6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 6:37–41

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری ؟ کہو، اللہ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں۔

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو، یہ سب تمہاری ہی طرح کی امت ہیں، ہم نے ان کی تقدیر کے بارے میں لکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستے پر لگا دیتا ہے

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

ان سے کہو، ذرا غور کر کے بتائو، جب تم پر اللہ کی طرف سے کوئی مصیبت آجاتی ہے یا آخری گھڑی آجاتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہو ؟ بولو اگر تم سچے ہو۔

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

اس وقت تم اللہ ہی کو پکارتے ہو، پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے۔ ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو بھول جاتے ہو۔

مشرکین مکہ کا مطالبہ اور مصیبت میں اللہ کو یاد کرنا تشریح : ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو پوری طرح کفر کے قبضہ میں آچکے تھے اور نبی اکرم ﷺ کو ہر وقت تنگ کرتے تھے ان کی پوری طرح مخالفت کرتے اور الٹی سیدھی فرمائشیں کرتے اور کہتے تھے کہ ہمیں کوئی ایسے معجزات دکھائو جو فطرت انسانی کے خلاف ہوں، مثلاً آپ ﷺ آسمان پر چڑھ جائیں یا اوپر سے لکھی ہوئی کتاب لے آئیں وغیرہ۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ اگر اپنے اردگرد پھیلی ہوئی تمام چیزوں کو دیکھ کر اللہ کو نہیں مانتے تو ان کا کوئی علاج نہیں کیونکہ جب ایک عقلمند انسان دنیا اور اس کی تمام چیزوں پر غور کرتا ہے تو فوراً اللہ کو پہچان لیتا ہے۔ یہاں اللہ پرندوں اور جانوروں کی مثال دیتا ہے کہ یہ سب اللہ کا کمال ہے کہ ان کی پیدائش کا وقت، مرنے کا و قت، عادات اور ان کے ساتھ ہونے والے حادثات سب اللہ نے اپنے پاس اسی طرح لکھ کر رکھے ہیں جس طرح انسان کی تقدیر موت وحیات لوح محفوظ میں لکھ دی گئی ہے۔ ان پر ندں کا گھونسلے بنانا، بچے پیدا کرنا، موسم کے لحاظ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا اور اپنا بچائو کرنا، اپنے دشمن سے لڑنا اور پیٹ بھرنے کے لیے اپنے جسم کی نشوونما کے مطابق خوراک کھانا مثلاً شیر گھاس نہیں کھاتا اور گائے گوشت نہیں کھاتی۔ یہ سب کس کی قدرت کا کمال ہے ؟ صرف اللہ ہی یہ سب انتظامات کرسکتا ہے۔ اگر یہ کفار چاہیں تو یہ بہت بڑی، کھلی اور صاف نشانیاں ہیں اللہ پر ایمان لانے کی، مگر انہوں نے تو پکا ارادہ کر رکھا ہے کہ اللہ کی راہ اختیار نہیں کرنی اور بس، دوسری کوئی وجہ نہیں جب کسی کا ضمیر مرجائے تو وہ مرتا ہی چلا جاتا ہے اور جب ضمیر مرجائے تو نیک بات کرنے، سننے اور نیکی کی راہ دیکھنے کی، غرض تمام طاقتیں ختم ہوجاتی ہیں پھر انسان ایسے ہوجاتا ہے جیسے گونگا، بہرا یا اندھا ہو۔ جب یہ حالت ہوجاتی ہے تو پھر اللہ رب العزت بھی اس سے ناراض ہو کر اسے مزید اندھیروں، گناہوں اور پستیوں میں دھکیل دیتے ہیں اور نیکی کی راہیں ان ناپاک لوگوں کے لیے بند کردی جاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان سے پوچھو جب ان پر انتہائی مصیبت آپڑتی ہے یا جب موت ان کو دکھائی دینے لگتی ہے تو پھر بالآخر یہ اپنے تمام خدائوں کو بھول کر صرف اور صرف اللہ کو ہی پکارنے لگتے ہیں۔ یہ ایسا کیوں کرتے ہیں پھر بھی اپنے جھوٹے خدائوں کو ہی بلایا کریں کہ ان کو مصیبت سے بچائیں مگر اس وقت وہ ان کو بھول جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان تو نیک فطرت پر ہی پیدا کیا گیا ہے مگر یہ کفار اس قدر ضدی، بیوقوف اور نافرمان ہیں کہ صرف اپنی ضد پر ہی اڑے رہتے ہیں۔ پھر اللہ جب چاہتا ہے اور جس کے لیے مناسب سمجھتا ہے نیکی کی ہدایت کردیتا ہے اور اس کے دل کو نرم کردیتا ہے۔ ویسے اللہ رحیم و کریم ہے جب یہ کفار مصیبت میں اسے پکارتے ہیں تو وہ جب چاہتا ہے ان کو مصیبت سے بچالیتا ہے۔ یہ تو صرف اس کی کرم نوازی ہے کہ وہ کفار کو بھی روزی، رزق، آرام اور آسائش دیتا رہتا ہے۔ اللہ رب العزت اپنے فضل و کرم اور مہربانی سے ہم سب کو ایمان کی دولت اور اپنی فرما نبرداری سے نوازے، گناہ اور کفر کی ظلمت سے بچا کر رکھے اور سب لوگوں کو ایمان کی روشنی سے منور کر دے۔ آمین۔
Ayahs 6:42–45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

آپ سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو سختیوں اور مصیبتوں میں ڈالا تاکہ وہ عاجزی سے ہمارے سامنے جھک جائیں۔

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی۔ مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو، ٹھیک کر رہے ہو۔

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی، بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالی کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ جو نعمتیں ان کو دی گئی تھیں ان میں خوب مگن ہوگئے۔ تو اچانک ہم نے ان کو پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ (وہ ہر خیر) سے مایوس تھے۔

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کے رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور سب تعریف اللہ کے لیے ہی ہے جو رب العالمین ہے۔

