6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 6:74–81

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے کہا کیا تم بتوں کو معبود بناتے ہو ؟ میں دیکھتا ہوں کہ آپ اور آپ کی قوم کھلی گمراہی میں ہیں۔

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور ہم اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمان اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں۔

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

پھر جب اس پر رات طاری ہوئی تو انہیں ایک ستارہ دکھائی دیا تو ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے کہ یہ میرا رب ہے جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ غائب ہونے والے تو مجھے پسند نہیں۔

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا رب ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ اگر میرا رب مجھے سیدھا راستہ نہیں دکھائے گا تو میں بھی ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں۔

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا رب یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے مگر جب وہ بھی چھپ گیا تو کہنے لگے لوگو ! جن چیزوں کو تم (رب کا) شریک بناتے ہو میں ان سب سے بیزار ہوں

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں نے سب سے ایک طرف ہو کر اپنے آپ کو اسی ذات کی طرف متوجہ کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

تب ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے اللہ کے بارے میں کیا بحث کرتے ہو ؟ اس نے تو مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں ! جو کچھ میرا رب چاہے میرا رب اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے کیا تم سوچتے نہیں ؟

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

بھلا میں ان چیزوں سے جنہیں تم اللہ کا شریک بناتے ہو ان سے کیوں ڈروں جبکہ تم اللہ کے ساتھ شریک بنانے سے نہیں ڈرتے اور اس کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، اب دونوں فریقوں میں سے امن و سکون کا کون مستحق ہے ؟ اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو بتائو ؟۔

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ تلاش کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ راہنمائی ضرور کرتا ہے اور اس سلسلہ میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی مثال اللہ نے قرآن مجید میں دی ہے۔ قرآن مجید میں سبق دینے کے لیے بیشمار قصے پرانی قوموں کے بیان کیے گئے ہیں۔ انہیں میں سے ایک نہایت اہم قصہ جد امجد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا توحید پر ایمان لانے اور اس کی تبلیغ کرنے کا بیان کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ انسانی فطرت میں شامل ہے کہ وہ جماعت یا گروہ کی صورت میں زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں پھر اس گروہ کا کوئی سردار بھی بن جاتا ہے اور زندگی گزارنے کے کچھ طریقے اور رسم و رواج بنالیے جاتے ہیں اسی طرح شہر ارجس کی آبادی تقریباً پانچ لاکھ تھی صنعتی اور تجارتی شہر تھا، مذہب شرک تھا، یعنی ار کے آثار قدیمہ میں ملنے والے کتبوں سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً پانچ ہزار خدائوں کی عبادت کرتے تھے۔ انتہائی بدکردار، موقع پرست، خود غرض اور بگڑی ہوئی قوم تھی اس گندے اور غیر سنجیدہ ماحول میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام آزر تھا۔ جیوش انسائیکلوپیڈیا کی روایت کے مطابق وہ، یعنی آزر صرف بت پرست ہی نہیں بلکہ بت ساز (بت بنانے والے) اور بت بیچنے والے بھی تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ملک کلدا نیابت پرستی اور ستارہ پرستی کرتے تھے۔ اللہ رب العزت نے اس بگڑی ہوئی مشرک قوم کی ہدایت کے لیے انہیں میں سے ایک پیغمبر چن لیا اور ان کو اس بات کی عقل، سمجھ اور طاقت و ہمت کی کہ اللہ کی حقیقت کو سمجھ کر توحید کی تعلیم دینی شروع کریں۔ یہ بڑا مشکل کام تھا لیکن جہاں اللہ کی مرضی ہو وہاں کوئی کام مشکل نہیں۔ ارشاد الہٰی ہے ” کہ دیکھو ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کیسی عقلمندی کی بات کی۔ “ کہ ” کیا تم مٹی کی بنائی ہوئی مورتیوں کی پوجا کرتے ہو جو نہ تمہیں فائدہ پہنچاسکیں نہ نقصان۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم کھلی ہوئی بہت بڑی غلطی میں پھنسے ہوئے ہو۔ کتنی بڑی بےقوفی ہے کہ خود اپنے ہاتھ سے بت بنایا اور اسی کی عبادت کرنے لگے۔ “ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں کو چھوڑا تو ہم نے اس پر آسمانوں اور زمین کے بھید ظاہر کرنے شروع کردیے اور بتایا کہ جس چیز کو دیکھو وہ الگ اپنا ایک نظام رکھتی ہے اور پھر یہ سارے نظام ایک بہت ہی بڑے نظام کے تحت چل رہے ہیں اور اس سارے نظام کا چلانے والا اِلٰہُ العٰلمین ہے جس کو ہم اپنی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے بلکہ اس کی بنائی ہوئی مخلوقات اور پوری کائنات کو دیکھ کر اللہ کو پہچان سکتے ہیں۔ جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے جب عقل و شعور کو کام میں لا کر غوروفکر شروع کیا تو یہی چاند، سورج اور ستارے جن کو لوگ روزانہ پوجتے تھے۔ اللہ کو ڈھونڈنے کا سبب بن گئے۔ ہوا اس طرح کہ جب اندھیرا چھا گیا تو انہوں نے ستارہ چمکتا ہوا دیکھا تو کہا یہی رب ہوسکتا ہے غروب ہونے پر پکار اٹھے کہ غروب ہوجانے والا رب نہیں ہوسکتا۔ پھر چاند کو دیکھا تو پکار اٹھے یہ بڑا ہے یہ رب ہوسکتا ہے غروب ہونے پر اس کو بھی رد کردیا دن چڑھنے پر سورج کو بےحد روشن اور بڑا دیکھ کر کہنے لگے یہ رب ہوسکتا ہے مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو فرمانے لگے یہ بھی رب نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ بھی غروب ہوگیا ہے۔ اصل میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ واقعہ اللہ کی ذات اور اس کے وجود پر غور کرنے کی بہترین دلیل ہے۔ کیونکہ قوم کو راہ پر لانے کے لیے نرمی اور دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ طریقہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے انسان کو عقل سے کام لینے اور جھوٹ اور سچ میں فرق کرنے کے لیے اختیار کیا۔ اس طرح انہوں نے توحید کی بنیاد رکھی اور اللہ کو واحد ماننے والوں کا نام انہوں نے مسلم رکھا۔ جب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے صاف طور پر کہہ دیا ” اے لوگو ! سن لو جب اتنی بلند اور روشن چیزیں رب نہیں ہوسکتیں تو تمہارے بنائے ہوئے یہ بت کیسے الٰہ ہوسکتے ہیں۔ میں تمہارے ان سب خدائوں کا انکار کرتا ہوں اور اپنے رب اللہ عزیز و حکیم کے آگے سر جھکاتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ یوں انہوں نے اپنی قوم کے تمام خدائوں کو ٹھکرا دیا اور توحید کی بنیاد رکھ دی۔ اس پر ساری کی ساری قوم ان کے خلاف کھڑی ہوگئی۔ کیونکہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اس قوم کو راہ راست پر لانے کے لیے مقرر کردیے گئے تھے اس لیے اللہ کی مدد سے وہ ان کو ہدایت کی طرف بلاتے رہے، سمجھاتے رہے۔ جب ان کی قوم نے ان سے کہا کہ اگر تم نے ہمارے خدائوں کو نہ مانا تو وہ تم سے ناراض ہوجائیں گے تو اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ” مجھے یقین ہوچکا ہے کہ تمہارے یہ خدا میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے اور نہ ہی میرا کوئی بھلا ہی کرسکتے ہیں کیونکہ یہ مجبور، بےبس ہیں۔ ہاں ! اللہ جو چاہے کرسکتا ہے وہی میرا رب ہے اسی کے علم میں ہر چیز ہے وہ قدرت رکھتا ہے تکلیف پہنچانے کی اور سب کچھ جانتا ہے۔ کیا تمہیں اتنی بھی عقل نہیں ؟ جیسا کہ ہر جاہل اور مشرک قوم کا کام ہے کہ بجائے سیدھی راہ پر چلنے کے الٹا پیغمبر سے لڑتے جھگڑتے ہیں بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔ ان کی قوم بھی لڑنے جھگڑنے پر اتر آئی۔ تب انہوں نے کہا کہ تمہارے یہ بےجان خدا میرا کیا بگاڑ سکتے ہیں ؟ جبکہ میرا اللہ جو چاہے کرسکتا ہے تمام آسمان و زمین ہر قسم کی مخلوقات سب اسی کے اختیار میں ہیں اس لیے اس سے ڈرنا چاہیے۔ پھر انہوں نے کہا کہ تم خود فیصلہ کرو میں مطمئن اور پرسکون ہوں یا کہ تم لوگ پرسکون ہو۔ ایک مضبوط، معقول اور انتہائی طاقت ور کو سہارا بنانا زیادہ بےفکری اور سکون کا باعث ہوسکتا ہے یا کہ بےکار، بےجان اور مجبور چیزوں کو اپنا سہارا بنانا عقلمندی ہے ؟ مبلغین اسلام کے لیے ہدایت ملتی ہے کہ اپنی قوم سے سخت نہیں نرم یا دلیل اور موثر رویہ اختیار کریں۔ دوسرا یہ کہ تبلیغ و دعوت میں حکمت، تدبر اور مشاہدات سے کام لینا سنت انبیاء ہے۔ تیسرا یہ کہ اصلاح اعمال کی دعوت اپنے گھر اور قرابتداروں سے شروع کرنی چاہیے۔ چوتھا یہ کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کی بنیاد رکھ کر مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم کا درجہ دیا اور پھر ثابت ہوگیا کہ سچی تلاش اور ہدایت کی لگن سے جو کچھ بھی کیا جائے۔ اللہ رب العزت مدد کرتا ہے اور روشن راہیں کھول دیتا ہے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اس قدر بگڑے ہوئے اور کفر و شرک سے بھرے ہوئے معاشرے میں آنکھ کھولی اور پرورش پائی، مگر سچی لگن نے ان کے لیے سچائی امن اور سلامتی کی راہیں کھول دیں اور ان کو پوری انسانیت کے لیے مقرب ترین برگزیدہ پیغمبر بنایا۔ انہوں نے انسان کو توحید باری تعالیٰ کا سبق دیا۔ ان آیات میں حق کی دعوت دینے کا ایک بہترین انداز بیان کیا گیا ہے جو کہ اہل عرب کے لیے بڑا دلنشین ثابت ہوا، اسی لیے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) تمام عرب کے جد امجد کہلائے اور پورا عرب ان کی تعظیم کرتا چلا آیا ہے۔
Ayahs 6:82–89

