومیں توحید کی قائل ہی نہیں ہیں جیسا کہ اس وقت ہندوستان میں 33 کروڑ خدائوں کی عبادت ہو رہی ہے۔ کوئی سورج کو، کوئی ستاروں کو، پہاڑوں، دریائوں، درختوں اور آگ تک کو پوجا جاتا ہے عرب لوگوں کو کوئی خوبصورت پتھر مل جاتا تو اسی کو تراش کر خدا بنا لیتے، بتوں کی پوجا تو اس وقت بہت عام تھی۔ کافر اور مسلمان میں فرق یہ ہے کہ کافر اللہ کی بنائی ہوئی خوبصورت طاقت ور اور مضبوط چیزوں کو ہی اللہ سمجھ بیٹھتا ہے جبکہ مسلمان غور و فکر کر کے ان چیزوں کے بنانے والے کو تلاش کرتا ہے۔ وہ اس کو دیکھ نہیں سکتا مگر اس کی روح، دل، دماغ اس عظیم ہستی کو تصور میں بڑی اچھی طرح ڈھونڈ لیتی ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ ایک اللہ جو ہر صورت انسانی صفات سے بہت بلند، عظیم و کبیر ہمیشہ رہنے والا ضرور موجود ہے یہی ہے توحید کا سبق جو قرآنی تعلیم سے واضح ہوجاتا ہے۔
Ayah 6:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر تمہارے لیے زندگی کی ایک مدت مقرر کردی، اور ایک دوسری مدت اور بھی ہے جو اس کے پاس مقرر ہوچکی ہے، پھر بھی تم شک میں پڑے ہوئے ہو۔

انسان کی پیدائش تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، مختارِ کل ہونے کی دلیل اور قیامت کا ذکر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ ہم نے مٹی کا ایک پتلا بنایا اور اس میں روح پھونک دی۔ دراصل مٹی کے تمام اجزا اور خاصیتیں انسانی جسم میں موجود ہیں۔ اس لیے مٹی اور زمین کا تعلق انسان کی پیدائش، نشوونما اور بقا کے ساتھ بہت گہرا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا تعلق زمین اور مٹی کے ساتھ اتنا ہی گہرا اور ضروری ہے جتنا کہ پھل، پھول اور درخت کا تعلق مٹی کے ساتھ ہے۔ بیشک ہم ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہیں مگر ہمارے جسم کے تمام اجزا وہی ہوتے ہیں جو اجزا مٹی میں ہوتے ہیں پھر مٹی سے پیدا ہونے والا اناج، پھل، پھول ہمارے جسم کو بڑھانے، باقی رہنے اور زندگی کو قائم رکھنے کے لیے بےحد ضروری ہیں ہم ان کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ ہم مٹی کو بڑا معمولی اور حقیر سمجھتے ہیں مگر ہمیں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری زندگی کو باقی رکھنے میں زمین، یعنی مٹی کا کتنا ہاتھ ہے پھر جب ہم مرجاتے ہیں تو بھی مٹی میں ہی ہمیں دفنا دیا جاتا ہے ورنہ اتنے لوگ روزانہ مرتے ہیں اگر ان کو یونہی پھینک دیا جاتا تو ساری دنیا غلاظت، بدبو اور طرح طرح کے گندے جراثیم سے بھر جاتی اور زندہ انسان زندگی سے عاجز آجاتے۔ پھر ایک اور بات جو اس آیت میں بتائی گئی ہے کہ جس طرح تم زندگی گزار کر مرجاتے ہو اسی طرح یہ کائنات بھی ایک مقررہ مدت گزار کر ختم ہوجائے گی اور اس دن کو قیامت کہتے ہیں۔ تب دوبارہ تم سب لوگ زمین میں سے نکل کھڑے ہوگے اور اللہ کے حضور حاضر ہو کر اپنا اپنا حساب کتاب کروانے کے بعد سزا یا جزا پائو گے۔ یہ سب کچھ تمہارے سامنے ہو رہا ہے۔ انسان پیدا ہو رہے ہیں۔ مر رہے ہیں جیسے اب انسان کو پیدا کیا جا رہا ہے اسی طرح اللہ ان کو دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ آسان سی بات ہے سمجھنے کے لیے، لیکن کافر، منکر اور شیطان کے دوست پھر بھی اللہ کے وجود سے انکار کرتے ہیں۔ اور پھر یہ بات بھی بتا دی گئی ہے کہ انسان کی پیدائش، اس کے مرنے کا وقت، دنیا کی پیدائش، اس کے فنا ہونے کا وقت سب کچھ یونہی اتفاقیہ نہیں ہو رہا بلکہ سب کچھ اللہ کے پاس لوح محفوظ میں لکھا ہوا موجود ہے، اس لیے اللہ کے حکم اور اجازت کے بغیر کوئی کام ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اگلی آیات میں اور بھی تفصیل سے بیان کیا جا رہا ہے ملاحظہ ہو۔
Ayahs 6:3–4

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں وہی ایک اللہ ہے۔ تمہارے کھلے اور چھپے سب حال جانتا ہے، اور جو بھلائی یا برائی تم کرتے ہو وہ اس سے خوب واقف ہے۔

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں جو ان کے سامنے آئی ہو اور انہوں نے اس سے منہ نہ موڑ لیا ہو۔

اللہ کی قدرت اور طاقت تشریح : ان آیات میں اللہ کے علیم وخبیر ہونے کی دلیل دی گئی ہے یعنی علم رکھنے والا اور خبر رکھنے والا بتایا گیا ہے جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ بتایا جاچکا ہے کہ ظاہر پوشیدہ، اچھائی برائی اللہ سے کوئی بھی چیز اور کوئی راز پوشیدہ نہیں وہ سب جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر افسوس سے کرتے ہیں جو سب کچھ دیکھتے ہیں، سمجھتے ہیں مگر اپنے رسم و رواج کی وجہ سے نہ غور و فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے غلط عقیدوں سے ہٹ کر اللہ وحدہٗ لاشریک کی طرف مڑتے ہیں۔ یہ اشارہ کفار مکہ کی طرف ہی ہے کہ تمام نشانیاں دیکھ کر بھی کفر و شرک سے توبہ نہیں کرتے۔
Ayah 6:5