کفار کی نافرمانی اور ان کا انجام تشریح : ان آیات میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کا دستور ہمیشہ سے یہی چلا آ رہا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو یونہی نہیں چھوڑ دیتا بلکہ ان کو راہ راست پر رکھنے اور خوبصورت زندگیاں گزارنے کے لیے رہنما اصول آسمانی کتابوں اور صحیفوں کے ذریعے بھیجتا رہتا ہے اور مختلف زمانہ میں مختلف رسول پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں تاکہ لوگ گمراہی اور شیطان کی شرارتوں سے بچ سکیں، پھر بھی اگر لوگ ہدایت نہ پائیں تو پھر ان پر ان کے اپنے برے اعمال کی وجہ سے عذاب آتے ہیں پھر اگر گناہوں سے باز نہ آئیں تو پھر آسائشوں کی بارش کردی جاتی ہے پھر بھی اگر ہوش میں نہ آئیں تو پھر اچانک ان کو بالکل تباہ و برباد کردیا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے ان واقعات کو بڑی تفصیل سے بیان کردیا ہے۔ عاد، ثمود یہود و نصارٰی یہ سب ہمارے لیے عبرت ناک کہانیاں پیش کرتے ہیں پھر ماضی قریب میں ہمارے سامنے کئی ترقی یافتہ اور مضبوط ترین قومیں یوں ٹوٹ پھوٹ گئیں جیسا کہ وہ کبھی تھیں ہی نہیں، خود ہم موجودہ مسلمانوں کے حالات ان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں، اس لیے ان سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے آپ کو سنبھالنا اور درست کرنا بڑا ضروری ہے جو مہلت اللہ نے دی ہے اس سے پورا پورا فائدہ اٹھا کر اللہ سے مدد مانگنی چاہیے کیونکہ وہی پالنے والا ہے تمام جہانوں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہی عزیز اور کریم ہے اور رب العٰلمین ہے۔
Ayahs 6:46–49

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! ان سے) کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ تمہاری دیکھنے اور سننے کی طاقت چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے تو اللہ کے سوا اور کون ہے جو یہ قوتیں تمہیں واپس دلا سکتا ہے ؟ دیکھو ! کس طرح ہم بار بار اپنی نشانیاں ان کو دکھاتے ہیں اور یہ کس طرح ان سے روگردانی کرتے ہیں۔

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

کہو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اچانک یا علانیہ اللہ کی طرف سے عذاب آجائے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک ہوگا ؟۔

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

ہم جو رسول بھیجتے ہیں تو اس لیے بھیجتے ہیں کہ وہ لوگوں کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے ہوں، پھر جو لوگ ان کی بات مان لیں اور نیک ہوجائیں تو ان پر نہ ڈر ہے نہ وہ غمگین ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جو ہماری آیات کو جھٹلائیں، وہ اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے عذاب پائیں گے

قادر مطلق کون ؟ تشریح : ان آیات میں اللہ کی زبردست قوت، طاقت اور شفقت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس نے پیدا کیا اور ہدایت کے لیے رسول بھیجے ہیں اور اسی لیے وہ بندوں کا حساب کتاب ضرور لے گا اور سز ا و جزا ضرور دے گا۔ اس بات کو ہر وقت دھیان میں رکھنا چاہیے، اسی میں سکون، اطمینان، خوشی اور نجات ہے، جو اس سے لاپرواہ ہیں وہ بےسکون رہیں گے اور آخرت میں عذاب پائیں گے۔
Ayahs 6:50–51

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ان کو) بتا دیجیے میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے جمع کئے ہوئے خزانے موجود ہیں اور نہ میں غیب کا علم نہیں رکھتا اور نہ ہی میں اپنے آپ کو فرشتہ کہتا ہوں۔ میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔ (اے نبی ﷺ ! ان سے) پوچھو کہ کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم غوروفکر سے کام نہیں لیتے ؟۔

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! ) آپ ان لوگوں کو نصیحت کریں جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے سامنے اس حال میں پیش کئے جائیں گے کہ اس کے سوا وہاں نہ کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا۔ شاید کہ وہ اس نصیحت کی وجہ سے تقوٰی کی راہ اختیار کرلیں۔