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم کے ساتھ نہیں ملایا ان کے لیے امن اور سکون ہے اور وہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں۔

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

یہ ہماری دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلہ میں دی تھی، ہم جس کے درجے بلند کرنا چاہتے ہیں کردیتے ہیں۔ بیشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے اور سب کو ہدایت دی اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے دائود، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو بھی، ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

زکریا، یحییٰ ، عیسیٰ اور الیاس کو بھی نیک بختوں میں شامل کیا۔

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اسمٰعیل، الیسع، یونس اور لوط ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضیلت دی۔

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

) اور ہم نے بعضوں کو ان کے باپ دادوں میں سے ان کی اولاد اور بھائیوں میں سے منتخب کرلیا تھا اور سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کی تھی۔

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ اللہ کی ہدایت ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس پر چلاتا ہے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

اگر وہ لوگ شرک کرتے تو ان کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب، حکم شریعت اور نبوت عطا کی تھی۔ اگر یہ کفار ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر ایمان لانے کے لیے ایسے لوگ مقرر کردیے ہیں کہ جو ان سے کبھی انکار کرنے والے نہیں۔

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی فضیلت، اللہ کی مہربانیاں اور خوشخبری تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات، ان کی فضیلت اور پھر ایمان کی برکتیں، ان برکتوں میں سکون قلب کے علاوہ نیک آباؤ اجداد، آل اولاد اور عزیز و اقربا بھی شامل ہیں آخر میں آنحضرت ﷺ کو خوشخبری دی گئی ہے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کچھ معلومات پچھلی آیات میں دی گئی ہیں۔ سب سے بڑی فضیلت جو رب تعالیٰ نے ان کو دی وہ تھی راہ ہدایت کا تحفہ، پھر ان کی تعلیمات جن کی بنیاد توحید، یعنی اللہ کا واحد ہونا۔ اس کے ساتھ کسی بھی چیز، مخلوق یا نباتات و حیوانات کو شریک نہ کرنا۔ اللہ بس ایک ہی ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کو بہت بڑا ظلم کہا ہے کیونکہ ایمان میں سکون ہے جب کہ شرک کرنے والے کو نہ اس جہان میں سکون ملے گا اور نہ آخرت میں نجات ملے گی۔ سورة الانعام کی آیت 82 میں صاف الفاظ میں بتا دیا گیا ہے۔ ” جن لوگوں نے یقین کرلیا اور اپنے یقین میں کوئی نقصان (شرک) نہیں ملایا انہی کے لیے امن و سکون ہے اور وہی سیدھی راہ پر ہیں۔ “ پھر صاف طور پر فرمایا کہ اللہ رب العزت دانا ہے خبردار ہے۔ وہی درجات کو بلند کرنے والا ہے اس میں کسی کا بھی ذاتی کمال شامل نہیں، اللہ رب العزت نے پوری قوم میں سے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت کے لیے چن لیا پھر ان کی ذاتی ثابت قدمی، نیک فطرت، انسان دوستی اور روحانی پاکیزگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے درجات بلند کردیے ان پر اپنے فضل و کرم اور رحمتوں کی اتنی بارش کی کہ تمام نبیوں میں ان کو ممتاز کیا اور ان کی نسل سے باقی انبیاء پیدا کیے جن کا ذکر یہاں کیا گیا اور وہ تعداد میں 17 ہیں۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے جد امجد ہیں۔ دل کی پاکیزگی۔ اس کا تعلق سیدھا اللہ سے ہونا یہ انسانی کمال کی نشانی ہے۔ جسے یہ حاصل ہوجائے اسے اللہ تعالیٰ اپنی کتاب اور شریعت دے کر اپنا رسول بنا دیتا ہے۔ ہر رسول نبی ہوتا ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح ولی تو بہت لوگ ہوسکتے ہیں، یعنی ولی، نبی اور پھر رسول کا درجہ آتا ہے۔ سیدنا محمد ﷺ ولی، نبی اور رسول سب کچھ ہیں۔ نبوت اور رسالت آپ پر ختم ہوچکی ہے۔ آیت 89 مکہ میں ہجرت سے پہلے نازل ہوئی تھی جس میں محمد ﷺ کو خوشخبری دی گئی ہے کہ ” اگر یہ مکہ کے لوگ آپ کی ان باتوں کو نہیں مانتے تو کوئی فکر کی بات نہیں ہم نے اور لوگوں کو پہلے ہی مقرر کردیا ہے جو آپ کی کتاب اور شریعت کو دل و جان سے قبول کریں گے اور آپ کو سچا نبی مانیں گے۔ “ یہ اشارہ ہے اس وقت کے انصار و مہاجرین کی طرف اور قیامت تک ہونے والے تمام مسلمانوں کی طرف۔ کتنا بڑا اعزاز اللہ نے ہم مسلمانوں کو دیا ہے۔ اس عزت اور احترام کے لائق بننے کے لیے ہمیں اپنے کردار، روح، اعمال اور زندگیوں کو اسی معیار پر لانا چاہیے کہ جس کی وجہ سے ہم امت محمدی میں پیدا کیے گئے اور دین ِ ابراہیمی کے پیروکار بنائے گئے۔ اگر ہم قرآن و سنت سے دور ہوگئے تو یہ بہت بڑا ظلم ہم نہ صرف اپنے اوپر کریں گے بلکہ اپنی آنے والی تمام نسلوں پر بھی کریں گے جیسا کہ سورة الانعام کی آیت 88 میں اللہ تعالیٰ صاف صاف فرما رہا ہے : ” یہ اللہ کی ہدایت ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اگر یہ لوگ شرک کرتے تو جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ ضائع ہوجاتا۔ “ اگر ولی پیغمبر راہ سے بھٹک جانے پر عتاب الٰہی کا شکار ہوسکتے ہیں تو ہم عام لوگ صرف امت محمدی ﷺ ہونے پر بخشے نہ جائیں گے بلکہ ہمارا فرض اور بھی زیادہ ہوجاتا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں تاکہ فلاح داریں حاصل کرسکیں اگر دنیا میں اپنے آپ کو دنیا کی تمام آلائشوں سے بچا کر رکھیں گے تو دنیا میں بھی سکون پائیں گے اور آخرت میں نجات حاصل ہوگی۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی مثال ہمارے سامنے ہے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی راہ میں ماں باپ، برادری اور وطن چھوڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں اپنی برادری سے بہترین برادری اور اس وطن سے بہترین وطن عطا فرمایا۔ آخرت کے درجات اور رحمتیں علیحدہ ہوں گی۔ پھر دنیا میں اتنا بڑا شرف اور درجہ دیا گیا کہ آپ کے بعد جس قدر رسول و انبیاء بھیجے گئے وہ سب کے سب آپ کی ہی اولاد میں سے بھیجے گئے اور سیدنا نوح (علیہ السلام) بھی آپ کے ہی جد امجد مانے جاتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ہدایت پانے اور اس پر قائم رہنے کے لیے کردار کی مضبوطی اور روح کی پاکیزگی بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے اللہ سے ہر وقت دعا کرتے رہنا چاہیے۔ حدیث میں آتا ہے : ” سیدنا سفیان بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتا دیجیے کہ آپ ﷺ کے بعد پھر میں اس کے بارے میں کسی اور سے سوال نہ کروں۔ ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ” تو کہہ کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس پر ہمیشہ قائم رہ۔ “ (صحیح مسلم) مطلب یہ ہے کہ توحید الٰہی پر مکمل یقین روحانی قوت کا سرچشمہ ہے۔ یہ قوت برائیوں سے بچاتی ہے۔ اصلاح، اتحاد اور تنظیم کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور دل کا سکون تو اس میں ہے انسان تمام فکروں، پریشانیوں اور وہموں سے بالکل آزاد ہوجاتا ہے، جب مسلمان دن میں پانچ مرتبہ نماز کے ذریعے اللہ سے ملاقات کرتا ہے۔ اللہ سے اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے معافی مانگتا ہے پھر ہر کام میں اس سے مدد طلب کرتا ہے تو پھر پریشانی کی کیا وجہ باقی رہ جاتی ہے۔ بس ہم اس کے ہیں اور وہ ہمارا ہے۔
Ayahs 6:90–94

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہ وہ (انبیاء) ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی تھی تو تم انہی کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس ہدایت کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو صرف تمام جہاں کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کی قدر جیسے جاننی چاہیے تھی نہ جانی، جب انہوں نے کہا کہ اللہ نے انسان پر (وحی اور کتاب) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو کہ جو کتاب موسیٰ لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا ؟ جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت تھی، اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق پر نقل کر رکھا ہے۔ ان کے کچھ حصہ کو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو، تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو کہ اس کتاب کو اللہ نے ہی نازل کیا ہے۔ پھر ان کو چھوڑ دو کہ اپنی بیہودہ گفتگو میں کھیلتے رہیں۔

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

ویسی ہی یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے یہ بابرکت ہے اور اپنے سے پہلے آنے والی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور جو اس لیے نازل کی گئی ہے کہ آپ مکہ والوں اور اس کے آس پاس رہنے والے لوگوں کو آگاہ کردیں، جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی پوری پابندی کرتے ہیں۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا الزام لگائے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے، حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو۔ اور جو یہ کہے کہ جیسی کتاب اللہ نے نازل کی ہے اس طرح کی میں خود بھی بنا لیتا ہوں کاش ! آپ ان ظالموں کو اس وقت دیکھو جب وہ موت کی سختیوں میں مبتلا ہوں، اور فرشتے ان کی طرف عذاب کے لیے ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا، اس لیے کہ تم اللہ پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے سرکشی کیا کرتے تھے

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے ہو اور جو مال و متاع ہم نے تمہیں دیا تھا وہ سب دنیا میں ہی چھوڑ آئے ہو اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے، جن کے بارے میں تم سوچتے تھے کہ وہ (اللہ کے) شریک ہیں۔ آج تمہارے آپس کے سب تعلقات ختم ہوگئے اور جو دعوے تم کرتے تھے سب ختم ہوگئے ہیں۔