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

چناچہ اب جو حق ان کے پاس آیا تو اسے بھی انہوں نے جھٹلا دیا۔ جس چیز کا وہ اب تک مذاق اڑاتے رہے ہیں اس کے متعلق عنقریب ان کو خبریں پہنچیں گی۔

سچائی کا اظہار تشریح : ان آیات میں کفار کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ تم لوگ اللہ کی ان تمام نشانیوں سے آنکھیں بند کر کے اپنے آبائو اجداد کی پیروی میں لگے ہوئے ہو ورنہ ہر عقلمند آدمی جو کائنات کو غور سے دیکھتا ہے اللہ کو پہچان لیتا ہے اردگرد پھیلی ہوئی تمام چیزیں اور خود انسان کی ہستی اللہ کے موجود ہونے اور لاشریک ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں مگر کفار تو ہر بات کا مذاق اڑانا جانتے ہیں، غور و فکر اور عقل سمجھ سے یہ لوگ بالکل ناواقف ہیں۔ اب ایک بہت بڑی نشانی حق کی صورت میں (قرآنِ مجید) ان کی طرف بھیجا گیا ہے جس کی ترغیب دینے کے لیے رسول اللہ ﷺ جیسا بہترین، نیک، متقی اور پرہیزگار انسان پیغمبر بنا کر لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ہے، مگر یہ عقل کے اندھے پیغمبر اور کتاب ہدایت قرآن مجید دونوں کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کچھ خبروں کا ذکر کرتے ہیں۔ یقینا یہ خبریں وہی ہیں جن کا تعلق نبی ﷺ کی ہجرت اور اس کے بعد مسلسل مسلمانوں کی کامیابیوں سے ہے۔ ان تمام آنے والے حالات کا علم کسی کو نہ تھا حتیٰ کہ نبی ﷺ بھی آنے والے ان تمام حالات سے بالکل بیخبر تھے۔ انہی تمام کامیابیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کو دینے والے تھے۔ اگلی آیت میں نافرمانوں کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کو ہم نے ملک میں اتنا جما دیا تھا کہ جتنا تم کو نہیں جمایا۔ ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں، پھر ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کو ہلاک کردیا، ان کے بعد ہم نے ان کی جگہ اور امتوں کو پیدا کردیا۔

عبرت کا مقام تشریح : قرآن مجید کتاب ہدایت ہے، اس میں ہر اس بات کو کھول کر اور مثالیں دے کر بیان کیا گیا ہے جو انسان کے لیے بہتری، کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہوسکتی ہے۔ اسی سلسلہ میں اللہ جلَّ شانہٗ لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کیا تم نے دنیا میں ایسی قوموں کی تباہی بربادی کی نشانیاں نہیں دیکھیں ؟ جو تم سے کئی درجہ زیادہ مضبوط، خوش حال اور کامیاب و کامران تھیں مگر جب وہ گمراہیوں، ناشکری اور گناہوں میں حد سے بڑھنے لگیں تو اللہ رب العزت نے ان کے گناہوں کی سزا کے بدلے ان کو تباہ و برباد کردیا۔ ان کا نام و نشان مٹا دیا اور ان کو آنے والی امتوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا۔ ان کی جگہ دوسری امتوں کو آباد کردیا۔ اہل مکہ کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ تم بھی نیکی کی راہ اختیار کرو اور یہ جو رحمت قرآن مجید اور نبی اکرم ﷺ کی صورت میں تم پر کی گئی ہے اس سے فائدہ اٹھا کر دنیا و آخرت میں نجات حاصل کرو۔ اگلی آیات میں ان کی سرکشی اور ہٹ دھرمی کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 6:7

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ ! ) اگر ہم تم پر کوئی کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب بھی اتار دیتے جس کو لوگ اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے تب بھی یہ کفار تو یہی کہتے کہ یہ تو صاف جادو ہے۔

انتہائی بیوقوف لوگ تشریح : یہ آیت ایک خاص واقعہ کی وجہ سے نازل ہوئی۔ مکہ کے رہنے والے عبد اللہ بن ابی امیہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میں ایمان تب لائوں گا کہ آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور ایک کتاب لے کر آئیں جس سے میرا نام لیکر کہا جائے کہ میں آپ پر ایمان لے آئوں۔ پھر کہنے لگا کہ اگر یہ سب ہوجائے میں تو پھر بھی آپ پر ایمان نہ لائوں گا۔ مگر اتفاق یہ ہوا کہ عبداللہ بن ابی امیہ اللہ کے فضل سے ایسے مسلمان ہوئے کہ بعد میں شہادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہوئے۔ یہ تو بعد کی بات ہے لیکن پہلے عبداللہ بن ابی امیہ اور ان جیسے بیشمار لوگ صرف نبی اکرم ﷺ کو صرف تنگ کرنے کے لیے بیشمار فضول قسم کے مطالبات کرتے رہتے تھے جیسا کہ اگلی آیت میں فرشتہ نازل کرنے کے مطالبہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 6:8

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور پھر انہیں مہلت بھی نہ دی جاتی۔