رسول اللہ ﷺ گنج بخش اور عالم الغیب نہیں تشریح : کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ توقع کرتے تھے کہ وہ کوئی فرشتہ ہوتے جو ان کے لیے تمام دنیا کے خزانے جمع کردیتے اور ان کو آنے والے تمام حالات و واقعات کی اطلاع پہلے سے دے دیتے اور پھر دوسری بات وہ یہ کہتے تھے کہ بھلا نبی ہم میں سے ہم جیسا انسان کیسے ہوسکتا ہے ؟ آپ ﷺ تو ہماری ہی طرح ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے، ہماری طرح کھاتے پیتے ہیں، سوتے جاگتے ہیں اور گلیوں بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں، بھلا آپ نبی کیسے ہوسکتے ہیں ؟ ان تمام نامعقول باتوں کا جواب ان مذکورہ آیات میں دیا گیا ہے۔ انسانوں کی ہدایت کے لیے انسان ہی رسول بنا کر بھیجا جاسکتا ہے اور یہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے۔ جتنے بھی رسول بھیجے گئے سیدنا آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری نبی سیدنا محمد ﷺ تک سب ہی پیغمبر انہی کی قوم میں سے چنے گئے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ وہ انسانوں میں سے بہترین کردار، اعلیٰ صفات، کریمانہ عادات اور اخلاق حسنہ کا مالک ہوتا تھا۔ جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی ریاضت عبادت کی وجہ سے خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہا گیا۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کو ان کے بہترین اخلاق کی وجہ سے اہل عرب صادق (سچا) اور امین کہہ کر پکارتے تھے۔ غرض جس کو بھی اللہ رب العزت نبی بنا کر بھیجتے ہیں وہ ہوتا تو انسان ہی ہے مگر اس کے دل و دماغ اور روح کو اللہ اپنی معرفت (پہچان) کے نور سے بھر دیتا ہے۔ وہ انسان ہی ہوتا ہے مگر بہترین اور پاکیزہ فطرت انسان ہوتا ہے۔ اس کا مرنا جینا، اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا سب کچھ اللہ کی رضا (خوشی) کے لیے ہی ہوتا ہے۔ یہی جواب کفار مکہ کو دینے کے لیے اللہ نے حضور ﷺ کو کہا کہ ان لوگوں کو صاف صاف بتا دو کہ میں تو صرف اللہ کی دی گئی بصیرت کی وجہ سے وحی حاصل کرنے کے قابل سمجھا گیا ہوں سو میں تو صرف اللہ کی بتائی ہوئی ہدایات اور نیکی کے راستوں کے بارے میں تمہیں بتا سکتا ہوں۔ ہدایت اور قرآن کا خزانہ تو ضرور میرے پاس موجود ہے مگر دنیاوی خزانے میرے پاس موجود نہیں اسی طرح نیکی، بدی، جنت دوزخ کے بارے میں تمہیں ضرور بتا سکتا ہوں کیونکہ یہ وحی کے ذریعے اللہ نے مجھے بتایا ہے مگر اس کے علاوہ میں نہ تو کوئی جادوگر ہوں اور نہ ہی نجومی اور عالم الغیب کہ تمہیں آئندہ کے حالات بتا سکوں۔ اگر تم لوگ میری کہی ہوئی باتوں پر غور کرو تو یہ کوئی مشکل بات نہیں کہ تم سمجھ نہ سکو، ہاں ! البتہ جو جان بوجھ کرنا سمجھ بنا رہے اور صرف حجت بازی ہی کرتا رہے اس کا کوئی علاج نہیں کہ وہ ہدایت پاسکے اور پھر فرمایا کہ اے محمد ﷺ ! آپ ان ضدی لوگوں کی پروا نہ کریں آپ نصیحت کرتے رہیں ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو عقل اور نظر رکھتے ہیں یعنی ہدایت کی بات سننا، ماننا اور اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں اور ایسے ہی لوگ اپنے دلوں میں اللہ کا خوف رکھتے ہیں۔ وہ بری راہیں اختیار نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ مرنے کے بعد اللہ کے حضور ضرور پیش کیے جائیں گے، حساب و کتاب بھی ضرور ہوگا اور ایسا صاف ستھرا حساب کتاب کہ کوئی بھی اللہ کے سوا گناہوں سے بخشوا نے والا اور عذاب سے بچانے والا ہرگز نہ ہوگا۔ جو لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں وہی پرہیزگار اور اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ یہ صفت بیان کی گئی ہے ایک سچے اور حقیقی مسلمان کی، اس لیے اس کو ہر وقت یاد رکھنا چاہیے۔
Ayahs 6:52–55

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب کو صبح و شام پکارتے رہتے ہیں اور اس کی رضا کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ رکھو، ان کے حساب میں کسی چیز کا بوجھ آپ پر نہیں اور آپ کے حساب میں سے کسی چیز کا بوجھ ان پر نہیں اس پر بھی اگر آپ انہیں دور پھینکو گے تو بےانصافوں میں شمار ہوگے۔

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈالا ہے تاکہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل و کرم ہوا ہے ؟ ہاں ! کیا اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا۔

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو تم پر سلامتی ہے۔ تمہارے رب نے اپنے اوپر رحم و کرم کو واجب کرلیا ہے۔ یہ رحم و کرم ہی تو ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نادانی سے گناہ کر بیٹھے، پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور اصلاح کرلے تو وہ اسے معاف کردیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے۔

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ گناہ گاروں کا طریقہ کھل جائے۔

مخلص لوگوں سے پیار کرنا، مسلمانوں کی ہمت بڑھائو تشریح : ان آیات میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ اسلام میں عظمت اور عزت کا معیار امیری اور غریبی ہرگز نہیں بلکہ تقویٰ ، پرہیزگاری اور شکر و عبادتِ الٰہی ہے۔ اور یہ آیات اسی سلسلہ میں نازل ہوئیں۔ جیسا کہ ہر مذہب میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ نبی کی تعلیمات کو سب سے پہلے غریب لوگ ہی اپناتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ پر بھی غریب لوگ سب سے پہلے اور زیادہ تعداد میں ایمان لائے لہٰذا وہ اکثر آپ ﷺ کے پاس بیٹھے رہتے تھے تو عر ب کے امیر لوگوں نے حضرت ابو طالب کے ذریعہ یہ پیغام بھیجا کہ اگر غریب لوگ نبی ﷺ کے پاس نہ بیٹھے رہیں تو پھر ہم آپ ﷺ کے پاس جا کر آپ ﷺ پر ایمان لاسکتے ہیں تو اس پر سیدنا عمر ؓ نے مشورہ دیا کہ چلو یہ بھی کر دیکھیں تو اس پر بڑی سختی سے اللہ رب العزت نے اس بات پر عمل کرنے سے منع کیا بلکہ ہدایت کی کہ جو لوگ ہر وقت اللہ کو پورے خلوص سے یاد کرتے ہیں وہ جب آپ ﷺ کے پاس آئیں تو آپ پورے اعزاز، عزت اور پیار و محبت سے ان کے ساتھ پیش آئیں یہی تو اللہ کے مقبول ترین بندے ہیں نہ کہ وہ امیر، نافرمان اور مغرور لوگ اگر یہ اس وجہ سے ایمان نہیں لاتے تو نہ لائیں یہ اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہیں نہ کہ آپ ان کے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔ جیسا کہ یہ لوگ آپ ﷺ کے اعمال کے ذمہ دار نہیں۔ اس عزت کی وجہ سے جو غریبوں کو ایمان کی وجہ سے ملی امیر لوگ حیران ہوگئے۔ جو لوگ آپ ﷺ پر ایمان لائے تھے وہ ایمان لانے سے پہلے کچھ اخلاقی غلطیاں کرچکے تھے، جن کا چرچا کفار خوب کرتے، تو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ میں رحیم و کریم ہوں جو غلطیاں لوگوں سے ہوچکیں وہ سچی توبہ کرنے پر معاف کردی گئی ہیں۔ یہاں اشارہ سیدنا عمر ؓ کی توبہ کی طرف بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے مشورہ پر بڑے نادم ہوئے تھے تو اللہ نے ہر توبہ کرنے والے کی توبہ پر اس کو معاف کرنے کا کھلا اعلان کردیا ہے۔ قرآن مجید کا طریقہ ہے کہ ہر واقعہ سے کوئی نہ کوئی اخلاقی سبق ضرور دیتا ہے۔ ان آیات میں بھی کچھ قوانین بیان کئے گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ غربت اور خستہ حالی تقویٰ اور مقبولِ الٰہی ہونے کی نشانی ہے۔ دوسرا انسان کی اصل شرافت مال میں نہیں بلکہ اعمال صالحہ میں ہے۔ تیسرا غیر مسلموں کی تبلیغ کے لیے مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ چوتھا، توبہ اور شکر گزاری اللہ کی رحمت کو بڑھاتے ہیں۔ توبہ کا اصول یہ ہے کہ سچے دل سے معافی مانگی جائے جس عمل سے ایک دفعہ توبہ کرلی جائے اس کو ہرگز دہرایا نہ جائے۔ پانچواں یہ کہ ہر وہ شخص جو آپ کو سلام کرے، ملنے کی خواہش کرے، چاہے بظاہر وہ کتنا ہی کمزور، غریب اور لاچار ہو۔ اس کو بےحد خلوص اشتیاق اور محبت سے ملو۔ ہرگز بےزاری کا اظہار نہ کرو۔ دلوں کی صفائی اللہ رب العزت جانتا ہے۔ کتنے پیارے اصول ہیں زندگی گزارنے کے۔ سبحان اللہ۔ رب کریم آخر میں فرماتے ہیں کہ اس طرح ہم اپنی تمام باتیں خوب اچھی طرح واضح کر کے بتاتے ہیں تاکہ مجرموں کو کسی غلطی کا اندیشہ نہ رہے اور سب کچھ معلوم ہوجائے۔
Ayahs 6:56–58