نبی کی صفات، اللہ کی کتاب، انسان کا انجام تشریح : جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بہترین عقائد، بہترین اعمال اور بہترین اجر وثواب اور اللہ کی طرف سے دیے گئے انعامات کا ذکر بڑی تفصیل سے ہوچکا ہے۔ اسی طرح ان آیات میں دہرایا جا رہا ہے کہ اہل عرب اور یہود اخلاق و کردار کی بدترین مثال بن چکے تھے جب رسول اللہ ﷺ کو رسالت ملی تو وہ نہ ان کو ماننے کو تیار تھے اور نہ ہی ان پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید کو ماننے کو تیار تھے تو ایسے ہی لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح پہلے سیدنا موسیٰ پر تورات نازل ہوئی تھی جو اخلاق، کردار، نیک اطوار اور نجات کی راہیں بتانے والی اللہ کیطرف سے نازل شدہ کتاب تھی اسی طرح قرآن مجید بھی انسان کی نجات اور دنیا و آخرت میں کامیابیاں حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اور پھر یہ کتاب آخری کتاب ہے جو اس پر یقین کرے، عمل کرے گا، مکمل طور پر اللہ کا پسندیدہ بندہ بن جائے گا لیکن جو انکار کرے گا وہ دنیا میں عارضی خوشیوں، راحتوں اور سیر و تفریح میں پھنس کر دنیا کا ہی بندہ بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کی جب جان نکلتی ہے تو اذیت ناک طریقہ سے نکلتی ہے اور پھر بالکل خالی ہاتھ جب اگلے جہاں میں پہنچتے ہیں تو سوائے گناہوں کے کچھ ان کے پاس نہیں ہوتا کیونکہ دنیا کی کوئی چیز آخرت میں کام نہیں آتی، سوائے نیک اعمال کے اور وہ اس لحاظ سے بالکل خالی ہوتے ہیں۔ ان کے اپنے بنائے ہوئے معبود ان کو کہیں دکھائی نہیں دیتے یہ نقشہ ہے مشرک لوگوں کا توقرآن انسان کو ہوش دلاتا ہے کہ اللہ کو یاد کرو۔ اس کے سامنے جھکو، اسی سے مانگو اور صرف اسی کی عبادت کرو، کیونکہ اسی میں بندے کی نجات ہے، دنیا کا سکون اور آخرت کا ہمیشہ کا آرام صرف اسی راستہ میں ہے جس کا سبق اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی سیرت و کردار سے ایسی اچھی مثالیں پیش کیں کہ جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمام دنیا کے انسانوں کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہو رہی ہے۔ ہر عقل مند شخص مانتا ہے کہ یہی سیدھا راستہ ہے اور اسی میں دنیا و آخرت کے لیے بھلائیاں ہیں۔ دنیا تو انتہائی مختصر قیام کی جگہ ہے، مگر یہ چھوٹا سا قیام بڑا اہم ہے کیونکہ آخرت میں صرف ان اعمال کا بدلہ ملے گا جو یہاں کیے جائیں گے اس لیے نیک، پرہیزگار اور عقل مند لوگ ہر وقت موت کو یاد رکھتے ہیں تاکہ گناہوں سے بچے رہیں۔ کتب تاریخ میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا اصم (رح) تعالیٰ جہاد کے لیے تیار ہوئے اپنی بیوی سے پوچھا کہ ” تمہارے لیے کتنا راشن چھوڑ جاؤں تاکہ میری غیر موجودگی میں تمہیں تکلیف نہ ہو۔ اس نیک بندی نے جواب دیا کہ ” آپ میری زندگی بھر کے لیے راشن کا بندوبست کردیں “۔ حاتم اصم فرمانے لگے کہ ” ارے اللہ کی بندی ! تیری زندگی تو میرے اختیار میں نہیں ہے لہٰذا مجھے کیا علم کہ تو کب تک زندہ رہے گی “ ؟ بیوی نے جواباً کہا کہ ” اگر میری زندگی آپ کے اختیار میں نہیں تو میری روزی آپ کے اختیار میں کیسے ہے جس کا آپ انتظام کرنا چاہتے ہیں۔ بس جس مالک الملک کے قبضہ قدرت میں کسی جاندار کی زندگی اور موت ہے اسی کے ذمہ اس کی رزق رسانی بھی ہے۔ لہٰذا آپ اس بات کی فکر نہ کریں اور اپنے مبارک سفر پر رانہ ہوجائیں۔ “ یہ واقعہ تو توکل کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے مگر عام انسانوں کے لیے توکل کے ساتھ احتیاط کی بھی تاکید کی گئی ہے جیسا کہ فرمان ہے کہ اگر اونٹ کو کھلا چھوڑو تو اس کی ٹانگ ضرور باندھ دو ۔ ذکرِ الٰہی کی فضیلت اور برکت کے بارے میں حدیث شریف ہے۔ ” سیدنا معاذبن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ آدمی نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو ذکر الہٰی سے بڑھ کر اسے اللہ کے عذاب سے نجات دینے والا ہو “۔ (موطا امام مالک) آخر میں پوری بحث کو یوں سمیٹتے ہیں کہ کسی بھی نبی نے کبھی غلط تعلیمات ہرگز نہیں دیں۔ البتہ ان کی امتوں نے ان کے بعد ان کی تعلیمات کو بدل دیا اور ان کی دی ہوئی کتابوں کو بھی بالکل بدل دیا جیسا کہ یہودیوں نے مطلب کی باتیں مان لیں اور دوسری باتیں چھوڑ دیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں جو کچھ نشانیاں ان کی کتاب میں دی گئی تھیں سب چھپانے لگے بلکہ لوگوں کو گمراہ کرنا شروع کردیا اور قرآن مجید سے بھی انکار کرنے لگے۔ جب کہ قرآن مجید کے بارے میں بھی ان کی کتاب میں بتایا گیا تھا۔ قرآن حکیم نور ہدایت کا مجسمہ ہے اس کو ماننے والے اس پر عمل کرنے والے ہی نجات حاصل کریں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے تو وہ بہت بڑا جھوٹا اور ظالم ہے کیونکہ وحی کا سلسلہ سیدنا محمد ﷺ پر ختم ہوچکا ہے وہ آخری نبی ہیں۔ آخری نبی اور قرآن سے انکار کرنے کا مطلب اصل میں اللہ تعالیٰ کا انکار ہے۔ تو ایسے تمام لوگ سزا کے مستحق ہوں گے۔ آخر میں حشر کا ایک منظر پیش کیا گیا ہے کہ کس طرح ہر شخص اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوگا اور سزا و جزا پائے گا۔ اس دن ہر شخص ایسے ہی تنہا ہوگا جیسے دنیا میں آتے ہوئے تنہا ہوتا ہے، اس لیے بار بار تاکید کی گئی ہے کہ آخرت کو یاد رکھو دنیا کے عیش و آرام میں کھو کر اللہ کی عبادت اور آخرت کے دن کے حساب کو ہرگز نہ بھول جاؤ اسی میں نجات ہے۔
Ayahs 6:95–98

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ نے والا ہے، وہی جاندار کو بےجان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کو جاندار سے نکالنے والا ہے یہی تو اللہ ہے پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو ؟

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

وہی رات کے اندھیرے سے صبح کی روشنی کو پھاڑ نکالتا ہے اور اسی نے رات کو آرام کے لیے بنایا، سورج اور چاند کو حساب کرنے کا ذریعہ بنایا، یہ سب اللہ کے مقرر کیے ہوئے اندازے ہیں، جو غالب اور علم والا ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریائوں کے اندھیروں میں ان سے راستے معلوم کرو علم والوں کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو ایک جان ( آدم) سے پیدا کیا، پھر تمہارے لیے ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی، سمجھنے والوں کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