عجیب فرمائش تشریح : جیسا کہ پچھلی آیت میں کفار کی فضول باتوں کا ذکر کیا گیا ہے تو انہیں میں سے ایک بات انہوں نے یہ کی کہ اگر اللہ کا پیغام ایک فرشتہ لے کر آتا ہے تو ہمیں بھی فرشتہ دکھایا جائے۔ تو اس کا جواب اللہ تعالیٰ یوں دیتے ہیں کہ فرشتہ اگر ان کو ظاہر صورت میں دکھا دیا جاتا تو پھر ان کو کسی طرح کی مہلت نہ ملتی اور یہ تباہ و برباد ہوچکے ہوتے کیونکہ فرشتہ کو انسانی آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں۔ سیدنا محمد ﷺ نے جب سیدنا جبرائیل (علیہ السلام) کو پہلی دفعہ دیکھا تو ہیبت زدہ ہوگئے کیونکہ یہ انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ وہ تو رسول تھے تو برداشت کر گئے عام انسان تو فرشتہ کو دیکھ کر خوف سے مر ہی جائے۔ پھر دوسری صورت فرشتہ کے ظاہر ہونے کی یہ ہے کہ وہ نافرمان قوم پر اللہ کا عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے اور وہ تو اتنا اچانک ہوتا ہے کہ آناً فاناً سب کچھ مل یا میٹ ہوجاتا ہے اور پھر توبہ کرنے کی مہلت بھی نہیں مل سکتی۔ یعنی فرشتہ کا ظاہر ہونا ہر صورت میں انسان کی ہلاکت کا باعث ہی ہوسکتا ہے اصل شکل میں فرشتہ کو کوئی انسان دیکھے تو دہشت اور خوف سے مرجائے اگر عذاب کی صورت میں فرشتہ آجائے تو وہ بھی انسان کی ہلاکت کا ہی سبب بن سکتا ہے۔ ایک تیسری صورت فرشتہ کے ظاہر ہونے کی اگلی آیات میں بیان کی جا رہی ہے ملاحظہ ہو۔
Ayahs 6:9–11

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اگر ہم فرشتے کو انسانی شکل میں اتارتے تو پھر بھی ان کو اسی شبہ میں ڈال دیتے جس میں یہ اب مبتلا ہیں۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اے محمد ﷺ ! آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، مگر ان مذاق اڑانے والوں پر آخر کار وہی حقیقت ظاہر کردی گئی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

ان سے کہو ! زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے ؟

تشریح : جیسا کہ بیان ہوچکا کہ فرشتہ بھیجنے کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ اصل شکل میں فرشتہ نازل ہو یا عذاب کی صورت میں فرشتہ نازل ہو یا پھر انسانی شکل میں فرشتہ بھیجا جائے۔ اگر انسانی شکل میں فرشتہ بھیجا گیا تو یہ لوگ اس کے ساتھ بھی یہی فضول باتیں کریں گے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ کفار لوگ ہوتے ہی ایسے ہیں آپ گھبرائیں نہیں ان کا تو ہمیشہ سے یہی کام ہے۔ آپ سے پہلے بھی جو پیغمبر اور رسول بھیجے گئے ان سب کے ساتھ ان کی امتوں کے گمراہ لوگوں نے اسی طرح ہنسی مذاق، نکتہ چینی اور غلط قسم کی فرمائشوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔ اصل میں یہ لوگ اس قدر بگڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ یہ رسولوں کی بات ماننا ہی نہیں چاہتے اور بس ہنسی مذاق میں وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔ مگر ان کا انجام کیا ہوا ؟ کہ ان کی نافرمانی کا وبال ان پر آپڑا اور وہ تباہ و برباد کردیے گئے۔ اللہ رب العزت نبی اکرم ﷺ سے فرماتے ہیں کہ ان نافرمان اہل مکہ کو کہو کہ ذرا سوچو اور دیکھو کہ تم سے پہلے جتنی نافرمان قومیں تھیں ان کا کیا انجام ہوا ؟ چل پھر کر دیکھو تو تمہیں ان کی تباہی و بربادی کے آثار جگہ جگہ نظر آجائیں گے۔ ان کی زندگی کی کہانیاں تمہیں اچھی طرح یہ حقیقت بتا دیں گی کہ نافرمانی، ہٹ دھرمی اور کفر کا انجام کس قدر خوفناک اور عبرت ناک ہوتا ہے۔ انسان کی اپنی ہی برائیاں اس کے لیے عذاب کا سبب بن جاتی ہیں۔ ہر شخص کو ہر وقت اپنا حساب کرتے رہنا چاہیے تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہو مگر اہل مکہ اس قدر بگڑے ہوئے اور پکے کافر تھے کہ ان کو راہ راست پر لانا بڑا مشکل کام تھا مگر نبیوں، رسولوں کو تو ایسے ہی لوگوں سے ہمیشہ واسطہ پڑتا ہے سو وہ اپنے کام میں لگے رہتے ہیں اور ہر صورت سے دنیا سے برائی ختم کرنے اور نیکی پھیلانے کا مشکل کام پوری کوشش سے کرتے رہتے ہیں اللہ ان کا مددگار ہوتا ہے اور ان کو تبلیغ کے راستے بتاتا رہتا ہے جیسا کہ اگلی آیات میں کہا گیا ہے۔
Ayahs 6:12–21

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

آپ ان سے پوچھئے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ کس کا ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ سب کچھ اللہ ہی کا ہے، اس نے اپنے آپ پر رحمت کو لازم کرلیا ہے (اسی لیے وہ تمہیں جلدی سے سزا نہیں دیتا) ۔ وہ یقینا تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے واقع ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ مگر جو لوگ خود ہی خسارہ میں رہنا چاہیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں جو کچھ موجود ہے سب اللہ کا ہے اور وہ (اللہ) سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

کہو، اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سر پرست بنا لوں ؟ اس رب کو چھوڑ کر جو زمین و آسمان کا خالق (بنا نے و الا) ہے، اور جو سب کو کھلاتا ہے خود کسی سے کھاتا نہیں ؟ کہو مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اسی کے آگے سر جھکائوں اور کبھی بھی مشرکوں میں شامل نہ ہوجاؤں۔

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

کہو، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اللہ کے سوا کوئی بھی تمہیں اس نقصان سے بچا نہیں سکتا اور اگر وہ تمہیں کوئی بھلائی عطا کرے تو وہ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

وہ اپنے بندوں پر پورے اختیارات رکھتا ہے اور وہ دانا اور باخبر ہے۔

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

ان سے پوچھو ! کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے ؟ کہو، میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور یہ قرآن میری طرف وحی کے ذریعے بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے، سب کو اچھی طرح سمجھا دوں۔ کیا واقعی تم لوگ یہ گواہی دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ بھی ہیں ؟ کہو، میں تو اس بات کی گواہی ہرگز نہیں دے سکتا۔ کہو، الٰہ تو صرف وہی ایک ہی ہے اور میں اس شرک سے بالکل دور ہوں جس شرک میں تم لوگ مبتلا ہو۔