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! ان سے) کہو کہ تم لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو مجھے ان کی بندگی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ کہو ! میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا، اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہوگیا، راہ راست پانے والوں میں سے نہ رہا۔

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

کہو ! میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں۔ اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے، اب جس چیز کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو میرے اختیار میں نہیں ہے، فیصلہ کا پورا اختیار اللہ کو ہے، وہی حق بات بیان کرتا ہے اور سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا وہی ہے۔

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

کہو، اگر وہ چیز میرے اختیار میں ہوتی جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کب کا فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ مگر اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے ظالموں کو (کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہیے۔ )

عبادت صرف اللہ کی تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کے مقام اور مرتبہ کی وضاحت کردی گئی ہے کہ آپ ﷺ کا کام صرف توحید پر عمل کرنا توحید کی تبلیغ کرنا ہے، آپ کا کام نہیں کہ کسی کی خوشامد کریں، کسی سے رعایت کریں، کسی کو سزا دیں یا کسی سے ناراض ہوں۔ اگر یہ سب آپ کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ کب کی سزا دے چکے ہوتے اور برے لوگوں کا کام تمام ہوچکا ہوتا۔ مگر یہ کام تو رب کا ہے وہی جانتا ہے ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔ یہ تمام معاملات اللہ خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ کس ظالم کو کیا سزا دینی ہے اور کب دینی ہے ؟ یہ سب کام اللہ رب العزت کے اختیار اور علم میں ہیں۔ میرا کام تو صرف اس کا پیغام بندوں تک پہنچانا اور ان کو نیکی کی ہدایت کرنا ہے۔ اگلی آیات میں اللہ کی قدرت، طاقت اور علم کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayahs 6:59–62

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ سمندر اور خشکی میں جو کچھ ہے وہ سب جانتا ہے۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں کہ جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے اندر اندھیروں میں کوئی دانہ ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو۔ خشک اور تر غرض کوئی چیز ایسی نہیں جو کھلی کتاب میں لکھی نہ گئی ہو۔

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے، پھر ( دوسرے دن اسی کاروبار کی دنیا میں تمہیں) واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو۔ آخر کار اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اپنے بندوں پر وہ پوری قوت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کر کے بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور وہ اپنے کام میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کرتے۔

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر سب لوگ اپنے اصلی مالک اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔ خبردار ہوجاؤ، فیصلہ کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت جلدی کرنے والا ہے۔