قدرت کے کرشمے تشریح : ان آیات کو پڑھ کر کون شخص ایسا ہے جو اللہ کی ذات سے متعارف نہ ہوجائے، یعنی جو اپنے پیدا کرنے والے واحد اللہ کو پہچان نہ سکے۔ انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی نشوونما اور اس کی زندگی گزارنے کے تمام وسیلے، یعنی رہنے کی جگہ زمین، کھانے پینے کے لیے پھل، پھول اور اناج، وقت کا اندازہ کرنے کے لیے دن اور رات کا نکلنا، آرام کرنے کے لیے رات کا پرسکون خاموش اور انتہائی خواب آور ماحول، پھر دن کا طلوع ہونا کہ جس میں ہر چیز روشن اور ظاہر نظر آنے لگتی ہے۔ چرند پرند اور انسان پیٹ پالنے کے لیے رزق کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ نئے نئے کام کرتا ہے اپنی اور پوری نسل انسانی کی سہولت، آرام اور سکون کے لیے طرح طرح کی ایجادات کرتا ہے۔ رات میں اگر کہیں جنگل، صحرا یا دریا و سمندر میں راستہ بھول جاتا ہے تو ستاروں کو دیکھ کر اپنے راستہ کو ٹھیک کرلیتا ہے۔ انسان کی پیدائش سب سے پہلے سیدنا آدم (علیہ السلام) سے کی۔ یہ شروع میں بیان گزر جاچکا ہے پھر انسان کی پیدائش پانی کی ایک بوند سے کی اسی طرح جاندار پرندے بےجان انڈا دیتے ہیں پھر اس بےجان انڈے سے زندہ جیتا جاگتا پرندہ نکل آتا ہے یہ سب کیسے ہوتا ہے ؟ گٹھلی یا بیج بظاہر بےجان نظر آتے ہیں مگر اللہ کی قدرت کہ اس کے پھول کر پھٹنے اور پھر جڑوں کا ٹہنیوں کا پودا بن کر پھول اور پھل دینے کا حساب کتاب اس دانے کے اندر اللہ رب العزت نے بند کر کے رکھ دیا ہوتا ہے اور پھر اسی حساب اور اندازے کے مطابق وہ دانہ پودا، درخت یا جھاڑی بن جاتا ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ مٹر کے دانے سے آلو اگ آئے یا آم کے درخت پر آڑو لگ جائیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کو پہچاننے کے لیے بہت کافی ہے۔ یہ سب باتیں ایک ان پڑھ، جاہل، مرد بچہ اور عورت سب بڑی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں شرط یہ ہے کہ وہ سمجھنا چاہیں۔ جب یہ سمجھ آجاتی ہے تو پھر ہوش مند، تجربات کرنے والے، عقل مند اور تحقیق کرنے والے انسان ان تمام حقیقتوں کا کھوج لگانا شروع کردیتے ہیں جن حقیقتوں کا نام ہے فلسفہ، سائنس، طب، کیمیا، ریاضی، طبیعات، علم الافلاک، ( آسمانوں کا علم) علم نجوم (ستاروں کا علم) غرض ہر وہ علم جس سے دنیا نے آج اس قدر ترقی کی ہے کہ کائنات کے راز معلوم ہو رہے ہیں، بیماریوں اور ان کے علاج کے ایسے ایسے موثر طریقے ایجاد ہوگئے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ ان تمام علوم کی طرف قرآن مجید کی ان آیات میں اور بیشمار مختلف سورتوں میں جگہ جگہ اشارے کیے گئے ہیں جن کو عقلمند اور پڑھے لکھے انسانوں نے بنیاد بنا کر ایجادات کیں۔ یہ حقیقت ہے اور سو فیصد سچ بھی ہے کیونکہ مسلمانوں نے قرآن پڑھا اور یہ تمام حقائق معلوم کئے، ان پر غور و فکر کیا، نئی نئی ایجادات کیں ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ تمام ترقی کا سہرا مسلمان سائنس دانوں، حکماء اور محققین کے سر ہی بندھتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج کا انسان اس بات سے بالکل لاعلم ہے اور سب یہی سمجھتے ہیں کہ یہ تمام کارنامے اہل یورپ کے ہیں۔ مسلمانوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ ہوا یوں کہ یورپ نے ہسپانیہ میں مسلمانوں کے زوال اور عیسائیوں کے عروج کے وقت مسلمانوں کے انتہائی قیمتی علمی، تحقیقاتی اور تجرباتی ذخائر اپنے قبضہ میں کرلیے پھر ان کے انگریزی، فرانسیسی، جرمنی اور اطالوی زبانوں میں ترجمے کر کے ان کو اپنے موجودہ تمام ترقیاتی کاموں کی بنیاد بنا کر نت نئے نئے کارنامے کیے، حالانکہ ان تمام کارناموں کی بنیاد مسلمانوں نے ہی رکھی تھی۔ مثال کے طور پر علم الافلاک کی بنیاد بنو امیہ کے ایک شہزادے خالد بن یزید نے رکھی تھی۔ اس نے دوسری صدی ہجری کے آخر میں فلک کا ایک کرہ دھات سے تیار کروایا۔ دور بین انور اسحاق ابراہیم بن جندب نے دوسری صدی ہجری کے وسط میں ایجاد کی مگر 9 سال بعد گلیلو نے اس کو ترقی دیکر ٹیلی سکوپ بنا کر ایجاد اپنے نام منصوب کرلی۔ فن کیمیا کا ماہر جابر بن حیان، تیسری صدی ہجری کے شروع کا ماہر ریاضی دان احمد عبداللہ حبش بغدادی گزرا ہے۔ ماہر مسلمان سائنسدان عبدالمالک اصمعی نے تیسری صدی ہجری کے شروع میں حیوانات اور انسان پر پانچ مفصل بہترین تحقیقاتی کتابیں لکھیں۔ مگر یہ سب کچھ اور اسی طرح کی بیشمار دوسری تحقیقات اور ایجادات مسلمانوں نے کیں جو سب انگریزوں نے اپنے نام کروا رکھی ہیں اور اکثر مسلمان اس بات سے لاعلم ہیں۔ یہ سب کچھ لکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آخر وہ زوال جو مسلمانوں پر آیا اس سے عبرت حاصل کر کے مسلمان دوبارہ اپنے کلام پاک کو راہنما بنا کر شریعت پر پوری طرح عمل کر کے اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کیوں نہیں کرتے۔ یہ کام نہ تو کوئی مشکل ہے اور نہ ہی ناممکن۔ ذرا سی محنت، لگن اور توجہ کی ضرورت ہے ورنہ ہمارے بچوں میں دوسری اقوام کے مقابلہ میں نسبتاً زیادہ سمجھ بوجھ اور صلاحیتیں موجود ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی مذہب سے دوری، مال سے محبت، لالچ، حسد، بغض اور خود غرضی نے یہ تک بھلا دیا ہے کہ یہ زمین جو ہماری حفاظت کرتی ہے زندہ ہوں تو زندگی گزارنے کے تمام سامان اسی سے مہیا کیے گئے ہیں، پھر جب ہم مرجاتے ہیں تو بھی یہی زمین ہی ہمیں اپنے اندر جذب کر کے سمیٹ لیتی ہے۔ ماں کی گود کی طرح زمین ہمیں اپنے اندر سمیٹ کر تمام غموں، فکروں اور پریشانیوں سے نجات دلا دیتی ہے۔ اس کی حفاظت کرنا، اس کو صاف ستھرا رکھنا اور اس سے محبت کرنا ہر انسان کا فرض ہے اور پھر یہ بھی ہر وقت یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح زمین کے اوپر ہمیں کچھ عرصہ زندگی گزارنے کی اجازت ہے اسی طرح زمین کے اندر ہنا بھی ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ کچھ عرصہ، یعنی موت اور قیامت کے درمیان کا عرصہ جو عالم برزخ کہلاتا ہے وہی زمین کی گود (قبر) میں گزارنے کی اجازت ہے، یعنی وہ ٹھکانا بھی عارضی ہے پھر قیامت کے دن تمام لوگ اسی زمین میں سے اللہ کے حکم سے باہر نکل آئیں گے اپنے اعمال نامے اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے اللہ رب العزت کے حضور حاضر ہونے کے لیے بھاگے چلے جائیں گے۔ یہ حشر کا میدان ہوگا جہاں رب العالمین ہر شخص کا دنیا میں کیے گئے کاموں کا حساب کتاب لے کر پورے انصاف سے سزا یا جزا، یعنی جنت یا دوزخ کا فیصلہ کرے گا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا بیان ہے جو سو فیصد سچ ہے۔ یہ ہو کر رہے گا اور ہر مسلمان کو اس کا یقین کرنا ضروری ہے۔ یہ حساب کتاب ہر انسان اور جن کا ضرور ہوگا۔ جب ایک شخص ان باتوں کو سمجھ لیتا ہے تو پھر وہ کس طرح کوئی غلط کام کرسکتا ہے۔ ہمارے آبائو اجداد اسی لیے کامیاب تھے کہ انہوں نے قرآن حکیم کی حکمتوں پر غور و فکر کیا اور دنیا کو زیر کرلیا۔ حکمت خیر کثیر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” اور جسے دی گئی دانائی تو یقینا اسے بہت بھلائی دی گئی۔ “ ( سورة البقرہ آیت : 269) قرآن مجید حکمت و دانائی اور علم و معرفت کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ آخری کتاب ہے اس میں انسان کو تمام مسائل اور تمام علوم کے بارے میں اتنی وضاحت اور آسان طریقہ سے سکھایا گیا ہے کہ اب اس کے بعد نہ کسی نبی کی ضرورت باقی رہی نہ شریعت کی اور نہ ہی آسمانی کتاب کی۔ یہ رشد و ہدایت کا مجموعہ ہے اور تمام کائنات کے راز اس میں موجود ہیں سمجھنے، غور کرنے اور عمل کرنے والے دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہوئے اور ہوتے رہیں گے۔ جو اس سے غافل ہوئے ناکام ہوئے اس دنیا میں اور آخرت میں بھی وہ بالکل خالی ہاتھ ہی ہوں گے۔ لہٰذا اس زندگی سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ کر بلندیوں کا رخ کرنا چاہیے۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہم دنیا و آخرت میں سرخ رو نہ ہوسکیں۔ ایمان میں بڑی طاقت ہے۔ اپنی ساری کھوئی ہوئی کامیابیاں ہم دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں۔ نوجوانوں سے میری اپیل ہے کہ قرآن کی روشنی میں ایمان کا جھنڈا لے کر عمل کے میدان میں نکل کھڑے ہوں۔ انشاء اللہ ان کے سامنے کوئی ٹھہر نہ سکے گا۔ علامہ اقبال نے ایک کامل انسان کو مرد مومن کہا ہے اور اس کی تعریف میں فرماتے ہیں : ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
Ayah 6:99