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کتاب کو ایسے ہی یقین سے پہچانتے ہیں جیسے وہ بغیر شک و شبہ کے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ مگر جن لوگوں نے خود جان بوجھ کر اپنے آپ کو نقصان میں ڈال دیا ہے وہ اسے نہیں مانتے (قرآن پر یقین نہیں کرتے) ۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے، یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟ یقینا ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔

تبلیغ کے فائدے اور طریقے تشریح : ان تمام آیات میں آنحضرت ﷺ کو نذیر اور بشیر یعنی ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا بتایا گیا ہے۔ ان کو گمراہی دور کرنے اور نیکی پھیلانے کے لیے اللہ رب العزت نے منتخب کر کے آخری نبی کی صورت میں لوگوں کی طرف بھیجا اور پھر مختلف طریقوں سے خود نبی ﷺ کی رہنمائی فرمائی اور یوں فرمایا۔ سب سے پہلے اللہ کا مالک کل ہونا ثابت کیا پھر قیامت کے دن کی سچائی اور سختی سے آگاہ کیا۔ پھر اللہ کے رحیم و کریم ہونے کی خبر دی اللہ واقعی بڑا ہی رحم کرنے والا ہے۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا تو ایک نوشتہ اپنے وعدے کا تحریر فرمایا جو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے، جس کا مضمون یہ ہے میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔ (قرطبی از معارف القرآن) پھر اللہ نے آپ کی زبانی اپنی وسیع و عریض لامحدود بادشاہت کا ذکر کیا۔ پھر آپ کو یہ کہنے کا ارشاد فرمایا کہ اگر میں اللہ کی وحدانیت اور اس کے مختارِ کل ہونے اور آخرت کے دن سے انکار کروں تو میں بھی عذاب کا مستحق ہوجاؤں گا۔ پھر ان لوگوں کا ذکر کیا جو اللہ کی رحمت میں آگئے اور آخرت کے دن کی سختی سے بچ گئے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ پھر اعتقاد کا اصول بتایا کہ نفع و نقصان سب اللہ کے ہاتھ میں ہے، پھر اس بنیادی اور زبردست عقیدے کا ذکر کیا جس نے امت مسلمہ کو پوری دنیا کی امتوں سے بلند وبالا کردیا۔ وہ ہے صرف اور صرف اللہ کو ہی اپنا رزق دینے والا سمجھنا اور کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا۔ توکل اور ایمان کی یہی نشانی ہے۔ اس سے بیشمار برائیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ یعنی رشوت، سفارش، جھوٹ، چوری، ڈاکہ، فساد، اور قتل و غارت گری سب ختم ہوسکتے ہیں۔ بس اللہ پر بھروسہ کرو، نہایت ایمانداری، کوشش، محنت اور سکون سے اپنے تمام کام کرو جو اللہ نے تمہارے سپرد کئے ہیں۔ پھر اللہ کی قدرت، طاقت اور بڑائی کو بیان کیا، پھر اللہ رب العزت نے اپنی گواہی کا ذکر کیا کہ اس کی گواہی سے بڑھ کر کسی کی گواہی نہیں ہوسکتی۔ وہ اکیلا ہے، سب سے بڑا ہے، قادر مطلق ہے حکیم وخبیر ہے۔ پھر آپ کو یہ کہنے کا حکم دیا گیا کہ اسی رحیم و کریم نے مجھے پیغمبر بنا کر بھیجا اور قرآن مجید مجھ پر وحی کے ذریعہ نازل کیا۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام اور تمام مسلمانوں کو تاکید فرمائی کہ میرے احکام وتعلیمات لوگوں تک پہنچائو اگرچہ ایک ہی آیت ہو۔ پھر ان لوگوں کو جواب دیا گیا جنہوں نے یہ کہا کہ ہم نے یہودونصارٰی سے پوچھ لیا ہے وہ آپ ﷺ کی سچائی کی گواہی نہیں دیتے۔ بتایا گیا کہ یہود و نصارٰی کو ان کی کتابوں میں آخری نبی ﷺ کے بارے میں اتنی زیادہ تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ جیسے ایک باپ اپنے بیٹے کو پہچاننے میں غلطی نہیں کرسکتا اسی طرح وہ محمد ﷺ اور قرآن کو بغیر کسی غلطی کے پہچان سکتے ہیں مگر ان کی بدقسمتی کہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی سیدنا محمد ﷺ پر ایمان نہیں لا رہے۔ انہی لوگوں کے بارے میں قرآن مجید میں آیا ہے :” ان سے زیادہ ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر بہتان باندھے اسکی آیتوں کو جھٹلا دے بیشک ظالموں کو بھلائی نصیب نہیں ہوتی۔ “ یہ لوگ دوہرا گناہ کر رہے تھے ایک تو خود جانتے بوجھتے ایمان نہ لاتے اور دوسرے لوگوں کو بھی سچائی سے دور رکھتے اور ان کو الٹا گمراہی کے راستے پر ڈالتے اسی لیے ان کو ظالم کہا گیا ہے۔ ان تمام آیات میں ایمان اور کفر کا نقشہ بڑے آسان اور واضح طریقہ سے بیان کردیا گیا ہے اور دنیا و آخرت میں نجات حاصل کرنے کے راہنما اصول بھی بتا دیے گئے مگر آدمی کی سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کا ساتھ نہ دے سکے اور صرف ضد اور تعصب کی وجہ سے وہ اس راستہ پر چلنے لگے جس کے بارے میں اس کا ضمیر اس کو بار بار بتا رہا ہو کہ یہ غلط راستہ ہے۔ یہ ایک محرومی اور ناکامی ہے انسان کے لیے مگر شیطان اس کو یہی یقین دلاتا رہتا ہے کہ یہی تمہاری کامیابی ہے، حالانکہ وہ خود کو ہلاکت، ناکامی اور ظلم کی طرف لے جا رہا ہوتا ہے۔ یہی حال کفار مکہ کا تھا اور یہی حال ہر اس شخص کا ہے جو مسلمان ہو کر بھی مسلمان نہیں ہوتا اور سب کچھ جانتے بوجھتے بھی انجان بنا رہتا ہے۔ قرآن مجید کا ہر لفظ، ہر جملہ اور ہر آیت انسان کے لیے رشد و ہدایت کا خزانہ لیے ہوئے ہے۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کو سمجھ سکیں اور اس پر پورے خلوص سے عمل کر کے دنیا و آخرت میں سرخ رو ہوسکیں۔ الٰہی تو ہمارے دلوں میں نیکو کاری ڈال دے اور ہمیں ہمارے نفس کے شر سے پناہ دے۔ آمین۔
Ayahs 6:22–24