غیب کی چابیاں اور انسانی زندگی کا نقشہ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی، طاقت اور قادر مطلق ہونے کا بیان ہے یہ آیات اسی قدرت رکھنے والے بادشاہوں کے بادشاہ کے بھیجے ہوئے رسول ﷺ کی زبانی ہم انسانوں کو بتائی گئی ہیں۔ وہ اتنا عظیم اور بڑا ہے کہ کوئی انسان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ زمین اور آسمانوں کو اس نے بنایا، ان کے تمام راز وہی جانتا ہے۔ عالم، فاضل سائنسدان ہر وقت تحقیق اور جستجو میں لگے رہتے ہیں کہ زمین، سمندر، ہوائوں اور جو کچھ ان کے اندر موجود ہے ان سب چیزوں کا پتا لگا لیں لیکن وہ ابھی تک کچھ تھوڑا بہت ہی جان سکے ہیں۔ مگر اللہ کا علم اتنا زیادہ ہے کہ ایک پتہ جو اپنی زندگی پوری کر کے گرتا ہے وہ بھی اللہ رب العزت کے علم میں ہوتا ہے، پتے کا ذکر تو مثال دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر ہر چیز اللہ کے بنائے ہوئے پروگرام کے مطابق کام کرتی ہے۔ جیسا کہ زمین کے اندر جو بھی بیج گرتا ہے تو اس بیج میں اس کے عمل کا پورا نظام رکھ دیا گیا ہوتا ہے یعنی اس کے پھوٹنے، پھلنے اور پھر پودا اور پھر درخت بننے اور پھول پھل دینے کا تمام ڈیزائن موجود ہوتا ہے اور پھر وقت بھی مقرر کردیا گیا ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ اس ٹائم میں یہ کچھ ہوگا۔ انسان تو انسان ہے یہاں کی ہر چیز یعنی حیوانات، جمادات اور نباتات، ہر چیز کا ہر قسم کا حساب کتاب، معمولات، شروع اور آخر کا وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔ لوح محفوظ کیا ہے ؟ یہ ایک بہت ہی بڑا کمپیوٹر ہے جو انتہائی ٹھیک طریقہ سے کام کرتا ہے اللہ تعالیٰ ایک ہی پانی، ایک ہی مٹی سے مختلف قسم کے پھول، پھل اور اناج نکالتا ہے یہ کبھی نہیں ہوا کہ آم کے درخت پر دھنیا لگنے لگے یا کھجور کے درخت پر انگور لگ جائیں۔ سورة النور کی آیت 45 میں اللہ فرماتا ہے : ” اور اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی سے پیدا کیا ہے۔ “ سبحان اللہ کتنی بڑی قدرت ہے اس کی اور کتنا بڑا کمال ہے اس کا۔ پھر انسانی زندگی کا ایک عجیب و غریب عمل جو کہ ہمارے ہر روز کے معمولات میں آتا ہے۔ یعنی رات کو سو جانا اور دن کو اٹھ کر اپنے کام کاج میں لگ جانا۔ نیند کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ نیند اور موت دو بہنیں ہیں۔ کیونکہ یہ ہمارے جسم کی نشوونما کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ کھانا پینا، یعنی خوراک، ہوا اور پانی۔ اگر کوئی شخص رات کو اچھی طرح سو نہ سکے تو تمام دن اس کا برا حال ہوتا ہے، یعنی نیند میں کیا گیا آرام جس کو آدھی موت کہا گیا ہے۔ انسان کے چاک وچوبند رہنے کے لیے بےحد ضروری ہے۔ یہ نیند اور اس کے کمالات اللہ ہی جانتا ہے۔ ہمارے سائنسدان حضرات اس کے بارے میں بھی تحقیقات کرتے رہتے ہیں جو کہ آئے دن بدلتی رہتی ہیں۔ غرض انسان کی پیدائش، بڑھنا، جوان ہونا، بوڑھا ہونا اور مرنا یہ سب کچھ اللہ کی لوح محفوظ میں درج کیا جاچکا ہے۔ پھر خبردار کیا جا رہا ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی پیدا کر کے کھلا نہیں چھوڑ رکھا بلکہ تمہارا ہر عمل جو کہ تم تمام دن اور رات کرتے ہو سب کا حساب و کتاب باقاعدہ لکھا جا رہا ہے۔ اس لیے کہ مرنے کے بعد تم سب کو اللہ کے حضور اپنے اعمال کے ساتھ حاضر ہونا ہے اور پھر وہ بہترین انصاف کرنے والا ہمارا پورا پورا حساب کتاب ضرور لے گا۔ اس لیے اپنی زندگیوں کو حسد، بغض، شرارت، خباثت، کفر اور اللہ کی نافرمانی سے بالکل پاک صاف رکھنا چاہیے۔ مسلمان ہونے کے لیے ان تمام باتوں کا دھیان رکھنا، ان پر سختی سے عمل کرنا، ہماری نجات کا ذریعہ ہوسکتا ہے۔ اللہ کو وحدہٗ لاشریک ماننے میں کوئی شک نہیں ہوسکتا جب ہم اوپر بیان کئے گئے تمام حالات کو غور سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا پیدا کرنے اور پالنے والا سوچ بھی سکیں۔ اس لیے ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے سیدھا راستہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ مرنے کے بعد ہمیشہ والی زندگی عیش اور آرام سے گزر سکے۔ یہی حقیقت ہے، یہی سچ ہے اور یہی ہمیشہ ہونے والا ہے۔ انہی تمام اعتقادات کی وجہ سے ہم ہر وقت، ہر چیز میں اور ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور نشانیاں دیکھ سکتے ہیں اور یہی ہماری زندگی کا مقصد اور حقیقت ہے۔ اللہ جل جلالہ ‘ فرماتے ہیں۔ ” اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے حضرت محمد ﷺ پر صاف صاف آیات نازل کرتا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف لے آئے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تمہارے حال پر بڑا شفیق ہے، بڑا مہربان ہے۔ “ ( سورة نحل آیات 49-48 ) اللہ ہم سب کو ایمان اور علم کی روشنی سے مالا مال کر دے اور کفر کی تاریکی سے بچائے۔ آمین۔
Ayahs 6:63–67

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! ) فرمادیں کہ صحرا اور سمندر کی تاریکیوں سے کون تمہیں بچاتا ہے ؟ کون ہے جس سے مصیبت کے و قت تم گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو ؟ اور کہتے ہو کہ اگر تو نے ہمیں اس سے بچالیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے۔

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اللہ تمہیں اس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے، پھر بھی تم دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے ! وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے آپس میں لڑا دے۔ آپ دیکھیں کہ ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ شاید کہ وہ سمجھ جائیں۔

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

آپ کی قوم اس کا انکار کر رہی ہے حالانکہ یہ حقیقت ہے۔ ان سے کہہ دو کہ میں تم پر داروغہ نہیں بنایا گیا۔

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر کام کے ہونے کا ایک وقت مقرر ہے، عنقریب تمہیں خود ہی انجام معلوم ہوجائے گا