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینہ برساتا ہے۔ (ہم جو بارش برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کا سبزہ اگاتے ہیں، پھر اس میں سے سرسبز کونپلیں نکالتے ہیں پھر ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں، اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے، انگوروں کے باغ، زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور مختلف بھی۔ یہ چیزیں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلنے پر اور جب پکتی ہیں تو ان کے پکنے پر نظر (غور) کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ اللہ کی قدرت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔

پھل اور خوراک سب اللہ نے پیدا کی ہیں تشریح : اللہ تعالیٰ کی پہچان اس کی تخلیقات سے ہوتی ہے اسی لیے تو حکماء کہتے ہیں کہ علم و عرفان (اللہ کو جاننا) ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں جیسا کہ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ آسمان سے مینہ برستا ہے۔ کیسے برستا ہے ؟ ہم اکثر دیکھتے ہیں۔ بارش ہوتی ہے لیکن ایک تحقیق کرنے والا شخص اس کی تہہ تک جاتا ہے۔ بادل کیسے بنتے ہیں ؟ کیسے سفر کرتے ہیں ؟ بارش کس طرح قطرہ قطرہ زمین پر گرتی ہے ؟ یکدم دھڑام سے پانی کیوں نہیں گر پڑتا ؟ زمین کو اور انسان کو اس بارش کے کیا کیا فائدے ہوتے ہیں ؟ یہ سب بہت سے علوم کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ پھر نباتات جس میں ہر اگنے والی چیز آجاتی ہے اس آیت میں نمونے کے طور پر گندم، کھجور، انگور، زیتون اور انار کا ذکر کیا گیا ہے۔ دعوت دی گئی ہے کہ انسان ان تمام چیزوں پر غور وفکر کرے کہ یہ کیسے اگتی ہیں پھلتی پھولتی ہیں اور پھر پک کر تیار ہوجاتی ہیں اور انسان کی غذا بن جاتی ہیں ؟ یہ تمام سلسلہ سوچنے سمجھنے کا ہے تاکہ انسان اس سے مزید فائدے اٹھا سکے۔ جیسے جیسے انسان اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں پر غور کرتا ہے ویسا ہی وہ اللہ رب العزت کے زیادہ قریب ہوتا جاتا ہے۔ دنیاوی علم انسان کو اللہ کی موجودگی، اس کی حکمت، وحدانیت اور قدرت و حکمت کا سبق دیتا چلا جاتا ہے۔ عرفان الٰہی (اللہ کی پہچان) کے لیے اس کی بنائی ہوئی چیزوں پر غوروفکر بےحد ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشمار علوم کی بنیاد ہمارے مسلمان مفکرین نے ڈالی جو آج ترقی کر کے حیرت انگیز ایجادات کی صورت میں دکھائی دے رہی ہیں اور ان سب علوم کو انگریزوں اور ان کے بھائی بندوں نے اپنے سے منسوب کر رکھا ہے۔ مسلمانوں کا تو کبھی نام ہی نہیں لیتے۔ بہرحال یہ وقت گزر چکا اب ہمارے نوجوان اپنا وقار اپنی اہمیت انشاء اللہ ضرور بحال کر کے رہیں گے۔ ہمارے پاس تو بہترین راہنما اصول ہیں۔ دنیا کا کوئی مذہب اسلام کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ یہ تو بڑا ہی معقول مذہب ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا ہے : ” آج میں نے تمہارے لیے دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمتوں کی بھی تکمیل کردی اور تمہارے واسطے اسلام ہی کو دین پسند کیا۔ “ (المائدہ آیت : 3 )
Ayahs 6:100–103

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا، حالانکہ ان کو اسی (اللہ) نے پیدا کیا ہے۔ بغیر سمجھے بوجھے جھوٹا بہتان لگایا کہ اللہ کے بیٹے بیٹیاں ہیں۔ اللہ ان تمام باتوں سے بالکل پاک ہے۔ اس کی شان ان تمام باتوں سے بلند ہے۔

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

وہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کے اولاد کہاں سے ہو جب کہ اس کی بیوی ہی نہیں اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

ان تمام صفتوں کا مالک اللہ، تمہارا پالنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا نگران ہے۔

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

وہ ایسا ہے کہ آنکھیں اس کو دیکھ نہیں سکتیں جبکہ وہ نگاہوں کو پاسکتا ہے، وہ ہر بھید جاننے والا اور پوری خبر رکھنے والا ہے۔