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

جس روز ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے اور مشرکوں سے پوچھیں گے کہ وہ تمہارے بنائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم اپنا رب سمجھتے تھے ؟ تو ان کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے گا۔

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

مگر یہی کہ کہیں گے اے ہمارے پر ورگار ! تیری قسم ہم ہرگز مشرک نہ تھے۔

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکھو اس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے، اور وہاں ان کے سارے بناوٹی جھوٹ گم ہوجائیں گے۔

اصل ظالم کون ہے ؟ تشریح : ان آیات میں مشرکوں کی اس پوچھ کا ذکر کیا گیا ہے جو ان سے قیامت کے دن کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مشرک دنیا میں اپنے اوپر ظلم کرتے رہے کیونکہ انہوں نے اللہ کے وجود سے انکار کیا، قرآن پاک سے انکار کیا، نبی آخرالزمان ﷺ سے انکار کیا اور اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کو معبود بنا بیٹھے، یعنی سورج، چاند ستارے، آگ اور اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے بت۔ یہ انتہائی بےوقوفی کی بات ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر اس کی بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ بنالیا۔ یہ شرک خود ان کے لیے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی وبال بن گیا۔ کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے جو مشرک اپنے اوپر کرتا ہے۔ قیامت کے دن جب اللہ ان سے سوال کرے گا کہ بھئی تمہارے وہ رب کہاں ہیں جن کی تم عبادت کرتے تھے تو مشرک حیران و پریشان ہو کر کہیں گے کہ اللہ کی قسم ! ہم نے تو کبھی شرک کیا ہی نہیں تھا تو گویا ایک جھوٹی قسم اور وہ بھی الہ العلمین کی اٹھا کر انہوں نے اپنے اوپر ایک ظلم اور کرلیا۔ وہ اس قدر پریشان اور خوف زدہ ہوں گے کہ ان کو کچھ بھی نہ سوجھے گا۔ پھر وہاں تو کسی کی سفارش بھی نہ چلے گی اور ان کے تمام خود بنائے ہوئے خدا تو وہاں کہیں بھی نظر نہ آئیں گے تب انہیں پتہ چلے گا کہ انہوں نے اپنے ساتھ خود کتنا بڑا ظلم کیا ہے۔ وہاں وہ بےیارومددگار حیران و پریشان افسوس کرتے ہوئے دکھائی دیں گے اور پھر جھوٹ کا سہارا لیں گے کہ ہم نے تو شرک کبھی کیا ہی نہیں۔ جب کہ وہاں تو انصاف کا دن ہوگا۔ خود ان کے ہاتھ، پائوں، آنکھیں اور زبان، غرض جسم کا ہر عضو ان کے خلاف گواہی دے گا اور پھر ان کا وہ اعمال نامہ جو دنیا میں تیار ہو کر آخرت میں ان کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ یہ سب کچھ بالکل سچ اور یقینی ہے قرآن مجید میں بار بار اس دن اور حساب کا ذکر آتا ہے۔ یہ ضرور ہو کر رہے گا۔ اس لیے ہم سب کو اپنے اعمال پر نظر رکھنی چاہیے۔
Ayahs 6:25–30

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر آپ کی بات سنتے ہیں مگر ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں جس کی وجہ سے وہ کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں پر بوجھ رکھ دیا ہے۔ وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں مگر ایمان نہ لائیں گے حد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آکر جھگڑتے ہیں تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کرلیا ہے وہ یہی کہتے ہیں کہ یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

وہ لوگوں کو حق قبول کرنے سے روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں اور اس طرح وہ خود اپنی ہی تباہی کر رہے ہیں مگر انہیں اس بات کا شعور نہیں۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

کاش ! آپ اس وقت کی حالت دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے۔ اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں دوبارہ واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں۔

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

اصل میں یہ بات وہ صرف اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اس وقت کھل کر ان کے سامنے آچکی ہوگی، ورنہ اگر انہیں پچھلی زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو وہ پھر وہی کچھ کریں جس سے انہیں منع کیا گیا ہے، وہ تو ہیں ہی جھوٹے۔

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہی ہے اور ہم (مرنے کے بعد) ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

کاش ! وہ منظر آپ دیکھ سکو جب یہ لوگ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے اس و قت ان کا رب ان سے پوچھے گا کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟ یہ کہیں گے ہاں ہمارے رب ! یہ حقیقت ہی ہے۔ وہ فرمائے گا اچھا ! تو اب اپنے انکارِ حق کی سزا کا مزا چکھو۔