عذاب کی اقسام تشریح : ان آیات میں کفار کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو وعدہ لے رکھا ہے تمام انسانوں سے، یعنی ہر بندہ فطرتاً اللہ کو ہی خالق ومالک مانتا ہے مگر پھر بھی کفار شرک، کفر اور نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ایسے لوگوں کو آپ ﷺ صاف صاف بتا دیں کہ میں نے توحید کا پیغام اور اللہ کی حاکمیت قدرت اور طاقت کے بارے میں خوب وضاحت کردی ہے پھر بھی جو کفر کرتے ہیں تو ان کو عقل سے کام لے کر اور اللہ کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایمان، سلامتی اور نجات کا راستہ اختیار کرلینا چاہیے ورنہ پھر وہ گھڑی، یعنی عذاب کی گھڑی بھی اپنے مقررہ وقت پر آنے والی ہے جب تم سب لوگوں کو اپنے کئے ہوئے اعمال کا نتیجہ مل جائے گا اور یہ بالکل یقینی بات ہے۔ تاکید کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” وہ (شیطان) ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا رہتا ہے مگر شیطان کے سارے وعدے فریب کے سوا کچھ نہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور یہ لوگ اس سے بچنے کی کوئی اور جگہ نہ پائیں گے۔ “ ( سورة النساء 121-120 ) ان آیات میں پوری طرح واضح کردیا گیا ہے کہ قرآن پاک کا ہر لفظ سچا ہے اس میں کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں کہ جس پر شک و شبہ کیا جائے، قرآن کے تمام احکامات بالکل سچ اور انسانوں کے لیے نہ صرف سچ بلکہ بھلائی، آسانی اور کامیابی کی طرف بھی لے جاتے ہیں، مثلاً اللہ کو ایک مان کر ہر مصیبت اور پریشانی میں صرف اسی سے ہی مدد مانگنا، آخرت اور حساب کتاب کے دن کو اگر کوئی ہر قت یاد رکھے اور اس دن پر یقین رکھے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ سچ نہ بولے، چوری کرے، کسی کا حق مارے، چغلی کرے، قتل و غارت اور دنگا فساد پھیلائے۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ پورے یقین اور کوشش سے قرآن کے تمام احکامات جو رسول ﷺ نے بتائے ہیں ان پر عمل کیا جائے تاکہ قیامت کے دن کی سختی سے بچ کر نجات پاسکیں۔ کیونکہ اس زندگی کے بعد عمل کا وقت ختم ہوجائے گا اور صرف سزا یا جزا، کا ہی وقت رہ جائے گا۔ اس لیے شیطان کی پیروی نہیں کرنی چاہیے بلکہ نبی اکرم ﷺ کی پیروی کر کے دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کرلینی چاہییں۔ صاف صاف بیان کردیا گیا ہے کہ عالم ازل، عالم ظاہر اور عالم آخر کی ہر چیز ہر عمل اور ہر قسم کی مخلوقات کا ہر قسم کا حساب کتاب لوح محفوظ میں درج کردیا جاچکا ہے۔ دنیا وجود میں آئی تو وقت مقرر کے مطابق، دنیا چل رہی ہے تو رضائے الٰہی کے مطابق ختم ہوگی تو مقررہ وقت کے مطابق۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا وقت مقرر کر رکھا ہے کوئی کام اس کے حکم کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ یہ سب کچھ قرآن مجید میں تفصیل سے بیان کیا جاچکا ہے، لہٰذا اس زندگی کو غنیمت سمجھ کر نیکیاں، بھلائیاں اور آخرت میں نجات حاصل کرنے کا پورا پورا سامان اکٹھا کرلینا چاہیے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے حساب کتاب ہوگا اس لیے حساب کتاب ضرور ہوگا اور اس دن کی تیاری اسی دنیا میں ہوسکتی ہے بعد میں نہیں ہوسکتی۔ دنیا میں تین قسم کے عذاب الٰہی ہوسکتے ہیں۔ ایک جو اوپر سے آئے جیسا کہ سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم پر بارش کا اور قوم عاد پر ہوا کا طوفان، قوم لوط پر پتھر برسائے گئے، نبی اسرائیل پر مینڈک اور خون کی بارش کی گئی، اصحاب فیل پر پرندوں نے کنکریاں برسائیں۔ اسی طرح نیچے کے عذاب میں قوم فرعون اور قارون کی مثال موجود ہے ایک پانی میں غرق ہوگیا اور دوسرا اپنے خزانوں سمیت زمین میں دھنس گیا۔ یہ دوسری قسم کا عذاب ہے جو قوموں کو نیچے سے دیا گیا ہے اور تیسری قسم کا عذاب یہ ہے کہ قوم پوری کی پوری کئی گروہوں میں بٹ جائے اور وہ آپس میں لڑ لڑ کر ختم ہوجائے۔ یہ بھی بڑا سخت عذاب الٰہی ہے۔ اگر پچھلی قوموں پر نافرمانی، بےراہروی اور بد اعمالی (برے کام) کی وجہ سے عذاب آسکتے ہیں تو ہم بھی اللہ کی بنائی ہوئی مخلوقات ہیں۔ ہمارے پاس بھی ڈرانے کے لیے اور خوشخبری سنانے کے لیے رسول اللہ ﷺ بھیجے جاچکے ہیں۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ رسول کا کام ہے ہدایت کی رہنمائی جزا سزا تو خود اپنے اعمال سے ملے گی اور یہ ضرور ملے گی جیسا کہ پچھلی قوموں کے ساتھ ہوچکا ہے اور آخرت میں وعدے کے مطابق ہو کر رہے گا۔
Ayahs 6:68–73

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور ( اے محمد ﷺ ! ) جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں تو آپ وہاں سے ہٹ جائیں یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں لگ جائیں اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھلاوے میں ڈال دے تو جس وقت تمہیں اس غلطی کا احساس ہوجائے تو اس کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور پرہیزگاروں پر ان (ظالموں) کے حساب میں کوئی چیز نہیں ہے، لیکن ان کے ذمہ نصیحت کرنی ہے تاکہ وہ ڈریں۔