کائنات سے اللہ کی پہچان کہ وہ اکیلا ہے تشریح : پہلے آخرت کا ذکر کردیا گیا ہے اور اب اللہ رب العزت کے تخلیقات کے کرشمے بیان کیے جا رہے ہیں جو اللہ کے واحد، بلندو برتر، حکیم وعلیم ہونے کا ثبوت ہیں۔ پچھلی آیات میں اللہ کے انعامات کا ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح اللہ اپنی قدرت سے اپنا موجود ہونا ظاہر کرتا ہے مثلاً گٹھلی سے درخت کا بننا، مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کا نکلنا۔ سورج، چاند کا نظام، ستاروں سے راستہ معلوم کرنا، سمندر اور زمین کے بیشمار فائدے، انسان کا سیدنا آدم (علیہ السلام) سے پیدا ہونا اور پھر انسان کی پرورش کے لیے ہر قسم کی اجناس پھول، پھل کا پیدا کرنا، یہ سب کچھ کیا ہے ؟ یہ ایمان لانے والے لوگوں کے لیے بہترین نشانیاں ہیں، جن کو دیکھ کر ہم یہ سوچتے ہیں کہ اس پورے نظام کو چلانے والا ضرور کوئی ہے اور وہ ہے اللہ وحدہٗ لاشریک لہ۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ یہ لوگ (کفار) سب کچھ دیکھ کر بھی کبھی جنوں کو الٰہ بناتے ہیں اور کبھی کسی اور کو۔ وہ لوگ اتنی سی عقل بھی نہیں رکھتے کہ جنوں کو بھی اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔ پھر اور بےوقوفی کی باتیں کرتے ہیں کہ ( نعوذ باللہ) اللہ رب العزت کی بھی انسانوں کی طرح اولاد ہے۔ اولاد تو جب ہو اگر اس کی بیوی ہو۔ اس قسم کے رشتوں سے اللہ تعالیٰ بالکل پاک ہے۔ وہ تو بس اکیلا ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کا کوئی رشتہ دار نہیں کیونکہ اس کو اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ تو بڑی شان والا ہے۔ اس نے اپنی قدرت سے اتنی بڑی کائنات بنائی ہے۔ زمین و آسمان اور ہر چیز اس کی بنائی ہوئی ہے۔ وہ اس قدر بلند شان والا ہے کہ انسان کی آنکھ اس کو ہرگز نہیں دیکھ سکتی۔ البتہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا ذرا سا جلوہ دکھایا تھا جس کو وہ برداشت نہ کرسکے اور بےہوش ہو کر گر پڑے جس پہاڑ پر وہ کھڑے تھے اس کے سامنے کا پہاڑ اللہ رب العزت کی ایک معمولی جھلک سے جل گیا تھا۔ اس کا جلوہ انسانی آنکھ برداشت نہیں کرسکتی۔ البتہ قیامت کے دن تمام مؤمنوں کو اللہ کا دیدار نصیب ہوگا۔ (صحیح مسلم ) اسی لیے بار بار تاکید کی جاتی ہے کہ اللہ رب العزت کی طرف رجوع کرو۔ اس کو واحد مانو، اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائو۔ اسی نے ہمیں پیدا کیا ہے وہی پالنے والا ہے پھر اسی کے پاس واپس چلے جائیں گے۔ ہماری آسانی کی ہر چیز اس نے پیدا کر رکھی ہے اور وہ اس قدر قدرت والا ہے کہ ہر چیز ہر انسان اور تمام کائنات کا حساب کتاب، بندوبست یہ سب اللہ ہی کرتا ہے اور کوئی یہ سب کچھ کرنے کی قدرت کیسے رکھ سکتا ہے جبکہ انسان کو تو خود اتنا بھی معلوم نہیں کہ کتنے دن وہ یہاں زندہ رہے گا اور کس طرح اس کی زندگی کے سامان ہوں گے ؟ جب کہ اللہ نے لوح محفوظ میں ہر چیز لکھ رکھی ہے۔ ایک دانے کے اندر اس نے اس کے پھولنے پھلنے، بڑھنے اور ختم ہونے کا حساب کتاب رکھ دیا ہوتا ہے۔ بھلا یہ سب کوئی بھی عقل مند سے عقل مند انسان کرسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ بندہ تو یہ بھی نہیں جان سکا کہ اس کی موت کب، کہاں اور کیسے ہوگی ؟
Ayahs 6:104–107

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! ان سے) کہہ دو کہ تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشن دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے ان کو کھلی آنکھوں سے دیکھا اس نے اپنا بھلا کیا، اور جو اندھا بنا رہا اس نے اپنے لیے برا کیا اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح اپنی آیتیں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم نے یہ باتیں (اہل ِ کتاب) سے سیکھ رکھی ہیں اور اس لیے کہ سمجھدار لوگوں کے لیے واضح کردیں۔

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

اور جو حکم تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس آتا ہے اسی کی پیروی کرو۔ اس ( اللہ رب العزت) کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے دور رہو۔

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے اور ( اے پیغمبر ﷺ ! ) ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار نہیں بنایا اور نہ آپ ان کے ذمہ دار ہیں۔

کامیابی کا راستہ تشریح : اللہ جل شانہ کی تمام تخلیقات کو بڑی وضاحت سے بیان کرنے کے بعد اس کے واحد ہونے کا یقین دلا دیا گیا تو اب فرمایا کہ جو لوگ قرآن کو سوچ سمجھ کر پوری توجہ اور عقل و فہم کو کام میں لاتے ہوئے پڑھتے ہیں تو ظاہر ہے ایسے ہی لوگوں کا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور وہ بیشمار حکمت کی باتیں قرآن میں سے حاصل کر کے اپنی زندگیاں سنوارتے ہیں اللہ کے نیک بندے ایسے ہی ہوتے ہیں اور جو وہ نیکی کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اپنا ہی بھلا کرتے ہیں اور جو آنکھیں بند کر کے بےسوچے سمجھے پڑھ جاتے ہیں تو وہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں کیونکہ وہ ایمان کے نور سے محروم رہ کر ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے ہم نے انسان کو خود مختار پیدا کیا ہے اس کو سیدھا راستہ دکھانے کے لیے آپ کو بھیجا ہے۔ آپ نے ان کو قرآن و شریعت کی تعلیم اچھی طرح دے دی ہے اب ان کی مرضی ہے سیدھا راستہ اختیار کریں یا غلط راستہ، اس اختیار کی وجہ سے ہی ہم نیک و بد کو پہچاننا چاہتے ہیں ورنہ ہم سب کو ہی اپنی قدرت سے نیک راستہ پر ہی لگا دیتے مگر انسانوں کا امتحان لینا ضروری تھا۔ اب وہ جو بھی کریں آپ ﷺ اس کے ذمہ دار ہرگز نہیں۔ پھر فرمایا کہ ہم بار بار طرح طرح سے آیات بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ آپ ﷺ یہودیوں سے سن کر سب کچھ بتا رہے ہیں۔ مزید اللہ فرماتا ہے کہ آپ ﷺ اپنے رب کے احکامات پر پوری طرح عمل کریں اور خود کو ان کے سامنے نمونہ بنائیں، پھر جو الٹے راستہ پر چلیں تو آپ فکر نہ کریں آپ کی ذمہ داری پیغام پہنچانا تھی سو آپ ﷺ نے پیغام الٰہی پہنچا دیا۔ ان آیات میں سمجھدار لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کو اس کی نشانیوں سے پہچان لیتے ہیں اور پھر اس کی محبت اور ایمان کی روشنی سے اپنے دلوں کو اس قدر روشن کرلیتے ہیں کہ اللہ کے ولی بن جاتے ہیں جو ایسے لوگوں سے دشمنی کریں اللہ ان سے اعلان جنگ کرتا ہے۔ ان کے بارے میں اللہ نے فرمایا : کہ میں ان کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے، پھر وہ مجھ سے سوال کرے میں اس کو پورا کرتا ہوں۔ مگر دنیاوی علم اور دینی معرفت میں فرق ہے۔ دینی علم کا تعلق اللہ سے ہے اور دنیاوی علم کا تعلق دنیا سے ہے۔ آسان لفظوں میں ہم اس کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی بات کی دھن لگ جانا دنیاوی علم ہے۔ مثال کے طور پر نیوٹن کے سر پر سیب گرا تو اس کو اس بات کی دھن لگ گئی کہ سیب میرے سر پر ہی کیوں گرا۔ دائیں، بائیں یا اوپر کیوں نہ چلا گیا۔ عام آدمی کے لیے یہ ایک معمولی بات تھی مگر نیوٹن نے اس کو اپنے ہوش و حواس پر طاری کرلیا اور آخر یہ راز پا لیا کہ زمین میں کشش ہے۔ سیب کا سر پر گرنا کشش ثقل کا ثبوت ہے۔ مگر دینی علم کا تعلق اللہ سے ہے۔ قرآن پاک کی آیات کو جو لوگ سوچ سمجھ کر پڑھتے ہیں۔ ان کے مطالب اور مفہوم پر غور و فکر کرتے ہیں تو وہ معرفت کے درجات حاصل کرتے چلے جاتے ہیں اور یوں اللہ تعالیٰ کی حقیقت سے واقف ہو کر علم و عرفان کے نشے میں مدہوش ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ قرآن پاک کو غور سے پڑھا جائے، سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ اسی کا فائدہ ہے اور نجات کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے ہی خود کو پہچانا جاسکتا ہے اور اللہ کو پہچانا جاسکتا ہے اور یہی ہماری زندگیوں کا مقصد ہے۔ اللہ ہمیں دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں عطا کرے۔ آمین۔
Ayahs 6:108–110