مشرکین کا انجام تشریح : ان آیات میں مشرکین اور کفار مکہ کا حال بیان کیا گیا ہے۔ آج کل کے مسلمان کا حال کافی حد تک ان سے ملتا جلتا ہے۔ وہ تو قرآن سنتے تھے آج کا مسلمان نہ قرآن پڑھتا ہے نہ غور کرتا ہے اور نہ عمل کرتا ہے۔ کچھ لوگ اب بھی ایسے ہیں جو اللہ کو دل و جان سے مانتے ہیں قرآن مجید پڑھتے ہیں، غور و فکر کرتے ہیں اور پھر عمل بھی کرتے ہیں لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو شرک صرف یہی نہیں کہ بت، آگ، چاند، سورج، ستاروں کو پوجا جائے بلکہ شرک کی بیشمار صورتیں ہیں۔ مسلمان ہوتے ہوئے کلمہ پڑھتے ہوئے بھی انسان شرک کرتا ہے اور یہ شروع اس وقت ہوتا ہے جب انسان صرف اس دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے۔ آخرت کی زندگی، قیامت اور حساب کتاب یہ سب اس کی آنکھوں اور دل و دماغ سے بالکل اوجھل ہوجاتے ہیں۔ وہ اس زندگی کے لیے مال و دولت جمع کرتا ہے اور اسی دوڑ دھوپ میں اللہ کو بھول جاتا ہے اس لیے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو انسان برائی کی طرف اپنا رخ کرلیتا ہے اللہ کے قرآن کو محض ایک پرانی بات سمجھنے لگتا ہے تو پھر اس کے لیے صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ اللہ نے بری راہوں کو اس کے لیے آسان کردیا ہے۔ جب وہ ہدایت کی طرف رخ ہی نہ کرے تو اس کو ہدایت کیسے مل سکتی ہے۔ بندے کی ہدایت کے لیے رسول ﷺ کو بھیجا گیا اور آپ پر قرآن نازل کیا گیا ہے جو اس راہ کو اختیار کرتا ہے اللہ اس کے لیے ہدایت اور مدد کے راستے آسان کردیتا ہے۔ مذکورہ آیات کو غور سے پڑھ کر شرک اور بدکاری کا انجام اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے یہ بیان کسی معمولی انسان کا نہیں یہ الفاظ آیات اور بیان اس اللہ رب العزت کے ہیں جس نے ہمیں پیدا کیا، آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور جو کچھ ان کے درمیان موجود ہے سب کچھ کا وہ مالک ہے۔ کیا اس کی کہی ہوئی کوئی بات غلط ہوسکتی ہے ؟ ہرگز نہیں۔ جیسے اس نے ہمیں پیدا کیا ہے ایسے ہی مرنے کے بعد ہم دوبارہ پیدا کئے جائیں گے اور ہمارے اعمال کے مطابق ہمیں سزا یا انعام ضرور دیا جائے گا۔ اس میں کسی قسم کا کوئی شک شبہ نہیں۔ کہیں ہمارا بھی یہی حال نہ ہو کہ دوزخ کو دیکھ کر اللہ سے التجا کریں کہ کاش ! ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو ہم نیک اور پکے مسلمان بن جائیں گے۔ ہمیں اللہ اور رسول ﷺ نے وقت پر خبردار کردیا ہے کہ راہ راست پر آجاؤ ورنہ یہ انجام تمہارا بھی ہوگا۔ وہاں کوئی بچانے والا نہ ہوگا سوائے اپنے نیک اعمال کے جو ہم دنیا میں کرلیں گے۔ اللہ تعالیٰ اور کفار کا جو مقالمہ ان آیات میں بیان کیا گیا ہے یہ بالکل سچ ہے۔ اس میں کسی قسم کے شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ موجودہ دور کے سائنس دان جو دنیا کے اختتام پر تحقیقات کر رہے ہیں وہ زیادہ تر قرآن مجید کی طرف ہی رجوع کر رہے ہیں کیونکہ بیشمار قرآنی آیات میں اس موضوع پر بڑی تفصیل سے بیانات موجود ہیں۔ مثلاً سورة انبیاء کی آیت 104 میں قیامت کا نقشہ یوں بیان کیا گیا ہے ” جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جیسے لکھے ہوئے خطوط لپیٹ لیتے ہیں۔ جس طرح ہم نے (کائنات) کو پہلے پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کریں گے۔ یہ وعدہ ہے ہم پر ہم ایسا ضرور کرنے والے ہیں۔ “ فی الحال سائنس دان انسانی زندگی کے چار ادوار کو ثابت نہیں کرسکے۔ البتہ قرآن میں سورة حدید کی آیت 3 میں لکھا گیا ہے۔ ” وہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن۔ “ یہاں چار ادوار کی نشان دہی کردی گئی ہے۔ پہلا دور عالم ارواح، دوسرا یہ دنیا کی زندگی، تیسرا دور یوم حشر سے پہلے عالم برزخ کا زمانہ، چوتھا دور روز جزا کے بعد انعام یا سزا کا دور ہے۔ جنت و دوزخ کی زندگی اسی دور کا حصہ ہے، عالم باطن کا مطلب ہے عالم ازل و عالم آخرت۔ عالم ظاہر موجودہ زمان و مکان ہے۔ جب ہم غور و فکر سے قرآن مجید پڑھیں گے تو ہمیں اپنے بارے میں سب کچھ پوری طرح معلوم ہوجائے گا پھر اگر کوئی غلط راہ اختیار کرے گا تو وہ یقینا ظالم کہلائے گا اور یہ ظلم خود وہ اپنے اوپر کرے گا جس کے نتیجہ میں وہ دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں جہنم کا عذاب اٹھائے گا۔ قرآن مجید میں بار بار خبردار کیا گیا ہے کہ اس ظلم سے بچو تاکہ جنت میں ابدی زندگی حاصل کرسکو۔ سمجھنے کی بات صرف یہ ہے کہ انسان چار دور گزارتا ہے سب سے پہلے عالم امر یعنی روحوں کا عالم جس کا ذکر سورة اعراف کی آیت : 172 میں اس طرح ملتا ہے کہ اللہ رب العزت نے تمام روحوں سے سوال کیا ” کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ “ سب روحوں نے جواب دیا۔ ” ہاں ! تو ہی ہمارا رب ہے۔ “ دوسرا دور عالم ظاہر کا ہے جس میں ہماری یہ دنیا اور اس کی ہر چیز شامل ہے۔ یہاں زندہ رہنے کے لیے ہمیں جسم کی ضرورت تھی تو اللہ تعالیٰ نے ہماری روح کو اس جسم میں ڈال دیا، یعنی ہم انسانی شکل میں دنیا یعنی عالم ظاہر میں آموجود ہوئے یہ دور بڑا مختصر مگر بڑا اہم ہے کیونکہ عالم آخر میں یہاں کے اچھے برے اعمال کا اجر ملے گا۔ یہ عالم ظاہر تو صرف ایک امتحان کا کمرہ ہے اور یہاں قیام کا قت عالم ازل عالم برزخ اور عالم آخر کے مقابلہ میں انتہائی مختصر اور تھوڑا ہے۔ لیکن بڑا ہی ضروری اور مشکل وقت ہے۔ یہاں بیشمار قسم کی آسائشیں، چیزیں اور مصروفیات ہیں جو انسان کو غافل کرنے اور اللہ سے دور کرنے کا سبب بنتی ہیں جیسا کہ مقولہ ہے زن (عورت) اور زر (مال) اور زمین ہر قسم کے فساد جھگڑے اور گناہ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ بڑی آزمائش کا زمانہ ہوتا ہے اس آزمائش کے دور سے جو بچ بچا کر نکل گیا اسی نے فلاح پائی۔ اسی لیے تو اللہ نے بندے کو راہ راست دکھانے کے لیے قرآن اور سمجھانے کے لیے نبی آخر سیدنا محمد ﷺ کو رسول بنایا ان سے پہلے بھی بیشمار نبی اور رسول اور آسمانی کتابیں بھیجیں۔ جو انسان کی روح کو پاک صاف اور انسان کے جسم کو اس عالم میں کامیاب اور آخرت میں جنت کا حق دار بنا سکتے ہیں۔ انسان کی اصل تو اس کا نفس ہی ہے جسم تو صرف عالم ظاہر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جو مرنے کے بعد قبر میں دفن کردیا جاتا ہے جہاں پر اسے ثواب یا عذاب پہنچتا ہے قرآن وسنت میں اس کے بہت سے دلائل موجود ہیں اور روح عالم آخر یعنی قیامت یا روز جزا تک عالم برزخ میں رہتی ہے اور پھر صور پھونکے جانے تک انتظار کرتی ہے۔ یہ موت سے روز حشر تک کا طویل عرصہ ہے اس کے بعد عالم باطن یعنی عالم آخرت کا دور شروع ہوگا جس میں حساب و کتاب کے بعد جنت و دوزخ میں داخل کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا : پھر ضرور اس روز تم سے ان نعمتوں کے بارے پوچھا جائے گا۔ (جو تمہیں دنیا میں دی گئی تھیں۔ ) (سورۃ التکاثر آیت : 8 ) اور اللہ فرماتا ہے پس قسم ہے تیرے رب کی ہم ایسے ہی انسانوں کو دوبارہ اکٹھا کریں گے اور شیطانوں کو اور پھر باغیوں کو حاضر کریں گے جو دوزخ کے گرد اپنے زانؤوں پر گرے ہوں گے۔ ( مریم آیت 68 ) پھر اللہ رب العزت نے اپنے راستہ کے بارے میں فرمایا۔ یہ ہی میرا راستہ ہے جو سیدھا ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو اللہ کے راستے سے جدا کردیں گے۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ (سورۃ الانعام آیت 153) یہ ہیں وہ تمام باتیں جو قرآن میں انسان کو زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتی ہیں۔ جو قرآن پڑھے گا تو ضرور کچھ سیکھے گا اور جب کچھ سیکھے گا تو پھر کفار مکہ کی طرح غلط راستے اختیار ہرگز نہ کرے گا اور اللہ کے غضب سے ضرور بچ سکے گا۔ یہ آیات صرف کفار مکہ کے لیے ہی نہیں بلکہ یہ تمام دنیا کے انسانوں کے لیے ہیں۔ ہدایت ہمارے سامنے ہے، اختیار ہمارے ہاتھ میں ہے جو چاہیں راستہ اختیار کرلیں۔ کیونکہ یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔
Ayahs 6:31–32