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

ان لوگوں کو چھوڑو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشہ بنا رکھا ہے اور جن کو دنیا کی زندگی نے فریب میں ڈال رکھا ہے ہاں ! مگر یہ قرآن ان کو سنا کر نصیحت کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کئے کے وبال میں گرفتار نہ ہوجائے، اور گرفتار بھی اس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی دوست اور مددگار نہ ہو اور نہ ہی کوئی سفارش کرنے والا ہو اور اگر وہ ہر ممکن چیز ادا کر کے بدلے میں چھوٹنا چاہے تو کچھ بھی اس سے قبول نہ کیا جائے، کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنے کئے ہوئے اعمال کے بدلے میں پکڑے جائیں گے، انکو تو (حق سے) انکار کرنے کے بدلے میں سزا کے طور پر کھولتا ہوا پانی پینے کے لیے دیا جائے گا اور ساتھ دردناک عذاب بھی دیا جائے گا

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! ) ان سے کہیں کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان ؟ اور جب کہ اللہ ہمیں سیدھی راہ دکھا چکا ہے تو کیا اب ہم الٹے پائوں پھرجائیں ؟ کیا ہم اپنا حال اس شخص جیسا کرلیں جسے شیطانوں نے صحرا میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و پریشان پھر رہا ہو جبکہ اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ ادھر آیہ سیدھی راہ موجود ہے ؟ کہو، حقیقت میں ٹھیک راہنمائی تو صرف اللہ ہی کی راہنمائی ہے اور اس کی طرف سے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ کائنات کے مالک کے سامنے فرما نبرداری سے سر جھکا دو ۔

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

نماز قائم کرو اور اللہ کی نافرمانی سے بچو، اسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے اور جس دن وہ کہے گا (حشر) ہوجا (قیامت آجائے) وہ ہوجائے گا، اس کا قول بالکل سچ ہے اور جس روز صور پھونکا جائے گا اس دن بھی بادشاہی اس کی ہوگی۔ وہ چھپی اور ظاہر باتوں کو جاننے والا ہے اور وہ حکمت والا جاننے والا ہے۔