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو یہ (مشرک) اللہ کے سوا پکارتے ہیں، ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں اللہ کو بےادبی سے بےسمجھے برا نہ کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے۔

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ کی پختہ قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضرور ایمان لے آئیں۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو سب اللہ ہی کے پاس ہیں اور تمہیں کیا معلوم ہے یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ ان کے پاس نشانیاں آ بھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں۔

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے تو جیسے یہ اس قرآن پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے ویسے پھر بھی نہ لائیں گے اور ان کو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔

مبلغ کے لیے ہدایت تشریح : ان آیات میں بہترین اخلاق کا، آپس کی رواداری کا سبق دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ حکم ہوا کہ بردباری، صبر اور سکون سے زندگی گزارو کسی کے مذہب کو یا اس کے معبود کو ہرگز برا نہ کہو اس کی وجہ یہ ہے کہ جواب میں وہ تمہارے حقیقی معبود کو برا کہے گا یا گالی دے گا۔ تو مطلب یہ ہوا کہ خود کو، اپنے ماں باپ کو، اپنے بزرگوں کو اور اپنے معبود رب العالمین کو بےادبی سے بچائو۔ کیونکہ کسی کو ادب سکھانے اور ایمان کی طرف بلانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو تمام اخلاق حمیدہ (بہترین) سے مزین کرو۔ بہترین انسان بن کر رہو کہ جو تمہیں دیکھے اچھا انسان بن جانے کی کوشش کرے اور خودبخود نیکی کی راہ اختیار کرے۔ بحث مباحثہ، گالی گلوچ ایک اچھے، ایک نیک اور شریف انسان کو زیب نہیں دیتا۔ حدیث میں آیا ہے : سیدنا عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” کہ مومن نہ طعنے دینے والا ہوتا ہے نہ لعنتیں کرنے والا، نہ فحش بکنے والا، نہ زبان دارزی کرنے والا۔ “ اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ ہر شخص کو اپنا طریقہ پسند ہوتا ہے اور پھر شیطان تو ہر وقت انسان کے پیچھے لگا رہتا ہے وہ برے راستہ پر چلنے والے کے لیے اس برے راستہ کو بھی اچھا ہی بنا کر دکھاتا ہے اور ایسے لوگ اپنے راستہ کو اچھا ثابت کرنے کے لیے ہر دلیل پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ بھی دوسرے نبیوں کی طرح ہمیں ہماری مرضی کے مطابق معجزہ دکھائیں۔ معجزہ یہ دکھائیں کہ یہ صفا پہاڑی سونے کی بن جائے اور پھر بڑی بڑی قسمیں کھانے لگے کہ ہم ضرور ایمان لے آئیں گے تب یہ آیت نازل ہوئی کہ ایسی کوئی بات نہیں یہ تو صرف بہانے اور حیلے کر رہے ہیں یہ تو کسی صورت بھی ایمان لانے والے نہیں۔ کیونکہ ان کے پاس نشانیاں آ بھی جائیں تو بھی ایمان نہ لائیں گے۔ ان کو اپنے عقیدوں اور اپنے طریقوں پر چلنا ہی اچھا لگتا ہے۔ سو چلنے دو آخر تو ہمارے پاس ہی لوٹ کر آئیں گے تب اپنے اعمال کا بدلہ اچھی طرح پالیں گے۔ اصل میں یہ نافرمان لوگ گناہوں کی دلدل میں پھنس چکے ہیں ان کا ہدایت کی طرف آنا اور ایمان لانا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اب تو ان کے لیے رب کی طرف سے یہ سزا مقرر ہوچکی ہے کہ جیسا یہ چاہتے ہیں اپنے گناہوں کی دنیا میں بھٹکتے پھریں۔ نہ ان کو ہدایت کا راستہ دکھائی دے گا اور نہ ہی یہ نجات پا سکیں گے۔ ان کے دل سخت ہوچکے ہیں اور ان کی عقلیں ماری گئی ہیں۔ کفر، شرک اور بد اعمالیاں ان کے اپنے ہاتھوں ان کے نصیب بن چکے ہیں۔ اگلی آیات بھی اسی مضمون کے متعلق ہیں۔ کیونکہ بفضل الٰہی اگلا پارہ شروع ہو رہا ہے، لہٰذا اس کے بارے میں مختصراً بیان کے بعد اس مضمون کو جاری کیا جائے گا۔
Ayahs 6:111–113

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے بات چیت کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لاموجود بھی کرتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے مگر یہ کہ اللہ چاہے لیکن اکثر ان میں جاہل ہیں۔

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے شیطان سیرت انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا، وہ دھوکہ دینے کے لئے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ افترا کرتے ہیں اسے چھوڑ دو ۔

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور ( وہ ایسے کام) اس لئے (بھی کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہی کرنے لگیں۔

کفار کی ضد اور بری عادات تشریح : پچھلی آیات میں کفار کی ہٹ دھرمی اور نافرمانی کا ذکر کیا گیا ہے جہاں انہوں نے ایمان لانے کی شرط یہ رکھی کہ صفا کا پہاڑ سونے کا ہوجائے۔ اللہ رب العزت کفار کی اصلیت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ انہوں نے اگر ایمان لانا ہوتا تو لا چکے ہوتے ان کا ایمان لانا ممکن نہیں نہ معجزہ دیکھ کر لائیں گے اور نہ ہی زبردستی کرنے سے ایمان لائیں گے۔ اگر یہ دونوں باتیں ہوتیں تو یہ بہت معجزے دیکھ چکے ہیں اور اگر زبردستی والی بات ہوتی تو ہم سے زیادہ کون زبردست ہے ہم ان سب کو ایمان والے بنا دیتے مگر یہ تو ان کے ارادے اور اختیار کا امتحان ہے کہ کون سیدھی راہ پر چلتا ہے۔ اور اللہ فرماتا ہے کہ یہ اتنے غلط اور خراب لوگ ہیں کہ اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے یا مردے ان سے باتیں کرنے لگتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہیں، اس لئے اے محمد ﷺ ! آپ ان خراب لوگوں کی بالکل پروا نہ کریں ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں اور آپ ان لوگوں کی دشمنی سے پریشان ہرگز نہ ہوا کریں کیونکہ یہ تو شروع ہی سے دستور چلا آیا ہے کہ جو بھی پیغمبر ہدایت کیلئے بھیجا گیا اس کی مخالفت پر زور طریقہ سے کی جاتی رہی ہے۔ آپ تسلی رکھیں اور اپنے کام میں لگے رہیں اور یہ لوگ تو ہمیشہ اپنے غلط راستوں پر چلتے رہیں گے بلکہ دوسروں کو بھی چکنی چپڑی باتوں سے بہلا پھسلا کر اپنے غلط راستوں پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں اور دیتے رہیں گے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ بڑی خوشی اور آسانی سے کفار و مشرکین کی باتوں میں آکر غلط راستوں پر چلنے لگتے ہیں۔ ظاہر ہے شیطانوں کے دوست شیطان ہی ہوسکتے ہیں۔