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ سے ملاقات کو جھوٹ سمجھا وہ بڑے نقصان میں پڑگئے۔ جب اچانک وہ گھڑی آجائے گی تو یہی لوگ کہیں گے، افسوس ! ہم سے اس معاملہ میں کیسی بھول ہوگئی۔ اور ان کا حال یہ ہوگا کہ اپنی کمروں پر اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو یہ کیسا برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں۔

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

یہ دنیا کی زندگی تو کھیل تماشہ ہے حقیقت میں آخرت ہی کا ٹھکانا ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو (گناہ سے) بچنا چاہتے ہیں، پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لوگے ؟

کفار کی حجت بازی خسارہ پانے والے لوگ اور دنیا کی بےثباتی تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں انسانی زندگی کے چار مراحل کی تفصیل بیان کردی گئی ہے تو اسی بات کو اور زیادہ وضاحت سے یوں بیان کیا گیا ہے جیسا کہ آیات میں درج ہے جو کہ اوپر لکھی گئی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ غافل آدمی بری زندگی گزارتا ہے جب موت کا وقت آتا ہے تو اللہ سے ملاقات سے گھبراتا ہے جب کہ مومن موت کے تحفہ کو خوشی خوشی قبول کرتا ہے جیسا کہ علامہ اقبال نے سچے مومن کی موت کا نقشہ یوں بیان کیا ہے۔ نشان مرد مومن با تو گویم چوں مرگ آید تبسم برلب اوست مطلب یہ ہے کہ سچے اور پکے مومن کی نشانی یہ ہے کہ جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے اعمال سے اتنا مطمئن ہوتا ہے کہ اللہ سے ملاقات سے بالکل نہیں گھبراتا بلکہ خوش ہوتا ہے کہ شکر ہے زندگی تمام ہوئی اور رحمن و رحیم اللہ رب العزت سے ملاقات کا وقت آگیا۔ ہنستے ہوئے موت کو قبول کرتا ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو دھیان میں رکھنا چاہیے کہ تھوڑی زندگی بڑے امتحان کا راستہ ہے۔ یہاں سے گزر کر اللہ کے حضور ضرور حاضر ہونا ہے۔ غریب، امیر، بڑا چھوٹا، صحت مند بیمار، ظالم مظلوم اور بادشاہ رعایا، غرض زندگی کو جس نے دیانت، امانت اور نیک نیتی سے نبھایا وہی مقبولِ الٰہی ہے۔ جس نے حسد، بغض، شرارت، خباثت اور بددیانتی سے اپنی زندگی کا مقرر کیا ہوا فرض ادا کیا تو ایسے شخص کو دنیا میں نہ سکون ملتا ہے نہ قرار۔ بےسکونی اس کی زندگی کو عذاب بنا دیتی ہے اور وہ خود گناہوں کی تپش میں جلتا رہتا ہے اور پھر آخرت میں بھی اس کو کوئی اچھا اجر نصیب نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جو شخص صاف دلی، سادہ دلی، خوش خلقی، خلوص، نیک نیتی اور محبت سے اپنے زندگی کے فرائض کو ادا کرتا ہے وہ انتہائی پُرسکون، پر آسائش اور مطمئن زندگی گزارتا ہے اور پھر اللہ سے ملاقات کا خواہش مند رہتا ہے۔ ہنستے ہوئے موت کو قبول کرتا ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے بیشمار انعامات کا حقدار بنتا ہے۔ لہٰذا چاہیے کہ بچہ نیک بچہ بنے۔ ماں نیک ماں، بہو، بیوی، بہن، دادی، نانی اور ساس سب ہی بہترین بنیں اسی طرح مرد نیک باپ، بیٹا، داماد، خاوند، بھائی، دادا، نانا اور بہترین سسر بنیں اور ان سب رشتوں کے علاوہ بہترین شہری اور اللہ سے ڈرنے والے، بہترین مومن بن کر زندگیاں گزاریں نیکی اور گناہ کے متعلق حدیث میں آتا ہے۔ سیدنا نواس بن سمعان انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ” نیکی حسن ِ خلق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹک پیدا کرے اور تو اس بات کو ناپسند کرے کہ لوگوں کو اس کا پتہ چلے۔ “ (صحیح مسلم)
Ayahs 6:33–36