قرآن کے منکروں کی سزا اور اللہ تعالیٰ کی صفات تشریح : جیسا کہ بہت دفعہ بتایا جاچکا ہے کہ قرآن مجید وعظ و نصیحت اور رشد و ہدایت کی کتاب ہے، اس میں مسلمانوں کو ہر طرح سے بہترین زندگی گزارنے کے آداب، اصول اور قوانین سکھائے گئے ہیں۔ اسی طرح اللہ رب العزت ان آیات میں مخاطب تو رسول اللہ ﷺ کو کر رہا ہے مگر یہ حکم اصل میں تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ کافر لوگ مخالفت کی وجہ سے ہر وقت اس کوشش میں رہتے تھے کہ مسلمانوں کو تنگ کیا جائے تو اسی سلسلے میں وہ لوگ حرم کعبہ میں اور اس کے علاوہ بھی جہاں بھی مل کر بیٹھتے تو قرآن مجید کی آیات کا مذاق اڑاتے۔ تو اس پر مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہاں سے آپ لوگ ہٹ جایا کرو۔ اس کا مطلب ایک تو یہ ہے کہ قرآن مجید کی بےحرمتی تمہارے سامنے نہ ہو دوسرے یہ کہ تمہارے جذبات مجروح نہ ہوں، تیسرے شیطان فطرت لوگوں کی صحبت سے دور رہا جائے تو بہتر ہے۔ بھول سے بیٹھے رہ جاؤ تو معاف ہے۔ مگر یاد آنے پر فوراً اٹھ جاؤ۔ اگلی آیات میں نیک لوگوں کی ذمہ داری کا ذکر کیا گیا ہے۔ صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ یہ لوگ تو ہر وقت ہی مسجد حرام میں موجود ہوتے ہیں تو پھر کیا ہم طواف کعبہ اور عبادت کے لیے بھی وہاں نہ جائیں ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ضرور جاؤ مگر نہ کفار کی باتوں پر توجہ دو اور نہ ہی ان کی مجلس میں بیٹھو۔ بلکہ اپنی عبادت کرو۔ تو اس طرح ان کے گناہ کا تم سے کوئی احتساب نہ ہوگا۔ وہ اپنے گناہوں کے خود ذمہ دار ہونگے اور تم اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہوگے۔ ہاں ! البتہ اگر گنجائش ہو تو ان کو نصیحت ضرور کرو، ہوسکتا ہے کوئی تمہاری کہی ہوئی اچھی بات ان پر اثر کر جائے اور اس پر تم ثواب اور انعام کے حق دار بن جاؤ۔ یہاں پر تبلیغ کا سبق دیا گیا ہے۔ اسلام کی تبلیغ ہر مسلمان پر فرض ہے اس کا طریقہ بھی سمجھا دیا گیا ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے۔ دوسرا طریقہ تبلیغ کا یہ ہے کہ اپنے آپ کو ہر ہر صورت سے اتنا مکمل، مضبوط اور سچا مسلمان ثابت کر دو کہ ہر دیکھنے اور ملنے والا شخص تم سے اس قدر متاثر ہو کر خود بخود اسلام کی طرف بڑھنے لگے۔ اسلام کے اصول بےحد خوبصورت، فطرت کے مطابق اور انسان کے لیے فائدہ مند ہیں کہ ان کو اپنا لینا ہرگز مشکل نہیں بلکہ انسان کو تمام معاملات میں صاف ستھرا، مطمئن اور پروقار بنا دیتے ہیں۔ کیونکہ اسلام میں اخلاق، بات چیت، رہن سہن، اتفاق، اتحاد، ہمدردی، خیر خواہی اور بھائی چارے کے تمام بہترین طریقے سکھا دیے گئے ہیں جو انسان کو بہترین انسانی صفات سے سجا دیتے ہیں۔ ظاہر ہے جب کوئی شخص جو ذرا سی بھی سوجھ بوجھ رکھتا ہو تو وہ ضرور ہی اسلام کی طرف راغب ہوتا ہے۔ جب ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو صاف طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام دبائو یا جنگ و جدل زبردستی یا تلوار کے زور پر نہیں پھیلا بلکہ حسن اخلاق، حسن کردار اور اخلاقی بلندیوں کی وجہ سے پھیلتا چلا گیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے مذہب اسلام کی روشنی عرب سے اٹھ کر شام، عراق، ایران، فلسطین، ترکی، آذربائیجان، افغانستان، وسط ایشیا، چین، برصغیر ہندو پاکستان، بنگلہ دیش، برما اور پھر بحر ہند کے راستے ملائیشیا، انڈونیشیا، فلپائن اور برونائی جیسے دور دراز کے علاقوں تک پھیل گئی، خشکی ہی کے راستے مصر، الجزائر، تیونس، مراکش کو فتح کیا اور آبنائے طارق کو پار کر کے اندلس (سپین) ، پرتگال اور جنوبی فرانس پر اسلام کا جھنڈا لہرایا، اس کے بعد برِاعظم افریقہ کے ریگستانوں کو عبور کر کے کم گنجان آباد نخلستانوں میں اسلام پھیلایا اور پھر سوڈان، ایتھوپیا، چاڈ، بالائی وولٹانائجر، نائیجریا، سنیگل، گنی بسائو، کیمروں سے ہوتے ہوئے بحر اوقیانوس جا پہنچے۔ ادھر وسطی ایشیا میں قزل کم اور کرا کم کے ریگ زاروں کو پار کرتے ہوئے قزاخستان، کرگیزیا، تاتار اور والگا سے گزر کر پولینڈ، بحیرہ بالٹک تک اپنا اثر و رسوخ قائم کیا۔ خلافت عثمانیہ کے دوران پہلی جنگ عظیم تک مشرقی یورپ کے رومانیہ، بلغاریہ، یوگوسلاویہ، البانیہ کے عیسائیوں اور قبائلیوں نے مذہب اسلام قبول کیا۔ پندرہویں صدی عیسوی میں نئی دنیا (امریکہ) کی دریافت کے بعد بیشمار مسلمان، امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اپنے کاروبار کے سلسلے میں وہاں پہنچے اور وہاں وہ اپنی پروقار حیثیت رکھتے ہوئے مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود اور اسلام کی تبلیغ کے لیے خوب کام کر رہے ہیں۔ ( ازجغرافیہ عالم اسلام مؤلف پروفیسر ماجد حسین ) یہ تمام جغرافیہ بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسلام ایک فطری معقول اور آسان مذہب ہے یہ صرف اپنے بہترین اصول اور قوانین کی وجہ سے ہی ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست جو مدینہ میں قائم ہوئی بڑھتے بڑھتے کہاں سے کہاں تک پہنچی۔ یہ بہت بڑا ثبوت ہے اسلام کی طاقت اور قرآن کی تعلیمات کا، تو بار بار بتایا جا رہا ہے کہ جو اس سے انکار کرتے ہیں وہ دنیا میں بھی نقصان میں ہیں اور آخرت میں بھی عذاب میں ڈالے جائیں گے۔ اللہ کے پاس جانا بالکل اٹل ہے۔ وہاں عذاب کے بدلے میں یہ لوگ اپنا سب کچھ دے کر بھی عذاب سے نجات حاصل نہ کرسکیں گے، اس لیے اسلام اور ایمان کا راستہ ہی بہترین کامیابی کا راستہ ہے۔ اپنی خواہشات کا غلام بن کر نیکی کی راہ نہیں چھوڑنی چاہیے۔ کاروبار زندگی میں ہر وقت اور ہر صورت ایمان، اسلام، قرآن اور شریعت کے اصولوں کو سامنے رکھ کر کام کرنا چاہیے کیونکہ اگر ہم ان سے دور ہوگئے تو ہماری مثال اس شخص کی ہوگی جو شیطان کے بہکاوے میں آکر اپنے اچھے ساتھیوں کو چھوڑ کر ذلت و خواری کے جنگل میں یوں بھٹکتا پھرتا ہے کہ اپنے بہترین نیک ساتھیوں کی آواز بھی نہیں سنتا اور یوں اپنی غلط خواہشوں کے چنگل میں پھنس کر اندھا بہرہ ہوجاتا ہے۔ ، یعنی نہ اسے نیکی کی بات سنائی دیتی ہے اور نہ ہی نیکی کی راہ دکھائی دیتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کہہ دو ہمیں اس نے اپنی رحمت سے مسلمان بنا دیا ہے تو کیا کفار یہ چاہتے ہیں کہ ہم بھی ان کی طرح بےدین اور گمراہ ہوجائیں یہ تو ہرگز ممکن نہیں کہ ہم اس خدائے برتر کو چھوڑ کر گمراہ ہوجائیں جس نے ہمیں پیدا کیا جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ قیامت کے دن سب حساب کتاب کے لیے اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ اس نے آسمان اور زمین بنائے۔ وہ صرف ” کن “ (ہوجا) کہہ کر پیدا کرنے والا طاقتور ہے۔ اللہ جو کہتا ہے وہ ہوجاتا ہے۔ قیامت کے دن (اور اس سے پہلے بھی) اسی کی بادشاہت ہوگی، وہ چھپے اور ظاہر سب سے واقف ہے کیونکہ اس کی صفت ہے کہ وہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ اس سے نہ تو کوئی چیز چھپی ہوئی ہے اور نہ ہی اسکی کاریگری سے باہر ہے۔ تو کیا یہ کسی عقلمند انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ ایسی عظیم ہستی کی عبادت چھوڑ کر کفار کے ساتھ جا ملے اور ایسے معبود بنالے کہ جو نہ نقصان پہنچا سکیں نہ فائدہ دے سکیں۔ دیکھا جائے تو انسانی عقل اس بات کا فیصلہ بڑی آسانی سے کرسکتی ہے کہ عبادت کے لائق کون ہے ؟ مگر جو شیطان کے شکنجے میں جکڑے جا چکے ہوں اور ہدایت کی راہ اختیار نہ کرنا چاہتے ہوں ان کو کون سمجھا سکتا ہے۔ مگر جو کوشش کریں اللہ ان کے لیے بہترین راہیں کھول دیتا ہے۔ اگلی آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی مثال دی جا رہی ہے ملاحظہ ہو۔