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! ) ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے آپ کو رنج ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم تو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جاچکے ہیں مگر اس جھٹلائے جانے پر اور ان تکلیفوں پر جو ان کو پہنچائی گئی۔ انہوں نے صبر کیا یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی، اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے اور پچھلے رسولوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی خبریں آپ کو پہنچ ہی چکی ہیں

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

بہرحال اگر ان لوگوں کی بےرخی آپ سے برداشت نہیں ہوتی تو اگر آپ میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈو یا آسمان میں سیڑھی لگائو اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو۔ اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا، لہٰذا نادان مت بنو

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

حق کی دعوت پر وہی لوگ آتے ہیں جو سننے والے ہیں، رہے مردے، تو انہیں تو بس اللہ قبروں سے ہی اٹھائے گا اور پھر وہ واپس لائے جائیں گے

رسول اللہ ﷺ کی دلجوئی اور کفار کی اصلیت تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں آپ بالکل نہ گھبرائیں آپ ﷺ کی سچائی اور اچھائی کے تو یہ لوگ ماننے والے ہیں اسی لیے آپ کو نبوت سے پہلے صادق اور امین کے ناموں سے اہل مکہ ِ پکارتے تھے۔ لیکن جونہی آپ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اللہ کی توحید کی طرف لوگوں کو بلانا شروع کیا تو کفار آپ ﷺ کے جانی دشمن ہوگئے آپ ﷺ پر طرح طرح کے الزام لگانے لگے اور آپ ﷺ کو ہر طرح کی تکلیفیں اور دکھ دینے لگے تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ آپ کی دشمنی میں نہیں کر رہے بلکہ یہ تو میری دشمنی میں مجھے جھٹلانے کے لیے کر رہے ہیں آپ ﷺ کو تو معلوم ہی ہے کہ جس قدر پیغمبر اور رسول بھیجے گئے سب کے ساتھ لوگوں نے یہی طریقے کئے، اس لیے اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی بہت بڑا معجزہ ہوجائے کہ یہ سب ایک دم راہ راست پر آجائیں تو یہ ممکن نہیں کیونکہ یہ ہمارے طے شدہ پروگرام کے خلاف ہے ورنہ ہم اتنی قدرت رکھتے ہیں کہ سب کو یکدم نیکی کی طرف موڑ دیں یا فرشتوں کی طرح نیک ہی پیدا کردیں۔ اس طرح تو باقی تمام مخلوقات اور انسان میں کوئی فرق ہی نہ رہ جاتا جب کہ ہم نے انسان کو فرشتوں، جنوں اور تمام مخلوقات سے اعلیٰ بنایا ہے۔ اس کو علم دیا ارادہ دیا اور اس کی آزمائش کے لیے بیشمار طریقے رکھ دیے کیونکہ اسی طرح کھوٹے کھرے، نیک و بد اور سچے و جھوٹے کا فرق معلوم ہوسکے گا۔ جس قدر مشکلات، آزمائشوں اور مصیبتوں سے ایک سچے مسلمان کو گزرنا پڑے گا اسی قدر اس کے صبر، استقلال اور یقین کی وجہ سے اس کا ایمان کامل ہوجائے گا اور پھر فیصلہ کا دن ہوگا جس میں اعمال کے مطابق سزا و جزا دی جائے گی۔ یہی ہمارا منصوبہ ہے اور یہی ہماری حکمت ہے جو لوگ عقل سے کام لے کر نیکی کی راہ اختیار کرتے ہیں وہ زندہ ضمیر رکھنے والے لوگ ہیں لیکن جن لوگوں کا ضمیر مرچکا ہے اور عقل ماری گئی ہے تو ظاہر ہے ایسے لوگ نہ کچھ سننے کے روا دار ہوتے ہیں اور نہ ہی ماننے کو تیار ہوتے ہیں تو ایسے لوگوں کو اللہ رب العزت نے زندہ نہیں بلکہ مردہ لوگ کہا ہے کیونکہ وہ اپنی ضد اور سرکشی کی وجہ سے نہ کوئی اچھی بات سننا چاہتے ہیں اور نہ ہی ماننا چاہتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی کوشش میں لگے رہیں، صبر سے کام لیں اور رنجیدہ نہ ہوں۔ یہ جو نافرمان لوگ ہیں یہ تو مردوں کی طرح ہیں نہ کچھ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔ ایسے ہی مرجائیں گے اور پھر اللہ کے حضور حاضر کئے جائیں گے اور سخت سزا پائیں گے یہی ان کا انجام ہوگا۔